Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bikhare Rishte (Episode 17)

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

آپریشن تھیٹر کے باہر دلاور صاحب خون آلود سوٹ میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہے تھے۔ صبح سے شام ہونے کو تھی یا دن سے رات بھوکے پیاسے کھڑے انہیں کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی۔ فکر تھی تو صرف شاویز کی۔

جاوید پولیس کی ودری میں ملبوس کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔

سحر اور صائم ہسپتال کے چمکتے فرش پر بھاگتے ہوئے دلاور صاحب کے پاس آئے اور ان سے لپٹ گئے۔ دلاور صاحب نے ایک بازو سحر کے گرد مائل کیا اور دوسرا صائم کے گرد۔

“کیسے ہو میرے بچوں۔۔۔۔ ” دلاور صاحب نے زکام زدہ آواز میں کہا۔ ان کی سوجی ہوئی آنکھوں سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ بہت دیر سے روتے رہے ہے۔

سحر نے پاپا کے سوٹ پر خون لگا دیکھا جو ابھی بھی تازہ تھا؛ تو سہم گئی اور پاپا کے حصار سے الگ ہو کر سر تا پیر انہیں دیکھا۔

“پاپا۔۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہے۔۔۔۔” سحر کی آواز کانپنے لگی اس کا دل ڈگمگا رہا تھا۔ سحر کی حالت غیر ہوتے دیکھ کر صائم بھی گڑبڑا گیا۔

“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ گولی شاویز کو لگی ہے۔۔۔۔یہ اسی کا خون ہے۔۔۔۔” دلاور صاحب نے سحر کی نظریں اپنے خون سے تر شرٹ پر جمی پائی تو اس کا کندھا تھپکتے ہوئے وضاحت دی۔

شاویز کے زخمی ہونے کا سن کر سحر اور صائم کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ سانس روکے منجمند کھڑے ہوگئے۔

سحر بیشک شاویز کو پسند نہیں کرتی تھی۔ اور اس کی حقیقت سن کر تو وہ مزید زہر لگنے لگا تھا لیکن پھر بھی وہ اتنی بے حس نہیں تھی کہ زندگی اور موت سے جونجھتے شاویز کے لیے اسے تکلیف محسوس نہ ہوتی۔ یہی حالت صائم کی بھی تھی۔ ان دونوں نے افسردگی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔

ان سے بات کرتے دلاور صاحب کو عابدہ کی فکر ہونے لگی۔

“بچوں۔۔۔۔ تمہاری مما کیسی ہے۔۔۔۔ ” انہوں نے سحر اور صائم دونوں کو مخاطب کیا۔

“بہت پریشان تھی آپ کے لیے۔۔۔۔۔ رو رو کر برا حال کر لیا ہے۔۔۔۔ آپ ان سے کال پر بات کر کے انہیں تھوڑی تسلی دے دیں۔۔۔۔” سحر نے دل گرفتگی سے مما کی حالت بیاں کی۔

“ہمممم لاو۔۔۔ کال ملا کر دو۔۔۔۔ ” دلاور صاحب نے سحر سے کہا۔ اس نے سر کو جنبش دیتے ہوئے مما کا نمبر ملایا اور موبائل پاپا کو تھمایا۔ وہ تھوڑا فاصلے پر جا کر اپنی زوجہ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

“سحر۔۔۔۔ اگر شاویز کو کچھ ہوگیا۔۔۔۔ تو۔۔۔۔ پاپا کا کیا ہوگا۔۔۔۔کیسے سنبھالے گے ان کو۔۔۔۔۔” صائم نے متفکر انداز میں کال پر بات کرتے پاپا کو دیکھتے ہوئے کہا۔

سحر نے مایوسی سے چھوٹے بھائی کا بازو تھاما اور اس کے کندھے سے سر ٹکایا۔ اس کے پاس صائم کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اندر ہی اندر وہ خود بھی اسی سوال سے جونجھ رہی تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

عارفہ اپنی امی کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی تھی جب اس نے نیوز میں دلاور پرویز خان کے دفتر پر جھڑپ ہونے کی خبر دیکھی۔ عارفہ حیران پریشان کھڑی ہوگئی۔ امی کے بھی تاثرات متفکر ہوگئے۔ عارفہ نے جھک کر اپنا موبائل اٹھایا اور سحر کا نمبر ملانے لگی لیکن اس کا نمبر مصروف آرہا تھا۔ وہ افففف کرتی مزید مضطرب ہوگئی۔ اس نے تیزی سے صائم کا نمبر ملایا دو بیل جانے پر اس نے کال اٹھا لی۔

“صائم سب خیریت تو ہے نا۔۔۔۔ میں نے ابھی نیوز میں خان انکل کے دفتر پر حملے کا دیکھا۔۔۔۔۔ سحر کا نمبر بزی آرہا تھا۔۔۔۔تو تمہیں کال ملائی۔۔۔۔۔ ” عارفہ نے ایک سانس میں سارے سوال پوچھ لیئے۔

“ہاں وہ۔۔۔۔ سحر کے موبائل پر پاپا۔۔۔۔ مما سے بات کر رہے ہے۔۔۔۔ ہم ہسپتال میں ہے تو مما گھر پر پریشان ہورہی تھی۔۔۔۔” صائم نے ہلکے آواز میں کہا۔

“ہسپتال میں۔۔۔۔۔ خان انکل ٹھیک ہے نا۔۔۔۔” عارفہ کو وحشت ہونے لگی۔ اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔

“ہمممم پاپا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ شاویز زخمی ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ اسے گولی لگ گئی ہے۔۔۔۔ ” صائم نے بے دھیانی میں کہا۔

عارفہ اس کے آگے کچھ سننے کے حالت میں نہیں رہی۔ اس کی آنکھیں بڑی ہوگئی وہ ساکت کھڑی رہی۔ اس کے سماعتوں میں صائم کی بات گونجنے لگی۔

“کیا ہوا عارفہ۔۔۔۔۔ وہاں سب خیریت تو ہے نا۔۔۔۔” عارفہ کا چہرہ زرد پڑتے اور اس کی آنکھیں بھیگتے دیکھ کر امی نے اسے جھنجوڑا۔

“ہیلو۔۔۔۔ عارفہ۔۔۔۔” لائن کے دوسرے جانب صائم نے اسے پکارا۔

“کس ہسپتال میں ہو۔۔۔۔۔” غائب دماغی میں عارفہ صرف اتنا ہی کہہ پائی۔

مطلوبہ ہسپتال کا نام بتا کر صائم نے کال کاٹ دی۔

عارفہ موبائل کا اسکرین دیکھتے شاویز کو یاد کرنے لگی۔ بریک اپ سے زیادہ تکلیف اپنے محبت کے زخمی ہونے کا سن کر ہوتی ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ سخت اسے زندگی بھر کے لیے کھو دینے کا خوف ہوتا ہے۔ اس نے فوراً سے آنسو صاف کئے اور امی کو تھوڑی دیر میں آتی ہوں کہہ کر لاؤنج سے باہر نکل گئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

عارفہ بھاگتے ہوئے آپریشن تھیٹر کے باہر خاموش سی کھڑی سحر کے پاس آئی۔

“عارفہ تم یہاں۔۔۔۔” سحر اسے دیکھ کر حیران ہوگئی۔

عارفہ نے مختصر انداز میں اسے صائم کے ذریعے شاویز کے زخمی ہونے کے پتا لگنے کا بتایا۔

“کیسا ہے وہ۔۔۔۔” اس نے تشویش سے پوچھا۔

“کچھ کہہ نہیں سکتے۔۔۔۔۔ ابھی تک آپریشن چل رہا ہے۔۔۔۔ ” سحر نے ہلکے آواز میں وضاحت پیش کی۔

تین گھنٹے تک مسلسل زیر آپریشن رہنے کے بعد شاویز کے کندھے سے گولی نکال لی گئی تھی لیکن حالت اب بھی تشویشناک تھی۔ اس کی نبض قابو نہیں ہورہی تھی۔

ڈاکٹر تھکا ماندہ سا باہر آیا تو دلاور صاحب کرسی سے اٹھ کر ان کے سامنے آئے۔

“دلاور صاحب bullet تو نکال دی ہے۔۔۔۔۔ پر وہ ابھی بھی سیریس کنڈیشن میں ہے۔۔۔۔۔” انہوں نے نرمی سے کہتے ہوئے دلاور صاحب کو دلاسہ دیا۔

“ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔ آپ خرچے کی بلکل فکر مت کیجیئے۔۔۔۔۔ اپنی بیسٹ ٹیم کا بندوبست کریں۔۔۔۔۔ چاہے بیرون ملک لے جانا پڑے۔۔۔۔ لیکن میرے بیٹے کا تسلی بخش علاج کرائے۔۔۔۔ مجھے کسی چیز کی پروا نہیں ہے۔۔۔۔ آپ بس میرے بیٹے کو بچا لیں۔۔۔” دلاور صاحب شاویز کی تشویشناک حالت کا سن کر پھر سے جذباتی ہونے لگے تھے۔

عارفہ تعجبی انداز میں دلاور صاحب کو دیکھ رہی تھی۔

“لگتا ہے۔۔۔۔۔ سحر نے شاویز کا پروپوزل منظور کر لیا ہے۔۔۔۔۔ اور اس لحاظ سے خان انکل اسے بیٹا بیٹا کہہ کر اس کی اتنی فکر کر رہے ہے۔۔۔۔۔” اصل سچائی سے انجان عارفہ نے اپنے آپ سے ہی سحر اور شاویز کے رشتے کا گمان کر لیا۔

“لیکن سحر کو تو جاوید میں دلچسپی تھی پھر۔۔۔۔۔” وہ شاک پر شاک ہونے لگی۔

“سحر نے سوچ لیا ہوگا۔۔۔۔۔ جاوید نہیں تو شاویز ہی صحیح۔۔۔۔ آخر شاویز کسی ہیرو سے کم ہے کیا۔۔۔۔” عارفہ کا دل مایوسی میں ڈوب گیا۔ اسے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا۔‌ وہ اس طرح پاگلوں کی طرح یہاں آنے کی غلطی کرنے پچھتانے لگی۔

ڈاکٹر نفی میں سر ہلاتے ہوئے دلاور صاحب کو مطمئن کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

“اi must say۔۔۔۔ بہت با صبر لڑکا ہے شاویز۔۔۔۔۔ ورنہ اس رینج کی گولی کا زہر برداشت کرنا۔۔۔۔ کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔” ڈاکٹر نے گولی کی سائز اور پہنچائے جانے والے نقصانات کی نوعیت بتائی۔

“اپنے جسم کے آخرے قطرے بلڈ تک اس نے موت سے مقابلہ کیا ہے۔۔۔۔ بہت مظبوط جان ہے۔۔۔۔۔ انشاءاللہ یہ بھی survive کر لیں گا۔۔۔۔ آپ بس دعا کریں۔۔۔۔” ڈاکٹر نے پروفیشنل انداز میں دلاور صاحب کو تسلی دی اور ان کا بازو تھپتھپاتے ہوئے واپس آپریشن تھیٹر کے اندر چلے گئے۔

دلاور صاحب نے دعا کے جیسے ہاتھ ہوا میں بلند کئے۔ عارفہ نے بھی چہرے پر ہاتھ رکھ شاویز کی زندگی کی دعا کی۔ جبکہ جاوید سحر اور صائم دل گرفتگی سے خاموش کھڑے رہے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جاوید گھر جا کر کپڑے تبدیل کر کے سادی شلوار قمیض پہن کر ایک گھنٹے تک واپس آیا۔

“خان انکل اب آپ کو گھر جانا چاہیئے۔۔۔۔ کب تک ایسے پریشان بیٹھے رہے گے۔۔۔۔۔ میں ہوں نہ یہاں۔۔۔۔۔” جاوید نے دلاور صاحب کے لیے متفکر ہوتے ہوئے کہا۔

“پاپا۔۔۔۔ جاوید ٹھیک کہہ رہے ہے۔۔۔۔۔ متواتر ٹینشن لیتے رہنے سے آپ کا بی پی بڑھ جائے گا۔۔۔۔۔ رات ہورہی ہے۔۔۔۔ آپ گھر چل کر آرام کر لیں۔۔۔۔۔ ” سحر نے ان کا ہاتھ تھام کر کہا۔

“پاپا۔۔۔۔ جاوید بھائی کے ساتھ میں رک جاو گا۔۔۔۔۔ آپ گھر جائے۔۔۔۔ مما بھی آپ کا اتنظار کر رہی ہے۔۔۔۔۔ میں آپ کو کال پر شاویز کی اپ ڈیٹ دیتا رہوں گا۔۔۔۔” صائم نے اپنے جانب سے پاپا کو قائل کرنے کی کوشش کی۔

صائم نے سوچا جب شاویز دشمن ہو کر تب اس کے ساتھ ایکسیڈنٹ کی رات ہسپتال میں رک سکتا تھا پھر اب بھائی ہو کر وہ کیسے نہ رکے۔

دلاور صاحب کا دل نہیں چاہ رہا تھا لیکن بچوں کے اصرار پر وہ گھر جانے کے لیے راضی ہوگئے۔

وہ سحر اور عارفہ کے ساتھ گھر کے لیے روانہ ہوگئے۔

عارفہ کو اس کے گھر ڈراپ کر کے سحر پاپا کا بازو تھامے انہیں سہارا دیتی گھر کے اندر داخل ہوئی۔

عابدہ بیگم مضطرب سی لاؤنج میں بیٹھی ان کے انتظار میں تھی۔ ان کو آتے دیکھا تو تیزی سے ان کے پاس آئی اور دلاور کا دوسرا بازو تھام لیا۔

“دلاور۔۔۔۔ کیا حال بنا لیا ہے آپ نے۔۔۔۔ ” ان کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔

پاپا کو صوفے پر بیٹھا کر سحر کچن میں چلی گئی اور پانی کی بوتل لائی پھر انہیں گلاس بھر کر پانی دیا۔

دلاور صاحب نے پانی پی کر گلاس واپس سحر کو پکڑایا۔

“میں کھانا لگاتی ہوں۔۔۔۔ “عابدہ بیگم اٹھنے لگی تھی لیکن دلاور صاحب نے روک لیا۔

“میرا بلکل دل نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں بس آرام کروں گا۔۔۔۔” انہوں نے کھانے سے منع کر دیا اور اپنے کمرے کے جانب بڑھ گئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جب دلاور صاحب نے کھانے سے انکار کر دیا تو عابدہ بیگم ایک گلاس گرم دودھ لیں آئی۔

وہ کمرے میں داخل ہوئی تو دلاور صاحب فریش ہوئے کپڑے بدلے واشروم سے باہر نکل رہے تھے۔

“کم از کم دودھ ہی پی لیں۔۔۔۔۔ آپ کی طبیعت خراب ہوجائے گی۔۔۔”عابدہ بیگم نے اداسی سے کہا۔

دلاور صاحب بیڈ پر نیم دراز ہوئے اور بیوی کا پیار سے پیش کردہ گلاس تھاما۔

“تم مجھ پر بہت خفا ہوگی عابدہ۔۔۔۔ میرا اتنا بڑا راز ایسے تم پر افشاں ہوگیا۔۔۔” دلاور صاحب نے مایوسی سے سر جھٹکا۔

“نہیں دلاور۔۔۔۔ میں آپ سے خفا نہیں ہوں۔۔۔۔۔ ہاں برا ضرور لگا۔۔۔” عابدہ بیگم نے ان کے پہلو میں بیٹھتے ہوئے کہا۔

“اپنے شوہر کا نام کسی اور عورت کے ساتھ سن کر ہر بیوی پر گراں گزرتا ہے۔۔۔۔۔ مجھ پر بھی گراں گزرا۔۔۔۔۔” وہ غیر مروی نقطہ کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھی اور دلاور صاحب دودھ کا گھونٹ لیتے ہوئے انہیں دیکھ رہے تھے۔

“لیکن پھر میں نے سوچا۔۔۔۔ آپ کا کیا قصور۔۔۔ آپ نے تو صرف محبت کی پھر اس سے نکاح کیا۔۔۔۔۔۔ غلطی تو ہمارے بڑے بزرگوں نے کی۔۔۔۔ اپنی من مانی چلا کر۔۔۔۔۔۔” عابدہ بیگم اداسی میں پھیکا مسکرائی۔

“ظلم تو پھر بھی زرتاج کے ساتھ ہوا۔۔۔۔۔ رسوائی اور تنہائی کی زندگی تو اس کے حصے میں آئی۔۔۔۔۔ مجھے تو آپ کا پیار بھی ملا۔۔۔۔ اور آپ کا ساتھ بھی۔۔۔۔۔” انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر دلاور صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیا۔

دلاور صاحب یک ٹک اپنی نیک اور پر خلوص بیوی کی گفتگو سن رہے تھے۔

“مجھے آپ نے کبھی یہ محسوس بھی نہیں ہونے دیا کہ۔۔۔۔۔ میں آپ کی پہلی محبت نہیں ہوں۔۔۔۔ یا میرے علاوہ آپ کی زندگی میں کوئی اور بھی تھی۔۔۔۔” عابدہ بیگم نے بھیگی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا۔

دلاور صاحب نے عابدہ بیگم کو تھام کر اپنے سینے سے لگایا۔

“میں بہت خوش نصیب ہوں۔۔۔۔ جو مجھے تم جیسی شریک حیات ملی ہے۔۔۔۔ میں اللہ کا بہت شکر گزار ہوں۔۔۔۔۔ میری بیوی میرے بچیں اس موقع پر بھی میرے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے سکون کا سانس لیا۔

“اور میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔۔ مجھے اپنا میاں بہت عزیز ہے۔۔۔یہ ہمیشہ یاد رکھیئے گا۔۔۔۔” عابدہ بیگم نے ان کے گرد بازو مائل کئے ہوئے کہا۔

“مجھے بھی۔۔۔۔ “دلاور صاحب نے ان کے بات میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔

“عابدہ۔۔۔۔۔ شاویز میرا بیٹا ہے۔۔۔۔ میں اسے اسی گھر میں لانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ تم اور بچیں اسے اپنا لو گے نا۔۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے سنجیدہ ہو کر ان سے اپنی دلی کیفیت بیان کی۔

عابدہ بیگم کچھ پل خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی

“یقیناً زرتاج بہت اچھی تھی۔۔۔۔ اس نے شاویز کی بہت اچھی تربیت کی ہے۔۔۔۔۔ اتنی نفرت ہونے کے باوجود بھی صرف ایک گھنٹہ پہلے یہ معلوم ہونے پر۔۔۔۔ کہ آپ اس کے پاپا ہے۔۔۔۔۔ شاویز نے آپ کے لیے اپنی جان داو پر لگا دی۔۔۔۔۔ اتنے نیک بیٹے کو میں کیوں نہیں اپناوں گی۔۔۔۔۔ آپ اسے بے فکر ہو یہاں لائے۔۔۔۔۔” عابدہ بیگم نے سر کو جنبش دیتے انہیں تسکین دلائی۔

“اللہ تم جیسی بیوی ہر آدمی کو دیں۔۔۔۔” دلاور صاحب صبح سے اب جا کر تسلی ہوئے اور مسکرا دیئے۔

“اب اتنی بھی اچھی نہیں ہوں میں۔۔۔۔۔ یہ نہ ہو میری معصومیت کا فائدہ اٹھا کر۔۔۔۔ کل کو آپ تیسری چھوتی شادی کرنے کا سوچے۔۔۔۔۔۔ یاد رکھیں تب مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ہاں۔۔۔۔۔۔” عابدہ بیگم نے ہنہ کرتے ہوئے کہا۔

ان کی بات پر دلاور صاحب کھلکھلا کر ہنسے تھے۔

دونوں میاں بیوی خوش دلی سے مہو گفتگو تھے جب دلاور صاحب کا موبائل بجنے لگا۔ انہوں نے سنجیدہ ہو کر کال اٹھائی دوسرے جانب صائم تھا۔

“ہاں صائم۔۔۔۔۔ سب خیریت ہے نا۔۔۔۔۔ شاویز ٹھیک تو ہے۔۔۔۔۔” ان کے آواز میں اچانک پریشانی در آئی تھی۔

“ریلکس پاپا۔۔۔۔۔ سب خیریت ہے۔۔۔۔ بلکہ گڈ نیوز ہے۔۔۔۔۔ ابھی ابھی ڈاکٹر نے بتایا شاویز کی ہارٹ بیٹ نارمل ہونے لگی ہے۔۔۔۔ وہ خطرے سے باہر آرہا ہے۔۔۔۔” صائم نے خوش مزاجی سے کہا۔ اس کی نظریں ابھی بھی جاوید سے بات کرتے ڈاکٹر پر مرکوز تھی۔

“یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔۔” دلاور صاحب نے سکون کا سانس لیتے ہوئے اللہ کے حضور شکر ادا کیا۔

“پاپا۔۔۔۔ آپ بے فکر ہو کر سوجائے۔۔۔۔۔ اب سب ٹھیک ہے۔۔۔۔” پاپا کو تسلی ہوتے دیکھ کر صائم خوش ہوگیا۔

“تھینکیو میرا بیٹا۔۔۔۔”دلاور صاحب نے صائم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا اور کال کاٹ کر عابدہ بیگم کو خیر خبر سنائی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

گھر لوٹنے کے بعد عارفہ امی کو وہاں کی رو داد سنا کر اپنے کمرے میں آگئی۔ اس کا دل اداسی میں ڈوب گیا تھا۔ شاویز کے انکار نے اسے کمزور تو کر دیا تھا لیکن سحر کو شاویز کے ساتھ سوچ کر وہ پوری طرح ٹوٹ گئی تھی۔ بے آواز روتی اس کے دل میں سحر کو لے کر شکایتیں پھنپ رہی تھی۔

“سحر کو تو میرے جذبات کا پتا تھا پھر اس نے ایسے کیسے شاویز کو accept کر لیا۔۔۔۔۔ اسے تو احساس کرنا چاہیئے تھا کہ مجھے کتنی تکلیف ہوگی۔۔۔۔۔۔” سوچتے ہوئے اسے اپنی بیسٹ فرینڈ سے کئی گلے شکوے ہونے لگے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلی صبح تک شاویز کی حالت کافی سنبھل گئی تھی۔ اس کی دعا قبول ہوگئی تھی۔ اللہ نے اسے زندہ رہنے دیا تھا۔ وہ اس آزمائش سے بھی گزر چکا تھا۔ اس کی جان بچ گئی تھی۔

ہسپتال لائے جانے سے اب تک اسے پانچ بوتل خون چڑھایا گیا تھا اور متواتر وہ مشینوں اور ڈریپوں سے جڑا ہوا تھا حتہ کہ آکسیجن ماسک بھی ابھی تک لگی ہوئی تھی۔

دلاور صاحب رات کے بہ نسبت صبح تر و تازہ لگ رہے تھے۔ ان کی پریشانی کسی حد تک کم ہوچکی تھی۔ وہ صبح فجر ادا کرنے کے ساتھ ہی ہسپتال آگئے۔ جاوید اور صائم کو انہوں نے آرام کرنے گھر بھیج دیا اور خود شام تک وہی رہے۔

شاویز نے ایک آدھ مرتبہ ہوش میں آنے کی کوشش کی، آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے سر سے لیکر کندھوں تک شدید درد اٹھ رہا تھا۔ بے ہوشی میں وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ کیا یہ درد اس کے مائگرین سے ہورہا ہے یہ زخمی ہونے سے۔

وہ پورا دن دلاور صاحب وہی بیٹھے بے ہوش سے شاویز کو دیکھتے رہے۔ رات پھر صائم آگیا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دو دن تک مسلسل شاویز کبھی ہوش میں آتا کبھی بے ہوش رہتا۔ دن میں اس کے پاس دلاور صاحب رہتے اور رات میں صائم۔

شاویز سے لگے مشینوں کی تعداد تیسرے دن قدرے کم ہوگئی۔ خون چڑھانا بھی روک دیا اور آکسیجن ماسک ہٹا دیا گیا۔ وہ اتنا بہتر ہوگیا تھا کہ قدرتی طور پر سانس لے سکے۔

چوتے دن شاویز دوائیوں کے اثر سے باہر آنے لگا۔ اسے ہوش آگیا تھا۔ جب اس نے آنکھیں کھولی تو اسے دلاور صاحب اپنے سرہانے کھڑے ملے۔ شاویز کا دماغ ابھی بھی ماوف تھا۔ وہ صرف ڈاکٹر کو دلاور صاحب سے باتیں کرتے دیکھ رہا تھا پر ان کی گفتگو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ پاپا کبھی اسے دیکھتے کبھی ڈاکٹر کو اور پھر ان کے چہرے پر مستحکم سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ شاید ڈاکٹر انہیں شاویز کی تیزی سے recovery کے بابت تسلی دے رہے تھے۔ شاویز کچھ دیر آنکھیں کھولے سُن جسم اور ماوف دماغ پڑا رہا اور پھر سے اس پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا وہ آنکھیں بند کر کے پھر سے گہری نیند سو گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ایک ہفتہ لگا کر شاویز مکمل ہوش و حواس میں لوٹ آیا۔ اب وہ سب کچھ واضح طور پر دیکھ اور سن سکتا تھا۔ البتہ زیادہ ہلنے جلنے سے ڈاکٹر منع کر رہے تھے۔ اس کے باقی سارے حسات بحال ہوگئے پر اس دائیاں بازو بے حس و حرکت تھا۔

“تمہارے کندھے سے بازو کو جوڑنے والی کچھ رگیں گولی لگنے سے کٹ گئی تھی۔۔۔۔۔۔ ہم نے دوبارہ جوڑ دی ہیں۔۔۔۔۔ لیکن کنکشن جڑنے میں وقت لگے گا۔۔۔۔۔ تب تک تمہارا دائیاں بازو حرکت کرنے سے قاصر ہے۔۔۔” ڈاکٹر نے شاویز کی پریشانی جانچتے ہوئے اسے تسلی دی اور پر امید رہنے کا کہا۔

شاویز اداس ہوگیا لیکن پوری طرح معذور ہونے سے یا جان سے جانے سے تو کچھ عرصے کی یہ تکلیف اسے خوشی خوشی قبول تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اس دن شاویز وارڈ بوائے کے مدد سے نیم دراز ہو کر بیٹھا۔ لیٹے لیٹے اسے الجھن ہونے لگی تھی۔ وہ اتنی دیر آرام کرنے کا عادی نہیں تھا۔

دلاور صاحب تو ایک ہفتے سے دفتر ہی نہیں گئے تھے۔ وہ روز صبح اس کے پاس آجایا کرتے۔ ان کے ہاتھوں عابدہ بیگم بھی اس کے لیے سوپ، کھچڑی، یخنی، تازہ پھل، بھیجا کرتی جب کہ خود ہسپتال نہیں آئی تھی۔ نہ ہی سحر آتی اور جب سے اسے ہوش آیا تھا صائم بھی نہیں آیا تھا۔ وہ اکثر راتوں کو سٹاف کے سہارے گزار دیتا پر پاپا کو رات رکنے کی زحمت دینا اسے گوارا نہیں ہوتا۔ اب وہ جلد از جلد رخصت ہونا چاہتا تھا تا کہ پاپا اس آنے جانے کے جھنجٹ سے آزاد ہوجائے۔

دسویں دن شاویز کو ہسپتال سے چھٹی ملی۔ اس کے ہاتھ کو سہارا دینے band میں ڈال کر اس کے گلے سے باندھ دیا تھا۔ وہ ابھی تیار بیٹھا تھا کہ صائم اور جاوید کمرے میں داخل ہوئے۔

“کیسے ہو شاویز۔۔۔۔ ” جاوید آگے آکر اس سے ملا۔ پچھلے دس دنوں میں وہ اکثر و بیشتر ملنے آیا کرتا تھا جبکہ صائم پہلی مرتبہ آیا تھا۔ وہ فری انداز میں ملنے سے جھجک رہا تھا تو شاویز نے بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ دونوں سرسری انداز میں ملے۔

سب ابھی ڈاکٹر کے آخری دورے کے انتظار میں تھے جب دلاور صاحب کو اچانک خیال آیا۔

“جاوید۔۔۔۔ راشد ہاشمی کا کیا بنا۔۔۔۔ میں تو اس کے بارے میں پوچھنا ہی بھول گیا تھا۔۔۔۔” دلاور صاحب نے تشویش سے جاوید کو دیکھا۔ وہ ہلکا سا مسکرا دیا۔

“اسے تو اگلے ہی دن۔۔۔۔ آرمی ایجنسی والے لیں گئے۔” جاوید نے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔

“ایجنسی والے۔۔۔۔” دلاور صاحب شاک ہو گئے۔

“جی۔۔۔۔ آرمی والوں کا ایک سیکرٹ ایجنٹ راشد ہاشمی پر فائل تیار کر رہا تھا اور اس دن ہمارے ریڈ کرنے سے کچھ دیر پہلے اس ایجنٹ نے فائل ایجنسی کو ہینڈ اوور کر دی تھی۔۔۔۔۔ اس لیے اگلے ہی دن آرمی سٹاف نے ایکشن لیا اور راشد ہاشمی کو لے گئے۔۔۔۔۔۔” جاوید نے جوش و خروش سے واقع سنایا۔

شاویز اپنی مسکراہٹ دبائے ہوئے آنکھیں گول گول گھماتے ہوئے رخ پھیر گیا۔ اسے بل واسطہ اپنے کارنامے کے بارے میں سن کر ہنسی آرہی تھی۔

” ہمممم چلو اچھا ہوا۔۔۔۔۔ بس جو بھی ہو۔۔۔۔۔ بچ کے نکلنا نہیں چاہیئے۔۔۔” دلاور صاحب کے آبرو تن گئے۔

” اdon’t worry خان انکل۔۔۔۔۔ ایک دفعہ جو ایجنسی والوں کے ہاتھ لگ گیا پھر کسی کو اس کے زندگی اور موت کی بھی خبر نہیں ملتی۔۔۔” جاوید نے مسرور ہوتے ہوئے آرمی ایجنسی کی تعریف کر دی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز ان کے ہمراہ گھر آیا تو عابدہ بیگم اسی گرم جوشی سے ملی جسے پہلے دن ملی تھی۔ ان کے ملنے میں ناراضگی یا خفگی کے کوئی ایثار نہیں تھے۔ نا سوتیلا پن تھا۔

سحر اوپر سیڑھیوں کے سرے پر کھڑی سپاٹ تاثرات بنائے اسے دیکھ رہی تھی۔ شاویز نے ایک نظر اسے دیکھا اور پاپا کے ساتھ نیچے کے کمرے میں چلا گیا جو پاپا نے اس کے لیے تیار کروایا تھا۔

اس کے کھانے پینے کا انتظام کمرے میں ہی کیا گیا تھا۔ دلاور صاحب اور عابدہ بیگم دونوں اس بات کا خاص خیال رکھ رہے تھے کہ اس کی آرام اور خدمت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔

اس رات دلاور صاحب کافی دیر تک اس کے پاس بیٹھے رہے۔ دونوں پیر دراز کئے ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔

“تمہاری آنکھیں بلکل زرتاج جیسی ہے۔۔۔۔۔” پاپا نے کافی دیر بعد اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

“اور ناک آپ جیسی۔۔۔۔ ھھھھ” شاویز کو ان کے نقوش دیکھتے ہوئے اپنی ماں کی بات یاد آگئی تھی وہ ہنس پڑا تھا۔

“ماں ہمیشہ کہتی تھی۔۔۔۔۔ میری ناک میرے پاپا جیسی ہے۔۔۔” اس نے اپنے ہنسنے کی تفصیل بتائی۔ دلاور صاحب نے ایک گہری نظر سر تا پیر اسے دیکھا انہیں شاویز اپنے جوانی کا عکس لگا۔

“چلو اب تم آرام کرو۔۔۔۔ اور یہ تمہارا بھی گھر ہے شاویز۔۔۔ کچھ بھی چاہیئے تھا۔۔۔۔ بے جھجک بول دینا۔۔۔” دلاور صاحب اسے پیار کرتے ہوئے اس کے پہلو سے اٹھ کر باہر چلے گئے۔

شاویز تکیہ درست کر کے لیٹ گیا۔ اتنے دنوں سے وہ بے ہوشی کے عالم میں بے خبر سوتا رہا تھا پر آج ہوش و حواس میں اسے سونے میں مشکل پیش ہورہی تھی۔ اس کا insomnia پھر سے اس پر حاوی ہوگیا تھا

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ایک ہفتے تک شاویز کی صائم اور سحر سے کوئی خاص ملاقات نہیں ہوئی۔ کبھی شاویز کمرے میں ہوتا۔ کبھی وہ دونوں۔ شاویز معمول زندگی میں لوٹنے لگا تھا۔ اس کی رنگت بحال ہونے لگی تھی۔ کندھے کا زخم کافی بہتر ہوگیا تھا۔ وہ پابندی سے پٹی تبدیل کرواتا رہا البتہ ہاتھ میں اب تک حرکت نہیں ہو سکی تھی۔

ایک رات ڈنڑ پر وہ ان کے ساتھ ٹیبل پر آکر بیٹھا۔

“کمرے میں اکیلے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔ سوچا سب کے ساتھ مل کر ڈنر کروں۔۔۔۔” شاویز نے کچھ ہچکچاتے ہوئے وضاحت دی۔

” بہت اچھا کیا۔۔۔۔ ” دلاور صاحب سے پہلے جواب عابدہ بیگم نے دیا اور اس کے ساتھ والی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی۔

سب اپنے اپنے کھانے میں مشغول ہوگئے۔ شاویز کا دائیاں ہاتھ بے حس تھا اور سب کے سامنے بائیں ہاتھ سے کھانے میں اسے ہچکچاہٹ محسوس ہورہی تھی۔ ابھی وہ سالن میں چمچ ہلا رہا تھا کہ عابدہ بیگم نے اس کی پریشانی محسوس کر لی اور اپنے ہاتھ سے نوالہ بنا کر شاویز کے آگے کیا۔

شاویز نے تعجب سے پہلے انہیں دیکھا پھر ان کے ہاتھ کو۔ یک دم شاویز کو اپنا بچپن یاد آیا جب وہ باورچی خانے کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھ کر اپنی ماں کے ہاتھ سے کھانا کھایا کرتا تھا۔ شاویز کے چہرے پر مایوسی چھانے لگی۔ اس کے آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے۔ عابدہ بیگم سے اپنے آنسو چھپانے وہ رخ پھیر گیا اور آنکھیں بند کر کے آنسو اپنے اندر اتارنے لگا۔

عابدہ بیگم کو لگا شاید شاویز ان کے ہاتھ سے کھانا نہیں چاہتا اس لیے اداسی سے دلاور صاحب کو دیکھتے ہوئے ہاتھ نیچے کرنے لگی۔ دلاور صاحب بھی افسردگی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔ ابھی عابدہ بیگم سر جھٹک کر نوالہ واپس پلیٹ میں رکھنے لگی تھی کہ شاویز نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور مسکراتے ہوئے اپنا منہ آگے کر کے ان کے ہاتھ سے نوالہ لے کر چبانے لگا۔

عابدہ بیگم خوشی سے چہک اٹھی۔ اور تیزی سے دوسرا نوالہ بنانے لگی۔ دلاور صاحب شاویز کے اس مہربانی سے محظوظ ہوتے ہوئے اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہوئے۔

صائم نے منہ بنائے ہوئے سحر کو دیکھا۔ اس کا دل بد مزہ ہوگیا تھا لیکن سب کا احترام کرتا ٹیبل پر بیٹھا رہا جب کہ سحر سے اور دیکھا نہیں گیا۔ وہ ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے اٹھی اور کھانا چھوڑ کر پیر پٹختی اپنے کمرے کے جانب بڑھ گئی۔ سب اس کے جانب متوجہ ہوگئے تھے۔

عابدہ بیگم نے تنے ہوئے اعصاب سے اسے روکنا چاہا لیکن دلاور صاحب نے کنکارتے ہوئے انہیں آنکھوں کے اشارے سے منع کر دیا۔ شاویز چھنپ سا گیا لیکن خاموشی سے کھانا جاری رکھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سحر دل گرفتگی سے بیڈ سے ٹیک لگائے فرش پر بیٹھی۔ گھٹنوں کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگنے لگی ۔ خود کو رونے سے روکنے وہ سر گھٹنوں میں چھپا کر تیز تیز سانس لینے لگی۔ اسے اپنے کمرے کا دروازہ کھلتا اور پھر کسی کا اپنے پاس آکر فرش پر بیٹھنا محسوس ہوا لیکن اس نے پھر بھی سر نہیں اٹھایا۔

“کیا ہوا میری princess۔۔۔۔ تمہیں ایسے کھانے کی بے حرمتی کرنا سیکھایا ہے کیا میں نے۔۔۔۔۔۔” پاپا نرمی سے گویا ہوئے۔ سحر نے کوئی ردعمل نہیں دکھایا۔

“شاویز کا غصہ کھانے پر کیوں اتارنا۔۔۔ہممم۔۔۔۔۔” انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

سحر نے سر اٹھایا تو اس کے رخسار بھیگے ہوئے تھے۔

“آئی ایم سوری پاپا۔۔۔۔۔ آپ نے اور مما نے بھلے ہی سب کچھ بھلا کر اسے معاف کر دیا ہو۔۔۔۔۔ اسے اپنا لیا ہو۔۔۔۔۔ لیکن میرے لیے اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔” سحر نے بھر آئی آواز میں کہا۔

“اس نے سب سے زیادہ مجھے پریشان کیا۔۔۔۔۔ مجھے ڈرایا دھمکایا۔۔۔۔ میں خوف کی وجہ سے رات کو سو نہیں پاتی تھی۔۔۔۔۔ دن میں اکیلے نکلنے سے ڈرتی تھی۔۔۔۔۔۔ میں اتنی جلدی شاویز کو معاف کر کے اس سے اپنا رشتہ ہموار نہیں کر سکتی۔۔۔۔” اس نے دبے دبے غصے میں پاپا پر اپنی دلی کیفیت ظاہر کی۔

دلاور صاحب نے با اعتماد اور مستحکم بھرے انداز میں اس کے گرد بازو مائل کیا۔

“میں سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔۔ اور کون کہہ رہا ہے اس سے فوراً سے رشتہ ہموار کرنے کا۔۔۔۔۔ کسی نے فورس کیا تمہیں۔۔۔۔۔ “دلاور صاحب نے معصومیت سے آنکھیں جھپکاتے ہوئے پوچھا۔ سحر نے نفی میں سر ہلایا۔

“تم اتنے دنوں سے شاویز سے بے رخی برت رہی ہو۔۔۔۔۔ ایک مرتبہ بھی تم نے اس کی عیادت تک نہیں کی۔۔۔۔۔ وہ موت کی منہ سے بچ کر آیا۔۔۔۔۔ تم نے اس کی خیریت تک دریافت نہیں کی۔۔۔۔۔ کیا شاویز نے کوئی ردعمل دکھایا۔۔۔۔۔” سوال اب بھی اسی انداز میں پوچھا گیا۔ سحر نے شرمسار ہوتے ہوئے پھر نفی میں سر ہلایا۔

“تو پھر۔۔۔۔۔ تمہیں جتنا وقت درکار ہے۔۔۔۔ تم لے لو۔۔۔۔میز پر ہاتھ مارو۔۔۔۔۔۔ کھانا چھوڑو یا چیزیں توڑو۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن سحر۔۔۔۔۔ شاویز اس گھر کا فرد ہے۔۔۔۔ وہ اب اس فیملی کا حصہ ہے۔۔۔۔۔ میں اس سے منہ نہیں پھیر سکتا۔۔۔۔۔ یہ حقیقت تم جتنی جلدی تسلیم کر لو گی۔۔۔۔۔ اتنا تمہارے لئے آسانی ہوگی۔۔۔۔” دلاور صاحب نے اس کا رخ اپنے جانب کیا اور اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکرائے۔

“والدین کے دل میں ہر اولاد کی اپنی جگہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔ کیا شاویز کے آنے سے میں نے تمہیں اور صائم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔۔۔۔۔ تم دونوں کے ساتھ میرا رویہ بدل گیا ہے۔۔۔۔” پاپا اب اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مہو گفتگو تھے۔ سحر نے پھر سے اداسی سے نفی میں سر ہلایا۔

“میرے دل میں تمہاری اپنی جگہ ہے۔۔۔۔ صائم کی اپنی۔۔۔۔ اور شاویز کی اپنی۔۔۔۔۔ نہ وہ تم دونوں کی جگہ لے سکتا ہے۔۔۔۔۔ نہ تم دونوں اس کی۔۔۔۔” دلاور صاحب نرمی سے اپنی بیٹی کو سمجھانے لگے تھے۔

سحر کو شرمندہ ہوتے دیکھ کر انہوں نے اپنا مزاج خوشگوار بنایا۔ اور شریر انداز میں آبرو اچکائے

“مما شاویز کو کھانا کھلا رہی تھی تو برا لگا۔۔۔۔۔ چلو میری شہزادی کو میں اپنے ہاتھ سے کھلاتا ہوں۔۔۔۔” وہ سحر کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانے لگے۔

“پاپا۔۔۔۔ میرا دل نہیں ہے۔۔۔۔” سحر نے بے زاری سے منع کیا۔

“سحر۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔” دلاور صاحب نے التجائی انداز میں کہا تو وہ ساتھ اٹھ کر نیچے آگئی۔

ڈاننگ ٹیبل پر بیٹھ کر دلاور صاحب نے ہاتھ میں نوالہ بنا کر سحر کے آگے کیا۔ سحر نے پاپا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اسے پاپا سے شرم آنے لگی۔

“کیا ہوا۔۔۔۔ میرے ہاتھ سے کھانے میں شرم آرہی ہے۔۔۔۔۔” پاپا اس کی جھجک جانچ گئے۔

“تمہیں پتا ہے۔۔۔۔ اممم ہممم۔۔۔۔ تمہیں کیسے پتا ہوگا۔۔۔۔ تم تو بہت چھوٹی تھی۔۔۔۔ دو سال کی تھی۔۔۔۔ عابدہ کو کسی فنڈ ریزنگ تقریب میں شامل ہونے دو راتوں کے لیے اسلام آباد جانا پڑا تھا۔۔۔۔ صائم ایک سال کا تھا اسے وہ ساتھ لے گئی۔۔۔۔ لیکن تمہیں میرے پاس چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔ تب وہ دو دن۔۔۔۔ میں نے تمہیں مما بن کر کھلایا پلایا۔۔۔۔ اپنے ساتھ سلایا۔۔۔۔پھر آفس لے گیا وہاں بھی تمہاری دیکھ بھال کی۔۔۔۔۔ اور اب دیکھو۔۔۔۔ میرے ہاتھ سے کھانے میں جھجک رہی ہے۔۔۔۔” دلاور صاحب منہ بناتے ہوئے جملہ مکمل کیا۔

سحر کا موڈ خوشگوار ہوگیا اس نے ہنستے ہوئے ان کے ہاتھ سے نوالہ کھایا۔

“یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے۔۔۔۔ لیکن تم ہمیشہ میرے لیے میری princess رہو گی۔۔۔۔” پاپا نے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا۔

“اور میں۔۔۔۔۔” انہیں اپنے پیچے صائم کی سپاٹ آواز سنائی دی۔

دلاور صاحب نے شرارتی انداز میں اسے دیکھا۔

“تمممم۔۔۔۔ میرے bat man ہو۔۔۔۔” پاپا نے اسے ساتھ بیٹھاتے ہوئے کہا۔ ایک نوالہ بنا کر انہوں نے صائم کو بھی کھلایا۔

“پاپا i love you۔۔۔۔” سحر نے بچپن کے جیسے انداز میں ان کے کمر کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے کہا۔

“اi love you too۔۔۔ “دلاور صاحب نے مسکرا کر کہا۔

“اینڈ i love you two۔۔۔۔۔ ” صائم نے ان دونوں کے گرد بازو پیھلائے اور تینوں کھلکھلا کر ہنسے۔

ان سے دور کچن کے در پر کھڑی عابدہ بیگم کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے۔ وہ جانتی تھی ان کے بچوں کو صرف ان کے پاپا ہی قائل کر سکتے ہیں۔ وہ سر جھٹکتے ہوئے آبدیدہ آنکھیں صاف کرنے لگی تھی کہ انہیں اپنے کندھے پر کسی کا لمس محسوس ہوا۔ شاویز ان کے دائیں جانب کھڑا ہوا اور اپنا بایاں ہاتھ ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سامنے اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔

“شاویز۔۔۔۔ تم سحر کو مائنڈ مت کرنا۔۔۔۔ وہ بہت حساس مزاج کی ہے۔۔۔۔ کسی سے جلدی گھلتی ملتی نہیں ہے۔۔۔۔” مما نے سحر کے رویئے کی وضاحت دی۔

“میں جانتا ہوں مما۔۔۔۔” شاویز نے با اعتماد لہجے میں کہا۔

“دیکھنا وہ جلد تمہارے ساتھ ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔۔ ایک بار اس کا دل کسی کے ساتھ لگ جائے پھر ہمیشہ اچھے تعلقات نبھاتی ہے۔۔۔۔۔ جیسے۔۔۔۔ جیسے عارفہ کے ساتھ۔۔۔۔” مما نے مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا۔

“ہمممم۔۔۔۔ جیسے جاوید کے ساتھ۔۔۔۔۔” شاویز نے کہتے ہوئے چمکتی آنکھوں سے مما کو دیکھا۔ وہ حیران ہوگئی تھی۔ شاویز کی تیز نظروں سے سحر کی جاوید کے جانب دلچسپی چپی نہیں رہی تھی۔

عابدہ بیگم نے آبرو اچکا کر سچ میں؛ کا اشارہ کیا۔ شاویز نے پورا مسکرا کر پلکیں جھپکاتے ہوئے سر کو خم دے کر تصدیق کر دی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆