No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
وہ چاروں ہاتھ باندھے سر جھکائے پاشا ابراہیم کے سامنے کھڑے تھے۔۔
آج ان کی شامت آئی تھی جو پاشا کے ہاتھ لگ گئے تھے۔۔اتنے دنوں سے تو بچ ہی رہے تھے بہانے سے۔۔
پاشا ابراہیم ان پر خوب گرج برس رہا تھا۔۔اور آج برسوں بعد رحاب نے پاشا کا یہ برسوں پرانا روپ دیکھا تھا۔۔
پنکی بھی سربراہی کرسی پر بیٹھی،، پاشا کو دیکھ رہی تھی جیسے آج اس کے زخم ادھیڑ دیئے گئے تھے۔۔
سب سے زیادہ تم قصور وار ہو سوہم خان،، آخر کیوں نہیں سمجھتے،، یہ ہمارے کام کرنے کا طریقہ نہیں ہے،،، تمھارا رستہ غلط ہے،، تمھارا طریقہ غلط ہے،،، تم،،،
پلیز ڈیڈ،،، سوہم خان نے جھنجھلا کر پہلی مرتبہ پاشا کی بات کاٹی تھی۔۔
آخر پرابلم کیا ہوئی،، پہلے وہ تو بتائیں ڈیڈ،،، حسبِ معمول آنکھوں سے شعلوں کی لپٹیں سی اٹھ رہی تھیں۔۔
تمھیں اب بھی وضاحت سے بتاؤں میں سوہم خان کے تم نے کل کیا کیا،،، تم نے اس کام کے آرڈرز دئے۔۔
پاشا دانت پیستا ماہ بیر تک آیا تھا،،، تم ماہ بیر راسم،،، تم نے گن ڈلیور کی ہے ناں،،،
پھر جبران کے سامنے آیا۔۔ اور جبران کبیر ابراہیم تم نے فائر کیا،،، یس اور نو،،،،
اب ایشان کی باری تھی،،، اور ایشان کبیر ابراہیم تم نے لاش ٹھکانے لگائی۔۔ ہمیشہ کی طرح جڑواں ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہ دنیا کی نگاہ میں دھول جھونکنے ہوئے کہ جے کے تو سب کے سامنے تھا تو لاش کدھر گئی تھی،،،، ہیں ناں،،، میں نے تم چاروں کو اسکیلپر یوز کرنا سکھایا اس لئے نہیں کہ انسانیت ہی کاٹ کر پھینک دو۔۔ اب بتاؤ تم لوگوں نے ہی کیا ناں یہ،،،،
یس ڈیڈ ہم نے ہی کیا تھا۔۔۔سوہم نے اب اطمینان سے اعتراف کیا تھا۔۔
وحشت زدہ سبز آنکھوں میں بے حد سرد سا تاثر تھا۔۔
کیونکہ وہ تھا ہی اسی قابل،،،
شٹ اپ سوہم خان،،، پاشا دھاڑا،،، تصدیق کی اس بات کی کہ وہ اسی قابل تھا بھی کہ نہیں ڈیٹیلز نکلوائیں تھیں پہلے،،،،،، زرا وضاحت دو،،، اتنی بے رحمی،، اتنی سفاکی،،، اور،،،،
اب چھوڑیں ناں غصہ،،، بچے ہیں سمجھ جائیں گے،،، رحاب نے مریل سی آواز میں کہا اور مدد طلب نگاہوں سے پنکی کو دیکھا۔۔
اے ہیے،،، جانے بھی دو پاشا بچوں کو ،،کیوں پیچھے پڑے ہو ان کے،،، آہستہ آہستہ سیکھ جائیں گے اور سمجھ بھی جائیں گے۔۔
پنکی نے نزاکت سے کہا۔۔
بچے نہیں ہیں یہ پنکی،،، مجھے تو لگتا ہے مجھ سے بھی بڑے ہو گئے ہیں،،، پاشا پھنکارا
پلیز بڑے پاپا،،، ہماری بات تو سن لیں،،، جبران نے بولنے کی حماقت کی تھی۔۔
گیٹ لاسٹ فرام ہیئر ،،،دفع ہو جاؤ یہاں سے سب کے سب،،، پاشا کو غصہ کنٹرول کرنا آج مشکل لگ رہا تھا۔۔
رحاب نے آگے بڑھ کر پاشا کا بازو تھاما تھا۔۔
پنکی اپنی جگہ سے اٹھ کر پاشا کے سامنے آئی تھی۔۔
Executioners
کو روکو گے پاشا ابراہیم،،،، جانے دو،،،،، رہنے دو،،، طوفان ہیں وہ،، نہیں روک پاؤ گے انھیں،،،
پنکی کہتی اپنے کمرے کے لئے نکلی تھی۔۔پاشا نے اپنا سر تھاما تھا۔۔
چاروں وہاں سے نکلے تھے۔۔
رخ بیسمیںٹ کی جانب تھا۔۔
سوہم خان نے مخصوص اشارہ کیا تو وہ سمجھ کر آگے بڑھے۔۔
اب رخ ان چاروں کا بیسمنٹ کی جانب تھا۔۔
💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖💖
بیسمینٹ میں سربراہی کرسی پر سوہم خان تھا۔۔جو بس صرف اتنی بات کیا کرتا تھا جسے کرنا کوئی بہت ہی زیادہ ناگزیر ہو۔۔
حسبِ معمول سب اس کے سامنے کرسیوں پر بیٹھے تھے اور منی اس کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔۔
نیو اپ ڈیٹ دو جے کے،،،
وہ ہوسپیٹل نہیں،، گوشت مارکیٹ ہے یا قصائیوں کا اڈہ،،، جبران نے تمام تفصیلات سے سوہم اور سب کو آگاہ کیا تھا۔۔
تو ٹھیک ہے ڈاکٹر جبران کل سے ڈیوٹی جوائن کرو اور رات تک مجھے انفارم کرو۔۔ یاد رکھنا جب جبران ہوسپیٹل میں ہو تو جے کے ان قصائیوں کی گردنوں کی تلاش میں نکل جائے،،،،
سوہم کی آنکھوں میں ایک سرد اور سنسناتی سی چمک تھی جو اسکیلپر یوز کرتے ہوئے اس کی کائی جمی آنکھوں میں آ جاتی تھی۔۔
وہاں موجود وہ تینوں اور ان کے بہت خاص آدمی سمجھ چکے تھے کہ انھیں کیا کرنا۔۔
جبران اور ایشان چونکہ جڑواں اور بلکل ہم شکل تھے،، صرف بہت قریبی لوگوں کو پتہ تھا کہ ایشان کے کان پر پیدائشی برتھ مارک تھا جس سے ان کی پہچان ہو پاتی تھی۔۔
جبران نے امریکہ جبکہ ایشان نے کینڈا سے ہارٹ اسپیشلسٹ ایم بی بی ایس ڈگری حاصل کی تھی مگر ایک ہی نام جبران کبیر ابراہیم کے نام سے۔۔
کیونکہ انھیں پتہ تھا ان کی زندگی آگے جا کر کیا رخ اختیار کرنے والی ہے،، وہ بظاہر ڈاکٹر مگر کچھ اور ہی بننے والے ہیں ۔۔ ان کی زندگی کا مقصد، حاصل کچھ اور ہی ہونے والا ہے۔۔
ضروری ہدایات دینے کے بعد سوہم خان نے میٹنگ برخاست ہونے کا اشارہ کیا تھا۔۔
وہ چاروں اٹھے اور ایک ہی مخصوص اسٹائل میں پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے باہر کی جانب بڑھے تھے۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
باہر سے آتی گھنگھروؤں کی آوازوں کو دبانے کی کوشش میں رواحہ نے اپنی کانوں پر زور سے ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔۔
محفل اپنے عروج پر تھی۔۔
شہر کے رئیس اور سیٹھ باہر محفل سے لطف اندوز ہوتے موسیقی اور نزاکت سے کیے رقص پر اپنا سر دھن رہے تھے۔۔
کمزور سا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔۔آج ہفتے کا وہ دن تھا جو اس کے لئے اذیتوں کے نئے باب لکھ دیا کرتا تھا اور حسبِ معمول ہوا بھی یہی۔۔
کچھ ہی دیر میں تارا بائی اس کے پاس آئی تھی۔۔
چندہ میری جان جلدی سے تیار ہو جا۔۔اور جو کپڑے نکال کر دیے ہیں وہ پہن لے،،، رستم دادا پہنچنے ہی والا ہے۔۔
اس نے شاکی نگاہوں سے تارا کو گھورا،،،، تو وہ دانت نکوستی معنی خیز سی بولی۔۔
ارے کیا کریں آخر،،، اب وہ ہیں جو تمھارے اعلیٰ پائے کے عاشق تو صرف اتنی سی فرمائش ہوتی ہے ہر ہفتے کہ تو انھیں اپنے ہاتھوں سے جام بنا کر دے اور شکر کر اٹھارہ کی نہیں ہے ابھی نہیں تو تیری جان ہی نہیں چھوڑنی تھی اس رستم ہلکٹ نے،،،،
کوٹھے پر پلی وہ جانے کیا کیا بے ہودہ اور فحش لفظ استعمال کرتیں تھیں رواحہ کو سن کر ہی ابکائی آتی۔۔
اچھا جاؤ میں ہوتی ہوں تیار،،،، اس نے جان چھڑانے کو کہا۔۔
وہ چلی گئی مگر روح یونہی ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی،،،
کچھ ہی دیر بعد اسے بلاوا آ گیا۔۔رانی بائی اسے خود لینے آئی تھی۔۔مگر اسے یونہی ملگجے سے حلیے میں دیکھ رانی بائی کا ہاتھ طیش و اشتعال کی شدت سے چندہ پر اٹھتا ہوا،،،،،،،، ہوا میں بلند ہوا تھا۔۔
مگر اتنی ہی جلدی رانی بائی نے خود پر کنٹرول کیا کہ ایک مرتبہ وہ یہ جرات رستم دادا کہ سامنے کرنے والی تھی۔۔
تو اس کی دھاڑ پورے کوٹھے میں گونجی تھی۔۔
رانی بائی،،، آج تو یہ جرات کی ہے آئندہ کی تو ہاتھ جڑ سے اکھاڑ کر اپنے کتوں کو کھلا دوں گا۔۔
رانی اسے بازو سے تھامے دوسرے کمرے میں لے کر آئی تھی۔۔
وہ کمرہ نہیں جیتی جاگتی مسہری تھی جسے موتیے گلابوں کے پھولوں سے ہر ہفتے اس اسپیشل مہمان کے لئے سجایا جاتا تھا۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوئیں تو رستم دادا اسے دیکھ کر کھل اٹھا۔۔
زہے نصیب،،، زہے نصیب،، طویل انتظار کے بعد آنکھیں دیدار کے جام سے سیراب ہوئیں ہیں ۔۔۔
رستم نے سر تا پا اسے دیکھے۔۔
رواحہ کو کراہیت محسوس ہوئی،،، اس ماحول،، خوشبو،،، سامنے کھڑے شخص کی نگاہیں اس قدر اذیت و کراہیت کا باعث تھیں دل کرتا تھا لمحوں سے پہلے خود کو زندہ جلا لے۔۔
مگر یہ کیا جانِ من اتنے روکھے پھیکے حلیے میں کیوں آ گئیں ۔۔رستم نے اسے بیٹھنے کا شارہ کیا۔۔
مہاراج،،،، آپ نے ہی سر چڑھا رکھا ہے کہ بندی اپنی من مانی کرنے لگیں ہیں،، نہیں تو،،،،، رانی بائی نے چمک کر کہا اور اپنی بات جان بوجھ کر ادھوری چھوڑ دی۔۔
بھلا گلاب کے پھول کو بھی بناؤ سنگھار کی ضرورت ہو سکتی ہے،،،، جاؤ رانی بائی تنہائی چاہیے مجھے میری جان کے ساتھ،،،
رستم نے کہا تو چندہ نے پہلو بدلا جبکہ رانی وہاں سے چلی گئی۔۔
کیسی ہو،، وہ گہری نظر اس کے حسین سراپے پر ڈالتا بولا۔۔
جی ٹھیک ہوں،،، وی مرنے کو تھی۔۔
جام بناؤ،،، اگلا حکم آیا،،، اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔۔بڑی مشکل سے اٹھ کر ٹیبل کی جانب بڑھی۔۔
کاش وہ پیدا ہوتے ہی مر گئی ہوتی تو چھوٹی سی عمر میں اتنی قیامتیں نا سر سے گز چکی ہوتیں۔۔
وہ اب بیڈ پر کہنی کے بل گاؤ تکیہ پر ہلکا سا نیم دراز دلچسپی سے اس کا لرزتا نازک وجود اور کانپتے گداز ہاتھ ملاحظہ کر رہا تھا۔۔
دوپٹہ اچھے سے اپنے گرد لپیٹے وہ گلاس میں اب جام انڈیلنے کی تگ و دو میں مصروف تھی۔۔
ابھی مجھ سے مت ڈرا کرو تم،،، میں نے کبھی کچھ کہا تمھیں،،؟ ہاں مگر تمھاری منہ دکھائی کے بعد کی گارنٹی نہیں دوں گا،، مگر ابھی ریلیکس ہو جاؤ،،، تم جانتی ہو میری نظر صرف دنیا میں ایک چیز پر آ کر ٹھہری ہے اور وہ تم ہو،، تم ساری زندگی صرف میری دسترس میں رہو گی کیونکہ مجھے اپنی چیزیں بانٹنا پسند نہیں۔۔
وہ لاپروائی سے بولا۔۔
(منہ دکھائی)رواحہ کے سر پر ایک اور بم پھوٹا۔۔
اس کی روح کو کچوکے لگے اور تار تار دل و جاں کرلائی۔۔مگر یہ نا کہہ سکی اگر اتنا ہی دسترس میں رکھنا ہے تو اس رشتے کو پاکیزہ کر لو،، نکاح کر لو۔۔
کیونکہ یہ سوال کر کے وہ جواب پا چکی تھی۔۔
کہ نکاح تو خاندانی بیوی سے کر چکا ہوں اب وہی میرے بچے پیدا کرے گی تم چاہے کتنی پاکیزہ رہو مگر پلی تو ایک کوٹھے پر ہو ناں،، تو تم سے اپنی اولاد کیسے پیدا کروا لوں۔۔
اس جواب نے اسے ٹھنڈ ڈالی تھی اب کبھی یہ سوال کر کے مزید زلت کی گڑھے میں نہیں گرنا چاہتی تھی۔۔
اس نے جام بنا کر سامنے والے کو تھمانا چاہا۔۔۔رستم کی انگلیاں اس کے ہاتھوں سے زرا سا مس ہوئیں تھیں۔۔
رستم کو لگا گلابی روئی کے گال کو چھو لیا۔۔
مگر وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی تھی۔۔گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر چھناکے سے زمین بوس ہوا۔۔
رستم کے ماتھے پر ڈھیروں بل آئے تھے۔۔مگر جب وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر بلک بلک کر رو دی تو وہ نرم پڑ گیا۔۔
جاؤ یہاں سے،، وہ سرد سے لہجے میں بولا تو رواحہ سر پر پاؤں رکھ کر اس جہنم سے دور بھاگی تھی۔۔
💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓💓
وہ گاڑی سے نکل کر اس پوش علاقے کے چھوٹے سے پارک میں داخل ہوا۔۔
ایشان کی نگاہیں ادھر ادھر کسی کو تلاش کر رہیں تھیں۔۔وہ پارک میں آہستگی سے چلتا آگے بڑھا۔۔
مگر جلد ہی قدم روکنے پڑے۔۔
کیونکہ ایک بینچ پر ایک لڑکی بیٹھی زور زور سے چلاتی رو رہی تھی اور دو لڑکے اسے پریشان کر رہے تھے
ہاتھ آگے بڑھا کر اسے چھونے کی کوشش کر رہے تھے۔۔
ایشان کے ماتھے پر ڈھیر سارے بل آئے تھے۔۔
وہ آگے بڑھا اور ان لڑکوں کو گردن سے دبوچ کر جلد ہی دھول چٹائی تھی۔۔
وہ انھیں بری طرح پیٹ رہا تھا۔۔
جبکہ اگلا منظر انتہائی غیر متوقع اور حیران کن تھا اس کے لئے۔۔
وہ گلابی سی لڑکی،، گھٹنوں سے نیچے تک ییلو فراک اور جینز کی ٹائٹس پہنے سکارف لیے اب بینچ پر چڑھے بچون کی طرح تالیاں بجا بجا کر خوش ہوتی ان لڑکوں کو ٹھینگا دکھا رہی تھی۔۔ اس نے اب غور کیا تھا اس نے بچوں کی طرح لبمے بالوں کی دائیں بائیں دو پونیاں بھی بنا رکھی تھیں۔۔
وہ لڑکے اس جلاد سے جان چھوٹتے دیکھ موقع غنیمت سمجھتے بھاگ چکے تھے۔۔
اوو،،، یےےےے،،،، ویر نائس،،، انکل روشے بےبی بہت ہیپی ہے آپ سے۔۔ آپ نے ان ڈیولز کو بھگا دیا،،، ڈشوم،،، ڈشوم کر کے،،، ییےےےے
انکل،،، ایشان کو غش پڑنے والا ہوگیا۔۔
ڈاکٹر تھا سو بہت جلد بات کی تہہ تک پہنچ چکا تھا،، اس نے سرد سی آہ بھری۔۔
روشے بےبی یہاں کیا کر رہی ہے،، روشے بےبی کا ہوم کدھر ہے،، ایشان نے نرمی سے پوچھا۔۔
ایک دم تاثرات بدلے تھے،، اور وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتی بینچ سے نیچے آئی۔۔
یو نو واٹ،،، انکل،،، روشے بےبی کا ہوم لوسٹ ہو گیا ،،،اب روشے کیا کرے گی،، آپو بھی ڈانٹے گی روشے بےبی کو،، وہ اب سوں سوں کرتی بینچ پر بیٹھی پاؤں زمین پر پٹخ کر روئے جا رہی تھی۔۔
مگر ایشان نے اس کے بازو پر بندھا بینڈ دیکھ لیا تھا جو شاید اس کی آپو نے احتیاطاً اس کے بازو میں پہنایا ہوگا،، جس پر باریک مگر پڑھا جا سکنے والا ایڈریس لکھا ہوا تھا۔۔
روشے بےبی کو ہوم جانا ہے،،، تو میں چھوڑ آتا ہوں،، روشے کو ہوم،،
اب وہ اپنی کیفیت پر جھنجھلا رہا تھا،، ٹارگٹ بلکل سامنے تھا اور وہ روشے بےبی میں الجھا ہوا تو،،
نو،،، وہ نروٹھی سی بولی،،، آپو نے کہا تھا کسی سٹرینجر پہ ٹرسٹ نہیں کرنا،، کسی سٹرینجر کے ساتھ گاڑی میں نہیں جانا،،، وہ معصومیت سے منہ بنا کر بولی
اونہہہہہہ،،، آپو نے یہ کہا تھا کہ بھیڑیوں کے درمیان گم ہو جانا۔۔
وہ دل میں بڑبڑاتا جھنجھلایا۔۔
رائٹ تو انکل جانے لگا ہے،،، وہ ڈیولز پھر آ کر روشے بےبی کو پریشان کریں گے،،، پھر تو انکل بھی نہیں آئیں گے انھیں ڈشوم ڈشوم کرنے۔۔
ایشان نے اسے پتے کی بات بتائی اور جانے لگا
وہ خوفزدہ سی سہم کر اس کی جانب لپکی۔۔
اوکے انکل،،، میں آپ پر ٹرسٹ کر لیتی ہوں،،، روشے بےبی کو ہوم لے جاؤ ناں،، پلیییییییززززز،،،،،،
وہ دونوں ہاتھ ایک دوسرے میں پھنسا کر لہرا کر ریکویسٹ کرتی بولی۔۔
ایشان نے بے تحاشا الجھ کر اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کی۔۔اسے گاڑی میں بٹھایا۔۔
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر ٹارگٹ کو جاتے دیکھا اور سرد سی سانس بھری۔۔
زرا سا سر گھما کر اپنے ساتھ والی سیٹ پر دیکھا،، روشے بےبی اپنے بینڈ سے کھیلنے میں مصروف تھی۔۔
اس نے سامنے دیکھا سن گلاسز لگا کر اپنی آنکھوں کے تاثرات چھپائے اور زن سے گاڑی بھگائی۔۔
Continue,,,,,,,,
