Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bikhare Rishte (Episode 18)

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

دس دن ہسپتال میں اور ایک ہفتے تک گھر میں رہ کر شاویز کے کام کا بہت نقصان ہو چکا تھا۔ وہ اپنے فلیٹ سے ضروری اشیاء گھر لا کر جاب پر جانے کی تیاری کرنے لگا۔ حالانکہ پاپا نے اسے مزید کچھ دن ریسٹ کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانا۔

شاویز کا زخم کافی بہتر ہوگیا تھا۔ اس کے ہاتھ کو سپورٹ دینے والا بینڈ بھی اتار دیا تھا۔ اب وہ روز دائیں بازو اور ہاتھ کو فیزیوتھراپسٹ کے زیر نگرانی ورزش دیتا تاکہ جلد قابل حرکت ہو سکے۔

اب تک اس نے پاپا مما یا گھر پر کسی کو اپنے جاب کی نوعیت نہیں بتائی تھی بس اتنا کہا تھا سرکاری نوکری کرتا ہے۔

ان دنوں یونیورسٹی کے فائنل ٹرم کے امتحانات اپنے اختتام کو پہنچنے والے تھے۔

سحر اور عارفہ کا رول نمبر الگ الگ ہال میں لگا تھا۔ سحر اپنا پیپر جلدی ختم کر کے عارفہ کے ہال کے جانب چل رہی تھی جب راستے میں شہزاد اس سے آ ملا۔

“سحر۔۔۔۔ پیپر کیسا رہا۔۔۔۔” اس نے پہلے معمول کی بات کر کے گفتگو کا آغاز کیا۔

“اچھا رہا۔۔۔” سحر نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔

“سحر۔۔۔۔۔ اب تو ہم دوست سے تھوڑا آگے بڑھ سکتے ہیں نا۔۔۔۔” شہزاد نے اس کے آگے آکر اس کا راستہ روکا۔

“کیا مطلب۔۔۔۔ ” سحر کو اس کی بات عجیب سی لگی۔

“مطلب۔۔۔۔۔ یو نو۔۔۔۔ i like you alot۔۔۔۔ تو اب دوستی۔۔۔۔ پیار میں بدل دیتے ہیں۔۔۔۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بن جاتے ہیں۔۔۔”وہ ناپ تول کر کہتا اسے سمجھانے لگا۔

“شہزاد۔۔۔۔ تم جانتے ہو۔۔۔۔ مجھے یہ سب نہیں پسند۔۔۔۔ اور تم۔۔۔۔۔ میرے لیے ہمیشہ ایک کلاس میٹ۔۔۔۔ ایک یونیورسٹی فرینڈ رہے ہو۔۔۔۔ اس سے زیادہ نہیں۔۔۔۔” سحر نرمی سے معذرت کر کے دوسرے سمت جانے لگی تھی پر شہزاد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔

“سحر۔۔۔ دو سال سے کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔ تم ان سب سے آگے بڑھ کر بھی تو سوچوں۔۔۔۔ میں تمہیں بہت خوش رکھوں گا” شہزاد نے مظبوطی سے سحر کی کلائی پکڑے ہوئے کہا۔

“شہزاد کیا بد تمیزی ہے یہ۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔” سحر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ وہ تند و تیز آواز میں اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔

“پرابلم کیا ہے تمہیں مجھ سے۔۔۔۔ اتنا cool، good looking اور امیر تو ہوں۔۔۔۔ تم آخر لڑکے میں اور کیا دیکھتی ہو۔۔۔” شہزاد اسے اپنے خصوصیات گنوانے لگا۔

سحر نے مزید اس کے منہ لگنے کی بجائے اپنی قوت سے مزمت شروع کی تھی کہ اس نے شہزاد کے ہاتھ پر ایک مظبوط ہاتھ پڑتے دیکھا۔ اس نے رخ اوپر کر کے دیکھا تو شاویز اس کے ساتھ آکر کھڑا تھا اور شہزاد کے ہاتھ پر اپنے بائیں ہاتھ سے دباو دے رہا تھا۔

“ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔ ” شاویز نے سپاٹ تاثرات بنائے ہوئے کہا۔

“دیکھ شاویز تو بیچ میں مت آ۔۔۔۔ ضروری نہیں ہر لڑکی تجھ سے ہی سیٹ ہو۔۔۔۔۔ عارفہ کو پٹا لیا تھا نا۔۔۔۔ اب سحر کو میرے لیے چھوڑ۔۔۔۔ اس پر اپنے شرافت کا جادو ٹرائی مت کر۔۔۔۔۔ “شہزاد کے آبرو تن گئے۔

شاویز نے ایک نظر سحر کو دیکھا۔ وہ ضبط کرتے ہوئے نگاہیں چرا گئی۔ شاویز نے شہزاد کا ہاتھ چھوڑا اور اپنا ہاتھ پورا گما کر اسے زناٹے دار تھپڑ رسید کیا۔ سحر کے ہاتھ پر اس کی گرفت کمزور ہوگئی اور کراہتا ہوا لڑکھڑا کر وہ زمین بوس ہوگیا۔

سحر کا منہ کھل گیا۔ آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔ دل زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ ساکت کھڑی ہوگئی تھی۔

شاویز آگے کو جھکا اور شہزاد کا کالر دبوچ کر اسے کھڑا کیا۔

“بہن ہے یہ میری۔۔۔۔۔ آئی سمجھ۔۔۔۔۔۔سحر میری بہن ہے۔۔۔۔ آئیندہ اسے تنگ کیا۔۔۔۔۔ تو منہ توڑ کر رکھ دوں گا۔۔۔۔ ” شاویز نے اس کے منہ کے پاس دانت پر دانت جمائے ہوئے غراتے ہوئے کہا اور اسے دھکا دے کر دور کر دیا۔ پھر خود سحر کے آگے سے ہٹ کر اسے جانے کے لیے راستہ دیا۔

سحر پھٹی نظروں سے اسے دیکھتے آگے بڑھ گئی۔ جاتے جاتے بھی اس نے پلٹ کر شاویز کو دیکھا وہ اسی انداز میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کے نظروں سے گھبرا کر سحر واپس مڑی اور تیز تیز چلنے لگی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سحر عارفہ کے باہر آنے تک اس کے انتظار میں ہال کے سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔ اس کے ذہن میں بار بار شاویز کا کہا جملہ گردش کر رہا تھا۔

“انگلیاں گھیس گئی لکھ لکھ کر۔۔۔۔ اس لیے مجھے امتحانات نہیں پسند۔۔۔” عارفہ نے سحر کے ساتھ آکر بیٹھتے ہوئے کہا۔ سحر اپنے خیالوں سے نکل کر اس کے جانب متوجہ ہوئی۔

امتحان پر تبادلہ خیال کر کے عارفہ نے سحر کے موڈ کا خیال کرتے ہوئے شاویز کی عیادت کی۔

“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ پہلے سے بہت بہتر ہے۔۔۔۔۔ اب گھر سے نکلنے بھی لگا ہے۔۔۔۔ ہاتھ میں پھر سے حرکت کی امید بھی بن رہی ہے۔۔۔” سحر نے نارمل انداز میں صورت حال سے واقف کیا۔

“تم خوش ہوگی۔۔۔۔۔ وہ اب ہر وقت تمہارے پاس رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ خان انکل نے تم دونوں کا رشتہ اپنا لیا ہے۔۔۔۔۔ اسے گھر میں پناہ دی ہے۔۔۔۔” عارفہ نے کھوئے انداز میں کہا پر سحر کو اس کی باتوں سے شاک سا لگا۔

“کیا۔۔۔۔۔۔ ” سحر تعجبی انداز میں پورا اس کی طرف گھومی۔

“تم نے شاویز کا پروپوزل منظور کر لیا ہے نا۔۔۔۔۔ اس لیے تو تم لوگ اس کی اتنی خاطر داری میں لگے ہو۔۔۔” عارفہ کو بھی سحر کے ردعمل پر اتنا ہی شاک لگا۔

“دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا۔۔۔۔ کہاں سے کہاں جوڑ رہی ہو۔۔۔۔۔ سوتیلا ہی صحیح۔۔۔ پر شاویز میرا بھائی ہے۔۔۔۔ پاپا کی فرسٹ وائف کا بیٹا ہے۔۔۔۔ ” سحر منہ بھسورتے ہوئے اس پر غصہ ہونے لگی۔

عارفہ کی صدمے سے آنکھیں پھیل گئی۔

“کیا۔۔۔۔۔ خان انکل کی دو بیویاں ہے۔۔۔۔۔” اس نے بے یقینی سے سحر کو دیکھا۔

“ہے نہیں تھی۔۔۔۔۔ شاویز کی مما فوت ہوچکی ہے۔۔۔۔” سحر نے تاثرات نارمل کرتے ہوئے کہا اور اسے مختصراً سارا قصہ سنایا۔

عارفہ دم سادھے اسے سنے گئی۔ جب سحر خاموش ہوئی تو عارفہ کا چہرا کھل اٹھا۔

“مطلب شاویز ابھی بھی سنگل ہے۔۔۔۔۔ مطلب میرا چانس لگ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔” اس نے چہکتے ہوئے کہا۔ سحر نے بے زاری سے اسے دیکھا اور ہنہ کر کے سر جھٹکا۔

“میں اسے نہیں چھوڑو گی۔۔۔۔۔ جتنا اس نے مجھے پریشان کیا ہے۔۔۔۔۔ اب اتنا ہی میں بھی کروں گی۔۔۔۔۔ مسٹر شاویز۔۔۔۔ اب میں نے تمہاری نیند نہ اڑا دی تو دیکھنا۔۔۔۔” وہ پر عزم انداز میں فیصلہ کرتے ہوئے اٹھی اور روش پر چلنے لگی۔

“میں بھی تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔ اس نے مجھے بھی بہت رلایا ہے۔۔۔۔۔ اب مل کر سبق سیکھائے گے۔۔۔۔” عارفہ نے سحر کا ساتھ دیتے ہوئے کہا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

مزید ایک ماہ تک شاویز کا زخم بلکل ٹھیک ہوگیا تھا اور اب ہاتھ میں بھی ہلکی حرکت ہونے لگی تھی۔ دلاور صاحب اپنے بزنس میں جٹ گئے تھے۔ عابدہ بیگم اپنی معمول زندگی میں۔

سحر کی گریجویشن مکمل ہوگئی تھی۔ صائم کا سیکنڈ ائیر شروع ہوگیا تھا۔

ایک دن گھر کے لان میں ہی شام کو صائم فٹبال پریکٹس کر رہا تھا۔ شاویز آنکھوں پر گلاسس لگائے اسٹائل سے سفید کار سے اتر کر گھر کے اندر داخل ہوا۔

اس نے اپنی بلیک لینڈ کروزر کار ایجنسی کو واپس دے کر چھوٹی سفید کار لے لی تھی۔

وہ لاؤنج میں جانے لگا تھا جب اس نے صائم کو کھیلتے دیکھا۔ شاویز گلاسس اتار کر شرٹ میں رکھتا وہاں آیا اور مقابلہ کرنے کے انداز میں صائم کے ساتھ فٹبال کھیلنے لگا۔ صائم کو اس کی مداخلت اچھی تو نہیں لگی لیکن جس طریقہ کار سے وہ فٹبال کے کرتب دکھا رہا تھا صائم مسرور ہونے لگا۔ اسی طرح کرتے ہوئے شاویز نے دو گول مارے۔ صائم کے آبرو تن گئے اس نے زور داد شاٹ مارا تو فٹبال اچھلتے ہوئے شاویز کے پاس آئی۔ شاویز ہلکا جھک گیا اور فٹبال اس کے زخمی کندھے کے اوپر سے گزر گئی۔ صائم سہم گیا اور بھاگ کر اس کے پاس آیا۔

“سوری۔۔۔۔ لگی تو نہیں۔۔۔۔” اس نے شرمسار ہوتے ہوئے شاویز کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تصدیق کرنی چاہی۔

“نہیں بچ گیا۔۔۔۔۔۔ ” شاویز نے مسکراتے ہوئے کہا اور اب وہ اسے اپنے طریقے کار سے گول کرنا بتا رہا تھا اور صائم بھی پوری توجہ سے اس کے ٹپس دوہرا رہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ان دنوں مون سون کی بارشیں اپنے پورے تاب سے برس رہی تھی۔ شاویز مسجد میں مغرب کی نماز ادا کر کے تیزی سے پورا گیلا ہوئے گھر آیا اور اپنے شوز لاؤنج کے دورازے کے پاس اتارے تاکہ کیچڑ لگے جوتوں سے لاؤنج کا فرش خراب نہ ہو۔ وہ اپنے بیڈروم میں جا کر بال سکھا کر کپڑے تبدیل کر کے باہر آیا تو شوز باہر روش پر بارش میں پڑے تھے۔ اس کے پسندیدہ سپورٹس شوز خراب ہوگئے تھے۔ شاویز کو غصہ آنے لگا۔

“ااوووپپپسسس۔۔۔۔۔ کیا ہوا big brother۔۔۔۔۔ جوتے خراب ہوگئے۔۔۔۔۔” سحر اس کے پاس جتانے والے انداز میں طنزیہ ہنستی ہوئی گزر گئی۔ شاویز سمجھ گیا یہ کس کی حرکت ہے۔ بنا کچھ کہے وہ ضبط کر کے اندر چلا گیا۔

اسی طرح اکثر اوقات عارفہ بھی ان کے گھر آئی ہوئی ہوتی تھی۔ سحر کبھی شاویز کی الماری بکھیر دیتی۔ کبھی اس کے فائلز چھپا دیتی۔ کبھی عین نہاتے ہوئے وہ پانی کا کنکشن بند کر دیتی۔ اسی طرح وہ اور عارفہ الگ الگ طریقوں سے اسے تنگ کرنے لگی۔

شاویز نے کسی ٹارچر کا کوئی نیمل بدل نہیں دکھایا۔ سحر اور عارفہ کی شرارتوں سے اسے اکیڈمی کے دن یاد آجاتے اور سب سے بڑا شیطان کبیر یاد آجاتا اور وہ عارفہ اور سحر کی شرارتیں برداشت کر لیتا۔ ان کے بر عکس صائم سے شاویز کا کسی حد تک تعلق سنور گیا تھا۔ اس چیز سے بھی سحر کو تپ چڑھنے لگی تھی۔ پہلے پاپا پھر مما اور اب صائم اپنے قریبی رفقاء کو شاویز کا ہوتے دیکھ کر وہ تپ گئی۔ اور ہر دن شاویز کو تنگ کرنے کی الگ الگ پلاننگ کرنے لگی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

تین ماہ بعد شاویز کا ہاتھ حرکت میں آگیا تھا۔ وہ کم از کم پانی کا گلاس اٹھانے کے قابل ہوگیا تھا۔ ڈاکٹر اس کے حوصلہ مندی پر کافی خوش اور مطمئن ہوگیا تھا۔

اس دن ڈاکٹر کو چیک اپ کروانے کے بعد وہ اور دلاور صاحب زرتاج کی قبر پر آئے۔ دونوں باپ بیٹے نے اس کے لیے دعائیں مغفرت کی۔ اور کچھ دیر وہی بیٹھے رہے۔

پاپا کو دیکھتے دیکھتے اچانک شاویز اداس ہوگیا۔

“میں نے آپ کا بہت بڑا نقصان کرا دیا پاپا۔۔۔۔۔ وہ کمپنی۔۔۔۔ آپ کی پوری زندگی کا خواب تھی۔۔۔۔” شاویز نے شرمسار ہوتے ہوئے سر جھکا دیا۔

“تمہیں پتا ہے۔۔۔۔ سب سے امیر انسان کون ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے تسکین سے مسکراتے ہوئے کہا۔

“سب سے بڑی دولت ایک آدمی کے لیے اس کی فیملی ہوتی ہے۔۔۔۔ سب سے امیر انسان وہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ جس کے آج کل کے دور میں بھی اہل و صالح اور نیک اولاد ہوتی ہے۔۔۔۔۔” انہوں نے شاویز کا بازو تھام کر اس کا رخ اپنے جانب کیا۔

“میں اس وقت خود کو سب سے کامیاب آدمی تصور کرتا ہوں۔۔۔ کیونکہ۔۔۔۔۔ سحر اور صائم کی تو میں نے اور عابدہ نے پرورش کی ہے۔۔۔۔۔ لیکن تمہیں زرتاج بہت بچپن میں چھوڑ گئی۔۔۔۔ اور تب میں بھی نہیں تھا تمہارے پاس۔۔۔۔۔ پھر بھی تم بہت سلجھے ہوئے نیک لڑکے ہو۔۔۔۔ یہ میرے کسی نیک اعمال کا بل واسطہ حاصل ہی ہے میرے لیے۔۔۔۔” پاپا بہت شفقت اور نرمی سے اسے سمجھا رہے تھے۔ شاویز نے معصومیت سے ان کو دیکھا اور ان کے گلے لگ گیا۔

“پیسہ اور کمپنیاں آنی جانی چیز ہے۔۔۔۔۔۔ زندگی رہی تو انشاءاللہ دوبارہ بنا لوں گا۔۔۔۔۔ میں نہیں بنا سکا تو میرے بچے بنا دینگے۔۔۔۔۔۔ تم وہ سب لے کر اداس مت ہو۔۔۔” پاپا نے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے کہا۔ شاویز نے مشکور ہوتے ہوئے سر اثابت میں ہلایا اور دونوں اٹھ کر گھر کے لیے روانہ ہوگئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اللہ کے فضل سے شاویز کا مائگرین آج کل بہت کم ہوگیا تھا۔ اب چونکہ اسے کوئی ٹینشن نہیں تھی۔ کسی سے بدلہ لینے کا جنون نہیں تھا۔ کسی کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ نہیں تھا۔ تو مائگرین بھی ختم ہونے کو تھا۔ جبکہ انسومنیا ابھی بھی بر قرار تھا۔

ایک دن وہ رات بھر جاگے رہنے سے بہت تھکن محسوس کر رہا تھا۔ چونکہ اتوار کا دن تھا تو اسے جاب پر بھی نہیں جانا تھا۔ وہ دیر سے کمرے سے باہر آیا۔

اس نے ناشتے کے بعد لنچ نہیں کیا اور کافی بنانے کچن میں چلا گیا۔ کافی بناتے ہوئے اس کا موبائل بجنے لگا وہ کال موصول کرنے روم میں چلا گیا۔ اسی اثناء سحر چپ کر کچن میں آئی اور شاویز کی کافی میں چمچ بھر کر نمک ڈال دیا۔ عارفہ دروازے پر کھڑی ہو کر فون کان سے لگائے شاویز کی ہیلو ہیلو سنتے ہوئے سحر کو جلدی ہاتھ چلانے کا اشارہ کرتی رہی۔

جب شاویز واپس روم سے باہر آیا تو عارفہ اور سحر صوفے پر خاموش بیٹھی تھی۔ شاویز کو کچھ کھٹک محسوس ہوئی۔ وہ پر سوچ انداز میں کچن سے اپنا مگ اٹھا کر باہر آیا اور چلتے چلتے کافی کا گھونٹ لیا تو اس کا منہ بد ذائقہ ہوگیا اس نے فوراً سے تھوک دیا اور کھانسنے لگا۔

دوسری جانب سحر کا زور دار قہقہہ بلند ہوا۔ شاویز نے سپاٹ انداز میں مڑ کر دیکھا تو سحر عوض آبرو اچکا کر ہنسے جا رہی تھی جبکہ عارفہ شرما گئی۔ اسے سحر کا ساتھ دینے پر افسوس ہوا۔ اس نے لب مینچھے پلکیں جھپکا کر سوری کا اشارہ کیا لیکن شاویز نظرانداز کر کے بے زاری سے الٹے قدم کچن میں چلا گیا۔

شام کے وقت سحر کو خوش دیکھ کر صائم اس کے پاس آیا اور وجہ پوچھی۔ سحر نے کھلکھلاتے ہوئے اسے سب بتایا۔ عارفہ تب تک اپنے گھر واپس جا چکی تھی۔

“کتنی بری بات ہے سحر۔۔۔۔ اب بس بھی کرو۔۔۔۔۔ کتنا تنگ کرو گی اسے۔۔۔۔۔۔ ایسا بھی کیا بگاڑا ہے اس نے۔۔۔۔۔ کبھی اس کی جگہ بھی ہو کر سوچو۔۔۔۔۔ کتنا پریشان ہوتا ہوگا وہ تمہاری ان حرکتوں سے۔۔۔۔ ” صائم نے برا مناتے ہوئے کہا۔

سحر اس کے شاویز کی حمایت کرنے پر تپ گئی۔ وہ اسے سنانے لگی تھی لیکن تب ہی پاپا اور مما کسی بزنس لنچ سے لوٹے۔ ان کو لاونج میں داخل ہوتے دیکھ کر سحر خاموشی اختیار کئے ہوئے اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

صائم اسائنمنٹ کا کچھ پوچھنے شاویز کے کمرے میں آیا تو وہ آہستہ آہستہ پیکنگ کرنے لگا تھا۔

“کہی جا رہے ہو شاویز۔۔۔۔” صائم نے ہلکے آواز میں پوچھا۔

شاویز اپنے کپڑے بیگ میں رکھتے ہوئے مسکرایا۔

“بہت تنگ ہو نا تم لوگ مجھ سے۔۔۔۔۔ سوچا۔۔۔۔۔ مزید تنگ نہ کروں۔۔۔” شاویز نے شرارتی انداز میں کہا۔

صائم کو سحر پر غصہ آنے لگا۔ اسی کے تنگ کرنے سے شاویز جا رہا تھا۔

“شاویز۔۔۔۔۔ سحر کی طرف سے میں معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔ اس کی بچگانی حرکتوں پر مجھے خود افسوس ہورہا ہے۔۔۔۔” صائم نے بے بسی سے سر جھٹکا۔

“تمہیں معذرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اسے جو کرنا تھا کر لیا۔۔۔۔۔ وہ یہی تو چاہتی تھی۔۔۔۔کہ میں تنگ ہو کر چلا جاوں۔۔۔۔” شاویز نے سپاٹ انداز میں اپنا بیگ بند کیا اور صائم کے سامنے آیا۔

“اDon’t worry۔۔۔۔۔ تمہارا اسائنمنٹ کروا کر جاوں گا۔۔۔۔ لاو بتاو۔۔۔۔۔ کیا سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔” شاویز نے اس کے ہاتھ سے بک پکڑا۔ صائم کا موڈ بگڑ گیا تھا۔ اس نے بے دلی سے جلدی جلدی اسائنمنٹ پورا کیا اور تیزی سے سحر کو آکر شاویز کے جانے سے اطلاع دی۔

“اتنی آسانی سے کیسے جا سکتا ہے۔۔۔۔” سحر سوچ میں پڑ گئی تھی۔

“اب جا کر اس سے سوری کرو۔۔۔۔ اسے گھر چھوڑ کر جانے سے روکو۔۔۔۔۔ نہیں تو پاپا اور مما دونوں ناراض ہوجائے گے۔۔۔۔” صائم نے سپاٹ انداز میں کہا۔

” اس کے علاوہ بھی اسے روکنے کا میرے پاس طریقہ ہے۔۔۔۔۔” سحر نے سوچتے ہوئے موبائل اٹھایا اور عارفہ کو کال کر کے اسے والدین سمیت اپنے گھر بلایا۔ عارفہ کے ابو جی اسلام آباد میں بر حال نوکری تھے اور چونکہ ان دنوں عارفہ کے ابو جی کراچی رہنے آئے ہوئے تھے تو سحر کو یہ موقع مناسب لگا تھا انہیں شاویز سے ملوانے کا۔

کال پر بات کر کے سحر کچن میں آئی اور مما کو عارفہ اور اس کی فیملی کی آنے کی اطلاع دی۔ ساتھ ہی اس نے پاپا کے سٹڈی روم جا کر انہیں بھی خبر دی اور ان کے آنے کی وجہ بھی بتائی۔

مما پاپا سے بات کر کے سحر پورچ میں آئی تو ٹھٹک گئی شاویز کی کار نہیں تھی۔ کہی وہ چلا تو نہیں گیا؛ سوچتے ہوئے سحر کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ تیزی سے اس کے کمرے میں آکر جھانکنے لگی۔ اس کا بیگ ابھی بھی پڑا تھا۔ سحر نے دل پر ہاتھ رکھ کر سکون کا سانس لیا۔ چلو بیگ یہی ہے۔ آجائے گا واپس؛ سوچتے ہوئے وہ باقی کی پلاننگ سر انجام دینے بڑھ گئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز کافی دنوں بعد اپنے فلیٹ آیا تھا۔ اپنے کپڑے وغیرہ تو وہ پہلے لیں گیا تھا۔ پر سیف میں رکھی ماں کی تصاویر اور کچھ دفتری دستاویزات آج اٹھانے آیا تھا۔ جس مقصد کے لئے اس نے فلیٹ کی چابیاں لی تھی۔ وہ پورا ہوگیا تھا۔ اب چابیاں واپس کرنے کا وقت تھا۔ اپنی بقایہ چیزیں سمیٹ کر وہ ورکنگ ایریا میں آیا۔ نوٹس بورڈ پر باقی تصاویر اس نے پہلے ہٹا دی تھی صرف پاپا کی رہنے دی تھی۔ کچھ دیر خاموشی سے کھڑا وہ ان لمحوں کو یاد کرتا رہا اور پھر سر جھٹک کر وہ تصویر بھی اتار دی اور اپنے ہینڈ بیگ میں ڈال دی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جس وقت شاویز گھر آیا تو لاؤنج میں عارفہ اور اس کے والدین بیٹھے تھے۔ پاپا او مما مسکرا کر ان سے مہو گفتگو تھے جب کہ سحر معنی خیز نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ شاویز کو کچھ برا ہونے کا اندیشہ ہونے لگا اس نے آبرو اچکا کر سب سے پیچے کھڑے صائم کو دیکھا لیکن اس نے موجودہ صورت حال سے نا واقف ہونے کا اشارہ کیا۔ شاویز نے اپنا بیگ وہی رکھا اور تاثرات نارمل کرتے ہوئے اصغر صاحب اور ان کی بیگم سے ملا انہیں گرم جوشی سے سلام کیا۔ ان سے حال احوال دریافت کر کے وہ پاپا کے ساتھ صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔

“ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔ کہ تم سحر اور عارفہ کے کلاس میں تھے۔۔۔۔۔ اور تمہاری عارفہ سے اچھی دوستی تھی۔۔۔۔۔” مسکراتے ہوئے دلاور صاحب نے شاویز کا کندھا تھپتھپایا۔

شاویز کے تاثرات بدل گئے۔ اس نے سنجیدہ انداز میں سحر اور عارفہ کو دیکھا۔ عارفہ بھی چھنپ سی گئی۔ جبکہ سحر سپاٹ تاثرات بنائے ہوئے تھی۔

“تو پھر ان کی۔۔۔۔ اور آپ دونوں کی دوستی کو۔۔۔۔ رشتہ داری میں بدل دیتے ہیں۔۔۔۔۔ ” سحر نے اعلانیہ صورت میں اٹھ کر پہلے دلاور صاحب کو پھر اصغر صاحب کو دیکھ کر کہا۔

عارفہ شاک سی ہوگئی اس نے گڑبڑا کر تیزی سے شاویز کو دیکھا۔ اس کا چہرا بے تاثر تھا لیکن آنکھوں میں سختی در آئی تھی۔

“انکل۔۔۔۔ آپ کو شاویز کیسا لگا۔۔۔۔” سحر نے خوش دلی سے اصغر صاحب سے پوچھا۔

“بہت اچھا ہے۔۔۔۔ اس کے بارے میں تو میں دلاور صاحب سے پہلے بھی کئی دفعہ سن چکا ہوں۔۔۔۔۔” اصغر صاحب نے خوش مزاجی سے جواب دیا۔

“مطلب آپ کو اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔” سحر کے پر امید انداز پر اصغر صاحب نے اپنی بیگم کو دیکھا اور ان کا اشارہ سمجھ کر نہیں کوئی اعتراض نہیں ہے؛ کا جواب دیا۔

دلاور صاحب نے خوشی سے شاویز کو دیکھا لیکن اس کے سپاٹ تاثرات دیکھ کر ان کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔

“شاویز تم اس رشتے سے خوش نہیں ہو۔۔۔۔” انہوں نے نرمی سے اپنے بیٹے کی رضامندی چاہی۔

وہی دوسری جانب عارفہ سحر کو اپنے ساتھ ایک کونے میں لے گئی۔

“یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔ سحر۔۔۔۔۔ رشتے کی پلاننگ کب ہوئی تھی۔۔۔۔۔” عارفہ نے متفکر انداز میں پوچھا۔

“کیوں۔۔۔۔۔ تمہیں شاویز نہیں پسند۔۔۔۔۔ تم اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔” سحر نے حیرت بھرے خفگی سے کہا۔

“پسند ہے۔۔۔۔ شادی بھی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔ لیکن ایسے زبردستی کر کے نہیں۔۔۔۔۔ اس کی اپنی مرضی سے۔۔۔۔” عارفہ نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

“تمہیں لگتا ہے۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ کوئی زبردستی کر سکتا ہے۔۔۔۔” سحر نے ہاتھ اوپر نیچے کر کے شاویز کے لمبے چوڑے سراپے کی مثال دی۔

عارفہ مزید بحث کرنا چاہتی تھی لیکن تب ہی اس نے شاویز کا جواب سنا اور اس کی اپنی بات حلق میں ہی رہ گئی۔

“مجھے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہے پاپا۔۔۔۔۔ میں خوش ہوں۔۔۔۔۔” شاویز نے پاپا کی خوشی کا احساس کرتے ہوئے رشتے کے لیے ہامی بھر دی۔ سب خوشی سے چہک اٹھے۔

عابدہ بیگم سب کا منہ میٹھا کرانے کے لیے کچن سے میٹھائی لینے چلی گئی۔ دلاور صاحب اور اصغر صاحب نے ایک دوسرے کو آغوش میں بھر لیا اور مبارکباد کا تبادلہ کیا۔ پھر اصغر صاحب آگے آکر شاویز کو دعائیں دینے لگے اور وہی دلاور صاحب نے عارفہ کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے ویلکم ٹو دی فیملی کہا اور دعائیں دیں۔

“تیری خواہش پوری کرنے کے لیے۔۔۔۔ مجھے تھینکس بعد میں کہہ دینا۔۔۔۔ “سحر نے شرماتی ہوئی عارفہ کی کھا جانے والی نظر خود پر محسوس کی تو مسرور ہوتے ہوئے عارفہ کو چھیڑنے لگی۔

سب کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سحر شاویز کے پاس آئی۔

“ویسے مجھے اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔ تم اتنی جلدی مان جاو گے big brother۔۔۔۔ ” سحر نے سامنے دیکھتے ہوئے ہلکے آواز میں کہا۔

“مجھے پتا تھا۔۔۔۔ میرے جانے کا سن کر۔۔۔۔ تمہاری آخری چال یہی ہوگی۔۔۔۔ اس لیے میں پہلے ہی مینٹلی تیار ہو کر آیا تھا۔۔۔” شاویز نے جتانے والے انداز میں آبرو اچکا کر مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔

“ویل۔۔۔۔۔ میرا کام تو ہوگیا۔۔۔۔۔ اب تم کہی بچ کر نہیں جا سکتے۔۔۔۔۔ ” سحر نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

“تھوڑا صبر رکھو little sister۔۔۔۔ ابھی میری باری رہتی ہے۔۔۔۔۔ ” شاویز نے شریر انداز میں کہا۔ اس کی آنکھیں مسلسل دلاور صاحب پر مرکوز تھی جو اپنے بڑے بیٹے کا رشتہ ہوجانے پر بہت خوش نظر آرہے تھے۔

پاپا کی خوشی کے لیے تو اس کی جان بھی حاضر تھی شادی کرنا کونسا مشکل تھا؛ سوچ کر شاویز نے یہ رشتہ قبول کر لیا تھا۔ وہ ایک مرتبہ پہلے ہی عارفہ کا دل توڑ چکا تھا اب دوبارہ نا امید نہیں کرنا چاہتا تھا؛ سوچتے ہوئے وہ محظوظ ہوتے ہوئے عارفہ کو دیکھ رہا تھا جو مما کے ساتھ کھلتی ہوئی مہو گفتگو تھی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

خوشی کے موقعے پر عارفہ اور اس کے والدین رات کے کھانے تک وہی رکے رہیں۔ اس دوران دبئی میں مقیم عارفہ کے بڑے بھائی نے ویڈیو کال کر کے شاویز سمیت سب سے بات کی۔ سب کو مبارکباد پیش کی۔

کھانے کے بعد شاویز اپنے کمرے میں گیا۔ ایک بیگ کندھے پر ڈالا اور دوسرا ہینڈل سے پکڑ کر چلاتے ہوئے لاؤنج میں آیا تو سب حیران ہوگئے۔

“شاویز۔۔۔۔۔ مجھے صبح سحر نے تمہارے جانے کا بتایا تو مجھے یقین نہیں آیا۔۔۔۔۔ تبھی تو تمہیں اپنے پاس روکنے ہم نے تمہاری شادی کروانے کا سوچا۔۔۔۔۔ لیکن تم پھر بھی جا رہے ہو۔۔۔۔” دلاور صاحب مضطرب ہو کر اس کے پاس آئے اور اس کا بازو تھام کر کہا۔

وہ دونوں باقیوں سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے لیکن لاؤنج میں موجود سب ہی کی نظریں ان دونوں پر مرکوز تھی۔ طاہرہ بیگم نے فکرمندی سے اصغر صاحب کا ہاتھ جھنجوڑا۔ انہوں نے صبر کرنے کی تلقین کی۔

سحر اور عارفہ کے مابین پریشان کن نظروں کا تبادلہ ہوا۔

شاویز نے مستحکم بھرے انداز میں پاپا کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

“میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جارہا۔۔۔۔ جا ہی نہیں سکتا پاپا۔۔۔۔۔۔۔ بس ایک وعدہ پورا کرنے جا رہا ہوں۔۔۔۔” شاویز نے انہیں تسلی کرتے ہوئے کہا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆