Bikhare Rishte By Palwasha Safi Readelle50251 Bikhare Rishte (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Bikhare Rishte (Episode 16)
Bikhare Rishte By Palwasha Safi
وہ بے دم قدموں سے یتیم خانے کے اندر آئی اور سحن کے بیچ زمین پر ہی بیٹھ گئی۔
“مجھے بتا تو دیا ہوتا دلاور۔۔۔۔ میں کونسا آپ کو شادی کرنے سے یا اس بیوی کے ساتھ کہی جانے سے روک سکتی تھی۔۔ پر میری طرف بھی تو آپ کی کچھ زمہ داری تھی۔۔۔۔۔ خفیہ ہی صحیح۔۔۔۔ لیکن میں بھی تو آپ کی بیوی ہوں۔۔۔۔۔ دنیا نہ جانتی ہو۔۔۔۔ لیکن میں اور میرا اللہ جانتے ہیں کہ وہ نکاح ہوا تھا۔۔۔۔۔ اور آپ نے دل سے قبول بھی کیا تھا۔۔۔۔۔پھر ایسی لا پرواہی کیوں۔۔۔۔۔” وہ کھوئے ہوئے انداز میں سوچ رہی تھی۔
“زرتاج۔۔۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔ دلاور ملا۔۔۔۔” زبیدہ خالہ وضو کر کے غسل خانے سے نکل رہی تھی کہ بے دھیانی میں زمین پر بیٹھی زرتاج پر نظر پڑی۔
زرتاج کے سوچوں کی ڈور زبیدہ خالہ کے مخاطب کرنے سے ٹوٹی۔
“وہ اب کبھی نہیں آئے گے خالہ۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔۔۔۔۔”زرتاج نے دل گرفتگی سے ویران آنکھیں غیر مروی نقطے پر جمائے ہوئے کہا۔
“چلا گیا۔۔۔۔۔ کہاں چلا گیا۔۔۔۔ ” خالہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئی اور ٹھنڈا یخ ہاتھ اس کے رخسار پر رکھا۔
“وہ اپنی نئی بیوی کے ساتھ امریکہ چلے گئے ہیں خالہ۔۔۔۔۔۔ وہ مجھے بھول گئے۔۔۔۔ وہ مجھے چھوڑ گئے۔۔۔۔۔” آخری فقرہ کہتے ہوئے وہ مایوس ہوگئی تھی۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تھی۔
زبیدہ خالہ نے اس کا سر اپنے کندھے سے لگایا۔
“مایوس نہیں ہوتے۔۔۔۔ وہ آجائے گا۔۔۔۔ دلاور چھوڑ کر جانے والوں میں سے نہیں ہے۔۔۔۔ اللہ پر توکل رکھو۔۔۔۔۔ وہ دوسرا راستہ کھولے بغیر پہلا بند نہیں کرتا۔۔۔۔۔ دلاور کو دور کردیا تو اس کے عوض تیری جولی میں اولاد ڈال دیا۔۔۔۔۔ ناامید مت ہو۔۔۔۔ یہ دن بھی گزر جائے گے۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے تسلی دی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس دن کے بعد اس نے اپنی ساری زندگی ساری امیدیں اپنے بچے سے وابستہ کر دی۔
اور آخر وہ دن آن پہنچا جب اس نے بیٹے کو جنم دیا۔ زرتاج نے اپنے بیٹے کا نام شاویز رکھا۔ اسے اپنے ہاتھوں میں تھامے زرتاج نے یہ ٹھان لیا تھا کہ وہ شاویز کو نڈر بہادر سب سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے والا مضبوط مرد بنائے گی۔
ماما اور وہ آدمی اس کے بعد پھر کبھی یتیم خانے نہیں آئے۔ اس کے باوجود بھی زرتاج باہر نکلنے سے کتراتی تھی۔ لیکن وہ اب اپنے ساتھ ساتھ شاویز کا بوجھ بھی زبیدہ خالہ پر نہیں ڈالنا چاہتی تھی اس لیے خالہ کے ذریعے اس نے اپنا نام یتیم خانے کے کارکنان میں درج کروا دیا جس سے اسے یتیم خانے کو مہیا کیے جانے والے فنڈ سے مہینے کے دو ہزار تنخواہ ملنے لگی۔ کچھ نہ ہونے سے وہ دو ہزار بھی زرتاج نے شاویز کا خرچہ پورا کرنے غنیمت سمجھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دلاور اور عابدہ کو امریکہ میں سیٹل ہوتے ہوئے ایک سال لگ گیا۔ وہ دونوں یونیورسٹی میں اپنی اپنی پڑھائی میں مصروف ہوگئے تھے۔ دلاور کو ہر وقت زرتاج کی فکر ستاتی رہتی۔ ایک دن اس نے بلال کو فون ملایا۔
اس سے حال احوال معلوم کرنے کے بعد دلاور نے بلال سے التجا کی کہ وہ زرتاج کے پاس جاکر اس کے فون کرنے کی اطلاع دے اور اگلے دن اسی وقت اسے یہاں لا کر زرتاج سے اس کی بات کروائے۔
“لیکن وہ تو اپنے ماما اور اس آدمی کے ساتھ چلی گئی جس سے وہ زرتاج کی شادی کروانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔” بلال نے معصوم بنتے ہوئے جھوٹ بولا۔
دلاور کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئی۔
“ایسے کیسے جا سکتی ہے۔۔۔۔ میں نے اسے چھوڑا تو نہیں ہے۔۔۔۔ وہ اب بھی میرے نکاح میں ہے۔۔۔۔۔ پھر وہ کسی اور کے ساتھ کیسے جا سکتی ہے۔۔۔۔” دلاور نے شاک کے عالم میں سوچا۔
دلاور سے یہ حقیقت تسلیم نہیں کی جا رہی تھی۔ اس نے سست روی سے فون بند کر دیا۔
“اس نے تو کہا تھا۔۔۔۔ وہ آخری سانس تک میرا انتظار کریں گی۔۔۔۔۔ پھر اس سے ایک سال بھی میرا انتظار نہیں کیا گیا۔۔۔۔” سوچتے ہوئے دلاور کے آبرو تن گئے۔ اسے زرتاج پر غصہ آنے لگا۔
وہی دوسری جانب بلال زوردار قہقہہ لگا کر ہنسا۔
“زرتاج پر پہلے میری نظر پڑی تھی دلاور۔۔۔۔۔ اسے میں پانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن وہ تم سے پیار کرنے لگی۔۔۔۔۔” بلال نے نفرت سے سوچا۔
“تیرے آغا جان کو بھی تیرے افیر کا میں نے بتایا۔۔۔۔۔ میں تمہیں زرتاج سے دور کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ تا کہ میرا راستہ صاف ہو سکے۔۔۔۔۔ پر مجھے کیا پتا تھا کہ تُو اس کے ساتھ اس حد تک involve ہو چکا ہے۔۔۔۔۔ ” بلال نے طنزیہ انداز میں دانت پیستے ہوئے زرتاج کی پریگننسی یاد کی۔
“لیکن اب تمہیں زرتاج کبھی نہیں ملے گی۔۔۔۔ اور نہ تم کبھی اپنے اس اولاد کے بارے میں جان پاو گے دلاور پرویز خان۔۔۔۔” بلال نے تنے ہوئے اعصاب سے سوچا اور استحزیہ ہنستے ہوئے باہر نکل گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
زرتاج 7 ماہ کے چھوٹے شاویز کو اپنے بیڈ پر سلا کر اٹھی۔ مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے وہ مڑی تھی کہ اس نے دروازہ کھلنے کی آواز سنی۔
بلال بلیک شلوار قمیض زیب تن کئے داڑھی مونچھے سنواری ہوئی تر و تازہ ہوئے خوش مزاجی سے اندر داخل ہوا۔
زرتاج نے سلام کرتے ہوئے گلے میں لیا ڈوپٹہ فوراً سے سر پر اوڑھ لیا اور نگاہیں نیچی رکھیں۔
“کیسی ہو زرتاج۔۔۔۔۔ مجھے تم سے بہت ہمدردی ہے۔۔۔۔ ہمیشہ تمہاری فکر لگی رہتی ہے۔۔۔ دلاور نے بہت غلط کیا تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔” جھوٹی ہمدردی جتاتے ہوئے وہ زرتاج کے پاس آیا اور اس کے بازو پر ہاتھ رکھا۔
زرتاج نے اس کا لمس محسوس کیا تو تیزی سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور دو قدم پیچے ہوگئی۔
بلال بیڈ پر سوئے ہوئے گول مٹول بچے کو دیکھ کر مسکرایا۔
“بہت پیارا بچہ ہے۔۔۔۔ ” اس نے آگے آتے ہوئے شاویز کی تعریف کر دی۔
“تھینکیو۔۔۔” زرتاج نے متذبذب سی ہوکر جواب دیا۔
“تم فکر مت کرو میں ہوں نا۔۔۔۔ تم میرے ساتھ چلو۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے بیٹے کو بھی اپنا نام دے دوں گا۔۔۔” بلال اپنے حد پار کرنے کے ارادے سے اس کے قریب آنے لگا۔
زرتاج کو اس کی نیت ٹھیک نہیں لگی وہ گڑبڑا کر پیچے ہوگئی۔
“بلال۔۔۔۔۔ کیا کر رہے ہے آپ۔۔۔۔” زرتاج نے تند آواز میں کہا۔
“میں تمہارے اور دلاور کے افیر کو نادانی سمجھ کر معاف کر دوں گا۔۔۔۔ میں تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اپنا لوں گا۔۔۔۔ تم ایسے اکیلے ساری عمر کیسے رہو گی۔۔۔۔”بلال ہاتھ آگے بڑھا کر پھر سے زرتاج کو پکڑنا چاہتا تھا لیکن وہ پیچے ہوتی گئی۔
“بلال۔۔۔۔۔ دور رہے مجھ سے۔۔۔” زرتاج نے بلند آواز میں اسے چھڑکا۔ دور ہوتے ہوتے وہ بیڈ سے ٹکرا گئی۔ اس نے گرنے سے خود کو بچانے کے لیے تکیے پر ہاتھ رکھا تو اسے چاقو یاد آیا اور جھٹ سے اپنا حفاظتی چاقو نکال کر بلال کے آگے کیا۔ وہ جھٹکا کھا کر پیچے ہوگیا۔
” آگے مت آنا۔۔۔۔۔جان سے مار دوں گی۔۔۔۔۔ سمجھ کیا رکھا تم نے مجھے۔۔۔۔۔ میں دلاور کی ہوں۔۔۔۔ اور ان ہی کی رہوں گی۔۔۔۔ میرے بیٹے کے لیے بھی میں اکیلی کافی ہوں۔۔۔۔۔ اسے تمہارے گھٹیا نام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔” زرتاج چاقو لہراتے ہوئے اسے خود سے دور کرنے لگی۔
“زرتاج۔۔۔۔ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔ لگ جائے گا۔۔۔۔” بلال ہاتھ اٹھا لڑکھڑا کر دو قدم پیچے ہوگیا۔
“کمزور مت سمجھنا مجھے۔۔۔۔ میں زندگی بھر صرف دلاور کی ہی رہوں گی۔۔۔۔۔ اپنی یہ جھوٹی ہمدردی کہی اور جا کر دکھاو۔۔۔۔۔ نکلو میرے کمرے سے۔۔۔۔” زرتاج پوری قوت سے اس پر چلا اٹھی تھی۔
اس کے کمرے سے شور کی آوازیں سن کر زبیدہ خالہ ہڑبڑا کر وہاں آئی تو زرتاج کے ہاتھوں میں چاقو دیکھ کر پریشان ہوگئی۔ انہوں زرتاج کے پاس آکر اسے تھاما۔
“خالہ۔۔۔۔ یہ میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔” زرتاج نے افسردگی سے انہیں درپیش حال سے آگاہ کیا۔ خالہ نے شاک کے عالم میں سر پر ہاتھ رکھ لیا۔
“بے غیرت انسان۔۔۔۔۔ میں نے تمہیں دلاور کا جگری دوست سمجھ کر اندر آنے دیا۔۔۔۔ اور تم اپنا یہ اصل دکھا رہے ہو۔۔۔ دفع ہو جاو۔۔۔۔۔ دوبارہ یہاں آئے تو تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گی۔۔۔۔” خالہ نے طیش میں دھکے مار مار کر بلال کو باہر نکالا۔
“یہ تم نے اچھا نہیں کیا زرتاج۔۔۔۔۔ اس کا انجام تمہیں بھگتنا پڑے گا۔۔۔۔۔ میں ابھی جاکر سردار اختر خان کو ساری سچائی بتاتا ہوں۔۔۔۔۔ میں انہیں بتا دوں گا کہ تم وہ لڑکی ہو جسے وہ ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔۔۔ اور تمہارا دلاور سے ایک بیٹا بھی ہے۔۔۔۔۔ پھر دیکھنا۔۔۔۔۔ وہ تمہیں اور تمہارے بیٹے کو زندہ نہیں چھوڑے گے۔۔۔۔۔” بلال نے سحن میں کھڑے ہوکر بلند آواز میں زرتاج کو دھمکی دی اور غضب سے پھولے ہوئے تنفس میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے روانہ ہوگیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ابھی زرتاج زبیدہ خالہ کے ساتھ غم رازی کر رہی تھی کہ اس نے گیٹ کا زور دار بجنا سنا۔
“لگتا ہے بلال نے آغا جان کو بتا دیا۔۔۔۔ ” زرتاج روہانسی ہو گئی اور سوئے ہوئے ننھے شاویز کو مظبوطی سے اپنے بازووں میں لے لیا.
“نہیں۔۔۔۔ میں انہیں اپنا بچہ نہیں دوں گی خالہ۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے مجھ سے میرے دلاور کو چھین لیا۔۔۔۔۔ اب میں انہیں مجھ سے میرا بیٹا نہیں چھیننے دوں گی۔۔۔”زرتاج شاویز کو اپنے سینے سے لگائے زار و قطار رونے لگی۔
“وہ میرے بچے کو مار دینگے۔۔۔۔ میں شاویز کو کچھ نہیں ہونے دونگی۔۔۔۔۔ میں اپنا بیٹا انہیں نہیں لینے دونگی۔۔۔۔” وہ مسلسل روتے ہوئے زبیدہ خالہ سے فریاد کرنے لگی۔
زبیدہ خالہ اسے سمجھاتے چپ کرواتے ہوئے اٹھی اور کمرے سے باہر جا کر معاملہ دیکھنے لگی۔
زرتاج نے معصوم شاویز کو اپنے بازووں میں چپا لیا۔ اس کا دل ڈوبنے لگا تھا وہ نفی میں سر ہلاتے ذہن سے منفی خیالات جھٹکنے لگی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس دن کے بعد دلاور نے دوبارہ بلال سے رابطہ نہیں کیا۔ اس نے زرتاج کی محبت دل میں دبا کر صرف اپنے تعلیم پر توجہ مرکوز کر دی۔
وہی دوسری جانب زرتاج شاویز کی پرورش کے ساتھ ساتھ یتیم خانے کی کارکن جیسے وہاں کے کام کاج کرنے لگی۔
شاویز بہت ہوشیار بچہ تھا زرتاج کا اس کے ساتھ بہت دل بہل جاتا۔ زندگی اپنے رفتار سے چلنے لگی۔ لکڑی کے تندور میں انگارے پھونک پھونک کر زرتاج کو دمہ کی بیماری لگ گئی۔
اس نے شاویز کو کبھی دلاور کے بارے میں نہیں بتایا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کبھی بھی دلاور اور اس کی فیملی کو شاویز کا پتا چلے اور وہ لوگ شاویز کو اس سے چھین لے۔ اس نے ہمیشہ شاویز کو اچھی تربیت دی۔ اس کے پاپا کے بارے میں بھی وہ اسے اچھی باتیں بتاتی رہی۔ اسے مضبوط اور توانا بننے کی تلقین کرتی رہی۔ ان سب کے باوجود بھی زرتاج کے دل میں کبھی دلاور کی محبت کم نہیں ہوئی۔ وہ ہر وقت دلاور کے کامیابی کی دعائیں کرتی رہتی اور اکثر و بیشتر اسے جب دلاور کی ترقی کی خبر ملتی وہ بہت خوش ہوجاتی۔
شاویز بہت شرارتی تھا وہ زرتاج کو بہت تنگ کیا کرتا۔ وہ ایک دن 4 سالہ شاویز کے ساتھ کھیل رہی تھی جب اس نے پھر دہلیز پر شور سنا۔ زرتاج بھاگتے ہوئے گئی اور شاویز کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ کمرے میں لی گئی۔
“دو آدمی ہیں۔۔۔۔ کہہ رہے ہیں دلاور نے بھیجا ہے۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے ہڑبڑی میں ان آدمیوں کی کہی بات زرتاج کو بتائی۔
“وہ جھوت بول رہے ہیں۔۔۔۔۔ صرف دلاور کا نام لے کر ہمیں نشان دہی کرنے آئے ہیں۔۔۔۔ وہ شاویز کو چھیننے آئے ہیں۔۔۔ آپ انہیں بھیج دے۔۔۔ ” زرتاج نے زار و قطار آنسوؤں میں کہا۔ زبیدہ خالہ اسے اندر بند کر کے باہر نکل گئی۔
ننھا شاویز معصومیت سے اپنی روتی ماں کو دیکھنے لگا۔ اسے دلاور کے نام سے نفرت ہونے لگی۔
یتیم خانے کا چھاپا مار کر جب انہیں وہ دونوں نہ ملے تو وہ آدمی واپس چلے گئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
زرتاج کا دمہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا تھا۔ اسے سانس لینے میں بہت تکلیف ہونے لگی تھی۔
“میں فنڈ والوں سے تیرے علاج کے لیے پیسے دینے کی درخواست کرتی ہوں۔۔۔” ایک دن خالہ نے افسوس سے کہا۔
“وہ مشکل سے یتیم خانے کے راشن کا خرچ دیتے ہیں خالہ۔۔۔۔۔ میرے علاج کے پیسے کہاں سے دینگے۔۔۔۔ رہنے دیں۔۔۔۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔” زرتاج نے بے چارگی سے ہنستے ہوئے کہا اس کی ویران آنکھیں سحن میں کھیلتے 7 سالہ شاویز پر مرکوز تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسے سینے میں بہت تکلیف ہونے لگی۔ وہ بھاگ کر سحن میں آئی اور کھلے فضاء میں لمبی لمبی سانس لینے لگی۔
اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔ کل تک جب اسے جینے کی آس نہیں تھی تب وہ تندرست تھی اور اب جب اس کے پاس جینے کی امید تھی اس کا شاویز تھا تب زندگی اس کا ساتھ نہیں دے رہیں تھی۔
آج کھلے فضاء میں لمبی سانس لینے سے بھی اس کے دمے کا کفارہ نہیں ہو سک رہا تھا۔ اس نے حلق پر زور دے کر خالہ کو آواز لگائی۔ زبیدہ خالہ حواس باختہ ہو کر اس کے پاس آئی اور لڑکوں کو ڈاکٹر بلانے بھیجا۔ زرتاج کو سہارا دے کر انہوں نے بیڈ پر لٹا دیا۔
“خالہ مجھے پتا ہے۔۔۔۔۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔” زرتاج نے کانپتے ہوئے اکھڑے سانس میں کہا۔
“آپ مجھ سے وعدہ کریں۔۔۔۔۔ آپ کبھی اگر دلاور سے ملی تو انہیں بھی شاویز کا نہیں بتائے گی۔۔۔۔۔ وہ لوگ میرے بیٹے کو لے جائے گے۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی۔۔۔۔۔ وہ لوگ میرے بیٹے کو گالی مان کر۔۔۔۔ اسے ناجائز کہہ کر یا اپنے عزت پر داغ سمجھ کر اسے جان سے مار دیں۔۔۔۔۔۔ پلیز خالہ۔۔۔۔۔ آپ کو میری قسم ہے۔۔۔۔” زرتاج نے روتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ اس کے سینے میں شدید ٹیس اٹھ رہی تھی۔ زبیدہ خالہ نے روتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر اسے وعدہ دیا۔
8 سالہ شاویز حیران پریشان سا ماں کو تکلیف سے جونجتا دیکھ کر خوفزدہ ہوگیا تھا
“شاویز۔۔۔۔ میری ساری نصیحتیں ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔۔۔ ان پر عمل کرنا۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ اپنی دائی ماں کو زیادہ تنگ مت کرنا۔۔۔۔اچھا پڑھ لکھ کر۔۔۔۔۔۔ بڑا آدمی بننا۔۔۔۔۔” زرتاج نے کھانستے ہوئے شاویز کو آخری مرتبہ گلے سے لگایا۔ وہ روتے ہوئے اس سے الگ ہوا اور کمرے سے باہر بھاگ گیا۔ اس سے ماں کی تکلیف دیکھی نہیں جا رہی تھی۔
زرتاج کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔
“دلاور۔۔۔۔۔” آخری سانس اس نے دلاور کے نام لی اور اس کی روح پرواز کر گئی۔
############## موجودہ دن ###########
26 سال پہلے کی رو داد یاد کر کے دلاور صاحب ٹوٹ سے گئے اور بے دم سے صوفے پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے آنکھوں کے بھیگے کنارے صاف کئے اور بھر آئی آواز میں گویا ہوئے۔
“میں آیا تھا وہاں۔۔۔۔۔ دو سال بعد جب میں واپس پاکستان آیا تو میں آیا تھا یتیم خانے۔۔۔۔ لیکن مجھے بتایا گیا زرتاج نام کی اب وہاں کوئی نہیں رہتی۔۔۔۔۔ پھر میں نے آپ سے ملنے کی درخواست کی تو مجھے آپ سے نہیں ملنے دیا گیا خالہ۔۔۔۔” دلاور صاحب نے زبیدہ خالہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ جوان شاویز کی اس طرف پشت تھی لیکن وہ دلاور صاحب کی باتیں سن رہا تھا۔
“مجھے پھر بھی تسلی نہیں ہوئی۔۔۔۔ میں نے اپنے آدمی وہاں تعینات کر دیئے۔۔۔۔۔ لیکن ایک سال تک وہاں نظر رکھنے کے باوجود زرتاج کی کوئی خبر نہ ملی۔۔۔۔۔ تو میں نے زرتاج کے ملنے کی کوشش ترک کر دی۔۔۔”دلاور صاحب اپنے جذبات قابو کرنے سانس لینے کو رکے۔
سب کی آنکھیں اشک بار تھی۔ یہاں تک کہ شاویز کی بھی۔
“پر ایسا نہیں تھا کہ میں زرتاج کو بھول گیا۔۔۔۔ میں ہر وقت اس کی خیریت اور سلامتی کی دعا کرتا رہا۔۔۔۔ جب تک کہ میں پانچ سال پہلے ایک چیریٹی تقریب میں عابدہ کے ذریعے زبیدہ خالہ سے ملا۔۔۔۔۔۔اور انہوں نے زرتاج کے وفات کا بتایا۔۔۔۔”آخری فقرہ کہتے ہوئے وہ پھر سے جذباتی ہوگئے۔
“اس رات میں بہت رویا تھا۔۔۔۔۔ بہت ٹوٹ کر رویا تھا۔۔۔” دلاور صاحب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔
“تم اپنی جگہ بلکل درست ہو شاویز بیٹا۔۔۔۔۔ میں نے تمہاری ماں کے ساتھ۔۔۔۔۔ ہماری زرتاج کے ساتھ۔۔۔۔ بہت زیادتی کی تھی۔۔۔۔۔ اسے تکلیف میں اکیلا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔۔” دلاور صاحب نے گیلی سانس اندر کھینچ کر خود کو نارمل کرتے ہوئے کہا۔
دلاور صاحب کے زبان سے اپنے لئے بیٹا لفظ سن کر شاویز کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر رخسار پر بہنے لگے۔
“لیکن خالہ پانچ سال پہلے جب آپ نے مجھے زرتاج کے انتقال کا بتایا۔۔۔۔۔ تب شاویز کا کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔۔ کیوں مجھے اپنے ہی اولاد سے محروم رکھا۔۔۔۔۔” دلاور صاحب کی آواز میں افسردگی بھرا شکوہ آنے لگا۔
“مجھے زرتاج کی قسم نے پابند کر دیا تھا دلاور۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دے۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے بھر آئی آواز میں اپنے کئے پر شرمندگی محسوس کرتے ہوئے کہا۔
“لیکن شاویز۔۔۔۔۔ تم نے یہ ٹھیک نہیں کیا۔۔۔۔۔ مجھ سے پوچھ لیتا۔۔۔۔۔ میں تجھے دلاور کے بارے میں سب بتا دیتی۔۔۔۔۔۔ تم نے دلاور کا اتنا بڑا نقصان کرا دیا۔” دائی ماں نے شکوہ آمیز انداز میں اسے مخاطب کیا اور جواب کی منتظر ہوکر اس کا بازو تھام لیا۔
“مجھے کوئی پروا نہیں خالہ۔۔۔۔۔ ان سب کے چلتے مجھے میرا بیٹا مل گیا۔۔۔۔ اس سے بڑھ کر مجھے کچھ نہیں چاہیئے۔۔۔۔” دلاور صاحب نے تاثرات خوشگوار بناتے ہوئے کہا۔
ان کے منہ سے نکلنے والے ان الفاظ سے عابدہ بیگم سحر اور صائم کے دل پر تیر چل رہے تھے پر دلاور صاحب کو کوئی پرواہ نہ تھی۔
“ہاں۔۔۔۔ دیکھ دلاور۔۔۔۔۔ زرتاج تیرے لیئے کتنا قیمتی تحفہ چھوڑ گئی ہے۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے بھی بھیگی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا۔
“واقعی بہت انمول تحفہ ہے۔۔۔۔۔ “دلاور صاحب نے سر تا پیر مظبوط اور توانا 25 سالہ جوان شاویز کے سراپے کو دیکھتے ہوئے کہا اور اسے چھونے قریب گئے۔
لب کاٹتے ہوئے مضطرب کھڑے شاویز نے جب دلاور صاحب کا ہاتھ اپنے جانب بڑھتے محسوس گیا تو گھبرا گیا اور تیز تیز سانس لیتا دو قدم آگے ہوگیا۔ دلاور صاحب کا ہاتھ ہوا میں ہی رہ گیا۔
شاویز وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ اس کا دل ڈگمگا رہا تھا۔ اسے پسینے آنے لگے وہ اس وقت دلاور صاحب کے رقبت کے لیے تیار نہ تھا۔
“شاویز۔۔۔۔۔ دیکھ اب تو ساری حقیقت تیرے سامنے ہے۔۔۔۔۔ دلاور نے بھی اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیا ہے۔۔۔۔ جو ہوا۔۔۔۔۔ اس میں نہ دلاور کی غلطی تھی۔۔۔۔۔ نہ زرتاج کا کوئی قصور تھا۔۔۔۔ یہ بس قسمت کا لکھا تھا۔۔۔۔ بھول جا سب۔۔۔۔۔ چھوڑ دے نفرت۔۔۔۔۔ معاف کر دے دلاور کو۔۔۔۔ وہ تجھے اپنا لے گا۔۔۔۔ہیں نا دلاور۔۔۔۔۔” دائی ماں نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے اسے امید دلانی چاہی۔
“ہاں of course خالہ۔۔۔۔۔ کیوں نہیں۔۔۔۔۔ میں پورے دنیا کے سامنے شاویز کو اپنا بیٹا تسلیم کروں گا۔۔۔۔۔ میں اب زرتاج کی نشانی کو ایک پل بھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔۔۔۔” دلاور صاحب جذبات میں یہ تک بھول گئے کہ ان کے بیوی بچوں کو ان کی باتوں سے کتنی تکلیف ہو رہی ہیں۔
“مان جا شاویز۔۔۔۔۔ زرتاج کی خاطر۔۔۔۔” دائی ماں نے کمزور آنکھیں جھپکاتے ہوئے کہا۔
شاویز کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیا کریں۔ وہ اپنے اضطراب کو قابو رکھنے کی کوشش کرتا مٹھیاں سختی سے مینچھے کھڑا تھا۔
دلاور صاحب نے ایک مرتبہ پھر اس کے قریب جانے کی کوشش کی کہ ان کا موبائل بجنے لگا۔
انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالا اور لمبی سانس خارج کر کے کال اٹھائی۔
“ہاں ذاکر۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔ تم انہیں روکو۔۔۔۔ میں آرہا ہوں۔۔۔۔۔ اندر مت گھسنے دینا۔۔۔۔” دلاور صاحب نے حواس باختہ ہو کر کال کا جواب دیا اور تیزی سے باہر جانے لگے۔
انہیں اچانک پریشان ہوتے دیکھ کر عابدہ بیگم سحر اور صائم گھبرا گئے۔ سحر نے انہیں پکارنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے وہ نکل گئے تھے۔ عابدہ بیگم اپنے ہنستے بستے گھرانے کو ایک کے بعد دوسرے مشکل میں گھیرتے پا کر پھر سے سر پکڑ کر رونے لگی۔
شاویز نے کرب سے آنکھیں مینجھ لی۔ وہ جانتا تھا کال میں ذاکر نے دلاور صاحب کو کیا کہا ہوگا۔
شاویز نے راشد ہاشمی کے ساتھ مل کر آج صبح ہی دلاور صاحب کے دفتر پر جھڑپ کرنے کی پلاننگ کی تھی اور یقیناً اس وقت راشد ہاشمی کے غنڈے دفتر میں گھسنے لگے تھے۔ جس کی خبر ذاکر نے بر وقت دلاور صاحب کو دینے کال کی تھی۔
آنکھیں بند کئے ہوئے شاویز کو اپنی ماں کی آخری نصیحت یاد آنے لگی۔
مسکراتی ہوئی زرتاج 8 سالہ ننھے شاویز کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیئے ہوئے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی۔
” دیکھو شاویز۔۔۔۔۔۔ زندگی میں کبھی بھی اگر اپنے پاپا سے ملے۔۔۔۔۔ تو ان سے اچھے سے ملنا۔۔۔۔۔ ان سے کبھی نفرت مت جتانا۔۔۔۔۔ ان کی عزت کرنا۔۔۔۔ انہیں بہت بہت بہت زیادہ پیار دینا۔۔۔۔ اگر تب تک وہ بوڑھے ہو چکے ہو۔۔۔۔ تو ان کا سہارا بننا۔۔۔۔ ان کی ہر مشکل سے حفاظت کرنا۔۔۔۔ چلو وعدہ کرو مجھ سے۔۔۔۔” زرتاج نے سنجیدہ تاثرات بنائے ہوئے ایک ہاتھ اس کے آگے پھیلایا۔
شاویز غصہ ناک پر جمائے تند نظروں سے بے مروتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔
“شاویز۔۔۔۔۔۔ c’mon ۔۔۔۔ پرامس کرو۔۔۔۔۔” اب کی بار زرتاج نے گھور کر سختی سے تنبہیہ کیا۔
“مجھے سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔ وہ آدمی تمہیں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔ مجھے تو اس کا نام تک نہیں معلوم۔۔۔۔ پھر بھی تم اس کی اتنی پروا کیوں کرتی ہو۔۔۔۔” شاویز نے منہ بھسورتے ہوئے کہا اور ہنہ کرتے ہوئے رخ پھیر لیا۔
“کیونکہ میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔ کیونکہ میں ان کی بہت عزت کرتی ہوں۔۔۔۔ کیونکہ وہ میرے سر کا تاج ہے۔۔۔۔ وہ میرے شوہر ہے۔۔۔۔۔۔ میرے مجازی خدا ہے۔۔۔۔۔۔ تمہارے پاپا ہے۔۔۔۔ ان کے ہونے سے تمہارا وجود ہے۔۔۔۔ اس لیے تمہیں بھی یہی کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ کہ ان سے جب بھی ملو پیار سے ملنا۔۔۔۔۔” زرتاج نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
“مجھے چھوڑ کر جانا ان کی مجبوری تھی بیٹا۔۔۔۔۔ وہ بہت اچھے انسان ہے۔۔۔۔ مجھے یقین ہے جب تم ان سے خود ملو گے۔۔۔۔ تو تمہیں خود سمجھ آئے گا کہ میں ٹھیک کہتی تھی۔۔۔”زرتاج نے دل گرفتگی سے اسے سمجھایا۔
“چلو مجھ سے وعدہ کرو۔۔۔۔ میرے اچھے شاہ سوار۔۔۔۔” اس نے آنکھیں بڑی کر کے جھپکائی۔
“میں وعدہ کرتا ہوں ماں۔۔۔۔” ننھے شاویز نے مسکراتے ہوئے اپنا چھوٹا سا ہاتھ ماں کے ہاتھ میں دیا۔ زرتاج کی آنکھیں چمک اٹھی اس نے مظبوطی سے اسے گلے سے لگایا۔
آنکھیں موندھے ہوئے جوان شاویز کی سماعتوں میں اپنا بچپن میں ماں سے کیا ہوا وعدہ گونجنے لگا۔ پہلی مرتبہ اسے اپنے کئے پر افسوس ہوا۔ اس نے اففف کرتے ہوئے سر پکڑ لیا اور سرد سانس خارج کر کے تیزی سے باہر کو لپکا۔
پورچ کی سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اس نے راشد ہاشمی کا نمبر ملایا۔
“راشد ہاشمی۔۔۔۔ اپنے آدمیوں کو روکو۔۔۔۔ ابھی اسی وقت۔۔۔” کال اٹھائے جانے پر وہ بھوکے شیر کی مانند غرایا تھا۔
“سوری بچے۔۔۔۔۔ شروع تم نے کیا تھا۔۔۔۔ ختم میں کروں گا۔۔۔۔
میرے آدمی تو اب نہیں رکیں گے۔۔۔۔۔۔ اور میں آج دفتر کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔ دلاور کو بھی ختم کر دوں گا۔۔۔۔۔ ” راشد ہاشمی نے استحزیہ ہنستے ہوئے کہا۔
شاویز کے آبرو تن گئے۔ وہ شاویز سے اپنے شاہ سوار کے روپ میں آگیا۔ اس کے باڈی میں آگ جلنے لگی۔
“تو میری بھی ایک بات اچھے سے سن لو۔۔۔۔۔ اگر انہیں ایک خروچ تک آئی۔۔۔۔۔ میں تیرے چھیتڑے اڑا دونگا۔۔۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔ ” اس نے رعب دار آواز میں کہا اور فون بند کر کے پہلے تیز تیز انگلیاں چلا کر راشد ہاشمی کی تیار کردہ رپورٹ اور ثبوت اپنی ایجنسی کو ای میل کئے پھر موبائل جیب میں اڑسھتا سحر کی کار تک آیا۔ ڈرایونگ سیٹ کا دروازہ کھولا تو تھا پر چابی نہیں تھی۔ دانت پیستے ہوئے وہ فاصلے پر کھڑے گل خان کے پاس آیا۔
“چابی دو جلدی۔۔۔۔” اس نے دھاڑتے ہوئے کہا تو گل خان کانپنے لگ گیا اور لزرتے ہاتھوں سے چابی دے دی۔
وہ بھاگ کر آیا۔ کار میں سوار ہوا اور کار زن کر کے چلا دی۔
سحر اور صائم لاؤنج کے دروازے پر کھڑے اسے جاتے دیکھ رہے تھے۔
“تیری کار لے گیا سحر۔۔۔۔ “صائم نے افسردگی سے سحر کو دیکھا
“چھوڑو۔۔۔۔ اس سے بعد میں نپٹ لینگے۔۔۔۔۔ فلحال ہمیں پاپا کی فکر کرنی ہے۔۔۔۔” سحر نے پلکیں جھپکا کر صائم کو دیکھا۔
جو بھی ہوا ان میں سب سے بڑی حقیقت تو یہ بھی تھی کہ دلاور پرویز خان ان کے والد ہے ان کے زندگی کا حصہ ہے ان کے سر کا سایہ ہے وہ چاہے جتنے بھی ناراض ہوجائے پر اپنے پاپا سے منہ نہیں پھیر سکتے۔ صائم نے سحر کی بات سمجھ کر سر کو جنبش دیا۔ سحر موبائل اٹھا کر پھر سے کال کرنا چاہتی تھی۔ اب کی بار اس کی کال کمشنر صاحب کو ہوتی لیکن اس سے پہلے ہی اس کا موبائل بجنے لگا۔ اس پر جاوید کی کال آرہی تھی۔
سحر نے پہلے ہی بیل پر کال اٹھائی اور ہیلو جاوید کہتے ہوئے اسے شروع سے اب تک کے صورت حال سے واقف کرنے لگی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جس وقت شاویز دفتر پہنچا اندر سے توڑ پھوڑ کی آوازیں آرہی تھی۔ اس نے فوراً سے ہینڈ بریک لگا کر کار روکی اور اچھلتے ہوئے اپنی پوری رفتار سے اندر کو بھاگا۔
بڑے ہال میں دلاور صاحب اور ذاکر غنڈوں کو ہٹاتے ہوئے انہیں مزید اندر جانے سے روک رہے تھے۔ وہ راستے میں آنے والے آدمیوں کو جھڑپ کر لاتے گھوسے مار کر ضربیں لگاتا زمین بوس کرنے لگا۔
دلاور صاحب ایک غنڈے کو پکڑے اسے توڑ پھوڑ کرنے سے روک رہے تھے۔ وہ ابھی اسی جھڑپ میں تھے کہ شاویز نے آگے آکر ان سے مزمت کرنے والے کا کندھا دبوچا اور اسے دلاور صاحب سے دور کر کے ایک ہی وار میں اٹھا کر پٹخ دیا۔
دلاور صاحب مسرت سے اپنے ہنرمند بیٹے کو دیکھ کر محظوظ ہوئے۔ ان کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ پھیل گئی۔
شاویز کو اندازہ ہو گیا تھا کہ دلاور صاحب اسی کو دیکھ رہے ہیں اس لیے پیچے مڑنے کی بجائے وہ آگے کو ہوا۔
شاویز پر حملہ کرنے دوسرا آدمی آگے آیا جسے دلاور صاحب نے اپنی پوری قوت سے دبوچ لیا۔
شاویز نے سامنے سے آتے غنڈے کو پیٹ میں لات مار کر گرایا کہ اسے شیشے پر پیچے کسی کا عکس نظر آیا۔ اس نے تیزی سے مڑ کر دیکھا تو دوسری منزل پر راشد ہاشمی تند و تیز نظروں سے دلاور صاحب کو گھورتے ہاتھ میں پکڑے اسلحہ سے ان کا نشانہ بنا رہا تھا۔ شاویز کا دل ڈوبنے لگا اس نے تیزی سے اپنی کمر پر آگے پیچے ہاتھ مارا لیکن اس کی گن نہیں تھی۔
“شیٹ۔۔۔۔ ” اس نے زیر لب خود کو کوسا۔ اتنے ضروری دن اس نے اپنی گن کیوں نہیں اٹھائی ؛ سوچتے ہوئے وہ پھر سے راشد ہاشمی کے حرکات مشاہدہ کرنے لگا۔ یہ وقت شاویز کا اپنی لا پرواہی پر افسوس کرنے کا نہیں تھا۔ اس نے آس پاس دیکھ کر اپنا اور راشد ہاشمی کا فاصلہ کیلکیولیٹ کیا۔ وہ اپنی پوری رفتار لگا کر بھی بھاگتا تو بھی کم از کم گولی کے سپیڈ سے تیز راشد ہاشمی کو روکنے نہیں پہنچ سکتا تھا۔ جبکہ دلاور صاحب اس سے دو قدم کے فاصلے پر تھے وہ ان کو ہٹا سکتا تھا۔
شاویز کا دماغ برق رفتاری سے چل رہا تھا وہ تیزی سے ہاتھ پھیلائے دلاور صاحب کے سامنے آیا۔ اسی اثناء سامنے سے راشد ہاشمی نے ٹریگر دبا کر گولی شوٹ کی۔
“پاپا۔۔۔۔۔ آااہ ہ ہ ہ ” ان کو پکارتے ہوئے شاویز کراہ اٹھا۔ گولی اس کے داہنے کندھے پر لگ گئی تھی۔
دلاور صاحب کے اوسان خطا ہو گئے۔ انہوں نے کانپتے ہوئے پلٹ کر شاویز کو سنبھالا اسے بازووں میں تھاما۔
“شاویز۔۔۔۔۔ یہ کیا کیا تم نے۔۔۔۔۔” دلاور صاحب کی آواز لرزنے لگی۔
شاویز کرب سے آنکھیں بند کر کے زمین پر گر پڑا۔ اسے اور بھی گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دینے لگی شاید پولیس پہچ گئی تھی۔
دلاور صاحب گھٹنوں کے بل بیٹھے اسے کندھوں سے تھامے اس کا سر اپنے سینے سے لگائے بلند آواز میں ذاکر اور جاوید کو صدا دینے لگے۔
“جاوید۔۔۔۔ جلدی ایمبولینس منگواوں۔۔۔۔ جلدی۔۔۔۔” انہوں نے جاوید کے قریب آتے ہی ہدایت دی۔ اس نے سر کو جنبش دیتے ہوئے موبائل نکالا اور کال ملانے لگا۔
شاویز کے کندھے سے متواتر خون رس رہا تھا دلاور صاحب خون روکنے کی کوشش کرتے اس کے زخم پر ہاتھ کر دباو دینے لگے۔
“شاویز۔۔۔۔ ہمت رکھو۔۔۔۔ ابھی یمبولنس آجائے گی۔۔۔۔۔ نہیں میرے بچے۔۔۔۔ تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ میں ہوں نا تمہارے پاس۔۔۔۔” پاپا روتے تڑپتے اسے دلاسہ دینے لگے۔ شاویز کا جسم بے جان ہونے لگا اس سے ہلا تک نہیں گیا۔ خون کی بہتی رفتار اور درد کی شدت سے اس کی سانس اٹکنے لگی۔
کچھ ہی دیر میں ایمبولنس کے عملا اسٹریچر لیئے بھاگتے ہوئے وہاں آئے۔ ذاکر اور جاوید نے ان کے ہمراہ شاویز کو اٹھا کر اسٹریچر پر ڈالا اور ایمبولینس کے جانب تیز تیز چلنے لگے۔ دلاور صاحب اسی انداز میں شاویز کے زخم پر ہاتھ رکھے لڑکھڑاتے قدموں سے ان کی رفتار سے قدم ملانے کی کوشش کرتے رہے۔ ایمبولنس میں جاوید آگے بیٹھا اور دلاور صاحب شاویز کے ساتھ پیچے۔ انہوں نے شاویز کا سر اپنی گود میں رکھ لیا۔
“شاویز۔۔۔۔۔ بس تھوڑی دیر۔۔۔۔ ہم ابھی ہسپتال پہنچ جائے گے۔۔۔” دلاور صاحب کی آنکھیں بھیگنے لگی۔
“یا اللہ۔۔۔۔۔۔ یہ سب کیا ہوگیا۔۔۔۔۔” انہوں نے بے بسی سے شاویز کے خون سے تر ہوتے اپنے ہاتھوں کو دیکھا اور بلک بلک کر رونے لگے۔
ان کے آنسو ٹپ ٹپ کر کے شاویز کے رخسار پر گر رہے تھے۔
شاویز دانت پر دانت جمائے ہوئے درد کی شدت کو برداشت کرتا تڑپنے لگا۔ لمبی لمبی سانس لے کر وہ خود کو زندہ رکھنے کے لیے جتن کرنے لگا۔
“جاوید۔۔۔۔ جلدی کرو۔۔۔” دلاور صاحب شاویز کو تکلیف میں دیکھ کر گھبرا گئے۔
“خان انکل پلیز۔۔۔۔۔ حوصلہ رکھے۔۔۔۔ بس پہنچ رہے ہیں۔۔۔۔۔” جاوید نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے ڈرائیور کو سپیڈ بڑھانے کا کہا۔
شاویز کی مشکل سے کھلتی بند ہوتی آنکھیں صرف دلاور صاحب کے چہرے پر مرکوز تھی۔ ایک دم سے وہ بہت لا چار بے بس اور کمزور سے لگ رہے تھے۔ ان کی خاکی شیو آنسوؤں سے تر ہوگئی تھی۔ اپنے بیٹے کو موت کے منہ میں جاتے دیکھ کر وہ تڑپ اٹھے تھے۔
“کیا یہ اتنے اچھے انسان ہے۔۔۔۔ اتنے رحم دل۔۔۔۔۔ با اخلاق۔۔۔۔۔” شاویز نے ماوف دماغ سے سوچا۔
“میں ان کو تباہ و برباد کرنے لگا تھا۔۔۔۔ اور یہ۔۔۔۔۔ مجھے بچانے لگے ہے۔۔۔۔۔ میرے لیے تڑپ رہے ہے۔۔۔۔” شاویز نے بے حس پڑے ہوئے سختی سے لب مینچھے۔
“اتنے نیک شخص پر آخر کیوں نہ میری ماں فدا ہوتی۔۔۔۔۔ کیوں نہ وہ ان سے اتنی محبت کرتی۔۔۔۔ کیسے وہ اپنی ساری زندگی ان کا اتنظار نہ کرتی۔۔۔۔۔ کیوں نہ اپنی آخری سانس تک ان کے نام کرتی۔۔۔” سوچتے ہوئے شاویز کی آنکھیں بھر آگئی تھی۔ اپنی آنکھیں کھلی رکھنے وہ بار بار پکلیں جھپکانے لگا۔
اس کی دھڑکن کم ہونے لگی اس نے کراہتے ہوئے اپنے زخم پر دلاور صاحب کے ہاتھ کے اوپر اپنا بایاں ہاتھ رکھ دیا۔
“ہاں ماں۔۔۔۔ تم ٹھیک کہتی تھی۔۔۔۔ تم نے میرے پاپا کے بارے میں مجھے جو بھی نصیحت کی ہیں۔۔۔۔ سب سو فیصد درست ہے۔۔۔۔” شاویز نے آنکھیں بند کر دی اسے اپنا سر بھاری ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
“میں نے ان سے بدلہ لے لیا۔۔۔۔۔ اپنے جسم سے ان کا خون بہا کر میں نے اپنا بدلہ لے لیا۔۔۔۔” اس نے خود کلامی کرتے ہوئے اپنے بدلہ لینے کے حوالے سے سوچا۔
ایک مرتبہ پھر وہ دلاور صاحب کے پریشان کن چہرے کو دیکھنے لگا
“دیکھ ماں۔۔۔۔ میں نے اپنے پاپا کی حفاظت کی۔۔۔۔۔ میں نے اپنا وعدہ نبھایا۔۔۔۔ میں نے تیری ہر نصیحت پر عمل کیا۔۔۔۔ آج ان کو بچاتے اگر مر بھی گیا تو میری جان بھی ان پر قربان۔۔۔۔ ” اسے دلاور صاحب پر شدت سے پیار آنے لگا۔ اس کا دل کیا وہ اٹھ کر اپنے پاپا کو گلے سے لگا لے۔ خود کو ان کے بازووں میں چپا لے لیکن وہ بے جان پڑا تھا اس کے جسم میں حرکت نہیں ہو رہی تھی۔
آج تک اس نے کبھی اپنی زندگی کی پروا نہیں کی تھی۔ وہ کبھی موت سے خوف زدہ نہیں ہوا۔ آج پہلی بار اس میں زندہ رہنے کی چاہت جاگ رہی تھی۔
“نہیں مجھے نہیں مرنا۔۔۔۔ میں ابھی کچھ اور عرصہ جینا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ میں ابھی کچھ اور عرصہ اپنے پاپا کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ اللہ آپ نے ان کو میری ماں سے دور کر دیا تھا۔۔۔۔ اب مجھے ان سے دور مت کیجیئے۔۔۔پلیززز ۔۔۔۔۔” اس کے بجھتے دل سے آہ نکل رہی تھی۔
“برسوں بعد اس پیار کے پیاسے کو ان کے محبت کا سمندر ملا ہے۔۔۔ مجھے ساحل پر ہی آکر نہیں مرنا۔۔۔۔ مجھے اس سمندر کی گہرائی کو چھونا ہے۔۔۔مجھے پاپا کے پاس رہنا ہے۔۔۔۔۔” اس نے لمبی سانس لیتے ہوئے سوچا اور ایک جھٹکے سے کروٹ پر ہوکر پاپا کے گود میں سر چپا کر ان سے لپٹ گیا اور موت آنے کے خوف سے رونے لگا۔
“بس بیٹا پہنچ گئے۔۔۔۔ تم زرتاج کے بہادر بیٹے ہو نا۔۔۔۔۔ ابھی ٹھیک ہوجاو گے۔۔۔۔۔ ہمت رکھو۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے روتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور رخسار پر بوسہ دیا۔
اس کے آگے شاویز کا دماغ پورا ماوف ہوگیا تھا۔ وہ صرف اپنے آس پاس کے لوگوں کے حرکات محسوس کر سکتا تھا لیکن خود کوئی حرکت کرنے کے حالت میں نہیں رہا تھا۔
اسے اٹھا کر ٹرالی پر لیٹایا اور بھگاتے ہوئے اسے آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا
آپریشن تھیٹر کے بستر پر اسے آس پاس کئی ڈاکٹرز اور نرس کام کرتے محسوس ہو رہے تھے۔ کوئی اس کا نبض دیکھ رہا تھا۔ کوئی الگ الگ انجیکشن لگا رہا تھا۔ کسی نے اس کی خون آلود شرٹ کھینچی سے کاٹ کر اس کے باڈی کو برہنہ کیا۔ کوئی الگ الگ مشینوں کے تار اس کے سینے پر چسپاں کر رہا تھا۔ ایک ڈاکٹر نے اس کے چہرے پر آکسیجن کا ماسک لگایا دوسرے ڈاکٹر نے اس کے زخم کو صاف کیا اور اب وہ گولی نکالنے لگے تھے۔
شاویز آکسیجن ماسک لگائے آنکھیں موندھے بے حس و حرکت پڑا تھا۔ اس کے ذہن میں بار بار دلاور صاحب کا چہرا گردش کر رہا تھا۔ ان سے کچھ پیچے سنجیدہ کھڑی سحر اور بے غم سا صائم۔ پھر خوش اخلاق سی عابدہ بیگم۔ کہی دور رعب دار آواز میں اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے صادق سر۔ 4 سال کی سائکل چلاتی مریم۔ فرینڈلی مسزز نورین۔ یونیورسٹی کے کینٹین میں مایوس کھڑی عارفہ۔ اس کے گود میں چڑھا ہوا لاریب۔ اس کے پیچے بھاگتا ہوا جاوید۔ ایک ایک کر کے سب چہرے گڈمڈ ہونے لگے آخر میں صرف ایک سایہ شفاف دکھنے لگا۔ لمبے بالوں اور خوبصورت مسکان والی زرتاج۔ اس کی پیار کی مورت جو مسکراتے ہوئے فخریہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی ماں۔ شاویز نے زیر لب ماں کے انداز میں ہونٹوں کو حرکت دی اور ایک آہ بھری۔ اس کے ساتھ ہی اس کا ذہن تاریک ہوگیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
