No Download Link
Rate this Novel
Episode 08
Bikhare Rishte By Palwasha Safi
عارفہ اپنے گھر کے لان میں گم سم بیٹھی تھی۔ غیر مروی نقطہ کو دیکھتے ہوئے گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی۔
“کیوں میں اس کے ارادے سمجھ نہیں پائی۔۔۔۔ کیوں بنا سوچے سمجھے اسے دل دے دیا۔۔۔۔۔ اس نے کبھی مجھے پروپوز نہیں کیا۔۔۔۔ کبھی یہ تک نہیں کہا کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے۔۔۔۔ پھر میں نے کیوں سمجھ لیا تھا میرا پیار یک طرفہ نہیں ہے۔۔۔۔ کیوں یہ مان بیٹھی تھی کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرتا ہے۔۔” سوچتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آگئی تھی۔
شاویز کے باتوں کی تصدیق کرنے سحر خود عارفہ کے گھر ملنے آئی۔ گھر کے اندر داخل ہو کر اس نے عارفہ کو لان میں بیٹھا پایا۔
وہ اس کے پاس آئی اس کے عین سامنے کھڑی ہوگئی پھر بھی عارفہ کو احساس نہیں ہوا کہ کوئی وہاں آیا ہے۔
سحر اسے غائب دماغ پا کر اس کے پژمردہ چہرے کو دیکھ کر سب حقیقت سمجھ گئی۔ ایک دم اسے عارفہ پر بہت افسوس ہوا۔ کیا حال کر دیا اس نے میری چنچل سہیلی کا؛ سوچتے ہوئے سحر کو شاویز سے نفرت ہونے لگی۔ اسے شاویز پر شدید غصہ آرہا تھا لیکن موڈ کو ٹھیک رکھتے ہوئے وہ زبردستی عارفہ کے ساتھ اڈجسٹ ہوتے ہوئے ایک کرسی پر بیٹھ گئی۔
“ہائے عارفہ۔۔۔۔۔” اس نے خوش مزاجی سے گفتگو کا آغاز کیا۔
عارفہ نے کنکھیوں سے اسے دیکھا اور رخ پھیر کر تیزی سے اپنے آنسو چپانے لگی۔
“عارفہ۔۔۔۔۔ ایسی کونسی دیوار آگئی ہے ہمارے بیچ۔۔۔۔۔ جو تم مجھ سے اپنے آنسو تک چپانے لگ گئی ہو۔” سحر کا دل بہت بری طرح دکھ گیا تھا اس کا بس چلتا وہ ابھی اٹھ کر جائے اور شاویز کو مار مار کر لال کر دیں۔
“سحر۔۔۔ تم کب آئی۔۔۔۔” عارفہ نے اس کے سوال کو نظرانداز کر کے جعلی مسکرا کر کہا۔
“تم نے بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔ اپنے بریک اپ کا۔۔۔۔” سحر اپنے سیدھے سوالوں میں اس کے الٹے جواب پر تپ گئی اور ضروری موضوع پر آگئی۔
عارفہ کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ وہ اداس نظروں سے سامنے لان میں دیکھنے لگی۔
“میں بات کرتی ہوں شاویز سے۔۔۔۔۔ ایسا کیسے کر سکتا ہے وہ میری فرینڈ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ میری بیسٹ فرینڈ کا دل توڑنے پر۔۔۔۔ میں اسے چھوڑو گی۔” سحر نے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سختی سے کہا۔
“نہیں سحر۔۔۔۔۔ تم اس سے کوئی بات نہیں کرو گی۔۔۔۔۔ وہ مجھے پسند ہی نہیں کرتا۔۔”عارفہ نے دل گرفتگی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
سحر نے مایوسی سے اس کے بے رنگ چہرے کو دیکھا
“اب تک وہ تمہیں ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا ہے۔۔۔۔۔ ارے۔۔۔۔ پورے شہر میں چراغ ہاتھ میں لے کر ڈھونڈے گا۔۔۔۔۔ تب بھی تمہاری جیسی نہیں ملے گی اسے۔۔۔” سحر نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔
عارفہ اس کی بات پر پھیکا کا مسکرائی۔
“اب سمجھنے سمجھانے کو کچھ نہیں بچا۔۔۔۔ ویسے بھی وہ۔۔۔۔۔ کسی اور پسند کرتا ہے۔۔۔” اس سے سیدھے سادے سحر کا نام نہیں لیا گیا۔ اس نے بات گھما دی۔
“کیا۔۔۔۔۔ اتنا چیپ ہے وہ۔۔۔۔۔ دل میں کوئی اور تھی۔۔۔۔۔۔ اور وقت تمہارے ساتھ گزار رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ٹائم پاس سمجھ رکھا تھا کیا۔۔۔۔ ” سحر کے طیش میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔
“رہنے دو سحر۔۔۔۔ اچھا ہوا اس نے بتا دیا۔۔۔۔۔ زبردستی ریلیشن رکھ کر کیا فائدہ جب وہ میرے ساتھ خوش ہی نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔” عارفہ نے بے دلی سے سر جھٹکا۔
“ویسے۔۔۔ تمہیں کس نے بتایا میرے بریک اپ کا۔۔۔۔” عارفہ کو اچانک خیال آیا کہ اس نے تو نہیں بتایا تھا پھر سحر کو کیسے معلوم ہوا۔
سحر جو غصے میں کھڑی ہوگئی تھی پھر سے اس کے ساتھ آکر بیٹھی۔
“شاویز نے بتایا۔۔۔۔۔ آج گھر پر آیا تھا صائم کے ساتھ۔۔۔۔۔ کل رات بھی وہ اس کے ساتھ ہسپتال میں رہا ہے۔۔۔۔” وہ ایک لائن سے سٹوری سنانے لگی تھی۔
“کیا۔۔۔۔۔ ہسپتال میں۔۔۔۔۔ کیا ہوا صائم کو۔۔۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔” عارفہ گڑبڑا گئی اور کرسی سے اٹھ کر سحر کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
“ہاں اب ٹھیک ہے۔۔۔۔ چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔۔۔” سحر اٹھی اور اس کے کندھے کو تھپکتے ہوئے تسلی دی۔
بدلے میں عارفہ نے اس کے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا۔
“تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔۔۔۔” وہ سحر پر خفا ہونے لگی۔
“عارفہ۔۔۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو نا۔۔۔۔” اس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے سحر نے نرمی سے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔ اسے عارفہ بہت اداس سی لگی تھی۔
وہ پھیکا مسکرائی اور سر اثابت میں ہلاتے ہوئے سحر کے گلے مل لی۔
” تم بتاو۔۔۔۔۔ جاوید سے ملی۔۔۔۔” عارفہ نے اس سے الگ ہوتے ہوئے شرارتی انداز میں آنکھ مار کر کہا۔ جاوید کے واپسی کا سحر اسے اسی دن بتا چکی تھی جس دن اس کی جاوید سے گھر پر ملاقات ہوئی تھی۔
“ملی تو۔۔۔۔۔ لیکن عادت سے مجبور۔۔۔۔۔۔” سحر نے افسردگی سے پیشانی پر ہاتھ مارا۔
“اففووو۔۔۔ سحر تیری یہ بے وجہ شرمانے کی عادت کب ختم ہوگی۔۔۔۔ ایسا نہ ہو تم صرف شرماتی رہو۔۔۔۔ اور وہ کہی اور شادی کر لیں۔۔۔” عارفہ نے اس کا بازو جھنجوڑ کر کہا۔
“کوشش کرتی ہوں یار۔۔۔۔۔ پر پتا نہیں کیوں۔۔۔۔ اس کے سامنے آتے ہی میری بولتی بند ہوجاتی ہے۔۔۔” سحر نے بے بسی سے سر جھٹکا۔
“چلو۔۔۔۔۔ اگلی دفعہ اور زیادہ کوشش کرنا۔”چمکتی آنکھوں سے اس نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا۔
سحر اس کی بات پر کھل کر مسکرائی۔
“ویسے۔۔۔۔ شاویز ہو یا جاوید۔۔۔۔ ہماری زندگیوں میں کوئی آئے یا جائے۔۔۔۔۔۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہماری دوستی پر کبھی کوئی اثر نہیں پڑتا۔۔۔۔” سحر نے اسے خود سے لگاتے ہوئے کہا۔
“بلکل۔۔” اس کی پیار بھری نگاہوں پر عارفہ نے بھی پیار سے ہامی بھری۔
“چل اب اندر چل کے مجھے چائے پلا۔۔۔۔۔ کیا سارا دن دھوپ میں کھڑا رکھے گی۔۔۔۔۔” سحر نے اسے تھپکتے ہوئے جعلی خفگی سے کہا۔
“اوکے چل۔۔۔ اور چائے کے بعد تیرے گھر جائے گے۔۔۔۔ میں صائم کی عیادت تو کروں۔۔۔”عارفہ نے صائم کے ایکسیڈنٹ کا خیال آتے ہی کہا۔
“اوکے۔۔۔” سحر نے سر اثابت میں ہلایا اور دونوں لاؤنج کے جانب بڑھ گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ گھر پہنچا تو پسینے میں نہایا ہوا تھا جیسے بہت دور سے بھاگتا ہوا آرہا ہو۔
ہانپتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوا۔ ضبط کے مارے اس کا چہرا سرخ پڑنے لگا تھا۔ تیز تیز قدموں سے اپنے کمرے میں آیا اور پوری طاقت سے دروازہ دے مارا۔ شدت اتنی تیز تھی کہ دروازہ بند ہو کر پھر سے ہلتا ہو کھل گیا۔ وہ ورکنگ ایریا کے جانب رخ کر کے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں انگارے جل رہے تھے۔
“آآآ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔ آاااا ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔ ” وہ پوری قوت سے حلق کے بل چلایا۔ طیش سے اس کی گردن کی رگیں ابھر رہی تھی۔ بھاگتے دوڑتے چِلاتے کسی بھی صورت اس کے اندر ابلتا لاوا کم نہیں ہورہا تھا۔ بچپن سے لے کر اب تک کی ہر یاد امڑ امڑ کر اس کے دل میں جوش مار رہی تھی۔
“ااااہ ہ ہ۔۔۔۔۔” دھاڑتے ہوئے اس نے ایک زور دار مقہ دائیں جانب لگے انسان قد آئینہ پر دے مارا۔ اسی طرح دو تین ضرب لگائے اور تیسرے ضرب پر آئینہ اس کے ہتھیلی کو چِیرتا ہوا ٹوٹ کر فرش پر ریزہ ریزہ ہوگیا۔
اس نے کرب سے آنکھیں میچ لی۔
ہتھیلی پر سے خون فوارے کی صورت بہنے لگا۔ بھیگی آنکھیں کھول کر وہ اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگا۔
“ہاں اس کو کٹ ہی جانا چاہیئے۔۔۔۔۔ اس کا سارا خون بہہ جانا چاہیئے۔۔۔۔۔۔ ہمت کیسے کر لی۔۔۔ اس نے آج میری ماں کے قاتل سے ہاتھ ملانے کی” سوچتے ہوئے وہ جوان مرد رونے لگا۔
اس کے ہاتھ سے حوض خون کی دھار گر گر کر لکڑی کے فرش کو تر کر رہی تھی۔ اس نے سختی سے مٹھی مینچھ لی اور روتے روتے گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھتا چلا گیا۔
آج اپنی ماں کا وہ شاہ سوار کمزور پڑ گیا تھا۔ اس کے زار و قطار آنسو اس کی اسٹائل سے بنائی شیو کو بھیگا رہی تھی۔ اس کی اتنے سالوں کی محنت سے بنائی باڈی کانپ رہی تھی۔ گہری آنکھیں لمبی ناک سرخ ہوگئے تھے۔
زرتاج کا بیٹا اس کا دلآرہ اس کا طاقتور ترین شاویز آج اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا تھا۔ وہ آج زرتاج کا شاہ سوار نہیں اپنی ماں کا 8 سالہ روتا شاویز تھا۔
“نہیں ماں۔۔۔۔۔ اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔ جب تک میری سانس چل رہی ہے۔۔۔۔۔ میں وہ وقت نہیں بھلا سکتا۔۔۔۔۔۔۔ اور ہمیں اس وقت میں مبتلا کرنے والے کو میں قطعی معاف نہیں کر سکتا۔” دانت پیستے ہوئے اس نے ایک لمبی سانس لی اور اپنی برداشت کے حد تک اندر روکے رکھی۔ جب خارج کی تو وہ گرم سانس اس کے غضب کو کسی حد تک کم کر چکی تھی۔ وہ اسی طرح مٹھیاں سختی سے مینچھے اٹھا اور گیلے چہرے سے دلاور پرویز خان کی تصویر کو دیکھنے لگا۔
“تمہارا یہ سحرانگیز (جادوانہ) انداز کم از کم مجھے نہیں پگلا سکتا دلاور پرویز خان۔۔۔۔۔” نفرت سے اس تصویر کو دیکھتے ہوئے شاویز پھر اپنی یادوں کی دنیا میں کھو گیا۔ اسے وہ دن وہ راتیں آج بھی اتنے شفاف انداز میں یاد تھیں جیسے کل کی ہی بات ہو۔۔۔
########### 17 سال قبل ############
زرتاج بستر پر پڑی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ اسے سانس لیتے ہوئے بہت تکلیف ہورہی تھی۔ وہ بار بار کھانستی اپنا سینہ سہلاتی لیکن کچھ بھی کر کے اس کی تکلیف میں کمی نہیں آرہی تھی۔ وہ بھیگی آنکھوں سے 8 سالہ شاویز کو دیکھنے لگی۔ وہ اس سے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن سانس اٹک جاتی اس سے کچھ بولا نہیں جارہا تھا۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر زبیدہ خالہ کو اشارہ کیا۔ زیبدہ خالہ پھرتی سے روتی بلکتی اس کے سرہانے بیٹھی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“ش۔۔۔۔ شا۔۔۔۔۔ شاہ ۔۔۔۔۔ وی۔۔۔۔۔ز” اس نے پھر سے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔
“تم فکر مت کرو زرتاج۔۔۔۔۔ شاویز اب میری ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔ میں اس کا بہت اچھے سے خیال رکھوں گی۔۔۔۔ اسے پڑھاوں گی بڑا آدمی بناوں گی۔۔۔۔۔ جیسا تو چاہتی ہے۔۔۔۔۔ تیرا بہادر شاہ سوار بناوں گی۔۔۔” زبیدہ خالہ روتے ہوئے کپکپاتی آواز میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی سمجھا رہی تھی۔
ننھے شاویز سے اپنی ماں کی یہ تکلیف برداشت نہیں ہو سکی اور وہاں سے بھاگ گیا۔
تیزی سے بھاگتے ہوئے وہ اپنی مخصوص جگہ پر آگیا۔ اور بڑے درخت کے پیچے چھپ کر رونے لگا۔ تکلیف اس کی ماں کو تھی لیکن برابر درد وہ اپنے ننھے سینے میں اٹھتا محسوس کر رہا تھا۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے بلک بلک کر رو رہا تھا۔ اس کی ماں کے پاس تو زبیدہ خالہ تھی اور یتیم خانے کی باقی عورتیں۔ لیکن اس معصوم بچے کے پاس کوئی نہ تھا اس کے آنسو صاف کرنے اسے جھوٹی ہی صحیح پر تسلی دینے والا کوئی نہ تھا۔ وہ اکیلا ہی اپنا غم چھپا کر سسک سسک کر روتا رہا۔
شام تک رو رو کر جب وہ نڈھال پڑ گیا تو اسے اپنے بازو پر کسی کی گرفت محسوس ہوئی۔
” کب سے ڈھونڈ رہے ہیں تجھے۔۔۔۔۔ اور تو یہاں بیٹھا ہے۔۔۔۔۔ چل جلدی۔۔۔۔۔ دائی ماں کب سے بلا رہی ہے۔۔۔” وہ 15 سالہ لڑکا ان ہی کے یتیم خانے کا تھا۔ اس نے زبیدہ خالہ کا نام لیتے ہوئے اسے کھیچ کر کھڑا کیا اور اپنے ساتھ گھسیٹنے لگا۔
یتیم خانے کے سب بچے زبیدہ خالہ کو دائی ماں کہتے تھے کیونکہ وہ وہاں کی کیئر ٹیکر تھی۔ یتیم خانے کی دیکھ بھال کرتی تھی وہاں آنے والے یتیموں کی جانج پڑتال دیکھ ریکھ سب زبیدہ خالہ کے ذمہ ہوتا تھا۔
ذبیع اللہ کے ہمراہ وہ مایوسی سے لڑکھڑاتا جب یتیم خانے کے اندر داخل ہوا تو سب چہرے اشک بار تھے۔ سب میں ہنگامہ سا برپا تھا۔ زرتاج کی روح پرواز کر چکی تھی۔ وہ اسے تہنا چھوڑ کر جا چکی تھی۔ اتنا رو کر بھی؛ ننھے سے دل میں اتنی دعائیں کر کے بھی وہ اپنی ماں کو نہیں بچا سکا تھا۔ قدرت نے اس کی ماں کو اس سے الگ کر دیا تھا۔
ذبیع اللہ اسے اس کے کمرے میں لے جانے کے بجائے دائی ماں کے کمرے میں لے جارہا تھا۔ اس نے چھوٹی سوجی ہوئی آنکھوں سے پلٹ کر اپنے کمرے کے جانب دیکھا تھا لیکن دروازہ اور کھڑکی بند تھے۔ پردے برابر کئے ہوئے تھے۔ اندر زرتاج کے آخری رسومات چل رہے تھے۔
ڈگمگاتے قدموں سے وہ دائی ماں کے کمرے میں داخل ہوا۔ وہ جو اتنے جتن کر کے اپنے آپ کو سنبھال رہی تھی شاویز کو دیکھ کر پھر سے تڑپ اٹھی اور اسے گلے لگا کر بلند آواز میں آہ و بکا کرنے لگی۔
اس کی ماں کے ساتھ کیا ہوا تھا وہ ننھا دلآرہ سمجھ نہیں پا رہا تھا لیکن اتنا ضرور جانتا تھا کہ اس کی ماں کو اس سے الگ کیا جا رہا ہے۔ اسے دور لے جایا جا رہا ہے۔
دائی ماں کے سینے سے لگ کر بھی وہ تسلی نہیں ہوسکا تھا۔ جو سکون اسے اپنے ماں کے گلے لگ کر ملتا تھا وہ جانتا تھا اب وہ سکون اسے پھر کبھی نصیب نہیں ہوگا۔
دروازے پر دستک ہوئی تو دائی ماں اسے چارپائی پر بیٹھا کر اٹھ گئی۔ باہر قاری صاحب انہیں بلا رہے تھے۔
وہ سُن دماغ سے خالی نظروں سے خاموش بیٹھا تھا۔ کان اس کے مسلسل باہر لگے تھے۔ اب قاری صاحب نماز جنازہ ادا کر رہے تھے۔ اب ماحول میں پھر سے آوازیں بلند ہوگئی تھی۔ اس نے ہمت کر کے اٹھنے کی کوشش کی لرزتے جسم سے اس نے دروازے کا در کھولا اور باہر جھانک کر دیکھا یتیم خانے کے بڑے لڑکے اور کچھ محلے کے مرد قاری صاحب کے ہمراہ زرتاج کا جنازہ لے جارہے تھے۔
وہ بھاگ کر ان کے پاس جانا چاہتا تھا لیکن اچانک ماحول پانی میں تیرتا لگا۔ اس کی آنکھوں سے ایک مرتبہ پھر آنسو جاری ہو گئے تھے۔ جسم پر کپکپی سی طاری ہوگئی تھی۔ وہ چلا چلا کر زرتاج کو آواز دینا چاہتا تھا لیکن اس کے حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔
وہ وہی دروازے کا در پکڑ کر کانپنے لگا۔
“ماں۔۔۔۔” مرد حضرات نے جب 31 سالہ جوان زرتاج کا جنازہ اٹھائے قدم یتیم خانے کے دہلیز کے پار رکھے تو زیر لب شاویز کی لبوں سے یہ پکار نکلی۔ اس کے آگے کا منظر تاریک ہوگیا وہ بے ہوش ہو کر گر گیا تھا۔
دہلیز سے لگی زرتاج کو دور جاتے دیکھتی دائی ماں کو اچانک شاویز کا خیال آیا تو تیزی سے الٹے قدم بھاگ کر اپنے کمرے کے جانب آئی۔
“یا اللہ خیر۔۔۔” شاویز کو در پر گرا پڑا دیکھ کر وہ دہل گئی اور کانپتے ہانپتے ہوئے اسے اٹھا کر جھنجوڑنے لگی۔ لیکن وہ معصوم جان بے حس و حرکت تھا۔
“ذبیع اللہ۔۔۔۔۔ ہمیمہ۔۔۔۔۔ صفدر۔۔۔۔۔ جلدی آو۔۔۔۔۔” انہوں نے بلند آواز میں واویلا مچا دیا۔ ان کا دل ڈوب گیا تھا۔ ابھی ابھی تو انہوں نے زرتاج کا جنازہ رخصت کیا اور اب یہ بے حس بچہ۔ اڈھیر عمر دائی ماں کو یہ سب سوچ کر چکر آنے لگے تھے۔ ان کی چیخ و پکار سن کر سب وہاں اکٹھا ہوگئے۔
دائی ماں سے تو اب اپنی حالت سنبھلی نہیں جا رہی تھی۔ وحشت ہی وحشت کا سماء بندھ گیا تھا۔
ہمیمہ نے پھرتی سے آگے آکر دائی ماں کو سنبھالا اور صفدر نے شاویز کو ان کے بازووں سے اٹھا کر بستر پر ڈالا جب کہ ذبیع اللہ ڈاکٹر کو بلانے بھاگ گیا تھا۔ گلی کے کلینک والے ڈاکٹر فوراً سے آگئے۔ انہوں نے شاویز کا چیک اپ کیا۔ دائی ماں کو تسلی دی اور دوائیاں لکھوا کر واپس چلا گیا۔
اگلے تین سے چار دن تک ننھا شاویز بخار میں تپتا رہا۔ کچھ دیر کے لیے ہوش میں آتا لیکن زرتاج کی جگہ دائی ماں کو سامنے دیکھ کر پھر سے بے ہوش ہوجاتا۔ دائی ماں متواتر اس کا بخار کم کرنے ٹھنڈی پٹیاں اس کے پیشانی پر رکھتی رہی تھی۔ وہ راتیں اس نے بہت اذیت ناک گزاری تھی۔ زرتاج سے جدائی کی وہ راتیں اسے سانپ بچھو کی طرح ڈستی رہتی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی آنکھ کھل جاتی اور وہ خوف و ہراس میں ماں کو پکارتا تڑپ اٹھتا۔
ایک ہفتے تک دوائیوں کے زیر علاج اور دائی ماں کے زیر نگرانی رہ کر وہ پھر سے تندرست تو ہوگیا لیکن پوری طرح خاموش ہوگیا تھا۔ آنکھوں میں ویرانی چھائی رہتی۔ رنگ زرد پڑ گیا تھا۔ اس کے وہ پھولے ہوئے گال سکڑ گئے تھے۔ زرتاج کے غم نے اسے کافی کمزور کر دیا تھا۔
دائی ماں زرتاج سے کئے اپنے وعدے کے مطابق شاویز کا بہت خیال رکھتی۔ اسے اپنے ساتھ سلاتی۔ اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتی لیکن اس کی تو مانو دنیا ہی ختم ہوگئی تھی۔ وہ صرف تھوڑا سا کھا کر اٹھ جاتا اور اپنے کمرے میں آکر زرتاج کے تکیے پر سر رکھ کر لیٹا رہتا۔
آنکھیں بند کر کے وہ اس تکیے پر زرتاج کا لمس محسوس کرنے کی کوشش کرتا رہتا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ان سب کے چلتے دائی ماں کو پریشانی لاحق ہوگئی تھی کہ شاویز کہی اپنی غیر معمولی ذہانت اور صلاحیت کھو نہ دیں۔ انہوں نے ہمیمہ سے اسے اسکول کی تعلیم اور قاری صاحب سے اسے دینی تعلیم فراہم کرنے لگا دیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ صدمے سے باہر آنے لگا۔ اور اپنے تعلیمی نظام پر دھیان دینے لگا۔
اسے معمول کی زندگی میں لوٹتے ہوئے ایک سال لگ گیا۔
ایک دن دائی ماں اس کے کمرے کو صاف کروا رہی تھی۔ اب وہ کمرا ہمیمہ کو دیا جانا تھا۔ شاویز خاموشی سے دائی ماں کو زرتاج کی چیزیں کمرے سے نکالتے دیکھ رہا تھا جب اسے الماری میں بہت سے غیر ارسال شدہ خطوط ملے اور ساتھ میں کچھ تصاویر ملی۔ اس نے آگے بڑھ کر وہ خطوط اور تصویریں اٹھائی۔
ان تین تصویروں میں ایک اس کی اور زرتاج کی تھی۔ اور دو یتیم خانے کی گروپ فوٹوز تھیں جن میں ٹین ایج زرتاج اور جوان زبیدہ خالہ کو وہ پہچان گیا تھا۔ ان کے ساتھ موجود باقیوں کو وہ نہیں جانتا تھا نہ اِس وقت وہ یتیم خانے میں موجود تھے۔
تصویریں دیکھ کر شاویز نے اپنے گھٹنے کے نیچے چھپا دی اور اب وہ ان خطوط کو دیکھ رہا تھا۔ ان پر کوئی ایڈریس درج نہیں تھا صرف ایک نام درج تھا دلاور پرویز خان۔ اس کے 9 سالہ دماغ میں کچھ کھٹکا۔ اسے یہ نام شناسا لگا۔ اس نے گہری آنکھیں چھوٹی کر کے ذہن پر زور دے کر یاد کرنے کی کوشش کی کہ آخر وہ اس نام سے کیسے واقف ہے۔ ایک جھٹکے سے اس کے تنے آبرو پھیل گئے آنکھیں بڑی ہوگئی۔ یہ نام وہ 5 سال پہلے اپنی روتی ہوئی ماں کے زبان سے سن چکا تھا جس کے بارے میں پوچھنے پر پہلی بار زرتاج نے اسے ڈانٹا تھا۔
آخر کون ہے یہ دلاور پرویز خان۔ کیوں اس کا نام بار بار اس کے اور اس کی ماں کی زندگی میں آجاتا ہے؛ سوچتے ہوئے اس نے ایک خط کھولا۔ وہ ابھی تک اتنا پڑھ لکھ نہیں گیا تھا کہ جلدی جلدی کچھ پڑھ سکے۔ ابھی وہ پہلے ہی لائن کی ہجّے کر رہا تھا کہ دائی ماں کی اس پر نظر پڑی اور فوراً سے اس کے ہاتھ سے خطوط لپک لئے۔
“دائی ماں۔۔۔۔” اس نے بے رخی سے انہیں پکارا۔
زبیدہ خالہ نے وہ خطوط اپنے بغل میں چھپا دیے اور اسے ڈانٹنے لگی۔
“دائی ماں خط واپس کریں۔۔۔” شاویز اسی جگہ بیٹھا ان سے اپنا مطالبہ کر رہا تھا۔ خط چھین جانے کے بعد اسے ڈر تھا کہ اگر دائی ماں نے وہ تصویریں دیکھ لی تو وہ بھی اس سے چھپٹ لیں گی۔
“چپ چاپ باہر جا کر اپنا سبق پڑھو۔۔۔۔ میرا دماغ خراب مت کرو۔۔۔۔ بہت کام ہے مجھے۔۔۔۔۔” دائی ماں نے خطوط واپس کرنے کے بجائے اسے سختی سے ڈانٹ دیا۔ وہ منہ بھسورتا ہوا احتیاط سے اٹھا۔ دائی ماں کی اس طرف پشت تھی وہ تصویریں کمر کی جانب پکڑے ان سے چپتے چپاتے کمرے سے نکل گیا۔
بھاگتا ہوا وہ یتیم خانے سے نکل کر اس درخت کے پاس آیا۔ آج اسے ایک مرتبہ پھر زرتاج کی شدت سے یاد آرہی تھی۔ آج پھر شاویز کو اس کی ماں کی شدت سے کمی محسوس ہورہی تھی۔ وہ اپنی اور مسکراتی زرتاج کی چند سال پہلے لی گئی اس تصویر کو چھوٹے ہاتھوں میں پکڑے بے آواز آنسو بہانے لگا۔ ٹپ ٹپ گرتے اس کے آنسو تصویر کو تر کر رہی تھی۔ اسی اثناء میں محلے کا ایک لڑکا آیا اور بھاگتے ہوئے اس کے ہاتھ سے وہ تصویر جھڑپ لی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا۔ وہ لڑکا کچھ فاصلے پر رک کر تصویر اس کے آگے جھلاتے ہوئے اسے تنگ کرنے لگا۔ اس کے کچھ اور ساتھی بھی اس مذاق میں اس کا ساتھ دیتے ہوئے شاویز پر ہنس رہے تھے۔
“تصویر واپس کرو۔۔۔۔” شاویز نے اپنے رخسار صاف کرتے ہوئے پیار سے اسے پیشکش کی۔
وہ لڑکے اسی طرح اس پر ہنستے رہے۔
“دیکھ کیا رہا ہے۔۔۔۔ پھار دے۔۔۔” ان میں سے ایک نے تصویر پکڑے لڑکے کو صدا لگائی۔
اس نے بھی استحزیہ ہنستے ہوئے دونوں ہاتھوں میں تصویر بیچ میں سے پکڑی اور ہلکی سی مڑوڑی ہی تھی کہ شاویز بھاگتا ہوا اس پر جھڑپ پڑا اور ننھے ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر اس لڑکے کو مقے اور ضربیں مارنے لگا۔ اس کی ہاتھ سے تصویر چھوٹ گئی۔ شاویز فوراً اس پر لپکا اور تصویر اٹھا کر اپنے قمیض کے جیب میں ڈالی۔ طیش سے اس لڑکے کو گھورتے ہوئے وہ جانے لگا کہ اس لڑکے نے اس کے گردن کو بازو میں دبوچ لیا۔ شاویز نے اپنی پوری قوت سے دانت اس کے بازو میں گاڑھے تو وہ درد سے کراہ اٹھا۔ اس نے شاویز کی گردن چھوڑ دی لیکن شاویز اسی طرح دانت گڑھے ہوئے تھا۔ اس پر ہنسنے والوں کی اس کے قریب جانے کی ہمت نہیں ہو سکی تھی لیکن ان میں سے ایک یتیم خانے کی سمت بھاگا۔
دائی ماں زرتاج کا کمرا صاف کروا کر اب اپنے کمرے میں عصر کی نماز ادا کر کے اٹھی ہی تھی کہ اس لڑکے نے ان کے پاس آکر شاویز کے لڑائی کی اطلاع دی۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھتی اسی طرح نماز کی چادر اوڑھے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئی۔
تیزی سے آگے آکر انہوں نے اس لڑکے کا ہاتھ شاویز کے دانتوں سے آزاد کروایا اور مظبوطی سے اسے گھسیٹنے لگی۔
“اااا ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔” وہ شاہ سوار بھوکے شیر کی مانند غرایا تھا۔ اپنی ساری طاقت لگا کر وہ اس لڑکے کو کھا جانے والے انداز میں دیکھ کر دھاڑ رہا تھا۔
وہ جو ایک سال سے اپنے جذبات اپنے آنسو اپنے خواہشات دبائے ہوئے تھا۔ اپنے دل پر پتھر رکھے ہوئے تھا؛ سب تحلیل ہو چکا تھا۔ اس کا سارا غصہ اتنے سالوں بعد دلاور پرویز خان کا نام دیکھ کر اپنے ماں کے آنسو یاد کر کے پھٹ پڑا تھا۔ جس کا شکار اس وقت وہ لڑکا ہوچلا تھا۔
شاویز کا یہ جنون دیکھ کر دائی ماں شدید تشویش میں پڑ گئی تھی۔ انہیں ڈر تھا کہ وہ آگے جا کر اس کے بڑھتے جنون کو کیسے قابو کر پائے گی۔
اپنے کمرے میں لا کر دائی ماں متفکر انداز میں اسے سمجھانے لگی۔
“شاویز۔۔۔۔۔ میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔ تم بہت بہادر ہو۔۔۔۔۔ آخر تم۔۔۔۔ زرتاج کے بیٹے ہو۔۔۔۔”دائی ماں شاید اس کے پاپا کا نام لینے لگی تھی لیکن پھر چپ ہو کر بات بدل دی اور زرتاج کا نام لیا۔
“پر تمہیں اپنی یہ صلاحیت بے کار کے لڑائی جھگڑوں میں خرچ نہیں کرنا۔۔۔۔۔۔ تمہیں ابھی اچھا انسان بننا ہے۔۔۔۔۔ بڑا آدمی بننا ہے۔۔۔۔۔ اپنی پڑھائی پر دھیان دو۔۔۔۔۔ زندگی کی حقیقت کو تسلیم کرو۔۔۔۔۔ خود کو مظبوط عصاب بناو۔۔۔۔۔ زرتاج کا شاہسوار بناو۔۔۔۔۔” وہ اڈھیر عمر خاتون نرمی سے اس کی سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ وہ اسے اس کا موقف یاد کروا رہی تھی۔ وہ اسے اس کی ماں کا خواب ؛ اس کی خواہش یاد کروا رہی تھی۔
وہ غصے سے سرخ پڑتی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہا تھا۔ دل میں اچانک ایک جوش و جذبہ پیدا ہوا اور اس نے سر اثابت میں ہلا کر دائی ماں کو یقین دہانی کروائی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
10 سال کی عمر تک اس کا اسکول مدرسہ کھیل کا میدان سب کچھ یتیم خانے کے اندر ہی تھا۔ وہ دن میں ہمیمہ آپی سے اسکول کی کتابیں پڑھتا۔ دوپہر کو قاری صاحب سے دینی تعلیم حاصل کرتا۔ اس نے اب پڑھائی پر پورا دھیان دینا شروع کر دیا تھا۔ ہمیمہ کو وہ زبردستی زیادہ سبق پڑھانے پر مجبور کرتا۔ ایک سال میں دو کلاس کا سلیبس یاد کر لیتا ویسے ہی مدرسہ میں بھی وہ اب باقاعدہ سے قاری صاحب کے ساتھ با جماعت نمازیں ادا کرتا۔
وہ پہلی مرتبہ 11 سال کے عمر میں دنیا کے رش سے روشناس ہوا تھا۔ اسے ہجوم میں جانے سے خوف آتا۔ لیکن اب وہ اپنی زمہ داری خود اٹھانے کا پابند تھا۔
دائی ماں کے یتیم خانے کا جتنا بجٹ تھا وہ اس کے بڑے آدمی بننے کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ اس لیے اس نے محنت کے ساتھ ساتھ مزدوری کرنے کی طرف رجوع کیا۔
وہ جو کہتے ہیں مجبوری انسان کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہیں؛ بلکل ٹھیک کہتے ہیں۔ اسے بھی اپنے لیے کمانے کی مجبوری نے وقت سے پہلے بڑا اور زمہ دار بنا دیا تھا۔
وہ یتیم خانے کے قریب مین روڈ پر ایک چھوٹے ہوٹل میں ملازمت کرنے لگا۔
شروع شروع میں شاویز کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس سے کام نہیں کیا جاتا۔ برتن اس کے ہاتھوں سے پھسل کر ٹوٹ جاتے کبھی کپ میں چائے ڈالتے وقت اپنا ہاتھ جلا دیتا کبھی میزوں کی ٹھیک سے صفائی نہیں ہوپاتی تھی جس کے چلتے وہ ہر دوسرے دن ہوٹل کے مالک سے ڈانٹ کھاتا رہتا۔
8 سال تک اس کی ماں نے اور پھر 3 سال سے دائی ماں نے اسے بہت لاڈ پیار سے پالا تھا۔ کبھی دنیا کی بھیڑ میں ایسے بھی نکلنا ہوگا اس نے سوچا نہ تھا۔ وہ بہت نرم دل بچہ تھا کوئی اگر بلند آواز میں بات بھی کرتا تو وہ سہم جاتا۔ لیکن قدرت کے کھیل نے اسے سخت بنا دیا تھا۔ لیکن وہ جتنا بھی سخت بنتا پر دل تو اس کا زرتاج جیسا تھا۔ رات کی تنہائی میں وہ اکثر اپنی ماں کو یاد کر کے بہت روتا تھا۔ مگر روتے روتے بھی وہ اپنے آپ سے یہی عزم دوہراتا کہ اسے شاہ سوار بننا ہے۔ اسے مظبوط بننا ہے۔ اسے ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کرنا ہے۔ اسے ہر مصیبت سے لڑنا ہے۔ اور ان سب سے اہم عزم تھا کہ اپنی ماں کے گنہگار کو نہیں بخشنا۔ وہ جہاں بھی ہے اسے ڈھونڈ کر سزا دینی ہے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دو سال تک وہ دل لگا کر کام کرنے لگا رہا۔ اب تو وہ اتنا سیکھ چکا تھا کہ صرف ہوٹل کے مالک کے اشارے پر ہی وہ سمجھ جاتا کہ اسے کس کام کا بولا جا رہا ہے۔
وہ مالک تو کافی پہلے ہی اسے ملازمت سے نکال دیتا اگر اس آدمی کو زبیدہ خالہ کا لحاظ نہ ہوتا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ ہر کام بہت مہارت سے سیکھ گیا تھا۔ اب تو وہ 3 ملازموں کے برابر کام اکیلے کر لیا کرتا تھا۔
صبح سویرے مالک کے ہوٹل آنے تک وہ ہوٹل کھول کر ساری چارپائی اور میزیں قطار سے لگا دیا کرتا۔ پورے ہوٹل کا جھاڑو پونچھا کر دیا کرتا۔ بازار سے مالک کی دی ہوئی لسٹ کا سامان بمہ حساب کی رسید مالک کے ٹیبل پر رکھی ہوتی۔ سب برتن دھو کر سکھانے کے لیے رکھے ہوتے یہاں تک کہ چائے کے لیے پانی بھی چڑھایا ہوتا۔ ہوٹل کے مالک اس سے کافی متاثر ہوگئے تھے۔
اس نے زندگی کو اسی معمول پر جینا سیکھ لیا تھا۔ اس نے سوچ رکھا تھا جب تک وہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات پاس نہیں کر لیتا وہ یہی ملازمت کرے گا اور ابھی تو اس کے 12 جماعتیں پوری ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔
وہ صبح فجر کے وقت اٹھ جاتا۔ پہلے جا کر ہوٹل کی صاف صفائی کر لیتا پھر واپس آکر دن کے 12 بجے تک سکول کا پڑھتا۔ عمر کے لحاظ سے تو اسے چھٹی جماعت کا طالب علم ہونا چاہیئے تھا لیکن وہ 13 سال کی عمر میں نویں جماعت کا گھریلوں طالب علم بن گیا تھا۔
ظہر کی نماز قاری صاحب کے ساتھ پڑھ کر وہ عصر تک قرآن مجید کا درس یاد کرتا اور عصر کی نماز کے بعد وہ واپس ہوٹل چلا جاتا اور رات 11 بجے تک وہی رہتا۔
کھیل کود؛ لڑکوں کے ساتھ ہنسی مذاق؛ دوستیاں بنانا یہ سب تو اس کی زندگی کے فہرست میں شامل تھی ہی نہیں۔
اسے بس جلد از جلد تعلیم مکمل کر کے کسی نوکری کی تلاش کرنی تھی بڑا آدمی بننا تھا دائی ماں کے یتیم خانے کی کفالت اٹھانی تھی۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ابھی شاویز کی آزمائش ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی تو اور سخت ترین اور اذیت ناک ہونی تھی۔
وہ سرما کے موسم کا آغاز تھا۔ کراچی میں بھی ان دنوں صبح سویرے کافی ٹھنڈ محسوس ہوتی۔
وہ اتوار کا دن تھا۔ جیسے ہر جگہ اتوار کو اسکول اور مدارس کی چھٹی ہوتی ویسے ہی وہ بھی اتوار کو پڑھائی سے چھٹی لیا کرتا اور پورا دن ہوٹل میں اپنی خدمات سر انجام دیتا۔
اس وقت بھی وہ اپنے کام میں لگا تھا جب وہ ان سے ملا۔ وہ شخص جس نے اس کی قسمت پلٹنی تھی جس نے شاویز کو اس کے اصل سے متعارف کروانا تھا۔ جس سے مل کر اس کی زندگی کا رخ ہی بدل گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
