Bikhare Rishte By Palwasha Safi Readelle50251 Bikhare Rishte (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Bikhare Rishte (Episode 21)
Bikhare Rishte By Palwasha Safi
یونیورسٹی میں بھی عارفہ اداس ہی رہی تھی۔ گھر لوٹنے کے بعد وہ لنچ کئے بغیر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ شاویز کا نمبر ابھی بھی نہیں لگ رہا تھا۔ اس کا ٹینشن سے برا حال ہونے لگا۔ وہی دلاور صاحب کو بھی اب کھٹک محسوس ہونے لگی تھی۔
ڈنڑ کے وقت عارفہ میز پر آکر تو بیٹھ گئی لیکن کھانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔
“عارفہ۔۔۔۔ شاویز سے رابطہ ہوا۔۔۔۔” دلاور صاحب نے متفکر انداز میں پوچھا تو عارفہ نے افسردگی سے نفی میں سر ہلایا۔
“پاپا۔۔۔۔ آپ شاویز کے ایجنسی والوں سے پوچھ لیں۔۔۔۔ ہوسکتا ہے ان پاس شاویز سے رابطہ کرنے کا کوئی اور طریقہ کار موجود ہو۔۔۔۔ وہ اپنے آفسر سے اتنی دیر بے خبر تو نہیں رہے گے نا۔۔۔۔” صائم نے چاول نکالتے ہوئے تجویز دی۔
پاپا کو اس کی تجویز واقعی اچھی لگی۔
“ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔۔۔۔ میں صبح ہی ان سے پتا کراتا ہوں۔۔۔” پاپا نے فیصلہ کیا اور اپنے کھانے کی جانب متوجہ ہوئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دو گھنٹے بعد علی پھر سے شاویز کے سر پر موجود تھا۔
“جتنا تم چپ رہے گا۔۔۔۔۔۔ اتنا ہم تم کو تکلیف دیگا۔۔۔۔ بتا دے۔۔۔۔۔” علی نے ایک مرتبہ پھر غراتے ہوئے اسے دھمکی دی۔
“میں اپنے وطن سے۔۔۔۔۔ اپنے فرض سے۔۔۔۔۔ کبھی غداری نہیں کروں گا۔۔۔۔ تمہیں جو کرنا ہے کر لیں۔۔۔۔۔” شاویز نے پورے جوش و جذبے سے جواب دیا۔
علی دانت پیستے ہوئے اس کی کندھوں پر جوتے سے دباؤ دینے لگا تاکہ اس کے زخموں کو تکلیف ہو۔ شاویز درد سے جلملا گیا اور اپنی باڈی ہلا کر علی کا جوتا ہٹانا چاہا پر وہ مزید زور بڑھاتا گیا۔
“لالا۔۔۔۔۔ اس کے منہ میں تیزاب ڈال دیتے ہے۔۔۔۔۔ تب عقل ٹھکانے آجائے گی۔۔۔ ” علی کے پیچے اسلحہ پکڑے آدمی نے وحشتناک تجویز دی۔
“نہیں۔۔۔۔۔۔۔ سلطان نے کہا ہے نا۔۔۔۔ خٹک صاحب کے دستاویزات کہاں ہے یہ صرف اسے معلوم ہے۔۔۔۔ اس کا منہ جلا دیا تو سمجھو سب ہاتھ سے نکل گیا۔۔۔۔۔” دوسرے ساتھی نے پہلے ساتھی کے تیزاب کی بوتل پکڑے ہاتھ کو تھام کر کہا۔
سلطان کا نام سن کر درد کی شدت سے نڈھال پڑتے شاویز کے جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔ اس کی تعجب سے آبرو پھیل گئے۔ سلطان اسی کا ایک ہم منصب تھا۔ وہ اسی کے ادارے سے منسلک لڑکا تھا۔ یہ ضروری تو نہیں آرمی میں آنے والا ہر نوجوان اپنے کام میں ایماندار اور اپنے وطن کے ساتھ مخلص ہو۔ اب ہر کوئی صادق سر کے بھائی یا شاویز جیسا تو نہیں ہوتا جو وطن کی حفاظت میں اپنی جان لگا دیں۔ کچھ ایسے غدار بھی ہوتے ہیں جنہیں اپنے آپ سے آگے کوئی اور نظر نہیں آتا۔ سلطان بھی انہی دغابازوں میں سے ایک تھا۔ اس نے عمران خٹک سے بھاری رقم لے کر پہلے خود اس کی فائل تک رسائی کرنا چاہی لیکن جب خود ناکام رہا تو عمران خٹک کو شاویز کی مخبری کر دی۔
تو سلطان نے میری مخبری کی ہے ان کو ؛ سوچتے ہوئے شاویز کے بدن میں آگ لگ گئی وہ خود کو آزاد کرانے دھاڑنے لگا۔ اس پر اتنی دہشت سوار ہوگئی تھی کہ ابھی اگر سلطان اس کے سامنے ہوتا تو وہ اسے نوچ ڈالتا۔
علی نے شاویز کو آپے سے باہر ہوتا دیکھ کر اس کے منہ پر گھٹنے سے ضرب دے ماری۔ شاویز کا ہونٹ کٹ گیا اس سے دھار کی صورت خون بہہ کر اس کی قمیض کو سامنے کے حصے سے بھگو رہا تھا۔
“وہ تاریں تو لا کر دو۔۔۔۔۔ اس کا ابھی ہوش ٹھکانے لاتا ہوں۔۔۔۔” علی نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت دی۔
شاویز روہانسی ہوگیا۔ وہ کھسکتے ہوئے علی سے دور ہونے لگا۔ علی بجلی کے تاریں آپس میں چنگارتے ہوئے شاویز کو جھٹکے سے ڈراتا اس کے قریب آیا۔
“کیوں۔۔۔۔۔۔ فائل کا بتائے گا کہ نہیں۔۔۔۔” علی نے استحزیہ ہنستے ہوئے کہا۔
“لَا_إِلٰهَ_إِلَّا_اللّٰهُ_مُحَمَّدٌ_رَسُولُ_اللّٰهِ_۔۔۔۔۔” شاویز نے کلمہ پڑھا۔
“میرا محافظ میرا اللہ ہے۔۔۔۔ جب تک اس کی رضا نہ ہو۔۔۔۔۔ تم مجھ سے کچھ نہیں بلوا سکتے۔۔۔۔” شاویز نے اللہ کو یاد کرتے ہوئے کہا۔
علی نے اس کی باتوں سے متاثر ہوئے بغیر سپاٹ انداز میں اپنے ساتھی کو اشارہ کیا۔ اس نے علی کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے شاویز کو آگے دکھیلا۔ علی نے بے رحم انداز میں بجلی کی تار شاویز کی جسم سے لگا دی۔ وہ کرنٹ کی ضد میں آکر جلملانے لگا۔ ایک زوردار بجلی کا جھٹکا دے کر علی نے تار پیچے کیا تو شاویز کراہتے ہوئے لمبی سانس لینے لگا۔ اس پر لرزش طاری ہو گئی تھی۔ چند سانس لے کر علی نے پھر اسے جھٹکا دیا۔ شاویز کو لگا اس کے جسم سے کوئی روح کھینچ کر کانٹوں پر گھسیٹ رہا ہے۔ دوسرا جھٹکا مل کر شاویز منہ کے بل زمین پر گر پڑا۔
“بزدل آدمی۔۔۔۔۔ بغیرت انسان۔۔۔۔۔ مجھے مجبور کر کے۔۔۔۔ میرے ہاتھ پیر باندھ کر وار کر رہا ہے۔۔۔۔۔ ہمت ہے تو مجھے آزاد کر اور پھر میرا مقابلہ کر۔۔۔۔۔” شاویز نے کرنٹ لگنے کی وجہ سے کپکپاتے ہوئے دانت پیستے علی کو چیلنج کیا۔
“ہاہاہا۔۔۔۔۔ اتنا بےوقوف نہیں ہے ہم۔۔۔۔۔ تمہاری باتوں میں آجائے۔۔۔۔” کہتے ساتھ ہی علی نے ایک اور کرنٹ دیا تو شاویز کی سانس رکنے لگی وہ نڈھال ہوتا ہوا بے ہوش ہوگیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دلاور صاحب کی فیملی ایک مرتبہ پھر آزمائش میں پڑ گئی تھی۔ آج دو دن ہونے کو تھے شاویز کی کوئی خبر نہیں تھی۔
صائم سحر عارفہ تینوں گھر پر تھے یونیورسٹی جانے کا کسی کو ہوش ہی نہ تھا۔ صائم اور سحر کے نزدیک شاویز نے سگے بھائی کے مانند جگہ بنا لی تھی۔ وہ اس کی حفاظت کی دعائیں کرتے پریشان بیٹھے تھے۔ عابدہ بیگم کے قریب بھی شاویز اپنے بیٹے سے کم نہ تھا وہ تو صبح سے وظائف پڑھ پھونک کر اللہ سے شاویز کی خیریت مانگ رہی تھی اور عارفہ کی تو جان پر بن آئی تھی۔ اتنی مشکلات کے بعد اسے اس کی محبت ملی تھی اور اب پندرہ دن بعد ہی ساتھ چُھوٹ جانے کے دوراہے پر آن پہنچا تھا۔ صبح سے اس کی امی بھی ان کے ہاں موجود اپنی بیٹی کو سنبھالنے لگی تھی جس کی اب تک ہاتھوں کی مہندی بھی نہیں اتری تھی۔ وہی اصغر صاحب اسلام آباد میں بیٹھے کال پر عارفہ کو دلاسہ دیتے رہے اسے حوصلہ رکھنے کی تلقین کرتے رہیں۔
دلاور صاحب صبح کے نکلے دوپہر کو گھر آئے۔ ان کے چند قدم پیچے جاوید بھی بے دم قدموں سے لاؤنج میں داخل ہوا۔
عابدہ بیگم دلاور صاحب کو مایوسی سے صوفے پر بیٹھ کر ہاتھ مسلتے دیکھ کر مزید پریشان ہوگئی۔ انہوں نے دلاور صاحب کے بجائے جاوید کو مخاطب کیا۔
“کیا ہوا جاوید۔۔۔۔ آپ دونوں شاویز کے ایجنسی گئے تھے نا۔۔۔۔ کیا کہا انہوں نے۔۔۔۔۔ شاویز کی کوئی خبر۔۔۔۔” عابدہ بیگم چل کر جاوید کے پاس آئی۔
جاوید نے لمبی سانس خارج کرتے ہوئے سب پر ایک نظر ڈالی۔ سب اسی کے طرف متوجہ تھے۔
“آنٹی۔۔۔۔ ایجنسی والوں کا بھی دو دن سے شاویز سے رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔۔۔۔ جو ان کا خفیہ چِپ شاویز کے گھڑی میں لگا تھا۔۔۔۔۔ وہ بھی پہنچ سے دور بتا رہا ہے۔۔۔۔۔ “جاوید نے مدھم آواز میں در پیش صورت حال سے واقف کرنا شروع کیا۔
“انہیں یہ خدشہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔ شاید شاویز کو کسی نے اغوا کر لیا ہے۔۔۔۔” جاوید نے بے بسی سے لب کاٹتے ہوئے کہا۔
سب کا دل دہل گیا۔ عابدہ بیگم نے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔ عارفہ بے دم سی صوفے پر بیٹھ گئی۔ سحر اور صائم لب مینچھے ساکت کھڑے تھے۔ دلاور صاحب نے اففف کرتے ہوئے سانس خارج کی۔
“ایجنسی والوں نے ہمیں یقین دہانی کروائی ہے۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنے سب ہی برانچوں میں مطلع کر دیا ہے۔۔۔۔۔ وہ شاویز کو ڈھونڈنے کی ہر حد کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔ جیسے ہی کسی بھی طرح شاویز کی لوکیشن ٹریس ہوتی ہے وہ فوراً اس تک پہنچ جائے گے۔۔۔۔” جاوید نے ماحول میں بڑھتے تناو کو کم کرنے سب کو امید دلائی۔
“اور اگر وہ وقت رہتے لوکیشن معلوم نہیں کر پائے تو۔۔۔۔۔ اگر ان کے پہنچنے تک دیر ہوگئی تھی تو۔۔۔۔۔ اگر شاویز۔۔۔۔۔۔ ” عارفہ کے دل میں پھر سے وسوے امڑنے لگے۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کی امی اور سحر اس کے ساتھ بیٹھ کر اسے سنبھالنے لگے۔ اس کی کہی باتوں پر جاوید بھی خاموشی اختیار کر گیا۔ اس اندیشے کا اس کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا۔
دلاور صاحب نے فلحال خاموش رہنا مناسب سمجھا۔ وہ اپنے اندر کے ٹوٹتے باپ کو جوڑے رکھنے کی کشمکش میں مبتلا تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شاویز نے اپنے چہرے پر ٹھنڈے پانی کی بوچھاڑ ہوتے پائی تو وہ ایک جھٹکے سے ہوش میں آیا۔ علی نے بالٹی بھر پانی اس پر انڈیل دیا تھا۔ خالی بالٹی اس نے دیوار پر پٹخ دی۔
“آخری دفعہ پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔۔ فائل کا بتا دے۔۔۔۔۔” علی نے شاویز کے گیلے بال مٹھی میں جکڑ لیئے۔
“پہلے مجھے۔۔۔۔۔ مجھے ایک کال کرنی ہے۔۔۔۔ اپنے گھر والوں سے بات کرنی ہے۔۔۔۔ پھر بتا دوں گا۔۔۔۔” شاویز نے اکھڑے سانس میں کہا۔
علی نے اس کا چہرہ زمین سے لگا دیا اور اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر زور دینے لگا۔
“یہ خواہش تم اپنے ساتھ قبر میں لے کر جائے گا۔۔۔” پھر اسے کوستے ہوئے باہر نکل گیا۔
شاویز نے اپنی نگرانی کے لیے کھڑے اس چھوٹے قد آدمی اور اس کے ساتھی کو معصومیت سے دیکھا۔
“لالا۔۔۔۔ ایک بار ہم کو اپنے گھر پر فون کرنے دو۔۔۔۔” شاویز نے معصومیت سے افسردہ انداز میں کہا۔
وہ دونوں چپ رہے۔ شاویز نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ وہ کھسکتا ہوا گھٹنوں کے بل اٹھ بیٹھا۔ اس کے ہاتھ پیر ابھی بھی بندھے ہوئے تھا۔ شیو کافی بڑھ چکی تھی۔ کپڑے پھٹے ہوئے۔ چہرہ بوسیدہ حال۔ 3 تین دن سے بھوکا پیاسا رہنے سے اس کی حالت غیر ہو رہی تھی۔
“بھائی جان۔۔۔۔۔ میرے گھر والے بہت پریشان ہونگے۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر میں ویسے بھی آپ مجھے مار دو گے۔۔۔۔۔ تو اسے میری آخری خواہش سمجھ کر پورا کر دو۔۔۔۔” شاویز نے نقلی آسنو آنکھوں میں لاتے ہوئے پھر سے درخواست کی۔
“اےے چپ کر۔۔۔۔۔ زیادہ بولا تو یہ ساری گولیاں تیرے اندر اتار دوں گا۔۔۔۔” اس بڑے آدمی نے ہاتھ میں پکڑا اسلحہ دکھاتے ہوئے تند و تیز آواز میں اسے جھڑک کر خاموش کرا دیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کے وقت روشن دان سے چاند کی کچھ روشنی اندر آرہی تھی۔ شاویز اوندھے منہ لیٹا بے بسی سے اس روشنی کو دیکھنے لگا۔ اسے اپنی ماں پھر پاپا کی سب سے زیادہ یاد آرہی تھی اور ان کے بعد اپنی soulmate عارفہ کی۔ اس کے مہندی لگے ہاتھ۔ اس کا ہنسنا۔ اس کا چہکنا۔ وہ اس کے سونے تک عارفہ کا اس کے ساتھ جاگے رہنا۔ اس کی پسند نہ پسند کا خیال رکھنا۔ اس کی فکر کرتے رہنا۔ اس کے سارے کام کرنا۔ اس سے اتنی محبت کرنا۔ اتنے کم دنوں میں بھی عارفہ نے شاویز کا دل جیت لیا تھا۔ وہ اس کی وفادار اور تابیدار بیوی ہونے کے سارے فرائض بہت اچھے سے سر انجام دے رہی تھی۔ اس وقت عارفہ کی ایک ایک ادا یاد کر کے شاویز پھیکا مسکرایا۔
پتا نہیں وہ کل تک زندہ بچے گا یا نہیں لیکن اگر وہ بچ گیا اور اپنے گھر والوں تک پہنچ گیا تو وہ عارفہ کو بانہوں میں لے کر اس سے اپنی محبت کا اظہار ضرور کر دے گا۔ وہ اسے بتا دے گا کہ وہ اس سے بے پناہ پیار کرتا ہے؛ سوچتے ہوئے شاویز کے دل میں امید سی جاگی۔ نڈھال حالت میں بھی اس نے ہلنے کے کوشش کی لیکن اس کا انگ انگ ٹوٹ رہا تھا اس نے درد کی شدت سے آنکھیں بند کر لیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہی دوسری جانب عارفہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس گم سم سی بیٹھی باہر چاند اور تاروں کو دیکھ رہی تھی۔
“پتا نہیں ان لوگوں نے شاویز کے ساتھ کیا کیا ہوگا۔۔۔۔ وہ کس حال میں ہوگا۔۔۔۔ کہی زیادہ مارا نہ ہو۔۔۔۔” رنگا رنگ سوچوں سے اس کے سر میں درد شروع ہو گیا تھا۔ مایوسی سے وہ اٹھی۔ واشروم گئی اور وضو کیا۔ دوپٹہ سر پر اوڑھا اور مصلحہ بِچھا کر نوافل ادا کئے۔ دعا میں ہاتھ اٹھانے تک اس کے رخسار آنسوؤں سے تر ہوگئے تھے۔
“اے اللہ۔۔۔۔۔ جب دنیا میں انسان کے پاس ہر راستہ بند ہوجائے۔۔۔۔ تب بھی ایک در ہمیشہ کھلا ملتا ہے۔۔۔۔۔ اور وہ تیرا در ہے میرے رب۔۔۔۔۔۔ تو رحیم ہے تو کریم ہے۔۔۔۔۔ شاویز تو تیرا نیک بندہ ہے۔۔۔۔۔ اس نے ہمیشہ دنیاوی کاموں کے ساتھ ساتھ تیری عبادت بھی پورے لگن سے کی ہے۔۔۔۔ چاہے اس پر جیسے بھی حالات آئے ہو۔۔۔ اس نے کبھی تیرا دامن نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔ اپنے اس نیک بندے کے خاطر مجھ گنہاگار بندی کی دعا سن لے۔۔۔۔۔ میرے شوہر کو میرے سر پر سلامت رکھ۔۔۔۔ وہ جہاں بھی ہو۔۔۔۔ اس کی حفاظت میں تیرے حوالے چھوڑتی ہوں۔۔۔۔ تو ہی اس کا کار ساز بن جا۔۔۔۔ تو ہی اس کی مدد فرما۔۔۔۔۔۔ بے شک تو اپنے نیک بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔۔۔۔۔” عارفہ نے روتے ہوئے درود پڑھتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرے۔
یہی حالت دلاور صاحب کی بھی تھی۔ وہ بھی اپنے سٹڈی روم میں مصلحے پر بیٹھے اپنے جوان بیٹھے کی زندگی کی فریاد کر رہے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
چار دن بعد شاویز کو دو گھونٹ پانی پلایا گیا جو اس نے ایک ہی سانس میں پی لیا۔ اس نے سرد آہ بھری اور علی کے بے تاثر چہرے کو دیکھنے لگا۔
” اب بھی نہیں بتائے گا۔۔۔۔۔۔ ” اس نے سپاٹ انداز میں کہا۔
شاویز نے استحزیہ مسکرا کر سر نفی میں ہلایا۔ اب کی بار علی کے آبرو تو تن گئے لیکن اس نے آگے آکر شاویز پر وار نہیں کیا۔ اس نے موبائل جیب سے نکالا اور ایک نمبر ملایا۔ کال اٹھانے پر خٹک صاحب نے سب سے پہلے یہی سوال پوچھا ۔
” نہیں سر۔۔۔۔۔ سب کچھ آزما لیا۔۔۔۔۔ سالا کچھ نہیں بتا رہا۔۔۔۔ ” علی نے حقارت سے شاویز کو گھورتے ہوئے کال پر جواب دیا پھر وہ عمران خٹک کی بات سننے کچھ دیر خاموش ہوگیا تھا۔
“ٹھیک ہے سر۔۔۔۔۔ ” سر کو جنبش دیتے ہوئے موبائل رکھا پھر دوسرے جیب سے ایک انجیکشن اور سیرنج نکالی۔ وہ اینجیکشن دیکھ کر شاویز کی آنکھیں پھیل گئی۔ وہ جانتا تھا انجیکشن کس چیز کا ہے لیکن وہ علی کو روکنے سے قاصر تھا۔
“مجھے میرے گھر والوں سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔ ایک دفعہ کال کرنے دو۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ میری اپنے پاپا سے بات کراو۔۔۔۔۔ ” شاویز نے ہمت کر کے پھر سے ریکویسٹ کی۔
“ابھے سالے چپ۔۔۔۔۔ ایک اور دفعہ بولا۔۔۔۔ تو تمہارے گھر پر بم حملہ کروا کر تمہارا پورا خاندان مٹا دوں گا۔۔۔۔” علی نے گالی دیتے ہوئے اسے جھڑکا اور پھر شاویز کو اٹھا کر بیٹھایا اور پیچے آکر اس کے بازو میں انجیکشن لگا دی۔ شاویز نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔
“تم بتا دیتا تو ہم کو ایسا نہیں کرنا پڑتا۔۔۔۔۔۔ بہت طاقتور ہے نا تم۔۔۔۔۔ اب ہم دیکھتا ہے۔۔۔۔۔ اس زہر سے کیسا بچتا ہے۔۔۔۔۔” علی نے ہنستے ہوئے طنز کیا اور اٹھ کر باہر نکل گیا۔
شاویز کو پانچ منٹ کے اندر اپنا سر بھاری ہوتا محسوس ہوا۔ اتنے دنوں سے بھوکے پیاسے تشدد سہتے وہ پہلے ہی برے حال میں تھا اور اب یہ زہریلا انجیکشن۔ اسے متلی ہونے لگی وہ کھانستے ہوئے تڑپ اٹھا۔ اسے اپنے آنکھوں کے آگے اندھیرا ہوتا محسوس ہوا۔
“لالا پلیز۔۔۔۔ اب تو مجھے کال کرنے دو۔۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔ اب تو زہر بھی انجیکٹ کر دیا ہے۔۔۔۔ میں زیادہ سے زیادہ ایک آدھ گھنٹہ ہی زندہ رہ پاوں گا۔۔۔۔” شاویز نے بھرائی آواز میں التجا کی۔ اس کی سانس رک رک کر آنے لگی۔
“کم از کم۔۔۔۔۔ میں اپنے باپ کو اپنی وصیت ہی بتا دوں۔۔۔۔۔ اتنا تو رحم کرو۔۔۔۔۔ آخر تم بھی کسی کے بیٹے ہو۔۔۔۔ کسی کے بھائی ہو۔۔۔۔ کسی کے شوہر ہوگے۔۔۔۔ کسی کے باپ ہوگے۔۔۔” شاویز نے معصومیت سے آنکھیں جھپکاتے ہوئے نقلی آسنو رخسار پر بہائے۔
اس کے آنسو بھلے ہی اداکاری کے تھے لیکن اسے اصل میں بہت تکلیف ہورہی تھی۔
“لالا۔۔۔۔ اتنا رو رہا ہے۔۔۔۔ فون دے دو۔۔۔۔ کل سے منت سماجت کر رہا ہے۔۔۔۔” چھوٹے قد آدمی کو کچھ رحم آیا۔ اس نے اپنے ساتھی کو ڈرتے ہوئے مخاطب کیا۔
“پاگل ہے کیا۔۔۔۔۔ علی لالا کو پتا چلا۔۔۔۔۔ گولی مار دیگا۔۔۔۔۔” ساتھی نے ہنہ کرتے ہوئے دوسرے کو ڈانٹا۔
“میں علی کو نہیں بتاوں گا۔۔۔۔۔ خیر ہے بھائی۔۔۔۔۔۔ مجھ پر رحم کھاو۔۔۔۔۔ صرف ایک کال۔۔۔۔۔ مرنے والے کی آخری خواہش پوری کر دو۔۔۔۔۔۔ ثواب ملے گا پلیززززززز۔۔۔۔۔۔” شاویز اب بلند آواز دھاڑے مار کر رونے لگا۔ اس کی ساری توانائی ختم ہوگئی تھی اس سے اداکاری بھی ٹھیک سے نہیں کی جا رہی تھی۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ جلدی بات کرنا۔۔۔۔۔” اس آدمی کی رضامندی پر شاویز کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھی۔
“نمبر بتاو۔۔۔۔” وہ شاویز کے پاس آیا اور اس کے بتائے نمبر کو ملانے لگا پھر فون سپکیر پر کر کے اس کے پہلو میں رکھ دیا۔
شاویز نے ہلکا سا زور ایک طرف کر کے خود کو موبائل کے سامنے گرا دیا۔ اس کی تیز نظریں مسلسل سکرین پر جمی ہوئی تھی۔
“ہیلو پاپا۔۔۔۔” مخالف سمت کال اٹھائے جانے پر اس نے فورا سے بات کی اور ساتھ ساتھ کھانسنے لگا۔ یہ اس کا کوڈ ورڈ طریقہ تھا کال پر موجود شخص کو محتاط کرنے کہ اس کے پاس کوئی موجود ہے۔
“پاپااااااا۔۔۔۔۔۔ مجھے عمران خٹک کے بدمعاشوں نے اغوا کر لیا پاپا۔۔۔۔۔۔” شاویز نے منہ بنائے روتے ہوئے۔
“میں تو ڈیرا اسماعیل خان آیا تھا۔۔۔۔۔ پر وہاں ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔۔۔۔۔ اور وہاں کے بازار سے دو گھنٹے دور یہاں اس کال کوٹھڑی میں قید کر دیا ہے۔۔۔ اااااھھھھ۔۔۔۔” شاویز رونے کی اداکاری کرتے باتوں باتوں میں دوسری طرف معلومات فراہم کرنے لگا۔
اس نے پاپا کو کال کرنے کے بہانے سے اپنے ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز کے مین دفتر میں کال ملائی تھی۔ شاویز کی آواز سن کر ہی وہ لوگ کاروائی پر جٹ گئے۔ تیز تیز آلات پر ہاتھ چلاتے ہوئے ایک آفسر اس کی کال ٹریس کرنے لگا۔ دوسرے نے ڈیرا اسماعیل خان اور لاہور میں موجود اپنے برانچوں میں شاویز کی کال ٹرانسفر کر دی تھی۔ وہاں کے کارکنان پولیس کو اطلاع دینے لگے۔
شاویز گیلی سانس اندر کھینچ کر پھر سے گویا ہوا۔
“پاپا یہ لوگ بہت خطرناک ہے۔۔۔۔۔ مجھے بہت مارا ہے۔۔۔۔۔۔ بہت تشدد کیا ہے مجھ پر۔۔۔۔۔ بجلی کے شاک بھی دیئے۔۔۔۔۔ بھوکا پیاسا زنجیروں میں باندھ کر رکھا ہے۔۔۔۔۔” شاویز نے بھرائی آواز میں اپنی آپ بیتی سنائی۔
“اور آج تو مجھے NC177 بھی انجیکٹ کر دیا ہے۔۔۔۔۔ میں مر جاوں گا۔۔۔۔۔۔ مجھے بچا لو پاپاااااا۔۔۔۔” شاویز موبائل اسکرین پر کال کا دورانیہ دیکھے جا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا لوکیشن ٹریس کرنے کے لیے کم از کم اسے تین منٹ تک کال جاری رکھنی تھی۔
مین ایجنسی کے بتائے معلومات کے مطابق ڈی آئی خان کے آرمی آفسران اور پولیس کی دو سے تین گاڑیاں لوکیشن کا تعاقب کرنے روانہ ہوگئے۔ وہی لاہور کے برانچ نے سب ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی تاکہ شاویز کا بروقت اعلاج ہو سکے۔
شاویز کی سانس رکنے لگی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ وہ جلدی جلدی بقیہ معلومات بیان کرنے لگا۔
“ان سب کے پاس بہت بڑے بڑے اسلحہ ہے۔۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔ مجھے یہاں سے لے جائے۔۔۔۔۔ عمران خٹک کی فائل میں نے اپنے IS33 والے فولڈر میں رکھی ہے۔۔۔۔۔ آپ وہ انہیں لا کر دے دو اور مجھے بچا لو۔۔۔۔” آرمی ایجنسی میں بھرتی ہونے والے ہر جوان کو ایک خفیہ آئی ڈی کوڈ دیا جاتا ہے جس سے وہ بغیر اپنا اصلی نام استعمال کئے بھی پہچانا جاتا ہے۔ شاویز نے باتوں باتوں میں سلطان کا خفیہ کوڈ بتایا تو کال سننے والے آفسران دنگ رہ گئے۔ انہوں نے تعجبی انداز میں ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر ان میں سے ہیڈ آفسر نے دوسرے ساتھی کو ہاتھوں سے سلطان کو اپنے حراست میں لینے کا اشارہ کیا۔ وہ سر کو خم دے کر سلطان کو گرفتار کرنے باہر کو لپکا۔
ساری ضروری معلومات شروع میں بتا کر اب شاویز تکلیف سے جونچتا ادھر ادھر کی باتیں کر کے کال کا دورانیہ بڑھاتا جا رہا تھا۔
“مجھے معاف کر دینا پاپا۔۔۔۔۔ میں نے آپ کو ہمیشہ پریشان کیا ہے۔۔۔۔ اپنی سوتیلی ماں سے بھی برا رویہ رکھا۔۔۔۔ اور سوتیلے بھائی بہن کو تو مارنے پر آگیا تھا۔۔۔۔ کتنا برا ہوں میں۔۔۔۔ لیکن مجھے ابھی نہیں مرنا۔۔۔۔ میری صرف پندرہ دن پہلے شادی ہوئی ہے یار۔۔۔۔۔ میں اب تک ٹھیک سے اپنی بیوی سے پیار کا اظہار بھی نہیں کر پایا۔۔۔۔” شاویز کی مایوس کن باتیں سن کر علی کے ساتھیوں کو شاویز کی بے بسی پر ترس آنے لگا۔
شاویز نے اپنی گفتگو اسی انداز میں جاری رکھی۔
“آپ ٹھیک کہتے تھے۔۔۔۔۔ میں آرمی کے لائق ہی نہیں ہوں۔۔۔۔ ایک کام بھی ٹھیک سے نہیں کر پایا۔۔۔۔۔ دیکھو پکڑا گیا۔۔۔۔۔ اور اب اتنی اذیتیں جھیلنی پڑ رہی ہے۔۔۔۔آاہ ہ ہ ہ۔۔۔۔” بات کرتے کرتے شاویز سچ میں کراہ اٹھا۔
دفتر میں بیٹھے اس کی کال ریکارڈ کرتے آفسر کی چلتی انگلیاں رک گئی۔ انہیں شاویز پر بہت افسوس ہورہا تھا لیکن وہ اسے کوئی بھی جواب دینے سے پابند تھے۔ ذہن سے منفی خیالات جھٹک کر انہوں نے پھر سے تیز تیز ہاتھ چلانا شروع کیا۔ وہ مسلسل اپنے ڈی آئی خان والے عملا سے رابطے میں تھے اور وہ شہر کے حدود سے نکل گئے تھے۔ جیسے ہی لوکیشن ٹریس ہوتا انہوں نے حملہ کر دینا تھا۔
شاویز نے ایک جھوٹی نظر سامنے کھڑے آدمیوں پر ڈالی وہ بے حس کھڑے اس کی فریاد سن رہے تھے۔ شاویز کو روتے ہوئے بھی ان بے وقوفوں پر افسوس بھری ہنسی آنے لگی۔
“پاپااااا۔۔۔۔۔ آپ میری سوتیلی ماں سے کہنا۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنا بیٹا سمجھ کر معاف کر دیں۔۔۔۔۔ اور آپ کو مجھے بچانے بھیج دیں۔۔۔۔۔ میں بہت تکلیف میں ہوں۔۔۔۔ مجھے یہاں سے لے جائے۔۔۔۔” شاویز نے بلند آواز رونا شروع کیا تو ایک آدمی آگے آیا اور فون اٹھانے لگا۔ شاویز نے تیزی سے اسکرین پر دورانیہ دیکھا تو تین منٹ سے کچھ سیکنڈ زیادہ بتا رہا تھا۔ شاویز نے شکر کا سانس لیا۔ کم از کم اس نے وقت پر اپنے ایجنسی پر اپنی اغوا کی معلومات دے دی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
زہر کا اثر تھوڑا تھوڑا کر کے شاویز کے جسم کو بے حس کرتا جا رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھی۔ وہ دیوار سے سر ٹکا کر بیٹھا تھا جب اسے روشن دان سے شور کی، جھڑپ کی، گولیاں چلنے کی آوازیں آنی شروع ہوئی۔ تھوڑی دیر میں بھاری بھرکم بوٹوں کی آواز آئی۔ کچھ پولیس اہلکار سیڑھیاں اتر کر دروازہ توڑنے لگے تھے۔ تین چار پانچ مرتبہ بھی زور لگا کر جب دروازہ نہیں ٹوٹا تو گولی چلا کر لاک توڑ دیا۔ دو اہلکار بھاگتے ہوئے شاویز کے پاس آکر اس کے ہاتھ پیر کھولنے لگے۔ ان کے پیچے ڈی آئی خان والے ایجنسی آفسران بھی تہہ خانے میں در آئے۔ ان کے ساتھ ایک ڈاکٹر بھی تھا جس نے بروقت شاویز کو anti venom ویکسین لگایا تا کہ زہر کا اثر رک جائے۔
شاویز کی حالت پھر بھی غیر ہونے لگی تھی۔ اسے بار بار متلی ہونے لگی لیکن معدہ خالی ہونے کے باعث الٹی نہیں ہو سکی تھی۔ اس کا سر چکرا رہا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے شاویز کے بازو اپنے کندھوں پر ڈال کر اسے سہارا دیتے تہہ خانے سے باہر لے جانے لگے۔ باہر متواتر پولیس اور علی کے گروہ کے مابین جنگ چل رہی تھی۔ اسی طرح شاویز کو تھامے ہوئے۔ جنگ سے بچتے بچاتے ایمبولنس میں لے گئے۔
ایک میدانی علاقے میں ایمبولنس روک کر شاویز کو سپیشل ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیدھے لاہور لے جایا گیا۔ وہاں اس کے اپنے ایجنسی آفسران اور ڈاکٹرز کی ٹیم اس کی منتظر تھی۔ شاویز کو اسپیشل سیکیورٹی کے دائرے میں ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
