No Download Link
Rate this Novel
Episode 03
Bikhre Rishte By Palawash Safi
شاویز اور عارفہ کی دوستی اب یونیورسٹی میں کسی سے چھپی نہ رہی تھی۔ وہ کلاس میں کیفیٹریا میں ہر جگہ اس کے ساتھ ہوتی۔ اس سلسلے کے چلتے کسی اور لڑکی کو شاویز کے ساتھ دوستی کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ شاویز بہرحال بے تاثر تھا۔ اس نے نہ عارفہ کو ٹھکرایا تھا نہ اب تک پسندیدگی ظاہر کی تھی۔
اس دن عارفہ اور سحر باتیں کرتی روش پر چل رہی تھی کہ سحر نے صائم کو شاویز کے ساتھ ہنستے تالی مارتے اور فاسٹ فوڈ کھاتے دیکھا۔
“صائم۔۔۔۔۔ تم یہاں اپنے سے عمر میں بڑے اور سینئر لڑکے کے ساتھ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔” سحر ہاتھ باندھتے ایک نظر صائم کو پھر دوسری نظر شاویز کو دیکھنے لگی۔
“اور وہ بھی تم سے مختلف مضامین والا” سحر اس جملے کا اضافہ کرنا نہ بھولی۔
صائم اپنے دوست کے سامنے بہن کے اس ٹون پر شرمسار ہوکر رہ گیا۔ وہی دوسری جانب عارفہ؛ شاویز کے لیے سحر کا یہ رویہ دیکھ کر مضطرب ہوگئی۔
“شاویز کمپیوٹر میں بہت اچھا ہے۔۔۔۔ وہ مجھے کچھ سوالات سمجھا رہا تھا یار۔” صائم نے آنکھیں دکھا کر سحر کو کچھ لحاظ کرنے کا اشارہ کیا۔
“صائم۔۔۔۔ تم ان کی پریکٹس کرو۔۔۔۔ پھر بھی مشکل ہورہی تھی تو۔۔۔۔۔ مجھے کال کر دینا۔” اس سے پہلے کہ سحر کچھ اور کہتی شاویز بینچ پر سے اٹھا اور سپاٹ انداز میں اسے دیکھنے لگا۔ طنزیہ لہجے میں کال کے لفظ پر زور دیتے ہوئے صائم کو ہدایت دے کر وہاں سے روانہ ہوگیا۔
عارفہ منہ بھسورتے ہوئے صائم کے ساتھ آکر بیٹھی۔
“اس میں اتنا اوور ایکٹنگ کرنے والی کیا بات تھی۔۔۔۔ اگر شاویز نے اس کی کچھ مدد کردی تو کیا گناہ کر دیا۔۔۔ ” اس نے شاویز کی دفاع میں حمایتی انداز میں کہا۔
“اور نہیں تو کیا۔۔۔۔۔ بے کار میرے دوست کی بے حرمتی کر دی” صائم نے بھی چڑ کر عارفہ کا ساتھ دیا۔
سحر پیر پٹختی ہوئی آئی اور ان کے سامنے میز کے پار والے بینچ پر بیٹھی۔
“دیکھ رہی ہوں صائم۔۔۔۔۔ تم یونیورسٹی میں آکر خاصے بگڑتے جا رہے ہو۔۔۔۔ ” سحر حوض تیکھے نگاہوں سے ان دونوں کو گھورتی صائم پر غصہ کر رہی تھی۔
“اب تم پینٹنگ میں اچھی ہو۔۔۔۔ تو اگر کوئی آرٹس کے سٹوڈنٹ آکر تم سے سکیچ بنوائے تو کیا وہ بگڑنا ہوگیا۔۔۔” عارفہ ناک چڑائے ہنہ کرتی رہی۔
“سیکھو۔۔۔۔۔ کچھ سیکھو اس سے۔۔۔۔۔۔ کہاں تم میری بہن بن گئی۔۔۔۔۔ بہن تو اسے ہونا چاہیئے تھا میرا۔۔۔۔۔ کتنی اچھی بات کی ہے۔ ” صائم نے عارفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سحر کو مزید تنگ کرتے ہوئے کہا۔
سحر اب بھی منہ پھلائے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
“عارفہ۔۔۔ تم آج میرے ساتھ۔۔۔۔ میرے سپورٹس بائک پر آنا۔” صائم نے چہکتے ہوئے پیشکش کی۔
عارفہ اس کی پیشکش پر فوری طور پر راضی ہوگئی۔
“ہاں ہاں۔۔۔۔۔ چلی جاو۔۔۔۔۔ ساتھ میں دھوم 5 فلم بھی بنا لینا اس ہیلی کاپٹر سائز کے بائک کے ساتھ۔” سحر نے استحزیہ ہنستے ہوئے کہا۔
“دیکھو سحر۔۔۔۔۔ میری بائک کا مذاق نہیں اڑانا۔” صائم کو اس کا اپنے بائک کے خلاف بولنا برا لگا۔
“اس کی بات مت سنو صائم۔۔۔۔۔ یہ بس ہم سے جیلس ہورہی ہے۔۔۔۔۔ لیکن سنو۔۔۔۔ آرام سے چلانا۔۔۔۔ کہی گرا نہ دینا” عارفہ نے ترکی بہ ترکی سحر کا جواب دیتے ہوئے صائم کو ہدایت دی۔
“فکر ناٹ عارفہ ڈیئر۔۔۔۔۔۔ ہوا میں اڑا کر چلاو گا۔” صائم نے اپنے منہ میاں مٹھو بنے اپنی تعریف کی۔
“اوپر ہی نہ پہنچا دینا۔۔۔۔۔ پتا چلے اگلے دن فاتحہ خوانی پر بلایا جا رہا ہو۔” سحر اب کی بار کھلکھلا کر ہنسی تھی۔
صائم کو اب تپ چڑنے لگی وہ اٹھ کر سحر کو مارنے لگا تھا کہ عارفہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
“جانے دے صائم۔۔۔۔ ابھی تم اپنی کلاس میں جاو۔۔۔۔۔ میں تم سے چھٹی ٹائم ملتی ہوں۔” عارفہ نے سمجھاتے ہوئے اسے وہاں سے بھیج دیا۔
سحر اب بھی طنزومزاح سے اسے چڑاتی ہنس رہی تھی۔ عارفہ سر جھٹکتی اس کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑی تو وہ بھی اٹھ کر ساتھ چلنے لگی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کئی راتوں سے مسلسل خود کو جاگے رکھنے کے جتن کرتے رہنے سے آج پھر اس کے مائگرین کا درد زور پکڑ گیا تھا۔ اس کی ذہنی اور جسمانی دونوں کیفیت ناساز تھی۔ اسے نیند کی اشد ضرورت تھی۔ دلاور پرویز خان نے اپنے کمپنی کی بنیاد رکھنے کا کام شروع کروا دیا تھا۔ اب آگے اسے بہت کام کرنے تھے؛ دلاور کا یہ خواب تکمیل ہونے سے روکنا تھا۔ جس کے لیے بھر پور توانائی درکار تھی۔ اور اس بابت خود کو چست و چوبند رکھنے اسے اپنی ذہنی کیفیت اور جسمانی حالت برقرار رکھنا تھی؛ یہ فیصلہ کر کے وہ بغیر گردن ہلائے درد کو ہر حد برداشت کرتے ہوئے کچن میں گیا۔ گلاس میں پانی بھرا۔ دراز کھول کر اپنی pain killer اور antidepressant کی مقرر مقدار گولیاں نکالی اور ایک ساتھ پانی سے نگل گیا۔
دوا لینے کے بعد وہ گردن اور کندھوں کو سہلاتا بیڈ پر آکر لیٹ گیا۔ اسے معلوم تھا ادویات کے زیر اثر وہ کل پورا دن سوتا رہے گا۔ چاہتا تو نہیں تھا لیکن آگے کئی دنوں تک بنا کسی رکاوٹ اسے کام کرنا تھا اس وجہ سے اس نے کل کا دن اپنے آرام کے لیے آذادانہ مخصوص چھوڑ دیا۔ آج کی رات اور کل کا دن اسے پُر سکون نیند سونا تھا۔ بنا کسی برے خواب کے؛ بنا کسی ڈر کے۔ اس لیے وہ اپنی زندگی کے اچھے لمحات یاد کرنے لگا۔چت لیٹے چھت کو تکتے وہ اپنی ماں کو یاد کرنے لگا۔ اپنے بچپن کے وہ دن جو اس نے اپنی ماں کے آنچل تلے گزارے تھے وہی تو تھے اس کے زندگی کے حسین لمحات۔
وہ 6 سالہ بچہ اپنی پلیٹ ہاتھ میں پکڑے ٹھنڈی یخ زمین پر چوکڑی کر کے بیٹھا تھا۔
“کیا ہوا میرے شہزادے ۔۔۔۔۔ کھانا کیوں نہیں کھا رہے۔” اس کی ماں تھوڑے فاصلے سے بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے تندور میں روٹی لگاتے ہوئے پوچھا تھا۔
وہ چھوٹا بچہ سرخ گال پھلائے اداس آنکھوں سے اپنی ماں کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔
“تم کھلا دو۔” اس معصوم بچے نے التجائی انداز میں توتلی زبان سے ریکویسٹ کی۔
“میرے ہاتھ سے کھانا چاہتا ہے۔” ماں نے بچے کی فرمائش پر چمکتی آنکھوں سے کہا۔ اس نے پورے جذبے سے اپنا سر اثابت میں ہلایا۔
“ہائے ماں صدقے” وہ ماں پیار کی برسات کرتی اٹھی
آٹے سے لتھڑے ہاتھ ڈوپٹے کے پلو سے صاف کئے اور اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
اس کی اداس آنکھیں یک دم ہی روشن ہوگئی خوشی سے چہکتے وہ ماں کے زانو پر آکر بیٹھا۔
ماں اپنے ہاتھوں کے بنے نرم گرم روٹی کے ساتھ آلو کی سبزی کا نوالہ بنا کر اسے کھلانے لگی۔
کھانا کیسا بنا ہے اسے مزے کا لگ رہا ہے اسے پسند ہے بھی کہ نہیں اس سب کو بالائے طاق رکھ کر وہ صرف اس خوشی سے کھاتے جا رہا تھا کہ اس کی ماں اپنے ہاتھوں سے کھلا رہی تھی۔
آلو کی سبزی کے بعد جب پالک کی سبزی کا نمبر آیا تو وہ منہ بنانے لگا اور اٹھ کر بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن ماں نے مظبوطی سے اسے بازووں میں جکڑ رکھا تھا۔
“نخرے نہیں شاہ سوار۔۔۔۔ چلو کھاو۔۔۔۔ زرق کی بے حرمتی نہیں کرتے” ماں نے کچھ سختی سے کہا تو وہ بد مزہ ہو کر زبردستی پالک کی سبزی کھانے لگا۔
“ماں۔۔۔۔ میرا نام تو کچھ اور ہے۔۔۔۔۔ پھر تم مجھے شاہ شواز کیوں کہتی ہو۔” اس ننھے سے شہزادے سے تو وہ نام ٹھیک سے بولا بھی نہیں گیا جس سے اس کی ماں اسے مخاطب کیا کرتی تھی۔
“تمہیں پتا ہے۔۔۔۔ شاہ سوار کون ہوتے ہے۔” ماں نے گہری آنکھیں بڑی کر کے پوچھا۔
ننھے شہزادے نے سر دائیں سے بائیں نفی میں سر ہلایا۔
ماں اس کی چھوٹی چھوٹی انگلیاں پکڑ کر اسے شاہ سوار کی خوبیاں گنوانے لگی۔
“شاہ سوار بہت بہادر ہوتے ہیں۔۔۔۔ وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔۔۔۔۔ ہر مشکل کا۔۔۔۔۔۔ ہر مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔ انہیں جنگجو بھی کہا کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ دلیری اور غیرت میں سب سے اوپر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ برائی کے خلاف لڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اچھائی کا درس دیتے ہیں۔۔۔۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔۔۔۔۔ حق کی راہ پر چلتے ہیں۔۔۔” ماں نے یہ ساری خصوصیات بتا کر مسکراتے ہوئے خاموش بیٹے کو دیکھا۔ اس نادان کو ماں کی باتیں تو سر کے اوپر سے گزر گئی لیکن ماں کی آنکھوں میں اعتماد اور امید کی ملی جلی جھلک دیکھ کر وہ بھی ہنسنے لگا۔
اسے کھانا کھلا کر وہ اٹھی اور پھر سے اپنے کام میں لگ گئی۔
ایک دن وہ ماں بیٹا لُکا چھپی کھیل رہے تھے۔ وہ اپنے کمرے میں جالی والے پردے کے پیچے کھڑکی کے جانب آنکھیں بند کر کے کھڑا تھا۔
“کہاں گیا میرا دلآرا۔۔۔۔۔ میں اسے ڈھونڈنے آرہی ہوں۔۔۔۔” وہ ماں اپنے معصوم بیٹے کو واضح طور پر دیکھ رہی تھی پھر بھی اس کے ساتھ کھیل کھیل میں انجان بن کر بلند آواز صدائے دے رہی تھی۔
دبے پاؤں چلتی وہ چارپائی کے کنارے جھک کر نیچے جھانکنے لگی۔ اپنی ماں کی اس حرکت پر اسے ہنسی آرہی تھی وہ منہ پر ننھے ہاتھ رکھے چہک رہا تھا کہ کھڑکی کے دریچے پر اس نے چھوٹا سا چوہا بھاگتے دیکھا۔
“ماں۔۔۔” وہ پردے سے نکل کر ماں کے دامن سے لپٹ گیا۔
“ارےےے یہ کیا۔۔۔۔ میرا بہادر بیٹا۔۔۔۔۔ چوہے سے ڈر گیا۔۔۔” ماں نے اس کو اٹھا کر چارپائی پر بیٹھایا اور خود گھٹنوں کے بل زمین پر اس کے لمبائی کے برابر ٹک گئی۔
وہ ڈرا سہما تیز دھڑکتے دل کے ساتھ ماں کے دل کش چہرے کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔
“نہیں میرے بچے۔۔۔۔۔ تمہیں بہت مضبوط ۔۔۔۔۔ بہت بہادر بننا ہے۔۔۔۔۔ میرا شاہ سوار بننا ہے۔۔۔۔۔۔ ابھی تو تمہیں بہت ہمت سے کام لینا ہے۔۔۔۔۔ سب مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے۔۔۔۔۔۔ ابھی تو تمہیں زندگی کے ہر موڑ پر انسان کے ہی روپ میں سانپ اور بھیڑیے ملے گے۔۔۔۔۔ تمہیں ان سب سے لڑنا ہے۔۔۔۔۔ اپنی ماں کی بھی حفاظت کرنی ہے۔۔۔۔۔ تم کمزور نہیں ہو۔۔۔۔ میرا بیٹا بہت بہادر ہے۔” کہتے کہتے اس کی ماں کی آنکھیں بھر آگئی۔ نا جانے وہ کونسے درد کونسے غم اندر چھپائے ہوئے تھی۔
ماں کو افسردہ ہوتا دیکھ کر وہ چھلانگ لگا کر چارپائی سے اترا اور ماں کے چہرے کے گرد اپنے ننھے ہاتھوں کا پیالہ بنایا۔
“تم روو مت ماں۔۔۔۔ میں بنوں گا بہادر۔۔۔۔ میں سب سے لڑوں گا۔۔۔۔۔ میں بنوں گا شاہ نواز۔۔۔۔” اس 6 سالہ بچے نے اونچی آواز میں ماں کو یقین دلایا۔
اسے غیرت مند اور پُر عزم بیٹے کی ٹوٹی پھوٹی زبان سے وعدہ کرتا یہ لہجا بہت اچھا لگا۔ اپنے بیٹے کا شاہ سوار کو شاہ نواز بولنے پر اسے ہنسی آنے لگی۔ روتے روتے بھی وہ مسکرا دی اور بیٹے کو پیار کرتے ہوئے گلے سے لگا لیا۔
اس کے آگے منظر تاریک ہوگیا تھا۔ وہ سو چکا تھا۔ پیار سے سرشار اپنی ماں زرتاج کو یاد کرتے کرتے وہ جوان بیٹا نیند کی آغوش میں سکون سے سو چکا تھا۔
سوتے سوتے بھی اس مضبوط مرد کے اندر چھپے بچے نے یہ شکایت ضرور کی تھی کہ کاش اس کی ماں اسے شاہ سوار نہ بناتی۔ وہ کمزور بزدل ہی رہتا لیکن اس کی ماں اس کے پاس ہوتی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
عارفہ کی کل سے شاویز سے بات نہیں ہو پائی تھی۔ وہ اس وقت یونیورسٹی میں مضطرب سی اسے ڈھونڈ رہی تھی۔
“لاریب۔۔۔۔ شاویز کہاں ہے۔” اس نے کوریڈور میں لاریب کو دیکھا تو بھاگ کر اس کے پاس آئی اور شاویز کا پوچھنے لگی۔
“شاویز شاویز شاویز۔۔۔۔” لاریب مستی کرتا ہوا ایک ایک کر کے اپنے شرٹ اور پینٹ کی جیبوں کو ٹٹولنے لگا۔
“مستی مت کرو ۔۔۔۔صحیح سے بتاو۔۔۔۔” عارفہ نے لاریب کے کندھے پر زوردار دھکا لگایا۔
وہ منہ بھسورتا ہوا اپنا کندھا سہلانے لگا۔
“لائبریری میں ہے۔۔۔۔ چُڑیل۔۔۔” اس نے برا مناتے ہوئے سپاٹ انداز جواب دیا اور عادت سے مجبور اسے چڑیل بلاتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا۔
عارفہ نے اس کے پیچے جانے سے زیادہ ضروری شاویز سے ملنا سمجھا اور لائبریری کے جانب بڑھ گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شاویز لائبریری میں بیٹھا کوئی اسائنمنٹ تحریر کر رہا تھا۔ عارفہ خاموشی سے اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی۔
“ہائے شاویز۔۔۔۔” اس نے ہلکی آواز میں کہا۔
“ہائے۔۔” شاویز نے ایک نظر اسے دیکھا پھر واپس اپنا اسائنمنٹ لکھنے لگا۔
“ناراض ہو۔۔۔۔” اس کی بے رخی پر عارفہ کا دل کٹنے لگا۔ اس نے شاویز کے دائیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے دباؤ دیا۔ وہ جو تیز تیز لکھ رہا تھا اس کا لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کر کے رک گیا۔ پین نیچے رکھا اور رخ دائیں جانب کر کے عارفہ کو دیکھنے لگا۔
عارفہ کا ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھ پر تھا۔
“تم سحر کی باتوں کا برا مت منایا کرو۔۔۔۔ وہ ایسی ہے۔۔۔۔ آج کل تو کچھ زیادہ ہی کنفیوز ہے۔۔۔۔۔ تو کل اس کا غصہ تم پر نکل گیا۔
عارفہ نے سوچا وہ سحر کے کل کے برتاؤ پر خفا ہے تو فوراً سے افسوس کے ساتھ اس کی حمایت کرنے لگی۔
“میں نے برا نہیں منایا۔۔۔۔۔ اور میں اس کے behaviour پر تم سے کیوں خفا ہونے لگا۔۔۔۔۔ بس یہ اسائنمنٹ بنانے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔ کل جمع کروانے کی آخری تاریخ ہے نا۔” شاویز نے ہمدردانہ انداز میں اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔ اور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے وضاحت دی۔
اپنے لئے اس کی فکرمندی دیکھ کر عارفہ کے جذبات بڑھنے لگے۔
“تو شام کو کہی باہر چلے۔” عارفہ نے آنکھیں گول گول گھماتے ہوئے اس سے التجا کی۔
“آج شام۔” شاویز نے تعجبی انداز میں اسے کے چمکتے چہرے کو ٹکٹکی باندھے دیکھا۔
“اگر آج شام بزی ہو تو کل شام کو چلتے ہیں۔۔۔۔ میں تو ہر شام فارغ ہوتی ہوں۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔” دوستانہ مزاج بناتے ہوئے اس نے آفر کی اور پھر خود ہی اپنی بات پر ہنسنے لگی۔
شاویز کچھ سوچنے لگا اور پھر مسکرا دیا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔ آج شام چلتے ہیں۔” اس نے کہتے ہوئے واپس پین اٹھایا۔
“جگہ اور وقت میں تمہیں میسج کر دوں گا۔۔۔” شاویز نے خوشگوار مزاجی سے کہا اور اسائنمنٹ کی طرف متوجہ ہوا۔
عارفہ خوشی سے چہک اٹھی تھی۔ اب تک وہ یونیورسٹی پر ہی ملتے رہے تھے۔ آج پہلی بار کہی باہر ملنے جا رہے تھے۔ عارفہ تو سوچ سوچ کر ہی مسرور ہو رہی تھی۔ اس کی مصروفیات میں مزید خلل ڈالے بغیر وہ فلحال کے لیے اس سے رخصت لیتی وہاں سے چلی گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سحر اپنے کمرے میں بیٹھی یونیورسٹی کا کام کر رہی تھی جب اس کے موبائل پر کال آنے لگی۔ کال عارفہ کی تھی۔
“ہاں عارفہ۔۔” سلام دعا کے بعد اس نے بنا وقت ضائع کئے اصل بات پوچھی۔
“مجھے تمہارے مدد کی سخت ضرورت ہے۔۔۔۔ ابھی کے ابھی میرے گھر آو۔” عارفہ نے عجلت میں اسے حاکمیت جتانے کے انداز میں کہا۔
“ابھی۔۔۔۔ ” سحر نے حیرانگی سے اس کا کہا لفظ دوہرایا۔
“تم کال پر بولو کیا مدد چاہیئے۔”سحر نے گھڑی پر وقت دیکھا جو سہہ پہر کے تین بجے بتا رہی تھی۔
“ہاں۔۔۔۔ ابھی کے ابھی۔۔۔۔ جلدی سے۔۔۔۔۔ فوراً سے پہلے۔” عارفہ نے کام بتائے بغیر دو ٹوک انداز میں جواب دیا اور سحر کا جواب سنے بغیر کال بند کر دی۔
وہ موبائل ہاتھ میں لیئے کچھ دیر اسی طرح بیٹھی رہی پھر جانے کے لیے اٹھ گئی۔ کمرے سے باہر آئی تو دن کے اس پہر لاؤنج میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ پاپا آفس سے آکر کچھ دیر آرام کرنے سوئے ہوئے تھے۔ صائم اپنے فٹبال میچ کے لیے گیا ہوا تھا۔
“کلثوم۔۔۔۔ مما کہاں ہے۔۔۔۔” اس نے کچن میں بنا آواز کئے ہلکے ہاتھوں سے کام کرتی ملازمہ کو مخاطب کیا۔
“میڈم کسی چیرٹی کے تقریب میں گئی ہے۔۔۔۔ بےبی جی ” ملازمہ نے موودب انداز میں جواب دیا۔
اس کی بات سن کر سحر سرد آہ بھرتے ہوئے باہر جانے لگی۔ پاپا سو رہے تھے۔ مما اور صائم گھر پر نہیں تھے اور عارفہ نے لازمی طور پر بلایا تھا۔ وہ کیا کرے۔
“پاپا اٹھے تو بتانا میں عارفہ کے گھر گئی ہوں۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں واپس آو گی۔” کچن سے باہر جاتے جاتے اس نے ملازمہ کو پکارا تھا۔ وہ جی ٹھیک ہے کہتی اس کی ہدایت کی تکمیل کرنے لگی۔
سحر پورچ میں آئی تو اس کی کار نہیں تھی۔ وہ دنگ رہ گئی۔
“کمال انکل۔۔۔۔ میری گاڑی کہاں ہے۔” اس نے چوکیدار کے کواٹر پر دستک دے کر اسے متوجہ کیا۔
پہلے اسے لگا صائم لے کر گیا ہے۔ اس نے تیزی سے پیچے مڑ کر دیکھا لیکن پورچ میں صائم کی بائک نہیں تھی اس کا مطلب وہ اپنی بائک پر ہی گیا تھا۔ تو پھر اس کی کار کہاں گئی؛ اس نے پریشان ہوتے ہوئے سوچا۔
“جی وہ۔۔۔۔ بیگم صاحبہ کی گاڑی خراب ہوگئی تھی۔۔۔۔ اس لیے اپنے ڈرائیور کو گاڑی مکینک کے پاس لے جانے کا کہہ کر وہ خود گل خان کے ساتھ آپ کی گاڑی میں چلی گئی۔” چوکیدار نے اسے عابدہ بیگم کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے ان کی صورتحال بتائی۔
سحر نے سر پر ہاتھ پٹخا۔ لو جی ہوگیا کام؛ سوچتی وہ مایوس ہوگئی۔ ایک طرف وہ اس کشمکش میں مبتلا تھی دوسری جانب عارفہ مسلسل اسے کالز پر کالز کیئے جا رہی تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔ تم میرے ساتھ عارفہ کے گھر تک چلو” اس نے اپنا ڈوپٹہ سر پر پہنا۔ ویسے تو دلاور صاحب کی طرف سے پردے کی کوئی پابندی نہیں تھی صرف حیا اور عاجزی کی تاکید کرتے۔ سحر کی ڈریسنگ ہمیشہ باحیا ہی ہوتی۔
“بےبی جی۔۔۔۔۔ میں ساتھ آجاتا لیکن آج غلام مصطفی چھٹی پر ہے۔۔۔۔ میں ڈیوٹی پر اکیلا ہوں۔۔۔۔۔ بڑے صاحب سے اجازت لیئے بغیر ڈیوٹی چھوڑ کر نہیں جا سکتا” چوکیدار نے اپنے ساتھی چوکیدار کی غیر حاضری کا بتاتے ہوئے معذرت خواہاں انداز میں کہا۔
سحر تپ کر رہ گئی تھی۔ آج ہر طرف سے اس کو منفی جواب مل رہا تھا۔ وہ منہ بھسورتی پیر پٹختی اکیلے گھر سے نکل گئی۔
آس پاس ملاتشی نظریں دوڑاتی وہ محتاط انداز میں تیز تیز چل رہی تھی۔ اسے متواتر یہ خوف لگ رہا تھا کہ کہی سے وہ خفیہ تعاقب کار اس کے سامنے نہ آجائے۔
سہہ پہر کے وقت سب اپنے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہے۔ ان کے طویل سڑک پر اس وقت برائے نام کوئی پرندہ بھی نہیں تھا۔ وہ خوف و ہراس میں تیزی سے چلتی عارفہ کے گھر پہنچی اور زور سے دروازہ بجانے لگی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گیٹ کے اندر داخل ہوئی تو اس کے سانس میں سانس آئی۔ لاؤنج میں عارفہ کی امی بیٹھی تھی۔ وہ سلام کرتی ان کے پاس آئی۔
“وعلیکم السلام۔۔۔۔ کسی ہو سحر۔۔۔۔ تم تو اب آتی ہی نہیں ہو۔ ” طاہرہ آنٹی نے نرمی سے اسے پیار کرتے ہوئے حال احوال پوچھا۔
ان سے بات مکمل کر کے وہ عارفہ کے کمرے میں آئی۔ وہ اس وقت آئینہ کے سامنے کھڑی کبھی ایک ڈریس خود سے لگاتی کبھی دوسرا۔
سحر کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر عارفہ چہک اٹھی۔
“سحر۔۔۔۔ جلدی سے بتا ان میں سے کیا پہنوں۔۔۔۔ شاویز کے ساتھ گھومنے جارہی ہوں۔” اس نے رخ آئینہ سے پھیر کر سحر کی جانب کیا۔
سحر جو عارفہ کو ضروری کام ہے کا سوچ کر اتنی مشکل سے یہاں آئی تھی اب عارفہ کے اس روئیے پر جھنجھلا گئی۔
“یہ ضروری کام تھا؟” سحر اس کے بیڈ پر چوکڑی کر کے بیٹھی۔
“پہلی مرتبہ اس کے ساتھ باہر جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ اچھا تو لگنا چاہیئے نا۔۔۔” عارفہ نے اس کے تنے آبرو دیکھ کر التجائی انداز میں کہا اور معصومیت بھری آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔
سحر نے لمبی سانس لیتے ہوئے سر جھٹکا اور اس کے ہاتھ میں پکڑے ڈریس دیکھنے لگی۔
“ان دونوں میں سے تو کوئی بھی اچھا نہیں ہے۔۔۔۔۔ ایک بارات کا ڈریس لگا رہا ہے تو دوسرا ولیمے کا۔” سحر نے اس کے ہاتھ میں پکڑے بھاری بھرکم کام والے ڈریس پر تبصرہ کیا۔ پھر خود اٹھ کر اس کے کھلے اور بکھرے الماری تک گئی۔
“اسی لیے تو تجھے بلایا یار۔۔۔۔۔ مجھ سے تو ڈریس کا اتخاب ہی نہیں ہو پاتا۔” عارفہ تھک کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ سحر نے کچھ دیر غور سے اس کے الماری کا جائزہ لیا پھر ہاتھ بڑھا کر ایک ڈریس نکالا۔
“یہ ٹھیک رہے گا” وہ ایک نفیس سے ہلکے زری کے کام والا گلابی رنگ قمیض اور چوڑی دار پجامہ تھا۔ سحر نے ڈریس اس کے آگے کیا تو وہ خوشی سے اس کے گلے مل لی۔
“مجھے پتا تھا۔۔۔۔۔ تم ضرور میرا سب سے اچھا ڈریس پسند کر کے دو گی” عارفہ نے اس کے ہاتھ سے ڈریس لیا اور آئینہ کے سامنے کھڑی ہو کر ڈریس خود سے لگا کر دیکھنے لگی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دوائیوں کے بعد اسے کافی اچھی نیند آئی تھی۔ وہ اتنے راتوں کے درد تکلیف سہہ کر سویا تھا۔ اب اٹھا تو بہت فریش محسوس کر رہا تھا۔
اسے آج دلاور پرویز خان کی نئی کمپنی کا معائنہ کرنے جانا تھا جو آدھے سے زیادہ بن چکی تھی اور ایک دو ماہ میں افتتاح کرنے جانے والی تھی۔ سحر کو اتنا خوفذدہ کرنے کے بعد بھی وہ خاموش تھی۔ گھر پر اس نے کچھ نہیں بتایا تھا۔ یہاں تک کہ اپنی بیسٹ فرینڈ سے بھی شیئر نہیں کیا تھا۔ اب اسے دلاور کو اذیت دینے کوئی بڑا قدم اٹھانا تھا۔
اپنا بلیک لباس پہن کر وہ آئینہ کے سامنے آیا۔ بال بنائے اور ماسک پہننے لگا کہ اس کی نظر اپنے ناک پر ٹھہر گئی۔ اپنے عکس میں بچپن کی یاد نظر آنے لگی۔
وہ 7 سال کا بچہ شکلیں بناتے سی سی کرتا ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا تھا۔ گول گول گہری آنکھیں پر نم تھی۔ اپنے عمر کے باقی بچوں کے بہ نسبت اس کا قد قدرے لمبا سا تھا۔
قاری صاحب اسے کلمے ٹھیک سے یاد نہ کرنے پر سزا دے رہے تھے۔ زور سے اپنی دو انگلیوں کے بیچ اس کی لمبی ناک دبائے ہوئے تھے۔
“دوبارہ پڑھو” موٹے جسامت؛ لمبی داڑھی والے قاری صاحب نے سخت لہجے میں رعب دار آواز میں اسے تنبیہہ کیا۔
وہ آنکھیں چھوٹی بڑی کرتا پھر سے پہلا کلمہ دوہرانے لگا۔ ناک اب بھی قاری صاحب کے انگلیوں میں تھی جس سے اس کی آواز توتلی اور زکام زدہ لگ رہی تھی وہ بے چینی سے خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگتا پھر قاری صاحب کی غصیلی نظروں سے ڈر جاتا؛ یقیناً اسے تکلیف ہورہی تھی۔
زرتاج برآمدے سے کچھ فاصلے پر بیٹھی مٹر چھیل رہی تھی۔ نظریں مسلسل اس کی اپنے درد سے کراہتے بیٹے پر تھی۔ وہ ماں تھی اپنے لخت جگر کا درد محسوس کر سکتی تھی۔
“معاف کیجیئے قاری صاحب۔۔۔۔ آپ سے ایک درخواست ہے۔۔۔۔۔ ناک چھوڑ دیجیئے۔۔۔۔ بیشک کان کھینچ لیں۔ ” اس نے دور سے ہی کنکارتے ہوئے قاری صاحب سے التجا کی۔ وہ خود کو انہیں مخاطب کرنے سے مزید روک نہیں پائی تھی۔
قاری صاحب نے سپاٹ انداز میں زرتاج کو ایک نظر دیکھا اور پھر اس ننھے شہزادے کی ناک چھوڑ دی اور کان پکڑ لیا۔
قاری صاحب کا وقت پورا ہونے کے بعد وہ اپنے کمرے میں آیا اور چارپائی کے کنارے منہ بھسور کے بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد زرتاج شرارتی انداز میں کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے ساتھ بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھ میں چاکلیٹ تھامے اس کے آگے کئے۔
“یہ دیکھو۔۔۔۔۔ میں کیا لائی ہوں۔۔۔۔ جلدی سے لے لو۔۔۔۔ خالہ سے چھپا کر دو اٹھا کر لائی ہوں اپنے شاہ سوار کے لیے۔” اس نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔
وہ ماں سے ناراض تھا۔ اسی طرح منہ پھلائے بیٹھا رہا۔ چاکلیٹ کی طرف دیکھا بھی نہیں۔
“تم مجھ سے بلکل پیار نہیں کرتی۔۔۔۔۔ قاری صاحب سے بچانے کے بجائے تم نے انہیں ناک چھوڑ کر کان پکڑنے کا کہا۔۔۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے ناک پکڑے یا کان۔۔۔۔۔ درد تو مجھے ہی ہوگا۔” اس کی نادان زبان سے نکلے ان الفاظ نے زرتاج کا دل جلا دیا۔ اس کا دلآرہ اس کا شاہ سوار بڑا ہو رہا تھا۔ وہ بہت ذہین بچہ تھا۔ اس کی اکثر باتیں اور سوالات ایسے ہوتے جو زرتاج کا منہ بند کروا دیتے۔ اس کے پاس اپنے نور چشم کے سوالات کا جواب نہ ہوتا۔
“ہاں تو کیوں بچاوں میں تمہیں قاری صاحب کی سزا سے۔۔۔۔۔ اسکول کے سبق تو اتنے اچھے سے یاد کر لیتے ہو۔۔۔۔ اور اپنے دین کو یاد کرنے میں جان نکلتی ہے۔۔۔۔۔ جب میں کلمے یاد کروا رہی ہوتی ہوں تب ٹھیک سے کیوں نہیں سنتے۔۔۔۔۔” زرتاج نے دبے دبے غصے سے اسے جھڑکا۔
اس کی ناک سرخ پڑ گئی تھی۔ رزتاج چاکلیٹ اس کے ننھے گود میں رکھتی چارپائی پر سے اٹھی۔ ٹوٹی ہوئی الماری کا دراز کھولا اور کریم لا کر اس کے سامنے گھٹنوں کے بل زمین پر ٹک گئی۔
” اور ناک چھوڑ کر کان پکڑنے کا اس لیے کہا۔۔۔۔۔ کیونکہ ناک کے بہ نسبت کان کی چمڑی سخت ہوتی ہے درد کم لگتا ہے۔” وہ اب ہلکے ہاتھوں سے اس کی ناک پر کریم لگا رہی تھی۔ وہ بے بسی سے ماں کے مڑجھائے چہرے کو دیکھنے لگا۔ پچھلے کئی سالوں سے اس کی ماں کافی بدل چکی تھی۔ خوبصورتی ڈھلنے لگی تھی۔ رنگت پھیکی پڑ گئی تھی۔ آنکھوں میں انجان سی ویرانی تھی جو اس بچے کے سمجھ سے باہر تھی۔
“اور۔۔۔۔۔ سبق تو تم یاد کرتے نہیں ہو۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی۔۔۔۔۔ قاری صاحب تمہاری ناک کھینچ کھینچ کر اس کا زاویہ خراب کردے۔۔۔۔۔۔ کیونکہ تمہاری ناک بلکل تمہارے پاپا جیسی ہے۔۔۔۔” آخری جملہ کہتے ہوئے اس کی ماں کے چہرے پر سنگین مایوسی در آئی تھی۔
زرتاج نے اس کے ناک کے ساتھ ساتھ پورے چہرے اور ہاتھوں کو بھی کریم سے لت پت کر دیا اور خاموشی سے اٹھ کر باہر چلی گئی۔
وہ اسی طرح افسردگی سے سر جھکائے بیٹھا رہا۔ یہ اس کی ماں بھی جانتی تھی انجانے میں کہے اس جملے نے اسے بھی کافی مایوس کر دیا تھا اور خود زرتاج کو بھی۔ ان ماں بیٹے کے درمیاں ہونے والی گفتگو میں باپ کا ذکر ہمیشہ کم ہی آیا کرتا۔ وہ اور اس کی ماں یتیم خانے میں رہا کرتے تھے اس لیے اس نے کبھی اپنے باپ کے متعلق پوچھنے کی کوشش نہیں کی۔ وہاں اس جیسے کافی بچیں بچیاں تھیں جو بن ماں باپ کے رہتے تھے۔ اس نے از خود یہ اغذ کر لیا تھا کہ چونکہ وہ یتیم خانے میں رہتا ہے اس کا مطلب اس کا بھی کوئی باپ نہیں ہے۔ پھر بھی اس نے یہ شکر ضرور ادا کیا تھا کم از کم اس کے پاس اس کی ماں تو ہے۔
اچانک اس توانا مرد کا فون بجنے لگا۔ اس کے یادوں کی کڑی ٹوٹ گئی۔ وہ بچپن سے نکل کر جوانی کے دور میں لوٹ آیا۔ استحزیہ ہنستے ہوئے اس نے سر جھٹکا اور چہرے پر ماسک لگایا۔ سیٹرل ٹیبل پر پڑا اس کا فون بج بج کے اب بند ہوچکا تھا۔ کال راشد ہاشمی صاحب کے دفتر سے آرہی تھی جہاں وہ اتنے دنوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے فون جیب میں ڈالا اور گھر سے باہر نکل گیا۔ اس وقت راشد ہاشمی سے بات کرنے سے ضروری اس کے لیے دلاور صاحب کے زیر تعمیر کمپنی جانا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سحر واپسی پر اپنے گھر تک عارفہ کے ساتھ کار میں آئی۔ اپنے گھر کے سامنے اسے all the best وش کرتی وہ کار سے اتر گئی۔
عارفہ شاویز کے میسج کئے وقت اور ایڈریس پر پہنچی تو شاویز پہلے سے وہاں موجود تھا۔
بلیک کلر کے ٹو پیس سوٹ میں ملبوس سفید شرٹ کے پہلے دو بٹن کھلے رکھے تھے۔ بال تراشے ہوئے؛ شیو رکھی ہوئی۔ چمکتے بوٹ پہنے وہ نفاست سے تیار عارفہ کا منتظر تھا۔
عارفہ لمبی ہیل والے سینڈل میں کار سے اتری۔ پرس کا چین کندھے پر ڈالا اور ڈوپٹہ گلے میں سیٹ کیا۔ گلابی رنگ قمیض اور چوڑی دار پجامہ کے ساتھ ہلکا میک اپ کئے۔ بال رول کئے۔ سلور کلر کی میچنگ باریک جیولری پہنے وہ قدم قدم چلتی اس کے پاس آئی۔
“ہائے شاویز۔۔۔۔زیادہ ویٹ تو نہیں کیا” اس نے شرماتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔
شاویز نے سر تا پیر اسے دیکھا۔
“اگر انتظار کا پھل اتنا خوبصورت ملتا ہے۔۔۔۔۔۔ پھر تو یہ انتظار بہت اچھی چیز ہے۔۔۔” اس نے محظوظ ہوتے ہوئے کہا
“اI must say۔۔۔۔۔ تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔ “شاویز نے اسے سراہتے ہوئے تعریفی انداز میں کہا۔
“تھینکس۔۔۔۔ تم بھی ہینڈسم لگ رہے ہو” عارفہ نے بلش کرتے ہوئے اس کی جوابی تعریف کر دی۔
شاویز نے تعریف سمیٹتے ہوئے سر کو خم دیا اور ہلکے سے جھک کر اپنا دائیاں ہاتھ اس کے آگے کیا۔
“اندر چلے”
عارفہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اس کے پیچے اس وسیع و عریض فائف سٹار ریسٹورانٹ کی عالی شان عمارت پر نظر دوڑائی۔
شاویز۔۔۔۔ میں تو صرف تمہارے ساتھ وقت گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔ اس کے لیے اتنی مہنگی جگہ آنے کی کیا ضرورت تھی۔” عارفہ نے متفکر انداز میں کہا۔
“پہلی مرتبہ تمہارے ساتھ ڈیٹ پر جارہا تھا۔۔۔۔۔ کسی عام سی جگہ تھوڑی ہی بلاتا تمہیں ۔” شاویز نے ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈال رکھا تھا اور دوسرے سے عارفہ کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
اس ملاقات کو ڈیٹ کا نام دینے پر عارفہ چھنپ سی گئی۔ اس نے شرم سے نظریں جھکا دی۔
ریسٹورنٹ کے ڈائننگ ہال میں داخل ہوکر اس نے دیکھا کچھ کچھ فاصلے سے میز پر کپلز اور فیملیز بیٹھے کھانے پینے میں مصروف تھے۔
شیشے کے ساتھ ایک میز پر شاویز آگے ہوا اور کرسی کھینچ کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ پہلی دفعہ کسی لڑکے کے ہمراہ ریسٹورنٹ آئی تھی۔ شرم؛ مسرت؛ پیار؛ سب کے ملے جلے تاثرات سے وہ مشکور ہوتی کرسی پر بیٹھی۔ شاویز اس کے آوٹ سے گھوم کر آیا۔ کوٹ کے بٹن کھولتا اس نے سامنے کی نشست سنبھال لی۔
ویٹر ان کے پاس آیا اور آرڈر نوٹ کرنے لگا۔ جب تک شاویز اسے آرڈر نوٹ کروا رہا تھا عارفہ شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔
باہر سوئمنگ پول کے ساتھ بھی کچھ میز اور کرسیاں رکھی گئی تھی۔ آسمان میں پھیلتے نیلاہٹ کے لیے پلر سے جڑے لائٹس روشن کر دی گئی تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے اس نظارے کو دیکھ رہی تھی۔ ویٹر واپس مڑا تو وہ شاویز کے جانب متوجہ ہوئی۔ وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں خود پر محسوس کرتے وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔
“ویسے تم اس دن کیفیٹریا سے نکل کر مجھ سے کیا پوچھنا چاہتی تھی۔” باتوں باتوں میں اس نے شرارتی انداز میں عارفہ کو یاد دلایا۔
“اسے اب تک وہ بات یاد ہے” سوچتے ہوئے عارفہ کے رخسار سرخ پڑنے لگے۔
“بنا پوچھے ہی مجھے اس سوال کا جواب مل گیا ہے” عارفہ نے سرشار ہوتے ہوئے چمکتی آنکھوں سے شاویز کو دیکھا۔
اس کے جواب سے محظوظ ہوتے ہوئے شاویز آگے کو ہوا۔ کہنیاں میز پر ٹکائی۔ ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر چہرا اس پر ٹکایا۔
” اور وہ کیسے” اس نے تعجبی نظروں سے عارفہ کا بلش کرتا چہرہ پڑھنے کی کوشش کی۔
عارفہ مسکراہٹ دبائے ہوئے اسی کے سے انداز میں کہنیاں میز پر ٹکا کر بیٹھی۔
“وہ ایسے۔۔۔۔۔ کہ اگر تم کہی اور committed (سپرد؛ مرتکب) ہوتے تو۔۔۔۔۔۔ آج ایسے سوٹ بوٹ میں تیار ہوکر میرے ساتھ ڈیٹ پر تھوڑی آتے۔” اس نے آنکھیں گول گول گھماتے ہوئے کہا۔
اس کی بات پر شاویز کھلکھلا کر ہنسا۔ اسے اس طرح ہنستا دیکھ کر عارفہ بھی ہلکے سے ہنسی تھی۔
آرڈر بن کر آیا تو وہ دونوں ادھر اُدھر کی باتیں کرتے کھانے میں مصروف ہوگئے۔
شام ڈھل چکی تھی۔ کھانے کے بعد میٹھے میں آئس کریم سے لطف اندوز ہو کر اب شاویز بل کی ادائیگی کر رہا تھا۔
پچھلی دفعہ جب عارفہ نے اس سے پرسنل سوالات پوچھے تھے تو وہ متفکر ہوگیا تھا۔ چہرے پر انجان سی مایوسی در آئی تھی۔ بہت محتاط انداز اختیار کئے ہوئے تھا۔
وہ پڑھائی کے علاوہ کیا کام کرتا ہے؛ کہاں سے کماتا ہے؛ کہاں رہتا ہے؛ فیملی میں کون کون ہے۔ ایسے سوالات کر کے عارفہ پھر سے اسے مضطرب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
وہ اچھا لڑکا ہے۔ سب کے ساتھ عزت و احترام سے رہتا ہے۔ غلط کاموں میں ملوث نہیں ہے۔ استعمال منشیات جیسی کوئی بری عادتیں نہیں ہے؛ عارفہ کے فلحال اس کی شخصیت سے متعلق اتنی معلومات کافی تھی۔
ریسٹورنٹ کے چمکتے روش پر چلتے وہ دونوں باہر آئے۔ عارفہ کا ڈرائیور تب تک کار لے کر گیٹ کے سامنے آچکا تھا۔
“میرے ساتھ چلو شاویز۔۔۔۔۔ پہلے تمہیں ڈراپ کر دوں گی۔”عارفہ نے پیار سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر آفر کیا۔ شاویز نے ہلکے سے سر کو نفی میں جنبش دیا۔
“مجھے ابھی ایک اور جگہ جانا ہے۔۔۔۔ تمہارے ساتھ کسی اور دن آجاو گا” اس نے معصومیت سے مسکرا کر کہا۔
اتنے عرصے سے اس کے ساتھ چلتے پھیرتے عارفہ شاویز کا مزاج کسی حد تک سمجھ گئی تھی۔ وہ اپنی پرسنل زندگی کسی پر عیاں نہیں کرتا تھا۔ اس وقت بھی عارفہ جانتی تھی اسے سیدھے سادے منع کرنے کے بجائے وہ بہانہ کر رہا ہے۔ اسے مزید پریشانی میں ڈالنے کے بجائے عارفہ نے اس سے رخصت لی اور اپنی کار میں جاکر بیٹھ گئی۔ کار کے روانہ ہوتے ہی وہ دوسری سمت پیدل چلنے لگا۔
عارفہ رخ موڑے شیشے میں تب تک اسے دیکھتی رہی جب تک وہ پوری طرح آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوگیا۔
پھر سیدھے ہوکر وہ اپنے آپ میں مسکرانے لگی۔
“تمہیں کیسے بتاوں شاویز۔۔۔۔۔۔ تمہارے اسی مردانگی اور غیرت مند انداز پر تو میں دل ہار بیٹھی ہوں۔۔۔۔۔ آج کے ملاقات کے بعد اب میرے دل میں کوئی شک و شبہ نہیں رہا کہ میں دل و جان سے تمہیں چاہنے لگی ہوں۔۔۔۔۔ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے۔۔۔۔ ” ونڈ اسکرین کے باہر دیکھتی عارفہ دل ہی دل میں شاویز کے لیے اپنی محبت کا اعتراف کر چکی تھی۔ اب اسے اس موقع کا انتظار ہونے لگا تھا جب وہ شاویز سے اپنی محبت کا اظہار کرے گی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
