Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bikhare Rishte (Episode 15)

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

اگلے دن دلاور اپنے ولیمے کے غرض سے بڑی بریانی کی دیگ اور بوتلیں لے کر آیا۔ یتیم خانے کے سب بچوں اور کارکنان نے دل بھر کر خوش ہوکر کھایا۔

زرتاج دلاور کی اس مہربانی سے محظوظ ہوئی۔ وہ باورچی خانے کے ساتھ کھڑی اسے بچوں کو کھانا بانٹتے دیکھ رہی تھی۔ اس کی دل میں دلاور کے لیے پیار اور عزت اور بڑھ گئی۔ شادی جیسے بھی کی تھی۔ اس نے چاہے زرتاج کو اپنایا تھا یا نہیں لیکن اس نے سنت نبوی کے مطابق ولیمہ کی رسم ضرور پوری کی۔

عشاء تک دلاور وہی یتیم خانے میں رہا۔ اس کے جاتے وقت زرتاج اپنے کمرے میں تھی۔ وہ اس سے رخصت لینے کمرے میں آیا تو زرتاج الماری سیٹ کر رہی تھی۔ دروازے کی کھلنے کی آواز پر اس نے بنا مڑے دلاور کا اندر آنا محسوس کر لیا تھا۔

دلاور نے قریب آکر اسے کندھے سے تھام کر اس کا رخ اپنے جانب کیا۔ زرتاج نظریں نیچھے کئے کھڑی رہی۔

“زرتاج۔۔۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ بہت نا انصافی کر رہا ہوں نا۔۔۔۔” دلاور نے بے بسی سے کہا۔

“نہیں دلاور۔۔۔۔۔ میں نے جو چاہا وہ آپ نے مجھے دے دیا۔۔۔۔ مجھ سے نکاح کیا مجھے اپنا نام دیا۔۔۔۔۔” زرتاج نے اپنے ہاتھ دلاور کے بازو پر رکھے۔

“مجھے آپ سے اور کچھ نہیں چاہیئے۔۔۔۔۔ میں پوری زندگی صرف آپ کے نام کے ساتھ ہی گزار دوں گی۔۔۔۔۔” اس نے مسکرا کر دلاور کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔

“اتنا پیار کرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔” دلاور نے شرارتی انداز میں آبرو اچکا کر مسکراتے ہوئے پوچھا۔

زرتاج نے پہلی بار گہری آنکھیں اوپر کر کے دلاور کی آنکھوں میں دیکھا۔

“آپ کے لیے میری محبت کو میں۔۔۔۔ شاید کسی الفظ میں بیان نہیں کر سکوں۔۔۔۔۔۔ بس اتنا کہہ سکتی ہوں۔۔۔۔۔ جب تک جیوں گی۔۔۔۔۔ آپ کی بن کر جیوں گی۔۔۔۔” زرتاج نے معصومیت سے دلاور کے رخسار پر ہاتھ رکھا۔

اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تو نظریں جھکا دیں۔

“آپ کو دیر ہوجائے گی۔۔۔۔۔ جانا چاہیئے۔۔۔۔۔ تو چلے۔۔۔۔۔ پھر ملتے ہیں۔۔۔۔” اس نے لب کاٹتے ہوئے کہا۔

دلاور نے نہ کوئی جواب دیا نہ وہاں سے روانہ ہوا۔ آیا تو وہ رخصت لینے ہی تھا لیکن اس سے واپسی جایا نہیں گیا۔ آج اس کے دل و دماغ میں صرف اور صرف زرتاج کی محبت گردش کر ہی تھی۔ اسے نہ آغا جان کا خوف آیا نہ بابا جان کے ردعمل کی پروا کی۔ اسے اگر کسی چیز کا احساس ہورہا تھا تو اپنی نوجوان بیوی کا جیسے اس سے پیار اور اپنایئت کے علاوہ کچھ نہیں چاہیئے تھا۔ کتنی پارسا ہے یہ؛ سوچتے ساتھ ہی دلاور نے زرتاج کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔

نازک سی زرتاج لمبے چوڑے دلاور کے حصار میں سماء سی گئی۔ اس کے لیے یہ تسکین ہی کافی تھی کہ وہ اس وقت دلاور کے دل کے اتنے قریب ہے کہ اس کی دھڑکنیں سن سکتی ہے۔

دلاور آنکھیں موندے زرتاج کو بانہوں کے حصار میں مظبوطی سے تھامے اسی طرح کھڑا رہا۔ کچھ لمحے خاموشی سے گزرے پھر اس نے جھک زرتاج کے گردن کو چوما۔ زرتاج کسمسا سی گئی۔ مدہوشی میں دلاور کے لبوں نے آہستہ آہستہ اس کی گردن سے رخسار تک کا فاصلہ طے کیا۔ زرتاج کے رخسار چوم کر دلاور نے آنکھیں کھول کر زرتاج کے چہرے کو دیکھا۔ وہ آنکھیں موندے تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔ اس کی سانسوں کی گرمی نے دلاور کو پورا اپنے قبضے میں کر لیا اور اس نے جھک کر زرتاج کے لرزتے لبوں سے لب پیوست کر دیئے۔

وہ رات ان کی ملن کی رات ثابت ہوئی۔ زرتاج دلاور کے نام ہو تو چکی تھی اس وقت پورے خود سپردگی سے اس نے خود کو دلاور کے حوالے کر دیا تھا اور وہ ایک ایک کر کے اپنی محبت کی چھاپ اس کے وجود پر چھوڑتا جا رہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلی صبح اتوار کا دن تھا۔ دلاور نے یونیورسٹی نہیں جانا تھا تو زرتاج نے بھی اسے نہیں جگایا۔ وہ خود جس وقت اٹھا دن پورا چڑھ چکا تھا۔

سستاتے ہوئے وہ کمرے سے باہر آیا تو اسے زرتاج سحن میں زبیدہ خالہ کے ساتھ کپڑے دھوتی دکھائی دی۔ دلاور کو دیکھ کر وہ شرماتے ہوئے اس کے پاس آئی اور چہکتے ہوئے صبح بخیر کہا۔

آج تو اس کے چہرے کی چمک دگنی ہوگئی تھی۔ دلاور نے شریر انداز میں اس کے کمر میں بازو ڈال کر اسے اپنے قریب کیا۔ زرتاج کسمسا سی گئی۔ گڑبڑا کر وہ زبیدہ خالہ کو دیکھ دیکھ کر خود کو دلاور کے حصار سے آزاد کروانے لگی۔ شرمساری سے اس کا رنگ سرخ پڑنے لگا۔

دلاور شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے اسے چھوڑنے کے ارادے میں تو نہیں تھا لیکن زبیدہ خالہ کو پلٹتے دیکھا تو ایک جھٹکے کے زرتاج کو چھوڑ دیا اور آگے آکر خالہ سے حال احوال پوچھنے لگا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شام کے وقت دلاور ہشاش بشاش ہو کر خوشگوار مزاج میں ہاسٹل پہنچا تو دوستوں کے گروپ نے اسے گھیر لیا۔

“یار دلاور۔۔۔۔۔ تم تو آج کل نظر ہی نہیں آتے۔۔۔۔۔ کہاں گم رہتے ہو۔۔۔۔” ایک دوست نے منہ بھسورتے ہوئے کہا۔

“کچھ وقت دوستوں کو بھی تو دو۔۔۔۔۔ ایسی بھی کونسی ذاتی مصروفیات آن پڑی ہے۔۔۔۔” دوسرے دوست نے تیز نگاہوں سے اسے گھورتے ہوئے کہا۔

“یہ کہاں اب ہمیں وقت دینے والا ہے۔۔۔۔۔ اس کا دل تو کہی اور لگ گیا ہے۔۔۔۔۔” بلال نے استحزیہ ہنستے ہوئے کہا۔

دلاور نے بلال کی بات پر اسے آنکھیں دکھائی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ باقیوں کو اس کے اور زرتاج کے ریلیشن کا پتا چلے۔

“ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔ اب سارا وقت تم لوگوں کو دیا۔۔۔۔۔ چلو کہی باہر چلتے ہیں۔۔۔۔” دلاور نے معاملہ سنبھالنے کے غرض سے انہیں گھومنے چلنے کی آفر دی جو ان تینوں نے قبول کر لی اور سب گھومنے نکل گئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

زرتاج نے بھی وہ دن بہت خوشی خوشی گزارہ۔ رات وہ نئے کپڑے پہن کر اپنے شوہر کی راہ دیکھنے لگی۔ دلاور کے انتظار میں اس نے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔

دلاور نے بہت کوشش کی دوستوں کے بیچ سے اٹھنے کی لیکن وہ کسی نہ کسی طرح سے اسے روک لیتے۔

ایسا کرتے کرتے انہیں ہاسٹل واپس آتے آتے آدھی رات ہوگئی۔

“اب کہاں چل دیا۔۔۔۔” دلاور ہاسٹل کے گیٹ سے ہی واپس جانے لگا تھا کہ ایک دوست نے ٹوک دیا۔

“وہ۔۔۔۔ ایک رشتہ دار ہسپتال میں داخل ہے۔۔۔۔۔ رات اس کے ساتھ رکنا ہے۔۔۔۔۔ بہت بیمار ہے۔۔۔۔۔ اور اکیلا ہے بے چارا۔۔۔۔۔۔ تو بابا جان نے مجھے اس کے ساتھ رہنے کی ہدایت دی ہے۔۔۔۔” دلاور نے تیزی سے بہانہ بنایا اور ان کا ردعمل سنے بغیر وہاں سے روانہ ہوگیا۔

وہ یتیم خانے جانے کے بجائے پہلے مارکیٹ چلا گیا جہاں سے اس نے کپڑے جوتے چادر ایک سونے کی چین اور بھی بہت تحفے لیئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

زرتاج کی انتظار کرتے ہوئے آنکھ لگ گئی تھی۔ اس کی نیند تب کھلی جب اسے ایک نرم اور خوشبو دار چیز اپنے گال پر پڑتی محسوس ہوئی۔

اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی تو دلاور مسکراتے ہوئے اس کے سرہانے ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کا گلدستہ پکڑے بیٹھے تھے۔

وہ سیدھی ہو کر بیٹھی اور ان کے ہاتھ سے گلدستہ لیں کر تازا پھولوں کی خوشبو سونگھنے لگی۔

“سوری۔۔۔۔ آنے میں دیر ہوگئی دوستوں کے ساتھ مصروف ہوگیا تھا۔۔۔۔آنے ہی نہیں دے رہیں تھے۔۔۔” دلاور نے ہنہ کرتے ہوئے کہا اور جھک کر اسے باقی شاپنگ دکھانے لگا۔

“اتنی دیر ہوگئی تھی۔۔۔ تو کوئی بات نہیں تھی۔۔۔۔۔ کیوں تکلف کیا۔۔۔۔۔ آج ہاسٹل میں سوجاتے۔۔۔۔” زرتاج اتنی ساری شاپنگ دیکھ کر مسرور ہونے لگی۔

“ہممم۔۔۔۔ کہہ تو ٹھیک رہی ہو۔۔۔۔ لیکن میرا دل نہیں مان رہا تھا۔۔۔۔۔ ایک ہی رات میں تمہاری عادت سی ہوگئی۔۔۔۔” دلاور نے دل فریبی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

زرتاج ان کی رومانٹیک باتوں سے بلش کرنے لگی اور ان کے ہاتھ سے شاپنگ بیگ پکڑ کر دیکھنے لگی۔

“یہ سب میرے لیے لائے ہیں۔۔۔۔” اس نے سوٹ کھول کر دیکھتے ہوئے موضوع گفتگو بدل دی۔

وہ ایک ایک کر کے سب چیزیں دیکھتے ہوئے چہک اٹھی تھی۔ بیڈ پر سے اتر کر وہ بار بار کپڑے جوتے شال چادر اپنے ساتھ لگا کر کبھی آئینہ میں سر تا پیر خود کو دیکھتی کبھی کیسی لگ رہی ہوں؛ کہہ کر دلاور سے اس کی رائے پوچھتی اور وہ اس کی تعریف کئے بغیر نہ رہ پاتا۔ ساری شاپنگ پھر سے سیٹ کر کے اس نے چیزیں الماری میں رکھنا شروع کیا۔

دلاور بیڈ پر سے اٹھ کر اس کے پاس آیا اور وہ سونے کی چین اس کے آگے لہرائی۔

وہ بھاری اور قیمتی چین دیکھ کر زرتاج کی گہری آنکھیں پھیل گئی۔

“دلاور۔۔۔۔ اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔ ” اس نے معصومیت سے آنکھیں جھپکاتے ہوئے کہا۔

“ہماری شادی کا تفحہ ہے۔۔۔۔ ” محبت بھرے انداز میں کہتے ہوئے دلاور نے اپنے ہاتھوں سے وہ چین زرتاج کو پہنایا اور اس کے چہرے کے گرد ہاتھوں کا پیالہ بناتے ہوئے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دلاور نے اس دن دوستوں کے تبصروں کے بعد سے زرتاج کے پاس دن میں جانے کا وقت مقرر کیا۔ یونیورسٹی سے وہ یتیم خانے چلا جاتا اور عشاء تک وہی رہتا پھر واپس ہاسٹل آجاتا اور رات وہی سوتا۔

اس نے پڑھائی کے اخراجات بڑھا کر بابا جان سے اپنا خرچہ بھی ڈبل کروا دیا تھا جس سے آدھے سے زیادہ حصہ وہ زرتاج کو دے دیا کرتا۔

زرتاج نے جب سے دلاور سے نکاح کیا تھا مانو پروان چڑھ گئی ہو۔ وہ اس کا بہت خیال رکھتا۔ صحیح معنوں میں وہ اس کے شوہر ہونے کا ہر فریضہ سر انجام دے رہا تھا۔

تین ماہ تک زندگی حسین گزر رہی تھی کہ ایک دن دلاور نے یونیورسٹی سے اپنے پیچھے کسی کو تعاقب کرتے محسوس کیا۔ وہ کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے اپنی بائک کا رخ بدل گیا۔ یتیم خانے کی گلی میں جانے کی بجائے وہ موڑ کاٹ کر دوسری سڑک پر آگیا اور گھومتا پھرتا ہاسٹل آگیا۔

اس دن وہ بہت پریشان ہوگیا تھا۔ کیا وہ اس کے بابا جان کا مخبری تھا یا زرتاج کے ماما کا کوئی جاسوس جو اس کا تعاقب کر رہا تھا؛ سوچتے ہوئے وہ پورا دن ہاسٹل میں ہی رہا۔

زرتاج رات گئے تک جب دلاور نہ آیا تو پریشان ہوگئی تھی۔ وہ مضطرب سی سحن میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہی تھی اور مسلسل دلاور کی خیریت سے ہونے کی دعائیں کرتی رہی۔

“زرتاج۔۔۔۔۔ آجائے گا دلاور۔۔۔۔۔ کیوں پریشان ہورہی ہے۔۔۔۔۔ مصروف ہوگیا ہوگا۔۔۔۔۔۔جا کر سوجا۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے اسے آواز لگائی۔

زرتاج بے حد پریشان تھی اسے الگ الگ وہمات ستائے جا رہے تھے۔ دل میں وسوسے ہونے لگے۔

“یا اللہ۔۔۔۔ دلاور ٹھیک ہو۔۔۔۔۔ وہ خیریت سے ہو۔۔۔۔۔ انہیں کوئی مشکل در پیش نہ ہوئی ہو۔۔۔۔۔ کوئی خطرہ نہ پڑگیا ہو۔۔۔۔” اس نے آسمان کے جانب ہاتھ اٹھا کر روتے ہوئے دعا مانگی اور بے دلی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ان دنوں دلاور نے یتیم خانے جانے سے دوری برتی۔ اس نے ڈاک کے ذریعے ایک خط زرتاج کو ارسال کیا۔

“زرتاج کئی دنوں سے مجھے محسوس ہورہا تھا کہ کوئی میری حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ میرے بابا جان کا خبری بھی ہوسکتا ہے اور تمہارے ماما کا جاسوس بھی۔ اس لیے میں وہاں آنے سے گریزاں ہوں تاکہ مزید کوئی مسئلہ نہ بنے۔ تم بھی زرا احتیاط برتنا جب تک میں خود نا آوں اگر میرا نام لے کر بھی تمہیں کوئی بلانے آئے تب بھی تم کسی کا اعتبار مت کرنا۔ زبیدہ خالہ کو بھی مطلع کر دینا کہ محتاط رہے۔ جب مجھے لگے معاملہ ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ میں اگلے ہی پل تمہارے پاس آجاوں گا۔

I miss you and i love you

Dilawar parwaiz…”

خط پڑھ کر زرتاج کا اور بھی برا حال ہوگیا تھا۔ اس کے سارے اندیشے سچ ہوتے نظر آرہے تھے۔ اس کی خوابوں کی سی خوشحال زندگی حقیقت کی تلخی سے پس پشت جانے لگی۔ اسے اپنا آشیانہ ٹوٹتا محسوس ہوا۔ اس کا دلاور سے رشتہ بکھرنے کے چوکٹ پر آن پہنچا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

زبیدہ خالہ کے سمجھانے پر زرتاج نے صبر تو کر لیا تھا لیکن دل ہی دل اسے دلاور کی فکر کھائے جا رہی تھی۔

ایک ہفتے تک معاملہ سنبھلنے کے بعد دلاور اس دن پھر سے تحفے تحائف لیے ہنستا مسکراتا یتیم خانے آیا۔

دہلیز کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے بلند آواز میں زرتاج کو صدا لگائی۔ وہ جو باورچی خانے میں اداس بیٹھی تھی دلاور کی پر جوش آواز سن کر کھل اٹھی اور بھاگتے ہوئے باورچی خانے سے باہر آگئی۔

تیزی سے دلاور کے قریب آکر وہ اس کے بانہوں میں لپٹ گئی۔ دلاور نے مظبوطی سے اسے اپنے بازووں میں تھام لیا۔ زرتاج یک دم جذباتی ہوگئی اور سسکتے ہوئے رونے لگی۔

زبیدہ خالہ کے قدموں کی چھاپ اس جانب آتے سنی تو آنسو صاف کرتے ہوئے زرتاج دلاور کے حصار سے الگ ہوئی۔

“دلاور۔۔۔۔ سب خیریت تو ہے نا۔۔۔۔ ہم بہت پریشان ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔ زرتاج نے تو رو رو کر برا حال کر لیا تھا۔۔۔۔۔ ” انہوں نے اس کے بازو پر فکرمندی سے ہاتھ رکھا۔

“سب خیریت ہے خالہ۔۔۔۔۔” دلاور نے مسکرا کر انہیں دلاسہ دیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

زبیدہ خالہ کو ان کے تحائف پیش کر کے وہ زرتاج کے ہمراہ کمرے میں آیا۔

“میری تو آپ کے بغیر جان نکل گئی تھی دلاور۔۔۔۔۔ بہت روئی ہوں میں۔۔۔۔” وہ ایک مرتبہ پھر دلاور کے کندھے پر سر رکھ کر فریاد سنانے لگی۔

“جانتا ہوں۔۔۔۔ سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔ میں بھی تم سے دور ہوکر بہت بے چین رہا ہوں۔۔۔۔۔ ” دلاور نے اس کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے کہا اور اسے ساتھ لیئے بیڈ پر آکر بیٹھ گیا۔

زرتاج نے سر جھٹک کر سکون کی سانس لیتے ہوئے سر اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھا۔

“کیا بات ہے دلاور۔۔۔۔۔ آپ پریشان لگ رہے ہے۔۔۔” زرتاج نے دلاور کے چہرے پر پھیلتی مایوسی محسوس کر لی تھی۔

“مجھے گاوں جانا ہوگا زرتاج۔۔۔۔ بابا جان نے بلوایا ہے۔۔۔۔۔” دلاور نے سنجیدہ انداز میں کہا۔

“کیا۔۔۔۔ انہیں ہمارے بارے میں پتا چل گیا کیا۔۔۔۔” زرتاج نے متفکر انداز میں اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔

“نہیں۔۔۔ انہیں کچھ نہیں پتا۔۔۔۔۔ بس آغا جان کی طبیعت کچھ ناساز ہے۔۔۔۔ اس لیے سب کو ملنے بلوایا ہے۔۔۔۔ مجھے بھی جانا پڑے گا۔۔۔” دلاور نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

“آپ واپس تو آئے گے نا۔۔۔۔ مجھے چھوڑ تو نہیں دینگے۔۔۔۔۔ مجھے بھول تو نہیں جائے گے۔۔۔۔” زرتاج کا رنگ یک دم سے پھیکا پڑ گیا تھا۔ اس کا دل ڈگمگا رہا تھا۔

“کیسے باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔۔ تم بیوی ہو میری۔۔۔۔۔ چھوڑوں گا کیوں۔۔۔۔۔ اور بھولنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔” دلاور نے اس کا ہاتھ تھپکتے ہوئے کہا۔

“سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔۔ پورے شرعی طور پر شادی کی ہے۔۔۔۔۔ ہمارا رشتہ اللہ کے رضا سے بنا ہے۔۔۔۔ آگے بھی وہ مدد فرمائے گے۔۔۔۔۔ ان پر یقین رکھو۔۔۔” دلاور نے مسکرا کر تسکین دلائی۔ زرتاج نے دل گرفتگی سے تسلی ہوتے ہوئے سر اثابت میں ہلایا۔

“کب تک لوٹے گے۔۔۔” زرتاج نے آنکھوں کے بھیگے کنارے صاف کرتے ہوئے پوچھا۔

“ہممم قریباً ایک ہفتہ لگے گا۔۔۔۔ میرا انتظار کرو گی۔۔۔۔ ” دلاور نے نرمی سے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

“میں اپنی آخری سانس تک آپکا انتظار کروں گی۔۔۔۔ ” زرتاج اپنے رخسار پر رکھے دلاور کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مسکرائی۔

اس رات دلاور وہی رہا۔ رات بھر دونوں باتیں کرتے رہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ بتائے لمحے یاد کرتے رہے۔ صبح زرتاج نے اسے ہستے مسکراتے رخصت کیا اور وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دلاور کو قریبی سٹیشن سے بابا جان کی گاڑی لینے آئی۔ وہ گاوں کے حدود میں داخل ہوا تو سب بچے بوڑھے جوان جھک کر اس کی خیر مقدمی کرنے لگے۔

اس کے بڑی حویلی میں سب نوکر چاکر تیزی سے کام کرتے نظر آرہے تھے۔

دلاور کے بابا جان پرویز اختر خان ہاتھ پیچھے باندھے سنجیدہ کھڑے تھے جبکہ دلاور کی اماں اسے دیکھ خوشی سے پھولے نہیں سماء رہی تھی۔

دلاور، ان کا اکلوتا نرینہ اولاد تھی۔ اس کی دونوں چھوٹی بہنیں 16 سے 17 سال کی عمر میں شادی کرا کر رخصت کر دی گئی تھی۔

دلاور حویلی کے در کے سامنے کار سے اترا اور تیز قدموں سے سلام کرتا ہوا اندر آیا۔ اماں نے تو خوش دلی سے اس کا استقبال کیا اسے سینے سے لگایا پیار کیا دعائیں دیں۔ لیکن بابا جان نے سنجیدہ انداز میں ہی صرف اس کا کندھا تھپتھپایا۔ دلاور کو کچھ کھٹک محسوس ہوئی۔

“اماں۔۔۔۔ آغا جان کی طبیعت کیسی ہے۔۔۔۔” دلاور نے باپ کے بے تاثر روئیے کو نظرانداز کر کے اماں سے دادا کا احوال پوچھا۔

” بیٹا۔۔۔۔ وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ چلو تم منہ ہاتھ دھو کر چائے ناشتہ کرو۔۔۔۔ پھر مل لینا ان سے بھی۔۔۔۔” اماں اسے ساتھ لیئے آگے چل دی۔ دلاور نے جاتے جاتے مڑ کر بابا جان کے نظروں سے چھلکتا غصہ جانچ لیا تھا۔ اس کی چھٹی حس خطرے کا اشارہ دینے لگی۔

“اماں۔۔۔۔ سب خیریت تو ہے۔۔۔۔ بابا جان غصے میں لگ رہے تھے۔۔۔۔” دلاور نے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

“تمہیں ایسی لگ رہا ہے۔۔۔۔ وہ کیوں غصہ ہونگے۔۔۔۔۔ چلو تم یہ کھاو۔۔۔۔ میں تیرے لیے دوسرا پراٹھا بول کر آتی ہوں۔۔۔۔” اماں نے جھجکتے ہوئے اس کی بات ٹال دی اور کچن میں چلی گئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اماں کے ہاتھوں سے زبردستی تین پراٹھے کھا کر وہ حویلی کے پیچے کے لان میں آگیا جہاں سردار اختر خان اپنے ہجرے میں بیٹھے ٹھاٹ دکھاتے ہوئے مونچھے تانے ہاتھ میں حقہ کی پائپ پکڑے دلاور کو دیکھ رہے تھے۔

آس پاس ان کے تعینات جنگجو بندے موودب انداز میں سینہ تانے کھڑے تھے۔

دلاور مسکراتا ہوا ان کے پاس آیا اور روایتی انداز میں آغا جان کا ہاتھ چوم کر انہیں احترام پیش کیا۔ ان کی خیرت دریافت کی۔ بیمار تو وہ کسی زاویے سے نہیں لگ رہے تھے بس داڑھی کے بال سفید ہوگئے تھے۔

اچھے سے مل کر وہ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا۔

آغا جان نے گفتگو کا آغاز اس کی پڑھائی کے بارے میں پوچھ کر کیا اور پھر اصل موضوع پر آئے۔

“اور۔۔۔۔ کہی شہر جا کر۔۔۔۔ وہاں کے رنگ تو نہیں رنگ گئے۔۔۔۔ سنا ہے تمہاری وہاں کسی لڑکی سے دوستی ہے۔۔۔۔” آغا جان نے اپنے رعب و دبدبہ جمائے ہوئے تندی سے کہا۔

دلاور کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اسے پسینہ آنے لگا۔ اب وہ آغا جان کو کیسے بتاتا کہ صرف دوستی ہی نہیں بلکہ وہ باقاعدہ اس لڑکی سے نکاح کر کے اسے اپنی بیوی تسلیم کر چکا ہے۔

“ایسی کوئی بات نہیں ہے آغاز جان۔۔۔۔۔ ” دلاور نے سب کی تنقیدی نظریں خود پر گڑھی محسوس کی تو فوراً گلا تر کرتے ہوئے ان کی مخبری سے انکاری ہوگیا۔ وہ اس وقت اس درجے پر نہیں تھا کہ آغا جان سے زرتاج کا ذکر کرتا۔

سردار اختر خان نے تیز نگاہوں سے پہلے دلاور کو گھورا پھر اس کے سائیڈ پر کھڑے پرویز خان کو۔

“پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ ویسے بھی ہم نے تمہارا فاروقی صاحب کی بیٹی سے رشتہ طے کر دیا ہے۔۔۔۔۔” سردار اختر نے بلند آواز میں دلاور کو حکم سنایا۔

دلاور کے تو مانو پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ سانس روکے اپنی جگہ منجمند ہو گیا۔

“ان کی بیٹی بھی شہر سے پڑھ لکھ کر آئی ہے۔۔۔۔۔ تمہاری اماں مل چکی ہے۔۔۔۔۔۔ اسے پسند آگئی ہے۔۔۔۔۔ اگلے جمعہ کو تمہاری شادی کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔” آغا جان نے حقہ کا کش بھرتے ہوئے کہا۔

دلاور نے بے یقینی اور تعجب سے رخ پھیر کر پردے کی آوٹ میں کھڑی اپنی اماں کو دیکھا وہ سر جھکا گئی تھی۔

تاثرات نارمل کرتے ہوئے دلاور کنکارا۔

“آغا جان۔۔۔۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔۔۔۔ پہلے میں پڑھائی تو پوری کر لوں۔۔۔۔۔ ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر لوں۔۔۔۔۔ پھر شادی بھی کر لوں گا۔۔۔۔” دلاور اپنے جانب سے انہیں قائل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔

“پڑھائی مکمل کرنے سے کون روک رہا ہے۔۔۔۔ باقی کی شادی کے بعد کر لینا۔۔۔۔۔”آغا جان ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

“مگر آغا جان۔۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔ “

دلاور کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ بابا جان نے اسے زناٹے دار تھپڑ رسید کیا۔

وہ لھڑکرا گیا۔ بے بسی سے اس نے گال پر ہاتھ رکھ لیا۔

“نا لائق۔۔۔۔ بے شرم۔۔۔۔۔ شہر جاکر گھر کے روایات بھول گیا ہے کیا۔۔۔۔ آغا جان کا احترام۔۔۔۔۔ اپنے سرداروں کے خاندان سے ہونے کو بھول گیا ہے کیا۔۔۔۔۔ جرآت کیسے کی تم نے۔۔۔۔ آغا جان کے سامنے بولنے کی۔۔۔۔ ان کے حکم کی تکمیل کرنے سے منع کرنے کی۔۔۔۔” بابا جان طیش میں اس پر پھٹ پڑے تھے۔ دلاور جبڑے سخت کر کے ضبط کرنے پر مجبور تھا۔

“اس گاوں میں۔۔۔۔۔ اس حویلی میں۔۔۔۔ وہی ہوتا ہے۔۔۔۔ جو آغا جان کا حکم ہو۔۔۔۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ تمہاری فاروقی صاحب کی بیٹی سے شادی ہوگی تو ہو کر رہے گی۔۔۔۔۔ پھر چاہے تم اپنی مرضی سے کرو۔۔۔۔۔ یا ہماری زبردستی سے۔۔۔۔۔ اس دفعہ تو صرف تھپڑ مار کر آگاہ کر رہا ہوں۔۔۔۔۔ دوبارہ آغا جان کے سامنے زبان کھولی تو تمہارا سر ہوگا اور میری تلوار۔۔۔۔۔۔ میں بھول جاوں گا کہ تم میری اکلوتی نرینہ اولاد ہو۔۔۔۔” بابا جان نے سارے حد و حدود بالائے طاق رکھ کر اسے جھڑک دیا۔

دلاور بے دلی سے پیر پٹختا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے اندر چلا گیا۔

دلاور کے پیچے اس کی اماں بھی اس کے کمرے میں آگئی اور اسے سمجھانے لگی۔

“کیوں اپنے دادا اور باپ کے خلاف جا رہا ہے۔۔۔۔ آج تک کوئی ان کی بات رد کر پایا ہے کیا۔۔۔” وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔

“کب تک چلے گا ایسے۔۔۔۔۔ آخر اس گاوں کو آغا جان اور بابا جان کی غلامی سے کب آزادی ملے گی۔۔۔۔۔ کیوں یہاں کسی کو اپنے حق کے لیے بولنے نہیں دیا جاتا۔۔۔۔” دلاور کی آواز میں افسردگی بھرا غصہ تھا۔

“دلاور۔۔۔۔۔ سرداروں کا یہی رسم و رواج ہے۔۔۔۔۔ اور تم اب اپنے بڑوں کے آگے کچھ نہیں بولو گے۔۔۔۔۔ تمہیں میری قسم ہے۔۔۔۔” اماں نے اب کی بار اسے تند آواز میں سمجھایا۔

وہ سرد سانس خارج کرتے ہوئے سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

“دلاور۔۔۔۔۔ عابدہ اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔ میں ملی ہوں اس سے۔۔۔۔ وہ تمہیں بہت خوش رکھے گی۔۔۔۔” اماں نے اس کے رخسار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نرمی سے کہا۔

“میری خوشیوں کی یہاں کسی کو پروا ہوتی۔۔۔۔۔ تو ایک مار کر حاکمیت نہ جتاتا۔۔۔۔ اور دوسرا قسم دے کر مجبور نہ کرتا۔۔۔۔۔ ” دلاور نے بے رخی سے رخ موڑ کر کہا۔ اس وقت اس کا غصہ اماں کے پیار سے ٹھنڈا نہیں پڑنے والا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

زرتاج کی کچھ دنوں سے طبیعت نہ ساز تھی۔ اسے لگا دلاور کے جانے کے غم سے اس کی طبیعت خراب رہنے لگی ہے۔

اس دن اسے صبح سے ہی بہت کمزوری ہورہی تھی تو زبیدہ خالہ اسے محلے کے کونے میں زنانہ کلینک پر لے گئی۔ ڈاکٹر نے اس کا تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد انہیں خوشخبری کی نوید سنائی۔ زرتاج امید سے تھی۔

زبیدہ خالہ نے تو وہی اسے سینے سے لگا کر دعائیں دیں۔

زرتاج نے سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے اسے اولاد جیسے نعمت سے نوازا۔ اب زرتاج کو بے صبری سے دلاور کے لوٹنے کا انتظار تھا تاکہ وہ جلد از جلد اس سے یہ خوشخبری شیئر کریں۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

تین چار دن تک دلاور خاموش رہا تھا۔ جب تک ان کے حویلی میں شادی کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہوگئی۔

اس دن وہ صبح سے اضطراب میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا۔ آخر اس نے ایک مرتبہ پھر سے آغا جان سے بات کرنے کی کوشش کرنے کا سوچا۔

وہ محتاط سا چلتا ہوا اپنے کمرے سے باہر آیا۔ آغا جان بڑے صوفے پر بیٹھے تھے ساتھ میں بابا جان بھی تشریف فرما تھے۔ آج تایا جان بھی ان کے ہاں آئے ہوئے تھے۔

دلاور موودب انداز میں ہاتھ باندھ کر ان کے سامنے آیا۔ آغا جان نے گردن اکڑا کر غرور سے سرشار نظروں اسے دیکھا۔

“آغا جان۔۔۔۔۔ ایک دفعہ میری بات سن لیتے۔۔۔۔۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔۔۔” دلاور نے نرمی سے بات شروع کی تھی کہ آغا جان کے آبرو تن گئے۔

بابا جان نے جیسے آغا جان کے آبرو تنے ہوئے دیکھے وہ طیش میں آگئے۔ پرویز خان کھا جانے کے انداز میں اٹھے اور میان میں ہاتھ ڈال کر تلوار نکالی۔

“حکم کریں آغا جان۔۔۔۔۔ ابھی اس کا سر آپ کے قدموں میں رکھ دوں۔۔۔۔” بابا جان نے بلند آواز میں کہا۔

اماں کی سانس رک گئی وہ بھیگی آنکھوں سے اپنی آواز دبانے منہ پر ہاتھ رکھ گئی۔ اس خاندان میں آغا جان اور بابا جان کے آگے مردوں کو بولنے کی اجازت نہیں تھی تو کوئی عورت میاں اور سسر کے سامنے کیسے آواز اٹھا سکتی تھی۔

بابا جان اس کے جانب آئے۔ جہاں تایا جان نے ان کو روک لیا وہی آغا جان نے بھی ہاتھ اٹھا کر انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔

“حوصلہ رکھ پرویز۔۔۔۔۔ سر تو کٹے گا۔۔۔۔ لیکن اس کا نہیں۔۔۔۔۔ بلکہ اُس کا۔۔۔۔۔ جس کے لیے یہ ہم سے بغاوت کرنے پر اتر آیا ہے۔۔۔” آغا جان اپنے کندھوں کی چادر درست کرتے ہوئے بلکل دلاور کے رو بہ رو آگئے اور رعب دار آواز میں کہا۔

دلاور کی آنکھیں پھیل گئی دل ڈگمگانے لگا۔ اسے پہلی دفعہ خوف سا لگا۔ اپنے لیے نہیں زرتاج کے لیے۔ وہ پکلیں جھپکاتے ہوئے نظریں نیچی کر گیا۔

“نام اور پتا بتاو اس کا۔۔۔۔۔ یہی گھسیٹ کر لے آئے گے۔۔۔۔۔ اور تمہاری آنکھوں کے سامنے اس کے ٹکڑے کر دینگے۔۔۔۔۔ اس بد چلن کی وجہ سے تم ہم سے سر کشی کر رہے ہو۔۔۔۔۔ اسے اس بے حرمتی کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔۔۔ بتاو کون ہے وہ۔۔۔۔” آغا جان نے دلاور کا جبڑا مظبوطی سے دبوچ لیا اور انگارہ پڑتی نگاہوں سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر غراتے ہوئے کہا۔

دلاور نے لب مظبوطی سے مینچھ لیے کہ کہی تکلیف کی شدت کی وجہ سے غلطی سے بھی اس کے منہ زرتاج کا نام نہ نکل جائے۔

“آغا جان یہ ایسے نہیں بولے گا۔۔۔۔ آپ اس خبیث کو میرے حوالے کریں۔۔۔۔” بابا جان اپنے بیٹے کا اپنے آغا جان کے ساتھ بار بار زبان لڑانے پر تپ کر رہ گئے تھے۔

آغا جان نے ایک تند و تیز نظر بابا جان پر ڈالی تو وہ خاموشی اختیار کر گئے۔ پھر انہوں نے اپنے خاص بندے کو آواز لگائی۔

وہ بھاگتا ہوا آیا اور ہاتھ باندھ کر سر جھکا کر ان کی خدمت میں پیش ہوگیا۔

“حکم سردار آغا۔۔۔۔۔” شیرزمان نے سپاٹ انداز میں پوچھا۔

“شہر جاو۔۔۔۔۔ اور اس لڑکی کو ڈھونڈ کر لاو۔۔۔۔۔” آغا جان نے با اعتماد لہجے میں اسے حکم صادر کیا۔

دلاور کی سانس رکنے لگی دھڑکن تیز ہوگئی وہ خوف و ہراس میں مبتلا ہوگیا۔

شیرزمان آغا جان کا خاص بندہ تھا۔ آغا جان کا حکم شیرزمان کے لیے پتھر کی لکیر کے مانند تھا۔ دلاور جانتا تھا اگر وہ شہر گیا تو آسمان چیر دے گا زمین چاک کر دیا گا پر زرتاج کو لازمی ڈھونڈ کر لائے گا۔

آغا جان کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے شیرزمان سر کو خم دیتا ہوا مڑا ہی تھا کہ دلاور کی آواز پر رک گیا۔

“آغا جان۔۔۔۔۔۔ میری زندگی میں کوئی لڑکی نہیں ہے۔۔۔۔۔ آپ کو جہاں بھی۔۔۔۔ جس بھی لڑکی سے میری شادی کروانی ہے۔۔۔۔۔ میں کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔۔ مجھ سے غلطی ہوگئی آپ کے سامنے بولنے کی۔۔۔۔۔ آپ کا حکم میرے سر آنکھوں پر۔۔۔۔۔ میں اپنے روئیے پر معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔۔ مجھے معاف کردیں۔۔۔۔” دلاور نے تیزی کے کہتے ہوئے آغا جان کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔ اپنی دلی کیفیت کو قابو رکھنے کی کوشش کرتا وہ سر جھکا کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔

“پرویز خان۔۔۔۔۔ بارات نکلانے کی تیاری کرو۔۔۔۔۔” کچھ لمحے خاموشی سے گزرنے کے بعد آغا جان نے اسے کچھ کہنے کے بجائے بابا جان کو مخاطب کیا اور اس کے پہلو سے گزر کر آگے چل دیئے۔

انہوں نے شیرزمان کو بھی واپس روک لیا تھا جس کا مطلب تھا انہوں نے دلاور کی معافی قبول کر لی۔

ان کے جانے کے بعد دلاور بھاری قدموں سے چلتا ہوا اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ کمرے کے بیچ تک آکر اس کی ہمت جواب دے گئی وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔

“مجھے معاف کر دینا زرتاج۔۔۔۔۔ میں مجبور ہوں۔۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ سے زیادہ۔۔۔۔ مجھے تمہاری زندگی عزیز ہے۔۔۔۔۔ میرے پاس ان کی غلامی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔۔۔۔۔ تمہاری جان بچانے کے لیے مجھے ان کا حکم ماننا پڑے گا۔۔۔۔” دلاور نے دل گرفتگی سے سوچا۔ اس کی آنکھیں بھر آگئی تھی اور چہرے پر مایوسی چھا گئی تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ایک ہفتہ پورا ہونے تک بھی جب دلاور واپس نہیں آیا تو زرتاج کو اس کی فکر لا حق ہوگئی۔ وہ مضطرب رہنے لگی۔ اس نے دلاور پرویز خان کے نام خط بھی لکھا لیکن ارسال کرنے سے ڈرتی تھی کہ کہی دلاور سے پہلے خط اس کے باپ دادا کو نہ مل جائے۔ وہ دلاور کے دوستوں میں بھی بلال حمید کے علاوہ کسی سے آشنا نہیں تھی چونکہ بلال نے ایک دفعہ پہلے بھی اس کی ہاسٹل سے نکلنے میں مدد کی تھی اس لیے اس نے ایک بار پھر بلال کی مدد لینے کا سوچا۔

وہ دوپہر یونیورسٹی کے چھٹی ٹائم گیٹ کے پاس آکر بلال کے نکلنے کا اتنظار کرنے لگی۔ زرتاج کو دور سے ہی دیکھ کر بلال پہچان گیا تھا اس لیے خود ہی اس کے پاس چل کر آیا۔

رسمی علیک سلیک کے بعد زرتاج نے دلاور سے بات کروانے کی خواہش ظاہر کی۔

بلال تعجبی انداز میں سر تا پیر زرتاج پر نظر ڈال کر مدد کے لیے مان گیا اور اسے ساتھ لیے ایک ٹیلیفون کے دکان پر چلا گیا۔ زرتاج جھجکتی ہوئی اس کے ساتھ کھڑی اسے ٹیلیفون سے دلاور کے حویلی کا نمبر ملاتے دیکھ رہی تھی۔

دو گھنٹیاں بجنے پر فون اٹھا لیا گیا۔ وہ کوئی ملازم تھا۔

“جی میں شہر سے۔۔۔۔ دلاور کا دوست بول رہا ہوں۔۔۔۔۔ زرا دلاور سے بات کرا دیں۔۔۔۔ ” بلال نے تاثرات نارمل رکھے ہوئے کہا۔

فون کا سپیکر ان تھا اس لیے مخالف سمت سے آنے والی ملازم کی آواز زرتاج بھی سن سکتی تھی۔

“جی سب حویلی والے دوسرے گاوں گئے ہیں۔۔۔۔۔ آج دلاور صاحب کی شادی ہے۔۔۔ وہاں کے فاروقی صاحب کی بیٹی کے ساتھ۔۔۔۔ ” ملازم نے موودب انداز میں انہیں وہاں کہ صورت حال سے روشناس کیا۔

زرتاج کا منہ کھل گیا۔ وہ بنا پلکیں جھپکائے منجند کھڑی رہی۔

“آپ سچ کہہ رہے ہیں نا۔۔۔۔” بلال نے زرتاج کے چہرے کا رنگ زرد پڑتے دیکھ کر دوبارہ تصدیق کرنا چاہی۔

“بھلا جھوٹ کیوں بولوں گا۔۔۔۔۔ صبح ہی دلاور صاحب بارات کے ہمراہ روانہ ہوئے ہیں۔۔۔۔” ملازم نے برا مان کر وضاحت دی۔

زرتاج سے اس کے آگے کچھ سنا نہیں گیا وہ الٹے قدم دکان سے باہر کو بھاگی۔ اسے اپنے پیچے بلال کی پکار سنائی دی لیکن وہ بنا مڑے سڑک پر بھاگتی رہی۔

یتیم خانے پہنچ کر وہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازہ لاک کر کے اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ کر زار و قطار رونے لگی۔

“آپ ایسا کیسے کر سکتے ہے دلاور۔۔۔۔۔۔ آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہے۔۔۔۔۔” نا چاہتے ہوئے بھی زرتاج کے دل سے آہ نکل رہی تھی۔ بے دلی سے وہ اٹھ بیٹھی ملازم کی کرہٹ بھری آواز اس کے سماعتوں میں گونجنے لگی۔ ایک مرتبہ پھر آسنو جاری ہوگئے۔ دل میں اٹھتے درد کو دبانے اس نے منہ تکیے میں چپا لیا اور بلند آواز آہ و بکا کرتی رہی۔

روتے ہوئے نا جانے اسے کتنا وقت گزر گیا۔ آخر زبیدہ خالہ نے تشویش میں اس کے کمرے کا دروازہ پیٹا۔ زرتاج کے حواس بحال ہوئے تو نڈھال سی بے دم قدموں سے وہ دروازے تک آئی۔

خالہ نے اس کا زرد رنگ سوجی ہوئی آنکھیں مایوس چہرہ دیکھا تو روہانسی ہو گئی۔

“یا اللہ زرتاج۔۔۔۔۔ یہ کیا حال بنا لیا ہے۔۔۔۔۔ کیا ہوا سب خیریت تو ہے۔۔۔۔۔ تم دلاور کو فون کرنے گئی تھی نا۔۔۔۔ وہ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔”خالہ نے ایک ہی سانس میں اس سے کئی سارے سوال پوچھ ڈالے۔

زرتاج نے ویران آنکھوں سے زبیدہ خالہ کے متفکر چہرے کو دیکھا اور ان سے لپٹ کر پھر سے رونے لگی۔

“زرتاج کیا ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ خدا را میرا دل ڈوب رہا ہے۔۔۔۔۔ کیوں اتنا رو رہی ہے۔۔۔۔ بتا تو سہی۔۔۔۔” خالہ نے اسے جھنجوڑتے ہوئے کہا۔

“خالہ۔۔۔۔۔ آج دلاور کی شادی ہے گاوں میں۔۔۔۔۔ ” زرتاج نے سسکیاں لیتے ہوئے لرزتے آواز میں کہا۔

زبیدہ خالہ حیران پریشان ہو کر سر کو پیٹنے لگی۔ آخر انہوں نے ہی تو دلاور کے وعدوں پر یقین کر کے ان دونوں کی شادی کروائی تھی۔ اس وقت انہیں زرتاج پر بہت افسوس ہو رہا تھا۔ دل ہی دل وہ خود کو ان سب کا قصوروار ماننے لگی۔

زرتاج کو چپ کرواتے ہوئے خالہ کو اچانک اس ننھی زندگی کا خیال آیا۔

“بس کر زرتاج۔۔۔۔۔ چلو شاباش چپ ہوجا۔۔۔۔۔ تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔۔ چلو اٹھو۔۔۔۔ چل کر کھانا کھا لیں۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ سسکتے ہوئے آنسو صاف کرتے نفی میں سر ہلانے لگی۔

“دیکھ ایسی تیری طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔۔۔ اور جو ہوا۔۔۔۔۔ اُس میں اِس معصوم جان کا قصور جو تیرے اندر پل رہی ہے۔۔۔۔۔ اپنا نہ صحیح تو کم از کم اس بچے کی ہی پروا کر لے۔۔۔۔ ایسی حالت میں بھوکا نہیں رہتے۔۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے اسے اس کے امید سے ہونے کا احساس دلایا۔

وہ جو مایوس بیٹھی تھی یک دم سے اس کے دل میں ممتا کی چاہت جاگی۔ وہ خالہ کا سہارا لے کر اٹھی اور ان کے ساتھ کچن میں آگئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دو ہفتے مزید گزر گئے دلاور کی کوئی خبر نہیں آئی۔ نا کوئی خط آیا نا فون اور نا وہ خود۔

زرتاج ہر وقت خاموش اور اداس رہنے لگی۔

موسم بہار سے گرمی میں تبدیل ہونے لگا۔ ایک صبح وہ صحن میں سیڑھیوں پر گھٹنوں کے گرد بازو مائل کئے ہوئے گم سم سی بیٹھی تھی کہ اچانک اس نے دہلیز پر شور سنا وہ حیران پریشان ہوکر سیدھی ہوگئی۔ اس نے زبیدہ خالہ کو اپنے جانب بھاگ کر آتے دیکھا۔

“کیا ہوا خالہ۔۔۔۔ ” اس نے انہیں بازووں سے تھام کر پوچھا۔

“تو اندر جا کر چپ جا۔۔۔۔ جلدی۔۔۔۔۔ ” زبیدہ خالہ سرگوشی کے انداز میں کہتے ہوئے اسے کمرے کے اندر لے جانے لگی۔

“لیکن ہوا کیا۔۔۔۔” وہ ماوف دماغ سے مڑ کر باہر جھانکنے لگی۔

“تیرا ماما اور وہ آدمی جس سے وہ تیری شادی کروانے والے تھے۔۔۔۔۔ وہ تجھے ڈھونڈتے ہوئے آئے ہیں۔۔۔۔۔ بہت غصے میں ہے۔۔۔۔۔ تجھے جان سے مارنے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔” زبیدہ خالہ نے اسے کمرے میں بیٹھاتے ہوئے کہا۔ زرتاج سہم سی گئی۔

“تم یہی رہنا۔۔۔۔۔ دروازہ بند کردینا۔۔۔۔۔۔ باہر مت آنا۔۔۔۔۔ میں انہیں سنبھالتی ہوں۔۔۔۔” زبیدہ خالہ حواس باختہ ہو کر اسے ہدایت دیتی کمرے سے باہر نکل گئی۔

ان کے جاتے ہی زرتاج تیزی سے اٹھی اور دوازے کو کنڈی لگا دی۔ کھڑکیاں برابر بند کر دیئے۔ زیر لب دعائیں پڑھتے ہوئے اس نے اپنے پیٹ کے گرد ہاتھ مائل کر دیئے۔

اسے شدت سے دلاور کی یاد آنے لگی۔ اگر اس وقت وہ یہاں ہوتے تو ضرور اس کی حفاظت کرتے۔ اور اب تو وہ اکیلی بھی نہیں تھی اس کے ساتھ ایک اور معصوم زندگی جڑ گئی تھی جس کی اسے حفاظت کرنی تھی۔ کسی درپیش خطرے سے لڑنے کے خاطر وہ واپس اپنے بیڈ تک آئی اور تکیے کے نیچے چپایا چاقو ہاتھ میں پکڑے الرٹ انداز میں آس پاس دیکھنے لگی۔

دل اندر سے ٹوٹ گیا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر اپنے سرپناہ اپنے محافظ کو پکار رہا تھا لیکن اُس محافظ تک اس کی فریاد نہیں پہنچ رہی تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دلاور نے آغا جان کے دباو میں فاروقی صاحب کی بیٹی عابدہ سے شادی کر لی۔ اس کے ساتھ ازدواجی تعلقات بھی قائم کر لیئے تاکہ کسی کو دوبارہ اس پر شک نہ ہو۔ اور بابا جان کے آدمی زرتاج کو ڈھونڈنے نہ جائے۔

ایک ماہ تک گاوں میں رہنے کے بعد اس نے واپس شہر آنے کا سوچا اور اس معاملے میں وہ آغا جان سے بات کرنے پہنچا۔

“تم اب کراچی نہیں رہو گے۔۔۔۔۔”آغا جان نے ناشتہ کرتے ہوئے مصروف انداز میں جواب دیا۔

“آغا جان میرے امتحانات ہونے والے ہیں۔۔۔۔۔ میں مزید یہاں نہیں رک سکتا۔۔۔۔” دلاور نے شکست خوردہ آواز میں سر جھکائے ہوئے کہا۔

“ہم تمہیں اور بہو کو امریکہ بھیج رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ وہاں کے یونیورسٹی میں تم دونوں کا داخلہ کروا دیا ہے۔۔۔۔ بہو بھی گریجویشن کرنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔” آغا جان نے چائے کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔

دلاور نے سپاٹ انداز میں تھوڑے فاصلے پر کھڑی عابدہ کو دیکھا۔ 20 سالہ عابدہ نے سر پر ڈوپٹہ لیئے بڑوں کے بیچ احتراماً شوہر سے نظر ملانے سے کتراتے ہوئے نگاہیں نیچی کر رکھیں تھی۔

“اپنے خاندان کی لڑکیوں کو جہاں پانچویں جماعت تک نہ پڑھایا۔۔۔۔ وہاں یہ بہو کو امریکہ سے گریجویشن کروانے چلے ہیں۔۔۔۔” دلاور نے ہنہ کرتے ہوئے بے رخی سے سوچا اور سرد سانس خارج کی۔

“چلیں پھر۔۔۔۔۔ میں کم از کم ہاسٹل جا کر اپنا بقایہ سامان تو لے آوں۔۔۔۔” دلاور نے ڈاننگ ٹیبل سے اٹھتے ہوئے کہا۔

“وہ بھی آغا جان نے شیرزمان کے ہاتھوں منگوا لیا ہے۔۔۔۔۔ تم بس امریکہ جانے کی تیاری کرو۔۔۔۔” اب کی بار جواب بابا جان کی جانب سے ملا۔

وہ بے بسی سے جی بابا جان کہتا ہوا اپنے کمرے میں آگیا۔ اس کے زرتاج سے ملنے کے سارے راستے بند کر دیئے گئے تھے۔

اب تو وہ امریکہ جا کر ہی زرتاج سے رابطہ کر پائے گا جہاں اس کے دادا اور باپ کی حاکمیت نہیں ہو گی؛ سوچتے ہوئے دلاور نے کچھ عرصہ اور ایسے گزارنے کا فیصلہ کیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

پانچ ماہ کی پریگننسی میں اب زرتاج سے اپنی حالت وہاں کی بچیوں اور محلے کی عورتوں سے چپائی نہیں جا رہی تھی۔ چونکہ اس کا دلاور سے نکاح صرف زبیدہ خالہ کے حضور میں ہوا تھا اور باقی دنیا سے خفیہ تھا۔ اس لیے سب اسے بن بیاہی پریگنینٹ سمجھ رہی تھی۔ یتیم خانے کے اندر ہو یا باہر ہر جگہ اسے اپنے اوپر تنقیدی نگاہیں اٹھتی محسوس ہوتی۔ وہ ہر وقت کمرے کے اندر بند ہو کر روتی رہتی۔

اس مدت میں وہ اپنی آپ بیتی دلاور کے نام خط میں بیان کرتی رہتی لیکن پھر روتے ہوئے وہ خط الماری کے کونے میں چھپا لیتی۔

یونیورسٹی کے امتحانات ہونے والے تھے۔ زرتاج کو ایک امید سی ہوئی کہ دلاور امتحان دینے تو ضرور آئے گے اس لیے وہ ایک دن پھر سے دلاور کی ملنے کی آس لیئے یونیورسٹی کا رخ کر گئی۔ وہاں حسب معمول اسے بلال تو مل گیا لیکن دلاور نہیں ملا۔

زرتاج نے مایوسی سے بلال کو ایک مرتبہ پھر اس کے حویلی پر کال کرنے کی ریکویسٹ کی۔ اور بلال کے ہمراہ وہ ٹیلیفون کے دکان پر گئی۔

نمبر ملاتے ہوئے بلال نے غور سے اس کے حرکات مشاہدہ کئے تو اسے بڑی سی چادر اوڑھے زرتاج مشکوک سی لگی وہ بار بار چادر اپنے اوپر پھیلاتی ملاتشی نظروں سے آس پاس دیکھنے لگی۔

“جی میں بلال بول رہا ہوں۔۔۔۔ دلاور کا دوست۔۔۔۔۔ وہ اب تک واپس نہیں آیا۔۔۔۔۔ یونیورسٹی کے امتحانات ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔ میری اس سے بات کروائے۔۔۔۔” بلال نے کال اٹھانے والے ملازم سے سرد مہری سے کہا۔

“دیکھیں۔۔۔۔۔ دلاور صاحب اپنی بیگم کے ساتھ امریکہ چلے گئے ہیں۔۔۔۔ بقیہ تعلیم وہ وہی سے کریں گے۔۔۔۔ آپ کی یونیورسٹی سے ان کا نام کٹوا دیا گیا ہے۔۔۔۔ اب وہ وہاں کبھی نہیں آئے گے۔۔۔۔۔۔ لحاظاً مہربانی کر کے دوبارہ یہاں فون نہ کریں۔۔۔” ملازم نے اپنی بات مکمل کرنے کے ساتھ ہی فون پٹخ کر بند کر دیا۔

بلال نے رسیور رکھتے ہوئے زرتاج کو دیکھا۔ وہ وہاں موجود ہی نہیں لگی۔ پتا نہیں اس کے خیالات کہاں پہنچے ہوئے تھے۔ وہ بنا کچھ کہے خاموشی سے ماوف دماغ سے دکان سے باہر آگئی اور سڑک کنارے چلنے لگی۔

“چلو زرتاج۔۔۔۔ میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔۔۔ ” بلال نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے اسے اپنی گاڑی میں چھوڑ آنے کی آفر کی۔

“نو تھینکس۔۔۔۔ میں چلی جاوں گی۔۔۔” زرتاج نے سپاٹ انداز میں جواب دیا اور رکشہ روک کر اس میں سوار ہوگئی۔

بلال کچھ لمحے وہی کھڑے اسے استحزیہ نظروں جاتے دیکھتا رہا۔ زرتاج کی پریگننسی اس نے محسوس کر لی تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆