Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

ایک سال تک armed ٹریننگ میں اس نے مختلف اسلحہ چلانا سیکھے جس میں چھوٹی پسٹل سے لے کر بڑی گن تک؛ تیر اندازی؛ تلوار زنی؛ اور ڈنڈے سے مقابلہ کرنا شامل تھا۔ اپنے 21 سال کے آخری امتحان میں بھی وہ بہت شاندار طریقے سے کامیاب ہوا۔ آرمی پریڈ میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اکیڈمی کے تعلیمات اپنے اختتام کو پہنچے۔ اب اسے واپس کراچی جا کر اپنے مقصد کی حصول کے لیے تیاری کرنی تھی۔

وہ اکیڈمی میں اس کا آخری دن تھا۔ اس نے تقریباً‌ پورا دن اپنے ساتھیوں اور ریحان سر کے ساتھ اچھے سے گزار کر رات صادق سر کے ہاں رکنا تھا اور صبح کی ٹرین سے واپس روانہ ہونا تھا۔

صادق سر کے گھر پر کھانے پینے کے بعد جب مسزز نورین اور بچے سو گئے تب صادق صاحب اور شاویز رات کی تاریکی میں اکیلے باہر لان کی سیڑھیوں پر بیٹھے بیتے لمحوں کو یاد کرتے رہیں۔

سات سال کا عرصہ انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ دوستی میں؛ استاد شاگرد کے جیسے؛ کبھی پیار سے؛ کبھی ڈانٹ کر گزارا تھا۔ ایک الگ سا لگاو اور اپنائیت بن گئی تھی دونوں کو ایک دوسرے سے۔

“شاویز تم آرمی سلیکشن کے لیے رجوع کرو۔۔۔۔۔ ہمارے آرمی سسٹم کو تمہارے جیسے ہونہار جوان کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔” صادق سر اپنے دل عزیز بیٹوں جیسے شاویز کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے۔

شاویز نے مایوسی سے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔ اس وقت وہ اپنے اندرونی کیفیت صادق سر پر عیاں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے صادق سر سے بہت محبت تھی اس میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا لیکن اب وہ اس قابل ہوچکا تھا کہ اتنے سالوں سے دل میں دبائے دلاور پرویز خان کی بربادی کے مقصد کو پورا کر سکے تو وہ اس مقصد کے بیچ میں صادق سر کی محبت کی دیوار نہیں لانا چاہتا تھا۔

“چلو آرمی نہ صحیح۔۔۔۔ لیکن تم یہی رہو۔۔۔۔۔ اکیڈمی میں کئی سارے خالی آسامیاں آئیں ہیں۔۔۔۔ تم وہاں نوکری کے لیے رجوع کرو۔۔۔۔ مجھے یقین ہے۔۔۔۔۔ تم بہت اچھے عہدے پر فائز ہوجاو گے۔۔۔۔” صادق سر نے اسے روکنے کی ایک اور ناکام کوشش کی۔ 45 سالہ صادق صاحب کے شاویز کے لیے والہانہ جذبات امڑ امڑ کر آرہے تھے۔

“میں آپ کے احساسات سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔ لیکن آپ بھی مجھے اچھے سے جانتے ہیں نا۔۔۔۔۔ میں ضرور آرمی جوائن کر لیتا لیکن۔۔۔۔۔۔ دل میں دبائے مقصد کو حاصل کئے بغیر۔۔۔۔۔ میں کسی اور کام میں فوکس نہیں کر پاوں گا۔۔۔۔۔” اس نے صادق سر کے مظبوط ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیئے۔

“پر آپ سے کیا وعدہ میں نہیں بھولا۔۔۔۔۔ آرمی میں رہوں یا کسی بھی اور شعبے میں۔۔۔۔۔ میرے سارے خدمات اپنے وطن کی فلاح و بہبود کے لیے ہی ہونگے۔۔۔۔”شاویز نے با اعتماد لہجے میں کہا۔

“اور میں آپ سے دور تھوڑی ہورہا ہوں۔۔۔۔۔ آپ میرے بناوٹ کا اہم حصہ ہے۔۔۔۔۔ موت کے علاوہ مجھے آپ سے کوئی شے جدا نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔ میں آپ سب سے ملنے ضرور آیا کروں گا۔۔۔۔ اور آپ سے متواتر کونٹکٹ میں رہوں گا۔۔۔” اس بات پر شاویز دل سے مسکرایا تھا اور اسے پیار سے دیکھتے صادق سر بھی ہامی بھرنے کے انداز میں مسکرائے۔

“ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔۔ جب تم نے ٹھان لیا ہے۔۔۔۔ تو میں مزید فورس نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ جہاں بھی رہو۔۔۔۔ خوش رہو۔۔۔۔۔ اور اپنے تعلیمات کی پریکٹس کرتے رہنا۔۔۔۔۔” صادق سر نے مزاج خوشگوار بناتے ہوئے اس کے بازو کو تھپتھپایا اور جیب سے ایک چابیوں کا گچہ نکال کر شاویز کے سامنے کیا۔

“کراچی میں میرے چھوٹے بھائی کا فلیٹ خالی پڑا ہے۔۔۔۔۔ تم وہاں رہ سکتے ہو۔۔۔۔۔” صادق سر نے ساتھ ساتھ موبائل نکالا اور اس فلیٹ کی تصویریں شاویز کو دکھانے لگے۔ وہ جو ان سے چابیاں لینے سے انکار کرنے کے لیے ، مناسب الفاظ تلاش کر رہا تھا تصویریں دیکھنے رک گیا۔ وہ بلکل اس کے کام کے مطابق ڈیزائن شدہ ایک بیڈروم کا فلیٹ تھا۔

“یہ میرے چھوٹے بھائی کی تفریحی گاہ تھی۔۔۔۔ اس نے مخصوص طور پر اپنے امریکی دوست کی مدد سے یہ فلیٹ مغربی طرز پر تعمیر کروایا تھا۔۔۔۔۔ پچھلے کچھ ماہ تک ایک میڈ دیکھ ریکھ کرنے آتی تھی لیکن پھر اس نے کام چھوڑ دیا تو فلحال بلکل خالی ہے۔۔۔۔۔۔ تو تمہارے لئے سر پناہ ہوجائے گا۔۔۔۔ اور مجھے فلیٹ کی رکھوالی کرنے والا مل جائے گا۔۔۔۔” صادق سر نے تفصیلی وضاحت پیش کی۔ پھر موبائل رکھ لیا۔

“تھینکیو سر۔۔۔۔۔ آپ کے بھائی کو جب بھی فلیٹ واپس چاہیئے ہوگا۔۔۔۔۔ میں اسی وقت بے جھجک خالی کر دوں گا۔۔۔۔” شاویز نے چابیاں لیتے ہوئے دوستانہ آفر کیا۔

اس کی بات پر صادق صاحب سر جھٹکتے ہوئے ہنسے اور قمیض کی جیب سے سگریٹ کا ڈبہ اور لائٹر نکال کر سگریٹ جلانے لگے۔

“اسے اب وہ فلیٹ کبھی درکار نہیں ہے۔۔۔۔۔” صادق صاحب نے ہوا میں دھواں اڑاتے ہوئے کہا۔

شاویز نے تعجبی انداز میں انہیں دیکھا۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ ان کا چہرا دیکھنے کے لیے شاویز کو پورا رخ ان کی جانب کرنا پڑا۔ اچانک ہی اسے صادق سر کے چہرے پر تھکن اور مایوسی چھاتی محسوس ہوئی۔ وہ سگریٹ نوشی صرف زیادہ پریشان کن حالت میں کرتے تھے۔ اس وقت شاویز ان کی سگریٹ نوشی کرنے کی وجہ پڑھنے کی کوشش کرنے لگا تھا لیکن اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی صادق سر نے خود ہی اسے اپنے درد سے آشنا کیا۔

“8 سال پہلے میرا 26 سالہ جوان بھائی شہادت کا جام اپنے نام کر چکا ہے۔۔۔۔۔۔ کشمیر کے بارڈر پر وہ انڈین فورسز کے ہاتھوں شہید ہوگیا ہے۔۔۔۔۔” صادق صاحب نے پھیکا مسکراتے ہوئے کہا۔ شاویز تو مانو پلکیں تک نہ جھپکا سکا۔ وہ یک ٹک صادق سر کو دیکھتا رہا۔

“اس میں اتنا ہی جنون اور کچھ کر گزرنے کی ہمت تھی۔۔۔۔۔ اس میں بھی اتنا ہی خوش و جذبہ تھا۔۔۔۔۔ بہت محنتی بچہ تھا۔۔۔۔۔۔ ہم سب بہن بھائیوں میں مجھ سے بہت بنتی تھی اس کی۔۔۔۔۔ جب بھی تکلیف میں ہوتا۔۔۔۔۔۔ مجھ سے شیئر کرتا۔۔۔۔” صادق سر ویران آنکھوں سے ہوا سے ہلتے سامنے گلدان میں لگے پھولوں کو دیکھ رہے تھے۔

شاویز کی آنکھیں بھر آنے لگی۔ کیا کوئی بھی اچھا انسان دکھ درد تکلیف سے خالی نہیں؛ کیوں اس ظالم دنیا نے اس سے اس کی ماں اور صادق سر سے ان کا بھائی چھین لیا ہے؛ سوچتے ہوئے اس نے رخ پھیر لیا اور لب کاٹنے لگا۔

“جب اس کی ڈیوٹی کشمیر بارڈر پر لگی۔۔۔۔۔ اس نے مجھے فون کیا۔۔۔۔ کہا۔۔۔۔۔ صادی بھائی۔۔۔۔۔ میں واپس نہ آیا تو۔۔۔۔ رونا نہیں۔۔۔۔ شہید کبھی مرتے نہیں ہیں۔۔۔۔۔بہت جان باز فوجی تھا۔۔۔۔۔۔ شاہ سوار تھا۔۔۔۔ ” صادق سر کے الفاظ ٹوٹ گئے شاید وہ بھی جذباتی ہوگئے تھے۔ شاویز نہ ان کی طرف دیکھ سکا نہ انہیں دلاسہ دے سکا۔ اسے اپنا اور صادق سر کا اپنے دل کے سب سے قریبی رشتے کو کھونے کا غم ایک برابر لگا۔

صادق صاحب نے ایک گیلی سانس اندر کھینچ کر پھر سے سگریٹ کا کش بھرا۔

“جب میں نے 7 سال پہلے تمہیں اس ہوٹل میں جنون اور کچھ کر گرزنے کی ہمت سے سر شار دیکھا تو مجھے اپنا بھائی یاد آگیا۔۔۔۔ اور میں خود کو تمہیں ساتھ لانے سے روک نہیں پایا۔۔۔۔۔ تمہیں ٹریننگ کرواتے وقت؛ تمہاری دلیری؛ تمہارے جذبے میں مجھے ہمیشہ اپنا بھائی نظر آتا تھا۔۔۔۔۔” صادق سر آج اپنے دل کے سارے راز افشاں کرنے لگے تھے۔ شاویز سر جھکائے خود کو رو دینے سے روکنے کی کوشش میں لگا رہا۔

“آج تمہیں کامیاب جوان دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔۔۔۔ تم نے میری محنت۔۔۔۔ ضائع نہیں جانے دی۔۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ ڈھیٹ بھی بہت ہو تم۔۔۔۔۔” کہتے ساتھ ہی صادق سر ہنس پڑے اور شاویز کے سر پر تھپکی ماری۔ ماحول میں بڑھتے تناو کو کم کرنے انہوں نے موضوع گفتگو بدل دیا۔

شاویز نے ہنستے ہوئے آنکھوں کے بھیگے کنارے صاف کئے اور ان کے ہاتھ سے سگریٹ کا ڈبہ دبوچ لیا جو صادق سر نے دوسرا سگریٹ جلانے کی نیت سے اٹھایا تھا۔

“تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔۔۔۔۔ اس سے ہمارا نظام تنفس خراب ہوتا ہے۔۔۔۔ اور ہم ٹریننگ ٹھیک سے نہیں کر پاتے۔۔۔” شاویز نے ڈٹی آواز میں صادق سر کی نقل کرتے ہوئے ان ہی سے سیکھا جملہ دہرایا۔

صادق سر نے ہنستے ہوئے اس کا گلا اپنے بازو میں جکڑ لیا۔

” ابھی بھی اتنی طاقت ہے مجھ میں۔۔۔۔ کہ ایک ہی وار سے تمہیں نیچے پٹخ دوں۔۔۔۔”صادق سر نے اس کا سر اپنے بازو میں دبائے ہوئے کہا۔ شاویز نے ہار ماننے کے انداز میں ہاتھ اوپر اٹھائے تو صادق سر نے اس کی گردن چھوڑ دی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کھل کر مسکرائے۔

“اI love u صادی بھائی۔۔۔۔۔ ” شاویز نے ان کے چھوٹے بھائی کے دیئے لقب سے انہیں مخاطب کیا اور ان کے گلے لگ گیا۔

“اI love u too بیٹا۔۔۔۔۔۔ “صادق سر نے اس کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے اس کے کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا۔

رات کافی گہری ہورہی تھی تو شاویز نے صادق سر سے ان کے بھائی کے فلیٹ کا ایڈریس نوٹ کیا اور دونوں ساتھ اٹھتے ہوئے سونے کے لیے چلے گئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ کراچی پہنچا تو سیدھے صادق سر کے بھائی کے فلیٹ چلا گیا۔ وہاں آرام کر کے پھر دائی ماں سے ملنے گیا۔

وہ اسے دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماء رہی تھی۔ رات تک وہی رہا اور پھر واپس فلیٹ آگیا حالانکہ زبیدہ خالہ نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن اس نے صادق سر کی مہربانی اور فلیٹ کی دیکھ بھال کی زمہ داری کا سمجھا کر انہیں منا لیا۔

اسے رہنے کی جگہ تو مل گئی تھی۔ اب کمانے کے لیے کسی نوکری کی تلاش کرنی تھی۔

6 ماہ تک اسے کوئی خاص نوکری نہ مل سکی۔ وہ چھوٹے موٹے باکسنگ یا کراٹے یا فائٹنگ کے مقابلوں میں حصہ لے کر جیت کے انعام سے اپنا گزارا کرتا تھا۔ اسی دوران اس نے M.A بھی پاس کر لیا تھا۔

ایک دن وہ صبح سویرے اپنا پریکٹس کر کے گھر لوٹا تھا کہ اسے صادق صاحب کی کال موصول ہوئی۔

“ایک ایڈریس ای میل کیا ہے۔۔۔۔۔ وہاں جا کر دیکھ لینا۔۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے یہ کام تم اچھے سے کر پاو گے۔۔۔۔۔ اور ایسا کام تمہارے مقصد کے بیچ میں بھی نہیں آئے گا۔۔۔۔” انہوں نے اچھے سے حال احوال دریافت کرنے کے بعد ایک نوکری کی معلومات بتائی۔

ان سے بات کرنے کے بعد شاویز نے ای میل کھولا اور وہ مطلوبہ ایڈریس انٹرنیٹ پر تلاش کیا تو وہ آرمی کی سیکرٹ ایجنسی تھی جو خفیہ طریقوں سے نامور شخصیات کی تحقیقات کرتے، ان کے غیر کانونی پراپرٹی کی معلومات حاصل کرتے، کرپٹ حکمرانوں کی چپی چپائی دولت کا ٹھکانہ پتا کرتے اور پھر سارے ثبوت احتساب عدالت میں دے کر ان کے خلاف کارروائی کرواتے۔ جیسے کہ ISI, IMI,CIA کے ادارے ہوتے ہیں

جیسا صادق سر نے کہا اسے وہ جگہ واقعی پسند آئی تھی۔ انہیں ایک سیکرٹ ایجنٹ چاہیئے تھا۔ وہاں وقت اور دفتر میں بیٹھنے کی پابندی نہیں تھی مطلب شاویز ساتھ ساتھ اپنا ذاتی کام بھی جاری رکھ سکتا تھا۔

شاویز صبح 9 بجے تک تیار ہو کر انٹرویو کے لیے جا پہنچا۔ عین وقت پر بھی پہنچ کر اس نے وہاں امیدواروں کی لمبی قطار دیکھی لیکن پھر بھی اس کا اعتماد نہیں ڈگمگایا۔

وہاں کے موودب سٹاف ممبر نے اسے ترتیب سے ٹوکن نمبر دے کر بیٹھایا۔ تھوڑی دیر میں سب کے ساتھ انٹرویو شروع ہوا۔

صبح سے دوپہر ہوگئی شاویز بیٹھے بیٹھے تھکنے لگا تھا تب جا کر اس کا نمبر آیا اور وہ دروازے پر دستک دیتا با اعتماد انداز میں چلتے اندر داخل ہوا۔

4 رکنی کمیٹی سر تا پیر اس کی ہر حرکات و سکنات بغور مشاہدہ کر رہیں تھیں۔ تین مرد اور ایک خاتون پر مشتمل وہ ممبران ایک ایک کر کے اس سے سوالات پوچھنے لگے۔ شاویز نے اس سے پہلے کبھی کسی انٹرویو میں شمولیت نہیں کی تھی۔ اسے بلکل اندازہ نہیں تھا کہ کیا پوچھا جائے گا پھر بھی وہ ان کے ہر سوال کا سکون سے اور پورے اعتماد سے جواب دیتا رہا۔

شاویز کی تیز نگاہوں کو محسوس ہوا کہ اس کے جٹ پٹ جوابات سے۔ اس کی باریک بینی سے۔ اس کے خود اعتمادی سے۔ اس کی ذہانت اور صلاحیت سے کمیٹی کے اہلکار محظوظ ہورہے تھے۔

مزید وقت ضائع کئے بغیر شاویز کو آرمی سیکرٹ ایجنٹ کی نوکری دے دی گئی تھی۔ کچھ رسمی باتیں اور فرائض مکمل کر کے اسے پیر کے دن سے جوائننگ کرنی تھی۔

وہ جس اعتماد اور خوش مزاجی سے انٹرویو دینے گیا تھا اس سے دوگنی خوشی سے دفتر سے باہر آیا اور سب سے پہلے صادق صاحب کو کال کیا۔

“یس۔۔۔۔۔ i knew it۔۔۔۔۔ مجھے پتا تھا۔۔۔۔۔ تم اس پیشے کے لیے بلکل پرفیکٹ چوائس ہو۔۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔۔۔ ” صادق سر کی آواز سے ان کی خوشی صاف چھلک رہی تھی۔

“تھینکیو صادق سر۔۔۔۔۔ آپ نے میرے لیے اتنا سب کیا۔۔۔۔۔۔ اگر میرا سگا باپ ہوتا۔۔۔۔۔ تو وہ بھی اتنا نہیں کر پاتا۔۔۔۔” شاویز نے مشکور اور احسان مند ہوتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

“میں نے تمہیں سگے بیٹے سے کبھی کم مانا ہے کیا۔۔۔۔۔ چلو اب دل لگا کر کام کرنا۔۔۔۔۔ اللہ تمہیں اس سے بھی زیادہ کامیابی سے نوازے۔۔۔۔ آمین۔۔۔۔ ” انہوں نے دل سے شاویز کو دعائیں دیں۔

شاویز کے لیے دوسرا رشتہ زبیدہ خالہ تھی جن سے وہ جلد از جلد یہ خوشخبری شیئر کرنا چاہتا تھا۔ وہ تیزی سے رکشہ میں سوار ہوا اور یتیم خانے جا پہنچا۔

دائی ماں حسب معمول اس کی اتنی اچھی نوکری ہوجانے کا سن کر خوشی کے آنسو رو پڑی اور شاویز کی نظر اتاری اسے گلے سے لگایا۔

“خوش رہو میرے بچے۔۔۔۔۔ خوش رہو۔۔۔۔۔۔ اللہ تمہارے راہ میں اور آسانیاں پیدا کرے۔۔۔۔۔ تم اور زیادہ کامیاب بنو۔۔۔۔” انہوں نے بھیگی آنکھیں صاف کرتے ہوئے اسے دعائیں دیں۔

“اب ہمارے دن سنور جائے گے دائی ماں۔۔۔۔” شاویز نے یتیم خانے کی بوسیدہ عمارت پر نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔

اس نے دل میں سوچ لیا تھا کہ پہلی تنخواہ سے وہ اس عمارت کی مرمت کروائے گا جو اس کا سب سے پہلا گھر ہے۔ اس کی ماں کا سر پناہ تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دو سال تک اس نے بہت محنت کی۔ وہ اچھے اچھے نامور شخصیات کی؛ بنا پکڑ میں آئے ساری تفصیلات اپنے ایجنسی کو فراہم کرتا رہا۔ اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے اسے جو بھی چیز درکار ہوتی۔ جیسے ہولیہ بدلنے کے لیے کپڑے یا نقلی داڑھی وغیرہ یا سفر کرنے کے لیے گاڑی بائیک سائیکل؛ سب اسے ایجنسی سے ایک آواز پر مل جایا کرتی۔

23 سالہ شاویز اب کوئی معمولی لڑکا نہیں رہا تھا۔ وہ آرمی کے لیے بہت قیمتی سرمایہ ثابت ہو رہا تھا۔ اس کے کام سے خوش ہو کر ہر کیس کے تکمیلی پر اسے بونس دیا جاتا اور تنخواہ بھی بڑھا دی جاتی۔

اسے اپنے کام کے سلسلے میں اکثر الگ الگ شہروں کا سفر بھی کرنا پڑ جاتا تھا۔ اس لیے دائی ماں سے ملنا کمتر ہوتا گیا۔

اس نے یتیم خانے کی عمارت کی مرمت بھی کروا دی تھی۔ اور ہر ماہ اپنی تنخواہ سے کچھ رقم دائی ماں کو دے جاتا ساتھ ساتھ اس نے دو میڈ رکھوا لی تھی جو وہاں کام کاج کیا کرتیں۔ دائی ماں اب بس سربراہ کی طرح انہیں حکم دیا کرتی اور شاویز کے لیے دعائیں کیا کرتی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جاب کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے ذرائع استعمال کر کے پاکستان میں موجود سارے سردار دلاور پرویز خان کی تلاش بھی شروع کر دی تھی۔ اسے کئی سارے اشخاص کی معلومات حاصل ہوئے لیکن ان میں سے وہ دلاور پرویز خان کون سا ہے جو اس کی ماں کا گنہگار ہے؛ یہ کنفرم نہیں کر سکا تھا جب تک کہ اسے بلال حمید ملا۔

وہ ایک ہوٹل کے لابی میں کھڑا اپنے کیس پر کام کر رہا تھا وہاں ریسپشن پر ایک درمیانہ قد کاٹ کے 50 سالہ آدمی نمودار ہوا۔ شاویز نے تعجبی انداز میں آنکھیں چھوٹی کر کے اسے سر تا پیر دیکھا۔ بلال حمید اسے شناسا سا لگا۔ اس نے اپنی ساری ذہانت کو دوڑانا شروع کیا۔ ایک یاد آنے سے اس نے موبائل نکالا۔ ایک سیف فولڈر میں اس نے اپنی ماں کی وہ تینوں تصویریں بھی سکین کر رکھی تھی؛ ان میں سے وہ گروپ فوٹو زوم کر کے دیکھی تو مردوں کی قطار میں بلال حمید بھی کھڑا ملا۔

وہ جینز کے ساتھ کھلی ٹی شرٹ پہنے بال بکھرے چھوڑے کلین شیو کئے لمبا سا ہینڈسم نوجوان اٹھ کر ریسپشن کے پاس آیا اور خود کو بلال صاحب کا کلائنٹ بتا کر ان کا روم نمبر پوچھا۔

مسکرا کر سر کو خم دے کر شاویز واپس پلٹا اور گھڑی دیکھی۔ جس شخص کا تعاقب کرتے وہ یہاں آیا تھا انہیں ابھی آنے میں کچھ دیر تھی اتنے میں وہ جا کر بلال صاحب سے مل سکتا ہے؛ سوچتے ہوئے وہ لفٹ کو لپکا اور مطلوبہ منزل کا بٹن کلک کیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

بلال حمید پیشے سے تاجر تھے۔ اس وقت ہوٹل کے روم میں بھی وہ اپنے انٹرنیشنل کلائنٹ سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔

جب دروازے پر دستک ہوئی تو انہوں نے اپنے کلائنٹ کے آنے کا سوچ کر دروازہ کھولا لیکن دروازے پر ایک 23 سالہ جوان لڑکا ملا۔ بلال صاحب حیرت سے کھڑے اسے دیکھنے لگے۔

“ہیلو سر۔۔۔۔۔آپ مجھے نہیں جانتے۔۔۔۔۔ لیکن میں آپ کو پہچان گیا۔۔۔۔” شاویز نے متعارف ہونے میں پہل کی کہ کہی بلال صاحب دروازہ بند نہ کر دیں۔

“میں ان کا بیٹا ہوں۔۔۔۔۔۔ اور یہ آپ ہے نا۔۔۔۔۔” شاویز نے پھرتی سے موبائل میں وہ گروپ فوٹو دکھا کر پہلے لمبے بالوں اور خوبصورت مسکان والی زرتاج پر انگلی رکھی اور پھر مردوں کی قطار میں جوان بلال حمید کی طرف اشارہ کیا۔

وہ تصویر دیکھ کر بلال صاحب کے تاثرات بدل گئے۔

“اچھا۔۔۔۔ زرتاج کے بیٹے ہو۔۔۔۔ آو اندر آو۔۔۔۔۔” انہوں نے خوش دلی سے کہتے ہوئے اسے اندر آنے کی اجازت دی۔ شاویز مسکراتا ہوا ان کے پیچے کمرے میں داخل ہوا۔

“زرتاج کیسی ہے۔۔۔۔۔ وہ تمہارے ساتھ نہیں آئی۔۔۔۔” بلال صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا اور اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

“میری ماں اب اس دنیا میں نہیں ہے۔۔۔۔” شاویز نے مدھم آواز میں جواب دیا۔

“اہوووو۔۔۔۔ ایم سوری۔۔۔۔۔ مجھے پتا نہیں تھا۔۔۔۔۔ اللہ اس کی مغفرت فرمائے۔۔۔۔۔ بہت نیک خاتون تھی۔۔۔۔” بلال صاحب نے سیدھے ہو کر اس سے زرتاج کی تعزیت کی۔

شاویز صوفے پر آگے ہو کر بیٹھا تھا۔ پھیکا مسکرا کر اس نے سر کو جنبش دیا۔

“آپ اچھے سے جانتے تھے میرے ماں کو۔۔۔۔” اب کی بار اس کا لہجا شکستہ ہوچکا تھا۔

“ہاں کئی دفعہ ملا ہوں ان سے۔۔۔۔۔ اچھی دوست تھی میری۔۔۔۔۔ ” بلال صاحب نے کہتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ رکھا اور صوفے کے پشت سے ٹیک لگا لیا۔

“کیا انہوں نے کبھی آپ سے۔۔۔۔۔۔ دلاور پرویز خان کا ذکر کیا۔۔۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔۔۔ آپ انہیں بھی جانتے ہونگے۔۔۔۔۔ وہ کیا ہے کہ میں بہت بہت چھوٹا تھا جب ان سے ملا تھا تو اب وہ ٹھیک سے یاد نہیں۔۔۔۔۔ آپ کو دیکھا تو ان کی یاد آگئی سوچا ان سے بھی مل لوں۔۔۔۔۔۔ آپ کو تو پتا ہوگا ان کا۔۔۔۔” بلال صاحب کو شک نہ ہو اس لیے شاویز نے دلاور پرویز خان کے بارے میں پوچھنے کے لیے من گھڑت کہانی سنا دی۔

اس کی آرمی سیکرٹ ایجنٹ کی تیز نظریں بلال صاحب کے چہرے پر مرکوز تھی۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ دلاور صاحب کا نام سن کر ان کے تاثرات بدل گئے۔

“تو یہ۔۔۔۔۔ دلاور کو۔۔۔۔۔ نہیں جانتا۔۔۔۔” بلال صاحب نے تاثرات نارمل کرتے ہوئے دل میں سوچا۔ شاویز کی اندر تک گڑھ جانے والی نظریں خود پر محسوس کرتے ہوئے بلال صاحب سمجھ گئے وہ ان کا چہرا پڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، اس لیے وہ جھوٹ بول کر یا بہانہ بنا کر دلاور سے انجان نہیں بن سکتا تھا۔

“ہاں زرتاج کے ساتھ دیکھا تھا اسے۔۔۔۔۔ ملا ہوں ایک آدھ دفعہ۔۔۔۔ ” انہوں نے کنکارتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔

شاویز نے موبائل میں دلاور پرویز خان کے نام سے سیف کئے کچھ اشخاص کی تصاویر دکھائی۔

“ان میں سے کونسے وہ دلاور ہے۔۔۔۔” شاویز نے ایک ایک کر کے تصویر سوائپ کرتے ہوئے پوچھا۔

بلال صاحب آگے کو ہوئے اور تعجبی نظروں سے اسے دیکھا۔

“کہی یہ مجھے آزما تو نہیں رہا۔۔۔۔۔ یہ واقعی زرتاج کا بیٹا ہے کہ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔ نین نقش تو زرتاج جیسے ہی ہے۔۔۔۔” بلال صاحب نے شاویز کو بغور دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں سوچا پھر آگے ہو کر تصویروں کی جانب متوجہ ہوئے۔

“یہ ہے دلاور پرویز خان۔۔۔۔ اب تو بہت بڑے صنعت کار بن گیا ہے۔۔۔۔۔ ملٹی نیشنل بزنس مین ہے۔۔۔۔۔” انہوں نے دلاور پرویز خان کی تصویر کی طرف پوائنٹ کر کے جتانے والے انداز میں بتایا۔ شاویز کا رنگ بدل گیا وہ حیران پریشان کبھی بلال صاحب کو دیکھتا کبھی اپنے موبائل میں اس تصویر کو۔

“آپ کو پکا یقین ہے۔۔۔۔۔ ٹھیک سے یاد کریں۔۔۔۔” شاویز کو لگا عمر کے لحاظ سے ان کو غلط فہمی ہوئی ہے یا نظر کا دھوکہ ہوا ہے۔

“ہاں مجھے پکا یقین ہے۔۔۔۔ یہی دلاور ہے۔۔۔۔۔ اُس گروپ فوٹو میں بھی ہے۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔” انہوں نے شاویز کو اس کی پہلے دکھائی ہوئی تصویر کی طرف متوجہ کیا۔

شاویز نے پھرتی سے انگلیاں چلا کر وہ فوٹو نکال کر دیکھی تو وہ وہی جوان دلاور پرویز خان تھے جس کا بلال صاحب ذکر کر رہے تھے۔

“بہت پریشان کیا ہے دلاور نے زرتاج کو۔۔۔۔۔ بہت دکھی رہی ہے وہ اس کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔ تم اس کے سامنے نہ جاو تو اچھا رہے گا۔۔۔۔۔ پتا نہیں جب اسے معلوم ہوگا کہ تم زرتاج کے بیٹے ہو تو وہ تمہارے ساتھ کیسے پیش آئے۔۔۔۔۔”بلال صاحب نے جعلی ہمدردی سے شاویز کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تھپکا۔

شاویز اپنے جذبات قابو کئے ہوئے ان کی گفتگو سنتا رہا۔

“تو اس لئے دائی ماں ان کے بارے میں بتاتے ہوئے جھجک گئی تھی۔۔۔۔” شاویز نے چند سال پہلے کی دائی ماں سے ہوئے اس فوٹو پر تبصرہ یاد کیا۔

اس کا رنگ بدلتا دیکھ کر بلال صاحب حیران ہوگئے۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتے شاویز فوراً سے اٹھا اور ان سے الوداع کرتے ہوئے باہر نکل گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ ہوٹل سے سیدھے گھر آگیا تھا۔ بلال صاحب کی باتوں سے وہ کافی ڈسٹرب ہوگیا تھا۔ اس سے اپنے کیس پر فوکس نہیں کیا جا رہا تھا۔

وہ سر ہاتھوں میں پکڑے بیڈ پر بیٹھ گیا۔ جب وہ اس دلاور پرویز خان پر تحقیقات کر رہا تھا جس کی بلال صاحب نے تصدیق کی۔ جو اس کی ماں کے ساتھ اس گروپ فوٹو میں بھی موجود تھا لیکن تصویر کا وہ حصہ دھندلا ہونے کے باعث شاویز نے اس شخص پر خاص غور نہیں کیا تھا؛ وہ دلاور تو بہت اچھے شریف ایماندار محنتی اور با وقار معزز شخصیت تھے۔ ان کے بارے میں اسے رتی برابر بھی دوغلا پن نہیں ملا تھا۔ شاویز کبھی ان کے بارے میں گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ جس دلاور خان نے زرتاج پر ظلم کیا، اس کی ماں کو دور کیا وہ یہ دلاور پرویز خان ہونگے۔

اس سے یہ حقیقت برداشت نہیں ہو پا رہی تھی۔ کبھی کبھی جو جیسا بنتا ہے ویسا ہوتا نہیں ہے؛ یہ مثال شاویز کو اس وقت دلاور خان کو پہچان کر سمجھ آرہا تھا۔

اپنے غضب کو کم کرنے وہ واشروم میں بھاگا اور ٹھنڈے شاور کے نیچے آنکھیں بند کر کے کھڑا ہوگیا۔ آج ایک مرتبہ پھر اسے زرتاج کی شدت سے یاد آرہی تھی۔ اس کے آنسو اس کی تکلیف دہ موت اس کے آنکھوں میں فلم کی طرح گھوم رہے تھے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ کئی دنوں تک اسی کشمکش سے دو چار تھا کہ وہ کیا کریں۔ کیا وہ صادق سر سے بات کریں۔ یا وہ دائی ماں سے مشورہ کریں۔

ایک دن وہ مشہور مال کے کافی شاپ میں بیٹھا تھا جب اس نے سامنے دلاور پرویز خان اور ان کی فیملی کو دیکھا۔

وہ سب وہاں ایک شاپ کے افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے آئے تھے۔ شاویز کی تیز نظریں مسلسل دلاور پرویز خان اور اس کی فیملی پر جمی ہوئی تھی۔ سوٹ بوٹ میں ملبوس ہینڈسم اور سحر انگیز شخصیت کے حامل دلاور صاحب اب آگے کو گئے اور کھینچی لے کر ربن کاٹا۔

پورا ماحول تالیوں کے شور سے گونچ اٹھا۔ دلاور صاحب کی بیگم اور دو ٹین ایج بچیں بھی تالیاں بجا کر ان کو سراہ رہے تھے۔ وہی دوسری جانب شاویز کافی پینا بھول گیا تھا وہ تنے ہوئے اعصاب سے اس ہنستی کھلتی خوشی سے سرشار فیملی کو دیکھتا رہا جو ابھی اپنے نئے شاپ کے بارے میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔

“میری ماں کو آنسو دینے والے کی خوشیاں بہت کم مدت کی ہے۔۔۔۔ جتنا ہنسنا ہے آج ہنس لو دلاور صاحب۔۔۔۔۔ بہت جلد میں تمہاری یہ ہنسی۔۔۔۔۔ آنسوؤں میں بدلنے والا ہوں۔۔۔۔” شاویز نے فیصلہ کن انداز میں سوچا اور وہاں سے روانہ ہوگیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اب اسے دلاور پرویز خان کے خلاف منصوبہ بندی کرنی تھی۔ وہ لگا تار اسی سوچ میں مشغول رہا کہ وہ کیا کریں۔ کیا وہ ان کے خلاف کوئی جھوٹا کیس بنا کر ان کی جائیداد ضبط کروائے۔ لیکن پھر اسے صادق سر کی نصیحت یاد آجاتی۔ وہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے کبھی اپنے پیشے کا غلط استعمال نہیں کریں گا۔ اور وہ جھوٹا کیس بنانے کا خیال جھٹل دیتا۔

کیا وہ ان کے بچوں کو اغوا کروائے۔ پر نہیں ظلم دلاور نے کیا تھا سزا ان کے بچوں کو کیوں ملے۔ لیکن ایسا سوچتے سوچتے وہ طیش میں آجاتا۔ وہ بھی تو معصوم بچہ تھا پھر اسے کیوں سزا ملی۔ کم عمری میں ہی وہ کیوں دلاور کی وجہ سے یتیم ہوگیا۔

شاویز نے اسی طرح اپنی تحقیقات اور جانچ پڑتال جاری رکھی کہ جب اسے کہی سے بھی دلاور صاحب کی کوئی بھی کمزوری ملے؛ وہ اس کا استعمال کر کے ان کو تکلیف پہنچا سکے۔

کافی محنت کر کے بھی شاویز کو دلاور صاحب کے خلاف کوئی کمزوری کوئی ناجائز بات تو معلوم نہ ہوسکی لیکن راشد ہاشمی کا ان سے برخلاف تعلق پتا چل گیا۔ تب اس نے سوچا وہ راشد ہاشمی کو اپنا مہرہ بنا کر دلاور پر وار کرے گا۔ راشد ہاشمی کی ہسٹری نکالنے کے بعد اس کے معلومات میں یہ بھی اضافہ ہوا کہ ان کا نام تو ایجنسی کے بلیک لسٹ میں شامل ہے اور اس کا اگلا کیس وہی ہیں۔ شاویز کے ہونٹوں پر استحزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ اب اسے راشد ہاشمی سے اپنا کام نکلوانا اور بھی آسان لگ رہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز بہت محتاط انداز میں دلاور کے خلاف منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

اسے کسی صورت پکڑا نہیں جانا تھا اور نہ ہی اپنے ایجنسی کی نظروں میں مشکوک ہونا تھا۔

اسے کب کس دن کیا کرنا ہے۔ یہ سب تیار کرتے کرتے اسے مزید دو سال لگے۔ ساتھ ساتھ وہ اپنی جاب بھی جاری رکھے ہوئے تھا۔ 25 سال کا ہو کر اس نے منظر عام پر آنا مناسب سمجھا۔ اس نے اپنے جاب کے تعلقات استعمال کر کے یونیورسٹی میں داخلہ لیا حالانکہ وہ M.A کرچکا تھا پھر بھی اس نے سحر بنت دلاور کی کلاس میں داخلہ لیا۔ اس طرح وہ اس کے ساتھ رہ سکتا تھا اور موقع دیکھ کر اس پر وار کر سکتا تھا۔

جب اس نے مارکیٹ میں اپنے خفیہ تعاقب کار کے روپ میں سحر کا پیچھا کیا تو وہ خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئی۔ شاویز نے سوچا یہ تو صرف پیچھا کرنے سے ہی ڈر گئی اس لیے اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ جبکہ صائم دلاور کو ڈرا کر پریشان نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شاویز ان کے سامنے دوست بنا رہتا لیکن پیٹھ پیچھے ان کے ہر حرکات پر نظر رکھتا۔

جنگل میں کیمپ کی رات وہ حسب عادت جاگ رہا تھا اور کھلے آسمان تلے بیٹھا ہوا تھا جب اس نے سحر کو جگنو کے پیچھے جاتے دیکھا۔ اس کے دماغ میں ایک شرارت ابھری۔ وہ پھرتی سے اپنا خفیہ بلیک اپر پہن کر دوسرے سمت سے جنگل کے اندر گیا اور یک دم سحر کے سامنے آگیا۔

جیسا اس نے سوچا تھا وہ بہت زیادہ ڈر گئی اور بے دھیانی میں جنگل کے خطرناک حصے کی جانب بھاگنے لگی جہاں سے آگے انسان کا جانا سختی سے منع تھا۔

شاویز دلاور صاحب اور ان کی فیملی سے اپنے زخموں کا بدلہ ضرور لینا چاہتا تھا لیکن وہ بے وجہ کسی کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا طرف دار نہیں تھا اس لیے اس نے اپر وہی اتار کر پھینکا اور شاویز بن کر سحر کو بچانے دوڑ پڑا۔

اسی طرح صائم کے ایکسیڈنٹ کے دن جب صائم زخمی ہوگیا وہ تب تک اپنی کار وہی روکے کھڑا رہا جب تک کہ اس کے زخموں کی نوعیت کی تصدیق کر لی۔ پھر روانہ ہوگیا

وہ اپنی کار پارک کر کے گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ اسے صائم کی کال موصول ہوئی۔ وہ چاہتا تو نظرانداز کر سکتا تھا لیکن شاویز جانتا تھا صائم اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں بلائے گا اور شاویز کے اندر کے اچھے انسان سے صائم کو زخمی حالت میں تنہا چھوڑ دینا گوارا نہیں ہوسکا اور وہ ہسپتال جا پہنچا۔

اسے نہ سحر کو ڈرانے کا دکھ تھا۔ نہ صائم کو زخمی کرنے کی تکلیف۔ بس افسوس اس بات کا تھا کہ ان سب کے چلتے اس نے جانے انجانے عارفہ کا دل توڑ دیا تھا۔

صائم کو گھر لاتے وقت اس نے پہلی بار دلاور پرویز خان کے گھر میں قدم رکھا۔ اس احساس کو نام دینے کے لیے شاویز کے پاس مناسب لفظ نہیں تھا۔ اسے پہلی دفعہ لگا مانو وہ جیل میں آگیا ہو۔ اس کا دم گھٹنے لگا۔ وہ جلد از جلد وہاں سے فرار ہونا چاہتا تھا لیکن مسزز دلاور کا اسرار تھا کہ وہ دلاور صاحب سے مل کر جائے۔ وہ خود بھی ایک مرتبہ انہیں رو بہ رو دیکھنا چاہتا تھا۔ اور پھر وہ لمحہ آگیا۔ دلاور صاحب سے اس کی ملاقات ہوگئی۔ ایک پل کو اس کے دل میں خیال آیا کیا واقعی وہ کسی عورت پر ظلم کر سکتے ہیں۔ لیکن اگلے ہی پل اسے اپنی ماں کا ان کا نام لے کر سسکنا یاد آیا اور دل میں اٹھتا درد تیز ہوگیا تو وہ وہاں سے بھاگ آیا۔

بے ترتیب سانس لیتے ہوئے وہ جب گھر کے اندر داخل ہوا تو اس سے اپنے جذبات قابو نہ ہوسکے تھے۔

############# موجودہ دن############

بہت دیر تک رو رو کر ہلکان ہوجانے کے بعد اس نے ہاتھ کی بند مٹھی کھولی تو خون کی دھار رک چکی تھی لیکن زخم بہت گہرا تھا۔ وہ بہت محتاط انداز میں ہاتھ کو زیادہ حرکت دیئے بغیر کہ خون پھر سے جاری نہ ہو، ہاتھ منہ دھونے واشروم چلا گیا۔ فریش ہو کر وہ کمرے سے باہر نکل آیا اور کچن کی دراز سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر ہاتھ پر پٹی کرنے لگا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دلاور پرویز کے گھر سب چپ چاپ سے تھے۔ صائم کی ٹانگ ٹھیک ہونے میں کچھ دن لگنا تھا۔ اس وقت وہ تازہ سفر سے لوٹے پاپا سے اپنے بائک کے ٹوٹنے اور فٹبال کا اتنا اہم میچ مس کر جانے کا افسوس منا رہا تھا۔

“اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔۔ تمہیں زیادہ چھوٹ نہیں لگی۔۔۔۔۔ ہمارے لیے تو سب کچھ تم ہی ہو بیٹا۔۔۔۔۔۔ بائک تو دس اور آجائے گی۔۔۔۔۔ پر ہمارا کل سرمایہ تو تم ہو۔۔۔۔۔۔ ہم تو اس بات کا شکر ادا کر رہے کہ تم صحیح سلامت ہمارے پاس ہو۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

صائم کو باپ کے دلاسے سے بہت حوصلہ ملا۔

عابدہ بیگم کھانا لے کر وہاں آگئی تو دلاور صاحب ایک ضروری کال کرنے اٹھ گئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز ہاتھ پر پٹی کر کے واپس کمرے میں آیا تو اس کے لیپ ٹاپ پر اشارہ بجنے لگا۔ وہ دلاور صاحب کی کال تھی جو وہ اپنے سیکریٹری کو کر رہے تھے اور ان کا موبائل ہیک کرنے کے باعث شاویز کے لیپ ٹاپ پر بھی موصول ہورہی تھی۔

شاویز نے آگے بڑھ کر کچھ بٹن دبائے تو وہ دلاور صاحب کی آواز سن پایا۔

“ہاں ذاکر۔۔۔۔۔ کمپنی کی افتتاحی تقریب ایک ہفتہ آگے بڑھا دو۔۔۔۔۔ سب انوائیٹڈ مہمانوں کو مطلع کر دینا۔۔۔۔” وہ اپنی سیکرٹری کی بات سننے رکے۔

“ہاں سب خیریت ہے۔۔۔۔۔ بس صائم کا ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔۔۔۔ ایسے میں، میں کوئی پارٹی نہیں کر سکتا۔۔۔”شاویز ٹانگ پر ٹانگ جمائے ہوئے ان کی گفتگو سن رہا تھا۔

“ہاں ہاں۔۔۔۔ شکر ہے زیادہ زخمی نہیں ہوا۔۔۔۔۔ پارٹی اگلے ہفتے تک ملتوی کر لو۔۔۔ ہاں تب تک صائم بھی چلنے پھرنے کے قابل ہوجائے گا۔۔۔” انہوں نے حکم صادر کر کے کال کاٹ دی۔

شاویز کچھ لمحے اسی طرح بیٹھا اپنے پلان میں تبدیلیاں کر رہا تھا۔ پھر کرسی پر آگے کو ہوا اور بغیر ٹرانسمیٹر کے ہی راشد ہاشمی کو کال ملا کر پلان میں تبدیلی کی اطلاع دی۔ اسے اتنی تپ چڑھی تھی کہ نہ اسے ٹرانسمیٹر کی پروا تھی نا آواز ٹریس ہونے کا خوف۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆