No Download Link
Rate this Novel
Episode 02
گھپ اندھیرے میں اسے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ اندھا دھند بھاگ رہا تھا۔ تیز ہواؤں سے جنگل کی فضاء میں غضب ناک دل دہلا دینے والی آوازیں پیدا ہورہی تھی۔ آج ان ہواؤں کے ساتھ ساتھ کوئی بری طرح اس پر ہنس رہا تھا۔ وہ بے بس سا روتا؛ درختوں کو چیرتا بھاگ رہا تھا۔ کہی دور اسے روشنی کی کرن نظر آئی۔ اس کے جسم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ اس روشنی تک پہنچنے والا ہوتا ہے کہ ایک زور دار جھٹکے سے منہ کے بل گر جاتا ہے۔ اس نے ہاتھ اوپر کر کے دیکھیں۔ اسے جگہ جگہ زخم لگ گئے تھے جن سے خون رس رہا تھا۔ وہ اٹھنا چاہتا ہے پر ایسا لگتا ہے کوئی بھاری وزنی چیز اس کے پِیٹھ پر آگری ہے۔ اس نے پیچے مڑ کر دیکھا وہ بھاری بھرکم چیز وہی اس پر ہنسنے والا آدم خور جانور ہے جس کا آدھا حصہ انسان کا اور آدھا جانور کا ہے۔ اس آدم خور کی سرخ آنکھوں اور لمبے بھیڑیے جیسے دانتوں سے اسے وحشت ہونے لگی۔ رخ سامنے کر کے وہ اپنی پوری قوت سے چِلانے لگا۔ آدم خور جانور نے اس کے دونوں ہاتھ جکڑ لیئے اور پیچے کی طرف کھینچنے لگا۔ کھیچاو اتنا شدید تھا کہ اسے لگا اس کے بازو دھڑ سے الگ ہوجائے گے۔ اس آدم خور کی آنکھوں میں خون سوار تھا۔ وہ چلا چلا کر؛ درد کی شدت سے نڈھال ہونے لگا۔ وہ روشنی کی کرن دھندلی پڑنے لگی اس کی جان جانے لگی تھی کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔
وہ پورا پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی جیسے وہ خواب کے ساتھ ساتھ حقیقت میں بھی چیختا چلاتا رہا ہو۔ کچھ لمحے اسی طرح دم سادھے پھٹی آنکھوں سے پڑا رہا۔ وہ پلکیں جھپکانے سے بھی خوف زدہ تھا۔ مانو اس نے پلکیں جھپکائی تو وہ جانور شکل کا آدمی پھر اس کی اوپر آجائے گا؛ اتنا سوچتے ہی اس کی سانس رکنے لگی دھڑکن تیز ہوگئی وہ پھرتی سے اٹھ بیٹھا۔ سایئڈ ٹیبل پر پڑے نائٹ لیمپ کو جلایا لیکن آج اس کا خوف کم کرنے اتنی روشنی کافی نہ تھی۔ بیڈ سے چھلانگ لگانے کی صورت وہ اٹھا اور بورڈ پر ہاتھ مار کر سارے بلب لگا دیئے۔ وہ اپنے لرزتے ہاتھوں کو دیکھنے لگا وہاں کوئی زخم کوئی خون نہیں تھا۔ اس نے سر پکڑ لیا اور تیز تیز چند سانس لے کر خود کو سنبھالا۔ آج مسلسل کئی راتوں سے اسے یہ ڈراونے خواب آرہے تھے اور وہ اسی طرح غیر حالت میں اٹھ بیٹھتا۔ جب کئی راتوں کی شب بیداری اور مسلسل ان خوابوں کا حملہ ہوتا تو انجام اس کے مائگرین ( آدھے سر کا درد) پر ہوتا۔ اس وقت اسے اپنے سر کے پیچے گردن کے پاس اٹھتی ٹیسیں سچ میں نڈھال کر رہی تھی۔ اس میں گردن ہلانے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ وہ نہانے کے بجائے آہستہ آہستہ اپنے راکنگ چیئر کے پاس آیا اور چیئر کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ تصاویر لگے دیوار پر نظریں گاڑے وہ چیئر جھلانے لگا۔
“آج تو وہ اپنے پہلے ٹارگٹ کو موت کے منہ تک پہنچا آیا تھا۔۔۔۔ سحر بنت دلاور پرویز خان کو اس نے اپنی وحشت سے اتنا ہیبت زدہ کر دیا تھا کہ وہ بنا جان کی پروا کئے چلتے ٹریفک میں کُود پڑی تھی۔۔۔۔۔ پھر آج تو اسے سکون کی نیند آجانی چاہیئے تھی۔۔۔۔۔ سالوں بعد کچھ پل کے لیے ہی صحیح؛ ان خوابوں کو اس کا دامن چھوڑ دینا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔ پھر کیوں؛۔۔۔۔ کیوں اسے آج بھی سکون نہیں تھا۔۔ ۔۔ کیوں وہ آج بھی سو نہیں سکا تھا۔۔۔۔۔ کیا اتنا کافی نہیں تھا۔۔۔۔۔” اس نے سوچتے ہوئے سحر کی تصویر سے نظریں گھما کر اس بڑے سائز تصویر کو دیکھا۔
“ہاں اتنا کافی نہیں تھا۔۔۔۔ دلاور پرویز خان۔۔۔۔۔ جب تک میں اس کی راتوں کی نیند اور دن کا چین برباد نہ کر دوں۔۔۔۔ جب تک میں اسے تباہ نہ کر دوں۔۔۔۔۔ تب تک مجھے سکون نہیں ملے گا۔۔۔” اس نے نفرت بھری نگاہوں سے اس تصویر کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ اغذ کیا۔
گردن اور کندھوں میں درد کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اسے سانس لینے میں بھی دشواری ہورہی تھی۔ اس نے لب کاٹتے ہوئے آنکھیں بند کی کہ شاید کچھ آرام آسکے۔
پانچ سال پہلے جب راتوں کو جاگتے رہنے اور سو جائے تو خوفناک خواب دیکھنے کی وجہ سے اسے یہ بیماری لاحق ہوئی تھی تو ڈاکٹر نے pain killer اور antidepressant ادویات تجویز کی تھی۔ ان دوائیوں کے استعمال سے اسے درد سے نجات تو مل جاتا لیکن ان کی نشہ آور side effect سے وہ دن بھر سویا رہتا۔ جاگنا چاہتا تو بھی اٹھ نہ پاتا۔ ایک سال تک ان ادویات کا عادی ہوجانے کے بعد اسے یہ محسوس ہونے لگا کہ اس کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ رات برے خواب یا مائگرین کے درد کی وجہ سے تکلیف میں اور دن ادویات کے زیر اثر سوتے رہتے گزر جاتے ہیں۔ تب اس نے دوائیاں لینا کم کر دی اور اپنی برداشت کی حد بڑھا دی۔ اس کے چلتے پچھلے چار سالوں سے جب تک درد کی وجہ سے اس کا رونا نہ نکل جاتا وہ برداشت کرتا رہتا اور دوائی لینے سے گریز کرتا۔
وہ اسی طرح راکنگ چیئر پر بیٹھ کر دلاور پرویز اور اس کی فیملی کے تصاویر دیکھتا رہتا۔ ہر ٹیس کے ساتھ اسے پہلے سے زیادہ اس فیملی سے نفرت ہونے لگتی۔ دل میں بدلے کی آگ بھڑک اٹھتی۔ اسے اپنا بدلہ اور انتقام یاد رہتا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ایک ہفتے میں شاویز کی تقریباً پوری کلاس سے دوستی ہوگئی تھی۔ سحر سے دوستی تو نہیں ہوئی تھی پر اس کا وہ سخت اور پیچیدہ لہجہ کسی حد تک ہموار ہوگیا تھا۔ اب وہ کہی مل جاتے تو رک کر سلام دعا کر لیتے۔ پڑھائی کے متعلق کوئی مشکل ہوتی تو ایک دوسرے کی مدد کر دیتے۔ اگر عارفہ کو شاویز کے ساتھ وقت گزارنا ہوتا تو وہ بغیر کسی رد عمل کے اسے ساتھ جانے دیتی جبکہ خود ساتھ آنے سے معذرت کر لیتی۔
اپنے وعدے کے مطابق شاویز دو دن پہلے عارفہ کے ساتھ کیفیٹریا بھی چلا گیا تھا۔ جتنا وقت وہ دونوں ساتھ تھے زیادہ تر گفتگو عارفہ ہی کرتی رہی اور وہ سنتا رہا۔
“تم نے اپنے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔ اب تو ہم اچھے دوست بن گئے ہیں۔۔۔۔ اپنے بارے میں کچھ بتاو” عارفہ نے چپس کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
“میں بہت امیر ہوں۔۔۔۔ میرے ڈیڈ بہت امیر بزنس مین ہے۔۔۔۔۔۔ میں اپنے فیملی کا اکلوتا چشم و چراغ ہوں۔۔۔۔۔۔ ہمارے پانچ چھ کارخانے ہیں۔۔۔۔۔ ایسا سب کہنے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ ” شاویز نرم لہجے میں محتاط انداز میں جواب دینے لگا۔
اتنے سارے وسائل کے بارے میں سنتے سنتے عارفہ کے چہرے پر جو چمک آئی تھی وہ آخری جملہ سنتے ہی غائب ہوگئی
“میں نے آدھی سے زیادہ عمر غربت میں گزاری ہے۔۔۔۔۔ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تک دن رات محنت مشقت کر کے پہنچا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ ایک کامیاب جینٹلمین بننا چاہتا ہوں۔۔۔” شاویز کا لہجہ بے لچک اور سپاٹ تھا۔ اتنی معلومات بتا کر وہ چپس کھانے اور جوس پینے میں مشغول ہوگیا تا کہ عارفہ اس کی شخصیت سے متعلق مزید سوال نہ کریں۔
عارفہ ویسے تو اس کے میریٹل سٹیٹس کے بارے میں جاننا چاہتی تھی کہ وہ سنگل ہے یا کوئی گرل فرینڈ یا منگیتر یا شادی شدہ لیکن شاویز اپنی سادگی میں اسے اپنی اکنامکل سٹیٹس بتا گیا۔ اس ساری گفتگو کے دوران عارفہ صرف شاویز کو دیکھتی رہی۔ اس نے آج خاکی پینٹ کے ساتھ مہرون کلر شرٹ پہنی تھی۔ آنکھوں پر گلاسس لگائے۔ بال سائیڈ پر اوپر کی رخ میں جمائے وہ بہت دل کش لگ رہا تھا۔ مگر شاویز رخ موڑے لان میں بیٹھے سٹوڈنٹس کو دیکھتا رہا۔ کچھ لمحے خاموشی کے گزرنے کے بعد اس نے تاثرات خوشگوار بنائے اور عارفہ کو دیکھنے لگا۔ عارفہ آج جینز کے ساتھ رائل بلیو کلر کی لانگ شرٹ میں ملبوس؛ ٹانگ پر ٹانگ رکھے آگے کو ہو کر بیٹھی تھی۔
“تم بھی تو اپنے بارے میں بتاو۔۔۔۔۔ تمہارا نام عارفہ ہے۔۔۔۔ تم بہت چنچل مزاج۔۔۔۔۔ ہنس مکھ۔۔۔۔۔۔ زندہ دل لڑکی ہو۔۔۔۔۔۔ سب کے ساتھ فرینڈلی رہتی ہو۔۔۔۔۔۔ خوشیاں بانٹتی رہتی ہو۔۔۔۔۔ پری جیسی معصوم اور غضب کی خوبصورت ہو۔۔۔۔ ان سب کے علاوہ میں تمہارے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا۔۔۔” شاویز نے شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔
عارفہ اپنے بارے میں شاویز سے اتنی تعریف سن کر چھنپ سی گئی۔ تو کیا وہ مجھے نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اس حد تک مجھے جانچ پرکھ رکھا ہے؛ سوچتے ہوئے وہ محظوظ ہونے لگی۔
“تم تو مجھ سے زیادہ میرے بارے میں جانتے ہو۔۔۔” عرفہ نے بلش کرتے ہوئے وضاحت دی۔
شاویز میز پر کہنیاں ٹکائے آبرو اٹھا کر غور سے شرماتی ہوئی عارفہ کو دیکھ رہا تھا۔
“میرے پاپا اصغر ساجد۔۔۔۔۔ وزارت تعلیم کے دفتر میں لیگل ایڈوائزر کے طور پر اپنا پیشہ سرانجام دے رہے ہے۔۔۔۔۔ ممی ہاوس وائف ہے۔۔۔۔۔ مجھ سے بڑے ایک بھائی ہے حماد بھائی۔۔۔۔۔ وہ ملیشیا میں مقیم ہے۔۔۔۔۔ وہی اپنے ایم بی بی ایس کی ڈگری کر رہے ہے۔” عارفہ نے مستحکم بھرے انداز میں اپنی فیملی کے بارے بتایا۔
شاویز اسی خوش دلی سے اس کی طرف متوجہ تھا۔
باتیں کرتے کرتے جب کھا پی چکے تھے اور جانے کے لیے اٹھے تو شاویز کاونٹر کے پاس گیا اور بل کی ادائیگی کی۔ عارفہ کے دل میں تو پہلے دن ہی شاویز کے لیے جگہ بن گئی تھی اور اب دن بہ دن اس کے مردانہ پرسنیلٹی سے مزید متاثر ہو رہی تھی۔ اس کے دل میں شاویز کے لیے پسندیدگی اور جذبات شدت اختیار کر رہی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کیفیٹریا سے نکل کر وہ دونوں ساتھ ساتھ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے جانب چہل قدمی کرنے لگے۔
شاویز ہاتھ پیچے باندھ کر آس پاس یونیورسٹی کے سبزہ زار کو اور کیاریوں میں لگے چھوٹے پھولوں کو دیکھ رہا تھا۔
عارفہ کچھ کہنے لب کھولتی لیکن پھر جھجک کر واپس رخ موڑ لیتی۔
“کچھ اور پوچھنا ہے۔” شاویز یک دم ہی اس کے سامنے آکھڑا ہوا اور اسی طرح ہاتھ باندھے ہلکے سے جھک کر شرارتی مسکراہٹ دبائے ہوئے عارفہ کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔
“بنا کہے یہ میری کیفیت کیسے سمجھ گیا۔۔۔۔۔ کہ میں کچھ پوچھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔” عارفہ نے جھجکتے ہوئے سوچا۔ پھر گڑبڑا کر تیزی سے نفی میں سر ہلایا اور نظریں جھکا گئی۔ اچانک سے اسے اپنے چہرے کے اتنے قریب محسوس کر کے اس کی ہارٹ بیٹ مس تیز ہوگئی تھی۔
شاویز پلکیں جھپکا کر ہلکے انداز میں مسکرایا۔ سیدھا کھڑا ہوکر اس کے راستے سے ہٹ گیا۔ دونوں پھر سے روش پر خاموشی سے چلنے لگے۔ اب کی بار رفتار کچھ تیز ہوگئی تھی کیونکہ اگلی کلاس شروع ہونے والی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پچھلے چار سالوں سے جمع کردہ معلومات کے مطابق ہفتے میں تین دن سحر کوچنگ سینٹر میں پینٹنگ سیکھنے جایا کرتی۔
پچھلی دفعہ جب وہ سحر کا تعاقب کرتا اس کے پیچے گیا تھا تب اس نے سوچا نہیں تھا کہ سحر جتنا مظبوط بنتی ہے اتنی ہے نہیں۔ اس کے زرا سے فالو کرنے پر وہ اس قدر ڈر جائے گی۔ جس وقت وہ خوف و ہراس میں بھاگ رہی تھی اسے بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا لیکن جب وہ بے دھڑک سڑک پر بھاگنے لگی تو وہ اضطرابی کیفیت میں اسی جگہ ساکت کھڑا ہوگیا۔ وہ دلاور پرویز خان اور اس کی فیملی کو تباہ و برباد ضرور کرنا چاہتا تھا لیکن کسی کو جان سے مار کر نہیں۔ صرف نفسیاتی اذیت دے کر اور مالی نقصان پہنچا کر۔ دن کا چین اور راتوں کی نیند حرام کر کے۔
آج سحر کو شام میں کوچنگ سینٹر جانا تھا۔ وہ پھر اس کے پیچے جانے کا منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اتنی آسانی سے وہ سحر کو خود کو بھولنے نہیں دے گا؛ یہ اس نے طے کر لیا تھا۔
کل رات وحشتناک خواب آنے کے خوف سے وہ سویا ہی نہیں۔ نیند کو دور رکھنے کے لیے وہ مگ پہ مگ کڑوی کافی اندر انڈیلتا رہا تھا۔ صبح کا آغاز معمول کی طرح فجر کی نماز ادا کر کے؛ ورزش کر کے کیا۔ ناشتہ میں صرف ایک مگ کافی پی اور اپنے کام میں جٹ گیا۔ دوپہر ہونے لگی تو اسے بھوک کا احساس ہونے لگا
وہ اپنے کمرے میں موجود ورکنگ ایریا میں تھا۔ کرسی پر بیٹھے ڈائری پر کچھ لکھ کر بند کی۔ پیشانی مسلتے ہوئے وہ اٹھا اور فریش ہونے واشروم چلا گیا۔
اس کا فلیٹ اپارٹمنٹ کے تیسرے منزل پر تھا۔ ایک بیڈ روم پر مشتمل اس کا فلیٹ بیرون ممالک کے فلیٹ کے ڈیزائن سے بنایا گیا تھا۔ مین دروازے سے اندر آئے تو لاؤنج تھا جس میں بائیں دیوار پر ٹی وی لگایا گیا تھا۔ دائیں طرف صوفہ سیٹ رکھا تھا اور بیچ میں سینٹرل ٹیبل۔ گھر کا سارا فرش لکڑی کا بنا تھا اور دیواروں پر بھی اسی سے میچنگ وال پیپر چسپاں تھا۔ صوفہ سیٹ کے سمت میں اس کے وسیع بیڈ روم کا دروازہ تھا جو پورے لاؤنج کے برابر جتنا بڑا تھا۔ بیڈ روم کے اندر؛ دروازے کے ساتھ الماری تھی اور انسان قد جتنا آئینہ جہاں وہ تیار ہوا کرتا۔ بیڈروم کی بالکونی باہر کی جانب کھلتی تھی جہاں وہ کھلی فضاء میں بیٹھا کرتا اور ایک کھڑکی بھی تھی جو بالکونی میں کھلتی۔
لاونج کے ساتھ ہی اوپن کچن تھا اور چھوٹا سا ڈائننگ ایریا۔
وہ فریش ہو کر باہر آیا اور اوپن کچن میں آکر کچھ کھانے کے لیے بنانے لگا۔ کچھ منٹ بعد وہ اپنے لیے پیکٹ والے کٹلس فرائی کر کے لے آیا تھا۔ ڈائننگ ٹیبل کے بجائے صوفے پر بیٹھا۔ ٹی وی آن کیا۔ نیوز چینل دیکھنے کے ساتھ ساتھ وہ کیچپ لگا لگا کر کٹلس کھانے لگا۔
آدھ گھنٹہ تک کھانے سے فارغ ہو کر اس نے ٹی وی واپس بند کیا۔ اپنے کمرے میں آکر اس نے اپنا مخصوص لباس پہنا اور چابیاں اٹھا کر گھر سے باہر نکل آیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سحر لنچ کے بعد کچھ دیر سستانے صوفے پر لیٹی تھی اور اسی طرح صوفے پر ہی سو گئی تھی۔
عابدہ اپنی نگرانی میں ملازمہ سے کچن صاف کروا کر نکلی تو سحر کو صوفے پر سویا ہوا پایا۔ گھڑی کو دیکھا تو اس کے پینٹنگ کلاس جانے کا وقت ہورہا تھا۔ وہ سر جھٹکتی اس کے پاس آئی اور سحر کا کندھا جھنجوڑ کر جگانے لگی۔
“سحر۔۔۔۔۔ اٹھ جاو۔۔۔۔۔۔ 4 بج گئے ہے۔۔۔۔۔ کوچنگ سینٹر نہیں جانا کیا۔” انہوں نے بلند آواز میں اسے مخاطب کیا۔
وہ جو بے زاری سے ماں کی پکار سن کر ان سنا کر رہی تھی 4 بجنے کا سن کر عنودگی سے باہر آئی۔ میں سو کیسے گئی تھی؛ سوچتے ہوئے وہ اٹھ بیٹھی اور ہاتھوں کی انگلیوں سے بالوں کا جوڑا بنانے لگی۔
“اتنا لیٹ جگایا ہے آپ نے مما۔۔۔۔ کلاس کے لیے دیر ہوجائے گی۔” بال باندھ کر سلپرز پہنتی وہ اٹھی اور اپنے کمرے کے جانب بھاگ گئی۔
“مجھے تھوڑی پتا تھا۔۔۔۔ تم یہاں سورہی ہو۔۔۔” عابدہ بیگم نے صوفے کے کشن درست رکھتے ہوئے اسے آواز لگائی پر وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی کمرے میں جا چکی تھی۔
مسزز عابدہ دلاور 45 سالہ باوقار خاتون۔ نقش و نگار سے لیکر قد کاٹ تک ہر زاویے سے بے مثال۔ عالی ظرف کی مالکن اپنے گھر کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ایک چیرٹی رائزنگ ادارے کی سربراہی بھی کرتی تھی۔ اگر دلاور پرویز خان کا بزنس کی دنیا میں اپنا نام تھا تو مسزز عابدہ دلاور کا کار خیر کی دنیا میں اپنا۔
25 سال کی شادی شدہ زندگی میں انہوں نے ہر قدم پر دلاور پرویز خان کا ساتھ دیا تھا۔ ان کے سر کا تاج دلاور تھے اور دلاور کے لیے اس پر رونق زندگی کا مشعل عابدہ تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سحر جلدی سے تیار ہو کر اپنا پینٹنگ کا بیگ جس میں پینٹ کلر؛ برشز؛ ایزل؛ کینوس؛ سکیچ بک اور بہت سارے پیسنل اور پین رکھے تھے؛ اٹھایا اور سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی۔
اس کا ڈرائیور پہلے ہی کار سٹارٹ کئے اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔
“جلدی چلو گل خان۔۔۔۔ آج تو دیر ہوگئی۔” اس نے اندر بیٹھتے ہوئے کہا۔ اس کے ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ڈرائیور نے بھی فوراً سے کار چلا دی۔
ڈرائیور نے کچھ شارٹ کٹ کے ذریعے سے اسے وقت پر کوچنگ سینٹر پہنچا دیا تھا۔ وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی پھرتی سے اپنے کلاس میں چلی گئی۔
کلاس میں اس نے اپنا ایزل اس کھڑکی کے پاس سیٹ کیا جو باہر سڑک پر کھلتی تھی۔
ایزل میں پیپر لگا کر وہ ٹیچر کے بتائے انداز میں پینسل سے سکیچ کرنے لگی۔
ایک آدھ دفعہ کھڑکی سے باہر نظر دوڑائی تو ایک بلیک کلر کی لینڈ کروزر کار کھڑی دیکھی۔ کچھ لمحے کے لیے اس حادثے کی یاد اس کے ذہن پر لہرائی لیکن پھر ٹیچر کی آواز نے اسے یادوں کے جال سے نکال لیا۔ وہ سر جھٹکتی کلاس کی جانب متوجہ ہوئی اور اپنا سکیچ بنانے لگی۔
دو گھنٹے کی کلاس کے بعد وہ بیگ کندھے پر لٹکائے باہر آئی تو اب وہ بلیک کار وہاں موجود نہیں تھی۔ اس نے یہ سب ایک اتفاقیہ مماثلت قرار دیا اور اپنی کار میں آکر بیٹھ گئی۔ واپسی پر وقت کی کوئی پابندی نہیں تھی تو ڈرائیور مین روڈ سے لے آیا تھا۔ وہ کھڑکی کا شیشہ نیچے کئے باہر دیکھ رہی تھی کہ اسے وہ بلیک کار ساتھ ساتھ چلتی ملی۔ وہ چونک کر سیدھی ہو کر بیٹھی۔ چونکہ ٹریفک بہت تھا اس لیے کبھی ان کی کار آگے بڑھ جاتی کبھی وہ پیچے رہ جاتی۔ سحر نے کوئی خاص دھیان دیئے بغیر یہ اغذ کیا کہ وہ ویسے ہی عام کار ہے جو ٹریفک کی وجہ سے اس کے سامنے آ جا رہی ہے۔
اوسان وہاں خطا ہوئے جب ایک سگنل پر سحر نے وہ گاڑی ساتھ آکر رکتی دیکھی۔ اس شخص نے اپنی طرف کا بلیک شیشہ نیچے کیا۔ اندر بیٹھے وہی بلیک اَپر پہنے مرد کو دیکھ کر سحر سہم گئی۔ آج اپر کی ٹوپی اس کے چہرے پر نہیں تھی لیکن ماسک پہننے اور آنکھوں پر گلاسس لگانے کے باعث وہ اس کا چہرہ واضح دیکھ نہیں پائی۔ وہ ابھی سہمے انداز میں اسے مشاہدہ کر رہی تھی کہ سحر نے اس کے ہاتھ میں گن دیکھی جو وہ اسی کی طرف ہاتھ اٹھا کر نشانہ باندھ رہا تھا۔
“ڈرائیور گاڑی چلاو۔۔۔” اس نے گھبرا کر ڈرایور کی سیٹ ہلائی۔
وہ جو یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اچانک کیا ہوگیا کبھی پریشانی کے عالم میں سامنے سگنل کو دیکھتا جو ابھی بھی سرخ تھا اور کبھی بیک ویو مرر میں سحر کو جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ گاڑی کو ہوائی جہاز بنا کر اڑا دیں۔
وہ اسی طرح اس ماسک پہنے مرد کو اور اس کے ہاتھ میں ہتھیار دیکھ کر حالت غیر میں حواس باختہ ہو رہی تھی۔ وہ دوبارہ ڈرائیور کو جھڑکنے لب کھولنے لگی تھی کہ سگنل گرین ہوگیا اور ڈرائیور نے پوری رفتار سے کار چلا دی۔
وہ کانپتے ہانپتے تھوک نگل کر گلا تر کرتی آس پاس دیکھنے لگی۔
“میڈم آپ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔” ڈرائیور نے موودب انداز میں ہلکے لہجے میں پوچھا۔
ڈرائیور کو اپنی طرف متوجہ پا کر وہ چھنپ سی گئی۔ تاثرات نارمل کرتے ہوئے اس نے سر اثابت میں ہلایا۔
” ھھمم۔۔۔۔۔ جلدی گھر چلو۔” اس نے نظریں نیچی رکھے ہوئے کہا۔ ڈرائیور مناسب رفتار سے کار چلاتا موڑ مڑا تو وہ بلیک کار ان کے گلی کے سامنے اس زاویے میں کھڑی تھی کہ دائیں بائیں کہی سے بھی کسی دوسری گاڑی کے گزرنے کے امکانات نہ تھے۔
ڈرائیور نے غصیلے انداز میں زور سے ہارن دینا شروع کیا۔ سحر جانتی تھی کس کی گاڑی ہے اندر کون ہے پر وہ ڈرائیور کو نہیں بتا سکتی تھی۔
“ارےےےے اوووو بلیک لینڈ کروزر والے۔۔۔۔۔۔ بہرے ہو۔۔۔۔۔ اتنے ہارن سنائی نہیں دے رہے۔” ڈرائیور گل خان نے کھڑکی سے سر نکال کر بلند آواز میں صدا لگائی۔
وہ سفید پوش علاقہ تھا۔ وہاں لوگوں کی آمد و رفت کم ہی پائی جاتی۔ اس وقت بھی ان کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔
جب لگا تار ہارن دینے کے بعد بھی وہ گاڑی نہ ہٹی تو ڈرائیور نے خود اتر کر اس کے پاس جاکر ڈانٹنے کا سوچا۔
“نہیں گل خان۔۔۔۔۔ باہر مت جاو۔۔۔۔ کوئی آوارہ ہی لگ رہا ہے۔۔۔۔ دوسری طرف سے گاڑی گھماو۔” ڈرائیور گاڑی سے اتر رہا تھا کہ سحر کو اس اپر والے کے پاس اسلحہ ہونا یاد آیا۔ وہ اپنی وجہ سے اڈھیر عمر گل خان کی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی اس لیے اس نے یک دم سے ڈرائیور کو اپنی گاڑی پیچے لے جانے کا کہا۔
اس نے جب سحر کی کار واپس مڑتے دیکھی تو خود ہی اپنی کار آگے چلا دی۔
گلی کے آخر میں اس کی کار اوجھل ہوتے دیکھ کر گل خان نے بھی کار پھر سے سامنے کی جانب بڑھا دی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سحر گھر پہنچی تو کار سے اتر کر وہ بلکل گم سم سی ہوگئی۔
” کیا چاہتا ہے یہ آخر۔۔۔۔ نہ سامنے آتا ہے۔۔۔ نہ شکل دکھاتا ہے۔۔۔۔۔ صرف ایسے ڈرا دھمکا کر ثابت کیا کرنا چاہتا ہے۔” وہ بھاری قدموں سے پورچ کی سیڑھیاں چڑھ کر لاؤنج کے دروازے پر آئی۔
صائم کی کھلکھلا کر ہنسنے کی آواز یہاں تک آرہی تھی۔ اس نے تعجب اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے سامنے دیکھا تو بڑے صوفے پر اس کے پاپا تشریف رکھے ہوئے تھے۔
“پاپا۔۔۔۔۔” وہ خوشی سے چہک اٹھی اور بھاگ کر لاؤنج میں داخل ہوئی۔
سحر کو اپنی طرف آتا دیکھ کر دلاور پرویز خان اپنے جگہ سے اٹھے اور بازو پھیلا کر اپنی بیٹی کو گلے لگایا۔
“آگئی میری princess۔۔۔” دلاور صاحب نے اس کے سر پر پیار کرتے ہوئے پوچھا۔
باپ کے بازووں کی حصار میں آکر سحر کو بلا کا تحفط محسوس ہوا۔ پچھلی دو مرتبہ سے ہوتے حادثوں سے اس کا دل بھر آیا۔ وہ رو رو اپنے سر کے سایے؛ اپنے پاپا سے اپنا خوف بیان کرنا چاہتی تھی لیکن اس وقت موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خاموش رہی۔
سحر کے کندھے کو تھپکتے ہوئے انہوں نے اسے خود سے الگ کیا۔ اس کے آنکھوں کے کنارے بھیگتے دیکھ کر انہیں لگا وہ ایک ماہ بعد باپ کو دیکھ رہی ہے تو جذباتی ہورہی ہے۔ دلاور صاحب اسی انداز میں اس کے گرد بازو مائل کئے بیٹھے۔
“کیسی ہے میری گڑیا۔۔۔۔۔ کیا چل رہا ہے آج کل۔۔۔” اس کا مزاج خوشگوار کرنے باتوں میں پہل انہوں نے ہی کی۔
“ٹھیک ہوں پاپا۔۔۔۔۔ آپ کیسے ہے۔۔۔۔۔ جاپان کی ٹرپ کیسی رہی۔” پاپا کے خوش دلی کو دیکھ کر سحر کا موڈ بھی اچھا ہوگیا۔
“میں تو بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ بس ٹرپ بہت تھکا دینے والا رہا۔۔۔۔ لیکن جب محنت کر کے اس کا پھل اچھا ملے تو وہ تھکاوٹ ضائع نہیں جاتی۔۔” انہوں نے مسرت بھرے لہجے میں سمجھایا۔
“ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا۔۔۔۔۔ جاپانی کمپنی کا یہ پروجیکٹ آپ کو ہی ملے گا۔” عابدہ بیگم نے شوہر کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے۔
وہ ملازمہ کے ہمراہ چائے اور اسنیکس بنا کر لے آئی تھی اور اب دلاور صاحب کو کپ پیش کر رہی تھی۔
“تھینکیو۔۔۔۔”دلاور صاحب نے بیوی کی تعریف سے محظوظ ہوتے ہوئے دل کش نظروں سے انہیں دیکھا۔
صائم اپنے سامنے پڑے سپورٹس بائک کے ڈیزائن دیکھ رہا تھا جو اس نے خاص طور پر کالج اچھے مارک سے پاس کرنے کے تحفے کے طور پر پاپا سے جاپان سے منگوایا تھا۔
دلاور پرویز خان اپنے بیوی بچوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی ان کی فرمائش خالی نہیں جانے دی تھی پھر اب کیسے جانے دیتے۔ صائم کی پسند کردہ بائک وہ خرید چکے تھے اور دو دن بعد بحری جہاز کے ذریعے پاکستان ڈلیوری ہونی تھی۔
قیمت کی پروا کئے بغیر وہ صائم کے لیے سپورٹس بائک لائے تھے تو سحر کو کیسے پیچے چھوڑتے۔ اس کے لیے وہ ایک مشہور جاپانی آرٹسٹ کی مشہور پورٹریٹ بطور تحفہ لائے تھے۔ جبکہ عابدہ بیگم کے لئے جاپان کے شاہی طرز کا بنا نفیس سا جیولری باکس۔
سحر کو وہ پینٹنگ بہت پسند آئی۔ وہ ایک دیہاتی زندگی کو سراہتی رنگوں سے بھری پینٹنگ تھی۔ ایک طرف جنگل؛ ساتھ میں بہتی ندی؛ افق میں روشن سورج اور پہاڑوں کے درمیان مٹی کے بنے گھر؛ اور ندی کے کنارے مٹکے میں پانی بھرتی دیہاتی عورتیں؛ قدرت کے کرشمے اور سکون کا ملا جلا تاثر بخشتا نظارہ تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ گھر پہنچا تو شام ہوچکی تھی آفتاب غروب ہوچکا تھا۔
ماسک اور گلاسس اتار کر وہی سینٹرل ٹیبل پر رکھے۔ بیڈروم میں آکر الماری کھولی اور تیجوری نما سیف خانہ کھول کر اپنی گن واپس رکھنے لگا تو نظر سامنے پڑے ایک بوسیدہ سی تصویر پر پڑی۔ اس نے گن رکھ کر ہاتھ بڑھا کر وہ تصویر اٹھائی۔
ایک 26 سے 25 سالہ جوان خوبصورت لڑکی؛ کمر سے نیچے تک آتے لمبے بال؛ گہری آنکھیں؛ دل کو بہکا دینے والی حسین مسکان لیئے ایک 4 سالہ چھوٹے سے بچے کو کود میں بیٹھائے ہوئے تھی۔
“یہاں آو۔۔۔۔۔ پکڑو مجھے پکڑو۔” وہ حسین لڑکی اس ننھے بچے کے آگے بھاگتے اس کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
وہ بچہ دنیا جہان کے غم سے بے خبر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہنستا کھلکھلاتا ہوا اس کو پکڑنے بھاگ رہا تھا۔
“آہ۔۔۔۔ اووہوو۔۔۔۔ یہ کیا ہوگیا۔۔۔۔ میرا شاہ سوار بیٹا گر گیا۔” وہ واپس پلٹی اور اس بچے کے گر جانے پر بلکتی ہوئی اس کے پاس آئی۔
وہ معصوم بچہ کسی بھی چھوٹ؛ کسی بھی درد تکلیف سے انجان بھیگی آنکھوں سے ماں کی آغوش میں آکر چھپ گیا۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ میرا بیٹا بہت بہادر ہے۔۔۔۔۔ اسے اتنی سی چھوٹ سے درد نہیں ہوگا۔۔۔۔۔ اس کی ماں ابھی دوا لگا دے گی۔” وہ پیار کی مورت اپنے آسنو چھپاتے ہوئے 5 سالہ بیٹے کو دلاسہ دے رہی تھی۔ اس کی ننھی گول گول آنکھوں سے گرتے آنسو صاف کر رہی تھی۔
اس کے آگے منظر دھندلا گیا۔ یادیں دھواں بن کر اڑ گئی۔ اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر اس ماں بیٹے کی ہنستی تصویر پر جا گرے۔
اس کے بیٹے کو کہاں کہاں کس نوعیت کی چھوٹیں لگی تھی اب وہ ماں نہیں جانتی تھی۔ اس کے آنکھوں سے کتنے آنسو گرے تھے اب وہ ماں انجان تھی۔ اسے کسی بھی حد تک تکلیف ہوتی اب وہ ماں دوا لگانے پاس نہ تھی۔
اس کے وجود کا سبب؛ اس کی جنت؛ اس کی زندگی کا سر چشمہ؛ اس کی ماں اس کے 8 سال کی عمر میں ہی اسے تنہا چھوڑ کر اس فانی دنیا سے رخصت ہوچکی تھی۔
اس نے خود ہاتھ اٹھا کر رخسار پر گرے آنسو صاف کئے۔ گیلی سانس اندر کھینچ کر خود کو سنبھالا۔ آنکھ بند کر کے بہت سے باقی ماندہ آنسو اپنے اندر اتارے اور وہ تصویر سیف کے اندر رکھ کر تجوری لاک کر دی۔
اپنے جذبات قابو کرنے لمبی سانس لی اور نوٹس بورڈ کے جانب رخ کیا۔ کتابچے سے ایک خالی صفحہ پھاڑ کر آج کی تاریخ لکھی اور پن کے ساتھ وہ صفحہ نوٹس بورڈ پر آویزاں کیا۔
دو قدم پیچے جا کر کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے وہ آج کی تاریخ کو گھورنے لگا۔ آج کے دن دلاور پرویز خان اپنی زندگی کا سب سے اہم کام؛ اپنے جاپانی سرمایہ کاروں کے ساتھ؛ ان کے تعاون سے اپنی نئی کمپنی بنانے کی ڈیل کر آیا تھا۔ وہ دلاور کو اس ڈیل سے تو نہیں روک پایا لیکن اب اس کی تکمیل وہ کسی قیمت پر نہیں ہونے دے گا۔
اس کی ماں کو اس سے چھیننے والے درندے؛ دلاور پرویز خان کی خوشیاں چھیننے کا وقت آگیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دلاور پرویز خان نے ملک کے بڑے بڑے صنعتی پیداوار کرنے والوں اپنا خاصا مقبول نام بنا لیا تھا۔
پچھلے 19 سالوں سے وہ نیشنل اور انٹرنیشنل صنعتی اداروں کے نامور شخصیات میں شامل تھے۔ موجودہ دور میں ان کی دو بڑی بڑی فیبرکس اور ٹیکسٹائل کی کمپنیاں تھی۔ فیبرکس کی کمپنی انہوں نے سحر کے نام کی تھی اور ٹیکسٹائل کی صائم کے نام۔ دلاور صاحب نے اپنے اولاد کو ہمیشہ اتحاد اور اتفاق سے رہنے کی نصیحت بہت واضح کر رکھی تھی۔ سحر اور ضائم دونوں ہی صوبر بچیں ثابت ہوئے تھے۔ دونوں نے باپ کی ہر نصیحت پر عمل کر رکھا تھا اور ماں کی بھی فرمانبرداری کرتے۔ سحر بہت سلجی ہوئی تھی جبکہ صائم نٹ کٹ مزاج تھا۔
اب تیسری کمپنی وہ ہارڈ وڈ کی بنانے جا رہے تھے۔ یہ کمپنی انہوں نے اپنی دل عزیز بیوی عابدہ بیگم کے نام کھولنے کا سوچا تھا۔
“میرا سب کچھ تو آپ۔۔۔۔ اور ہمارے بچے ہیں دلاور۔۔۔۔۔ مجھے کوئی کمپنی نہیں چاہیئے۔” عابدہ بیگم نے کمپنی ان کے نام بنانے کا جان کر دلاور صاحب سے کہا۔
“میں نے سوچا۔۔۔۔ کہی تم یہ نہ سمجھو۔۔۔۔ کہ میں صرف اپنے بچوں سے محبت کرتا ہوں اس لیے ان کے نام کمپنیاں بنا دی ہے اور تمہارے نام نہیں۔” دلاور صاحب نے شریر لہجے میں بیوی کو تنگ کرتے ہوئے کہا۔
“میں ایسا کبھی نہیں سوچتی۔۔۔۔۔ آپ کا ساتھ۔۔۔۔ اور اپنے بچوں کی سلامتی میرے لیے سب سے قیمتی ہے۔۔۔۔۔ یہ کمپنی آپ کا خواب ہے۔۔۔۔۔ اسے آپ اپنے نام سے بنائے۔” عابدہ بیگم نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے دباؤ دیا۔ ان کا یہ والہانہ پیار دیکھ کر دلاور صاحب کو بہت تسکین ملی انہوں نے خوشی سے مسکراتے ہوئے ہامی بھری۔
دلاور پرویز خان اپنے وقت کے بہت ہینڈسم نوجوان تھے۔ لمبا قد؛ گھنے بال؛ لمبی ناک؛ کے مالک وہ پہلی ملاقات میں دل کو بھا جانے والے باوقار شخصیت تھے۔ اب 50 سال کی عمر میں بھی وہ دل کش اور توانا مرد ہے۔ صحت مند اور تندرست ہونے سے وہ کافی جوان لگتے ہے۔ ذہین باوقار اور پراعتماد لہجے کے ساتھ خوش مزاج مرد۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دلاور پرویز خان کے دادا اور والد اپنے دور میں قبیلے کے سردار رہ چکے تھے۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ ہر سرما کی چھٹیوں میں گاوں جایا کرتے۔
سحر کو گاوں جا کر بہت مزا آتا۔ اسے بچپن سے کچی آبادی؛ سر سبز و شاداب باغات؛ نہر اور ندی؛ گائے بھینس بھیڑ بکریوں کے بیچ دیہاتی زندگی تجربہ کرنے کا بہت شوق تھا۔ جب تک وہ اور صائم چھوٹے تھے۔ وہ صرف مزے کرنے گاوں جایا کرتی۔ وہ 16 سال کی تھی جب وہ آخری مرتبہ گاوں گئی تھی تب اسے اپنے پاپا کا سرداروں کے خاندان سے ہونے کا سمجھ آیا۔
ان کے خاندان میں بھی سرداری وراثت میں خاندان کے موجود بڑے مرد کو ملتی اس لئے اب اس کے تایا یعنی دلاور کے تایا زاد بھائی کو ملی تھی۔ 16 سال کی عمر میں جب سحر اپنے آبائی گاؤں گئی تو وہاں کے رسم و رواج دیکھ کر اس کے دل میں کئی سوالات پیدا ہوئے۔ وہاں اب بھی لڑکوں کو بالاتر رکھا جاتا ہے اور لڑکیوں کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ وہاں عورتیں صرف میاں کی خدمت اور اولاد پالنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ لڑکیوں کے لئے پانچویں جماعت تک سکول ہے جبکہ لڑکوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے شہر اور ملک سے باہر بھی بھیجا جاتا ہے۔
یہ سب کو دیکھتے سحر نے اپنے پاپا کے ماڈرن اور براڈ مائنڈڈ ہونے پر صد شکر ادا کئے تھے۔
آخری دفعہ جب دلاور صاحب اپنے بیوی بچوں سمیت گاوں گئے تھے تو سحر کو اپنی طرف کئی تنقیدی نظریں اٹھتی محسوس ہوئی تھی اس کے سلیقہ اور پوشاک پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے حلانکہ اس کی ڈریسنگ میں اعتراض برتنے جیسا کچھ ہوتا بھی نہیں تھا۔ وہ وہی شلوار قمیض زیب تن کرتی اور ڈوپٹہ گلے میں لیتی۔ عابدہ بیگم بھی گاوں جا کر ان کے وہاں جیسے طور طریقوں سے رہتی اور سحر کو بھی ویسا رہنے کی ہدایت دیتی۔
اُس چھٹیوں کے بعد اس کے دادا کی زندگی تک دلاور اور عابدہ صائم اور سحر کو اپنی کیئر ٹیکر کے پاس چھوڑ جاتے۔ اسے وہاں کا ماحول تو بہت پسند تھا لیکن بڑی ہونے کے ساتھ ساتھ اسے وہاں کے لوگوں کا رہن سہن بلکل پسند نہیں آیا اس لیے وہ خود بھی جانے کی ضد نہ کرتی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
