Bikhare Rishte By Palwasha Safi Readelle50251 Bikhare Rishte (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Bikhare Rishte (Episode 14)
Bikhare Rishte By Palwasha Safi
وہ پھولے سانس لیتے ہوئے اپنے فلیٹ میں داخل ہوا۔ دروازہ لاک کر کے اپر اتار پھینکا اتنی تیز دھوپ میں اپر پہن کر بھاگتے ہوئے اسے گرمی لگ گئی تھی۔ میز پر ٹانگیں پھیلا کر وہ صوفے پر سستانے بیٹھ گیا۔
“جاوید تو کیا۔۔۔۔۔ پوری پولیس فورس بھی تم مجھے ڈھونڈنے لگا دو دلاور پرویز خان۔۔۔۔۔ جب تک میں خود نہ چاہوں۔۔۔۔۔۔ تم مجھ تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔۔۔” شاویز نے استحزیہ ہنستے ہوئے خود کلامی کی۔
“میری وہ جھلک بھی میں نے اپنی مرضی سے دکھائی تھی۔” شاویز نے اس ویڈیو کلپ کے بارے میں یاد کرتے ہوئے کہا۔
“تا کہ تمہیں پتا لگے۔۔۔۔۔ تمہارا کس سے پالا پڑا ہے۔۔۔۔”اب کی بار اس کی آواز میں سختی در آئی تھی۔
وہ صوفے سے اٹھا اور کمرے میں آکر پینٹ میں پھنسائی گن نکال کر ٹیبل پر رکھی۔ وہ چاہتا تو اس وقت اپنی گن نکال کر جاوید پر جوابی حملہ کر سکتا تھا لیکن وہ گن اسے سیفٹی کے لیے ایجنسی کے جانب سے ملی تھی اور وہاں سے مہیا کی گئی گن کا ڈیزائن عام اسلحہ سے کچھ مختلف ہوتا ہے جو صرف آرمی یا پولیس سے وابستہ لوگ ہی محسوس کر پاتے ہے؛ اگر وہ جاوید کے سامنے اپنی گن نکالتا تو وہ اس گن کا ماڈل پہچان جاتا؛ اس لیے شاویز نے اپنے پاس گن ہونا بھی ظاہر نہیں کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مسلسل ناکامی کی وجہ سے جاوید کو پہلی بار شکست خوردہ سا محسوس ہوتا۔ وہ دلاور صاحب کے رو بہ رو کم آیا کرتا حالانکہ ان کی فیملی نے کبھی جاوید کو یہ چیز ظاہر نہیں کروائی۔
یونیورسٹی کا دوسرا سمسٹر شروع ہوگیا تھا۔ صائم سحر عارفہ تینوں ہی اپنے معمول کی زندگی میں آگئے تھے۔ جاوید کی آج کل ڈیوٹی انتخابی ریلی کے حفاظتی انتظامات پر نظر رکھنے لگائی گئی تھی۔ اس لیے وہ سحر کے ساتھ خود نہیں آسکتا تھا تو اس نے اپنا ایک اہلکار لگا دیا تھا۔
صائم کو ان دنوں کمپیوٹر کا کوئی خاص اسائنمنٹ ملا تھا۔ وہ کافی دنوں سے شاویز کو ریکویسٹ کر رہا تھا کہ بنانے میں اس کی مدد کر دیں اور بالآخر شاویز آج دلاور صاحب کے غیر موجودگی میں ان کے گھر اس کی اسائنمنٹ بنانے کے لیے آنے پر مان گیا۔
وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے ملاتشی نظروں سے آس پاس دیکھتا ان کے لاونج میں داخل ہوا تھا کہ ٹھٹک گیا۔ بوڑھی زبیدہ خالہ بڑے صوفے پر بیٹھی تھی۔ عابدہ بیگم کچن میں ملازمہ کے ساتھ ان کے لیے چائے کا اہتمام کرنے لگی تھی۔
شاویز تنے ہوئے اعصاب سے ان کے پاس آیا۔ اسے آتے دیکھ کر دائی ماں بھی تعجب اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے گڑبڑا کر کھڑی ہوگئی تھی۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو دائی ماں۔۔۔۔” شاویز نے ان کا بازو جھنجوڑ کر دانت پر دانت جمائے ہوئے کہا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔ تم کیسے جانتے ہو ان لوگوں کو۔۔۔” دائی ماں نے اس کا سوال نظر انداز کر کے متفکر انداز میں ہلکی آواز میں پوچھا۔
ان کا دل ڈوبنے لگا۔
“یا اللہ۔۔۔۔ کہی شاویز کو دلاور کے بارے میں پتا تو نہیں چل گیا۔۔۔۔” بوڑھی دائی ماں نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سوچا۔ کہی اسے سچائی معلوم ہو گئی تو؛ سوچتے ہوئے زبیدہ خالہ روہانسی ہو رہی تھی۔
“میں تو صائم سے ملنے آیا تھا پر تم۔۔۔۔۔ یہاں کیسے۔۔۔۔” شاویز کو غصہ آنے لگا۔ وہ ہر حد کوشش کر کے دائی ماں کے سامنے اپنا طیش قابو رکھنے کے جتن کر رہا تھا۔
زبیدہ خالہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کوئی بہانہ سوچنے لگی۔
وہ دونوں ابھی اسی شش و پنج میں مبتلا تھے کہ دلاور صاحب دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے رک گئے۔
وہ غور سے زبیدہ خالہ اور شاویز کو اضطراب میں ایک دوسرے سے سرگوشی کرتے دیکھنے وہی رک گئے تھے۔
“یہ لڑکا کون ہے۔۔۔۔ کب سے میرے بچوں کے ساتھ ہے۔۔۔۔۔ بس کچھ ہی ماہ سے۔۔۔۔ یہ کون ہے کہاں سے آیا ہے۔۔۔۔ خاندان کیسا ہے۔۔۔۔۔ ہم کچھ بھی نہیں جانتے۔۔۔۔” انہوں نے شاویز کو بغور دیکھتے ہوئے سوچا۔
دلاور صاحب سر تا پیر شاویز کو مشاہدہ کرنے لگے۔ انہیں جاوید کی اس تعاقب کار کے بارے میں کہی باتیں یاد آئی۔
لمبا قد۔ چوڑی باڈی۔ مظبوط بازو۔ تنے ہوئے ہاتھ۔ عام مردوں سے الگ۔
جو جو خصوصیات جاوید نے بیان کئے تھے وہ سب دلاور صاحب کو شاویز میں موجود ملے۔ وہ طیش میں آگئے اور تیز قدموں سے آگے آکر شاویز کے شرٹ کا کالر دبوچ لیا اور اس کا رخ اپنے جانب گیا۔
“تم ہی ہو نا وہ۔۔۔۔۔ تم ہی کر رہے ہو یہ سب۔۔۔۔۔ ” انہوں نے پوری قوت سے غراتے ہوئے کہا۔
ان کی غضب ناک آواز سن کر عابدہ بیگم گھبرا کر کچن سے باہر آگئی وہی دوسرے جانب سحر اور صائم بھی پریشان حالت میں کمرے سے باہر آگئے اور لاؤنج میں بھاگ آئے۔
“کیا چاہتے ہو تم۔۔۔۔۔۔ کیوں میری فیملی کے پیچھے پڑے ہو۔۔۔” تند و تیز نگاہوں سے شاویز کو گھورتے ہوئے وہ تقریباً دھاڑے تھے۔
شاویز پر سکون انداز میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے جا رہا تھا۔
دلاور بہت نرم مزاج انسان تھے۔ عابدہ بیگم اور بچوں نے کبھی انہیں اس قدر طیش میں نہیں دیکھا تھا اس لیے وہ سب بہت سہم گئے۔ وہی زبیدہ خالہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب ہو کیا رہا ہے۔ شاویز نے ایسا کیا کر دیا ہے کہ دلاور اس پر ایسے بھڑک اٹھا ہے۔
“ہاہاہا۔۔۔۔ ویل ڈن مسٹر دلاور۔۔۔۔ واقعی جتنا تمہارے بارے میں سنا تھا۔۔۔۔۔ تم اس سے کئی زیادہ سمارٹ نکلے۔۔۔۔۔ تمہارا وہ سو کالڈ چمچا جاوید۔۔۔۔ پولیس کا دماغ لے کر بھی اب تک مجھے guess نہیں کر پایا۔۔۔۔۔ اور تم نے اس عمر میں بھی فوراً پکڑ لیا۔۔۔۔۔ بھئی داد دینی پڑے گی تمہاری۔۔۔۔۔” شاویز نے ان کے ہاتھ جھپٹ کر اپنا کالر چھڑایا اور چند قدم دور جا کر دلاور صاحب کی ذہانت پر تالیاں بجاتے ہوئے کہا۔
“شاویز۔۔۔۔۔ یہ کس ٹون میں بات کر رہے ہو تم میرے پاپا سے۔۔۔۔” سحر کو جاوید کی برائی سن کر جتنا غصہ آیا تھا اتنا ہی شاویز کا اپنے پاپا سے بد تمیزی سے بات کرنے پر۔
شاویز اس کی بات کو مکمل نظرانداز کر گیا جیسے سنا ہی نہ ہو۔ آج وہ اپنے دشمن کے بلکل رو بہ رو تھا۔ آج اسے دلاور پرویز خان کے علاوہ کوئی دوسرا نظر نہیں آرہا تھا۔ آج پانی اس کے سر سے اوپر ہو چلا تھا نہ وہ اب پکڑے جانے کے خوف میں تھا اور نہ کسی خطرے سے تشویش میں۔
“ہاں میں نے ہی کیا ہے وہ سب۔۔۔۔۔ سحر کو دھمکانا۔۔۔۔۔ صائم کا ایکسیڈنٹ۔۔۔۔۔ اور تمہاری کمپنی کو جلانا سب میں نے کیا۔۔۔۔۔” اس نے اعلانیہ صورت میں ہاتھ ہوا میں بلند کر کے اعتراف کیا۔
دلاور صاحب کا شک یقین میں بدل گیا۔ عابدہ بیگم اور سحر بے یقینی سے سانس روکے کھڑی رہی جبکہ صائم کے آبرو تن گئے۔
سحر لرزتے ہاتھوں سے موبائل پر جاوید کا نمبر ملانے لگی۔ اس کی انگلیاں منجمد ہوگئی تھی اس سے موبائل کا لاک تک نہیں کھولا جا رہا تھا۔ تیز تیز نمبر ملاتے ہی اس نے خوف سے بھیگی آنکھوں کے ساتھ فون کان سے لگایا۔ بیل تو جا رہی تھی لیکن جاوید کال اٹھا نہیں رہا تھا۔
جاوید اس وقت ریلی میں ہوئے جھڑپ کو روکنے کی کوشش میں لگا تھا اسے اپنے فون کا دھیان ہی نہ تھا۔
“کیوں کر رہے ہو تم یہ سب۔۔۔۔۔ کیا چاہیئے تمہیں۔۔۔۔۔”دلاور صاحب نے مدافعتی انداز میں پوچھا۔ انہیں شاوہز معمولی بلیک میلر لگا جو پیسوں کے لیے بزنس مین کو یا اس کی فیملی کو تنگ کیا کرتے ہیں۔
“مجھے بدلہ چاہیئے۔۔۔۔۔ آج تمہارے منہ پر میں تمہیں کہتا ہوں۔۔۔۔۔ میں تمہیں برباد کر کے رہوں گا دلاور پرویز خان۔۔۔۔۔ اور تم کچھ نہیں کر پاو گے۔۔۔۔۔” شاویز نے چیلنج دینے کے انداز میں کہا
دلاور صاحب آگے بڑھے اور سوٹ کے جیب سے گن نکال کر شاویز کے سینے پر تان لی۔
“اس سے پہلے میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔۔” انہوں نے غراتے ہوئے کہا۔ سب کے اوسان خطا ہو گئے۔
عابدہ بیگم نے چیخ روکنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ سحر تو بت بنی کھڑی رہی آج تک اس نے کبھی اپنے پاپا کو کسی سے سخت لہجے میں بات کرتے نہیں دیکھا تھا اور آج وہ انہیں کسی پر گن تانے مارنے کی بات کرتے سن کر بے حس ہوگئی۔ جبکہ صائم بے تاثر تھا۔
سحر نے جلدی سے خود کو کمپوز کیا اور پھر سے جاوید کو کال کرنے لگی۔ وہ نہیں چاہتی تھی غصے میں اس کے پاپا کے ہاتھوں کسی کا قتل ہوجائے۔ بیل مسلسل بج رہی تھی لیکن جواب ندارت۔
شاویز ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے طنزیہ انداز میں دلاور صاحب کو دیکھ رہا تھا کہ زبیدہ خالہ ہڑبڑا کر قریب آئی اور دلاور کا گن پکڑا ہاتھ تھام لیا۔
“خدا کے لیے دلاور۔۔۔۔۔ ایسا گناہ مت کرنا۔۔۔۔۔ ورنہ آج ایک باپ کے ہاتھوں بیٹا قتل ہوجائے گا۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے کانپتے ہانپتے التجائی انداز میں کہا۔
لاؤنج میں موجود سب ہی کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ مانو سر پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔ ایک لمحے کے لیے سناٹا سا چھا گیا۔
“دائی ماں یہ کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔ یہ میرا باپ نہیں ہے۔۔۔۔۔” شاویز کا تحمل ڈگمگا گیا وہ دائی ماں پر چلا پڑا۔
“یہی تیرا باپ ہے شاویز۔۔۔۔” انہوں نے ہاتھ بڑھا کر شاویز کو تھامنا چاہا لیکن وہ نفی میں سر ہلاتے پیچے ہوگیا۔
دلاور صاحب کی گن پر گرفت سست پڑ گئی تھی۔ عابدہ بیگم سحر اور صائم تینوں کو سانپ سونگھ گیا تھا ان سے کوئی ردعمل دیا ہی نہیں گیا۔ وہ سب پھٹی نظروں سے زبیدہ خالہ کے آنسوؤں سے تر چہرے کو دیکھنے لگے۔
“نہیں۔۔۔۔ یہ جھوٹ ہے۔۔۔۔” شاویز نے اضطراب میں ان کی بھیگی آنکھوں میں دیکھ کر تصدیق مانگی۔
“یہ سچ ہے۔۔۔۔۔ اور تم جانتے ہو۔۔۔۔۔ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتی۔۔۔۔” بوڑھی دائی ماں نے زور دے کر کہا۔ تیز تیز بولتے انہیں سانس چڑھنے لگی تھی۔
شاویز نے لب مینچھ لیئے۔ وہ واقعی جانتا تھا کہ دائی ماں جھوٹ نہیں بولتی۔ اس نے اپنے جذبات قابو کرنے سر پکڑ لیا اور سب سے الگ ایک کونے میں دیوار کی جانب رخ کر کے کھڑا ہو گیا۔
“زبیدہ خالہ۔۔۔۔ ہوش میں تو ہے آپ۔۔۔۔۔ یہ میرا بیٹا کیسے۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے شاویز کے بہ نسبت قدرے نرمی سے زبیدہ خالہ کو مخاطب کیا۔ ابھی ان کا جملہ مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ زبیدہ خالہ کے زبان سے نکلنے والےالفاظ سے دلاور صاحب کے قدم لھڑکرا گئے۔
“شاویز۔۔۔ تمہارے اور زرتاج کا بیٹا ہے دلاور۔۔۔۔۔” دائی ماں نے کانپتے زبان سے کہا۔
شاویز نے ان سب کے سامنے اپنی ماں کا نام لیئے جانے پر آنکھیں سختی سے مینچھ لی۔ اس سے یہ حقیقت برداشت نہیں ہو پا رہی تھی۔
سُن عصاب کھڑی عابدہ بیگم نے مضطرب سی رخ موڑ کر دلاور صاحب سے کچھ کہنا چاہا لیکن زرتاج کا نام سن کر ان کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھ کر وہ سمجھ گئی کہ ان کا میاں اس نام سے واقف ہے۔
مطلب ان سے پہلے دلاور کی زندگی میں کوئی اور عورت تھی جس سے ان کا ایک بیٹا بھی ہے؛ دل میں سوچتے ہوئے عابدہ بیگم نے شاویز کی پشت کو دیکھا اور صوفے پر بیٹھ کر رونے لگی۔
سحر مما کو ٹوٹتا دیکھ کر دل گرفتگی سے دلاور صاحب کے پاس آئی اور ان کا بازو جھنجوڑا۔
“پاپا۔۔۔۔۔ یہ سب جھوٹ ہے نا۔۔۔۔۔۔ کہیئے نا۔۔۔۔۔ یہ صرف اس اماں اور شاویز کی ملی بھگت ہے۔۔۔۔۔۔ یہ ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں۔۔۔۔۔ پلیز پاپا۔۔۔۔۔ کہیے۔۔۔۔” سحر نے آبدیدہ آواز میں پاپا سے سوال کیا۔
دلاور پرویز خان کی ساری ہمت بکھر گئی تھی۔ انہوں نے اداس نظروں سے سحر کو دیکھا۔ اپنی جوان 23 سالا بیٹی کو اپنی 26 سال پہلے کردہ غلطی کی وہ کیا صفائی پیش کرتے۔ انہوں نے مایوسی سے اپنا بازو سحر کے گرفت سے آزاد کروایا اور نظریں چرا گئے۔
عابدہ بیگم جو سانس روکے ان کے جانب دیکھ رہی تھی پھر سے رونے لگی۔ دلاور صاحب کی اس حرکت نے مانو ان کے سارے شک و شبہات کو حقیقت میں تبدیل کر دیا تھا۔
عورت چاہے کسی بھی عمر، کسی بھی زمانے کی ہو۔ شوہر کی بےوفائی۔ اس کا کسی اور عورت کے ساتھ ملوث ہونا برداشت نہیں کر سکتی۔
سحر اپنے خالی ہاتھ کو تکتے ہوئے مما کے ساتھ صوفے پر نڈھال سی بیٹھ گئی اور صائم، اسے بنا پوچھے ہی سب سوالات کے جوابات مل گئے تھے۔ خود کو رونے سے روکنے وہ جبڑے سخت کئے ہوئے دوسرے جانب کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
دلاور صاحب دلی کیفیت کو ٹٹولتے افسردہ کھڑے شاویز کی پشت دیکھنے لگے۔ ماضی کی بہت سی یادیں تازہ ہوگئی تھی۔ وہ نام جو سب سے پہلے ان کے دل پر چپ گیا تھا اسے وہ کیسے بھول سکتے تھے۔ زرتاج
############### 26سال قبل ###########
زرتاج کے والد تو اس کے پیدا ہوتے ہی فوت ہوگئے تھے۔ وہ اور اس کی ماں اس کے ماما کے ساتھ رہتیں تھی۔ جب زرتاج 15 سال کی ہوئی اور اس کی ماں بھی انتقال کر گئی تو ماما نے اسے زبیدہ خالہ کے یتیم خانے میں ڈال دیا۔
وہی دوسری جانب سرداروں کے خاندان سے تعلق رکھنے والے دلاور پرویز خان میٹرک پورا کر کے آگے کی تعلیمات کے لیے شہر کے کالج میں شامل ہوا اور لڑکوں کے ہاسٹل میں رہتا تھا۔
دن میں کالج کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ شام میں یتیم خانے کے بچوں کو فی سبیل اللہ کار خیر کی نیت سے فری میں انگلش پڑھانے یتیم خانے آیا کرتا۔ وہاں اس کی اور زرتاج کی ملاقات ہوئی۔
زرتاج 17 سال کی ہوئی تو اس کے ماما اسے اپنے کام کاج کروانے کے غرض سے واپس لے گئے۔ وہ خوبصورت سی پیاری مسکان والی لمبے بالوں والی لڑکی اپنے ماما کے سارے گھر کے کام کاج کرتی۔ جھاڑو پونچھا لگانا کپڑے دھونا اور استری کرنا کبھی کبھار روٹی پکانا سالن بنانا۔ برتن دھونا سب اکیلی اسی کے ذمہ تھا۔
زرتاج کو پڑھائی کا بہت شوق تھا وہ بہت ذہین تھی۔ وہ اپنے ماما کے ساتھ واپس اسی شرط پر گئی تھی کہ وہ اسے یتیم خانے پڑھنے بھیجا کریں گے۔
وہ ہر روز دوپہر تک سارے کام ختم کر کے صاف ستھری ہو کر پڑھنے یتیم خانے آجایا کرتی۔ زبیدہ خالہ کی بھی وہ دل عزیز تھی۔
اپنے ذہانت سے وہ خود سے چار سال بڑے 22 سالہ دلاور کو پسند آنے لگی۔ زرتاج کو ایک دفعہ پڑھ کر سبق یاد ہوجاتا جو دلاور کو اسے سراہنے پر مجبور کر دیتا۔ ٹین ایج دلاور کے مستحکم اور سحرانگیز رویے پر فدا ہونے سے زرتاج بھی خود کو روک نہیں پائی۔ اب دونوں کی ایک دوسرے کے لیے دلچسپی بڑھتے بڑھتے دوستی میں تبدیل ہوگئی۔
کلاس شروع ہونے سے پہلے اور ختم ہونے کے بعد بھی وہ دونوں کافی دیر بیٹھے باتیں کر رہے ہوتے۔
دلاور پرویز خان سرداروں کے خاندان میں سے تھا۔ وہاں اپنی مرضی سے کوئی پانی تک نہیں پی سکتا تھا ایسے میں دلاور نے دادا اور والد کے علم میں لائے بغیر زرتاج سے دوستی کر لی تھی۔
زرتاج کی سہیلیوں سے تو ان کی دوستی چھپی نہ چھپ سکی تھی جب کہ دلاور کے صرف ایک دوست بلال حمید کو ان کی دوستی کا علم تھا۔ وہ بھی اس نے دلاور کو کسی لڑکی کے ساتھ گھومتے دیکھ لیا تھا اور مجبوراً دلاور کو بلال سے اپنی اور زرتاج کی دوستی کا اعتراف کرنا پڑا تھا۔
دو سال تک یہ رشتہ ایسی چلتا رہا کہ 20 سالہ زرتاج کے لیے اس کا ماما ایک رشتہ لے آیا۔ اس وقت موبائل فون رکھنا صرف امیروں کی بس کی بات ہوا کرتی۔ اس لیے وہ دلاور کو آگاہ نہیں کر سکتی تھی اور نہ ہی ماما کے لائے رشتہ سے شادی کرنا چاہتی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ایک رات وہ ماما مامی کے سوجانے کے بعد اپنے چند جوڑے کپڑے کچھ نقدی اور اپنی ماں کے زیور بیگ میں ڈال کر رات کے آخری پہر گھر سے نکل گئی۔
صبح فجر کا سماء تھا کہ ہاسٹل میں دلاور کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ عنودگی کے حالت میں آنکھیں مسلتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر دروازے پر آیا اور دروازہ کھولا ہی تھا کہ ٹھٹک گیا۔ ہاسٹل کے ملازم کے ہمراہ زرتاج چادر اوڑھے کندھے پر بیگ ڈالے متذبذب سی کھڑی تھی۔
“یہ میڈم آپ سے ملنے کی ضد کر رہی تھی۔۔۔۔” ملازم نے دلاور کو متوجہ کیا۔
دلاور نے سر اثابت میں ہلایا اور ملازم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے زرتاج کو کمرے کے اندر لے آیا۔
“زرتاج۔۔۔۔ تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔” دلاور اسے اس طرح بیگ لیئے دیکھ کر پریشان ہورہا تھا۔
“میں نے ماما کا گھر چھوڑ دیا دلاور۔۔۔۔۔ وہ میری کہی اور شادی کروا رہے تھے۔۔۔۔” زرتاج نے دل گرفتگی سے کہا اور اداس سی اس کے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
25 سالہ جوان دلاور شاک سا ہوگیا۔
“کیا۔۔۔۔۔ زرتاج تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔ انہیں منع کر دیتی۔۔۔۔۔ یا مجھے بلا لیتی۔۔۔ پر گھر چھوڑ کر نہیں آنا چاہیئے تھا۔۔۔” دلاور اسے سمجھا بجھا کر واپس بھیجنا چاہتا تھا۔
“دلاور وہ میری کبھی نہیں سنتے۔۔۔۔۔ اور نہ تمہاری مانتے۔۔۔۔۔ ماما اس آدمی سے پیسے لے چکے تھے اب وہ اس شادی سے انکاری نہیں ہوسکتے۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے پاس گھر چھوڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔” زرتاج اس کے ساتھ کا امید لے کر آئی تھی اس لیے دلاور کی یہ باتیں اسے مایوس کر رہی تھی۔
“لیکن اب ایسے کہاں جاو گی۔۔۔۔ کیسے رہو گی۔۔۔۔۔” دلاور نے متفکر انداز میں کہا اور اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔
“ہمممم۔۔۔۔۔ ہم شادی لر لیتے ہیں۔۔۔۔۔ آپ کریں گے مجھ سے شادی۔۔۔۔۔” زرتاج نے پر امید انداز میں پوچھا اور ہاتھ بڑھا کر دلاور کے ہاتھ پر رکھا۔
“زرتاج۔۔۔۔ تم جانتی ہو۔۔۔۔ میں سیٹل نہیں ہوں۔۔۔۔۔ ابھی تک میں آغا جان اور بابا جان پر منحصر ہوں۔۔۔۔۔۔۔ اور تمہیں میرے خاندان کا بھی اچھے سے معلوم ہے۔۔۔۔ میری ابھی اپنی مرضی سے شادی کرنے کی حیثیت نہیں ہے۔” دلاور نے دادا اور والد کا نام لے کر زرتاج کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا تھا۔
“پر میں تو یہی سوچ کر آپ کے پاس آئی ہوں دلاور۔۔۔۔ کہ آپ مجھ سے شادی کریں گے۔۔۔۔۔ میرا سہارا بنے گے۔۔۔۔” زرتاج نے اشک بار آنکھوں سے دلاور کو دیکھتے ہوئے کہا۔
دلاور کو زرتاج کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر تکلیف ہونے لگی وہ نظریں چرا کر اپنا ہاتھ زرتاج کے نرم ہاتھوں سے نکال کر اٹھ گیا۔
“یہ بہت رسکی ہے۔۔۔۔۔ میرے گھر پر پتا چلے گا تو سردار اختر خان اور پرویز خان اپنی عزت اور اپنا بھرم برقرار رکھنے۔۔۔۔۔ میرے اور تمہارے ساتھ کیا کر گزرے گے یہ تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔” دلاور نے درپیش مسائل کے اندیشے سے واقف کرتے ہوئے بے بسی سے کمر پر ہاتھ رکھ لیئے۔
زرتاج کچھ لمحے خاموش رہی پھر آنکھیں بند کر کے سارے آنسو اپنے اندر اتارے اور گیلی سانس اندر کھینچ کر کھڑی ہوگئی۔ پیروں میں رکھا بیگ اٹھا لیا اور دروازے کے جانب بڑھ گئی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ میں آپ کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہتی۔۔۔۔۔۔ میں واپس چلی جاتی ہوں۔۔۔۔۔ ماما کو جس سے میری شادی کروانی ہے۔۔۔۔۔ کروا دیں۔۔۔۔۔ میں آپ کی محبت دل میں دبا کر کسی اور کے نام ہوجاوں گی۔۔۔۔” زرتاج نے لرزتے آواز میں کہا۔
“اگر یہ نہ کر سکی تو۔۔۔۔۔۔۔ سمندر میں کود کر جان تو دے ہی سکتی ہوں۔۔۔۔۔ ” آخری فقرہ کہتے ہوئے وہ مایوس ہوگئی اور رونے لگ گئی۔
اس نے دروازہ کھولنے دروازے کے ناب پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ دلاور نے اسے بازو سے پکڑ کر اس کا رخ اپنے جانب کیا۔
دلاور اسے دونوں کندھوں سے تھامے ہوئے تھا۔ زرتاج اس سے نظریں ملانے سے کترا رہی تھی وہ بھیگے رخسار لیئے نیچھے دیکھے جا رہی تھی۔
” اس دنیا میں اپنا کہنے والا میرے پاس آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔۔۔۔ زبیدہ خالہ کے بعد اگر کسی نے مجھے اپنایا ہے۔۔۔۔ پیار دیا ہے۔۔۔۔۔ تو وہ آپ ہو دلاور۔۔۔۔۔ ماما نے تو صرف اپنی ملازمت کے لیے رکھا تھا۔۔۔۔ اور اب پیسوں کے عوض ایک شادی شدہ بڑے عمر کے آدمی سے شادی کروا رہے ہیں۔۔۔۔۔” آنسو ٹپ ٹپ کر کے اس کے رخسار سے نیچے بہہ رہے تھے۔
“لیکن میں آپ کی پریشانی بھی سمجھ سکتی ہوں۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے اور کچھ نہیں چاہیئے دلاور۔۔۔۔۔ صرف تحفظ اور ایک جائز رشتہ۔۔۔۔۔” اس نے بھیگی آنکھوں سے دلاور کو دیکھا۔ وہ دم سادھے اسی کو دیکھ رہے تھے۔
“پر۔۔۔۔۔ یہ آپ کے لیے مشکل ہے۔۔۔۔۔ تو میں فورس نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ میں یہاں سے چلی جاو گی۔۔۔۔” زرتاج نے تاثرات نارمل کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
دلاور اپنی محبت کے آگے ہار گیا۔ اس نے مظبوطی سے زرتاج کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیئے۔
“تمہیں کہی جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ مجھے تھوڑا وقت دو۔۔۔۔ میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔۔ ” دلاور نے اپنے پر کشش انداز میں اسے تسلی دی۔ وہ مطمئن سی ہو کر مسکرا دی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماحول کا تناو کچھ کم ہوا تو رات بھر کی تھکی ہاری زرتاج وہی ہاسٹل کے کمرے میں دلاور کے بیڈ پر لیٹ کر تھوڑی دیر کے لیے سوگئی۔
دلاور آج یونیورسٹی نہیں گیا۔ وہ اضطراب میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا۔
کیا وہ زرتاج سے شادی کر لے۔ یا وہ اسے اپنے ساتھ گاوں لے جائے۔ آغا جان اور بابا جان کو کیا جواب دیں۔ کس منہ سے وہ یہ کہے کہ وہ زرتاج سے محبت کرتا ہے۔ پر اس طرح وہ اسے ہاسٹل میں نہیں رکھ سکتا۔ نہ وہ بغیر کسی آمدنی کے الگ گھر میں رہ سکتا ہے اور رہے بھی تو کس نام سے۔ بنا نکاح کے وہ زرتاج کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔ آخر ہے تو وہ سردار قبیلے کا؛ سوچتے سوچتے وہ بے بسی سے سر پکڑ کر بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔ رخ موڑ کر سوئی ہوئی زرتاج کے چہرے کو دیکھا۔ ایک پل کے لیے اسے زرتاج سے محبت کر کے اسے آس اور امید میں مبتلا کرنے پر اسے افسوس ہوا لیکن اگلے ہی پل اس نے سر جھٹک کر خیال بدل دیا۔ آگر وہ نا ہوتا تو کوئی اور ہوتا اور وہ پتا نہیں کس شخصیت کا حامل ہوتا۔ معصوم زرتاج کو اپنی باتوں میں پھنسا کر اس کی زندگی خراب کر دیتا ؛ سوچتے ہوئے دلاور کو زرتاج کی فکر لاحق ہو گئی۔ وہ کسی اور کو زرتاج کی زندگی سے کھیلنے نہیں دے سکتا۔ اب جو بھی کرنا ہوگا اسے ہی کرنا ہوگا۔ وہ فیصلہ کرنے کے انداز سے اٹھا۔
زرتاج کو جگایا۔ اس کا بیگ کندھے پر ڈالا اور اسے ساتھ لیئے، مظبوطی سے اس کا ہاتھ تھامے کمرے سے باہر آیا اور محتاط انداز میں اسے باقی لڑکوں کی نظروں سے بچاتے ہوئے کوریڈور میں تیز تیز چلنے لگا۔
زرتاج چادر اوڑھے ہوئے اس کے آوٹ میں چھپ کر خوفزدہ سی دلاور کے ساتھ چلتے چلتے رک گئی۔
دلاور کا دوست بلال حمید ان کے سامنے آگیا تھا۔ زرتاج نے ایک نظر اسے دیکھا پھر نگاہیں جھکا دی۔ دلاور اور بلال ہلکی سرگوشی کے انداز میں بات کرنے لگے۔
شاید وہ زرتاج کو وارڈن کے نظروں سے چھپا کر ہاسٹل سے نکالنا چاہتے تھے اس لیے بلال بھی ان کے ساتھ زرتاج کے سامنے چلنے لگا۔
گیٹ سے باہر نکل کر دلاور اور زرتاج کی سانس میں سانس آئی۔ رکشے میں سوار ہو کر زرتاج نے دلاور کے چہرے کو دیکھا تو فکرمندی اضطراب پریشانی سب کے ملے جلے ایثار جھلک رہے تھے۔ زرتاج کو بہت افسوس ہوا کیونکہ اس نے اپنی وجہ سے دلاور کو مشکلات سے دو چار کر دیا تھا۔ احساس ندامت میں دب کر زرتاج سے یہ تک نہ پوچھا گیا کہ وہ لوگ کہاں جا رہے ہیں۔ اس نے رخ پھیر کر دل میں فیصلہ کیا کہ اگر دلاور اسے سمندر پر لے جا کر کودنے کا بھی کہہ دے تو وہ خوشی خوشی کود جائے گی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رکشے سے وہ دونوں زبیدہ خالہ کے یتیم خانے کے سامنے اترے۔
تو کیا دلاور مجھے زبیدہ خالہ کے پاس چھوڑنے آئے ہے؛سوچتے ہوئے زرتاج نے دلاور کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور پھر خاموشی سے سامنے دیکھنے لگی۔
اسی طرح خاموش چلتے ہوئے وہ دونوں اندر آئے۔ زبیدہ خالہ انہیں دیکھ کر خوش ہوتی ہوئی ان کے پاس آئی۔ انہیں پیار کر کے بیٹھک میں بیٹھایا۔
“زبیدہ خالہ اس شہر میں، میں آپ کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا۔۔۔۔۔ آپ کے علاوہ میں کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔۔۔” حال احوال دریافت کر لینے کے بعد دلاور نے سنجیدگی سے بات کا آغاز کیا۔
“ہم شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔” اس نے بنا وقت ضائع کئے مدعہ کی بات کی۔
زبیدہ خالہ اس کی بات پر خوش دلی سے مسکرائی۔
“یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔۔۔ میں تیری طرف سے اس کے ماما سے بات کر لیتی ہوں۔۔۔۔ ” زبیدہ خالہ نے چہکتے ہوئے دلاور سے کہا۔
“خالہ میں نے ماما کا گھر چھوڑ دیا۔۔۔۔۔ میں وہاں سے بھاگ آئی ہوں۔۔۔۔۔ ” زرتاج نے ان کی تصحیح کے لئے بتایا۔
زبیدہ خالہ کی آنکھیں بڑی ہوگئی۔ انہیں زرتاج کی بے وقوفی پر غصہ آنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ زرتاج کو ڈانٹتی دلاور نے ان کی بات کاٹ دی۔
“خالہ آپ میرے خاندان کو جانتی ہے۔۔۔۔۔ میں زرتاج کو وہاں نہیں لے جا سکتا۔۔۔۔۔ اور نہ کہی اور اکیلے رکھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اس لیے یہاں لے آیا۔۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ اسے یہی رکھ لیجیئے۔۔۔۔” دلاور نے التجائی انداز میں کہا اور معصومیت سے خالہ کو دیکھا۔
زبیدہ خالہ باری باری ان دونوں دیکھنے لگی۔
“خالہ میں اپنے خاندان کے علم میں لائے بغیر زرتاج کو اپنانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ اگر میرے خاندان کو کان و کان خبر بھی ہوئی تو وہ ہم دونوں میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑے گے۔۔۔۔۔ اس لیے زرتاج سے خفیہ نکاح کرنے میں مجھے آپ کی مدد چاہیئے۔۔۔۔۔ ” دلاور نے اپنی خواہش بیان کرتے ہوئے زبیدہ خالہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تھپتھپایا۔
خالہ نے بے بسی سے زرتاج کو دیکھا وہ بھی پر امید انداز میں ان کو ہی دیکھ رہی تھی۔
پھر انہوں نے لمبی سانس لیتے ہوئے ان کی مدد کرنے کی ہامی بھری۔
زرتاج اور دلاور نے مسکرا کر ایک دوسرے کو مسرت ہوتے ہوئے دیکھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شام تک زرتاج نے خالہ کے ساتھ مل کر یتیم خانے کے کونے میں ایک بڑا کمرا صاف کروایا۔
بیوہ زبیدہ خالہ نے زرتاج کو اپنے سرخ جوڑے میں تازا پھولوں کے بنائے زیور پہنا کر دلہن کے روپ میں تیار کیا۔
زرتاج ویسے بھی پیاری سی تھی اور سرخ جوڑے میں اس کے چہرے پر اور نور چھا گیا تھا۔
مغرب کے نماز کے بعد مسجد کے مولوی صاحب کو بلا کر زبیدہ خالہ کی گواہی میں ان کا نکاح پڑھایا گیا۔
قبول ہے
قبول ہے
قبول ہے۔
کہہ کر دلاور نے زرتاج کو اور زرتاج نے دلاور کو اپنے شوہر اور بیوی کے روپ میں اپنانے کی منظوری دے دی۔
زرتاج کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس کی آنکھیں بھر آگئی تھی۔ آخر اس کی محبت کامیاب ہوگئی تھی وہ دلاور کے نام ہوگئی تھی۔
زبیدہ خالہ نے ان دونوں کے پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے انہیں ڈھیر ساری دعائیں دیں۔ پھر وہ زرتاج کو لیئے کمرے میں چلی گئی۔
دلاور نے زرتاج کی حفاظت کرنے، اسے غلط ہاتھوں میں پڑنے سے بچانے کے لیے اس سے نکاح تو کر لیا تھا لیکن گھر والوں کو دھوکہ میں رکھ کر اب اسے زرتاج کو اپنانے میں جھجک ہورہی تھی شہر میں پڑھتا ہی صحیح لیکن تھا تو وہ ایک سردار ہی۔
بیشک اسے زرتاج سے بہت پیار تھا لیکن آغا جان اور بابا جان کو انجان رکھنے کا اسے افسوس ہورہا تھا اور اس کیفیت نے اسے اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ رات ہونے تک وہی بیٹھک میں بیٹھا رہا۔
زرتاج نئی دلہن بنی بیڈ پر ٹانگیں اوپر کر کے گھٹنوں کے گرد بازو مائل کئے ہوئے بیٹھی دروازے کو دیکھتی دلاور کا انتظار کرتی رہی پر وہ نہیں آیا۔
جب سب سو گئے دلاور بھاری قدموں سے چلتا ہوا کمرے کے در تک تو آیا لیکن اندر جانے سے اسے خوف لگ رہا تھا۔
اگر اس کی فیملی کو اس کے اپنی مرضی سے شادی کر لینے کی حرکت کی خبر ہوئی تو وہ کیا کریں گے؛ یہ سوچ اسے پریشان کرنے لگی تھی۔
زرتاج کو کھڑکی کے پار اضطراب میں ٹہلتے دلاور کا سایہ نظر آرہا تھا۔ وہ اس کی کیفیت سمجھ گئی تھی اس لیے اسے مزید پریشانی سے نکالنے کے لیے اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ بند کر دی اور چادر اوڑھ کر لیٹ گئی۔
کمرے کی لائٹ بند ہونے کے کافی دیر بعد جب دلاور کو یہ محسوس ہوا کہ اب تک اس کی نئی دلہن سو گئی ہے۔ اس نے بنا آواز کیے دروازہ کھولا اور دبے پاؤں چلتا اندر داخل ہوا۔
زرتاج اس کی آہٹ سن رہی تھی لیکن سونے کی اداکاری کرتے آنکھیں موندھے ہوئے تھی۔
دلاور اسی طرح خاموشی سے سامنے پڑے میز اور کرسی کے جانب آیا۔ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور پیر میز پر دراز کر دیئے۔
رات کے اندھیرے میں بھی اسے سوئی ہوئی زرتاج کا منور چہرا اپنے جانب راغب کر رہا تھا۔ اس کا دل بار بار مچھل اٹھتا۔ آخر وہ اس کی منکوحہ تھی۔ کچھ گھنٹے پہلے اس نے زرتاج سے پورے شرعی حیثیت سے اللہ رسول کو گواہ مان کر نکاح کیا تھا۔ وہ پورے حق سے اس کی بیوی تھی۔
زرتاج کے سراپے کو دیکھتے ہوئے دلاور کا کئی دفعہ اس کے پاس جانے کا دل کیا لیکن پھر وہ رخ موڑ کر اپنے جذبات قابو کرنے لگا۔
وہی دوسری جانب زرتاج ہر حد کوشش کرتی اپنے تاثرات نارمل رکھے ہوئے تھی تاکہ دلاور کو اس کے جاگے ہونے کا شک نہ ہو۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کے کس پہر دلاور کی کرسی پر ہی بیٹھے بیٹھے آنکھ لگی تھی اسے احساس نہ ہوا۔
صبح اپنے کندھے پر کسی کے جنبش پر وہ نیند سے جاگا۔ اس نے زبردستی آنکھیں کھولیں۔ پہلے مہندی لگے اس ہاتھ کو دیکھا پھر سر اٹھا کر اس چہرے کو۔
زرتاج صبح کی روشنی جیسے تر و تازہ خوش باش گیلے بالوں سے۔ چمکتی آنکھوں سے۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ بنائے اسے جگا رہی تھی۔
“آپ کو یونیورسٹی جانا ہوگا۔۔۔۔ چلے اٹھ کر فریش ہوجائے۔۔۔۔۔ میں ناشتہ لاتی ہوں۔۔۔۔” زرتاج نے مسکراتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
نا خفگی نا گلہ شکوہ نا حق کی مانگ نا رات کے رویے پر شکایت، زرتاج بنا کچھ ظاہر کئے اس کی بیوی ہونے کا حق ادا کرنے لگ گئی تھی۔ خوشی خوشی وہ اس کے خدمت میں جٹ گئی تھی۔
وہ فریش ہو کر آیا تو زرتاج میز پر لوازمات سجائے اس کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ دلاور کرسی پر آکر بیٹھا۔ زرتاج نے اس کے آگے چائے پیش کی۔
“تم بھی اپنے لیے ڈالو۔۔۔۔ ” دلاور نے اپنائیت بھرے انداز میں کہا۔
زرتاج نے چہکتے ہوئے اس کے ہدایت کی تکمیل کی اور خود بھی اس کے ساتھ ناشتہ کرنے لگی۔
کھانے کے بعد وہ گیٹ تک آیا تو زرتاج بھی اس کے ساتھ گیٹ تک آئی۔
“پھر ملتے ہیں۔۔۔” اس کا بازو تھپتھپا کر دلاور گیٹ کے پار نکل گیا۔
زرتاج کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ اس کا دل اچانک بجھ گیا۔ وہ افسردہ سی واپس اندر کو پلٹی۔ پتا نہیں کونسی سوچ اس کو اندر سے کھانے لگی تھی کہ اس نے زبیدہ خالہ کی آواز سنی۔
“دلاور چلا گیا۔۔۔۔۔ ایک دو دن کی چھٹی لے لیتا۔۔۔۔۔ نئی نئی شادی کی ہے۔۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے ہنہ کرتے ہوئے کہا۔
“ان کے امتحانات ہونے والے ہے۔۔۔۔۔ اس لیے آج کل پڑھائی کا بوج زیادہ ہے۔۔۔۔ چھٹی نہیں کر سکتے۔۔۔۔ رات جلدی آنے کا کہا ہے۔۔۔۔” زرتاج نے اپنے کمرے میں جاتے ہوئے دلاور کی حمایت میں کہا۔
زبیدہ خالہ کچھ اور بھی کہہ رہی تھی لیکن زرتاج نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا تھا وہ ان کی باتیں سن کر ان سنی کر رہی تھی۔ اس وقت وہ بس اکیلا رہنا چاہتی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس رات زرتاج آدھی رات ہونے تک گیٹ کے پاس دہلیز کے سیڑھیوں پر گھٹنوں کے گرد بازو مائل کئے ہوئے بیٹھی تھی۔ ویران آنکھوں سے وہ اپنے ہاتھوں کی مہندی دیکھنے لگی۔
دل ہی دل وہ دلاور کے ساتھ زیادتی کرنے پر پچھتا رہی تھی۔ وہ اس سے اس طرح شادی کرنے پر راضی نہیں تھا۔ صرف اس کی خاطر وہ مان گیا تھا تو اب بدلے میں اسے شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں تھا۔
وہ کبھی آسمان میں چمکتے چاند اور تاروں کو دیکھتی کبھی چاندنی میں اپنے ہاتھوں کی گہرے رنگ کی مہندی۔
اسے دلاور کی محبت پر کوئی شک نہیں تھا لکین اس سے بھی زیادہ وہ ایک تابعدار بیٹا تھا اس لیے یہ رشتہ اپنانے میں اسے مشکل ہورہی تھی۔
زرتاج سر جھٹک کر اٹھی اور کمرے میں چلی گئی۔ اتنی رات کے بعد دلاور نہیں آئے گا وہ جانتی تھی اس لیے مزید انتظار کرنا بیکار تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
