Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

ان دنوں ہوٹل میں کافی رش لگا رہتا۔ ٹھنڈے علاقہ جات سے لوگ سیر و تفریح کرنے کراچی کے خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہونے آیا کرتے تھے۔

سیاحوں کی بڑھتی تعداد کے چلتے جیب کترے اور لوٹیرے بھی سیاحتی جگہوں کا رخ کیا کرتے۔

وہ حسب معمول ہوٹل میں اپنا کام کر رہا تھا کہ ایک ٹین ایج جیب کترے نے ایک صاحب کا بٹوہ اچک لیا۔ اس سے پہلے کہ ان صاحب کو خبر ہوتی وہ تیز رفتار سے بھاگنے لگا۔ وہ صاحب اٹھ کر اس لڑکے کے پیچے جانے لگے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک 14 سالہ لڑکے نے اسے لپک لیا اور پھرتی سے اس کا ہاتھ مڑوڑ کر بٹوہ اس کے ہاتھ میں سے چھین لیا۔ وہ صاحب اپنی جگہ کھڑے اس بچے کی دلیری دیکھتے رہے۔ ان کے باقی دو ساتھی بھی ساتھ میں کھڑے ہوگئے تھے۔

شاویز نے بٹوہ سمیت اس لڑکے کو بھی کھینچ کر ان صاحب کے رو بہ رو کھڑا کیا۔

وہ 35 سے 37 سالہ لمبا چوڑا توانا مرد آبرو اٹھائے ہوئے اس بچے کو دیکھ رہے تھے جو اس سرد ہواوں میں جہاں بڑے بڑوں نے گرم کپڑے زیب تن کئے تھے؛ صرف ایک ہلکے قمیض میں ملبوس تھا۔

اس بچے کے ہاتھ سے بٹوہ لے کر انہوں نے سو روپے کا نوٹ نکال کر جیب کترے کو دیا اور تند آواز میں دفع ہوجانے کا کہا۔ وہ جان بچاتے گھبراتے ہوئے تیزی سے وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔

شاویز ان صاحب کے با رعب آنکھوں میں اپنے مقناطیسی کشش کی آنکھیں ڈالے دیکھ رہا تھا۔ صادق صاحب واپس چارپائی پر بیٹھے ان کے ساتھ ساتھ باقی ساتھی بھی تشریف فرما ہوگئے۔ صادق صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے شاویز کو قریب بلایا۔ وہ قریب گیا تو انہوں نے اس کی ایمانداری پر انعام دینے کے لیے کچھ رقم آگے کئے جو شاویز نے لینے سے منع کر دیا۔

“نہیں سر۔۔۔ میں کسی کی مدد کرنے کے پیسے نہیں لیتا۔۔۔” 14 سالہ شاویز نے با اعتماد لہجے میں کہا۔

“بہت ایمان دار ہو۔۔۔۔ کیا کرتے ہو۔۔۔” صادق صاحب نے اس سے متاثر ہو کر کہا۔

“یہاں ملازمت کرتا ہوں۔۔۔” جواب اب بھی اسی دلیری سے آیا تھا۔ حلال کمانے میں شرم کیسی پھر چاہے وہ مزدوری کا کام ہی کیوں نہ ہو۔

“پڑھتے ہو۔۔۔” ایک اور ساتھی نہیں سوال کیا۔

“جی سر 9th کلاس میں ہوں۔۔” باری باری ان پر نظر گردانی کرتے ہوئے ان کے سوالوں کے جوابات دیں رہا تھا۔

“عمر کیا ہے تمہاری۔۔۔” صادق صاحب نے مستحکم لہجے میں پوچھا۔

شاویز کو ان تینوں میں صرف وہی سنجیدہ مزاج اور اچھے انسان لگے۔ موچھے شان سے تانی ہوئی؛ لبوں پر مدھم مسکراہٹ بنائے؛ آنکھوں میں ہمدردی اور شفقت لیئے۔

“14 سال۔۔۔” عمر بتاتے ہی صادق صاحب کے علاوہ باقی دونوں ساتھی قہقہہ لگا کر ہنسے۔

“14 سال کی عمر میں 9 کلاس میں۔۔۔۔۔ کیا پیدا ہوتے ہی اسکول جانا شروع کر دیا تھا تھا۔” ہس و مزاح کا انداز لئے ایک ساتھی نے طنزیہ کہا تو وہ چھنپ سا گیا۔ صادق صاحب نے تنے آبرو سے اسے گھورا تو وہ خاموش ہو کر رخ موڑ گیا۔

“کہاں رہتے ہو۔۔۔۔” اب صرف صادق صاحب ہی اس سے مہو گفتگو تھے باقی دونوں اپنے کھانے پینے میں مشغول ہوگئے۔

“یتیم خانے میں۔۔۔” اس نے نرمی سے مسکرا کر جواب دیا۔

“آگے کا سوچا ہے۔۔۔۔ کیا بننا چاہتے ہو۔۔۔۔” اس کے یتیم ہونے کا جان کر صادق صاحب کو اس سے بہت ہمدردی ہوئی۔

“شاہ سوار بننا چاہتا ہوں۔۔۔ بہت بڑا آدمی بننا چاہتا ہوں۔۔۔” شاویز نے معصومیت سے کہا۔

اس کے زبان سے یہ الفاظ سن کر ؛ اس کی اتنی بڑی خواہشات جان کر باقی دونوں ساتھی پھر سے اس کی جانب متوجہ ہوئے۔

“تم جانتے بھی ہو۔۔۔۔ شاہ سوار کون ہوتے ہیں۔۔۔” صادق صاحب نے اس کی معصومیت پر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

“ہاں۔۔۔۔۔ وہ بہت مظبوط اور طاقتور ہوتے ہیں۔۔۔۔ وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔۔۔۔ ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔ جنگجو ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ حق کے لیے لڑتے ہیں۔۔۔۔ برائی کو روکتے ہیں۔۔۔۔” اس نے جوش و خروش سے بلند لہجے میں کہا۔

صادق صاحب اور ان کے ساتھیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔

” کس نے سیکھائی ہے یہ باتیں۔۔۔۔” اس کی ذہانت پر صادق صاحب کافی متعجب ہوگئے تھے۔

“میری ماں نے۔۔۔۔” شاویزنے مسکرا کر دیکھا۔

“پر ابھی تو تم نے کہا۔۔۔۔ تم یتیم خانے میں رہتے ہو۔۔۔” انہوں نے قدرے تیز لہجے میں اس کی غلط بیانی کو ٹوکا۔

“میری ماں پانچ سال پہلے فوت ہوئی ہے۔۔۔۔ اس سے پہلے میں ان کے ساتھ رہتا تھا۔ ” اس کے آبرو تن گئے تھے لیکن ان کی غلط فہمی کو نرمی سے دور کیا۔

صادق صاحب کے تنے آبرو ڈھیلے پڑ گئے۔

“ہمممم۔۔۔۔ چلو۔۔۔۔ محنت کرو۔۔۔۔۔ انشاءاللہ ایک دن اپنی منزل کو پہنچ جاو گے۔” انہوں نے اس بچے سے مزید مباحثہ نہ کرنے کی نیت سے گفتگو ختم کرتے ہوئے کہا اور رخ پھیر کر چائے پینے لگے جو اس سے باتوں کے چکر میں ٹھنڈی ہوگئی تھی۔

شاویز بھی ہوٹل کے اندر آکر اپنے کام میں جٹ گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

چائے اور پراٹھے ختم کرنے کے بعد صادق صاحب اٹھے اور ہوٹل کے اندر آکر نظر گردانی کی۔

“یہاں ہاتھ دھونے کے لیے جگہ ہے۔” انہوں نے بلند آواز میں کہا تو شاویز بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا اور انہیں ہوٹل کے بائیں دیوار کے ساتھ بنی سِنک کے پاس لے آیا۔ انہیں ایک منٹ کا کہتا وہ واپس کچن کے اندر بھاگا اور جگ میں گرم پانی لے آیا۔ اس کا انتظار کرنے کے بجائے صادق صاحب واپس مڑے اور فریزر سے ٹھنڈے پانی کا بوتل نکالا۔

“میں گرم پانی لے آیا۔۔۔۔۔ وہ تو فریج کی بوتل ہے۔۔۔” اس نے اپنے ہاتھوں میں پکڑا جگ ان کے آگے کیا لیکن اس سے پہلے ہی صادق صاحب ٹھنڈے پانی سے ہاتھ منہ دھونے لگ گئے تھے۔

“فوجی ٹھنڈا پانی استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔ اس سے ان کی چمڑی سخت رہتی ہے۔۔۔۔” وہ منہ اور ہاتھوں سے پانی جھاڑتے ہوئے اب سامنے لگے ٹوٹے آئینہ میں اپنے بالوں کو انگلیوں سے سنوار رہے تھے۔

شاویز کی تو آنکھیں چمک اٹھی تھی۔ اس نے فوجیوں کے بارے میں کتابوں میں تو پڑھ رکھا تھا لیکن کبھی کسی فوجی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔

“آپ فوجی ہے۔۔۔۔۔ بارڈر پر جنگ لڑتے ہے۔۔۔۔۔” اس نے چہکتے ہوئے کہا۔ گہری آنکھیں بڑی کر کے وہ مسلسل صادق صاحب کا سراپا دیکھ رہا تھا۔ ان کا قد کاٹ چوڑا سینہ اور مظبوط بازو دیکھ کر اسے تصدیق بھی ہوگئی کہ ایسا سراپا کسی فوجی کا ہی ہو سکتا ہے۔

“صرف بارڈر پر جنگ لڑنے والے کو فوجی نہیں کہتے۔۔۔۔۔ فوجیوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ میں بیس( base ) کے اندر والا فوجی ہوں۔۔۔۔۔ نئے جوانوں کو ٹریننگ سکھاتا ہوں۔۔۔” انہوں نے استحزیہ مسکرا کر کہا۔

وہ اب واپس ہوٹل سے نکل رہے تھے۔ شاویز ان کی رفتار سے قدم ملانے بھاگنے لگا۔

“کسی ٹریننگ۔۔۔۔” اس نے تیز سانس لیتے ہوئے پوچھا۔ اچانک ہی اسے فوجی ٹریننگ کے بارے میں جاننے کا تجسس ہوا۔

صادق صاحب نے اس کی معصوم فرمائش پر کچھ تفصیلات بتانی شروع کی۔

“لڑنے کے طریقے۔۔۔۔۔ مشکل حالات میں رہنے طریقے۔۔۔۔۔ کوئی حملہ کر دے تو اپنا دفاع کرنے کے طریقے۔۔۔۔۔۔ وطن کی حفاظت اور عوام کی حفاظت کے طریقے۔۔۔۔۔ دشمن کو مار گرانے کے طریقے۔۔۔۔۔ اور بھی بہت کچھ۔۔۔۔۔ ایک طرح کے شاہ سوار ہی ہوتے ہیں فوجی۔۔۔۔۔ ” وہ چلتے چلتے اسے بتاتے گئے۔ ان کے دوست گاڑی میں بیٹھے ان کے منتظر تھے۔

شاویز چلتے چلتے رک گیا۔ اس کے اندر بہت سے جذبات اٹھنے لگے۔ اس نے بھاگ کر مظبوطی سے صادق صاحب کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔

“مجھے بھی فوجی ٹریننگ سیکھنی ہے۔۔۔۔” اس نے دلی جستجو ظاہر کی۔

“اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔ بہت تکلیف دہ مراحل طے کرنے ہونے ہیں۔۔۔۔۔ ایسے ہی کوئی نہیں بن جاتا فوجی۔۔۔” انہوں نے سر جھٹکتے ہوئے اسے سمجھانا چاہا۔ وہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر جانے لگے۔

“کیا اس سے زیادہ مشکل ہے۔۔۔” وہ بلند آواز میں کہتا ہوا بھاگ کر ہوٹل کے اندر گیا۔ صادق صاحب اس کی آواز پر پلٹ کر اسے گھورنے لگے۔ اس نے ایک ٹپ میں سے ؛ جو برفیلے پانی سے بھرا ہوا تھا جس میں کولڈرنک ٹھنڈا کرنے رکھی جاتی تھی؛ جگ بھرا اور ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ برفیلے پانی سے بھرا ہوا جگ اپنے اوپر انڈیل دیا۔

صادق صاحب کے تنے آبرو پھیل گئے۔ وہ شاکی نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔ ان کے پیچے گاڑی میں سوار ان کے ساتھیوں کے بھی منہ کھل گئے۔

وہ جنونی نظروں سے انہیں دیکھتا ہوا تیز تیز سانس لے رہا تھا۔ پتلے سے قمیض میں سر سے پاوں تک برفیلے پانی سے بھیگ کر بھی وہ زرا برابر بھی نہیں لرزا تھا۔ صادق صاحب سپاٹ تاثرات بنائے اس کے قریب آئے اور قدرے جھک کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

“بہت جنون ہے تم میں ہاں۔۔۔۔۔۔ ایک دن یہ آگ یا تو تمہیں جلا دے گی۔۔۔۔۔ یا کسی اور کو راکھ کر دے گی۔۔۔۔” صادق صاحب نے سنجیدہ انداز میں کہا۔

“جل تو میں اسی دن گیا تھا۔۔۔۔ جس دن میری ماں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔۔۔۔۔ اب تو راکھ کرنے کی باری ہے۔۔۔۔” اس نے دانت پر دانت جمائے ہوئے جواب دیا۔

“آپ اپنا بتائے۔۔۔۔۔ مجھے ٹریننگ سیکھائے گے یا نہیں۔۔۔۔” اس نے جیسے اپنا حتمی فیصلہ کر لیا تھا کہ فوجی ٹریننگ تو اسے لازمی سیکھنی ہے پھر صادق صاحب سیکھائے یا کوئی اور۔

“پر میں یہاں نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ میری ڈیوٹی بلوچستان میں ہے۔۔۔۔ یہاں تو میں چھٹیاں منانے آیا ہوں۔۔۔۔” صادق صاحب اس نے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ سامنے پڑے چارپائی پر بیٹھا دیا۔

“میں آپ کے ساتھ چلوں گا۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ اور وہاں بھی اپنا خرچہ خود کروں گا۔۔۔۔۔ ایسی ہی محنت مزدوری کر کے کماوں گا۔۔۔۔” شاویز نے انہیں اپنی کفالت خود اٹھانے کی یقین دہانی کروانی چاہی۔

اس کی معصومانہ انداز پر صادق صاحب سر جھٹکتے ہوئے مسکرائے۔

“ایک دفعہ کوئی base میں داخل ہوگیا پھر باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔ یہ وہاں کا قانون ہے۔۔۔۔۔ وہاں آئے ہر سٹوڈنٹ کو خرچہ گھر والے بھیجتے ہے۔” انہوں نے نرمی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

شاویز کا دل اچانک بجھ گیا تھا۔ اسے تو پیسے بھیجنے والا کوئی نہیں تھا۔ مطلب وہ ٹریننگ نہیں سیکھ سکتا؛ سوچتے ہوئے وہ مایوس ہوگیا۔ چہرے پر بے بسی در آئی۔

صادق صاحب اس کی کیفیت سمجھ گئے۔ وہ شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے سامنے دیکھنے لگے۔

“چلو مان لو۔۔۔۔۔ میں تمہیں فی سبیل اللہ۔۔۔۔ فری میں ٹریننگ کرا دوں۔۔۔۔۔ تو مجھے کیا ملے گا۔۔۔” انہوں نے ہاتھ آپس میں مسلتے ہوئے اس سے پوچھا۔

اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

” تو۔۔۔۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔۔۔۔ جب میں بڑا آدمی بن جاؤں گا۔۔۔۔۔ میرے پاس پیسے آجائے گے۔۔۔۔۔ میں آپ کا سارا قرضہ واپس کر دوں گا۔” اس نے پر امید انداز میں کہا۔

“ہمممم۔۔۔۔ اور اس کے علاوہ۔۔۔” صادق صاحب اس لالچ سے خاص متاثر نہیں ہوئے تھے۔ اس ذہین بچے سے انہیں کسی اور جواب کی توقع تھی۔

شاویز اب کی بار کچھ متذبذب ہوا اور سوچنے کے انداز میں آنکھیں چھوٹی کی۔

“اور میں یہ بھی وعدہ کرتا ہوں۔۔۔۔ کہ میں بڑا ہو کر اچھا سپاہی بن کر وطن کی حفاظت کروں گا۔۔۔۔۔ اپنی ساری صلاحیت اور ذہانت صرف ملک کے فلاح و بہبود پر لگا دوں گا۔۔۔” اس نے پورے جوش و جذبہ سے جواب دیا۔

صادق صاحب اس کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر آبرو اچکا کر مسکرائے۔ صادق صاحب ایماندار فوجی تھے وطن کے خدمت کے علاوہ انہیں کوئی اور کام خاص متاثر نہیں کیا کرتا

“لیکن اس سے تمہاری پڑھائی متاثر ہوجائے گی۔۔” انہوں نے متفکر انداز میں کہا

“ہممم۔۔۔۔ جیسے آپ فی سبیل اللہ ٹریننگ سکھائے گے۔۔۔۔۔ ویسے ہی۔۔۔۔۔ کوئی اور اللہ والا۔۔۔۔ فی سبیل اللہ پڑھا بھی دے گا۔۔۔” اس میں ایک نئی امنگ جاگ اٹھی تھی۔ اپنی زندگی کا اصل مقصد معلوم ہو چلا تھا۔ اب وہ کسی بھی وجہ سے اپنے منزل سے پِھر نہیں سکتا تھا۔

صادق صاحب نے اس کی جذبہ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اس کا کندھا تھپتھپایا۔

“ہممم مجھے تھوڑا سوچنے دو” وہ سوچنے کے انداز میں آنکھیں گھمانے لگے جیسے دماغ میں ان سب کی پلاننگ کر رہے ہو۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد انہوں نے شاویز کو دیکھا وہ چمکتی آنکھوں میں امید کی کرن لیئے ان ہی کو دیکھ رہا تھا۔

“تمہیں ساتھ لے جانے کے لیے گود لینا پڑے گا کیا۔۔۔۔” انہوں نے پریشانی کے عالم میں اس سے سوال کیا۔

“کیوں۔۔۔۔ گود لینے سے کیا ہوجائے گا۔۔۔” شاویز پلکیں جھپکا کر مسرور ہونے لگا۔

“زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ بس میری بیوی۔۔۔۔۔۔ مجھے گھر سے نکال دے گی۔۔۔۔” صادق صاحب نے دبی دبی بے بسی سے پیشانی مسلی۔

شاویز ان کی بات پر منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اسے ہنستے دیکھ کر وہ بھی ہکلے سے ہنسے تھے۔

” آپ بس میرے یتیم خانے آکر۔۔۔۔ دائی ماں سے مجھے ساتھ لے جانے کی بات کریں۔۔۔۔ باقی میں سنبھال لوں گا۔۔۔” اس نے محظوظ ہوتے ہوئے اعتمادی سے مسکرا کر کہا۔

صادق صاحب نے سر اثابت میں ہلایا اور اس کے یتیم خانے کا ایڈریس نوٹ کر کے جانے کے لیے اٹھے۔

“صادق سر۔۔۔۔۔ آپ آئے گے نا۔۔۔۔ ” اس نے افسردگی سے اپنے دل میں اٹھتا اندیشہ ظاہر کیا۔ وہ بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا۔ جاتے جاتے وہ پلٹے اور اس کے سامنے جھک کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے دباؤ دیا۔

“تمہیں ایک فوجی کے وعدے پر یقین ہونا چاہیئے۔۔۔۔” انہوں نے رعب و دبدبہ اور ہمدردی کے ملے جلے تاثرات سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

“مجھے یقین ہے۔۔۔ “اس نے نرمی سے ان کا ہاتھ اپنے چھوٹے ہاتھوں میں تھام لیا۔

“شام کو آوں گا۔” سیدھے ہوکر انہوں نے اپنی کار کی جانب جاتے ہوئے کہا۔ اس نے سر اثابت میں ہلایا اور خوش ہو کر ہوٹل کے اندر بھاگ گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ مالک سے جلدی چھٹی لے کر یتیم خانے واپس آگیا تھا۔ دائی ماں نے اس کے بھیگے کپڑے دیکھے تو اس کا کان پکڑ لیا۔

“ہائے۔۔۔ ہائے۔۔۔۔ شاویز۔۔۔۔ زور کپڑے گیلے کر کے آجاتا ہے۔۔۔۔۔ کتنی دفعہ سمجھاوں۔۔۔ میرے ہاتھوں میں اب اتنا دم نہیں ہے کہ تیرے کپڑے دھوتی پھروں۔۔۔۔۔ کب عقل آئے گی تمہیں۔۔” دائی ماں کان سے پکڑے ہوئے اسے کمرے میں لے جا رہی تھی اور وہ سی سی کرتا ان کے ساتھ چلنے لگا۔

“دائی ماں۔۔۔۔۔۔ چھوڑیں۔۔۔۔ درد ہورہا ہے۔۔۔۔” اس نے ان کی گرفت سے اپنا کان آزاد کروانا چاہا لیکن وہ کمرے میں لا کر ہی اس کا کان چھوڑنے پر راضی ہوئی۔

“بس کچھ دنوں کی بات ہے دائی ماں۔۔۔۔۔ پھر آپ کو یہ شکایت نہیں ہوگی۔۔۔۔۔ میں یہاں سے چلا جاوں گا نا۔۔۔۔ تب آپ کو میرے یہ سب کام کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔” اس نے کان سہلاتے ہوئے جعلی خفگی سے کہا۔ جانے کی بات سن کر دائی ماں متفکر ہوگئی۔

“بے شرم۔۔۔۔ دائی ماں کی ڈانٹ کو دل پر لے لیا کیا۔۔۔۔ جانے کی بات کرتا ہے۔۔۔۔۔ کہیں نہیں جائے گا تو۔۔۔۔ سمجھ آئی۔۔۔۔”انہوں نے افسردہ انداز میں اسے جھڑک دیا۔ اس کی جانے کی بات پر ان کا دل دکھ گیا تھا۔

شاویز ان کی والہانہ محبت دیکھ کر کسمسا گیا اور ان کے کمر کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے انہیں خود سے لگایا۔

اس کے سر پر پیار دے کر دائی ماں نے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھا۔

“کل کو بیمار ہوگا۔۔۔۔۔ تو سب سے زیادہ تکلیف مجھے ہی ہوگی نا۔۔۔۔۔ اس لیے ڈانٹتی ہوں پگلے۔۔۔۔۔ جا اب جا کر خشک کپڑے پہن۔۔۔۔ سردی لگ جائے گی۔ ” دائی ماں نے اس کی بلائیں لیتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا۔ وہ چہکتا ہوا الماری کے جانب بڑھ گیا۔

الماری میں اپنے کپڑوں کے بیچ اس نے وہ تصویریں سنبھال رکھی تھی۔ اس نے چپکے سے اپنی اور زرتاج کی تصویر اٹھا کر چمکتی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا۔

“ماں۔۔۔۔۔ میں اب فوجی ٹریننگ سیکھوں گا۔۔۔۔۔ اصلی کا بہادر شاہ سوار بنوں گا۔” اس نے کھلھلاتے ہوئے ہونٹوں کے آگے ہاتھ کا پیالہ بنا کر سرگوشی میں کہا۔ فلحال وہ دائی ماں کو خبر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے صادق سر کے آنے کا بے صبری سے انتظار تھا۔ تصویر واپس چپا کر اس نے خشک کپڑے اٹھا اور چینج کرنے چلا گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وعدے کے مطابق صادق سر شام کے وقت آگئے تھے۔ سفید قمیض شلوار پہنے آستین کہینوں تک موڑے بال اور ہلکی داڑھی موچھ نفاست سے بنائے وہ اس وقت شاویز کو اس کی زندگی کا فرشتہ نما لگ رہے تھے۔

دائی ماں نے انہیں بیٹھک میں صوفے پر بیٹھایا۔ ان کی خاطر داری کرنے ہمیمہ کو چائے کا انتظام کرنے کا کہا۔ خود وہ ان کے ساتھ بیٹھی گفتگو کرتی رہی۔ شاویز دروازے سے لگا چپ چپکے بار بار اندر جھانک رہا تھا۔ اسے تجسس تھا کہ وہ جلدی سے دائی ماں سے اسے لے جانے کی بات کریں۔

اپنا تعارف کروانے کے بعد دوران گفتگو صادق صاحب نے انہیں اپنی اور شاویز کی صبح ہوٹل میں ہوئی ملاقات کی تفصیل بتائی۔ ہمیمہ تب تک چائے پیش کر چکی تھی۔

“وہ چاہتا ہے۔۔۔۔ میں اسے اپنے ساتھ بلوچستان لے کر جاوں۔۔۔۔ وہاں اسے فوجی تربیت سیکھاوں۔۔۔۔۔” صادق صاحب نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے اصل موضوع پر بات شروع کی۔

دائی ماں شاویز کے فرمائش سن کر دنگ رہ گئی۔ ان کے چہرے پر ایک رنگ چڑھنے اور دوسرا اترنے لگا۔

“لیکن کرنل صاحب۔۔۔۔ شاویز کبھی اس محلے سے بھی باہر نہیں گیا۔۔۔۔ پھر اتنی دور اکیلے۔۔۔۔۔ میں نہیں جانے دیں سکتی۔ ” دائی ماں نے سر کو جنبش دیتے ہوئے صاف انکار کر دیا تھا۔

شاویز ان کی تردید سن کر مایوس ہوگیا۔ ایک پل کے لیے اسے اپنا خواب ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔

“ہممم۔۔۔۔۔ میں نے بھی اسے یہی کہا۔۔۔۔۔ لیکن وہ بہت پر عزم ہے۔۔۔۔ اس نے مجھے خود کو سنبھالنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔۔۔” انہوں نے دائی ماں کو قائل کرنے کی ایک اور کوشش کی۔

“کرنل صاحب۔۔۔۔ وہ تو نادان ہے۔۔۔۔۔ بچہ ہے۔۔۔۔۔۔ اسے دنیا کے رہن سہن کا کیا پتا۔۔۔۔۔ پانچ دن بھی وہ مجھ سے الگ نہیں رہ سکے گا۔۔۔۔۔” دائی ماں اپنے فیصلے پر قائم رہی۔

دروازے کے باہر کھڑا شاویز شش و پنج میں مبتلا ہوگیا تھا۔ وہ اضطراب میں ادھر ادھر چکر کاٹنے لگا۔

“مجھے وہ ارادے کا بہت مظبوط لگا ہے۔۔۔۔۔ ایک دفعہ جو ٹھان لے۔۔۔۔ وہ کر کے ہی رہتا ہے۔۔۔۔۔ پھر بھی آپ اس کی سرپرست ہے۔۔۔۔۔ مجھ سے بہتر جانتی ہے اسے۔۔۔۔۔ تو جیسے آپ کو مناسب لگے۔۔۔۔” صادق صاحب نے مزید ضد کئے بغیر سارا معاملہ ان کے سپرد چھوڑ دیا اور کپ میز پر رکھ کر جانے کے لیے اٹھنے لگے تھے کہ رک گئے۔ شاویز منہ پھلائے آبدیدہ آنکھوں سے دائی ماں کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا تھا۔

“دائی ماں۔۔۔۔ پلیز جانے دیں۔۔۔۔۔ میں اچھے سے تربیت حاصل کروں گا۔۔۔” وہ معصومانہ انداز میں زبیدہ خالہ سے التجا کرنے لگا۔

صادق صاحب پیر کے اوپر پیر جمائے تھیوری کجاتے ہوئے اسے بغور مشاہدہ کرنے لگے۔ وہ یہ آزمانہ چاہتے تھے کہ وہ اپنی منزل کو پانے کے لیے کس حد تک کوشش کر سکتا ہے۔ ایک طرح سے وہ اس کا امتحان لے رہے تھے کہ کیا وہ واقعی فوجی تربیت دیئے جانے کے قابل ہے بھی کہ نہیں۔

“میں پکا اپنا خیال رکھوں گا۔۔۔۔۔ اپنے سارے کام خود کروں گا۔۔۔۔ دائی ماں۔۔۔۔ اجازت دے دیں۔۔۔” اس کی آواز بھر آگئی تھی۔

دائی ماں اب بھی اس کے باتوں میں آنے کی طرف دار نہیں تھی۔ وہ محض نفی میں سر ہلاتی رہی۔

“شاویز۔۔۔۔ تمہیں جو بھی کرنا ہے۔۔۔ تم یہی رہ کر؛ کر لو۔۔۔۔۔ ضروری ہے دوسرے شہر جانا۔۔۔۔” دائی ماں نے پیار سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

“آپ سمجھ نہیں رہی دائی ماں۔۔۔۔ یہاں رہ کر۔۔۔۔۔ میں دن رات لگاتار بھی کام کروں تو اتنی رقم جمع نہیں کر سکتا کہ فوجی ٹریننگ لے سکھوں۔۔۔۔ یہ تو صادق سر کی مہربانی ہے جو مجھے فری میں سیکھانے پر راضی ہوئے ہے۔” وہ بات کرتے کرتے دائی ماں کے ساتھ بیٹھ گیا اور ان کے بوڑھے ہاتھوں پر اپنے چھوٹے ہاتھ رکھے۔

“زرا سوچیں دائی ماں۔۔۔۔۔ مجھے زندگی کچھ بننے کا کچھ کرنے کا موقع دے رہی ہیں۔۔۔۔ مجھے میری ماں کا خواب پورا کرنے کا موقع دے رہی ہیں۔۔۔۔۔ میں اصل کا شاہ سوار بن سکتا ہوں۔۔۔۔ اپنی ماں کا۔۔۔۔ آپ کی زرتاج کا شاہ سوار۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔ ” اس نے پر امید نظروں سے دائی ماں آنکھوں میں دیکھا۔ وہ جو مسلسل اضطراب میں تھی۔ اس کے حوصلہ مند باتیں سن کر ہلکا مسکرائی اور اسے خود سے لگا کر پیشانی پر بوسہ دیا۔

“اتنی پر کشش باتیں کیسے کر لیتا ہے۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ کر لو اپنی ماں کا خواب پورا۔۔۔۔۔ جا کر سیکھ لے فوجی تربیت۔۔۔” دائی ماں نے مسکراتے ہوئے اشک بار آنکھوں سے اسے اجازت دے دی۔ وہ خوشی سے چہک اٹھا اور روشن چہرے سے صادق سر کو دیکھا۔ وہ اسی کو دیکھ کر مسرور ہورہے تھے۔

کچھ اور رسمی بات کر کے صادق صاحب رخصت لیتے ہوئے جانے لگے۔

“چلتا ہوں نوجوان۔۔۔۔۔ ہفتے کی صبح پہلی ٹرین سے نکلے گے۔۔۔۔ میں تمہیں لینے آجاو گا۔۔۔۔ تیار رہنا۔۔۔” صادق صاحب نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔

“مجھے ایک فوجی کے وعدے پر یقین ہے۔۔۔۔ “اس نے مستحکم بھرے انداز میں ان کے کمر کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے انہیں خود سے لگایا۔

صادق صاحب نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بیٹھک سے باہر نکل گئے۔

وہ ابھی یتیم خانے کے دہلیز تک پہنچے ہی تھے کہ دائی ماں نے انہیں پکارا۔ وہ رک کر پلٹے اور زبیدہ خالہ کی بات سننے لگے۔

“شاویز کا غصہ بہت تیز ہے۔۔۔۔ وہ بہت حساس اور جنونی بچہ ہے۔۔۔۔ وہ کبھی اس چار دیواری کے باہر نہیں رہا ہے۔۔۔۔ تو الگ شہر میں ہم سب سے دور۔۔۔۔” وہ شاویز کے لیے بہت فکرمند تھی۔ انہیں اس کا ان سے دور رہنے پر شدید تشویش لاحق تھی۔

“آپ بے فکر رہیں۔۔۔۔ میں اسے اپنے زمہ داری پر لے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔ میں اس کا خیال رکھوں گا۔۔۔۔ اس کے جنون کو میں مثبت راہ پر لگاوں گا۔۔۔۔۔ اگر میری تھوڑی محنت سے ایک معصوم یتیم بچے کی زندگی سنورتی ہے۔۔۔۔۔ تو یہ میرے لیے بہت فخر کی بات ہے۔۔۔۔” انہوں نے دائی ماں کو تسلی دی اور روانہ ہوگئے۔ دائی ماں ان کی نیک دلی پر اشک بار آنکھوں سے انہیں ڈھیر ساری دعائیں دینے لگی۔

اس دن شاویز بہت خوش تھا وہ یتیم خانے کے؛ اپنے محلے کے؛ اپنے ہوٹل کا تفصیلی جائزہ لینے لگا۔

“کچھ دن اور۔۔۔۔۔ پھر میں یہاں سے چلا جاوں گا” اس نے دل میں محظوظ ہوتے ہوئے سوچا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جمعہ کی رات دائی ماں چارپائی پر بیٹھی صرف اشک بہا رہی تھی۔ جبکہ وہ اور ہمیمہ اس کا سامان باندھنے لگے تھے۔ ایک چھوٹے سے سوٹ کیس میں چار جوڑے کپڑے دو جوڑے جوتے کوئی دو عدد جیکٹ ٹوپی مفلر وغیرہ اور دسویں جماعت کی کتابیں رکھ کر اس نے بیگ تیار کر لیا۔ نہا کر صاف کپڑے بھی رات کو ہی پہن لیے تھے۔

اپنی تیاری سے مطمئن ہو کر وہ دائی ماں کے پاس آیا۔ ہاتھ بڑھا کر ان کے آنسو صاف کیے۔

“روتی کیوں ہو دائی ماں۔۔۔۔۔ میں ہمیشہ کے لیے تھوڑی جا رہا ہوں۔۔۔۔۔ چھٹیوں میں واپس آجایا کروں گا تیرے پاس۔۔۔۔” اس نے پیار سے ان کے کندھے پر سر ٹکایا۔

“اکیلے کیسے رہے گا شاویز۔۔۔۔۔مجھے تیری فکر ستاتی رہے گی۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے اس کے رخسار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ وہ حقیقی معنوں میں متفکر تھی۔

“دائی ماں۔۔۔۔۔ میں فون پر اپنے سارے دن بھر کی مصروفیات بتاتا رہوں گا۔۔۔۔” اس نے ان کے ہاتھ پر بوسہ دیا

“کاش زرتاج یہ لمحہ دیکھ پاتی۔۔۔۔۔ اس کا ننھا بیٹا۔۔۔۔۔ فوجی تربیت کے لیے جا رہا ہے۔۔۔” دائی ماں نے اداسی بھری لمبی سانس لی اور خود کو سنبھالا۔

شاویز اسی طرح دائی ماں سے لگے کھڑکی کے باہر تاریک آسمان میں چمکتے چاند اور تاروں کو دیکھنے لگا۔

“اسے پتا تھا۔۔۔۔۔ اس نے پہلے سے ہی میرے اس مستقبل کے لیے دعائیں کر رکھی تھی۔۔۔۔۔ یونہی تھوڑی وہ مجھے شاہ سوار بلاتی رہتی تھی۔۔۔۔۔ ایسی تو نہیں وہ ہر وقت مجھے بہادر بننے کی تلقین کرتی رہتی تھی۔۔۔۔ وہ جانتی تھی۔۔۔۔ میں ایک دن ٹریننگ کے لیے جاوں گا۔۔۔” اس نے کھوئے کھوئے انداز میں اپنی ماں کو یاد کرتے ہوئے کہا۔

اس کے چہرے پر پھیلتی اداسی جانچ کی دائی ماں نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔

” بس میں بھی اب دعا کروں گی۔۔۔۔ میرا لاڈلا شہزادہ جلدی سے فوجی تربیت حاصل کریں۔۔۔۔ اور اسے مظبوط توانا مرد بننے تک میری آنکھیں کھلی رہے۔۔۔” انہوں نے خوشگوار مزاجی سے اسے دعا دی اور سونے کی ہدایت دے کر اپنے چارپائی پر آکر لیٹ گئی۔

وہ اپنے بستر پر لیٹا رہا لیکن صبح آنکھ نہ کھلنے کے خوف سے وہ رات بھر سویا ہی نہیں۔ جب کبھی اس کی آنکھ لگ جاتی وہ ہڑبڑا کر اٹھ جاتا۔

اسی طرح کرتے کرتے اس پر رات بیت گئی اور فجر کی اذان ہونے لگی۔ وہ آنکھیں مسلتا ہوا اٹھا اور واشروم جا کر وضو کرنے لگا۔

قاری صاحب کے ہمراہ اس نے باجماعت نماز ادا کی۔ دوران دعا وہ کافی دیر چھوٹے ہاتھ اوپر اٹھے اللہ سے اپنی کامیابی کی دعائیں کرتا رہا۔

یتیم خانے کے وسط میں ہی بنے اس مدرسے سے نکلتے ہوئے اس نے قاری صاحب سے اچھے سے مل کر رخصت لیا۔

وہ ان کے زیر نگرانی قرآن مجید مکمل کر چکا تھا۔ ان سے وابستہ شاویز کی کئی کھٹی میٹھی یادیں تھی۔ قاری صاحب نے اسے ڈھیر ساری دعائیں دیں اور اپنی عبادات کی پابندی کی تلقین کرتے ہوئے اسے خیر باد کہا۔

صبح 6 بجے تک صادق صاحب اپنی گاڑی میں اسے لینے آ گئے۔ وہ دیر ہوجانے کی غرض سے گاڑی سے نہیں اترے اور گاڑی میں ہی اس کا انتظار کرنے لگے۔

وہ یتیم خانے کے باقی بچوں سے مل کر دائی ماں کا ہاتھ تھام کر دہلیز تک آیا۔ تب تک ذبیع اللہ اس کا سامان صادق صاحب کی گاڑی میں رکھوا چکا تھا۔

صادق صاحب دائی ماں سے ملنے گاڑی سے اترے اور اس وقت ان سے مہو گفتگو تھے۔

اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے دائی ماں پھر سے آبدیدہ ہوگئی تھی لیکن اس سے پہلے وہ رو پڑتی شاویز ان سے لگ کر خدا حافظ کہتا باہر آگیا اور گاڑی کے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔

جب تک صادق صاحب ان سے وداع لے رہے تھے اس نے جی بھر کر یتیم خانے کی عمارت کو دیکھا جو اس کا کُل سرمایہ تھا۔ جہاں اس نے آنکھ کھولی۔ جہاں اس نے چلنا سیکھا بولنا سیکھا۔ اپنی ماں کے سایے تلے 8 سال گزارے اور پھر دائی ماں کے پلوُ میں 6 سال۔ اس جگہ سے اس کی اچھی یادیں جڑی تھی تو ماں کو کھونے کا غم بھی۔ اس کی آنکھیں بھیگنے لگی تو اس نے سر جھکا دیا۔

“نہیں شاویز۔۔۔۔ اب سے تمہیں رونا نہیں ہے۔۔۔۔ مظبوط بننا ہے۔۔۔۔ تا کہ تم اس کا خاتمہ کر سکو۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے خوشیوں کی مورت تیری ماں چل بسی۔۔۔۔۔۔ دلاور پرویز خان کی بربادی۔۔۔۔۔ تمہیں اپنا یہ مقصد کبھی نہیں بھولنا” اس نے ٹھوس انداز میں خود سے عہد لیا۔ گہری سانس خارج کی اور خود کو کمپوز کر کے سامنے دیکھنے لگا۔

صادق صاحب تیز قدموں سے واپس آکر گاڑی میں بیٹھے اور تیز رفتار سے گاڑی چلا دی۔

“اall set commando” انہوں نے پھرتیلے انداز میں اس سے پوچھا۔

وہ جو کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا ان کے خوشیلے انداز سے اس کے اندر الگ جذبہ پیدا ہوا۔

“اYes sir۔۔۔۔۔ ” اس نے امید بھری اس نئی صبح کے چمکتے آفتاب کے مانند چمکتی مسکان سجائے ہوئے کہا۔

یہ ٹریننگ میں بھی سٹوڈنٹس کو ایسی جوشیلا کرتے ہونگے؛ سوچتے ہوتے شاویز کو صادق سر بہت پیار آرہا تھا۔

دنیا میں صرف دلاور جیسے مظلوموں کو تنگ کرنے والے لوگ نہیں ہوتے بلکہ بنا کسی مفاد کے ایک نئی زندگی کی طرف لے جانے والے صادق سر جیسے لوگ بھی ہوتے ہے؛ یہ بات اسے اس وقت صادق صاحب کے خوش اخلاقی کو دیکھ کر سمجھ آرہی تھی۔

سٹیشن کے پارکنگ میں پہنچ کر انہوں نے اپنا اور شاویز دونوں کا بیگ اٹھایا۔

“اjust follow me ranger” چونکہ ان کے دونوں ہاتھوں میں بیگ تھے وہ اسے ہاتھ سے پکڑنے سے قاصر تھے۔ تو انہوں نے تیز نگاہوں سے شاویز کو گھور کر کہا تا کہ وہ بغیر گمے ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہے۔

وہ سر اثابت میں ہلاتا ہوا ان کے قدموں کی پیروی کرنے لگا۔

اسے ایک جگہ کھڑا کر کے صادق صاحب نے بیگز اس کے آگے رکھ کر خود ٹکٹیں کنفرم کروانے چلے گئے۔ واپسی ان کے ساتھ ایک دوست بھی چل کر آیا۔ کچھ رسمی باتیں کر کے انہیں اپنے گاڑی کی چابی دے کر ان کے گھر پہنچانے کی ہدایت دی پھر وہ اپنے دوست سے گلے مل کر رخصت ہوئے۔

ٹرین میں چڑھ کر شاویز کھڑکی کی سائیڈ پر بیٹھا اور ساتھ صادق صاحب بیٹھے یوں ان کی ٹرین اپنے منزل کے سمت چل پڑی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ٹرین کا سفر خوشگواریت سے گزر رہا تھا۔ وہ مسلسل چھوٹی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ باہر کے مناظر اسے محظوظ کرتے رہے۔ ٹرین کبھی میدانی علاقوں سے گزرتا کبھی سرسبز درختوں کے بیچ سے کبھی پہاڑی علاقوں سے۔ اسے سب سے زیادہ خوشی تب ہوتی جب ٹرین ٹنل کے اندر سے گزرتی۔ باقی شرارتی بچوں کی طرح ہر مرتبہ اس کا بھی اوووووو کے نعرے لگانے کا دل کرتا لیکن صادق سر کا خیال کر کے چپ رہتا۔

ظہر کے وقت ٹرین ایک سٹیشن پر کچھ دیر رکا۔ دوپہر کھانے کے لیے تو دائی ماں نے اسے ٹفن تیار کر کے دیا تھا۔ وہ دونوں صرف فریش ہونے اترے اور وہی سٹیشن کے مسجد میں نماز بھی ادا کی۔ صادق سر اس بچے کو عقیدت سے نماز پڑھتے دیکھ کر کافی متاثر ہوئے۔

واپس اپنے سیٹ پر آکر انہوں نے دائی ماں کے ہاتھ سے بنا سالن نوش فرمایا اور ٹرین اپنے سفر کو رواں دواں ہوگیا۔

رات کے کھانے کے لیے وہ سٹیشن پر اترے۔ کھانا کھانے کے بعد صادق صاحب وہی واٹر کولر سے پانی بھرنے جانے لگے تھے لیکن شاویز نے ان کے ہاتھ سے بوتل لے کر خود بھرنے کی اجازت چاہی جو انہوں نے سر کے جنبش سے دے دی۔

وہ ابھی لائن میں اپنے باری کے لیے کھڑا تھا کہ اس کی باری پر ایک 20 سالہ آوارہ لڑکا لائن کا لحاظ کئے بغیر سامنے آیا اور زبردستی اس سے دکم پھیل کرتے ہوئے بوتل بھرنے لگا۔

صادق صاحب تنے عصاب سے اسے دیکھنے لگے۔

“کیا ہوا شاویز۔۔۔۔۔۔ تمہیں نہیں لگتا تمہارے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔۔۔۔ کوئی پیچے سے آکر لائن ڈسٹرب کر رہا ہے۔۔۔۔۔ کہاں ہے برائی کو روکنے والی وہ ہمت۔۔۔۔۔ یا صرف میرے اور دائی ماں کے سامنے ہی تمہارا جنون باہر آتا ہے۔۔۔۔” صادق سر نے تند و تیز آواز میں سختی سے اسے تنبیہہ کیا۔

“میں ایسے بزدل لڑکے کو۔۔۔۔۔ ٹریننگ نہیں سیکھا سکتا۔۔۔۔” انہوں نے میز کے ساتھ ٹکتے ہوئے سپاٹ انداز میں کہا۔

ان کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ شاویز کے آبرو تن گئے۔ اس نے اس لڑکے کو پینٹ کے کمر سے جکڑا اور گھسٹتے ہوئے کھینچ کر پیچے لے آیا۔

“لائن سے آو۔۔۔۔۔ اپنی باری کا انتظار کرو۔۔۔۔” اسے بلند آواز میں تاکید کرتے ہوئے وہ واپس مڑا اور اپنی نوبت پر پانی بھرنے لگا۔

اس بچے کا یہ رویہ دیکھ کر وہ لڑکا طیش میں آگیا اور اسے مارنے آگے بڑھا ہی تھا کہ صادق سر اس کے سامنے آئے اور اس کے سینے پر مظبوطی سے ہاتھ رکھ کر اسے پیچے کیا اور خاموشی سے غصیلی نظروں سے اسے گھور کر منع کیا تو وہ متذبذب سا ہو کر سائیڈ پر ہوگیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رات گہری ہونے لگی تو سب مناسب جگہ سر ٹکا کر سونے لگے۔ صادق صاحب بھی پیر اوپر کر کے نیم دراز ہوگئے۔

شاویز نے بہت کوشش کی جاگتے رہنے کی۔ لیکن چونکہ وہ کل رات بھی نہیں سویا تھا اس لیے اس وقت اسے شدید نیند نے جکڑ لیا تھا۔ وہ زبردستی آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش کرتا مگر اس کا سر لڑک جاتا۔

صادق سر نے اسے اس شش و پنج میں مبتلا دیکھا تو سر جھٹک کر تھوڑا اوپر ہو کر بیٹھے اور شاویز کا سر اپنے گود میں ٹکا دیا۔ صادق صاحب کے گود میں سر رکھتے ہی وہ گہری نیند سو گیا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆