Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

ڈاکٹر جنت کے ذاتی کیبن میں مِفرا اطمینان سے کونے والے صوفے پر بیٹھی ایکوریم میں رنگ برنگی مچھلیوں کو دیکھ رہی تھی۔اور فنگر سے شیشہ بجا کر کبھی انھیں ایک سائیڈ کر دیتی کبھی دوسری۔بڑا دلچسپ شغل تھا۔
سونیا اسے یہاں چھوڑ کر جانے کہاں گئی تھی۔سونیا سے بھی اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی۔

وہ دماغی طور پر پوری طرح صحت یاب ہو چکی تھی۔مگر اس بات سے یکسر بے خبر تھی۔ کہ اس کی کاؤنسلنگ کے دوران بتایا گیا ایک ایک لفظ، اپنی زندگی کی کہانی لائیو ویڈیوز کے زریعے من وعن کسی تک پہنچ کر اس کی دنیا تہہ و بالا کر چکا ہے۔اسے کانٹوں پر گھسیٹ چکا ہے۔ اس کا چین و سکون برباد کر چکا ہے۔

وہ سکون سے بیٹھی تھی۔تبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ ڈاکٹر جنت کو اندر آتا دیکھ وہ محبت و عقیدت سے مسکرائی تھی۔
کیسی ہے میری بچی،
بلکل ٹھیک ڈاکٹر،، وہ کہتی حیرت زدہ ہوئی کیونکہ ڈاکٹر جنت آج اکیلی نہیں تھیں۔ ان کی پیچھے ہی ایک لمبا چوڑا سرخ و سفید شخص ڈاکٹری کوٹ پہنے اسٹیتھوسکوپ گلے میں لٹکائے اندر داخل ہوا تھا۔ وہ جو کیمل کلر سوٹ میں لاپرواہ سی بیٹھی تھی اب فورا سے پہلے دوپٹہ سر پر لیا تھا۔

کیسی ہیں آپ مس مِفرا؟ آنے والی کی بھاری آواز کمرے میں گونجی۔
میں بلکل ٹھیک ہوں، اس نے دھیمے لہجے میں نگاہیں جھکائے جواب دیا اسے عجیب سی بے چینی ہوئی تھی کہ آنے والے شخص نے ایک پل کے لئے بھی اس سے نگاہ نہیں ہٹائی تھی۔

مِفرا بیٹا یہ ڈاکٹر جبران ہیں، بہت اچھے ہارٹ سرجن ہیں، سونیا اور یہی تمھیں میرے پاس لے کر آئے تھے۔اب تمھیں ان کے ساتھ جانا ہے، اب تم ان کے زیرِ نگرانی رہو گی، ڈاکٹر جنت نے سکون سے کہہ کر اسے بے سکون کیا۔
مِفرا کا چہرہ سفید پڑا تھا جو کوئی بڑے اطمینان سے آبزرور کرنے میں مصروف تھا۔
مم،، مگر،، ڈڈ،، ڈاکٹر،، وہ بوکھلائی۔
ابھی ابھی تو لگنے لگا تھا کہ زندگی کچھ آسان ہو گئی ہے اب زندگی کیا امتحان لینے والی تھی۔
ڈونٹ وری بیٹا یہ بہت اچھے ہیں، تم بلکل فکر مت کرو، میرا ڈیوٹی ٹائم آف ہو گیا میں چلتی ہوں۔

ڈاکٹر جنت کے ایک ایک لفظ میں بے چینی تھی۔انھوںنے نے مفرا سے نگاہیں چرائیں، کتنا چاہا تھا کہ مفرا ان کے ساتھ رہے، پرسکون زندگی گزارے۔ ان کے تو خود کے بچے بیرونِ ممالک میں پڑھنے گئے ہوئے تھے کتنی اٹیچ ہو گئیں تھیں وہ مِفرا سے۔مگر یہ سو کالڈ ضدی اور پاگل
Executioner,,,,,,
انھوںنے نے نروٹھے پن سے جبران کو گھورا، جو لاتعلق سا بنا بیٹھا تھا ہاں مگر وقتا فوقتا ایک گہری نگاہ اس گلابی گھبرائے وجود پر ضرور ڈال لیتا۔
ڈاکٹر جا چکی تھیں۔ اور وہ شدید نروس ہوتی ہاتھوں کی انگلیاں چٹخا رہی تھی۔

جبران نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی۔
اونہہہہہہہہہہ، ہارٹ سرجن کے ہارٹ کی بینڈ بجا دی محترمہ نے، مگر یہ جے کے بی سود سمیت بدلہ لے گا۔
چلئیے،، وہ کھڑا ہوتا سکون سے بولا۔ وہ لرزتے قدموں سے اٹھی اور مردہ قدموں سے اس کے پیچھے ہو لی۔

وہ اسے لئے ایک کوریڈور سے گزرا ۔ اور ایک کمرے کی جانب اشارہ کیا۔آپ ادھر بیٹھیں میں ڈسچارج پیپر لے کر آتا ہوں۔
لل،،، لیکن جانا کک،، کدھر،، ہے، وہ سہمی ہوئی تھی۔
آ کر بتاؤں گا آپ کو، سامنے والے کا اطمینان قابل دید تھا۔وہ اسے چھوڑ کوریڈور میں غائب ہو گیا۔وہ کانپتی سی اس کمرے میں داخل ہوئی۔ وہاں آ کر ہوسپٹل والے بیڈ پر بیٹھی تھی جب اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو،

اس دن والا وہ لمبا چوڑا شخص منہ پر رومال باندھے، رومال پر جے کے لکھے اس کے سامنے کھڑا تھا۔اسکیلپل ہاتھ کی انگلی میں گھوم رہا تھا۔کیا وہ اسے مار کر اس کے آرگنز نکال لے گا۔ وہ لٹھے کی طرح سفید پڑی اور بجلی کی سی تیزی سے دروازے کی جانب بھاگی مگر بے سود، گردن کے پیچھے کچھ چبھتا سا محسوس ہوا وہ تیورا کر زمین پر گری تھی۔۔

کچھ ہی دیر میں ہر چیز دھندلا گئی اور وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی ۔
جے کے یہ کیا کیا آپ نے، سونیا اندر آ کر چلائی تھی۔
سنو اسے لے جاؤ، اور اسی ہوسپیٹل کے اسی روم میں اسی بیڈ پر لے جا کر لٹا دو اور کہنا تمھیں باہر بے ہوش ملی تھی،
واٹ،، وہ شاکڈ سی چلائی، یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ اگر وہیں پھنکنا تو تو لائے کیوں، اور پھر علاج کیون کیا؟

شٹ اپ سونیا، جتنا کہا ہے اتنا کرو، نو مور کوئسچن، وہ سنجیدگی سے اب اطمینان سے رومال چہرے سے اتارتا بولا۔
سونیا نے نروٹھے ہن سے اسے گھورا۔ مگر وہ اب فون پر کسی کے ساتھ بزی تھا۔اور اسے جانے کا اشارہ کیا ۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

پاشا اس کے بلکل سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔ایک ہاتھ کی کی مٹھی بنا کر گال پر رکھے اسے بغور سر تا پا گھور رہا تھا۔

واٹ ڈیڈ،، گھورنا بند کریں، اور سیدھا سیدھا جو پوچھنا ہے وہ پوچھ لیں، ایسے گھورنے کا کیا مطلب ہے، وہ گرین مونسٹر جس کی دہشت و ہیبت سے ایک دنیا تھر تھر کانپتی تھی ۔اب پاشا کے اس حوالے سے گھورنے پر وہ سخت جھنجھلایا ہوا تھا۔

کیوں رکھا ہوا ہے اسے پاس؟ پاشا اصل موضوع کی جانب آیا۔
کل بھیج دو گا کسی سیف جگہ،، وہ بظاہر لاپروائی سے بولا مگر اندر ایک طوفان سا اٹھا۔
رئیلی، مگر کیوں، میں نے ایسے تو نہیں کہا کہ اسے کہیں بھیج دو؟
مگر میں اب اسے مزید یہاں نہیں رکھ سکتا۔ وہ دوسری جانب دیکھتے بولا۔
کیوں؟ پاشا کی گہری نگاہ اس پر تھی۔
کیونکہ یہ میری رسپونسبلٹی نہیں ہے، نا ہی مجھے کوئی پرواہ ہے۔
حالانکہ پاشا نے بلکل نہیں پوچھا تھا کہ تمھیں اس کی پرواہ ہے بھی کہ نہیں۔

وہ دونوں یہاں پہنچ چکے ہیں مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ماہر کے تم اپنے پیچھے کوئی کلو چھوڑ کر آؤ گہ اور اسپشل اس کے کتے سے بول کر آؤ گے کہ اس کہ منظور نظر جلاد کے پاس ہے۔
پاشا نے اب آئیبرو اچکا کر اس سے پوچھا تھا۔
سوہم کو زیادہ حیرت نہیں ہوئی۔پاشا آج بھی ان سب سے اور ان چاروں کے ایک ایک پل سے اتنا ہی باخبر رہتا تھا۔

او کم آن ڈیڈ،آپ اب بھی مجھے نہیں سمجھے، کتے کے آگے ہڈی پھینکی تھی تاکہ وہ اس کی بو کو سونگھتا میرے پلین کے مطابق شیر کی کچھار میں چلا آئے۔ اور پھر پاگل کتے کی موت ہی مرے گا۔
وہ اطمینان سے بولا۔ وہ تو نارمل کنڈیشن میں بھی اسے اتنی دردناک موت مارتا کہ اس کی سات پشتیں تھر تھر کانپتی پیدا ہوتیں۔اور اب تو دشمنی زرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ یہاں آ گیا پے تو تم پھر اس بچی کو یہاں سے کیوں بھیج رہے ہو۔ کیا وہ باہر کہیں بھی سیو ہوگی؟
سوہم کے اطمینان میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔ ہاں مگر دل میں جو طوفان اٹھے تھے یہ تو وہ ہی جانتا تھا۔مگر اس کے باوجود کم از کم پاشا سے نہیں کہہ سکتا تھا۔
کہ ڈیڈ اس کی سیفٹی کی بات کر رہے ہیں اب تو سوہم خان کی مرضی کے خلاف اسے مخالف سمت کی ہوا بھی نا چھو پائے۔ کوئی اور تو بڑی دور کی بات ہے۔

ہر چیز پلین کے مطابق ہی ہو گی۔ڈونٹ وری ڈیڈ، آپ کی میرال سے بات ہوئی، سوہم نے پاشا کا دھیان رواحہ کی جانب سے دوسری جانب بھٹکانے کو پوچھا ۔جو کہ پاشا اچھی طرح سمجھ چکا تھا۔اسی لئے مبہم سا مسکرایا۔

ہمم ہوئی تھی بات، تمھارا پوچھ رہی تھی، کہہ رہی تھی کہ اگر تم نے اس سے بات نا کی تو وہ آ کر تمھیں گنجا کر دے گی۔
پاشا نے کہا تو سوہم مبہم سا مسکرایا۔
دیکھتے ہیں،، سوہم اب صوفے پر پاشا کے قریب بیٹھا تھا۔

کوئی اور بات جو تم مجھ سے شئیر کرنا چاہو، پاشا نے کہا تھا وہ بری طرح گڑبڑایا۔ اور نظر بے اختیا ایل ای ڈی کی جانب اٹھی۔
نو، ڈیڈ، کوئی نہیں،
ہمم رائٹ میں چلتا ہوں، تمھاری ماما انتظار کر رہی ہوں گی۔ پاشا کہتا اٹھ کر کھڑا ہوا۔ تو وہ بھی احترام کھڑا ہو گیا۔
ویسے آپس کی بات ہے جب کسی کو محبت ہو جائے اور عشق رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگے تو محبوب کا عکس انسان کی آنکھوں دکھائی دینے لگتا ہے، ہے ناں، پاشا نے رک کر پوچھا۔

واٹ،، ڈیڈ آپ نے میری نظروں میں کیا دیکھ لیا اب ، وہ تلملایا۔

میں نے تمھاری بات کب کی یار، میں تو اپنی بات کر رہا تھا۔
پاشا نے اس کی حالت سے حظ اٹھاتے اب دانتوں تلے لب دبایا تھا۔
اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
سوہم جھنجھلا کر اندر اپنے روم میں آیا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ایشان علیزے کے سامنے اب اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔
وہ نڈھال سی ڈائننگ ٹیبل کی چئیر پر بیٹھی تھی۔ جیسے برسوں کی مسافت طے کر کے تھکن سے چور ہوئی ہو۔

دیکھیں علیزے، مجھے اس کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ شاید، اس کے ساتھ،، کچھ غلط ہوا ہے۔اور اگر ایسا ہے بھی تو آپ مجھ پر بھروسہ رکھ سکتی ہیں کہ میں اپنے عزائم سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹنے والا ۔مجھے محبت ہے اس سے اور مجھے وہ ہر حال میں ہر کنڈیشن میں قبول ہے۔اب بتائیں مجھے،
یہ کہتے ایشان کی آنکھیں لال انگارا ہوئیں تھیں۔

علیزے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ جب کافی دیر رونے کے بعد زرا رونا تھما تو ایشان نے اسے پانی پلایا۔
بعض دفعہ جو دکھتا ہے ویسا ہوتا نہیں ہے، علیزے نے ہچکیوں کے درمیان مبہم سی بات کی تو ایشان چونکا۔
اور سوالیہ نظروں سے علیزے کو دیکھا۔ تب علیزے نے بتانا شروع کیا۔

ہم لاہور میں رہتے تھے۔بہت چھوٹی سی خوشحال فیملی تھی ہماری۔ میں ، آروشے اور بابا مما۔ پھر وہ منہوس دن ہماری زندگی میں آیا جب وہ آروشے سے کالج کے باہر ٹکرایا۔ وہ لاہور کا با اثر ترین غنڈہ رستم تھا۔ کالج کے باہر آروشے سے بدتمیزی کی تو آروشے نے سب کے سامنے اسے تھپڑ مار دیا۔
وہ منحوس دن ہماری زندگیوں میں ایک طوفانی سیلاب لایا اور سب کچھ بہا کر لے گیا۔

کچھ دن تو خاموشی رہی پھر اس رات وہ بے ضمیر درندہ صفت انسان اپنے غنڈوں سمیت ہمارے گھر کی جانب آیا۔ جسے میں نے اتفاق پہلے ہی گلی میں گاڑیوں میں بیٹھے دیکھ لیا تھا۔ مجھے لگا وہ صرف آروشے کو اٹھانے آیا ہوگا اور اسے نقصان پہنچائے گا ۔اسی لئے میں نے آروشے کو اپنی قسمیں ماں بابا کی قسمیں دے کر لاؤنج کی ڈیکوریشن میں بنے خفیہ لکڑی کی کیبن میں چھپا دیا۔

مگر یہ میری خام خیالی ہی تھی۔ کیونکہ وہ ایک فرعون نما ظالم درندہ تھا۔جب وہ اندر گھسا اور آروشے اسے نہیں ملی تو وہ غصے سے پاگل ہو گیا۔ ہمارے سامنے پہلے ماں بابا کو مار ڈالا، میں نے پھر بھی منہ نہیں کھولا تو مجھے بے آبرو کر دیا۔
وہ کیبن کے سوراخ میں منہ پر ہاتھ رکھے اہنی چیخوں کا گلا گھونٹتی سب کچھ دیکھتی رہی۔مگر میری قسم کی وجہ سے باہر نہیں آئی۔

علیزے بلک بلک کر روتی اپنی بربادی کا ماتم منا رہی تھی۔ پھر وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائی کہ اس کی وجہ سے ماں بابا چلے گئے اور میرے ساتھ وہ سب کچھ ہوا۔
اور اس کی یہ حالت ہو گئی۔
میں اسی رات جیسے تیسے اسے لے کر وہاں سے بھاگ آئی۔الله تعالیٰ کو منظور تھا آروشے کا پاک صاف رہنا تبھی جانے کیا ہوا کہ اس درندے نے دوبارہ ہماری تلاش نہیں کی۔ اور ہم یہاں آ گئے ۔یہاں ہمیں کوئی نہیں جانتا تھا۔میں نے محلے میں بتایا کہ میرے والدین حادثے میں گزر گئے اور یہ پیدائشی ایسی ہے۔
شکر ہے یہاں پر اچھے لوگ مل گئے اور کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

میں نے یہ راز صرف آروشے کی صحت یابی کے لئے افشا کیا ہے۔واقعی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اگر واقعی مجھے کچھ ہو گیا تو آروشے کیسے ٹھیک ہو گی۔
ایشان تو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں والا حساب ہوا تھا۔آنکھوں میں خون اترا۔
یوں بھی رستم دادا کے ڈیتھ وارنٹ تو جلادوں کی عدالت میں نکل ہی آئے تھے۔مگر اب تو دشمنی زرا پرسنل ہوتی جا رہی تھی۔۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

بوجھل ہوتے سر کے ساتھ اس کی آنکھ کھلی تھی۔ کمرے میں ملگجہ سا اندھیرا تھا۔۔
پوری آنکھیں تو اس کی تب کھلیں جب پیٹ پر کسی بھاری چیز کی سخت سی گرفت محسوس ہوئی۔
اور یہ جان کر حویلی کی چھت جیسے اس کے سر پر گری تھی کہ اس کی پشت پر ایک اور وجود موجود ہے جس کی باقاعدہ بھاری ہوتی سانس اسے سنائی دی تھی۔
فجر بری طرح کسمسائی۔ اور اس کی ننھی سی ہلچل سے پاس پڑے ماہ بیر کی آنکھ کھلی تھی۔

جانے کیوں مگر وہ سوتا بن گیا۔ جھٹکے سے اس نے پیچھے پڑے وجود کو دیکھا تھا۔ جو سکون سے آنکھیں موندے سور رہا تھا۔
فجر نے پھر دوسری جانب رخ کیا اور اپنی ویسٹ سے وہ بھاری بھرکم چٹانی ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔

کچھ ہی پلوں میں وہ بے حال ہو چکی تھی۔ پیچھے وہ بند آنکھوں سمیت گہرا مسکرایا۔
اونہہہہہ، سڑو،، اکڑو کہیں کے، اور میں تو سمجھی تھی صرف دل ہی پتھر کا لیے گھوم رہے یہاں تو یہ چٹانی بازو،،،، اففففففف،،
وہ با آواز بلند بڑبڑائی۔
مای بیر نے بڑی مشکل سے قہقہہ ضبط کیا تھا۔
مگر فجر اب سمجھ گئی تھی کہ وہ جاگ چکا ہے اور اسے یونہی حسبِ عادت ستانے میں مصروف ہے ۔۔

چھوڑیں مجھے،، وہ غرائی۔ تو ماہ بیر نے شرافت سے ہاتھ ہٹائے اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اپنے اس قدر قریب اسے شرٹ لیس دیکھ کر اور رات کا سوچ کر اب وہ بھونچکا سی اسے گھور رہی تھی۔
صدمے سے برا حال ہوا تھا۔اسے یہ عرصہ مطلب تین ماہ تو عدت میں گزارنے تھے اور یہ۔

آ،،، آپ کی ہمت کیسے ہوئی،، وو،،، وہ، پیپر مجھے دے کر،اس طرح میرے قریب آنے کی۔؟
ماہ بیر اب سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا جو صدمے سے بے حال ہو رہی تھی۔اب وہ یہ تو ہر گز نہیں بتانے والا تھا کہ وہ پیپر جعلی تھا۔سائن نقلی تھے، نام نقلی تھے۔نا وہ ڈائیورس دینا چاہتا اور نا وہ لینا چاہتی تھی تو اس پیپر کی کیا اوقت تھی۔

میں ماہ بیر راسم حفیظ ہوں میڈم، تمھیں نہیں پتا کہ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں، اور اب مجھے آنکھیں دکھا رہی ہو، رات تو بڑی بے چین تھیں میری بانہوں میں آنے کو، کیسے میری پناہوں میں موم بن کر پگل رہی تھیں۔ وہ تو سامنے بندہ ہی شریف تھا جو بہکا نہیں، نہیں تو فجر میڈم تو گئیں تھیں کام سے،
وہ بڑے سکون سے کہتا اب اسے جان بوجھ کر بے سکون کر رہا تھا۔
ضد جو تھی وہ کرنے کی جو اس نازک جان کے لئے صدمے کا باعث ہو۔

آ،، آپ. جج،، جھوٹ،، بول رہے ہیں،، ای،، ایسا، کچھ، نہیں تھا، وہ روہانسی ہوئی۔
آں ہاں، اپنے بکھرے حلیے سے اندازا لگا لو یا کچھ اور سننا چاہتی ہو ۔بہر حال سامان پیک کرو تمھارے پاس صرف دس منٹ ہیں۔
مم،، مگر، میں،، کک، کہیں،، نن، نہیں،
شٹ اپ،، وہ حسب معمول غرایا، انکار کرنے کی جرات بھی نہیں کرنا، نہیں تو حشر بگاڑ دوں گا سمجھیں،جو کہہ رہا ہوں کرو،

وہ کہتا باہر نکلا تھا۔
اور پھر وہ لاکھ جھٹپٹائی۔ مگر ماہ بیر اسے حویلی سے وائٹ پیلس لے آیا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

تم تیار ہو جاؤ، اپنے سارے کپڑے سمیٹ لو جو میں نے تمھیں دئیے۔ تمھیں یہاں سے جانا ہے۔
منی نے بجھے دل سے کہا۔
الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ جو منی نے اس کے کانوں میں انڈیلا تھا۔

اور ابھی کل رات جو اس نے جادوگر نے رواحہ کے کانوں میں منتر پھونکا تھا جس سے وہ اس ساحری کے ساحر میں گرفتار ہو گئی تھی اس کا کیا۔
محبت باوضو ہے میری، کانوں میں بار بار بھاری آواز گونج رہی تھی۔
وہ مردہ قدموں سے اٹھی اور اپنے کپڑے منی کے دئیے بیگ میں رکھنے لگی۔
غلطی میری ہے میں نے سوچ بھی کیسے لیا کہ اب میری بد بختی میرا پیچھا چھوڑ دے گی۔میں نے سوچ بھی کیسے لیا کہ زندگی آسان ہو جائے گی۔ میں نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میرے نصیب میں محبت ،عزت کی زندگی کا سکھ لکھا ہے
آنکھوں سے سیل رواں جاری تھی۔
اور یہ تو وہ والا حساب تھا۔

گِر کے صیاد کے قدموں میں بہت رویا میں
کچھ ایسا رنج مجھے،،،،، اپنی رہائی پہ ہوا

Continue,,,,,,

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓