Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

دو ہفتوں تک اس نے مارشل آرٹس کے ساتھ ساتھ پڑھائی پر بھی کافی زور دیا۔ ریحان سر مزاج کے سنجیدہ تھے پر دل کے اچھے انسان تھے۔ وہ روز شاویز کی پڑھائی میں مدد کرتے رہے تھے۔

کبیر اور اس کے دوستوں سے اس کا آمنا سامنا کم ہوا کرتا اس لیے انہیں شاویز کو ٹارچر کرنے کا زیادہ مواقع نہیں مل پاتے۔ صرف اسے چڑانے کے لیے کبیر کبھی جان بوج کر شاویز کے تیار ہونے کے وقت واشروم میں گھس جاتا ۔ کبھی اس کے بستر پر پانی گرا دیتا۔ کبھی اس کے کپڑوں کی استری خراب کر دیتا۔ شاویز اس کی یہ حرکات برداشت کر لیتا اور خاموشی اختیار کر لیتا۔ اس وقت اس کا سارا دھیان اپنے بورڈ کے امتحانات پر تھا۔

وہ اپنے امتحانات کے لیے دس دنوں کی چھٹی لے کر کراچی چلا گیا۔ دائی ماں اسے دیکھ کر تیزی سے اس سے گلے ملی۔ اسے بہت پیار دیا۔

22 سالہ ہمیمہ کی شادی ہوگئی تھی اور 19 سالہ شفیع اللہ ایک ٹھیکیدار کے ساتھ منشی لگ کر لاہور چلا گیا تھا۔ اس وقت دائی ماں کے پاس 4 سے 14 سال کے مابین بچے تھے۔ ہمیمہ کے حصہ کا کام کرنے انہوں نے ایک دوسری بیوہ عورت رکھ لی تھی۔

ان دس دنوں میں فارغ وقت میں اس نے دائی ماں اور یتیم خانے کے باقی بچوں کو مارشل آرٹس کے وہ سارے کرتب کر کے دیکھائے جو اس نے اکیڈمی میں سیکھے تھے۔ بچے تو مسرور ہوجاتے اسے تالیاں بجا کر سراہتے جبکہ دائی ماں کی آنکھیں بڑی ہوجاتی وہ اسے ڈانٹنے لگ جاتی۔

امتحانات دے کر واپسی پر وہ بہت خوش تھا۔ اب کالج کی تعلیمات شروع کرنے میں وقت تھا اس کے پاس اور اس وقت میں اس نے ریحان سر سے کئے ہوئے وعدے کے مطابق سپورٹس کی ڈبل کلاسز لینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ آخر انہوں نے آخری دنوں میں شاویز کی اتنی مدد کی ہے اب شاویز کی باری ہے۔

اکیڈمی سے گیا وہ خالی ہاتھ تھا لیکن واپسی پر دائی ماں نے بیگ بھر کر اسے کرنل صادق اور ان کی فیملی اور ریحان سر کے لیے تحائف بھیجوائے تھے۔

اگلے دن کلاس لے کر اس نے صادق سر سے ان تحائف کا ذکر کیا۔

“کیا ضرورت تھی زبیدہ خالہ کو اتنی تکلف کرنے کی۔۔۔۔۔” انہوں نے ان کی مہربان نوازی پر مشکور ہوتے ہوئے کہا۔

“میں لے کر آتا ہوں سر۔۔۔۔۔ “۔ شاویز اپنے بیگ کے جانب بڑھنے لگا تھا تاکہ ان کے تحائف لا کر دے سکے۔

“شاویز۔۔۔۔۔ شام کو میرے ساتھ گھر چلنا۔۔۔۔۔ پھر سب کو ان کے تحائف خود پیش کرنا۔۔۔۔۔” صادق سر نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

وہ جاتے جاتے رک گیا اور چہکتے ہوئے سر اثابت میں ہلایا۔ اتنے مہینوں کے بعد صادق سر اب اسے اپنے گھر لے جائے گے؛ سوچ کر ہی وہ مسرور ہونے لگا۔ صادق سر کے جانے کے بعد وہ تیزی سے اپنے نئے کپڑے نکال کر تیاری کرنے لگا۔

باقی سب ساتھی جو اتنی سخت کلاس لے کر اپنے بستر پر نڈھال پڑے سستا رہے تھے شاویز کو اب بھی تر و تازہ خوش باش دیکھ کر حسد اور جلن میں مبتلا ہونے لگے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

کرنل صادق کا ڈیوٹی ٹائم ختم ہونے تک شاویز نہا کر سفید قمیض شلوار پہنے چھوٹے بال ترتیب سے بنائے پالش کردہ بوٹ پہنے تیار ہوکر ہاتھوں میں تحائف کا بیگ پکڑے گیٹ کے پاس کھڑا تھا۔

صادق سر اپنے ہم منصبوں سے مصافحہ کرتے ہوئے اس کے پاس آئے۔ اسے سر تا پیر اتنا تیار دیکھ کر مسکرائے اور ساتھ لیئے اپنی کار میں آکر بیٹھ گئے۔

کچھ مسافت کر کے وہ ایک چھوٹے نفیس سے گھر کے پورچ میں کار سے اترا۔ چھوٹا سا لان رنگ بہ رنگی گلدان۔ سامنے لاونج کا دروازہ۔ صادق سر کے کار سے اترتے ہی ان کی 4 سالہ چھوٹی بیٹی جو لان میں سائیکل چلا رہی تھی؛ بھاگتے ہوئے ان کے پاس آئی۔ صادق سر نے مسکرا کر اسے گود میں اٹھا لیا۔ بچی نے ہاتھ بڑھا کر ان کی کیپ اتاری اور خود اپنے ننھے سے سر پر پہن لی۔

اس بچی کی آواز سن کر باقی دونوں بچے بھی لاؤنج میں آگئے۔ ان کے پیچے صادق سر کی جوان خوب رو بیوی بھی آگئی تھی شاید صادق سر نے پہلے ہی انہیں شاویز کو ساتھ لانے کی اطلاع کر دی تھی۔

شاویز مسکراتا ہوا ان کے حرکات مشاہدہ کرتا لاؤنج میں داخل ہوا اور مسزز نورین صادق کو سلام کیا۔

“وعلیکم السلام۔۔۔۔ کیسے ہو شاویز۔۔۔۔۔ کب سے کہہ رہی تھی ان سے۔۔۔۔۔ تمہیں گھر لائے ” انہوں نے اس کے کندھے کو تھپکتے ہوئے خوش آمدید کہا۔

“چلو بچوں۔۔۔۔۔ ادھر آکر شاویز بھائی کو سلام کرو۔۔۔۔۔” مسزز نورین نے اپنے بچوں کو مخاطب کیا۔ وہ تینوں لائن سے آکر شاویز سے ہاتھ ملا کر مصافحہ کرنے لگے۔

سب سے مل لینے کے بعد وہ فیملی اور شاویز صوفے پر بیٹھ گئے۔ شاویز نے ساتھ ہی اپنے ہاتھ میں پکڑے تحائف مسزز نورین کو پیش کئے۔ انہوں نے پُر تکلف ہو کر وہ سب تھامے اور شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھا۔

بچے تو تحفے دیکھ کر دبی دبی خوشی سے چہک گئے تھے۔

“شاویز۔۔۔۔۔۔رات کا کھانا کھا کر جانا۔۔۔۔۔” نورین نے اسے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا۔

شاویز نے متذبذب ہو کر صادق سر کو دیکھا۔

“انہیں کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔ اکیڈمی میں بھلے ہی یہ کرنل ہے۔۔۔۔۔ لیکن گھر کی کرنل میں ہوں۔۔۔۔۔ جو میں نے کہہ دیا وہی ہوتا ہے۔۔۔” انہوں نے شرارتی انداز میں آبرو اچکا کر مسکراتے ہوئے کہا۔

“بلکل درست کہہ رہی ہے۔۔۔۔ بھئی ان کے آگے میری نہیں چلتی۔۔۔۔۔ تو تمہاری کیا چلے گی۔۔۔۔ ڈنر کر کے جانا۔۔۔۔” شاویز پھر بھی منع کرنے لگا تھا پر صادق سر نے مداخلت کر کے بیوی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تو شاویز مستحکم بھرے انداز میں سر کو جنبش دیتا کھانے پر رکنے کے لیے مان گیا۔

“ممی۔۔۔۔۔ میں شاویز بھائی کو اپنی ڈرائنگ دکھاوں۔۔۔۔”ننھی مریم اپنی ڈرائنگ بک اٹھائے اس کے پاس آئی اور اسے اپنی ڈرائنگ دکھانے لگی۔

“یہ دیکھیں۔۔۔۔۔ یہ میں ہوں۔۔۔۔۔ یہ ڈیڈی ہے۔۔۔۔۔ یہ ممی ہے۔۔۔۔۔ یہ کلثوم آپی۔۔۔۔۔ اور یہ۔۔۔۔۔ کامران بھائی۔۔۔۔” مریم ایک ایک کر کے اپنے بنائے ہوئے کرداروں پر انگلی رکھ کر شاویز کو بتا رہی تھی۔

مسزز نورین کھانے کا اہتمام کرنے کچن میں جانے لگی تو صادق سر بھی وردی تبدیل کرنے اٹھے ہی تھے کہ کامران بھاگتا ہوا ان کے ایک بازو سے جھلنے لگا اور دوسرے بازو سے کلثوم۔ ننھی مریم بھی اچھلنے لگی تو صادق سر نے اسے گود میں اٹھا لیا اور گول گول گھمنے لگے۔ تینوں بچیں اپنے والد کے ہمراہ خوشی سے ہنسنے لگے۔ شاویز ان کو دیکھتے ہوئے مسکرایا اور پھر اداس سا ہوگیا۔

اگر اس کے ماں باپ ساتھ ہوتے تو اس کی بھی ایسی ہنستی کھلتی فیملی ہوتی۔ اس نے پھیکا مسکراتے ہوئے سوچا

ماں کا پیار تو اس نے دیکھ رکھا تھا۔ باپ کی محبت کا اسے اندازہ نہیں تھا۔

“کیا میرے پاپا بھی اتنے اچھے ہے۔۔۔۔۔۔ تو میری ماں نے کبھی ان کے بارے میں تفصیلات کیوں نہیں بتائی۔۔۔۔” صادق سر کو اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھ کر اس نے خوشدلی سے سوچا لیکن ساتھ ہی اس کے آبرو تن گئے۔ مسکراہٹ سمٹ گئی۔

“نہیں اگر وہ اچھے ہوتے۔۔۔۔ تو میری ماں کو ایسے چھوڑ کر جاتے کیا۔۔۔۔ یقیناً وہ بہت برے آدمی ہے۔۔۔۔ اچھا ہوا میری ماں نے کبھی ان کے بارے میں نہیں بتایا۔۔۔۔ ورنہ پتا نہیں میں ان کے ساتھ کیا کر بیٹھتا۔۔۔۔” اس نے تنے ہوئے اعصاب سے سوچا اور رخ پھیر کر دوسرے جانب دیکھنے لگا۔

“تم لوگ بھی نا۔۔۔۔۔ انہیں کپڑے تو چینج کرنے دو۔۔۔۔۔ شاویز کے ساتھ کھیلو۔۔۔۔۔ وہ کیا سوچ رہا ہوگا۔۔۔۔۔ چلو اترو۔۔۔۔۔” مسزز نورین نے اپنے بچوں کو ڈپٹتے ہوئے صادق سر کے بازووں سے اتارا اور مریم کو اپنی گود میں لے لیا۔ ممی کے جھڑکنے پر کامران اور کلثوم تمیز سے صوفے پر آکر بیٹھ گئے۔ صادق سر اپنے بیڈروم میں چلے گئے۔ جبکہ نورین ننھی مریم کو ساتھ کچن میں لے گئی۔

رشتے میں کرنل صادق غفار اور ان کی بیگم نورین کزنز بھی تھے۔ صادق سر کے والدین پنجاب میں قیام پذیر تھے۔ ان کے والد پنجاب اسمبلی کے رکن تھے۔ ان کے بڑے بھائی بھی اعلی عہدے پر فائز تھے۔ بہنیں بھی اچھی جگہوں پر شادی شدہ تھی اور خود وہ کرنل کے عہدے پر تھے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

صادق سر کے گھر سے آکر وہ بہت اداس ہوگیا تھا۔ حلانکہ مسزز نورین اور بچوں نے اس کی کافی خیر مقدمی کی تھی۔ اس کے ساتھ الگ الگ گیمز کھیلے۔ بھر پور مزے مزے کا کھانا کھلایا لیکن اپنی فیملی ہونے کی خواہش امڑ امڑ کر اس کے دل کو غمزدہ کر رہی تھی۔ اس کے بھی ماں باپ ہوتے بہن بھائی ہوتے۔ اور نہ صحیح تو کم از کم اس کی ماں ہی زندہ ہوتی۔

وہ اسی طرح بغیر کپڑے تبدیل کئے ہی افسردہ دل سے بستر میں آکر لیٹ گیا۔

وہ مسلسل اپنے جذبات قابو کرتا۔ اپنے آنسو پیتا آنکھیں مظبوطی سے بند کئے لیٹا رہا. اپنی ماں زرتاج کو یاد کرتے ہوئے اور ان کو چیننے والے دلاور پرویز خان کو نفرت سے یاد کرتے ہوئے وہ تیز تیز سانس لیتا رہا اور اسی اثناء میں سو گیا تھا۔

وہی دوسری جانب کبیر کو جب معلوم ہوا کہ کرنل صادق شاویز کو اپنے گھر مدعو کر کے لے گئے ہیں تو وہ جل بھن سا گیا۔ آج تک صادق سر کبھی کسی سٹوڈنٹ کو اپنے گھر نہیں لے کر گئے تھے پھر شاویز کو ہی کیوں سوچتے ہوئے اسے شاویز سے شدید نفرت ہونے لگی۔ اس نے شاویز کو سبق سکھانے کا منصوبہ سوچ لیا تھا۔

سوتے سوتے آخری پہر اس کی ڈر کے مارے نیند کھل گئی۔ وہ کوئی بہت خوفناک خواب دیکھتا ہوا اٹھ بیٹھا تھا۔ اس نے ہڑبڑا کر آس پاس دیکھا سب لڑکے گہری نیند سو رہے تھے۔ ابھی رات کافی باقی تھی۔ وہ اپنے اوپر کلمہ پڑھ پھونک کر واپس سوگیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

15 سالہ شاویز کرنل صادق کا تو پسندیدہ تھا ہی اب کھیل کے میدان میں بھی اپنے جوہر دکھا کر ریحان سر کو امپریس کر رہا تھا۔

اسد ساڑھے 17 سال کا ہو کر اب ان کے گروپ سے الگ ہوگیا تھا وہ uner 19 کے گروپ میں شامل ہوگیا تھا۔ شاویز کا باقی ساتھیوں میں کسی سے کوئی دوستی نہیں ہو سکی تھی وہ سب کبیر کے ساتھی تھے۔

اس دن صبح ناشتے کے بعد سے ہی شاویز کو اپنی طبعیت ناساز لگ رہی تھی۔ اس سے فٹبال کھیلا نہیں جا رہا تھا۔ اس کے پیٹ میں شدید درد ہورہا تھا۔ ریحان سر نے اسے کواٹر میں جا کر آرام کرنے کی تجویز دی۔

وہ اپنے بستر پر پیٹ کے بل آکر لیٹ گیا۔ اسے اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ وہ اٹھنے کی کوشش کرتا لیکن چکر آنے کے باعث واپس لیٹ جاتا۔

اسی کشمکش سے دو چار ہوتے شاویز کو اپنے پِیٹھ پر کسی وزنی چیز کا پڑنا محسوس ہوا اس نے کراہتے ہوئے رخ پیچے موڑ کر دُکھتی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ کبیر استحزیہ ہنستے ہوئے حقارت بھری نگاہوں سے اسے گھورتے اس کی پیٹھ پر چڑھ کر بیٹھا تھا۔ شاویز نے ہلنے کی کوشش کر کے اسے خود سے ہٹانے کے جتن کئے لیکن پیٹ درد سے اس کی حالت غیر ہورہی تھی۔

“صادق سر اور ریحان سر۔۔۔ دونوں کا favourite بنا ہوا ہے یہ۔۔۔۔۔ میں 1 سال سے ان کا پسندیدہ بننے کے لیے دن رات جی جان لگا رہا ہوں۔۔۔۔ اور یہ آتے ہی ان کا ٹاپ سٹوڈنٹ بن بیٹھا۔۔۔۔۔” اتنے کہتے ساتھ کیبر طیش میں آگیا اور شاویز کے دونوں ہاتھ پکڑ کے اپنے طرف کھینچنے لگا۔ پیٹ درد کے ساتھ اب کندھوں میں اٹھتی ٹیسیں۔ شاویز بری طرح جھلملا گیا۔ اپنی پوری قوت سے وہ خود کو آذاد کروانے کی کوشش کرنے لگا لیکن چکراتے سر کی وجہ سے اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔

وہ اپنی پوری قوت سے دھاڑنے لگا۔ اس کی چیخو سے گڑبڑا کر کبیر نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیئے اور اس پر سے نیچے اترا۔ وہ ہمت کر کے اٹھا اور اپنے کندھے سہلاتا ہوا اسے مارنے لگا تھا کہ لڑکھڑا کر زمین پر گر پڑا۔

“ابھے۔۔۔۔۔ یہ کیسے نشے کی دوائی لایا تھا تو۔۔۔۔۔۔ اس پر تو اثر ہی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ ابھی تک ہوش میں ہے۔۔۔۔ ” کبیر نے غصہ میں اپنے دوست کو زور سے دھکا دے مارا۔

تو اس نے مجھے نشے کی دوا دی ہے جس سے میری طبیعت خراب ہورہی ہے؛ سوچتے ہوئے شاویز تیزی سے واشروم میں بھاگا اور سنک پر جھک کر حلق میں انگلی ڈال کر الٹی کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ الٹی تو نہ ہوئی لیکن چکر آنے کی مقدار مزید تیز ہوتی گئی۔ اس کا اکلوتا خیر خوا اسد بھی اب اس کے ساتھ نہیں تھا۔ وہ ان سب کے مقابلے اکیلا تھا۔ اگر وہ یہاں گر پڑا تو کبیر اس کا گلا گھونٹ کر سچ میں اسے یہی مار دے گا سوچتے ہی وہ لڑکھڑاتا ہوا زبردستی خود کو ہوش میں رکھنے کی کوشش کرتا گرتا اٹھتا ہال سے نکل کر والی بال گراونڈ کی جانب بڑھ گیا جہاں ریحان سر انڈر 19 سٹوڈنٹس کا میچ کروا رہے تھے۔ پیٹ پر ہاتھ رکھے ہوئے شاویز گروانڈ کے قریب پہنچا ہی تھا کہ اس کی ہمت ختم ہوگئی۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔

“ریحان سرررر۔۔۔۔۔۔ ” اس نے بچی کچی طاقت ریحان احمد کو بلند آواز میں مخاطب کرنے میں لگا دی۔

سر جیسے ہی اس کی آواز پر پلٹے تھے وہ بے ہوش ہوگیا اور زمین پر گر پڑا۔ اس کے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔

ریحان احمد، شاویز کی آواز پر تعجبی انداز میں مڑے کہ ٹھٹک گئے۔ بھاگتے ہوئے شاویز کے پاس آئے۔ اس کو سیدھا کیا اور کندھوں سے جھنجوڑا لیکن وہ بے حس و حرکت تھا۔ سر پھرتی سے اسے بازووں میں اٹھا کر میڈیکل کیمپ کے جانب بھاگے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جب شاویز کی آنکھ کھلی۔ اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے پہلو میں صادق سر کو متفکر انداز میں بیٹھے پایا۔ ہفتہ اور اتوار ان کی چھٹی ہوتی ہے تو یقیناً ریحان سر نے انہیں شاویز کے بے ہوش ہونے کی اطلاع دی تھی اور وہ فوراً سے گھر کے کپڑوں میں ہی آگئے تھے۔

ڈاکٹر نے اس کا معدہ واش کروایا اور کچھ دوائیاں دے کر رخصت کر دیا۔ میڈیکل کیمپ سے اپنے کواٹر تک واپسی وہ صادق سر کے ساتھ آیا تھا۔ ایک جگہ وہ رک گیا تو صادق سر بھی رک گئے اور سنجیدہ تاثرات بنائے اسے دیکھنے لگے۔

“سر۔۔۔۔ کبیر مجھے بہت تنگ کرتا ہے۔۔۔۔۔ میرے ناشتے میں نشے کی دوا بھی اس نے ملائی تھی۔۔۔۔۔” اس نے بھی اسی سنجیدہ انداز میں صادق سر کو اپنے ساتھ ہوئے سب ٹارچرز کے متعلق بتایا۔

“جانتا ہوں۔۔۔۔” اس کے انکشاف پر صادق سر بے تاثر رہے تھے جبکہ صادق سر کے انکشاف پر شاویز کا رنگ فق سے اڑ گیا تھا۔

وہ شاک کے عالم میں اپنی جگہ منجمد ہو گیا۔

صادق سر نے شاویز کو حیران پریشان خود کو بغور دیکھتے ہوئے پایا تو اس کے پاس آئے۔ اس کا بازو تھام کر اپنے ساتھ بینچ پر بیٹھایا۔ سر سامنے دیکھنے لگے اور شاویز مسلسل بے یقینی سے صادق سر کو۔

اسے یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ کبیر کے خلاف ایکشن نہیں لیں رہے تھے۔

صادق سر گلا صاف کرتے ہوئے نرمی سے اس سے گویا ہوئے۔

“دیکھو شاویز۔۔۔۔ ہر عمل کے دو پہلو ہوتے ہے۔۔۔۔ ایک منفی۔۔۔۔۔ ایک مثبت۔۔۔۔” انہوں نے ایک کے بعد دوسری انگلی اٹھائی۔

“تم کبیر کے ٹارچر کا منفی پہلو دیکھ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔ اور میں مثبت ڈونڈھ رہا ہوں۔۔۔۔۔” وہ نرمی سے مسکرائے۔

“اب تم سوچ رہے ہوگے۔۔۔۔۔ کسی کو تنگ کرنے میں مثبت کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔” صادق سر نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا وہ اب بھی خاموشی سے ان پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔

“جب کبیر تمہیں تنگ کرتا ہے تو میں یہ دیکھتا ہوں تم کیا ردعمل دیکھاو گے۔۔۔۔” اب وہ قدرے سنجیدہ ہوگئے۔

“صرف فزیکلی مظبوط بننا ہی ایک کامیاب فوجی بننے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ ذہنی طور پر بھی طاقتور ہونا چاہیئے۔۔۔۔۔” صادق سر اب بلکل اس کی آنکھوں میں دیکھ کر گفتگو کر رہے تھے۔

” ذہین تو تم ہو۔۔۔۔۔۔۔ no doubt۔۔۔۔۔ لیکن کب کس بات پر؛ کس عمل پر کیا ردعمل دینا ہے۔۔۔۔۔ یہ تمہاری ذہنی طاقت فیصلہ کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کبیر کے ٹارچرز۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں مینٹلی توانا بنا رہے ہیں۔۔۔۔۔ اگر تم مثبت انداز میں سوچو تو۔۔۔۔۔” وہ اب شاویز کو اس کے اصل طاقت سے روشناس کروا رہے تھے۔

” سوچو۔۔۔۔۔ جب تم کراچی میں تھے۔۔۔۔۔۔ کوئی تم سے الٹی بات بھی کہہ دیتا تم اسے مارنے پر اتر جاتے۔۔۔۔۔۔ اتنا غصہ تھا کہ مجھے امپریس کرنے برفلیلا پانی خود پر ڈال دیا تھا۔۔۔۔ لیکن اب تم کافی حد تک اپنے غصے کو قابو کرنا سیکھ گئے ہو۔۔۔۔۔” ان کی باتیں سنتے سنتے شاویز کو واقعی احساس ہوا وہ اب ہر چھوٹی چھوٹی چیز پر ہاتھا پائی پر نہیں اترتا۔

“میں اسی لیے کبیر کے ہر عمل پر خاموش تھا۔۔۔۔۔ کیونکہ میں تمہیں صرف جسمانی لحاظ سے نہیں ذہنی طور پر بھی مظبوط بنانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ میں نے کبیر کے خلاف اسی لیے ایکشن نہیں لیا کیونکہ میں چاہتا تھا۔۔۔۔۔ تمہاری برداشت کرنے کی پاور بڑھے۔۔۔۔۔۔۔ تم میں حوصلہ پیدا ہو۔۔۔۔۔۔۔” آخری فقرے پر صادق سر پھر سے نرمی سے مسکرائے ۔

“ابھی تو آگے بہت سخت مراحل پیش آئے گے۔۔۔۔۔ یہ تو صرف شروعات ہے۔۔۔۔۔۔ مین فیز میں تو اچھے اچھو کی ہمت جواب دے جاتی ہے۔۔۔۔۔ تمہیں بہت حوصلہ مند بننا ہے۔۔۔۔۔۔ شاہ سوار کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے۔۔۔۔” صادق سر نے اس کے کندھے کو تھپکتے ہوئے کہا۔ اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔

شاویز ان کی باتوں پر خوش دلی سے مسکرایا۔

“زندگی کسی کے لیے بھی اتنی سیدھی اور آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ ہر قدم پر کسی نہ کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔ کبھی اس مشکل کا حل ہمارے پاس ہوتا ہے تو کبھی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ کامیاب انسان بننے کے لیے مظبوط ہونے کے ساتھ ساتھ صابر اور برداشت کرنے والا بھی بننا پڑتا ہے۔۔۔۔۔” صادق سر ایک زمہ دار سرپرست کی طرح اسے سمجھا رہے تھے اور شاویز خاموشی سے کان لگا کر ان کی ساری نصیحت پر غور کر رہا تھا۔

“کبیر کی شرارتوں کا مجھے اندازہ تو تھا لیکن۔۔۔۔۔ تم سے حسد میں وہ اس حد تک گر جائے گا۔۔۔۔۔ یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔ اس بات کے لیے تو ایکشن لینا ہی چاہیئے۔۔۔۔” کرنل صادق تند تاثرات بناتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔ انہیں کبیر کا شاویز کو نشہ آور شے دینے پر غصہ آرہا تھا۔

“نہیں سر۔۔۔۔۔ آپ کوئی ایکشن نہیں لیں گے۔۔۔۔۔ اب کبیر کے ہر ٹارچر کا جواب میری برداشت دے گی۔۔۔۔۔ اسے مجھے جتنا distract (موقف سے پھیرنا) کرنا ہے۔۔۔۔۔ کر لیں۔۔۔۔۔۔ میں کوئی ردعمل نہیں دکھاوں گا۔۔۔۔۔ مجھے حوصلہ مند جوان بننا ہے۔۔۔۔” شاویز نے پر عزم انداز میں سر کو کوئی بھی ایکشن لینے سے روکا۔ انہوں نے اس کی غیرت مند ارادے پر فخر محسوس کرتے ہوئے شاویز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے دباؤ دیا۔

“یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔۔ that’s the spirit۔۔۔۔۔ ” اس کو داد دیتے ہوئے وہ شاویز کو آرام کرنے کی ہدایت دے کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔

شاویز کواٹر میں واپس آیا تو اس نے کبیر کو اضطراب میں دائیں سے بائیں چکر کاٹتے پایا۔ اسے لگا ہوگا شاویز کرنل صادق کو ساتھ لا کر اسے سزا دلوائے گا لیکن وہ کبیر کو نرمی سے مسکراہٹ سپرد کرتے اپنے بستر پر آکر لیٹ گیا۔

کبیر حیرت زدہ رہ گیا تھا۔ اس کے اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی شاویز اتنا نارمل برتاو کر رہا تھا کہ اندر ہی اندر کبیر کو اپنے کئے پر ندامت کا احساس ہوا۔ وہ سر جھکا کر شاویز کو آرام کرنے چھوڑ کر ہال سے باہر نکل گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

16 سال سے شاویز کی مین ٹریننگ شروع ہوگئی۔ وہ اپنے مارشل آرٹس کے ساتھ ساتھ آرمی ٹریننگ پر آگیا۔ وہ صبح فجر کے بعد گراونڈ میں دوڑ لگاتا۔ پھر کچی زمین میں خار دار تاروں کے نیچے رینگتے ہوئے گزرتا۔ رسی پر چڑھتا۔ دیوار پھلانگتا۔ ٹھنڈے پانی کے تالاب میں تیراکی کرتا۔ اور بھی ایسے بہت کرتب تھے جو وہ صادق سر کے زیر نگرانی سرانجام دیتا رہتا۔ اکثر و بیشتر وہ مسزز نورین کے اصرار پر ان کے گھر بھی چلا جایا کرتا۔

سپورٹس میں بھی اس نے کافی مہارت حاصل کر لی تھی۔

اس دن کے بعد سے کبیر نے اسے تنگ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ اب ان سب گروپ کا دوست بن گیا تھا۔

دائی ماں سے اس کی ہفتہ وار کال پر بات ہوجایا کرتی۔

ہر مرحلے کے ساتھ ٹریننگ مشکل ترین ہوجاتی لیکن وہ بنا تھکے ہارے اپنی محنت جاری رکھتا۔

قد تو اس کا پہلے بھی لمبا تھا اب ایک فوجی جوان کی مانند اس کی باڈی بھی بن گئی تھی۔ شانے چھوڑے سینہ تھانے۔ ڈٹی آواز کے ساتھ وہ دن بہ دن ہینڈسم نوجوان بننے کی راہ پر گامزن تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

17 سال کا ہونے تک اس کا یہی معمول رہا اور پھر اس کا مِنی ٹیسٹ (چھوٹا امتحان) ہونا تھا۔ شاویز کے بشمول اس کے اکیڈمی سے 10 سٹوڈنٹس نے ٹیسٹ میں شرکت کی۔ ایک کھلے سٹیڈیم میں ان کو الگ الگ طریقوں سے آزمایا جانا تھا۔ پنچاب سندھ اور خیبر پختون خوا سے بھی اس ٹیسٹ میں کئی جوان حصہ لے رہے تھے۔ ٹیسٹ کے ججز موجودہ دور کے ISPR اور ان کے ساتھی ارکان تعینات کئے گئے تھے۔

ٹیسٹ کا آغاز مارشل آرٹس کے کرتب سے کیا گیا۔ پھر سب امیدواروں کے درمیان دوڑ کروائی گئی۔ ایسے ہی سومنگ مقابلہ۔ فٹبال مقابلہ اور کچھ سولو مقابلے کروائے گئے۔ ہر مقابلہ کی آخر میں ایک ایک امیدوار جسکے سب سے کم پوائنٹس ہوتے مقابلے سے خارج کر دیا جاتا۔

تین دن پر مشتمل اس مقابلے کے ہر حصے میں شاویز پہلے یا دوسرے نمبر پر ضرور ہوتا۔

آخر میں بلوچستان کی نمائندگی کرتا شاویز اور پنجاب کی نمائندگی کرتا امیدوار میدان میں باقی رہے۔

ان کے بیچ ایک آخری مقابلہ کیا جانا تھا۔ جو کہ اکیڈمی کے مین فیز سے مماثلت میں تھا۔ ان کو تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے سٹیڈیم کے مضافات کا دورہ کرتے ہوئے واپس سٹیڈیم کی سرخ لائن تک رسائی حاصل کرنی تھی۔ جس نے سب سے پہلے سرخ لائن عبور کیا وہ جیتنے والا اعلان کر دیا جاتا۔

پسٹل کے فائر کے ساتھ آخری مقابلے کا آغاز ہوا۔ اس دن سٹیڈیم ہجوم سے بھرا ہوا تھا۔ شاویز کے اکیڈمی کے سب آفسران اس کی جیت کی دعائیں کرتے انگشت بہ دندان بیٹھے تھے۔

دوڑ کے دوران انہیں بیچ میں ڈالے جانے والے خلل کو پار کرنا تھا۔ اسی کے چلتے شاویز کی تیز نظریں سامنے آنے والی رکاوٹ کے سپیڈ اور اسے پار کرنے کے اندازے میں لگی ہوئی تھی۔ وہ پھرتی سے سب رکاوٹیں پار کرتا بلمقابل امیدوار سے آگے نکل گیا۔

ایک جگہ انہیں پہاڑی کے اوپر سے چڑھ کر بھاگنا تھا جہاں سامنے سے جعلی چٹانوں کو ان کا رکاوٹ بنانے گرایا گیا۔ شاویز تو چٹان کی سپیڈ کیلکیولیٹ کرتا ہوا ہلکا سا سائیڈ پر ہوگیا اور چٹان اس کے ساتھ سے گزرتے ہوئے نیچے لڑھکنے لگا پر دوسرا امیدوار جب تک خود کو چست کر پاتا نقلی چٹان اس سے ٹکرایا اور وہ ڈگمگا گیا۔ سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں میں چیخ و پکار گونج اٹھی۔ شاویز نے خطرے کا احساس کرتے ہوئے رخ موڑ کر دیکھا تو اس لڑکے کو تشویشناک حالت میں پہاڑی کا حصہ پکڑے جُھلتا ہوا پایا۔ حالانکہ شاویز چوٹی پر پہنچنے کے بہت قریب تھا لیکن اس لڑکے کی مدد کرنے اس کی جان بچانے وہ الٹے قدم نیچے آیا اور تیزی سے جھک کر اس لڑکے کا ہاتھ چھوٹنے سے پہلے دبوچ لیا۔ تماشائیوں میں شاویز کی دلیری پر تالیاں گونج اٹھی۔ سب ان دونوں لڑکوں کو سراہنے بلند آواز ہو کر داد دینے لگے تھے۔ شاویز نے اس لڑکے کو نا صرف اوپر کرنے میں مدد کی بلکہ ہاتھ پکڑے اسے دوڑاتا ہوا چوٹی کے سِرے تک لے آیا اور پھر واپس مقابلہ جاری رکھنے کے انداز سے پیشانی پر ہاتھ ہلاتا ہوا اس کا ہاتھ چھوڑ کر اپنے منزل مقصود کو بھاگنے لگا۔

سب سے پہلے اور سب سے کم وقت میں سٹیڈیم واپس پہنچ کر اس نے نیا ریکارڈ قائم کیا اور مقابلے کی جیت اپنے نام کی۔ انعام کے تور پر اسے گولڈ میڈل اور کچھ نقدی رقم سے نوازا گیا۔ ساتھ ساتھ ISPR کی جانب سے اس کی بقایا ٹریننگ اور پڑھائی کے اخراجات فری کرنے کا حکم صادر ہوا۔ ان کی اکیڈمی اور شاویز کے ٹرینرز کرنل صادق اور کوچ ریحان کو بھی انعامات پیش کئے گئے۔

اس دن شاویز کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ ان سب کی جیت کی خوشی میں آرمی جنرل نے رات کے کھانے میں اسپیشل بریانی اور قورمہ تیار کروانے کا آرڈر دیا اور سب کو بغیر ناپ تول پیٹ بھر کر کھانے کی اجازت دی۔

“تم نے میرا سر آج فخر سے اونچا کر دیا۔۔۔۔۔۔ آج مجھے تمہیں ساتھ لانے کے فیصلے پر زرا بھی پچھتاوا نہیں ہے۔۔۔۔۔ تم نے ثابت کر دیا۔۔۔۔۔۔۔ سچے دل سے کچھ ٹھان لو تو پا کر ہی رہتے ہو۔۔۔۔۔۔ بہت بہت مبارک ہو۔۔۔۔۔ تم واقعی شاہ سوار ہو۔۔۔۔۔”کرنل صادق نے اسے سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔

شاویز جانتا تھا وہ کس بات پر اسے شاہ سوار بلا رہے تھے۔اس کے مقابلہ جیتنے سے زیادہ انہیں شاویز کے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنے پر فخر محسوس ہورہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلے ماہ 12 جماعت کے بورڈ امتحانات متوقع تھے۔ وہ پھر سے دن بھر ٹریننگ کرتا اور رات بھر پڑھائی۔ نیند پر پورا غلبہ حاصل کر کے خود کو کئی رات جاگے رکھنا بھی اس کے معمول کا حصہ بن گیا تھا۔

اکیڈمی میں گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوگئی اور ساتھ ہی کالج کے امتحانات کا وقت ہوا جاتا تھا۔ وہ بھی اپنے کالج ایگزیمز دینے کراچی کے سفر پر چل پڑا۔ اس مرتبہ وہ یہاں سے خالی ہاتھ نہیں گیا۔ مسزز نورین نے دائی ماں کے لیے اس کے ہاتھ تحائف بھیجوائے تھے۔

یتیم خانے پہنچ کر شاویز نے دائی ماں کو سرپرائز دیا اور اس سے بھی بڑا سرپرائز اپنا گولڈ میڈل دکھا کر کیا۔ دائی ماں کی خوشی سے آنکھیں بھر آگئی تھی وہ اس کی بلائیں لیتے ہوئے اسے دعائیں دینے لگی۔

انعام کی نقدی رقم اس نے دائی ماں کو تھما دیئے۔

“شاویز۔۔۔۔۔ اب رک جا۔۔۔۔۔ کتنی تربیت کرے گا۔۔۔۔۔ اتنے سال ہوگئے ہیں۔۔۔۔ دیکھ اتنا لمبا چوڑا تو ہو گیا ہے۔۔۔۔۔ ” دائی ماں نے جذباتی ہو کر اسے گلے لگاتے ہوئے کہا۔

“دائی ماں ابھی کچھ سال رہتے ہیں۔۔۔۔ آخری فیز تو اب شروع ہوگا۔۔۔۔۔ وہ سیکھے بغیر تو میری ساری ٹریننگ نا مکمل ہے۔۔۔۔۔” شاویز نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔

امتحانات دینے کے ساتھ ساتھ وہ فارغ وقت میں یتیم خانے کے بچے بچیوں کو مارشل آرٹس کے self defence کے کرتب سکھاتا رہتا۔

“یہ دیکھو۔۔۔۔۔۔ یہ یہاں لڑائی کے طریقے سیکھ رہی ہیں۔۔۔۔۔ اور میں سلائی کڑہای سیکھنے بیٹھاوں۔۔۔۔ تو سب کے منہ اترے ہوتے ہیں۔۔۔۔”دائی ماں تند و تیز آواز میں بچیوں کو ڈانٹنے لگی۔

“دائی ماں۔۔۔۔۔ کس زمانے میں جی رہی ہو۔۔۔۔۔ آج کل تو لڑکیاں بھی فوج میں جاتی ہے۔۔۔۔ اب کوئی بھی لڑکی صرف کڑہائی سلائی تک محدود نہیں رہی۔۔۔۔۔ اور میرے خیال میں تو آج کل کے حالات میں ہر بچی کو؛ لڑکیوں کو اپنے دفاع کے لیے فائٹنگ آنی چاہیئے۔۔۔” شاویز نے کندھوں سے زبیدہ خالہ کو تھام کر اپنے سامنے کرسی پر بیٹھایا۔

“تیرے ادارے میں بھی لڑکیاں ہیں۔۔۔۔” دائی ماں نے گھورتے ہوئے سوال پوچھا۔

“اس سال سے آنا شروع ہو جائے گی۔۔۔۔” شاویز نے باقیوں کو رخصت ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“دیکھ شاویز۔۔۔۔۔ اگر۔۔۔۔ تیری کسی لڑکی سے دوستی ہے۔۔۔۔۔ تو مجھے اس کا نام اور پتہ بتا دے۔۔۔ میں سیدھے سادھے تیری اس سے شادی کرا دوں گی۔۔۔۔۔ بس یہ دوستی ووستی والے جھنجٹ مجھے نہیں پسند۔۔۔۔” دائی ماں نے منہ بھسورتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اسے تنبیہہ کیا۔

“ہاہاہا۔۔۔۔۔ خدا کو مانو دائی ماں۔۔۔۔۔۔ میں ابھی تک 18 کا بھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔ اور تم میری شادی کرا رہی ہو۔۔۔۔۔ ” شاویز پورا کھلکھلا کر ہنسا لیکن زبیدہ خالہ اب بھی سنجیدہ انداز میں بیٹھی تھی۔

“ایسی کوئی بات نہیں ہے دائی ماں۔۔۔۔ جب تک میں اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوجاوں۔۔۔۔ کسی لڑکی وڑکی کے چکر میں نہیں پڑوں گا۔۔۔۔۔” شاویز نے دائی ماں کا موڈ ٹھیک کرنے ان کے کندھے کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے کہا۔

وہ اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر پیار کر کے کھانا لگانے باورچی خانے میں چلی گئی۔

شاویز ہاتھ دھو کر اکیڈمی جیسے اپنا پلیٹ لیئے دائی ماں کے سامنے آیا تو دائی ماں نے مسکرا کر اس کے پلیٹ میں سالن ڈال کر دیا۔

وہ وہی باورچی خانے کے فرش پر ہی بیٹھ کر کھانے لگا جیسے بچپن میں زرتاج کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا۔

“مزا آگیا دائی ماں۔۔۔۔ آپ کے ہاتھ کی سبزی کھا کر تو۔۔۔۔ ماں کی یاد آگئی۔۔۔۔۔۔ اس کے ہاتھ میں بھی ایسا ہی ذائقہ تھا۔۔۔۔۔” اس نے نوالہ چھباتے ہوئے کہا۔ آخری جملہ کہتے ہوئے وہ مایوس ہوگیا۔

اس کی آواز سے چھلکتی افسردگی زبیدہ خالہ نے محسوس کر لی۔ وہ اس کے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔

“ہاں تو یاد تو آئے گی۔۔۔۔ میں نے ہی تو اسے کھانا پکانا سیکھایا تھا۔۔۔۔۔ اسے کہاں کھانا پکانا آتا تھا۔۔۔۔۔ سب مجھ سے ہی تو سیکھا تھا۔۔۔۔۔ پھر ایک جیسا ذائقہ تو ہوگا ہی۔۔۔۔۔” دائی ماں نے اس کی مایوسی کم کرنے کی کوشش کی۔

“ماں زندہ ہوتی۔۔۔۔۔ تو آج میرا گولڈ میڈل دیکھ کر کتنا خوش ہوتی۔۔۔۔۔ ” اس نے پھیکا پھیکا مسکرا کر سر جھٹکا۔ اس کی بھوک یک دم ختم ہوگئی تھی۔

“تم خوش ہو نا۔۔۔۔۔ “زبیدہ خالہ نے اس کا رخ اپنے جانب کیا۔ شاویز ان کا جھریوں بھرا چہرا دیکھ کر مسکرایا اور سر کو اثابت میں جنبش دیا۔

“تو وہ بھی بہت خوش ہوتی۔۔۔۔۔ تم دونوں کی جان تو ایک دوسرے میں بستی تھی۔۔۔۔۔ مجھے تو آج بھی تم میں زرتاج کی جھلک نظر آتی ہے۔۔۔۔” دائی ماں نے اس کے پیشانی پر بوسہ دیا اور کھانا کھانے کی تائید کرتے ہوئے واپس اپنے کام میں جٹ گئی۔

شاویز کا دل تو نہیں کر رہا تھا لیکن دائی ماں کے خاطر اس نے زبردستی کھانا پورا کھا لیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس رات وہ کافی دیر تک دائی ماں سے باتیں کرنے لگا رہا۔ باتوں باتوں میں اس نے وہ کچھ سال پہلے کی دائی ماں سے چھپائی ہوئی تصویریں انہیں دیکھائی۔ وہ اس وقت کو یاد کرتے کرتے کہی کھو سی گئی۔ پھر وہ ایک ایک کر کے ٹین ایج زرتاج اور اس کی باقی ساتھی لڑکیوں کے نام بتانے لگی۔

شاویز اب بغور ان تصویروں کو دیکھ رہا تھا۔ ان گرلز گروپ کے پیچے چند جوان لڑکے بھی کھڑے تھے۔ دائی ماں نے دو تین کے نام بتائے لیکن ایک پر ان کے تاثرات بدل گئے۔

“کیا ہوا دائی ماں۔۔۔۔۔۔ کون ہے یہ۔۔۔۔۔ ” شاویز نے تجسس سے اس جوان خوب رو مرد کو تکتے ہوئے پوچھا۔

“یہ یہاں انگریزی پڑھانے آتے تھے۔۔۔۔۔ نام یاد نہیں آرہا۔۔۔۔۔ کافی پرانی تصویر ہے۔۔۔۔۔۔ چل اب مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔۔۔ تو بھی جا کر سو جا۔۔۔” دائی ماں نے جھجکتے ہوئے رخ پھیر لیا اور سونے کے لیے لیٹ گئی۔

شاویز تعجب سے ان کی پیٹھ دیکھتا ہوا اٹھا اور خاموشی سے باہر آگیا۔

“کچھ تو تھا۔۔۔۔۔ جو دائی ماں اچانک پریشان ہوگئی۔۔۔” شاویز نے سحن میں چاندنی رات میں چارپائی پر لیٹتے ہوئے سوچا۔

وہ چت لیٹا بازو سر کے نیچے رکھے آسمان میں چمکتے چاند اور تاروں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی پھرتیلے انداز اور تیز نظروں نے یہ جانچ لیا کہ دائی ماں متذبذب سی ہوگئی تھی مگر کیوں؛ سوچتے ہوئے اس نے کروٹ پر کروٹ بدلتے رات گزاری۔

اکثر و بیشتر راتوں کو جاگتے رہنے سے اب اس کی نیند بلکل ختم ہوگئی تھی اب وہ کسی رات از خود سونا چاہتا بھی تو اسے نیند نہیں آپاتی۔

اور کئی راتوں کو شب بیداری کرنے سے اس کے سر میں درد رہنے لگا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

انڈر 19 میں شامل ہونے کے بعد اس کی ٹریننگ مزید سخت ہوگئی۔

سارے سٹوڈنٹس کو صبح ٹھنڈے پانی کے تالاب میں کھڑا کر دیا جاتا۔ سب سی سی کرتے 2 سے 3 منٹ میں کانپتے ہونے باہر نکل آتے جبکہ شاویز 10 منٹ تک اندر رہتا اور پھر بغیر کانپے یا سی سی کئے باہر آجاتا۔

سب کے دونوں بازووں میں دس سے بیس کلو وزن لٹکا کر انہیں پورے اکیڈمی کے احاطے کے تین چکر لگوائے جاتے۔

ایک ایک کر کے سب کو ایک دائرے کے اندر کھڑا کر کے ان کے پیٹھ پر ہنٹر سے ضرب کیا جاتا تاکہ وہ مار اور ضربیں سہنے کے قابل بنے۔ باقی سب جلدی نڈھال پڑ جاتے جبکہ شاویز ہر ٹریننگ میں سب سے زیادہ وقت سبق برداشت کر پاتا۔

ایسے اور بھی کئی سارے آپسی مقابلے ہوتے کبھی جسمانی اور کبھی ذہنی جو ان نوجوانوں کو مظبوط اور توانا بنا رہے ہوتے تھے۔

انڈر 19 میں آکر شاویز قدرے سنجیدہ ہوگیا تھا۔ ہر وقت کچھ نا کچھ سوچتا رہتا اور صرف اپنی ٹریننگ کرتا۔

ایک دن اس کے اس رویے کے چلتے صادق سر نے اسے اپنے پاس روک لیا۔

“میں جانتا ہوں شاویز۔۔۔۔۔ اس ٹریننگ کا تمہارا مقصد کچھ اور ہی ہے۔۔۔۔ تمہارے اندر کی آگ دن بہ دن بھڑکتی جا رہی ہے۔۔۔” صادق صاحب نے سنجیدہ تاثرات سے کہا۔

وہ خاموش رہا تو صادق سر سرد سانس خارج کر کے پھر سے گویا ہوئے۔

“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ تمہیں مجھے نہیں بتانا تو مت بتاو۔۔۔۔۔۔ لیکن میری ہر نصیحت کی طرح یہ نصیحت بھی ہمیشہ یاد رکھنا۔۔۔۔۔ بیشک فوجیوں کو دشمنوں کو مار گرانے کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن وہ دشمن بھی اگر ملک کے لیے خطرہ ثابت ہو تب۔۔۔۔۔۔ نا حق کسی کو ضرر پہنچانے کا حق کسی کو نہیں ہے۔۔۔۔۔ اپنے مفاد کے لیے اپنے پروفیشن کا استعمال کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔۔۔۔ اس دنیا میں۔۔۔۔۔ ہمارے حکومتی اداروں میں شاید اس چیز کی پوچھ گچھ نہ ہو۔۔۔۔۔ ہم ہیر پھیر کر کے ذاتی دشمنی کو ملک کی حفاظت کے نام سے چھپا لیں۔۔۔۔۔ لیکن وہ۔۔۔۔” صادق سر نے شہادت کی انگلی آسمان کے جانب اٹھائی۔

“وہ رب پروردگار۔۔۔۔۔ اس سے کبھی کچھ نہیں چھپا۔۔۔۔۔۔ اور اس کے بارگاہ میں ہر عمل کی پکڑ ہوتی ہے۔۔۔۔۔” انہوں نے نرمی سے کہتے ہوئے شاویز کے کندھے کے گرد بازو مائل کیا۔

“کبھی ایسا کچھ مت کرنا شاویز۔۔۔۔۔ جس سے اس دنیا میں بھلے ہی تم بچ جاو۔۔۔۔۔ لیکن روز قیامت تمہیں اللہ سبحان تعالی کی پکڑ سے کوئی ٹریننگ کوئی ذہانت اور کوئی صلاحیت تمہیں نہ بچا سکیں۔۔۔۔۔” شاویز نے افسردہ انداز میں ان کی جانب دیکھا وہ متفکر تاثرات بنائے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ صادق صاحب کی باتوں میں فکرمندی صاف چھلک رہی تھی۔

ایک سال پہلے تک جس کی کفالت کی۔ اپنے ذمہ داری پر جیسے توانا اور مظبوط بنایا۔ اب صادق سر نہیں چاہتے تھے کہ وہ غلط راہ پر چل پڑے۔ اب وہ نہیں چاہتے تھے شاویز اپنی صلاحیتوں کو غلط کاموں میں صرف کریں۔

شاویز نے لمبی سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کیا۔

“اDon’t worry سر۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو کبھی جود سے نا امید اور بد گمان نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ آپ کی ساری تعلیمات مجھے یاد ہے اور ہمیشہ رہیں گی۔۔۔۔۔ میں کبھی کسی کو ناحق نقصان نہیں پہنچاوں گا۔۔۔۔ کسی کو بے وجہ نہیں ماروں گا۔” شاویز نے ان کے گلے مل کر انہیں یقین دہانی کروائی۔ ان کے اعتماد کو کبھی نہ توڑنے کا وعدہ کیا۔

اس کی باتوں سے مطمئن ہو کر صادق سر نے مظبوطی سے اسے اپنے حصار میں لیا اور اسے کامیابیوں کی بلندیوں کو چھونے کی دعائیں دی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

20 سال کا ہونے تک اس کی بے خوابی کی کیفیت اور شب بیداری سے بڑھتے سر درد نے اس کو کافی پریشان کر رکھا تھا۔ اور کسی رات وہ سو بھی جاتا تو ڈراونے خوابوں کی وجہ سے وہ پورا دن اضطراب میں رہتا۔ اس سے نہ پڑھائی پر توجہ دی جا رہی تھی اور نہ پریکٹس پر۔ اگلے ماہ سے اس کی armed ٹریننگ شروع ہونی تھی جس میں اسے مختلف اقسام کے ہتھیار چلانا سیکھنا تھا اس لیے وہ خود کو تندرست رکھنا چاہتا تھا؛ سوچتے ہوئے وہ دو دن کے لیے کراچی گیا اور صادق سر کے بتائے ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کروانے چلا گیا۔

سارا معائنہ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے اسے انسومینیا (insomnia) کا شکار ہونا بتایا جس کی وجہ سے نیند نہ لینے اور ہر وقت ٹینشن میں رہنے سے اس کے سر کے آخری حصے میں درد رہتا ہے اور اس درد کی قسم کو مائگرین کا نام دیا گیا۔

ابھی اس کے تعطیلات نہیں تھے اور ایسے اچانک یتیم خانے جا کر وہ بوڑھی دائی ماں کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے وہ ان سے ملے بنا ہی صبح کی ٹرین سے واپس بلوچستان آگیا تھا۔

صادق سر کو اس نے صرف ٹینشن کا بتایا۔ باقی انسومنیا اور مائگرین کی بات اپنے دل میں راز رکھ لی تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆