Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bikhare Rishte (Episode 22)

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

دلاور صاحب بے دلی سے دفتر میں بیٹھے کام کر رہے تھے جب ان کا موبائل بجنے لگا۔ انہوں نے جھٹ سے کال اٹھا لی اور بغور جاوید کی بات سننے لگے۔ جاوید فل وقت ایک ضروری کاروائی میں مصروف تھا اس لیے خود آنے سے قاصر تھا۔

جاوید کی ہدایات سننے کے ساتھ ہی دلاور صاحب اٹھے اور آفس کا کام ذاکر کے ہاتھوں سونپ کر گھر کے لیے روانہ ہوگئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

عارفہ اپنا دھیان بٹانے عابدہ بیگم کے ہمراہ کچن میں لگی تھی۔ سحر کتاب گود میں رکھے لیکچر یاد کر رہی تھی اور صائم کوئی اسائنمنٹ لکھ رہا تھا جب دلاور صاحب گھر میں داخل ہوئے اور سیدھے بیڈروم میں چلے گئے۔ انہیں اس طرح بے وقت گھر آتے دیکھ کر سب پریشان ہوگئے۔ وہ سب اپنے اپنے کام چھوڑ کر قصہ معلوم کرنے ان کے پیچے لپکے۔

“عابدہ جلدی میرا سفری بیگ تیار کر کے دو۔۔۔۔” انہوں نے عابدہ بیگم کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر ہدایت دی

“پاپا آپ ایسے ہڑبڑی میں کہاں جا رہے ہے۔۔۔۔۔” سحر نے متفکر انداز میں پوچھا۔ عابدہ بیگم ان کے ساتھ بیگ پیک کروانے میں مدد کرنے لگ گئی تھی۔

“ایجنسی والوں نے شاویز کو ڈھونڈ لیا ہے۔۔۔۔”انہوں نے مصروف انداز میں خوشی سے چہکتے ہوئے خبر سنائے۔ یہ خبر سن کر سب کے چہرے کھل اٹھے۔

“فوری طبی امداد کے لیے اسے لاہور لے جایا گیا ہے۔۔۔۔۔ میں اس کے پاس لاہور جارہا ہوں۔۔۔۔” دلاور صاحب نے اپنے ضروری دستاویزات جیسے پاسپورٹ شناختی کارڈ چیک بک ATM کارڈ انٹرنیشنل بینک کے کارڈز بیگ میں رکھتے ہوئے کہا۔

“پاپا میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔۔۔۔” صائم نے پیشکش کی۔

“نہیں میرے پیچے گھر پر بھی کسی مرد کا ہونا ضروری ہے۔۔۔۔۔ تم یہی رکو۔۔۔۔” دلاور صاحب نے ٹریول ایجنٹ کو کال کر کے ایمرجسنی فلائٹ میں اپنی سیٹ بک کرواتے ہوئے صائم کو ہدایت دی۔

“لیکن آپ کو بھی تو کسی کی ضرورت ہوگی۔۔۔۔۔۔ اکیلے کیسے کریں گے سب۔۔۔۔۔ جاوید بھی تو نہیں ہے آپ کے ساتھ۔۔۔۔”عابدہ بیگم نے اپنے شوہر کا بازو تھام کر پریشانی ظاہر کی۔

“پاپا کے ساتھ میں جاوں گی۔۔۔۔ پاپا بس پانچ منٹ۔۔۔۔ میں اپنا بیگ لے کر آتی ہوں۔۔۔۔” سحر نے جھٹ سے در پیش مسائل کا حل تلاش کرتے ہوئے اعلان کیا اور پاپا کا ردعمل سنے بغیر اپنے کمرے کے جانب بھاگی۔

“پاپا میں بھی ساتھ چلوں۔۔۔۔” عارفہ کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ اُڑ کر شاویز کے پاس پہنچنا چاہتی تھی۔ اس نے ارادہ بنانے سے پہلے سسر کے روپ میں مہربان باپ سے اجازت چاہی۔

“میں تمہاری کنڈیشن سجھ سکتا ہوں بیٹی۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ وہاں بہت سخت سیکیورٹی کا انتظام کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ مجھے نہیں پتا۔۔۔۔۔جانے کتنے پڑاو پار کرنے کے بعد ہمیں شاویز سے ملنے دیں۔۔۔۔۔ ایسے صورت حال سے تمہارا گھر پر رہنا مناسب ہے۔۔۔۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔ جتنی جلدی ہوسکے میں تمہارے شاویز کو تمہارے پاس لے آوں گا۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے معصوم عارفہ کے کندھے کو تھپکتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر سمجھایا۔

عارفہ نے ان کی باتوں سے تسلی ہوتے ہوئے سر کو جنبش دیتے ہوئے ہامی بھری۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز جس وقت ہسپتال میں داخل ہوا شدید سر درد سے اس کا برا حال تھا۔ وہ سر پکڑے تکلیف سے کراہ رہا تھا۔ ڈاکٹر کی ٹیم اس کے جسم پر الگ الگ مشینیں وابسطہ کر رہے تھے۔ دونوں بازووں میں ڈرپ کی نالیاں جوڑ دی تھیں۔ اI C U کے کمرے کے باہر پولیس اور آرمی آفسران کی بھاری نفری موجود تھی۔

ڈیڑھ گھنٹہ ہوائی سفر کر کے اور پھر آدھے گھنٹے تک اپنے اور شاویز کے رشتے کی تصدیق کروا کے دلاور صاحب اور سحر تیز تیز چلتے وہاں پہنچے۔ وہاں موجود نفری میں سے ایک آفسر کو دلاور صاحب پہچان گئے تھے۔ وہ وہی تھے جن سے وہ تین دن پہلے کراچی کے ہیڈ کوارٹر میں ملے تھے۔

ابھی دلاور صاحب ان اڈھیر عمر صاحب سے شاویز کی عیادت کر رہے تھے جب ڈاکٹر ان کے پاس آئے اور علاج کی بابت ان سے بات کرنے لگے۔

“سر۔۔۔۔۔ ہمارے معائنے کے مطابق مسٹر شاویز کئی سالوں سے مائگرین کے درد سے جونجھتے رہے ہے۔۔۔۔۔۔ جس سے ان کے دماغ کے نچلے حصے میں چھوٹا سا ٹیومر بن گیا تھا۔۔۔۔۔ اب انہیں کئی دفعہ الیکٹرک شاک دینے کے باعث وہ ٹیومر پریشر سے پھٹ گیا ہے۔۔۔۔۔” ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں معلومات فراہم کرنا شروع کیا۔

“مسٹر شاویز کا فوری طور پر cerebral(مغز) آپریشن کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔ ورنہ ان کی کسی بھی وقت موت واقع ہوسکتی ہے۔۔۔۔” ڈاکٹر نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

دلاور صاحب کا دل دہل گیا۔ سحر نے خوف سے پاپا کا بازو مظبوطی سے تھام رکھا تھا۔

“ہاں تو کروایئے آپریشن۔۔۔۔۔ کس چیز کا انتظار ہے۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے روہانسی ہو کر جواب دیا۔

“مسٹر دلاور پلیز ریلکس۔۔۔۔۔ آفسر شاویز ہماری زمہ داری ہے۔۔۔۔ ان کی بیسٹ ٹریٹمنٹ کروانا ہمارے زمہ ہے۔۔۔۔۔ آپ پلیز صبر سے کام لیں۔۔۔۔” ایجنسی آفسر نے سپاٹ انداز میں کہا۔

“ارےے۔۔۔۔ میرا بیٹا موت کے منہ میں کھڑا ہے۔۔۔۔ اور آپ کہہ رہے ہیں صبر سے کام لوں۔۔۔۔” دلاور صاحب کی آواز بلند ہوگئی۔ ان کا لہجہ بے لچک اور سخت ہوگیا۔

“پاپا۔۔۔۔ انہیں اپنے طریقے سے کام کرنے دیں۔۔۔۔” سحر نے سب کا دھیان پاپا پر مرکوز ہوتے دیکھا تو انہیں دلاسہ دینے لگی نرمی سے سمجھانے لگی۔

“آفسر۔۔۔۔۔ آپ سب کو جیسا مناسب لگے۔۔۔۔۔ آپ ویسا کریں۔۔۔۔۔ ہمیں بس شاویز زندہ اور صحیح سلامت چاہیئے۔۔۔” سحر نے سنجیدہ انداز میں قدرے نرمی سے کہا۔

“اDon’t worry۔۔۔۔۔ آفسر شاویز کی زندگی ہمارے لیے بھی بہت قیمتی ہے۔۔۔۔ we are on his full service (ہم ان کے پورے خدمت میں ہے)۔۔۔۔” سحر کو تسکین دیتے ہوئے وہ آفسر آگے بڑھ گئے۔

دلاور صاحب ابھی بھی مضطرب تھے۔ انہیں کسی کے بھی باتوں سے تسلی نہیں مل رہی تھی۔ انہوں نے اچانک ایک خیال آنے سے صادق صاحب کو کال ملائی۔ انہوں نے سوچا آرمی کے کام آخر صادق صاحب سے بہتر کون سمجھ سکتے ہونگے۔

صادق صاحب نے خوش دلی سے دلاور صاحب کی کال اٹھائی اور گرم جوشی سے سب کا حال احوال پوچھا۔ دلاور صاحب نے انہیں شاویز کو در پیش مشکلات سے آگاہ کیا تو وہ شاک ہوگئے۔ انہوں نے دلاور صاحب کو تسلی دیتے ہوئے فوراً وہاں آنے کی یقین دہانی کروائی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سحر متواتر عارفہ اور صائم سے رابطے میں تھی۔ اس نے انہیں یہی کہا کہ شاویز کمزوری اور جھڑپ میں لگی معمولی زخموں کے باعث ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے۔ اس نے شاویز کے آپریشن کی بات راز رکھی تاکہ گھر پر وہ سب مزید پریشان نہ ہو۔

سحر اور دلاور صاحب کو الگ سے انتظار گاہ میں بیٹھایا گیا تھا جب صادق صاحب تیزی سے پہلی فلائٹ سے وہاں پہنچے تھے۔ وہ دلاور صاحب سے مل کر آرمی آفسران سے بات کرنے گئے۔ ان سے شاویز کے مطالق پوچھ کر وہ واپس دلاور صاحب کے پاس آئے۔

“میری بات ہو گئی ہے۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں شاویز کا آپریشن شروع کر دینگے۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔۔ بس دعا کریں۔۔۔ آپریشن کامیاب رہے۔۔۔۔۔ یہ بہت حساس آپریشن ہوتا ہے۔۔۔” صادق صاحب نے دلاور صاحب کے کندھے کو تھپتھپا کر تسلی دی۔ سحر کو ان کی موجودگی سے بہت حوصلہ ملا اس نے تسکین سے مسکراتے ہوئے سر کو خم دیا۔

“پتا نہیں۔۔۔۔۔ اس بھری جوانی میں اور کتنی تکلیفوں سے گزرنا پڑے گا شاویز کو۔۔۔۔” دلاور صاحب اپنے بیٹے کی تکلیفوں کو دیکھ کر افسردہ ہوگئے۔ وہ لمبی سانس لیتے ہوئے صوفے پر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ سحر انہیں سنبھالنے ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔

“اللہ اپنے بندوں کو کبھی جان سے تو کبھی مال سے آزماتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ بھی شاویز کی ایک آزمائش ہی ہے۔۔۔۔۔۔ انشاءاللہ وہ پوری دلیری سے اسے بھی پار کر لے گا۔۔۔۔” صادق صاحب شاویز کی بہادری کی مثال دیتے خوش مزاجی سے مسکرائے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز بے حس و حرکت آپریشن تھیٹر کے بستر پر آنکھیں موندھے لیٹا تھا۔ چند ماہ پہلے وہ محبت پدر کے لیے آپریشن تھیٹر میں آیا تھا اور آج محب وطن کے سلسلے میں۔

آرمی آفسران کا آپریشن کے لیے منظوری دینے کے فوراً بعد ڈاکٹرز اپنی تیاری میں جھٹ گئے۔

شاویز کے بال شیو کر کے اسے اوندھے منہ لیٹا دیا گیا اور گردن کے اوپر مغز کے حصے پر آپریشن کا آغاز ہوا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

پانچ گھنٹے آپریشن جاری رکھنے کے بعد ڈاکٹر ماسک اتارتا ہوا تھکا ہارا باہر آیا۔ صادق صاحب اور دلاور صاحب مردوں کے جمکٹے میں در آئے اور ان کی بات سننے لگے جبکہ سحر ان سب سے دور پاپا کے حرکات و سکنات بغور مشاہدہ کر رہی تھی۔ جب پاپا کے چہرے پر سکون در آتا تھا اور وہ ہاتھ اٹھا کر اللہ کے حضور شکر ادا کرنے لگے تو سحر سمجھ گئی آپریشن کامیاب رہا ہے۔ اس نے سکون کی سانس لی۔

اگلے دو دن تک شاویز کو انڈر آبزرویشن رکھا گیا تھا اس لیے کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ جب ڈاکٹر اس کی سنبھلتی حالت سے مطمئن ہوگئے تو اس کی فیملی کو صرف دور سے دیکھنے کی اجازت دی گئی۔ اس کا سر پورا پٹیوں میں بندھا ہوا تھا۔ سینے پر الگ الگ مشینوں کے تار لگے تھے اور ہاتھوں میں ڈرپ کی نالیاں۔ پیٹھ پر ہاتھوں پر پٹھوں پر بھی پٹیاں لگی تھی لیکن وہ چادر اوڑھے رکھنے سے نمایاں نظر نہیں آرہی تھی۔

دور سے ایسے لگتا مانو وہ گہری نیند سو رہا ہو لیکن وہ بے ہوش تھا۔ ابھی اس کے دماغ کو کام شروع کرنے میں وقت درکار تھا۔

تین دن تک سحر عارفہ کو بہانے بنا کر ٹالتی رہی تھی لیکن اس دن عارفہ بار بار شاویز سے کال پر ہی بات کرنے کی ضد کر رہی تھی تب مجبوراً سحر کو اسے حقیقت بتانا پڑا۔ سحر نے شیشے کے پار ویڈیو کال پر شاویز اسے دکھایا۔

شاویز کو پٹیوں میں۔ مشینوں میں۔ دوائیوں کے نالیوں میں گھیرے دیکھ عارفہ بری طرح دہل گئی تھی۔ لیکن روتے ہوئے اس نے یہ شکر کیا کہ اس کا شوہر زندہ تو ہے ہاتھ پیر صحیح سلامت تو ہے۔

وہ کال پر عارفہ کو دلاسہ دے رہی تھی جب صادق صاحب وہاں آئے۔ سحر نے کال کاٹ کر موبائل نیچے کر دیا۔ آج انہیں واپس جانا تھا۔ وہ مزید نہیں رک سکتے تھے اس لیے وہ آخری مرتبہ شاویز کو دیکھنے آئے تھے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جاوید ایک ہفتے تک اپنے ضروری کیس سے فارغ ہوا تھا۔ اس نے دلاور صاحب کو کال کر کے وہاں آنے کی پیشکش کی لیکن دلاور صاحب نے اسے منع کر دیا۔ وہ لوگ خود کل صبح کراچی روانہ ہونے والے تھے۔

دلاور صاحب نے وہاں کے ڈاکٹرز اور آفسران کو یقین دہانی کروائی تھی کہ گھر پر ان کی پوری فیملی اور شاویز کی بیوی سب مل کر اس کا اچھے سے خیال رکھے گے۔ اس کے ٹھیک ہونے تک پوری زمہ داری سے خاطر داری کریں گے۔ ان کے یقین دہانی پر بھروسہ کر کے ڈاکٹرز نے شاویز کو اگلے دن ڈسچارج کر دیا۔ دلاور صاحب مخصوص طریقے سے اسے زیادہ حرکت دیئے بغیر اسپیشل ایمبولینس کے ذریعے بائے روڈ گھر لیں آئے۔

ابھی شاویز کے دماغ کے آپریشن کو ایک ہی ہفتہ ہوا تھا۔ اسے ہسپتال سے رخصت تو کر دیا گیا تھا لیکن ہلنے جلنے زیادہ بات کرنے سوچنے کام کا بوجھ لینے سے سختی سے منع کیا گیا تھا۔

وہ لوگ گھر پہنچے تو جاوید اور عارفہ کے والدین بھی وہاں موجود تھے۔ اسے بیڈ پر نیم دراز ہو کر لیٹایا گیا۔ عارفہ سب سے پیچھے کھڑی تھی۔ اپنے امی ابو جی پاپا مما جاوید صائم سحر کی موجودگی میں وہ شاویز سے ملنے سے کترا رہی تھی۔ کچھ دیر اس کے پاس بیٹھنے کے بعد اسے آرام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وہ سب باہر نکل گئے۔ شاویز تب تک بلکل خاموش رہا تھا۔ سب کے نکلنے کے بعد کمرے میں عارفہ کے علاوہ اب کوئی نہ تھا۔ شاویز نے پلکیں جھپکا کر اسے اپنے پاس بلایا تو وہ تیزی سے اس کے پہلو میں آکر بیٹھ گئی۔ شاویز نے ہلکا آگے ہوکر اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔

“میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں عارفہ۔۔۔۔۔ i love u so much۔۔۔۔۔۔ قید میں مجھے ہر وقت سب سے زیادہ تمہاری یاد آتی رہی ہے۔۔۔۔۔ ترس رہا تھا تم سے ملنے کے لئے۔۔۔۔۔ تمہیں اپنے سینے سے لگانے کے لیے۔۔۔۔” شاویز نے ایک ہی سانس میں پھرتی سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

عارفہ نے اس کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے آنکھیں بند کی اور اس لمحے کو دل میں بسانے لگی۔ اپنے شوہر کے زبانی محبت کا اظہار سن کر اس کے لبوں پر قدرتی طور پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔

“جانتی ہوں۔۔۔۔۔ تم نہ بھی کہو۔۔۔۔ تب بھی سمجھ سکتی ہوں۔۔۔۔۔ میرا بھی حال اس سے کم نہ تھا۔۔۔۔۔ ایک ایک لمحہ گِن رہی تھی کہ کب تم واپس آو گے۔۔۔۔ اور میں تمہیں خود سے لگاوں گی۔۔۔۔” عارفہ نے اس سے الگ ہو کر احتیاط سے اس کا سر تکیہ پر رکھ دیا۔ شاویز چت لیٹے اسے دیکھ رہا تھا۔

“اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تم ٹھیک ٹھاک میرے پاس واپس آگئے ہو۔۔۔۔” عارفہ نے اللہ کے حضور مشکور ہوتے ہوئے کہا۔

وہ شاویز کے زیادہ بات کرنے کے حق میں نہیں تھی اس لیے اسے آرام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے وہ اس کے لیے سوپ بنانے باہر آگئی۔ شاویز کو اتنے دنوں میں پہلی مرتبہ سکون ملا وہ آنکھیں بند کر کے آرام سے سوگیا۔

دلاور صاحب نے ہسپتالوں جیسے اس کے کمرے میں ایک گھنٹی کا بٹن رکھ دیا تھا تاکہ اگر کوئی اس کے پاس موجود نہ ہو اور اسے کسی کو بلانا پڑے تو وہ بٹن دبا دیا کریں جس سے وہ تمام لوگ آگاہ ہوجائے گے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

مزید ایک ہفتہ گزارنے کے بعد شاویز کی زندگی معمول پر آگئی۔ وہ اٹھنا سونا خود کرنے لگا تھا۔

ایک شام وہ آئینہ کے سامنے برہنہ باڈی کھڑے اپنے کندھوں پر دوائی لگانے کی کوشش کر رہا تھا جہاں ہنٹر کے نشانات پڑے تھے۔ وہ کبھی ہاتھ اوپر سے تو کبھی نیچے سے پیٹھ کی جانب کرتا لیکن اس کا ہاتھ مندرجہ جگہ پر نہیں پہنچ رہا تھا۔ اتنے میں عارفہ کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے پاس آکر پیٹھ پر دوائی لگا دینے کی پیشکش کی۔

“میں لگا دیتی ہوں ۔۔۔۔”عارفہ نے اس کے ہاتھ سے دوائی لیتے ہوئے کہا ۔

شاویز بیڈ کے کنارے رخ پھیرے بیٹھا۔ عارفہ ہلکے ہاتھ سے اس کے زخم پر دوا لگا رہی تھی۔ اس کے زخم دیکھ کر عارفہ کا دل بھر آگیا۔ وہ بے آواز رونے لگی۔ شاویز کو اس کی سسکیاں محسوس ہوئی تو رخ اس کے طرف موڑا اور اسے تھام کر اپنے پاس بیٹھایا۔

“کتنے ظالم لوگ تھے۔۔۔۔۔۔۔ کیسے بری طرح مارا ہے۔۔۔۔۔” عارفہ نے بھر آئی آواز میں کہا۔

“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔۔ آرمی آفسر بننا آسان ہے کیا۔۔۔۔۔۔ ایک ہتھیلی پر زندگی۔۔۔۔۔۔ اور دوسری ہتھیلی پر موت کو لے کر چلنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ کب موت کا پلڑا بھاری ہوجائے پتا نہیں چلتا۔۔۔۔” شاویز نے پہلے ایک ہتھیلی اوپر کی پھر دوسری اور پھر دونوں کو اوپر نیچے کر موازنہ کیا۔

“اور تم ایک جوان فوجی کی بیوی ہو۔۔۔۔ ایسے چھوٹے چھوٹے زخموں پر رونا نہیں چاہیے۔۔۔۔۔ خود کو اتنا مظبوط عصاب بناو۔۔۔۔۔ کہ چاہے مجھے دشمن تمہاری نظروں کے سامنے شہید بھی کر دے۔۔۔۔ تو تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں۔۔۔۔ فخر کی چمک ہو۔۔۔” اس نے عارفہ کے کندھے کو تھپکتے ہوئے دلاسہ دیا۔

“تم یہ جاب نہیں چھوڑ سکتے۔۔۔” عارفہ نے اس کے ہاتھ تھام کر معصومیت سے کہا۔

“بلکل نہیں۔۔۔۔۔ جیسے تم۔۔۔۔ جیسے میری فیملی میری زندگی کا حصہ ہے۔۔۔۔۔ ویسی یہ جاب بھی میری زندگی کا حصہ ہے۔۔۔۔۔ مجھے اپنی جاب بہت عزیز ہے۔۔۔” شاویز نے ڈٹے انداز میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔ عارفہ منہ بھسورتے ہوئے اٹھی اور اس کی پیٹھ اپنے جانب کر کے بقیہ حصے پر دوائی لگانے لگی۔ شاویز اس کی خفگی پر پھیکا مسکرا دیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رات کے آخری پہر عارفہ نے کروٹ بدلتے ہوئے عنودگی میں ہاتھ بڑھایا تو بیڈ کا دوسرا حصہ خالی ملا۔ شاویز اپنے بیڈ پر نہیں تھا۔ ایک جھٹکے سے عارفہ نے آنکھیں کھولی۔ اٹھ کر بیٹھی اور نظریں گھما کر دیکھا۔ شاویز کمرے کے وسط میں کھڑا فجر کی نماز ادا کر رہا تھا۔ پٹی بندھے سر پر اس نے لمبی ٹوپی پہن رکھی تھی۔ کچھ پل اسے خاموشی سے اللہ کے حضور سجدہ کرتے دیکھا۔ پھر عارفہ اپنے بال باندھتے ہوئے اٹھی اور وضو کرنے واشروم چلی گئی۔

جب وہ گیلے منہ ہاتھ کمرے میں واپس آئی تو شاویز نماز مکمل کر کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھا۔ عارفہ نے اس کے دو قدم پیچھے دوسرا مصلحہ بچھایا۔ چادر چہرے کے گرد اوڑھی اور نماز پڑھنے لگی۔

شاویز کنکھیوں سے اس کے حرکات دیکھ رہا تھا۔ اپنے شریک حیات کو اپنے نقش قدم پر چلتے پا کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ اسی انداز میں بیٹھا رہا جب تک کہ عارفہ نے نماز پوری ادا کی اور دعا کر کے ہاتھ چہرے پر پھیرے۔ وہ اٹھ کر اپنا چادر اتارنے لگی تھی کہ شاویز نے آگے آکر اسے کندھوں سے تھام کر اس کے پیشانی پر بوسہ دیا۔

شوہر نیک اور پارسا ہو تو بیوی کو بھی نیک بنا دیتا ہے۔

اس دن کے بعد عارفہ اور شاویز کم از کم فجر اور عشاء کی نماز ساتھ ساتھ کھڑے ہو کر ادا کرنے لگے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس دوران سب اپنے اپنے حصہ کے وقت شاویز کی خدمت میں لگے ہوتے۔ ڈاکٹرز سے بھی وہ پابندی سے اپنا چیک اپ کرواتا رہا۔

اس کے سر کی پٹی اتر چکی تھی اور آپریشن کا زخم محلول ہونے لگا تھا۔ شاویز کو کبھی کبھی اپنے اسٹائل سے بنائے لمبے بال بہت یاد آتے۔ لیکن زندگی اسی کا تو نام ہے۔ انسان کو اپنے اگلے لمحے تک کی خبر نہیں ہوتی۔ کبھی ایسے حالات آجاتے ہیں جس کا انسان نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

صادق سر اور اس کے اپنے ایجنسی آفسران متواتر اس سے ٹیلیفونک رابطے میں تھے۔ دو ہفتوں کے بعد وہ خود سے اٹھ بیٹھ سکتا تھا۔ پھر بھی پاپا نے اسے زیادہ تر کمرے میں ہی آرام کرتے رہنے کی تائید کی ہوئی تھی۔

ایک شام وہ بیڈ پر ہی نیم دراز ہو کر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔ سحر اس کے سامنے صوفے پر بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ شاویز کو اپنے کسی فائل کی ضرورت پیش آئی۔ اس نے گھنٹی کا بٹن دبایا۔ عارفہ تیزی سے گیلے ہاتھ جھاڑتی کمرے میں آئی اور شاویز کا بتایا فائل شیلف سے نکال کر دیا۔

دوسری مرتبہ پھر ایسی ہوا تو سحر کے آبرو تن گئے۔ تیسری دفعہ بھی اس کے ہوتے ہوئے جب شاویز نے گھنٹی کا بٹن دبایا تو سحر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ وہ صوفے پر سے اٹھی اور پیر پٹختے ہوئے شاویز کے سامنے آئی۔

” مجھ سے کوئی مسئلہ ہے تمہیں۔۔۔۔ نہیں مجھ میں کانٹے لگے ہیں کیا۔۔۔۔ جب میں سامنے ہی بیٹھی ہوں تو بار بار بیل کیوں بجا رہے ہو۔۔۔۔۔ مجھ سے کام کہنے میں پیسے لگ رہے ہے تمہارے۔۔۔ یا میں نظر نہیں آرہی۔۔۔۔” سحر نے کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے اسے جھڑکا۔

ایک وہ دن تھا جب سحر شاویز کا اپنے سامنے رہنا بھی گوارا نہیں کر رہی تھی اور ایک آج کا دن ہے جہاں سحر کو شاویز کے نظرانداز کرنے پر برا لگ رہا تھا۔ پیار اور شفقت سے پرائے بھی اپنے بن جاتے ہیں پھر ان دونوں میں جو ایک چیز مشترکہ تھی وہ دلاور پرویز خان کا خون تھا۔ ان کی رحم دلی تھی۔ ان کی اپنائیت تھی۔

“نہیں۔۔۔۔ مجھے لگا تم پڑھائی میں مصروف ہو۔۔۔۔۔ اس لیے تکلف دینا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔” شاویز نے معصومیت سے آنکھیں جھپکاتے ہوئے اپنا دفاع کیا۔

سحر نے منہ بناتے ہوئے بیل کا بٹن اس کے پہلو سے لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔

“اب جب تک میں یہاں بیٹھی ہوں۔۔۔۔۔ خبردار بٹن کو ہاتھ بھی لگایا۔۔۔۔” سحر نے ڈانٹتے ہوئے کہا۔

شاویز نے محظوظ ہوتے ہوئے سر جھٹکا اور لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ پر رکھا۔

“سحر۔۔۔۔۔۔” شاویز نے مسکراہٹ دبائے ہوئے اسے مخاطب کیا۔

اس کے پکارنے پر سحر نے بغور اسے دیکھا اور اس کے حکم کی تکمیل کرنے سیدھی ہو کر بیٹھی۔

“جاوید کیسا ہے۔۔۔۔۔ کہاں ہے وہ۔۔۔۔ کئی دنوں سے ملنے بھی نہیں آیا۔۔۔۔” شاویز نے انجان بنتے اسے چھیڑا۔

جاوید کا نام سن کر سحر کے تاثرات بدل گئے۔ وہ نظریں جھکا کر گود میں رکھے بند کتاب کو دیکھنے لگی۔ اس کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔

“مجھے کیا پتا کہاں ہے۔۔۔۔ تم خود پوچھ لو اُن سے۔۔۔۔” سحر نے جھجکتے ہوئے جواب دیا۔

شاویز شرارتی انداز میں آبرو اچکا کر مسکرایا۔

“ہمممم۔۔۔۔ ان سے۔۔۔۔” اس نے دونوں لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا تو سحر چھنپ سی گئی۔ ہڑبڑا کر اٹھی اور باہر جانے لگی۔

“میں دیکھتی ہوں یہ عارفہ کہاں رہ گئی۔۔۔۔۔” تیزی سے کہتے ہوئے وہ شاویز سے نظریں ملائے بغیر گھنٹی کا بٹن اس کے پہلو میں رکھ کر دروازے کے پار نکل گئی۔ شاویز اس کے شرمانے کے انداز سے مسرور ہوتا واپس اپنے کام کے جانب متوجہ ہوگیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

چار ماہ تک سب کی بھر پور دیکھ بھال سے شاویز پوری طرح ٹھیک ہوچکا تھا۔ اس نے جاب پر جانا بھی بحال کر دیا تھا اور اس کے فوجیوں جیسے ایک اینچ جتنے چھوٹے بال بھی اُگ آئے تھے۔

ایک دن عارفہ اور سحر ماسٹرز کے فرسٹ سمسٹر کے آخری پیپر سے گھر لوٹی تو لاؤنج میں چہل پہل کی آوازیں آتی سنائی دی۔ دونوں نے تعجب سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ بظاہر عارفہ خود کو انجان دکھاتے ہوئے سحر کے پیچھے چلنے لگی۔ سحر حیرت بھری نظروں سے لاؤنج میں داخل ہوئی تو ایک دم رابعہ اس کے سامنے آگئی۔

“سرپرائز۔۔۔” رابعہ نے چہکتے ہوئے کہا۔

سحر رابعہ کو دیکھ کر شاک سی ہوگئی اور خوش دلی سے اسے گلے سے لگایا۔

“رابعہ۔۔۔۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔۔۔۔” سحر نے خوشگوار حیرت سے اسے سر تا پیر دیکھا۔

“میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو۔۔۔۔” رابعہ گرم جوشی سے اپنا احوال بتاتے ہوئے عارفہ سے ملنے لگی۔

“میں تو تم سے ناراض ہوں۔۔۔۔ میرے بھائی کی شادی میں کیوں نہیں آئی۔۔۔۔” سحر نے جعلی خفگی ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

“سوری۔۔۔۔ بچوں کے ساتھ مصروف تھی۔۔۔۔۔ پر اب اپنے بھائی کی شادی کرانے آگئی ہوں۔۔۔” رابعہ نے مدافعتی انداز میں کہا۔ بھائی کی شادی کا لفظ سن کر سحر کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ اس نے کنکھیوں سے جاوید کو دیکھا وہ دوسرے جانب رخ موڑے بیٹھا شاویز اور صائم سے گفتگو کر رہا تھا۔

” اااوووو۔۔۔۔۔ مطلب جاوید بھائی کی شادی۔۔۔۔۔” عارفہ نے شرارتی انداز میں سحر کو دیکھتے ہوئے رابعہ کا جملہ دوہرایا۔

“اور نہیں تو کیا۔۔۔۔۔۔ میں بھائی سے تین سال چھوٹی ہوں۔۔۔۔۔ پھر بھی شادی ہوگئی ہے۔۔۔۔ دو بچے بھی ہیں۔۔۔۔۔ اور یہ ابھی تک سنگل بیٹھے ہے۔۔۔۔۔ اب تو اچھے خاصے سیٹل بھی ہوگئے ہے۔۔۔۔۔ اس دفعہ میں آئی ہوں تو شادی کرا کر ہی جاوں گی ان کی۔۔۔۔۔” رابعہ سحر کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ لیئے سب کے بیچ لائی۔ سحر اور عارفہ نے سب کو سلام کیا اور حال احوال دریافت کیا۔

“سحر تم بھی دیکھو۔۔۔۔۔ انکل آنٹی نے جاوید کے لیے کچھ لڑکیاں پسند کر رکھی ہے۔۔۔۔۔ ہم سب ان میں سے ایک لڑکی فائنل کرنے کے بابت ہی اکھٹا ہوئے ہیں۔۔۔۔۔” شاویز نے سنجیدہ انداز میں ارسلان انکل اور تہمینہ آنٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے مخاطب کیا مگر سحر کے مانو دل پر انگارے برسنے لگے۔ وہ متذبذب سی ہوکر مما کے پاس بیٹھی۔ جاوید اس کے آمنے سامنے صوفے پر بیٹھا مسلسل اسے نظرانداز کئے ہوئے تھا۔ سحر کو بے چینی ہونے لگی۔

“واو آنٹی۔۔۔۔ یہ والی تو بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔” عارفہ نے ایک تصویر دیکھتے ہوئے تعریف کر دی۔

“ہاں خوبصورت تو ہے۔۔۔۔۔ لیکن قد چھوٹا ہے۔۔۔۔۔ میرے جاوید کے ساتھ سوٹ نہیں کریں گی۔۔۔۔” تہمینہ آنٹی نے بھی تبصرے میں اضافہ کیا۔

عارفہ نے وہ تصویر سحر کے جانب بڑھائی لیکن اس نے بنا دیکھے ہی آگے مما کو پاس کر دی۔

اس کی نظریں صرف جاوید پر ٹکی تھی۔

“اتنے غیر جذباتی کیسے ہوسکتے ہے آپ۔۔۔۔۔۔ کیوں آپ کو میرے دل میں 11 سال سے اپنی محبت نظر نہیں آتی جاوید۔۔۔۔۔” سحر نے دل میں شکوہ کیا۔

جاوید عوض مسکراتا ہوا لڑکیوں کی تصویریں دیکھتے سب کے تبصروں کی طرف متوجہ تھا۔

“آنٹی مجھے تو ہمارے جاوید کے لیے یہ لڑکی بہت اچھی لگی ہے۔۔۔۔۔ قد بھی اچھا ہے۔۔۔۔ جوڑی اچھی لگے گی ساتھ میں۔۔۔۔” شاویز کی باتیں سحر کے دل پر جلے پر نمک چھڑکنے کے مانند کام کر رہی تھی۔ اس کے اضطراب میں اضافہ ہونے لگا۔

“دکھائے۔۔۔۔۔” عارفہ نے آگے ہو کر تجسس سے تصویر لینے ہاتھ آگے کیا۔

سحر نے مایوسی سے عارفہ کو دیکھا۔

“یہ بھی رنگ بدل گئی۔۔۔۔ اسے تو میری محبت کا پتا ہے۔۔۔۔” اسے مایوسی ہوئی۔

” اففففف۔۔۔۔۔ یہاں تو سب میری محبت کا جنازہ نکالنے میں لگے ہیں۔۔۔۔” سحر نے تپ کر سوچا اور معذرت کرتی وہاں سے اٹھنے لگی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆