Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

صبح اس کی نیند شدید ٹھنٹد لگنے سے کھلی تو وہ اٹھ بیٹھا۔ دسمبر کی اس سردی سے اسے یہ معلوم ہوگیا تھا ٹرین بلوچستان کے مضافات کو عبور کر چکی ہے۔ اس کے اٹھ جانے پر صادق صاحب بھی اٹھے اور کھڑے ہوکر اپنے باڈی کو سستانے لگے جو ساری رات ایک ہی زاوئیے میں بیٹھے رہنے سے اکڑ گئی تھی۔

عنودگی سے باہر نکل کر اسے یاد آیا وہ صادق سر کے گود میں سر رکھ کر سویا ہوا تھا۔ خود غیر آرام دہ ہو کر بھی انہوں نے اسے نیند لینے دیا تھا۔ یک دم اسے ان پر شدید پیار آرہا تھا۔

سرد ہواوں کے پڑنے سے اسے کپکپی ہونے لگی۔ وہ نیچے جھکا اور اپنے بیگ میں سے دائی ماں کی رکھی جیکٹ نکال کر پہن لی۔

ایک گھنٹہ کے بعد سفر اختتام کو پہنچا۔ ٹرین اپنے منزل مقصود پر آکر رک گئی تھی۔ وہ اسی طرح سر کے ہمراہ ٹرین سے اترا اور وہ دونوں سٹیشن سے باہر نکل آئے۔

اس نے دیکھا سامنے ہی ایک بڑی گاڑی کے ساتھ دو وردی والے نوجوان کھڑے تھے صادق سر کو دیکھتے ہی انہوں نے زور سے پیر پٹخ کر ہاتھ کو پیشانی تک لے جا کر سلیوٹ (salute) کیا۔

“گڈ مارننگ سر۔۔۔” ایک نوجوان نے بلند آواز میں انہیں صبح بخیر سے خوش آمدید کہا۔

ان کے سلام کے جواب میں صادق سر نے بھی اسی طرز انداز میں پیشانی پر ہاتھ رکھ کر salute کیا۔

“گڈ مارننگ۔۔۔۔۔ کیسے ہو نوجوانوں” انہوں نے جوشیلے انداز میں رعب دار آواز میں کہا۔

ان سے خیریت معلوم کر کے ایک نوجوان آگے کو آیا اور سر کے ہاتھوں سے بیگز اٹھا کر گاڑی میں رکھنے لگا۔

ان کا یہ انداز شاویز کو بہت متاثر کر گیا تھا۔ اس نے پلکیں جھپکاتے ہوئے صادق سر کو دیکھا۔ ان کے تاثرات ان کی چال ان کے بولنے کا انداز بلکل ہی بدل گیا تھا۔ وہ کہی سے بھی اسے ہوٹل میں ملے نرم گو یا ٹرین میں اسے اپنے گود میں سلانے والے انسان نہیں لگ رہے تھے۔ اب جا کر وہ اسے سچ مچ کے فوجی آفسر لگ رہے تھے۔ ہر قدم پر اسے نیا نیا سرپرائز مل رہا تھا۔

ان کے ساتھ تیز تیز چل کر وہ گاڑی میں آکر بیٹھ گیا۔ اسے محسوس ہوا کہ ڈرائیونگ سیٹ پر اور ساتھ والے سیٹ پر بیٹھے دونوں نوجوانوں نے مڑ کر اسے مشکوک نظروں سے دیکھا لیکن صادق سر کا خیال کرتے ہوئے خاموش رہے۔ ان کی نظروں سے وہ چھنپ سا گیا۔

گاڑی کوئٹہ شہر سے ہوتے ہوئے کینٹ کے فوجی بیس جانی تھی۔ ابھی کچھ اور سفر باقی تھا۔ پتا نہیں کبھی بیس سے نکلنے کا موقع ملے یا نہ ملے تو ابھی ہی وہ کوئٹہ کا شہر دیکھ لے؛ سوچتے ہوئے وہ کھڑکی کے قریب کھسک کر باہر دیکھنے لگا۔

کراچی کے نسبت کوئٹہ کافی غیر ترقی یافتہ چھوٹا شہر تھا۔ وہاں کے لوگ بہت سادا مزاج اور خوش اخلاق تھے۔

جب وہ کینٹ کے حدود میں داخل ہوئے تو اسے کئی سارے چیک پوسٹ نظر آئے۔ ہر چیک پوسٹ میں تعینات وردی والے اندر بیٹھے صادق صاحب کو دیکھ کر سیلوٹ کرتے اور ان کی گاڑی آگے بڑھتی جاتی۔

اس نے رخ پھیر کر صادق صاحب کو دیکھا اتنے ٹھاٹ باٹ اور آہو بھگت کے باوجود بھی ان میں زرا برابر بھی غرور و تکبر نہیں تھا۔ کتنے سیدھے اور شریف انسان ہے۔ ہر سیلوٹ کا وہ مسکرا کر سر کے خم سے جواب دیتے۔ ان کا یہ اندازِ زندگی دیکھ کر شاویز نے بھی یہ ارادہ بنا لیا تھا کہ زندگی میں چاہے جتنی بھی بلندی آجائے وہ ہمیشہ صادق سر کی طرح سیدھا اور شریف رہے گا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

بیس کے اندر آکر وہ مانو فلموں کی دنیا میں آگیا ہو۔ ہر طرف وردی میں مبلوس فوجی آفسران۔ کچھ ٹریننگ کرتے نوجوان۔ بڑے بڑے وسیع و عریض کمرے۔ الگ الگ تربیتی کیمپ اور سامان۔ کچھ حقیقی کچھ مصنوعی آلات۔

شاویز آنکھیں بڑی کر کے ہر ذرے کا مسرور و محظوظ ہو کر جائزہ لے رہا تھا۔

گاڑی رکی تو وہ حیرت سے آس پاس دیکھتا شاکی حالت میں نیچے اترا۔

“مشتاق۔۔۔۔ میرا سامان گھر چھوڑ کر آو۔۔۔ اور بچوں سے کہنا میں شام کو گھر آو گا۔۔۔۔” صادق صاحب نے اس کا بیگ اٹھا کر اس نوجوان کو ان کا سامان گھر پہنچانے کی ہدایت دی تو وہ سر ہلاتا ہوا پھر سے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔

فوجی بیس میں ٹریننگ ایریا سے نکل کر کچھ آگے کینٹ میں ہی وہاں کے آفسران کے لئے ایک یا دو بیڈروم پر مشتمل گھر فراہم کئے گئے تھے۔ جہاں شادی شدہ آفسران اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔ صادق صاحب کا بھی ایسا ہی ایک گھر تھا۔

“چلو ننھے نوجوان۔۔۔۔ تمہیں تمہارا کواٹر دکھاتا ہوں۔۔۔۔” شاویز کو مخاطب کرتے ہوئے وہ پھر سے تیز قدموں سے ان لمبے اور بڑے ہال نما کمرے کی جانب چلنے لگے۔

“آپ کے بچے ہیں۔۔۔۔” شاویز نے پہلی مرتبہ ان سے پرسنل سوال پوچھا۔

صادق صاحب نے ایک تعجبی نظر اس پر ڈالی اور پھر سے سامنے دیکھنے لگے۔ شاویز کو اپنے ایسا سوال پوچھنے کی بیوقوفی پر شرمندگی ہوئی وہ سر جھکا کر لب کاٹنے لگا۔

“بلکل ہے۔۔۔۔ تین بچے ہیں۔۔۔” صادق صاحب نے دوستانہ انداز میں جواب دیا۔

شاویز کو وہ پھر سے صبح والے صادق سر لگ رہے تھے۔

“میرے جتنے” اب کی بار اس نے بغیر جھجکے پوچھا۔

“ہمممم۔۔۔۔۔ تم سے تھوڑے چھوٹے ہیں۔۔۔۔ بیٹا 9 سال کا ہے۔۔۔۔ بیٹی 7 سال کی۔۔۔۔ اور سب سے چھوٹی والی ابھی 4 سال کی ہیں۔۔۔۔ ایک دن تمہیں ان سے ضرور ملواوں گا۔۔۔” انہوں نے خوش مزاجی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔

شاویز کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ صادق سر کے بچوں کے بارے میں سوچ کر ابھی سے خوش ہونے لگا۔

ایک وسیع و عریض ہال کا انہوں نے ناب گھما کر دروازہ کھولا۔ اندر قطار سے دونوں طرف کچھ کچھ فاصلے سے سنگل بیڈ پڑے تھے۔ 20 سٹوڈنٹس پر مشتمل 15 اور 16 سالہ لڑکوں کا جمکٹا جو بستر پر کودتے ناچتے ایک دوسرے کو مارتے گراتے شور مچا رہے تھے؛ صادق سر کو دیکھتے ہی سب سہم گئے اور تیزی سے ایک لائن بنا کر کھڑے ہوگئے۔

صادق سر سپاٹ تاثرات بنائے اس کا بیگ اٹھائے قدم قدم چلتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔ شاویز بھی ان کی پیروی کرتا ان کے ساتھ چلنے لگا۔

آخری قطار کے سنگل بیڈ کے پاس انہوں نے اس کا بیگ رکھا۔

“یہ تمہارا بستر ہے۔۔۔۔۔ اور وہ واشرومز۔۔۔” انہوں نے وسطی دیوار کی طرف اشارہ کر کے بتایا جہاں قطار سے چار واشرومز بنے تھے۔

ان کے رعب دار حکم کا شاویز نے موودب انداز میں سر کو جنبش دے کر جواب دیا۔

اپنے ساتھی آفسران اور سٹوڈنٹس کے سامنے وہ اس سے بھی نئے سٹوڈنٹ کی طرح قدرے سختی سے پیش آتے اور اکیلے میں دوستانہ انداز میں۔

“یہاں سے آگے کے مراحل تمہیں اکیلے طے کرنے ہیں۔۔۔۔ میرا کام صرف تمہیں راستہ دکھانا ہے۔۔۔۔ اسے پار تم نے اپنے بل بوتے پر کرنا ہے۔۔۔۔ انڈرسٹینڈ۔۔۔۔” اب کی بار انہوں نے سپاٹ انداز میں ہی قدرے نرمی سے کہا۔

“یس سر۔۔۔۔” اس نے نئے جذبے سے ہامی بھری۔

اسے اس کی جگہ بتا کر وہ واپس پلٹے۔ آپس میں چی مگوئیاں کرنے والے سب لڑکے سیدھے ہو گئے۔

“نیا سٹوڈنٹ ہے۔۔۔۔ and i want you all to be nice with him( میں چاہتا ہوں۔۔۔ آپ سب اس کے ساتھ اچھے سے پیش آئے) ” انہوں نے شاویز کو ان سب سے متعارف کروایا۔

سب اسے دیکھنے لگے۔ کچھ اچھے انداز سے کچھ بے رخی سے اور کچھ بیزاری سے۔

“اور جتنا کھیل کود کرنا ہے آج کر لو۔۔۔۔ کل سے گراونڈ میں؛ میں کسی کا کوئی بہانہ نہ سنوں۔۔۔۔۔ 6am شارپ۔۔۔۔۔ ” صادق سر نے سب کو مخاطب کیا تو سب نے یک جا ہو کر تہذیب سے یس سر کا نعرہ بلند کیا۔

سب اپنے اپنے بستر کی جانب بڑھنے لگے اور صادق سر پھر سے شاویز کے جانب متوجہ ہوئے۔

” آج تم آرام کرو۔۔۔۔ کل گروانڈ میں ملتے ہیں۔۔۔” انہوں نے نرمی سے اس کے کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا۔

شاویز ان کے شفقت پر مسکرا دیا۔

“اسد۔۔۔۔” انہوں نے ایک بڑے لڑکے کو مخاطب کیا وہ تیزی سے ان کے پاس آیا اور ہاتھ پیچے باندھ کر سر اوپر اٹھائے ترتیب سے کھڑا ہوگیا۔

“اسے یہاں کے طور طریقوں سے گائیڈ کرتے رہنا۔۔۔۔ اور ہمارے ٹریننگ پوانٹس بھی دکھا دینا۔” صادق سر نے اس بڑے لڑکے سے بھی اسی طرز نرمی سے بات کی۔ وہ اوکے سر کہتا ہوا ان کے ہدایت پر عمل پیرا ہوگیا۔

صادق سر وہاں سے چلے گئے تو وہ اپنے بیگ سے تولیہ برش پیسٹ وغیرہ لے کر واشروم میں جانے لگا۔ وہ مسلسل سب کو نظرانداز کئے ہوئے تھا۔ حالانکہ اس نے اپنا آدھا پچپن ایسی ہی لڑکوں اور بچوں کے بیچ گزارا تھا لیکن اس وقت ان لڑکوں سے اسے قدرے ڈر لگ رہا تھا۔ پتا نہیں وہ صادق سر کی بات مانے گے یا نہیں۔ وہ اس سے کیسا رویہ رکھے گے؛ سوچتے ہوئے اس کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

لڑکوں کے گروپ کا ایک شرارتی لڑکا اس کے پاس آیا اور اس کے گرد گول گول گھومنے لگا۔

“اچھے سے پیش آئے ہاں۔۔۔۔۔ ایسا کیا ہے اس میں۔۔۔۔۔۔ جو کرنل سر اتنی حمایت کر رہے تھے۔۔۔” کبیر نے بے رخی سے کہتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں پکڑی چیزیں جھڑپ کر دور پھینک دی۔

اس کے حرکت پر اس کے گروپ والے سب ہنسنے لگے۔ شاویز کو آتے ہی لڑائی جھگڑا نہیں کرنا تھا اس لیے ضبط کرتے ہوئے صرف خاموشی سے اسے گھور کر اپنے چیزوں کے پاس گیا اور جھک کر اٹھانے لگا کہ دوسرے لڑکے نے لات مار کر سب پرے کھسکا دی۔ شاویز کے آبرو تن گئے وہ دانت پر دانت جمائے ہوئے اسے گھورنے لگا۔ بولا اب بھی کچھ نہیں۔ جب وہ آگے جا کر پھر سے جھکا اور سامان اٹھانے لگا تو کبیر نے ہنستے ہوئے لات مارنے کے لیے پاوں اٹھایا ہی تھا لیکن شاویز نے مظبوطی سے جکڑ لیا۔ کبیر ہلتا جلتا اس کے گرفت سے اپنا پاوں آزاد کروانے لگا۔ اس نے دوسرے ہاتھ سے اپنا سامان اٹھایا اور اٹھتے ہوئے کبیر کا پیر اوپر کو کھینچا تو وہ ڈگمگا کر گر پڑا۔

باقی سب خاموش تماشائی بنے یہ سب دیکھتے رہے۔

کبیر اٹھا اور ناک پر غصہ جمع کرتا اسے مارنے لگا تھا۔ شاویز اسی سپاٹ انداز میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا پر اسد نے کبیر کو پکڑ کر پیچے کر لیا۔

“کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔ سر نے کہا ہے نا۔۔۔۔۔۔ اچھے سے رہنا ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں جھگڑا کھڑا کر رہے ہو۔۔۔” اس نے تیزی سے کہتے ہوئے کبیر کو پرے دھکیلا۔

وہ غصے سے آگ بگولا ہوتا ہوا اسد کو اور اس کے پیچے کھڑے شاویز کو گھورتا ہوا باہر نکل گیا۔

شاویز سر جھٹکتا ہوا فریش ہونے واشروم میں چلا گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

فریش ہو کر وہ اسد کے ساتھ ہال سے باہر آگیا۔ وہ اسے اپنے ساتھ ان کے ٹریننگ پوانٹس کے بارے میں بتاتا رہا۔

“یہاں سب سے پہلے باڈی ٹریننگ شروع کرتے ہیں۔۔۔۔ یہ جگہ ورزش کے لیے ہیں۔۔۔” اسد ایک ایک چیز کے پاس جا کر ان کے نام بتانے لگا۔

وہ ایک جم نما میدانی کمرا تھا جہاں باڈی بنانے کے الگ الگ مشینری اور آلات پڑے تھے۔

کچھ آگے چل کر ایک اور جگہ اسد پھر سے گائیڈ کی طرح اسے وہاں کی خصوصیات بتانے لگا۔ وہ کچی زمین تھی اور زمین سے ایک فٹ جتنا اوپر خار دار تاریں بچھی تھی۔ اور آگے رسی کے جالے بنے تھے پھر لمبی دیوار تھی جس کو پھلانگ کر اگلے حصہ تک جانا تھا۔

“یہاں سے مین ٹریننگ شروع ہوتی ہیں۔۔۔۔” اس جگہ کی تفصیلات بتا کر اسد نے اس کے پاس آکر کہا۔

شاویز نے اس کے تفصیلات سمجھنے کے انداز میں سر کو جنبش دیا۔

“کہاں سے آئے ہو۔۔۔” اسد اب اسے لیئے دوسرے حصے میں جا رہا تھا۔

“کراچی سے۔۔۔۔” شاویز نے سیدھے انداز میں چلتے ہوئے کہا۔

“کرنل سر کے اپنے ہو۔۔۔۔” اسد نے مشکوک انداز میں پوچھا۔

پتا نہیں صادق سر مجھے یہاں کس رشتے کے غرض سے لائے ہیں؛ سوچتے ہوئے وہ اسد کو مناسب جواب دینے کے لیے رک رک کر بات کرنے لگا۔

“کچھ ایسا ہی سمجھو۔۔۔۔” اتنا کہتے ساتھ شاویز تیز چلنے لگا تا کہ اسد اس کی شخصیت کے بارے میں مزید سوال نہ کریں۔

ایک جگہ قریب آکر وہ رک گیا۔ وہاں بڑے نوجوانوں کی ٹریننگ کی جا رہی تھے۔ ویسے تو اتوار کا دن تھا لیکن وہ جوان لڑکے پھر بھی اپنی پریکٹس میں لگے تھے۔

“کل ان کا سلیکشن ڈے ہیں۔۔۔۔۔ جو بھی کل ان میں سے پاس ہوجائے گا۔۔۔۔۔ وہ آرمی میں بھرتی ہونے کے لیے بھیج دیا جائے گا۔۔۔۔” شاویز کو سپاٹ انداز میں ان لڑکوں کو اتوار کو بھی ٹریننگ کرتے حیرانگی سے دیکھتے ہوئے دیکھ کر اسد نے مختصر سی وضاحت کی۔

” تم کیوں فوجی بننا چاہتے ہو۔۔۔۔” اس نے دوستانہ انداز میں شاویز کو مخاطب کیا۔

ابھی اس کی کسی سے اتنے حد تک دوستی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کسی کو بھی اپنا اصل مقصد بتا سکے۔

“ہممم۔۔۔۔۔ بس مظبوط بننا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔” شاویز نے اپنے اندرونی کیفیت چپاتے ہوئے کہا۔

“تم کیوں بننا چاہتے ہو۔۔۔” اس سے پہلے اسد اس سے مزید سوال کرتا شاویز نے پہلے سوال کر دیا۔ اسے بار بار موضوعِ گفتگو بننا برا لگ رہا تھا۔

“ہم مشرقی بچوں کی اپنی کیا چاہت ہے۔۔۔۔ اس سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔۔ ہمیں تو بس والدین کے پسند کردہ پیشہ پر گامزن ہونا ہوتا ہے۔۔۔۔۔” اسد نے بے بسی سے سر جھٹکا۔

“میرے ڈیڈ آرمی آفسر رہ چکے ہیں۔۔۔۔ وہ چاہتے ہیں ان کے سارے بچے بھی اسی پیشے سے منسلک ہو۔۔۔۔۔ میرا بڑا بھائی آرمی ڈاکٹر ہے۔۔۔۔۔ بہن ایر فورس کی سٹڈی کر رہی ہے۔۔۔۔۔ تو مجھے بھی آرمی آفسر ہی بننا ہے۔۔۔۔۔ سمپل۔۔۔” اس نے بے زاری سے ہاتھ اٹھا کر کہا۔

شاویز محض ایک پھیکی مسکراہٹ بنائے اسے دیکھتا رہا۔

چلتے چلتے وہ دونوں واپس ہال میں آئے۔

اپنے بستر کے پاس آتے ہی اس کے عصاب تن گئے۔ اس کا سارا سامان بیڈ پر بکھرا پڑا ہے۔ وہ جانتا تھا یہ کام کس کا ہو سکتا ہے۔ اس نے مڑ کر تند نظروں سے کبیر کو دیکھا۔ وہ ہونٹ دانتوں میں دبائے استحزیہ انداز میں آبرو ریزی کرتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔

“یہ میرے صبر کا بہت امتحان لے رہا ہے۔۔۔۔ لیکن مجھے یہاں لڑنا نہیں ہے۔۔۔۔” شاویز نے دل ہی دل سوچ کر سر جھٹکا اور سپاٹ تاثرات بنائے واپس اپنا سامان بیگ میں ڈالنے لگا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کھانا لگنے سے دس منٹ پہلے زور سے ایک بیل بجائی جاتی تا کہ جو جہاں ہے سب چھوڑ کر ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے آجائے۔

گھنٹی بجی تو اسد نے اسے کھانے کے لیے چلنے کی رہنمائی کی۔ وہ اس کے ہمراہ ہاتھ دھو کر ان ہی کے بیڈروم جیسے ہال نما کمرے سے بھی بڑے ایک اور ہال میں در آیا۔ وہاں جتنے بھی سٹوڈنٹس تھے ٹین ایج لڑکے یا بڑے نوجوان سب کو ایک ہی جگہ پر کھانا ملتا تھا۔ وہ اسد کے ساتھ بھاگتا ہوا ان کی قطار میں کھڑا ہوگیا۔

10 سے 15 مردوں پر مشتمل کچن کے کارکنان تیز تیز سب کو ایک برابر تقسیم شدہ کھانے کے پلیٹ پکڑا رہے تھے۔ وہاں کے روٹین کا الگ ہی نظام تھا۔ روزانہ ناشتے لنچ اور ڈنر میں ملنے والا غذا کے نام نوٹس بورڈ پر لگا دیئے جاتے پھر جیسے مرضی کھانا ہو جیسے مرضی بھوکا رہنا ہو اس کے علاوہ کوئی اور اشیاء بنانے پر سخت پابندی عائد کردی گئی تھی۔

“تمہارا آئی کارڈ کہاں ہے۔۔۔” اس آدمی نے اسے پلیٹ پکڑاتے ہوئے پوچھا۔

“یہ آج ہی آیا ہے۔۔۔۔۔ کل تک کارڈ بنا لے گا۔۔۔” اسد نے مداخلت کر کے اس کی وضاحت دی۔

وہ موٹا آدمی سرد مہری سے اسے پلیٹ پکڑا کر آگے بڑھ گیا۔

“کرنل سر سے کہہ کر۔۔۔۔ کل تک اپنا کارڈ بنوا لینا۔۔۔۔۔ یہ لوگ بغیر کارڈ کے کھانا نہیں دیتے۔۔۔۔” اسد نے بیٹھتے ہوئے اسے ہدایت دی۔

اس نے سر اثابت میں ہلایا اور آس پاس رش میں نظر گردانی کی تو سب کے گلے میں بلیو رنگ کے ربن لگے آئی کارڈز تھے۔

وہ ابھی کھانا شروع ہی کرنے لگا تھا کہ کبیر شرارتی انداز میں بھاگتا ہوا اس کے سیٹ سے گزرا اور پانی سے بھرا گلاس اس کے پلیٹ میں انڈیل دیا۔ وہ ٹھٹک گیا۔ پل بھر میں دال اور چاول مچھلی کی طرح پانی میں تیرنے لگے۔ اس نے منہ بھسورتے ہوئے اسے دیکھا وہ ہنستا ہوا بھاگ کر قطار کے دوسرے وسط میں اپنی سیٹ پر جا بیٹھا۔

اسد نے اٹھ کر اسے گالی نکالی۔ شاید وہ اور کوستا پر شاویز نے روک لیا۔

“رہنے دو اسد۔۔۔۔ تم اپنا لنچ کرو۔۔۔۔۔ میں وارڈن سر سے کہہ کر آتا ہو۔۔۔۔” اس نے مستحکم انداز میں کہا اور اپنی پلیٹ لیئے اٹھ گیا۔ لمبے ہال کے آخر میں سٹاف روم تھا جہاں سب کارکنان اٹھتے بیٹھتے۔ سب سٹوڈنٹس خاموشی سے اپنے کھانے میں مشغول تھے۔ وہ سب کو پار کرتا ہوا سٹاف روم تک آیا موودب انداز میں دروازے پر دستک دی۔ اسی موٹے وارڈن نے دروازہ کھولا۔

“سر میرے ایک ساتھی نے میرے کھانے میں پانی گرا دیا۔۔۔” اس نے احتیاط سے اپنا مطالبہ بیان کیا۔

“تو میں کیا کروں۔۔۔۔” جواب بہت کرہٹ بھرا ملا۔

” مجھے دوسرا پلیٹ دیں دے۔۔۔۔” اس نے گہری آنکھیں ان پر مرکوز کر کے کہا۔

“دیکھو بچے۔۔۔۔۔ یہ اکیڈمی ہے۔۔۔۔۔ تیرے باپ کا ولیمہ نہیں چل رہا۔۔۔۔ یہاں سٹوڈنٹس اور سٹاف کو گِن کر کھانا بنایا جاتا ہے۔۔۔۔۔ ایسے کوئی بھی دس دفعہ اٹھ کر آجائے کھانا مانگنے تو کیا ہم دیتے رہے۔۔۔۔۔ پلیٹ ضائع کر دی۔۔۔۔ تو اب بھوکے رہو۔۔۔۔ اور نہیں ملے گا۔۔۔” وارڈن نے سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا اور دروازہ اس کے منہ پر بند کر دیا۔

شاویز نے مایوسی سے پہلے بند دروازے کو دیکھا پھر اسد کو۔ اگر وہ خالی ہاتھ واپس گیا تو اسد شاید اپنا پلیٹ اسے پیش کریں؛ جو شاویز ہرگز نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے خاموشی سے اسد کی نظروں سے بچتے ہوئے وہ مین گیٹ کی جانب بڑھ گیا اور باہر نکل گیا۔ جاتے جاتے اس نے ایک غصیلی نگاہ کبیر پر ضرور ڈالی تھی۔

“اب بس بہت ہوا۔۔۔۔۔ دوبارہ اس نے کوئی ایسی حرکت کی۔۔۔۔۔ تو میں اس کا منہ توڑ دوں گا” دل میں سوچتے ہوئے وہ بھاگتا ہوا اپنے بستر پر آکر لیٹ گیا۔

اسے شدید بھوک لگ رہی تھی۔ کل رات سٹیشن کے ہوٹل پر کھانے کے بعد سے اس نے اب تک کچھ نہیں کھایا تھا اور دوپہر کا لنچ بھی کبیر کی وجہ سے ضائع ہوگیا تھا۔ اسے یک دم اپنی ماں کی بہت یاد آنے لگی جو اس کی ایک آواز پر خود بھوکی رہتی لیکن اسے ضرور کھانا دیتی۔ کافی دنوں بعد زرتاج کو یاد کر کے اس کی آنکھیں بھر آگئی لیکن وہ رویا نہیں۔ اسے اب اپنے آنسو کنٹرول کرنے تھے۔ اسے مظبوط بننا تھا۔

جب لنچ سے فارغ ہوکر اسد وہاں آیا تو شاویز نے آنکھیں موند لی اور سونے کی اداکاری کرنے لگا۔ اس وقت اسے اسد سے رو بہ رو نہیں ہونا تھا۔ وہ کھانے کے وقت کہاں غائب ہوگیا؛ اس جیسے سوالات کے اس کے پاس جوابات نہیں تھے۔

عصر تک وہ بے مقصد بستر پر پڑا رہا۔ پھر اٹھ کر وضو کیا اور باہر آیا۔ دُور پلے گراونڈ میں اسد اور باقی ساتھی فٹبال کھلتے نظر آرہے تھے۔ وہ واپس مڑ کر اکیڈمی کے گیٹ کے سامنے مسجد میں چلا گیا۔ عصر کی نماز ادا کر کے وہ قرآن پاک لے کر بیٹھ گیا۔ اسے اپنے قاری صاحب کی نصیحت یاد آگئی تھی۔ مغرب تک اس نے تلاوت کی پھر مغرب کی نماز ادا کر کے اکیڈمی میں آگیا۔

شاویز کو صبح رخصت لینے کے بعد سے صادق سر نظر نہیں آئے تھے۔ شاید وہ اپنے گھر چلے گئے تھے جیسا کہ انہوں نے صبح اس نوجوان سے کہلوایا تھا۔

اسے اپنے یتیم خانے اپنے ہوٹل اور سب سے زیادہ دائی ماں کی بہت یاد ستانے لگی۔

کیا اس نے یہاں آکر غلطی تو نہیں کر دی۔ اس سے ایک دن بھی یہاں رہا جا رہا وہ اتنے سال کیسے رہے گا۔ کیا اسے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے؛ سوچتے ہوئے بھاری قدموں سے چلتا ہوا اپنے بستر تک آیا کہ اسد نے اس کے کندھے پر تھپکی ماری۔

“کہاں تھا یار۔۔۔۔ کب سے ڈھونڈ رہا تھا تجھے۔۔۔” اس نے پھولے ہوئے سانس سے کہا۔ وہ ابھی ابھی کھیل سے فارغ ہوکر آیا تھا۔

“مسجد گیا تھا۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔” شاویز نے اپنے خیالات مہو کرتے ہوئے جواب دیا۔

“ارے فٹبال کھیلنے بلا رہا تھا۔۔۔” وہ اسی کے ساتھ والے بستر پر نیم دراز ہوا۔

“مجھے فٹبال نہیں آتا” شاویز بھی اسی کے طزر میں نیم دراز ہوا اور ہاتھ سر کے پیچے ٹکا دیئے۔

“تو والی بال کھیل لیتے۔۔۔۔” اسد نے مسکراتے ہوئے تجویز دی۔

” مجھے کوئی کھیل نہیں آتا۔۔۔۔” شاویز نے سادگی سے جواب دیا۔

اس کی بات پر اسد قدرے حیران ہو کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

“مطلب۔۔۔۔ تم نے کبھی گلی میں لڑکوں کے ساتھ کرکٹ بھی نہیں کھیلی۔۔۔۔” اسد نے استحزیہ ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہا۔

“تو کرتے کیا تھے پورا دن۔۔۔۔” اس نے ہنسی روکتے ہوئے مزید اضافہ کیا۔

“ہوٹل میں مزدوری کرتا تھا۔۔۔” شاویز نے مدھم آواز میں کہا لیکن ساتھ لب بھی کاٹنے لگا جیسے اپنے بات پر پچھتا رہا ہو۔

اسد نے حیرت سے آبرو اچکا کر تعجبی انداز میں اسے دیکھا پھر اس کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔

“ہاں تو محنت سے کام کرتے تھے۔۔۔۔ اس میں شرمانے کی کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔ ” اس نے اس کے کندھے کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے کہا۔

“چلو۔۔۔۔ اب ہاتھ دھونے چلتے ہیں۔۔۔۔۔ 7 بجے ڈنر کا ٹائم ہے۔۔۔” اسد نے موضوع بدلتے ہوئے کہا اور اسے ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جانے لگا۔

ڈنر کے وقت وہ بہت محتاط انداز میں بیٹھا تھا۔ اپنے سارے حس بیدار رکھے وہ تیز نظروں سے آس پاس دیکھتا رہا کہ کہیں سے آگر کبیر کوئی مستی کرنے لگے تو وہ اسے روک لے۔ اسے کسی قیمت رات کا کھانا ضائع نہیں کرنا تھا۔

کھانے کے بعد 9 بجے سب سونے چلے گئے پر وہ اپنی کتابیں لے کر بیٹھ گیا۔ وہ پہلے ہی کافی وقت برباد کر چکا تھا اب اس کے لیے ایک ایک منٹ قیمتی تھا اور بنا ضائع کئے اسے اپنے پڑھائی پر لگنا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

صبح چھ بجنے سے پانچ منٹ پہلے دھڑا دھڑ دوازہ بجا۔ لڑکوں نے عنودگی سے باہر نکل کر وقت دیکھا تو سب کے طوطے اڑ گئے دھکم پیل کرتے ہوئے سب فریش ہونے واشروم پر لڑ پڑے۔

ابھی وہ سب لڑ ہی رہے تھے جب فجر کی نماز ادا کر کے مین دروازے سے شاویز حیران پریشان اندر داخل ہورہا تھا۔ اس نے تعجب سے سب کو دیکھتے ہوئے ایک لڑکے کو روکا۔

“کیا ہورہا ہے۔۔۔۔۔ یہ ہنگامہ کس بات کا مچا ہے۔۔۔۔” اس نے لڑکوں کے ہنگامے کو دیکھ کر پوچھا۔

“چھ بجے کرنل سر کی کلاس ہے۔۔۔ اس لیے سب میں پہلے فریش ہونے کی جلدی مچی ہے” اس لڑکے نے پھرتی سے جواب دیا اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔

دسمبر کی سردی میں سب کانپتے ہانپتے لائن سے کھلے آسمان تلے کھڑے ہوگئے۔ شاویز بھی ان کے ساتھ کھڑا تھا جب اس نے بھاری بوٹوں کی چھاپ سنی۔

کرنل صادق غفار اپنی وردی میں تیار۔ چوڑے شانے۔ سیدھی کمر۔ سینہ تھانے۔ چہرے پر سنجیدگی بنائے ان کی جانب آرہے تھے۔

سب کو جانچتے ہوئے وہ شاویز کے آگے آکر رک گئے۔ چہرے پر تاثرات تو سپاٹ تھے لیکن آنکھوں میں نرمی اور خوش دلی کو شاویز سمجھ گیا اور جواب میں ہلکا مسکرا دیا۔

واپس پلٹ کر صادق صاحب نے باقی لڑکوں کو تین دفعہ پورے گراونڈ میں دوڑ لگانے کا حکم صادر کیا اور شاویز کو وہی رکنے کا کہا۔

اس کے کہنے سے پہلے ہی صادق سر اس کا آئی کارڈ بنا کر لے آئے تھے۔ انہوں نے جیب سے نکال کر کارڈ اسے تھمایا۔

“تو نوجوان شاویز۔۔۔۔۔ کیسا رہا اب تک کا وقت۔۔۔۔۔ اڈجسٹ ہوگئے۔۔۔۔۔” انہوں نے شریر انداز میں پوچھا۔

“کچھ وقت لگے گا پر اڈجسٹ ہوجاو گا۔۔۔۔” اس نے جذبات سے سرشار ہوتے ہوئے کہا۔

“سوچ لو۔۔۔۔۔ ابھی کچھ دن ہے تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔ ارادہ بدل جائے تو بتا دینا۔۔۔۔۔ میں اگلی ٹرین سے واپس بھیجوا دوں گا۔۔۔۔” صادق سر نے تند تاثرات بنائے اسے دیکھا۔

“ایک مرتبہ میں جو ٹھان لوں تو وہ کر کے رہتا ہوں۔۔۔۔۔ یہاں آیا ہوں تو کچھ بن کر ہی جاو گا۔۔۔”شاویز نے پختہ ارادہ کرتے ہوئے کہا۔

“تو ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔۔ شروع کرتے ہیں۔۔۔” وہ اسے لے کر جم ایریا میں آگئے تھے۔

وہاں ایک کارکن پہلے سے موجود تھا۔ صادق سر نے اپنی ٹوپی اور چھڑی ٹیبل پر رکھتے ہوئے اسے سامنے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ ان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے سامنے آیا اور بغور انہیں دیکھنے لگا۔

“آغاز مارشل آرٹس سے کریں گے۔۔۔” کرنل سر نے آستین کہنیوں تک موڑتے ہوئے کہا تو اس نے سر اثابت میں ہلا دیا۔

مارشل آرٹس کا آغاز 600 سال پہلے چائنہ اور انڈیا میں ہوا۔ عموماً اس کا استعمال ذاتی دفاع (personal defence) کے لیے کیا جاتا۔ اس کے علاوہ جنگ میں؛ شکار کے لیے؛ لڑائی میں بھی مارشل آرٹس آزمایا جاتا۔

ہر میدان میں استعمال ہونے کے لیے مارشل آرٹس کے الگ الگ طریقے ہوتے ہیں۔ اسے کھیل کے طور پر بھی سیکھایا جاتا ہے۔ مارشل آرٹس ہمت بڑھانے؛ با اعتماد بننے؛ چست و تندرست اور ذہنی طور پر پُر سکون رہنے کا بھی نام ہیں۔

مارشل آرٹس کی دو بڑی اقسام ہے۔

ایک Unarmed (بغیر ہتھیار کے)

اس قسم میں ہاتھوں اور پیروں کا استعمال کر کے مقابلہ کیا جاتا ہے۔

یہ قسم لڑنے؛ مقابلہ کرنے؛ اور سیلف ڈیفنس میں استعمال ہوتا ہے۔

اس قسم میں

مقہ زنی (karate, boxing )

لات مار (karate, taekwondo, kickboxing)

اٹھا پٹک (judu, jujutso, wrestling)

جیسے طریقہ کار آمد ہوتے ہیں۔

دوسری قسم armed (ہتھیار کے ساتھ ) ہے

اس قسم میں مختلف ہتھیار استعمال کئے جاتے ہیں۔

جیسے تلوار زنی؛ تیر اندازی؛ چاقو سے نشانہ بندی اور ڈنڈے سے مقابلہ کرنا شامل ہے۔

مارشل آرٹس چائنہ جاپان انڈیا امریکہ اسرائیل اور جرمی میں خاص طور پر فوجی تربیت میں سکھانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کرنل صادق بھی اپنے سٹوڈنٹس کو ذہنی اور جسمانی طور پر توانا بنانے لیے ٹریننگ کا آغاز مارشل آرٹس سے کرواتے۔

اس وقت وہ شاویز کو کچھ ورزشی عمال اور کراٹے کی شروعات کے عمال بتا رہے تھے۔

شاویز پوری لگن سے ان کے بتائے سارے احکامات پر عمل کرتا رہا۔ شروع شروع میں اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بار بار گر کر اٹھنا۔ گھٹنوں اور کہنیوں کی جلد چھل گئی۔ کبھی ڈنڈا چلاتے چلاتے خود کو ہی لگ جاتا۔

دو ماہ تک اس نے ہر طرح کے چھوٹ برداشت کر کے۔ گر کر اٹھ کر۔ درد سہہ کر۔ راتوں کی نیند حرام اور دن کا چین گنوا کر۔ سردی بارش برفباری کی فکر کئے بغیر خوب محنت کی۔

مارچ کا مہینہ شروع ہوا تو اس کے سب ساتھی وہی بیس کے اسکول جانے لگے جبکہ شاویز اپنے آپ کے ساتھ ہی دسویں جماعت کی کتابیں پڑھتا رہتا۔

اسے جلد از جلد اپنی تیاری مکمل کرنی تھی کیونکہ کچھ ہی دنوں میں اسے واپس جا کر اپنے بورڈز کے امتحانات دینے تھے۔ اس نے اسی کے چلتے پچھلے دو ماہ میں سپورٹس کی کلاس نہیں لی تھی۔

ایک دن وہ صادق سر کی کلاس کے بعد بیٹھا اپنا پڑھ رہا تھا جب اس نے اپنے سامنے ایک جوان توانا مرد کو کھڑے ہوتے دیکھا۔ اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا وہ 27 سالہ جوان آدمی ان کا سپورٹس کوچ تھا۔ قد کاٹ میں وہ بھی لمبے۔ چوڑے شانے۔ مظبوط باڈی کے حامل تھے۔

شاویز شرمسار ہوتا ہوا احترام سے کھڑا ہو گیا۔

“کنڈیٹ شاویز۔۔۔۔” ریحان احمد نے اس کے آئی کارڈ سے اس کا نام پڑھ کر مخاطب کیا۔

“آپ میری کلاس نہیں لیتے۔۔۔۔۔۔ سپورٹس نہیں پسند یا میں۔۔۔۔” انہوں نے سرد مہری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

“سوری سر۔۔۔۔۔ میں ایگزیمز کی تیاری کر رہا تھا۔۔۔۔۔ موقع نہیں ملا۔۔۔۔۔۔ امتحانات کے بعد۔۔۔۔ آپ کی ڈبل کلاسز لوں گا۔۔۔۔ شاویز نے معصومیت سے جواب دیا۔

“اسکول کیوں نہیں گئے۔۔۔۔۔ ” وہ قدم قدم چل کر اس کے سامنے بینچ پر بیٹھ گئے۔

“اسکول جانے کے لیے فیس نہیں ہے۔۔۔۔۔” شاویز ہاتھ میں کتاب پکڑے کھڑا رہا۔

ریحان احمد نے تعجبی انداز میں آبرو سکیھڑ کر اسے سر سے پیر تک دیکھا۔

“کس کے ریفرنس پر آرمی اکیڈمی میں آئے ہو۔۔۔۔” شاویز کے حرکات و سکنات بغور مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے اسے قریب بلایا۔

“صادق سر کے ریفرنس سے۔۔۔۔” شاویز نے با اعتماد لہجے میں کہا ۔

ریحان سر کرنل صادق کے نام پر سیدھے ہو گئے۔ شاویز کو لگا جیسے وہ خود بھی صادق سر سٹوڈنٹ رہ چکے ہے۔

“ہممم۔۔۔۔۔ امتحانات ختم کرنے کے اگلے دن سے سپورٹس جوائن کر لینا۔۔۔۔” اسے تاکید کرتے ہوئے وہ اٹھے اور دو قدم آگے بڑھ گئے لیکن پھر رک کر واپس مڑے۔

“کیا پڑھ رہے تھے۔۔۔۔” انہوں نے شاویز کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر پوچھا۔

شاویز نے انہیں اپنا مطلوبہ سبق بتایا تو وہ واپس بینچ پر بیٹھ کر اسے پڑھانے لگے۔

شاویز کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ خوشی سے محظوظ ہونے لگا۔ اسے واقعی ان دنوں کوئی پڑھائی میں مدد کرنے والا چاہیئے تھا حالانکہ اس نے پچھلے ہفتے اسد سے کچھ مدد مانگی تھی لیکن اس نے اپنی ذاتی مصروفیات کی لمبی لسٹ گنوا کر اس کی مدد کرنے سے معذرت کر لی تھی اور آج اس کو خدا کا داد ریحان احمد کے روپ میں مل گیا تھا۔ وہ ان کے قریب بینچ پر بیٹھ گیا اور پوری توجہ پڑھائی پر مرکوز کر لی۔

بیشک اللہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ وہ اپنے سچے بندوں کی ضرور مدد فرماتے ہیں۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆