Bikhare Rishte By Palwasha Safi Readelle50251

Bikhare Rishte By Palwasha Safi Readelle50251 Last updated: 20 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

وہ پورا پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ حلق سے آواز نہیں نکل رہی تھی جیسے وہ خواب کے ساتھ ساتھ حقیقت میں بھی چیختا چلاتا رہا ہو۔ کچھ لمحے اسی طرح دم سادھے پھٹی آنکھوں سے پڑا رہا۔ وہ پلکیں جھپکانے سے بھی خوف زدہ تھا۔ مانو اس نے پلکیں جھپکائی تو وہ جانور شکل کا آدمی پھر اس کی اوپر آجائے گا؛ اتنا سوچتے ہی اس کی سانس رکنے لگی دھڑکن تیز ہوگئی وہ پھرتی سے اٹھ بیٹھا۔ سایئڈ ٹیبل پر پڑے نائٹ لیمپ کو جلایا لیکن آج اس کا خوف کم کرنے اتنی روشنی کافی نہ تھی۔ بیڈ سے چھلانگ لگانے کی صورت وہ اٹھا اور بورڈ پر ہاتھ مار کر سارے بلب لگا دیئے۔ وہ اپنے لرزتے ہاتھوں کو دیکھنے لگا وہاں کوئی زخم کوئی خون نہیں تھا۔ اس نے سر پکڑ لیا اور تیز تیز چند سانس لے کر خود کو سنبھالا۔ آج مسلسل کئی راتوں سے اسے یہ ڈراونے خواب آرہے تھے اور وہ اسی طرح غیر حالت میں اٹھ بیٹھتا۔ جب کئی راتوں کی شب بیداری اور مسلسل ان خوابوں کا حملہ ہوتا تو انجام اس کے مائگرین ( آدھے سر کا درد) پر ہوتا۔ اس وقت اسے اپنے سر کے پیچے گردن کے پاس اٹھتی ٹیسیں سچ میں نڈھال کر رہی تھی۔ اس میں گردن ہلانے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ وہ نہانے کے بجائے آہستہ آہستہ اپنے راکنگ چیئر کے پاس آیا اور چیئر کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ تصاویر لگے دیوار پر نظریں گاڑے وہ چیئر جھلانے لگا۔
"آج تو وہ اپنے پہلے ٹارگٹ کو موت کے منہ تک پہنچا آیا تھا۔۔۔۔ سحر بنت دلاور پرویز خان کو اس نے اپنی وحشت سے اتنا ہیبت زدہ کر دیا تھا کہ وہ بنا جان کی پروا کئے چلتے ٹریفک میں کُود پڑی تھی۔۔۔۔۔ پھر آج تو اسے سکون کی نیند آجانی چاہیئے تھی۔۔۔۔۔ سالوں بعد کچھ پل کے لیے ہی صحیح؛ ان خوابوں کو اس کا دامن چھوڑ دینا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔ پھر کیوں؛۔۔۔۔ کیوں اسے آج بھی سکون نہیں تھا۔۔ ۔۔ کیوں وہ آج بھی سو نہیں سکا تھا۔۔۔۔۔ کیا اتنا کافی نہیں تھا۔۔۔۔۔" اس نے سوچتے ہوئے سحر کی تصویر سے نظریں گھما کر اس بڑے سائز تصویر کو دیکھا۔
"ہاں اتنا کافی نہیں تھا۔۔۔۔ دلاور پرویز خان۔۔۔۔۔ جب تک میں اس کی راتوں کی نیند اور دن کا چین برباد نہ کر دوں۔۔۔۔ جب تک میں اسے تباہ نہ کر دوں۔۔۔۔۔ تب تک مجھے سکون نہیں ملے گا۔۔۔" اس نے نفرت بھری نگاہوں سے اس تصویر کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ اغذ کیا۔
گردن اور کندھوں میں درد کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اسے سانس لینے میں بھی دشواری ہورہی تھی۔ اس نے لب کاٹتے ہوئے آنکھیں بند کی کہ شاید کچھ آرام آسکے۔
پانچ سال پہلے جب راتوں کو جاگتے رہنے اور سو جائے تو خوفناک خواب دیکھنے کی وجہ سے اسے یہ بیماری لاحق ہوئی تھی تو ڈاکٹر نے pain killer اور antidepressant ادویات تجویز کی تھی۔ ان دوائیوں کے استعمال سے اسے درد سے نجات تو مل جاتا لیکن ان کی نشہ آور side effect سے وہ دن بھر سویا رہتا۔ جاگنا چاہتا تو بھی اٹھ نہ پاتا۔ ایک سال تک ان ادویات کا عادی ہوجانے کے بعد اسے یہ محسوس ہونے لگا کہ اس کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ رات برے خواب یا مائگرین کے درد کی وجہ سے تکلیف میں اور دن ادویات کے زیر اثر سوتے رہتے گزر جاتے ہیں۔ تب اس نے دوائیاں لینا کم کر دی اور اپنی برداشت کی حد بڑھا دی۔ اس کے چلتے پچھلے چار سالوں سے جب تک درد کی وجہ سے اس کا رونا نہ نکل جاتا وہ برداشت کرتا رہتا اور دوائی لینے سے گریز کرتا۔
وہ اسی طرح راکنگ چیئر پر بیٹھ کر دلاور پرویز اور اس کی فیملی کے تصاویر دیکھتا رہتا۔ ہر ٹیس کے ساتھ اسے پہلے سے زیادہ اس فیملی سے نفرت ہونے لگتی۔ دل میں بدلے کی آگ بھڑک اٹھتی۔ اسے اپنا بدلہ اور انتقام یاد رہتا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆