Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ماہ بیر اپنے روم میں تھا۔بے چینی و بے قراری حد سے سوا تھی۔ اور غصہ سوا نیزے کو چھو رہا تھا۔ اس نے سب کو حویلی سے روانہ کر دیا تھا۔ حالانکہ بی جان نے کئی مرتبہ باتوں ہی باتوں میں اسے بتایا کہ وہ نازک دل لڑکی اکیلی اور تنہا رہ ہی نہیں سکتی ہے اور اگر کبھی ایسا ہوا تو وہ مر جائے گی۔

اب وہ بیڈ پر پاؤں نیچے لٹکا کر بیٹھا بری طرح پاؤں جھلا رہا تھا۔
اونہہہہہ مجھے کیا، مرے چاہے جیے،، کیوں بھیجا شیلا کو حویلی سے،، کہہ کر بھی آیا تھا کہ وہ وہیں رہے گی، اس نے اپنی چٹختی کنپٹیاں سہلائیں، مگر دل ہنوز سینے سے سر پٹخے ہی جا رہا تھا۔
اور ایک ہی نام کا ورد کیے جا رہا تھا۔ اور اس دل سے تو وہ صدا کا بیزار اور تنگ تھا۔

ابھی اور جلتا اور سلگتا۔ کہ فون رنگ ہوا، بجلی کی سی تیزی سے اس نے فون اٹھایا تھا۔ مگر ادھر ایشان تھا جس نے آج کے مطلق چند ضروری چیزیں پوچھیں اور فون رکھ دیا۔ وہ بال مٹھیوں میں جکڑتا پیچھے بیڈ پر گرا تھا۔کیا عذاب تھا جو دل نے اس پر مسلط کر رکھا تھا۔
فون دوبارہ رنگ ہوا اب بھی اس نے فون اٹھانے میں بہت تیزی کی تھی۔ بی جان کالنگ دیکھ کر دل کی دھڑکن پر بے ترتیب ہوئی اور آدھی بیل پر ہی کال رسیو کر لی۔

فون کان کو لگایا اور الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گیا، ادھر دوسری جانب بھی گہری خاموشی اور سکوت تھا۔چند لمحے ہی اس نے اپنی سانسوں کی زیروبم ماہ بیر کو سنائی تھی۔
ادھر فجر نے کلا ملائی جو آدھی بیل پر رسیو کر لی گئی، جب وہ سامنے سے کچھ نہیں بولا تو اسے اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا تو فون کٹ کر کے سینے سے لگایا اور بلک بلک کر رو دی۔
اپنے پاک پروردگار سے دل میں ہمکلام ہوئی تھی۔
اے سمندر میں دریا اتارنے والے میرے دل سے اس شخص کو اتار دے۔
چند ہی پل مزید خوف کے زیرِ اثر کٹے تھے پھر وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہوتی ایک جانب لڑھک گئی۔

فون کٹ ہوا تو ماہ بیر کے ماتھے پر بے شمار بل آئے تھے۔ جان سولی پر لٹکی تھی۔کچھ غلط نا ہو جائے۔ جھٹکے سے اپنا موبائل، کیز اٹھا کر وہاں سے نکلا تھا۔
کچھ ہی دیر میں بڑی ریش ڈرائیونگ کے بعد اس کی گاڑی حویلی داخل ہوئی تھی۔ وہ تیزی سے گاڑی سے باہر آیا تھا۔ تیز قدموں سے اندر آیا۔ ہر طرف سناٹے کا راج تھا۔ اس کا رخ سیدھا اس کے کمرے کی جانب تھا۔اگر اب وہ وائٹ پیلس جانے سے انکار کرتی تو ماہ بیر یقیناََ اسے اٹھا کر لے جانے والا تھا۔

مگر جب کمرے میں داخل ہوا تو اس کے ہوش اڑے تھے۔
This girl will kill me someday…
وہ دانت پیستا اس کی جانب لپکا تھا۔
فجر،،، ہیے یو،، کیا ہوا تمھیں ڈیم اٹ، اٹھو اور مجھ سے بات کرو، وہ دھاڑا، پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر میسج ٹائپ کیا۔۔ فون رکھا اور پھر اس کی جانب متوجہ ہوا، اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا۔نیلی فراک اور ٹراؤزر میں دوپٹہ فرش پر پرا تھا۔بکھرے بال اور بکھرا حلیہ آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے، ماہ بیر کے جبڑے بھنچ گئے تھے۔ ایک مرتبہ پھر اس کی گال تھپتھپائی۔ ہیے اٹھو، فجر،

انتظار کے لمحے بہت طویل اور اذیت ناک تھے۔مگر گزر ہی گئے ۔تبھی باہر جبران کی گاڑی پارک ہونے کی آواز آئی تھی۔ماہ بیر نے جلدی سے چادر کھول کر اس کے اوپر اوڑھائی۔
اور پھر چند ہی لمحوں میں وہ اندر داخل ہوا تھا۔مگر یہ دیکھ کر ماہ بیر کی سانس اٹکی تھی کہ اس کے ساتھ وہ گرین مونسٹر بھی اندر داخل ہوا تھا۔

What happened? Now what did you do? You’ll like to tell?
سوہم خان نے آبرو اچکا کر اس سے پوچھا تھا جو اب فجر کا سر گود میں رکھے بیٹھا تھا۔جبران فجر کا چیک اپ کرنے میں مصروف تھا۔
آتے ساتھ ہی ماہ بیر کو گرین مونسٹر سے پھلجھڑیاں سننیں کو ملی تھیں تو اسے آگ لگی

اونہہہہہہہہہ،،میں نے کچھ نہیں کیا بھائی، یہ خود ہی ڈیڈھ سیانی ہیں ضدی چڑیل کہیں کی، جب نہیں رہا جاتا اکیلے تو کیوں حویلی سے روانہ کر دیا سب کو، تاکہ خود آتما بن کر حویلی میں بھٹکتی پھریں، پھر رہا بھی نہیں گیا، جب میں آیا تو پیلے سے بے ہوش ہی تھی، میں نے کچھ نہیں کیا۔
وہ اتنے وقت کی کوفت سے جھنجھلا کر بولا۔تو جبران بھی مبہم سا مسکرا اٹھا۔
جبکہ سوہم نے اس کی جانب سے پیٹھ پھیر لی تھی۔

نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے، جبران نے کہا تو ماہ بیر کا رنگ اڑا۔
یہ ٹھیک تو ہے ناں، ماہ بیر نے کہا تو سوہم ایک مرتبہ پھر اس کی جانب گھوما تھا۔
آں ،،ہاں،، تمھیں فرق پڑے گا اگر اسے کچھ ہو جائے تو۔تم ہمیشہ سے اسے اس جرم کی سزا دیتے آئے جو اس نے کبھی کیا ہی نہیں۔ اگر پرواہ نہیں تو مرنے دو اسے بھی۔ سوہم خان نے اسے کانٹوں پر گھسیٹا۔
بھائی پلیز، دکھتی رگ دبنے پر وہ بلبلایا تھا۔
سوہم خاموش ہو گیا۔جبران نے ٹریٹمنٹ شروع کی۔اسے انجکشن لگایا۔

کچھ دیر کے بعد دوبارہ چیک کیا تو پلز نارمل چل رہی تھی۔
اب بلکل ٹھیک ہیں یہ، میں سکون آور انجیکشن لگا رہا ہوں صبح تک بلکل ٹھیک ہو جائیں گی۔
یہ کہہ کر جبران نے اسے ایک اور انجیکشن لگایا۔
اب ہم چلتے ہیں، جبران اور سوہم جیسے آئے تھے ویسے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔

ماہ بیر نے ایک ٹھنڈی سانس بھری تھی۔ بیڈ سے اٹھا اور کھڑکی تک گیا۔سگریٹ سلگا کر لبوں میں دبائی۔۔آج تک اسے ٹارچر کر کے وہ خود کب سکھی ہوا تھا۔
فضا میں سگریٹ کا دھواں چھوڑتا وہ دل وجان سے جل رہا تھا۔
پیچھے مڑ کر ایک گہری نگاہ اس نازک وجود کو دیکھا۔
سگریٹ بجھا کر کھڑکی کے باہر اچھالی اور کھڑکی بند کر دی۔ شرٹ اتار کر ایک سائیڈ رکھی
دھیمے قدموں سے چلتا بیڈ تک آیا تھا۔

تسکینِ محبت کے بس دو ہی طریقے تھے
یا دل نا بنا ہوتا یا ،،،،،،،،،،،،تم نا بنے ہوتے

وہ نرمی سے اس کے پہلو میں نیم دراز ہوا تھا۔ کروٹ بدل کر اس پر حاوی ہوا۔ رگ و جاں میں ایک سرور اور فسوں سا طاری ہوا تھا۔تبھی اس نے جھک کر پھر اس کتاب چہرے کے ایک ایک نقش کو چوما تھا۔ بے اختیار ہی ہاتھ گردن کے گرد لپٹایا تھا۔ اور ان گداز لبوں کو اپنی پرتپش دہکتی گرفت میں لیا تھا۔
وہ یوں محبت کا جام پینے میں مصروف تھا جیسے برسوں کا پیاسا میٹھے پانی لے کنوئیں پر جھکا ہو۔
اس سے پہلے کے بے قابو ہوئے جزبوں پر بند باندھنا مشکل ہو جاتا۔ وہ نرمی سے پیچھے ہٹا تھا۔
اسے اپنی آغوش میں لے کر سکون سے آنکھ موند لیں۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

رواحہ عشاء کی نماز ادا کر کے بیڈ پر بیٹھی تھی۔ نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو دو سبز سی آنکھیں تصور کے پردے پر لہرائیں تھیں تو وہ بے تحاشا چونکی تھی۔ اب تو اکثر وہ آنکھیں سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے خود کو دیکھتی محسوس ہوتیں تھیں اور ہر وقت تصورکے پردے پر لہراتی رہتی تھیں۔ اور اپنی اس صورتحال سے وہ بہت جھنجھلا رہی تھی جھٹپٹا رہی تھی۔اسی ادھیڑ بن میں بیٹھی تھی کہ سلائیڈنگ ڈور کھلنے کی آواز پر اس نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔
منی جسے سوہم نے ڈور لاک کا کوڈ بتا دیا تھا مسکراتی اندر داخل ہوئی تو رواحہ بھی مسکرا دی۔

اے ماش میلو،، آؤ باہر آ جاؤ سہیلی،، منی نے کہا تو رواحہ کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
مگر وہ جھجھکی، مم،،، مگر، وہ،
آئے وہ گرین مونسٹر نہیں ہے یہاں پر، تم آ جاؤ باہر، منی نے رواحہ کا ہاتھ تھاما اور اسے باہر لے آئی۔
باہر طویل کوریڈور میں سے گزر کر ایک بہت بڑا لاؤنج تھا رواحہ کی خوشی دیدنی تھی۔
ہاں ماش میلو اب پوچھو کیا پوچھنا تھا؟ وہ دونوں ایک صوفے پر بیٹھی تھیں۔منی نے اس کا الجھن زدہ چہرہ دیکھا تو اسے پوچھنے کی اجازت دی۔

تت،، تم لوگ کون ہو؟ اور مجھے یہاں کیوں رکھا ہوا ہے؟ وہ معصومیت سے بولی۔تو منی مسکرائی۔
ہم اچھے لوگ ہیں مارش میلو، اور تمھیں یہاں اس لئے رکھا ہے کہ تمھیں اس رستم شیطان سے بچا لیا جائے، منی نے اطمینان سے کہا تو رواحہ کو حیرت ہوئی۔
دو سبز وحشی سی آنکھیں تصور کے پردے پر لہرائیں۔
اور،، اور،، وو،، وہ، کون ہیں،جج جنھیں گرین مم مونسٹر کہہ رہی ہو تم، اس کا پوچھتے وہ لرزی۔

وہ میرا بھائی ہے، ارے ہٹ، اس کا تو نا ہی پوچھ تو بہتر ہے، منی نے جان بوجھ کر بات گھمائی تھی۔ اور کڑوا سا منہ بنایا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

سوہم ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔وہ گاڑی میں، وائٹ پیلس میں، باہر کسی بھی جگہ ہو کر بھی نہیں ہوتا تھا۔ وہ دو حصوں میں بٹ چکا تھا، اور اپنی اس حالت سے بے حد بیزار تھا۔

جسم کہیں اور ہوتا جبکہ روح تو یوں لگتا تھا کہ کسی اور کے جسم میں ہی پروئی گئی ہے۔ یا یوں تھا کہ اس گداز سے وجود کی روح سوہم کے جسم میں پرو دی گئی تھی۔کہ وہ ایک سیکنڈ ایک لمحہ ایک پل کے لئے بھی اس کے زہن و دل سے محو نہیں ہو پاتی تھی۔
اوکے رائٹ، مجھے اس کے حسن نے متاثر کیا ہے، ایسی کوئی بات نہیں جو میرے دل و دماغ میں کھچڑی پک رہی ہے۔وہ بے حد حسین ہے۔بس اسے لئے ۔۔
ڈیم اٹ،، ششششششٹ،،،،
سٹئرنگ پر زور دار ہاتھ مارا تھا۔کیا مجھے اس کے جسم کی طلب ہے۔یخ،،،، اپنی سوچ پر گھن آئی، اور کرائیت محسوس ہوئی۔
کوئی اتنا بھی حسیں کیسے ہو سکتا ہے۔جیسے آسمان سے اتری پری۔جیسے بارش کے بعد کی قوس وقزع کے رنگ ، جیسے ریشمیں گڑیا، جیسے گداز، نرم و ملائم مارش میلو،،
وہ اپنی ہی دھن میں سوچے گیا۔پتہ ہی نا چلا اس کے سرد و سپاٹ لب اپنے آپ مسکرائے تھے۔

وہ اپنے اپارٹمنٹ پہنچا تھا۔ بے چینی حد سے سوا تھی۔ آج پاشا ڈیڈ نے اپارٹمنٹ آنا تھا۔ اور جب انھوںنے رواحہ کے متعلق سوال کرنے تھے تو ماہر سوہم خان کے چھکے چھوٹنے والے تھے۔
تبھی وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپتا اندر داخل ہوا تھا۔مگر اندر کا منظر دیکھ جیسے اس پر کسی نے پیٹرول ڈال کر آگ لگائی تھی۔وہ ابھی اندھیرے والی سائیڈ تھا اسی لئے فوراَ رومال نکال کر منہ پر باندھا تھا۔

Muneeb How dare you to get her out? How can you do that?
غراہٹ نما دھاڑ سنائی دی تو وہ دونوں ہی باتیں کرتیں اپنی جگہ سے اچھلی تھیں۔۔
رواحہ کی نظر بیرونی دروازے تک اٹھی تو وہ سامنے ہی بلیک پینٹ کے اوپر گرے شرٹ میں رومال باندھے وہ شرر بار آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔
رواحہ کا خوف سے سفید پڑتا چہرہ دیکھ منی نے سوہم کو گھورا۔ ارے ہٹ، وہ کونسا بھاگی جا رہی ہے، کہیں نہیں جاتی، اور اسے میں ہی،، اس سے پہلے منی کچھ کہتی سوہم اسے بازو سے تھام کر بلیک روم کی جانب لے کر گیا تھا۔منی کا دل کیا ماتھا پیٹ لے۔

وہ اسے لیے بلیک روم میں داخل ہوا تھا۔وہ بری طرح مچلی، سوہم نے اسے لا کر پھر دیوار سے پن کیا تھا۔ اور اس کے سامنے بلکل قریب پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا ہو گیا۔رواحہ کی آنکھیں ڈبڈبائیں تھیں۔

مجسم محبت کو چھو کر دیکھنے کی چاہ دل میں طوفان بن کر اٹھی۔کاش وہ زبان سے کہہ پاتا۔
مجھے زندگی کی آغوش میں سونے دے، تیری روح میں جسم ڈبونے دے، کہ ماہر سوہم خان کا دل یہیں کہیں اس کے سرخ جالی دار دوپٹے کے جال کے دام میں بہت بری طرح الجھ کر پھنسا تھا۔
تبھی اس کے ہاتھ بہت بے اختیار ہوئے تھے اور اس کے نرم و گداز بازوؤں کو تھاما تھا۔

رواحہ یوں صدمے سے بے حال ہوئی جیسے ابھی مر جائے گی۔ وہ اس لمس کی حدت سے بری طرح کسمسائی تھی۔
چچ،، چھوڑیں مجھے،، ی،، یہ، کک،، کیا کر رہے ہیں آپ، وہ مچلی،
سوہم خان کے رگ و پے میں ایک سکون وسرور سا دوڑا تھا۔تبھی آگے بڑھتا چلا گیا اور اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکا کر وحشی سبز کائی نما آنکھیں بند کر لیں۔

آ،،،آئی،، ہیٹ،، یو،، چچ، چھوڑیں،، مم،، مجھے،، آ،، آپ،، بھی، وہ،، ویسے،، ہی، گندے، ہو،، ہو،، جو،، چھ،، چھوڑو مجھے، اس نے سوہم خان کے سینے ہر اپنے نازک ہاتھوں سے مکے برسائے۔ اور بری طرح جھٹپٹائی۔
سوہم اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ وہ کہنا چاہتی ہے کہ تم بھی رستم کی طرح گندے ہو، تبھی اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔

سوہم نے اپنی آنکھیں اس کی براؤن آنکھوں میں گاڑھیں تھیں، رواحہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ ہوئی۔ آنسو سے چہرہ بھیگ گیا۔
یو ایڈیٹ، اسٹوپڈ ، فول گرل محبت اور ہوس میں فرق نہیں معلوم تمھیں؟ ان اظہارِ محبت کے الفاظ کے ساتھ سوہم کا روم روم سلگا تھا۔۔

تبھی اس نے نرمی سے اسے چھوڑا تھا۔اور حسبِ معمول اپنے قدم پیچھے لئے۔
ہیے یو، یاد رکھنا، اسے جسے دنیا گرین مونسٹر کہتی ہے محبت با وضو ہے اس کی، یاد رکھنا،
رواحہ اپنی جگہ پر ساکت ہوئی تھی۔

وہ کہتا باہر آیا تھا، سامنے ہی منی کھڑی تھی،
اسے بہت جلد یہاں سے جانا ہے منیب بتا دینا اسے، وہ کہتا اپنے کمرے میں بند ہوا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓

ایشان لاؤنج میں داخل ہوا تو وہ اپنے ڈول ہاؤس کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی۔۔ آروشے کے تمام ٹیسٹ کمپلیٹ ہو چکے تھے، جب اسے ہوش آیا تو تو اس کی حالت بہتر تھی اور ان کچھ دنوں میں اس کی مکمل ٹریٹمنٹ سٹارٹ ہو چکی تھی۔

آروشے نے ایشان کو دیکھ کر کلیپنگ کی،، یےےےےےے ،فرینڈ آؤ میرے ساتھ کھیلو، یہ دیکھو میرا چھوٹا سا ہاؤس جہاں روشے بےبی رہے گی، بٹ روشے بےبی سیڈ ہے۔

ریڈ فراک کے نیچے بلیک ٹراؤزر اور بلیک سکارف گلے میں ڈالے لمبے بالوں کی دو پونیاں جھلاتی وہ کیوٹ سا برا سا منہ بنا کر بولتی سیدھا اس کے دل میں اتری تھی۔
اور روشے بےبی کیوں سیڈ ہے۔ ایشان نے مسکرا کر پوچھا۔

بی کاز، اس ہاؤس میں روشے بےبی بلکل اکیلی ہے، روشے بےبی کا کوئی فرینڈ تو ہے ہی نہیں ہاؤس میں، وہ دکھی ہوئی۔
دونٹ وری روشے، میں تو ہوں ناں تمھارے ساتھ ،اب یہ فرینڈ اپنی روشے کو کبھی اکیلے نہیں چھوڑے گا۔
سچ،،وہ خوشی سے کھلی اور اس کے گلے میں جھول گئی۔
ایشان نے بھی آج اس کہ کمر کو نرمی سے ہاتھوں سے تھاما تھا۔
مچ،،، یہ کہہ کر اس کے ماتھے پر ہلکے سے حدت بھرا لمس چھوڑا۔

اووووو،، فرینڈ روشے بےبی نے کیا اچھا کام کیا ہے، بی کاز آپو تو روشے بےبی کو تبھی فورہیڈ پر کسی دیتی ہیں جب وہ کوئی اچھے والا کام کرے؟
روشے بےبی نے اس جلاد کو اندر تک ہلا ڈالا ہے اور کسی کام کا نہیں چھوڑا، وہ خود سے بڑبڑایا۔جبکہ روشے پھر اپنے ہاؤس کی جانب متوجہ ہو گئی تھی۔

روشے بےبی اپنے ٹوائیز کے ساتھ کھیلے گی اتنا ایش کچن میں جا کر روشے کے اچھا سا پاستا بنا کر لائے گا اور آپو سے ایک بات بھی کرے گا۔
اوکے، وہ بہت جلد مان گئی، ایشان مسکراتا کچن کی جانب بڑھا تھا جہان سے کھٹر پٹر کی آوازیں آ رہی تھیں۔

مجھے پتہ ہے کافی دنوں سے آپ مجھے اگنور کر رہی ہوں۔مگر خدا کے لئے مجھے بتا دیں کے آروشے کے ساتھ کیا ہوا تھا، نہیں تو آپ کو کچھ ہو گیا تو یہ راز آپ کے ساتھ ہی منوں مٹی تلے دفن ہو جائے گا اور میں کبھی آروشے کا علاج نہیں کر پاؤں گا۔کیا آپ یہی چاہتی ہیں ۔
ایشان کی سنجیدگی سے کہی بات پر علیزے کے ہاتھوں سے چاءے کا مگ زمین پر گر کر چکنا چور ہوا تھا۔

💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
میری طرف سے ناول بینک کو اینورسری بہت بہت مبارک ہو، اور اسی خوشی میں پیارے پیارے ریڈرز کے لئے سرپرائز ایپی بھی۔
ناول بینک کے بارے میں کیا کہوں، شروع دن سے ایسے جیسے بہت اپنا اپنا اور گھر والی فیلنگ محسوس کی،ناول بینک کی طرف سے ہر قدم پر ساتھ دیا گیا ، ہر دکھ اور پریشانی شئیر کر کے ایک نیا عزم اور حوصلہ دیا گیا۔ جہاں قدم ڈگمگائے وہاں ایک نئی منزل کا نشان دکھا کر زاد راہ بنا گیا ۔۔۔۔تو اسی لئے میری طرف سے بہت بہت مبارک باد اور پوری ٹیم خاص الخاص عامر بھائی اور ناول بینک کے ریڈرز کی سپاس گزار
الله تعالیٰ ہمیں یونہی ترقی کی منزلیں عطا فرمائے آمین
منجانب، رائٹر #واحبہ_فاطمہ