Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

مغرب کے بعد سی آر اور سب لڑکوں نے کچھ لکڑیاں جلا دی۔ سب گول دائرے کی صورت بیٹھ گئے۔ نبیل اپنے ساتھ گیٹار بھی لایا تھا۔ وہ کوئی دھن بجانے لگا تو سب خاموشی سے گیٹار کے سورو سے لطف اندوز ہونے لگے۔

وہی ایک کونے میں بار بی کیو کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ شہزاد لاریب اور شاویز سیخ میں بوٹیوں کے ٹکڑے پھنسا کر بھوننے لگے۔

گیٹار کے ساتھ اب سب گنگنانے لگے تھے اور تالیاں بجا کر ماحول کو خوشگوار بنایا جا رہا تھا۔ کچھ مدد کرنے کے بعد لاریب ہاتھ صاف کرتا ہوا اٹھا اور گھیرے میں سی آر کو پکڑ کر ناچنے لگا۔

تالیاں بجاتے گانا گاتے عارفہ کو کھٹک محسوس ہوئی اس نے کنکھیوں سے دیکھا دھوئیں کے آڑ میں شاویز دل فریبی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ عارفہ نے کبھی شاویز کی اس نظر کو پہلے نہیں دیکھا تھا۔ آج پہلی بار اس کی دل میں اتر جانے والی یہ نظر اسے اپنے حصار میں لے رہی تھی۔ وہ شرماتی ہوئی رخ پھیر گئی۔ اس کے دل میں کچھ کچھ ہونے لگا۔ اچانک سے اسے آگ کی تپش بہت تیز محسوس ہوئی۔ وہ وقفے وقفے سے ادھر ادھر نگاہیں گھماتے ہوئے شاویز کو دیکھتی وہ اسی دیکھ رہا ہوتا۔ وہ کھسیا سی گئی۔ ہوا سے اڑتے بال پیچے کو کئے اور بلش کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی۔ ندی کے پاس ہچکچاتے ہوئے کھڑی وہ اپنا عکس دیکھ رہی تھی۔

رات کے تاریکی کو چاند کی چاندنی نے روشن کیا ہوا تھا۔ وہ بار بار شاویز کو سوچ رہی تھی کہ اسے پانی میں اپنے پیچے شاویز کا عکس ابھرتا نظر آیا۔ وہ شاک ہوگئی۔ دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ سانس بے ترتیب ہونے لگی۔ وہ چمکتی آنکھوں سے شرماتے ہوئے مڑی تب بھی شاویز اسی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتا گیا۔ ایک پل کے لیے عارفہ کو لگا وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے پروپوز کرنے والا ہے۔ خوشی کے مارے اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اگلے پل اس نے دیکھا وہ مصالحے سے لتھڑے اپنے ہاتھ دھونے لگا ہے۔ اس کے پیچے شہزاد بھی آیا اور ساتھ بیٹھ کر ہاتھ دھونے لگا۔ عارفہ کا سارا وہم و گمان چھن سے اڑ گیا۔ وہ افسردگی سے سرد سانس خارج کر کے وہاں سے روانہ ہوگئی۔

“یہ تو پروپوز ہی نہیں کر رہا۔۔۔۔۔۔ مجھے ہی بولنا پڑے گا” سوچتے ہوئے وہ ایسے موقع کی تلاش کرنے لگی۔

چند منٹ بعد کباب اور بریانی کے ساتھ رات کے کھانے کی تیاری ہو چکی تھی۔ سب ایک ساتھ بیٹھے کھا پی رہے تھے۔ شاویز grill پر سے دو سیخ اتار کر آیا اور روٹی کی مدد سے سحر کے پلیٹ میں کباب نکالے اور خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔

“ارے نہیں۔۔۔۔ میں اور نہیں کھا سکتی۔۔۔” سحر فوراً سے بولی تھی۔ عارفہ نے ہاتھ بڑھا کر مزے سے اس کے پلیٹ سے گرم گرم کباب کا ٹکڑا اٹھا کر اپنے منہ میں ڈالا۔

“کھاو کھاو۔۔۔۔ صحت بناو۔۔۔۔ اتنی کمزور سی ہو۔” شاویز نے اپنا نوالہ بناتے ہوئے سحر کو کہا۔ وہ جھجکتے ہوئے زبردستی اس کے لائے کباب کھانے لگی۔

عارفہ نے آج تک سحر سے حسد یا کینہ و بغض نہیں رکھا تھا پھر اب کیسے رکھتی۔ البتہ شہزاد کو شاویز کی سحر سے بڑھتی نزدیکیاں بری طرح چبنے لگی۔ وہ ان کے سامنے بیٹھا سحر اور شاویز کو ساتھ ساتھ بیٹھے دیکھ کر جل بھن گیا تھا۔

رات سوتے سوتے سب کو ڈیڑھ بج گئے۔ لڑکیاں اپنے ٹینٹ میں اور لڑکے اپنے ٹینٹ میں جا کر سونے لگے۔ ہوا کے چلتے جنگل اور ندی کا پانی عجیب وحشت ناک سرسراتی آوازیں برپا کر رہی تھی۔

سحر کو ان آوازوں سے اور آوٹ ڈور میں سونے سے بے چینی ہو رہی تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اس کی آنکھ کھل جاتی۔ اسے جھنجھلاہٹ ہونے لگی وہ افف کرتی اٹھ بیٹھی۔ اس نے رخ پھیر کر دیکھا عارفہ سمیت سب گہری نیند سو رہی تھیں۔ دوسرے سمت چہرا کیا تو اسے ٹینٹ کے پاس باہر کچھ چمکتا ہوا نظر آیا۔ اسے تجسس ہوا وہ جا کر چیک کریں۔ وہ بنا آواز کئے اپنے بستر سے نکلی۔ دبے پاوں ٹینٹ کا زپ نیچے کر کے باہر جھانکا۔ غور سے سبزہ زار میں چمکتے جلتے بجتے اس چیز کو دیکھا تو وہ جگنو تھا۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھی۔ وہ خوشی سے چہک گئی۔ اس نے اس سے پہلے کبھی جگنو نہیں دیکھا تھا۔ وہ اسی طرح بنا آواز ننگے پیر چلتی قریب گئی۔ وہ اس جگنو کو پکڑنا چاہتی تھی۔ اسے جگنو کو ہاتھ میں پکڑنے کی جستجو ہونے لگی۔ ننگے پیر کھلے بال بغیر ڈوپٹے کے وہ اسی طرح جھک کر جگنو کے پیچے چلتی گئی۔

وہ جیسے ہی اس کو پکڑنے کے قریب ہوتی جگنو آگے کھسک جاتا۔ وہ ہنہ کرتی رہ جاتی لیکن اس نے تجسس اور جستجو نہیں چھوڑی۔ وہ آس پاس دیکھے بغیر اس کا پیچھا کرتی جنگل کی جانب بڑھ گئی تھی۔ جنگل کے گھنے درختوں نے چاند کی چاندنی کو چھپا دیا۔ اسے صرف اسی جگنو کی چمکتی روشنی محسوس ہورہی تھی۔ جگنو پر نظریں جمائے؛ چلتے چلتے اسے یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ کتنا آگے جا چکی تھی کہ جنگنو کی روشنی ختم ہوگئی۔ اس نے تیز نظروں سے آس پاس دیکھا وہ جگنو غائب ہوچکا تھا۔

خود کو درختوں کے جھنڈ میں پا کر اس کے اوسان خطا ہوگئے وہ گھبرا کر پیچے موڑی تھی کہ اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی اور سر پر آسمان ٹوٹ پڑا۔

وہ خفیہ تعاقب کار عین اس کے سر پر کھڑا تھا۔ وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ اگر سحر زرا سا بھی ہلتی تو اس سے ٹکرا جاتی۔ اس کے چہرے پر ماسک نہیں تھا لیکن ٹوپی نیچے کر رکھی تھی۔ وہاں اندھیرا اتنا تھا کہ سحر کو وہ صرف ایک سایہ محسوس ہوا کوئی بشر وجود نہیں۔ لیکن اس کی چلتی سانس یہ تصدیق دے گئی تھی کہ وہ وہی تعاقب کار ہے۔ وہ جگنو کو پکڑنے کی خواہش میں اتنی مگن ہوگئی تھی کہ اسے کسی کے اپنے پیچے آنے کی خبر تک نہ ہوئی؛ سوچتے ہوئے اسے خود پر شدید غصہ آنے لگا۔ آہٹ پر سحر کو اندازہ ہوا وہ ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑنے لگا ہے۔ بس یہ وہم آیا ہی تھا کہ وہ چیخ مارتی بے ڈھنگی سی الٹے قدم بھاگی۔ وہ کس سمت جارہی ہے۔ وہ ننگے پیر ہے۔ کچھ چب سکتا ہے۔ کوئی جنگلی جانور چھڑپ کر کاٹ سکتا ہے۔ کچھ بھی سوچے بغیر وہ اسی طرح روہانسی ہو گئی تھی۔ چیختی چلاتی بھاگتے ہوئے اسے اپنے پیچے کسی کے آنے کا ہوش نہ رہا۔ بار بار پلٹ کر دیکھتی وہ کسی سے ٹکرا گئی۔

“اااااہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔ ” وہ روتی چیختی آنکھیں موندے جھنجلانے لگی لیکن اس کی گرفت اتنی مظبوط تھی وہ خود کو آذاد نہیں کر پائی۔

شاویز نے موبائل کی لائٹ سحر کے چہرے پر ماری۔

“سحر۔۔۔۔۔ سحر۔۔۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔۔۔۔ میں ہوں۔۔۔۔۔۔ شاویز۔۔۔” شاویز نے بلند آواز میں تند و تیز لہجے میں کہہ کر اسے متوجہ کیا۔

سحر نے آبدیدہ آنکھیں کھول کر سر اوپر کر کے دیکھا وہ شاویز تھا۔ اس نے اسے دونوں بازووں سے تھام رکھا تھا اور سحر کے ہاتھ اس کے سینے پر جا ٹھہرے تھے۔ وہ تیزی سے پلٹی اور غور سے پیچے دیکھا اب وہاں کوئی نہیں تھا۔

“کیا ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ اور تم یہاں۔۔۔۔ جنگل کے بیچو بیج کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔” شاویز نے پوری شدت سے اسے کندھوں سے جھنجوڑا۔ شاویز کو وہ غائب دماغ لگی تھی۔ سحر اب بھی ہیبت زدہ سی کانپ رہی تھی۔ اسے یہ سارا منظر سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

“وہ۔۔۔۔ ووو۔وہ۔۔۔۔۔۔ ممم۔۔میں۔۔۔۔۔” سحر کو ڈر اور خوف سے بھاگتے؛ چیختے؛ روتے سانس چڑھ گئی تھی اس سے ٹھیک سے بولا نہیں جارہا تھا۔

“اچھا۔۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔ اب چلو یہاں سے۔۔۔۔۔” شاویز نے اس کی غائب دماغی اور بوکھلاہٹ جانچتے ہوئے نرم لہجے میں کہا اور اس کے بازو چھوڑ دیے۔

شاویز موبائل کے لائٹ کی روشنی میں آگے چلنے لگا۔ دو قدم آگے بڑھ کر اسے حیرت محسوس ہوئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا سحر کھوئے کھوئے انداز میں مخالف سمت چلنے لگی تھی۔

“سحر۔۔۔۔ ” اس نے تیز آواز میں اسے مخاطب کیا۔

سحر جھٹکا کھا کر سیدھی ہوئی اور ہڑبڑا کر شاویز کو دیکھا۔

“اس طرف۔” اس نے بے یقینی سے اسے راستے سے آشنا کیا۔

سحر نے ایک نظر پھر سے پیچھے دیکھا اور سر جھکا کر شاویز کے جانب بڑھ گئی۔

چلتے چلتے اس کی نظروں کے سمت میں شاویز نے پلٹ کر ضرور دیکھا تھا۔

“ایسا کیا دیکھ لیا وہاں۔۔۔” اس نے حیرانگی سے دل میں سوچا۔

موبائل کی لائٹ سے رستہ تلاش کرتے وہ دونوں گھنے درختوں کے بیچ آگے پیچے چل رہے تھے۔ کچھ فاصلہ خاموشی سے طے کر کے شاویز کو احساس ہوا کہ سحر لھڑکرا کر چل رہی ہے۔ جیسے اسے چلنے میں تکلیف ہو رہی ہو۔ اس نے نیچے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ننگے پیر ہے اور کئی جگہ سے اسے چوٹ بھی لگی ہے۔

“سحر۔۔۔۔ تم میرے جوتے۔۔۔۔۔”

“نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔” وہ واپس اس کے سامنے آیا اور اپنے جوتےاتار کر دینے لگا تھا کہ سحر نے یک دم اسے روک لیا اور بوکھلا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔

شاویز کو اس کے چہرے پر بے بسی؛ بے چینی؛ اضطراب؛ شرم؛ اور غصے کے الگ الگ رنگ چڑھتے اور اترتے نظر آئے۔ وہ بنا کچھ کہے واپس مڑا اور سپاٹ تاثرات بنا کر آگے چلنے لگا۔

بلکل اس کے سامنے چلتے پیر ادھر ادھر مارتا اپنے جوتوں سے وہ راستے میں آنے والے ذرات کنکر کیڑے مکوڑے دکھیلتا اس کے لیے راستہ صاف کرتا گیا۔ پیچے پیچے سحر کے لیے راستہ ہموار ہوتا گیا۔ اب وہ بغیر کسی تکلیف اور رکاوٹ کے صحیح چل رہی تھی۔

شاویز اس وقت رحمت کا فرشتہ بن کر اسے اس موت کی کھائی سے نکال لایا تھا اور بدلے میں وہ اس سے بے مروتی برت رہی تھی۔ چلتے چلتے ایک جھاڑ سے سحر ٹکرا گئی وہ گرنے لگی تھی کہ غیر ارادی طور پر اس نے شاویز کا کندھا دبوچ لیا اور خود کو سنبھالا۔ شاویز رک گیا اور ہلکے سے رخ موڑ کر سنجیدگی سے سحر کو دیکھا۔

“سوری۔۔۔” اس نے شرمساری سے اپنے ہاتھ پیچے کرتے ہوئے کہا۔

شاویز اسی خاموشی اور سپاٹ تاثرات سے اسے دیکھے گیا۔ اپنا ہاتھ بڑھا کر سحر کے آگے گیا۔ سحر کو اپنا یہ روپ شاویز پر عیاں ہونے پر پہلے ہی جھجک ہونے لگی تھی اوپر سے جوتے نہ لینے پر بے مروتی سے منع کرنے پر اس کو متواتر احساس ندامت ہورہا تھا اور اب یہ حرکت۔ مارے شرم کے سحر نے خاموشی سے اس کا بڑھایا ہوا ہاتھ تھام لیا۔

جنگل سے نکل کر سبزہ زار پر پہنچے۔ چاند کی چاندنی پھر سے روشن ہوگئی تو شاویز نے موبائل لائٹ بند کر کے موبائل پینٹ کی جیب میں ڈال دیا۔

“تمہیں نیند میں چلنے کی بیماری تو نہیں ہے۔” شاویز نے کنکارتے ہوئے آنکھوں کے کنارے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

“ہممم۔۔۔۔۔ نہیں” سحر نے شرمساری سے رخ پھیرتے ہوئے جواب دیا۔ اس کے جواب میں شاویز نے خاموشی سے سر کو جنبش دیا۔

“تم۔۔۔۔۔ وہاں کیسے۔۔۔۔۔ آئے۔” سحر نے ناپ تول کر لفظ ادا کرتے ہوئے اضطراب میں پوچھا۔

“تمہاری چیخ و پکار سن کر آیا تھا” بنا کوئی تہمید باندھے اس نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔ جنگل سے نکل کو وہ سحر کا ہاتھ چھوڑ چکا تھا۔ اب ہاتھ پیچے باندھے سامنے دیکھتے ہوئے چل رہا تھا۔

“افففف۔۔۔۔۔ میں اتنا اونچا چیخی تھی کیا۔” سوچتے ہوئے سحر کا شرم سے زمین میں گڑھ جانے کا دل کیا۔

کیا آج اس کا بار بار شاویز کے سامنے شرمندہ ہونے کا دن ہے؛ سوچتے ہوئے وہ انگلیاں مڑوڑنے لگی۔

“ویسے۔۔۔۔۔ ایسا کیا دیکھ لیا تھا۔۔۔۔۔ جو اتنا روہانسی ہو گئی تھی۔۔۔۔” شاویز نے محتاط انداز میں اس سے پوچھا۔

“ایک آدم خور۔۔۔۔” سحر کو اپنی آواز کھائی میں سے آتی ہوئی لگی۔ وہ لمحہ یاد کر کے وہ پھر سے خوفزدہ ہوگئی۔

آدم خور کا نام سن کر شاویز چلتے چلتے رک گیا۔ اس نے حیران پریشان انداز میں سحر کو دیکھا۔ اس کے رکنے پر سحر بھی رک گئی تھی۔

“کیا ہوا۔۔۔۔۔ آدم خور سے ڈرتے ہو” سحر مسکراہٹ دبائے ہوئے شریر انداز میں گویا ہوئی۔

“ہاں تو۔۔۔۔۔ سب کو ڈر لگتا ہے آدم خور سے۔” شاویز نے تاثرات سپاٹ بنائے اور پھر سے چلنے لگا۔

“اچھا۔۔۔۔ مجھے تو لگا۔۔۔۔۔ شاویز the hero کو ڈر نہیں لگتا۔۔۔۔ ہاہاہا۔” اس کا موڈ خوشگوار ہوتا دیکھ کر شاویز بھی مسکرا دیا۔ وہ اپنے ٹینٹ کے قریب پہنچی تو شاویز وہی رک گیا۔

“تھینکیو۔۔۔” سحر نے جاتے جاتے اس کا شکریہ ادا کیا۔ شاویز نے سر کو خم دے کر اس کا شکریہ وصول کیا

“سحر۔۔۔۔۔ پیروں پر دوائی لگا لینا۔۔۔۔” اس نے جاتے ہوئے سحر کو اس کے زخمی پیروں کی جانب متوجہ کیا۔ اس کا لہجہ اتنا مدھم اور نرم تھا کہ سحر نے حیران ہو کر پہلے اپنے پیر دیکھے پھر شاویز کو۔ اس سے پہلے سحر کچھ اور کہتی وہ اپنے ٹینٹ تک جا چکا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس کھلے میدانی علاقے میں آفتاب طلوع کے ساتھ صبح جلدی ہوگئی تھی۔ سب 7 بجے ہی اٹھ گئے اور شال کندھوں پر ڈال کر ناشتے کی تیاری کرنے لگے۔

سحر رات سوئی ہی اتنے دیر سے تھی کہ اب اس سے اٹھا نہیں جا رہا تھا۔ عارفہ کے دو تین دفعہ ڈانٹنے غصہ کرنے پر آخر وہ 9 بجے تک اٹھ گئی۔ رات سونے سے پہلے وہ پیروں پر دوائی لگا کر جرابیں پہن چکی تھی تا کہ کوئی اس کے زخمی پیر نہ دیکھ سکے۔

10 بجے تک سب تیار ہو کر پہاڑ پر چڑھ کر پانی کے چشمے کو قریب سے دیکھنے جانے لگے۔

سحر کا دل تو نہیں کر رہا تھا لیکن وہاں اکیلے رکنے کا اس کا قطعی طور پر ارادہ نہیں تھا۔

شاویز اپنا بیگ کندھے پر ڈالے ان کے پاس آیا۔

“گڈ مارننگ سحر۔۔۔” عارفہ سے وہ صبح سویرے ہی مل چکا تھا۔ سحر سے اب رو بہ رو ہوا تھا۔

“گڈ مارننگ” سحر نے بھی اسی خوشگوار مزاجی سے جواب دیا۔

رات کے واقعے کے بعد اس کے دل میں شاویز کے لیے بچی کچی کلفت بھی دور ہوگئی تھی۔

عارفہ نے اجنبیت سے سحر کو دیکھا جیسے وہ اس کا یہ روپ پہلی مرتبہ دیکھ رہی ہو۔

“اوکے۔۔۔۔ سب۔۔۔۔۔۔ چلیں۔۔۔۔” ان تینوں نے اپنے پیچے سی آر کو سب کو مخاطب کرتے سنا تو وہ سب گروپ کی صورت اس کے پیچے روانہ ہوئے۔

پہاڑ چڑھنے میں سب کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتیاط سے ہاتھ پکڑے بچتے بچاتے وہ سب چشمے کے قریب پہنچے۔

قدرت کا وہ نظارہ دیکھ کر کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔

“ماشااللہ” سحر پہاڑ کے سرے سے گرتا صاف و شفاف پانی۔ پانی کے بہاو سے بنتا rainbow (قوز و قزح) دیکھ کر اللہ کی تخلیق کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکی۔

“شاویز آو pics لیتے ہیں ” عارفہ چہکتے ہوئے اسے ہاتھ سے پکڑ کر پانی کے ساتھ کھڑی ہو کر سیلفی لینے لگی۔

ایک تصویر کے لیے اس نے موبائل سحر کو دیا جس میں ان دونوں کے پیچے پہاڑ اور چشمہ بھی پورا آسکے۔ سحر ان کی تصویر لے رہی تھی جب لاریب مستی کرتا ہوا اس کے سامنے آیا اور تصویر خراب کردی۔

“چڑیل۔۔۔۔ چمڑ گئی۔۔۔” اس نے آنکھوں کے اشاروں سے عارفہ اور شاویز کی رقبت کا اشارہ کیا۔

“لاریب۔۔۔ اب تو مجھ سے نہیں بچ پائے گا۔۔۔” عارفہ چڑ گئی تھی اور اس کے پیچے مارنے کو بھاگنے لگی۔

اس کے پاس سے ہٹتے ہی شاویز سحر کے ساتھ آکر کھڑا ہوگیا۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بظاہر تو وہ چشمے کو دیکھ رہا تھا۔

“وہ آدم خور پھر تو نہیں آیا” شاویز نے مسکراہٹ دبائے ہوئے کہا۔

سحر اس کا شرارتی انداز سمجھ گئی۔

“نہیں۔۔۔۔ لگتا ہے تم سے ڈر کر بھاگ گیا۔۔۔۔ ” سحر نے پورا مسکراتے ہوئے کہا۔

شاویز اس کی بات پر کھلکھلا کر ہنسا۔

ان دونوں کو آپس میں ایسے ہنستے گھلتے دیکھ کر عارفہ کو کچھ کھٹک محسوس ہوئی۔ وہ لاریب کے پیچے بھاگنے سے؛ واپس آئی اور شاویز اور سحر کے درمیان کھڑی ہوگئی۔

پہاڑ سے اتر کر واپس اپنے ٹینٹ میں آکر گھروں کو جانے کی تیاری کرنے لگے تھے۔ آج شام 7 بجے انہیں واپس نکلنا تھا۔ سحر اس پہر فوراً سے کینوس لگا کر اپنی باقی ماندہ پینٹنگ مکمل کرنے جٹ گئی تھی۔ آتے وقت کا سفر جتنا پر جوش اور رونق افروز تھا واپسی کا اتنا ہی خاموش۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رات 11 بجے کے قریب وہ لوگ واپس یونیورسٹی کے مضافات میں پہنچے۔

راستے میں سب نے اپنے اپنے گھروں میں اطلاع کر دی تھی۔ اس وقت سب کے احباب انہیں لینے پہنچے ہوئے تھے۔

سحر اور عارفہ رخصت لیتی اپنے اپنے گاڑیوں کے جانب بڑھ گئی۔

“پاپا۔۔۔۔” گاڑی کے پاس آکر اس نے دلاور صاحب کو کھڑے دیکھا۔ وہ تیزی سے جا کر ان کے کندھے سے لپکی۔

“آگئی میری princess۔۔۔” دلاور صاحب نے اس کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے اس کے سر پر بوسہ دیا۔

“پاپا آپ نے کیوں تکلف کیا۔۔۔۔ میں نے صائم کو کہا تھا ڈرائیور کے ساتھ آنے کے لیے۔” سحر کا سفری بیگ دلاور صاحب نے لے کر گاڑی میں رکھ دیا اور دونوں باپ بیٹی کار میں سوار ہوئے۔

“اس میں تکلف کی کیا بات ہے۔۔۔۔۔ بیٹی کے ساتھ رات کے وقت ڈرائیو کرنے کا موقع ہمیشہ تھوڑی ملتا ہے۔ ” دلاور صاحب نے خوش دلی سے کہا۔

“مما کیسی ہے۔۔۔۔ اور صائم۔۔۔” والد کا با اعتماد لہجا اور خوش مزاج انداز دیکھ کر سحر مسکرا دی۔

“وہ دونوں بھی ٹھیک ہے اور تمہارا انتظار کر رہے ہے۔” انہوں نے ڈرائیو کرتے ہوئے سامنے دیکھتے کہا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

“شاویز آج میرے ساتھ چلو” عارفہ اسے بازو سے پکڑے اپنی کار میں بیٹھانا چاہ رہی تھی۔

“عارفہ۔۔۔۔ پھر کبھی۔۔۔۔ ابھی لاریب کے ساتھ جاو گا۔” شاویز نے معذرت خواہاں انداز میں اس سے اپنا بازو آزاد کروایا۔

“تم ہر بار ایسی کرتے ہو”عارفہ کا اچھا خاصہ منہ بن گیا۔

“میں صبح ہی اس سے وعدہ کر چکا تھا یار۔۔۔۔۔ ” شاویز نے منانے کے غرض سے نرمی سے کہا۔

عارفہ اسی طرح منہ بھسورے کھڑی تھی کہ اس نے لاریب کی بائک کا ہارن سنا۔ وہ شاویز کے انتظار میں تیار کھڑا تھا۔

“پلیز عارفہ۔۔۔۔۔ اگلی دفعہ پکا تمہارے ساتھ چلوں گا۔۔۔”شاویز نے معصومیت سے آنکھیں جھپکائی۔

عارفہ نے لمبی سانس لی اور اسے جانے کے لیے کہتے ہوئے خود اپنی کار میں سوار ہوگئی۔

“تھینکیو۔۔۔۔ بائے۔۔۔۔۔ گڈ نائٹ” شاویز نے گرم خوشی سے اسے شب بخیر کہا۔ اس کی کار روانہ ہوئی تو سنجیدہ تاثرات بنائے وہ لاریب کے پاس آگیا۔

اس کے ساتھ بائک پر سوار ہونے کے بجائے اس نے لاریب کے کندھے کو تھپکتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ عارفہ کے سامنے اسے ساتھ لے جانے کی اداکاری کرنے اسے شاویز نے ہی کہا تھا۔

“شاویز۔۔۔۔۔ ویسے تو یہ تیرا اور عارفہ کا پرسنل میٹر ہے۔۔۔۔۔ پر۔۔۔۔۔ کیا تم اسے خود سے دور کر رہے ہو۔۔۔۔۔ میں دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔ تمہارا اس کے ساتھ رویہ بدل گیا ہے۔۔۔۔۔ کوئی پرابلم ہے کیا۔ ” لاریب نے دوستانہ مزاج میں پوچھا۔ وہ جتنی بچگانہ حرکتیں کرتا تھا سیریس معاملے میں اتنا ہی سنجیدہ ہوجاتا۔

“ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں صرف اس ریلیشن پر نظر ثانی کرنے کے لیے وقت لے رہا ہوں۔۔۔۔۔ میں اب تک یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ مجھے عارفہ میں کوئی دلچسپی ہے بھی یا نہیں۔” شاویز نے افسوس سے سر جھٹکا اور لاریب کو خیر باد کہہ کر پیدل روانہ ہوگیا۔ لاریب وہی کھڑا سنجیدہ انداز میں اسے جاتے دیکھتا رہا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اسے کسی نے مظبوطی سے زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا۔ کوئی ہنٹر سے اس کے برہنہ وجود کو مار مار کر زخمی کر رہا تھا۔ وہ درد سے کراہ رہا تھا۔ ایک دو تین ایک کے بعد دیگر ضرب لگائی جا رہی تھی۔ اس کے وجود میں ہنٹر کے نشانات پیوست ہورہے تھے۔ اس نے ہمت کی لیکن خود کو آزاد نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے کراہنے کے ساتھ کوئی اس پر واضح طور پر ہنس رہا تھا۔ وہ بشر وجود قدم قدم چلتا ہوا سامنے آیا۔ اس کے ساتھ بہت روشنی چمک رہی تھی۔ اس کی آنکھیں چندیا گئی۔ وہ آنکھیں چھوٹی کر کے اس انسان کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتا۔ وہ روشنی اس کی آنکھوں کو اندھا کر رہی تھی کہ ایک جھٹکے سے سب تاریک ہوگیا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔

پھر سے وہ خواب؛ اس نے سوچتے ہوئے بے بسی سے بستر پر مقے مارے۔ کیوں یہ خواب آخر اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے؛ اس نے سوچتے ہوئے اپنا سر پکڑ لیا۔ اس مظبوط و توانا مرد کے پاس ہر چیز سے لڑنے کی طاقت تھی سوائے اس کے مائگرین اور ان خوابوں کے۔

وہ تاریکی میں چلتا بالکونی میں جا کھڑا ہوا۔ خاموش آسمان میں چمکتے تارے۔ سب پر سکون تھے صرف اس کے اندر شور برپا تھا۔

سر جھٹکتا اپنے سوچوں اور خوابوں کے جہان سے نکلتا وہ معمول کی طرح تیار ہو کر ورزش کے لیے نکل گیا۔

اپارٹمنٹ کے سامنے پارک میں ایک درخت کے ساتھ اس پہر دو منشیات کے عادی چرسی کمبل میں بیٹھے تھے۔ وہ دوڑتا ہوا ان کے پاس رکا۔ ان میں سے ایک مرد نے سیگریٹ اس کے آگے کیا۔

سیگریٹ سے اٹھتا دھواں اسے اپنے اندر جلتے دل کے ٹکڑوں کی مانند لگا۔

اس نے سپات تاثرات سے نفی میں سر ہلا دیا۔

اس کے دل کے زخم سیگریٹ کے دھوئیں میں محلول نہیں ہونگے بلکہ دلاور پرویز خان کی خوشیوں کو دھوئیں میں اڑا کر ہونگے۔ اس نے سوچتے ہوئے رخ موڑ لیا اور واپس ورزش میں لگ گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

گھر پہنچ کر وہ مما سے ملی۔

“کیسی ہے۔۔۔۔ دو ہی دنوں میں تیرے بغیر یہ گھر سونا سا ہوگیا تھا” عابدہ بیگم نے اسے سینے سے لگا کر کہا۔ وہ لاؤنج میں اس کی منتظر بیٹھی تھی۔ صائم بھی ان کے ساتھ بیٹھا موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ اسے آتے دیکھ کر عابدہ بیگم کھڑی ہوگئی۔ سحر مما کے گلے ملی اور پیچے سے صائم کے سر پر تپکی دی جو حسد کا مارا پیچے سے مما کے کندھے پر سر رکھ گیا تھا۔

“میں تو کل سے سمجھا رہا تھا۔۔۔ کہ عابدہ بیگم۔۔۔۔۔ جذبات قابو کر لیں۔۔۔۔۔ کل کو سحر کی شادی کر دی تب کیا کریں گی۔۔۔” دلاور صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اپنی زوجہ کی رو داد سنائی۔ مسکراتی ہوئی سحر کی مسکان سمٹ گئی۔ اس کی شادی ہوجائے گی؛ وہ یہ گھر چھوڑ کر چلی جائے گی؛ ماں باپ سے دور؛ یہ سوچتے ہی وہ دل گرفتہ ہوگئی اور پھر سے ماں کے گلے لگ گئی۔

“میں کہی نہیں جاوں گی۔۔۔۔۔ میں نے نہیں کرنی شادی۔۔۔۔” اس نے بھر آئی آواز میں کہا۔

“جذباتی ہوکر۔۔۔۔ ہر لڑکی یہی کہتی ہے۔۔۔۔۔ پر ایک دن شادی تو کرنی ہی ہے۔” دلاور نے اب کی بار نرم لہجے میں کہا۔

“اچھا ہے۔۔۔۔ میری بھی اس سے جان چھوٹ جائے گی۔” صائم نے پاپا کے مذاق میں اپنے حصے کا اضافہ کیا۔

سحر نفی میں سر ہلاتے رو دینے کو تھی۔

“آپ بھی نا۔۔۔۔۔ کیوں پریشان کر رہے ہے۔۔۔۔۔۔ میری بیٹی کو۔۔۔۔ زبردستی تھوڑی شادی کروائے گے۔۔۔۔۔ جب خود کہو گی تب ہی کروائے گے۔۔۔۔” عابدہ بیگم نے اس کی دل گرفتگی محسوس کرتے ہوئے دلاسہ دیا۔

وہ اب ماں اور باپ کے درمیان اداس بیٹھی تھی۔ صائم سامنے والے سنگل صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔

“ہاں تب تک صائم کے لیے کوئی لڑکی ڈھونڈ کر آپ کے لیے بہو کا بندوبست کر دوں گا۔۔۔۔۔ تا کہ سحر کی کمی محسوس نہ ہو” دلاور صاحب نے مذاحیہ انداز کہا۔ یہ بات سن کر صائم بد مزا ہوگیا۔

“پاپا۔۔۔۔” سحر اب پوری طرح جھنجلا گئی تھی۔ دلاور صاحب کھلکھلا کر ہنسے اور اس کے گرد بازو مائل کیا۔

عابدہ بیگم ملازمہ کو آواز دیتی کچن میں بڑھ گئی۔

کھانا کھانے کے دوران سحر پورے ٹرپ کی باتیں کرتی رہی۔ اس نے اپنی فیملی کو لاریب اور عارفہ کی چھوٹی موٹی لڑائیوں تک سب کچھ سنا دیا سوائے اپنے ساتھ ہوئے اس حادثے کے۔ اس میں اپنی فیملی کو پریشان کرنے کی ہمت نہیں ہو سکی تھی۔

کھانے کے بعد سحر نے اپنے ہاتھوں سے تازا بنایا وہ پورٹریٹ دلاور صاحب کو پیش کیا۔

“یہ تم نے بنایا ہے۔۔۔ ” دلاور صاحب نے اس پینٹنگ کو غور سے دیکھا۔

سحر نے جھلملاتی نظروں سے دلاور صاحب کے چمکتے چہرے کو دیکھا۔

“کیسا ہے۔۔۔۔” اس نے تجسس سے پاپا سے پوچھا۔

“بہت زبردست ہے۔۔۔۔ کمال ہے۔۔۔۔ میری بیٹی تو پوری آرٹسٹ بن گئی ہے۔۔۔۔۔ یہ تو میں اپنے سٹڈی روم میں لگاوں گا۔” پاپا کی تعریف پر سحر خوشی سے چہک اٹھی۔

پینٹنگ ہاتھ میں لیئے پاپا اپنے سٹڈی میں چلے گئے۔ صائم بھی اپنے کمرے میں جا چکا تھا اور عابدہ بیگم اپنے کمرے میں۔ وہ پکنک کو یاد کرتی سونے کے لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سوتے ہوئے ایک پل کو سحر کو دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ اپنے ہاتھ پیر ہلانا چاہتی تھی لیکن کسی دباؤ کی وجہ سے ہلا نہ سکی۔ اس نے اضطراب میں آنکھیں کھولی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ وہ اپر والا بلکل اس کے پہلو میں بیٹھا ہے اس کے دونوں ہاتھ پیر رسی سے بندھے ہوئے ہیں اور وہ اپر والا اپنی پوری قوت سے اس کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ وہ بن پانی کے مچھلی جیسے مچل گئی۔ ہاتھ پیر مارتی وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی۔ جب اپنی ہمت جواب دے گئی تو حلق کے بل چلا چلا کر دلاور صاحب کو پکارنے لگے۔

“پاپا۔۔۔۔۔ پاپا۔۔۔۔۔” اس کا گلا دب گیا۔ اس سے سانس تک نہیں لی جا رہی تھی۔ اس کے اضطراب میں اضافہ ہورہا تھا۔ وہ پھر سے دھاڑیں مار کر چیخی تھی۔

اسی طرح چلاتے چلاتے اسے اپنے سماعتوں میں دلاور صاحب کی آواز آنے لگی۔ وہ گڑبڑا کر ایک جھٹکے سے اٹھ گئی۔ عنودگی سے باہر آئی تو معلوم پڑا دلاور صاحب اس کے سرہانے بیٹھے اسے جھنجوڑ رہے تھے۔

“سحر۔۔۔۔۔ ہوش میں آو۔۔۔۔۔ کیا ہوگیا” دلاور صاحب نے اسے بازووں سے مظبوطی سے تھام رکھا تھا۔ عابدہ بیگم اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی حواس باختہ ہو گئی تھی۔ صائم آنکھیں مسلتا زبردستی نیند ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“پاپا۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ وہ مجھے مار رہا تھا۔۔۔۔۔ میرا گلا دب۔۔۔۔۔ دبا رہا تھا۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔ مج۔۔۔۔۔ مجھے مار دے گا۔۔۔۔” اس نے ہچکچاتے ہوئے اکھڑے سانس میں اپنی کیفیت بتائی۔

“بیٹا۔۔۔۔ کوئی نہیں ہے یہاں۔۔۔۔ دیکھو کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے اس کا سر اپنے کندھے سے لگایا۔

وہ اپنے پاپا کے بازو کو جکر کر ہانپتے کانپتے رونے لگی۔

“سحر ہم تمہارے چلانے سے ہڑبڑا کر بھاگتے ہوئے آئے۔۔۔۔۔ تم نیند میں چیخ رہی تھی۔۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

اسے اب بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ حقیقت نہیں تھا خواب تھا۔ اس کا دماغ ماو ہوگیا تھا۔

“عابدہ۔۔۔۔ تم آج اس کے پاس سوجاو۔۔۔۔ اسے سنبھالو۔” دلاور صاحب اس کے سرہانے سے اٹھے اور عابدہ کو ہدایت دینے لگے۔

“ہاں مما۔۔۔۔۔۔ جنگل میں رہ کر۔۔۔ پتا نہیں کونسے جنات لے کر آئی ہے۔۔۔۔۔ سب کو ڈرا دیا۔” صائم نے جمائی روکتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر کہا۔

وہ اور دلاور صاحب کمرے سے نکل گئے۔ عابدہ بیگم اس کے ساتھ آکر لیٹ گئی اور اس کے سر کو سہلانے لگی۔

اس کی آنکھوں سے نیند اوجھل ہو گئی تھی۔ وہ حیران پریشان چت لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔

“یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔۔۔ اتنا حقیقی خواب۔۔۔۔ ” سحر لیٹے لیٹے دوہری کیفیت کا شکار تھی۔

اس کے سر میں درد شروع ہو گیا تھا۔ اس لمحے کو یاد کر کے وہ پھر سے لرزنے لگی تو اس نے فوراً سے کروٹ مما کی طرف پلٹ کر آنکھیں موند لی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆