Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bikhare Rishte (Episode 20)

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

رات کے آخری پہر شاویز کی آنکھیں کسی کی سسکیوں سے کھلی۔ عنودگی کے حالت میں آنکھیں مسلتے ہوئے اس نے دیکھا تو وہ کروٹ پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کے سامنے بیڈ کا حصہ ابھی بھی خالی تھا۔ وہ یک دم سیدھا ہوا۔

“میں سچ میں سو گیا تھا۔۔۔۔” اس نے حیرت سے پلکیں جھپکاتے ہوئے سوچا۔ وہ صرف عارفہ کو تنگ کرنے کے ارادے سے لیٹا تھا لیکن اس کی سچ میں آنکھ لگ گئی تھی۔ شاویز اٹھ کر بیٹھا اس نے دیکھا عارفہ وہی کھڑکی کے پاس فرش پر گھٹنوں کے گرد بازو مائل کئے ہوئے اسی دلہن کے لباس میں ابھی تک بیٹھی تھی۔ گھنٹوں میں سر چھپائے بار بار گیلی سانس اندر کھینچ کر وہ سسکیاں لے رہی تھی۔ شاویز اٹھ کر آیا اور اس کے پاس دو زانو ہو کر بیٹھا۔ پھر عارفہ کے ہاتھ پر تھپتھپایا۔ عارفہ نے سر اٹھا کر بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا تو شاویز دل دہل گیا۔

“کیا ہوا۔۔۔۔۔ ایسے رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔” شاویز نے ہر حد کوشش کرتے اپنے تاثرات سنجیدہ رکھے۔

“شادی کی رات ہی جو شوہر۔۔۔۔ اپنی بیوی کو دتکار دے۔۔۔۔ وہ روئے نہیں تو اور کیا کریں۔۔۔۔ ” عارفہ نے منہ بھسورتے ہوئے کہا۔

شاویز نے سرد سانس خارج کی۔

“کب دتکارا ہے۔۔۔۔ ” شاویز نے افسوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“اپنایا بھی تو نہیں۔۔۔۔ بلکہ اتنا غصہ کیا۔۔۔۔۔ ڈانٹا۔۔۔۔۔ مایوس چھوڑ کر خود آرام سے سو گئے۔۔۔۔۔” عارفہ کا غصہ کم ہی نہیں ہورہا تھا۔ اس نے منہ بناتے ہوئے شاویز کو گھورا۔ اس کے برہنہ کندھے پر گولی کے زخم کا نشان واضح نظر آرہا تھا۔ شاویز نے بولنے لب کھولے پر اس سے پہلے عارفہ پھر سے گویا ہوئی۔

“تم ہر دفعہ سحر کی سزا مجھے دیتے ہو۔۔ its not fair۔۔۔۔۔۔ میرا کیا قصور ہے۔۔۔۔۔ صرف تمہیں پسند کرنا۔۔۔۔ تم سے پیار کرنا۔۔۔۔۔ شادی کرنا۔۔۔۔۔” عارفہ نے لرزتے آواز میں کہا۔ اس کا دل بھرا گیا تھا۔

شاویز خاموشی سے اسے سنتا گیا۔

“میں سو گیا تھا۔۔۔۔۔ تو تم بھی آکر سو جاتی۔۔۔۔۔” اس نے نرمی سے پوچھا۔

“خود ہی تو یہی رہنے کا کہا تھا۔۔۔۔” عارفہ نے بے رخی سے جواب دیا

“اچھا۔۔۔۔۔ اتنی تابیدار ہو میری۔۔۔۔” شاویز نے محظوظ ہوتے ہوئے آبرو اچکائے۔ عارفہ بلکل مذاق کے موڈ میں نہیں تھی۔ اس نے تنے آبرو سے شاویز کو گھورا تو وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے سیدھا ہوگیا۔

“اچھا۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ سوری۔۔۔ ابھی آکر سوجاو۔۔۔۔۔ باقی کا غصہ صبح کر لینا۔۔۔۔” شاویز نے معصومیت سے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے التجائی انداز میں دیکھتے ہوئے کھڑا کیا۔ عارفہ اسی لہنگے کے ساتھ ہی آکر لیٹ گئی۔ وہ اتنا تھک گئی تھی کہ سر تکیے پر رکھتے ہی اسے نیند نے جکڑ لیا اور وہ سو گئی۔

شاویز تب تک ڈریسنگ روم میں جا کر ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہن کر واپس آیا۔ عارفہ کو سویا ہوا پا کو وہ بغیر آواز کئے بیڈ پر نیم دراز ہو کر بیٹھ گیا۔ شاویز رات کی تاریکی میں صرف نائٹ لیمپ کے روشنی میں عارفہ کے چہرے کو دیکھنے لگا۔

“ٹھیک تو کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔ میں ہر مرتبہ بے وجہ اسے رلا دیتا ہوں۔۔۔” شاویز نے دل ہی دل اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔

شاویز پچھتاوے میں ڈوب گیا۔ اس کا دل کیا وہ عارفہ کو اپنی بانہوں میں لے لیں لیکن ساری رات رلانے کے بعد وہ اب اس کے سکون میں خلل نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ کچھ دیر اسی طرح اسے دیکھتے رہنے کے بعد وہ اپنے جذبات قابو کرتا بیڈ سے اٹھا اور دبے پاؤں چلتا کمرے سے باہر نکل آیا۔

ایک گھنٹے تک گھر کے لان میں ورزش کر کے وہ فجر کی اذانوں کے ساتھ واپس کمرے میں آیا۔ واشروم جا کر وضو کیا اور نماز ادا کرنے کھڑا ہو گیا۔ نماز ادا کر کے دعا میں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اس کے دل میں عجیب تسکین تھا۔ وہ اپنے موجودہ نعمتوں کا شکر ادا کرنے لگا۔ اگر شاویز سے اس کی ماں چھین گئی تھی۔ اس کا بچپن مشکل میں رہا تھا۔ پھر اب اسے اتنا چاہنے والے پاپا مما بھائی بہن حتی کہ بیوی جیسے رشتے مل گئے تھے۔ وہ کافی دیر اسی انداز میں بیٹھا اللہ کے حضور مشکور ہوتا رہا پھر آکر بیڈ پر لیٹ گیا۔ عارفہ اب بھی عوض سو رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے شاویز کب سوگیا تھا اسے پتہ نہ چلا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اگلا دن معمول کا شروع ہوا۔ گھر میں ولیمے کے فنکشن کی تیاریاں جاری تھی۔ جس وقت شاویز فریش ہو کر کمرے سے باہر آیا دن پورا چڑھ چکا تھا۔ عارفہ تیار ہونے سحر کے ساتھ پالر جا چکی تھی۔ عابدہ بیگم نے مصروف انداز میں شاویز کو ناشتے کے ٹیبل کر مطلع کیا اور ساتھ ہی اسے آج کے فنکشن میں پہنے جانے والا تھری پیس سوٹ دیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ولیمے کا فنکشن بھی اسی شان و شوکت سے منایا گیا۔ اس تقریب میں عارفہ نے سلور کلر کا گاون پہنا تھا اور شاویز نے رائل بلیو کلر کا تھری پیس سوٹ۔ دونوں دلہا دلہن حسین شخصیت کے ساتھ محفل میں چار چاند لگا رہے تھے۔

جب تقریب اپنے اختتام کو پہنچا اور مہمان چلے گئے صرف فیملی کے افراد جانا باقی رہ گئے تھے جس میں اس کی فیملی، عارفہ کی فیملی، اور جاوید کی فیملی شامل تھی؛ شاویز میدان میں اترا اور اعلانیہ صورت میں ہاتھ اٹھائے۔

“ویل۔۔۔۔۔ فیملیز۔۔۔۔۔ ایک چھوٹا سا celebration میری طرف سے باقی ہے۔۔۔۔” شاویز نے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔ سب تعجبی انداز میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ شاویز نے دو انگلیاں ہونٹوں میں دبا کر زوردار سیٹی ماری تو دو ویٹر ایک بڑے سے ٹرالی پر چار منزلہ کیک ہال کے اندر لا رہے تھے۔ کیک برف جیسا سفید تھا اور اس پر سرخ رنگ کے گلاب کے مانند پھول بنائے گئے تھے۔ کیک دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ شاویز آگے ہوا اور ٹرالی کا ہینڈل پکڑ کر اسے سحر کے آگے کیا۔ سحر نے آبرو اٹھائے ہوئے اسے دیکھا۔

“اHappy birthday سحر۔۔۔۔۔۔ ” شاویز نے خوش دلی سے سحر کو سالگرہ کی مبارکباد کہی۔

سب ایک ساتھ چہک گئے۔

“اوووو ہاااااں۔۔۔۔۔۔ بارہ بج گئے ہے۔۔۔۔ آج تو سحر کی سالگرہ ہے۔۔۔۔” صائم نے پچھتاتے ہوئے کہا۔

“شاویز کی شادی کے مصروفیت میں تو تمہاری سالگرہ یاد ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔ ” دلاور صاحب نے مدافعتی انداز میں کہا اور سحر کے پاس آئے اسے سینے سے لگا کر دعائیں دی۔

“سالگرہ بہت مبارک ہو میری princess۔۔۔۔۔ اللہ تعالی تمہیں صحت اور خوشیوں بھری لمبی زندگی دے۔۔۔” انہوں نے دعا دی پھر عابدہ بیگم نے بھی اسے خود سے لگایا۔

“چلو چلو۔۔۔۔۔ کیک کاٹتے ہیں۔۔۔۔” صائم نے خوشی خوشی کہتے ہوئے ٹرالی پر رکھی چھری اٹھائی اور سحر کا ہاتھ تھاما۔

سحر اور صائم میں ایک سال کا فرق تھا۔ وہ دونوں ہمیشہ اپنی سالگرہ ساتھ مناتے اور اسی انداز میں ساتھ ہی کیک کاٹتے۔

سب کیک کے گرد کھڑے ہوگئے تھے اور تالیاں بجا کر سالگرہ کی گیت گاتے ہوئے سحر کے کیک کاٹنے کا انتظار کرنے لگے۔

سحر نے صائم کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا لیکن کیک کاٹتے ہوئے ایک احساس کی وجہ سے وہ رک گئی۔ سب اس کے حرکات دیکھتے ہوئے گیت گانا بھی رک گئے۔ سحر پہلے سپاٹ تاثرات بنائے ہوئے چند قدم پیچے کھڑے شاویز کے پاس آئی کچھ لمحے تندی سے اسے گھورنے کے بعد مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما اور ساتھ لیئے واپس کیک تک آئی۔ اب اس کے ایک طرف صائم تھا اور دوسری جانب شاویز۔ تینوں نے ایک ساتھ مل کر کیک کاٹا۔ دلاور صاحب کی تالیوں کی گونج سب سے نمایاں تھی۔ سحر کے دل میں شاویز کے لیے بنتی جگہ دیکھ کر انہیں سب سے زیادہ خوشی محسوس ہورہی تھی۔

کیک کا ٹکڑا ہاتھ میں پکڑے باری باری سب کو کیک کھلاتے ہوئے اور مبارکباد وصول کرتے ہوئے چلتے چلتے سحر جب جاوید کے سامنے آئی تو چھنپ سی گئی۔

سب کی موجودگی سے متذبذب ہوتے ہوئے جاوید نے سحر کے ہاتھ سے کیک کھایا اور سنجیدہ انداز میں سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

سحر کی چھوٹی سی سالگرہ منا کر سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز کمرے میں آیا تو عارفہ پہلے ہی چینج کر کے بال کھولے میک اپ دھوئے بیڈ پر بیٹھی اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔ ایک جھوٹی نظر شاویز پر ڈال کر وہ پھر سے اپنے کام کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس کے دیکھنے کے انداز سے شاویز سمجھ گیا وہ ابھی تک غصہ ہے۔ اپنی مسکراہٹ دبائے ہوئے شاویز نارمل انداز میں ڈریسنگ روم میں گیا اور چینچ کر کے نائٹ دریس پہن لیا۔

عارفہ نے اپنے کپڑے اور جیولری الماری میں رکھ کر پلا بند کیا تو شاویز ہاتھ باندھے دوسرے حصے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ عارفہ پھر سے اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھنے لگی تھی پر شاویز نے جھٹ سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“ناراض ہو۔۔۔”شاویز نے معصومیت سے آنکھیں گول گول گھماتے ہوئے پوچھا۔

“نہیں۔۔۔۔ میں کون ہوں ناراض ہونے والی۔۔۔۔” عارفہ نے نخریلے انداز میں جواب دیا۔

شاویز نے مسکراتے ہوئے عارفہ کے کمر کے گرد بازو مائل کر دیئے۔ عارفہ کسمسا سی گئی۔ اسے شاویز سے اس محبت بھرے انداز کی امید نہیں تھی۔

“بہت پیار کرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔” شاویز نے اس کے کندھے پر چہرہ ٹکا کر نرمی سے پوچھا۔

عارفہ کا غصہ مانو پانی کی مانند بہہ گیا تھا۔ اس نے شاویز کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھ لیئے تھے۔

“میں تو کرتی ہوں۔۔۔۔ پر تم نہیں کرتے نا۔۔۔۔” عارفہ نے نا امید ہوتے ہوئے کہا۔

اس کا جواب سن کر شاویز نے اپنا چہرہ اٹھایا پھر اسی طرح کمر سے ہی گھما کر عارفہ کا رخ اپنے جانب کیا۔

“ابھی تک کا تو نہیں پتا۔۔۔۔۔۔ لیکن اب تمہارے علاوہ کسی اور سے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔۔” کہتے ساتھ شاویز پیار سے عارفہ کو دیکھتے ہوئے اس کی لبوں پر جھک گیا۔ عارفہ کے جسم میں کرنٹ سا دوڑ گیا۔ اس نے آنکھیں مینچھ لی اور شاویز کی شرٹ مٹھی میں جکڑ لیا۔ کچھ دیر بعد شاویز کے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے الگ ہوئے تو عارفہ کی سانس چڑھ گئی تھی۔ وہ شرم سے سرخ پڑنے لگی۔ اس نے خود کو شاویز کی بازووں سے آزاد کرنا چاہا پر شاویز کی گرفت بہت مظبوط تھی۔

“کیا ہوا مسزز شاویز۔۔۔۔۔ کل میں چھوڑ کر سوگیا تھا تو غصہ آگیا تھا۔۔۔۔۔ اور اب خود ہٹ رہی ہو۔۔۔۔” شاویز نے محظوظ ہوتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا۔

عارفہ کے پاس شاویز کی دل فریب باتوں کا جواب نہیں تھا وہ شرماتے ہوئے نظریں جھکا گئی لیکن آج شاویز پر اس کے شرمانے کا کوئی اثر نہیں ہونا تھا۔ اس نے جھک کر عارفہ کو بانہوں میں اٹھا لیا۔ عارفہ نے اس کے گردن کے گرد بازو مائل کر دیئے۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ شاویز اسی انداز میں اسے اٹھائے ہوئے بیڈ تک آیا اور آرام سے پہلے عارفہ کو نیچے لیٹایا پھر خود اس کی بانہوں میں سماء گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رات کے کسی پہر کروٹ بدلتے ہوئے عارفہ کی آنکھ کھلی۔ شاویز انگلیوں کو باہم پھنسائے سر کے نیچے رکھے ہوئے جاگ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے سامنے دیوار کو دیکھ رہا تھا۔ عارفہ کہنی کے بل اٹھی اور شاویز کو مخاطب کیا۔

“کیا ہوا شاویز۔۔۔۔۔ نیند نہیں آرہی۔۔۔۔۔” عارفہ نے تعجب سے پوچھا۔ پھر آگے ہو کر شاویز کے سینے پر ہاتھ رکھا اور اپنے ہاتھ کے پشت پر چہرا ٹکا کر اسے دیکھنے لگے۔

شاویز نے لمبی سانس لیتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ سر کے نیچے سے نکال کر عارفہ کے کندھے کے گرد مائل کیا۔

“مجھے نیند نہیں آتی۔۔۔۔۔ میں بہت کم سوتا ہوں۔۔۔۔” شاویز نے مایوسی سے کہا۔ عارفہ اس کی شریک حیات تھی۔ اس کی بیوی۔ شاویز اس سے کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتا تھا نہ جھوٹ بولنا چاہتا تھا۔

“وہ کیوں۔۔۔۔” عارفہ کو اس کے جواب سے پہلے سے بھی زیادہ حیرت ہوئی۔

“وہ اس لیے۔۔۔۔۔ کیونکہ مجھے انسومنیا ہے۔۔۔۔” شاویز نے بے بسی سے شانے اچکائے۔

عارفہ کا حیرانگی سے منہ کھل گیا۔

“کب سے۔۔۔۔۔” اسے اپنے ہینڈسم شوہر کی بے بسی پر افسوس ہوا۔

“ہمممم۔۔۔۔۔ 6 سال سے۔۔۔۔” شاویز نے سوچنے کے انداز میں آنکھیں چھوٹی کر کے انسومنیا کی مدت بتائی۔

“تو کسی ڈاکٹر کو دکھایا۔۔۔۔” عارفہ نے نرمی سے پوچھا۔

شاویز اسے اپنے سینے سے ہٹاتے ہوئے نیم دراز ہو کر بیٹھ گیا۔

“ہاں دکھایا تھا۔۔۔۔ کہتے ہے۔۔۔۔ ٹینشن سے ہے۔۔۔۔ میں ٹینشن لینا چھوڑ دوں گا تو یہ بھی ختم ہوجائے گا۔۔۔۔” شاویز نے پھیکا مسکراتے ہوئے کہا۔

“اب تو سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے۔۔۔۔ اب کس بات کی ٹینشن۔۔۔” عارفہ نے معصومیت سے شانے اچکاتے ہوئے کہا۔

“سب کچھ کھو دینی کی ٹینشن۔۔۔۔ کبھی کبھی ڈر لگتا ہے۔۔۔۔ کہی یہ سب میرے خوابوں جیسا کوئی خواب نہ ہو۔۔۔۔۔ ادھر میری آنکھ کھلی۔۔۔۔ اور سب کچھ غائب۔۔۔۔” شاویز نے اپنی دلی کیفیت ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

عارفہ نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ لیا۔

“ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ اور بلفرض ہو بھی جائے۔۔۔۔ کبھی ایسا موقع آئے کہ سب تمہیں چھوڑ دے۔۔۔ میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔ چاہے حالت کیسے بھی ہو۔۔۔۔۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔” عارفہ نے پر امید انداز میں اسے تسلی دی۔

شاویز اسے دیکھ کر مسکرایا اور پھر شرارتی لہجہ بنایا۔

“اچھا۔۔۔۔۔ اتنا پیار کرتی ہو مجھ سے۔۔۔۔” اس نے چھیڑنے کے انداز میں پوچھا۔

عارفہ اس کا انداز سمجھ گئی پر خود کو نارمل رکھنے اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔

“ابھی تک کا تو نہیں پتا۔۔۔۔ پر اب تمہارے علاوہ کسی اور سے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔۔” عارفہ نے شاویز کا ہی جملہ دوہرایا۔

“اووو اچھا۔۔۔۔ میری بلی مجھ ہی کو میاو۔۔۔” شاویز شرارتی انداز میں کہتے ساتھ ہی عارفہ پر جھڑپ پڑا اور اسے گدگدانے لگا۔

“ہاہا ہاہا۔۔۔۔ ااا۔۔۔۔ شاویز۔۔۔” عارفہ ہنستے ہوئے اسے اپنے اوپر سے ہٹانے لگے۔ شاویز نے ہٹنے کے بجائے اس کے کندھے پر سر رکھا اور آنکھیں موندھ لی۔

اپنی زوجہ کے بانہوں میں وہ پر سکون نیند سو گیا تھا۔

واقعی نکاح میں وہ طاقت ہے جو دو اجنبیوں کو جان سے عزیز بنا دیتی ہے۔ محرم کے ساتھ وہ سکون ہے جو ہزار نا محرم، دنیا کی ہر نعمت بھی لا دے لیکن وہ تسکین نہیں ملتی جو اپنے محرم محبت کے ساتھ ملتی ہے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شادی کے بابت ایک ہفتہ چھٹی کر کے آج سے شاویز نے واپس جاب پر جانا شروع کر دیا تھا۔ وہی دوسری جانب سحر اور عارفہ نے ماسٹرز میں داخلہ لیں لیا تھا۔ سحر کا شاویز سے تعلق بھی ہموار ہوگیا تھا۔ وہ دونوں اب اچھے سے رہنے لگے تھے۔

مزید ایک ہفتہ تک زندگی خوشحال چلتی رہی پھر ایک ضروری میشن کی خاطر اسے کچھ دن ڈی آئی خان جانا پڑا۔

عارفہ کا شادی کے اتنے کم دنوں بعد شاویز کے دوسرے شہر جانے سے دل اداس ہوگیا تھا۔ لیکن دلاور صاحب ہو عابدہ بیگم ہو یا سحر اور صائم سب کے ساتھ اس کا اچھے سے ٹائم پاس ہوجاتا۔ ایک دو دن وہ اپنے میکے بھی رہنے گئی۔ شاویز سے اس کی صبح اٹھ کر اور رات سونے سے پہلے لازمی کال پر بات ہوجایا کرتی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز ڈیرہ اسماعیل خان ایک پارٹی کے چیئر مین کی تفتیش کرنے آیا تھا۔ عمران خٹک اپنے علاقے کا بہت پہنچا ہوا لیڈر تھا۔ رو بہ رو تو وہ بہت پارسا اور پاکیزہ لیڈر بنتا لیکن پس منظر اس کے خیلاف کئی ساری خفیہ وارداتوں کے ریکارڈ درج کئے گئے تھے۔ اور اب آخر اس کی فائل آرمی ایجنسی کے حوالے کر دی گئی تھی۔ جس کی تصدیق کرنے ایجنسی نے شاویز کو تفتیش کے لیے بھیجا۔

شاویز لگا تار عمران خٹک پر معلومات جمع کر کے اپنے ایجنسی کو پہنچانے میں لگا تھا جب ایک دن اسے اپنے پیچے دو آدمی کافی دیر سے چلتے محسوس ہوئے۔ شاویز نے محتاط انداز میں جیبوں میں ہاتھ ڈالے چلتے خود کو انجان ظاہر کیا۔ کچھ فاصلہ چل کر اس نے اپنے دونوں سائیڈ پر بھی آدمیوں کو چلتے پایا تب وہ الرٹ ہوگیا۔ وہ دفاعی وار کرنے مڑا تھا کہ ٹھٹک گیا۔ سامنے والے آدمی نے اس پر گن تھان رکھی تھی۔ اسی اثناء پیچے سے چارو آدمیوں نے اسے جکڑ لیا۔ ان میں سے ایک نے تیزی سے کمر میں چھپائی اس کی گن نکال کر لے لی۔ پھر موبائل اور ہاتھ میں پہنی گھڑی بھی نکال لی۔

“کوئی ہوشیاری نہیں۔۔۔۔۔ چپ چاپ ہمارے ساتھ چلو۔۔۔۔” گن تھانے آدمی نے ڈٹے آواز میں اسے دھمکایا اور اپنے ساتھی کو اشارہ کیا۔ اس ساتھی نے آگے آکر شاویز کے چہرے پر کالا تھیلا پہنا دیا تا کہ وہ راستہ نہ دیکھ سکے کہ اسے کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ شاویز بغیر مزمت کئے خاموشی سے ان آدمیوں کے گھیرے میں کھڑا رہا۔ ان 6 سے 8 آدمیوں کے پاس اسلحہ تھے جبکہ شاویز اکیلا اور بغیر اسلحہ کے۔ شاویز کو ان کا مقابلہ کرنے میں دقت محسوس ہورہی تھی۔ دو آدمیوں نے اسے گھسیٹتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا دیا۔

ایک طویل مسافت طے کرنے کے بعد شاویز کو گاڑی سے اتار دیا گیا۔ اس کے چہرے پر کالا تھیلا اب بھی موجود تھا۔ ایک آدمی نے اس کے ہاتھ پیچے کر کے زنجیروں میں جکڑ دیئے۔ پھر اسی طرح بازووں سے پکڑ کر اسے سیڑھیاں اترنے کا کہا اور ایک تہہ خانے میں دھکہ دے کر پٹخ دیا۔ شاویز کے چونکہ ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور چہرے پر کالا تھیلا تھا اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا وہ لھڑکرا کر فرش پر جا بیٹھا۔

اسے اپنے سامنے بھاری قدموں کی آواز آتی محسوس ہوئی۔ اس کے اغوا کاروں میں سے ایک نے اس کے چہرے سے تھیلا اتار پھینکا۔ اچانک روشنی پڑنے سے شاویز کی آنکھیں چندیا گئی۔ وہ پلکیں جھپکاتا ہوا آس پاس کمرے کا اور وہاں موجود اسلحہ دار گروہ کا جائزہ لینے لگا۔

“تو اس بچے کو لگایا ہے آرمی نے ہمارے تفتیش کرنے۔۔۔۔۔” شاویز کے سماعتوں میں رعب دار ڈٹی آواز پڑی۔ وہ ہٹا کٹا لمبا چوڑا اڈھیر عمر آدمی بڑی بڑی سفید مونچھوں کو تاو دیتا ہوا شاویز کے قریب آیا۔

“کون ہے آپ لوگ۔۔۔۔۔۔ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں۔۔۔۔” شاویز اس تناآوار عمران خٹک کو اور اس کے بدمعاشوں کو پہچان تو گیا تھا لیکن خود کو انجان ظاہر کرنے معصوم بن رہا تھا۔

“عمران خٹک کو ایجنسی کے ہاتھوں پکڑوائے گا تم۔۔۔۔ اتنی آج تک کسی میں جرآت نہیں ہوئی ہے۔۔۔۔” عمران خٹک نے شاویز کو لات ماری تو وہ فرش پر گر پڑا۔

“کون عمران خٹک۔۔۔۔۔ میں تو اس نام سے کسی کو نہیں جانتا۔۔۔۔۔ میں تو اپنی دھن میں چل رہا تھا۔۔۔۔ آپ کے آدمی غلط فہمی میں اٹھا کر لائے ہے سر۔۔۔۔۔ پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔۔” شاویز نے اب بھی اداکاری جاری رکھی تھی کہ اس کے منہ پر زوردار ضرب لگا۔

“کیا بیوقوف سمجھا ہے ہم کو۔۔۔۔۔ بند کر اپنا ناٹک۔۔۔۔ ہم جانتا ہے۔۔۔۔۔ تم کون ہے اور کس کے لیے کام کر رہا ہے۔۔۔۔۔ سیدھی طرح بتا۔۔۔۔۔۔ عمران خٹک صاحب کی فائل کہاں رکھی ہے۔۔۔۔” ان بدمعاشوں کے سربراہ نے آگے آکر پہلے شاویز کے منہ پر ضرب لگایا اور پھر اس کا جبڑا مضبوطی سے پکڑے ہوئے اس پر چلایا۔

شاویز کے آبرو تن گئے لیکن اس کے ہاتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ اس نے پیروں کے بل خود کو سیدھا کیا اور ایک لات علی کو دے ماری وہ ڈگمگا کر دور جا گرا۔ طیش میں آکر دوسرے ساتھی نے شاویز کے پیٹھ پر اسلحہ سے ضرب دیا اور باقیوں کو اس کے پیر بھی باندھنے کا کہا۔ وہ سب تیزی سے شاویز کو جکڑے اس کے پیروں پر زنجیریں لپیٹنے لگے۔ شاویز اپنے شاہ سوار کے انداز میں اپنے آپ کو ان سے دور کرنے لگا لیکن اس کی محنت بیکار تھی۔ ہاتھ پیر بندھے ہونے کے باعث وہ ان آدمیوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھا۔

“علی۔۔۔۔۔ ہم کو ہمارا فائل چاہیئے۔۔۔۔۔ اس کو اتنا مارو کہ اس کی چمڑی اتر جائے پر ہمارے فائل کی معلومات نکلوا کر رہو۔۔۔۔” عمران خٹک اپنے ڈٹے آواز میں داڑھی مونچھوں کو ناو دیتے حکم صادر کر کے چلے گئے۔

شاویز سے اس کا موبائل۔ اس کی گھڑی۔ اس کی گن پہلے ہی وہ لوگ لیں چکے تھے۔ اس وقت وہ مزید اس کی تلاشی کر کے اس کے پاس موجود آہنی آلات نکال رہے تھے حتہ کہ اس کے جوتے بھی اتار دیئے۔ اس کے بدن پر صرف قمیض اور شلوار رہنے دیا تا کہ وہ کسی بھی خفیہ طریقے سے اپنے ایجنسی کو مطلع نہ کر سکے۔

“صاف صاف بتا دیں۔۔۔۔۔ فائل کدھر چھپائی ہے۔۔۔۔۔۔ ” علی ایک مرتبہ پھر اس کے پاس آکر غرایا تھا۔

شاویز نے تیز نظریں اس پر جمائی۔

“جان سے بھی مار دو۔۔۔۔۔ تب بھی نہیں بتاوں گا۔۔۔۔” شاویز نے تند و تیز آواز میں دانت پیستے ہوئے کہا۔

اس کا جواب سن کر علی کا پارا آسمان پر چڑھ گیا اس نے ہاتھ کی مٹھی بنا کر شاویز کے منہ پر ضرب لگایا۔

شاویز کا موازنہ بگڑ گیا لیکن خود کو گر پڑنے سے بچا لیا تھا۔ اس کے جبڑے میں شدید ٹیس اٹھ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ پڑنے لگی۔ ضبط کرتے ہوئے اس نے ہونٹوں پر رستا خون زبان پھیر کر صاف کیا اور دوسری جانب رخ کر کے تھوک دیا۔ اسے حقارت سے گھورتے ہوئے علی اور اس کے ساتھی کمرے سے باہر نکل گئے۔

ان کے جاتے ہی شاویز کے دماغ نے دوڑنا شروع کیا۔ عقابی نظریں ہر چیز پر دوڑاتے ہوئے سماعتوں کو تیز رکھے ہوئے۔ چھت پر چلنے پھیرنے کی آوازیں سن کر اس نے جانچ لیا کہ وہ کسی تہہ خانے میں ہے۔ اس کمرے سے نکلنے کا وہی ایک راستہ ہے جس سے ابھی علی باہر گیا ہے۔ کمرے کے وسطی دیوار پر کونے میں ایک چھوٹا سا روشن دان تھا۔ اس میں سے باہر سے آتی آوازیں سن کر شاویز نے یہ بھی معلوم کیا کہ وہاں صرف یہی 7 یا 6 لوگ نہیں ہے بلکہ بدمعاشوں کا پورا گروہ ہے۔ زنجیروں میں جکڑے ہوئے بغیر کسی ہتھیار کے اس کا وہاں سے نکلنا نا ممکن ہے۔ اب جب کوئی اندر آئے گا تو شاویز کو اس کا اسلحہ اچکنا ہوگا؛ سوچتے ہوئے اس نے پھر سے ہاتھوں کو حرکت دینا شروع کیا تاکہ کچھ تو زنجیروں کی مضبوطی آزاد ہو سکے۔

شاویز نے اتنا زور لگایا کہ اس کی کلائیاں تک گھس گئی ان سے خون بہنے لگا لیکن زنجیروں کی مضبوطی کم نہ ہوسکی۔ پھر بھی شاویز نے ہمت نہیں ہاری وہ کوئی اور ترقیب سوچنے لگا۔

خود کو آزاد کروانے کے ترغیبات سوچنے کے ساتھ ساتھ وہ شروع سے آخری لمحے تک کی ساری کاروائی یاد کرنے لگا۔ آخر غلطی کہاں پر ہوئی۔ کس جگہ چُوک ہوگئی جو وہ منظر عام پر آگیا۔ جو وہ اپنے چار سالوں کے کیریئر میں پہلی مرتبہ پکڑا گیا؛ یہ سوال اسے مزید پریشان کر رہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رات بارہ بجے تک بھی جب شاویز کی کال نہیں آئی تو عارفہ پریشان ہوگئی۔ وہ کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہی تھی۔ اس نے خود سے نمبر ملایا تو نمبر بند آرہا تھا۔ اس کا مزید دل ڈوبنے لگا۔ اسے وسوسے ہونے لگے۔ اس نے سوچا جا کر سب کو بتا دیں لیکن چونکہ آدھی رات ہورہی تھی اس لیے اس نے صبح ہونے تک صبر کیا۔

اگلی صبح بھی عارفہ کے ٹرائی کرنے پر جب شاویز کا نمبر بند ملا تو وہ مضطرب ہوگئی۔ صبح ناشتے کی میز پر وہ گم سم سی بیٹھی تھی۔ کسی چیز پر اس کا دھیان نہیں تھا۔ دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اس کی یہ کیفیت دلاور صاحب نے محسوس کر لی۔ وہ آفس جانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ انہوں نے ٹوسٹ کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے اسے پکارا لیکن عارفہ کی جانب سے جواب ندارد تھا۔ وہ وہاں موجود ہی نہیں لگی۔ تب دلاور صاحب اٹھ کر اس کے پاس آئے اور اس کے سر پر نرمی سے ہاتھ پھیرا۔

اپنے سر پر کسی کا لمس محسوس کرتے عارفہ کے حواس بحال ہوئے تو دلاور صاحب کو اپنے سرہانے کھڑے پا کر وہ احتراماً کھڑی ہوگئی۔

“کیا بات ہے۔۔۔۔۔ پریشان لگ رہی ہو۔۔۔۔” انہوں نے نرمی سے پوچھا۔

عارفہ کا دل بھرا گیا۔ اس کا دل کیا وہ ان سے لپٹ کر رو پڑئے۔

“پاپا۔۔۔۔۔ شاویز کا رات سے نمبر نہیں مل رہا۔۔۔۔ ” عارفہ نے ہچکچاتے ہوئے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔

“ہاں تو۔۔۔۔ مصروف ہوگا۔۔۔۔۔ تم جانتی تو ہو اس کے کام کی نوعیت۔۔۔۔ اکثر و بیشتر ایسے کیس میں وہ لوگ اپنا موبائل بند کر دیتے ہے۔۔۔۔۔ تا کہ پکڑے نہ جائے۔۔۔۔ یہ ان کے جاب کا حصہ ہوتا ہے۔۔۔۔” پاپا شفقت سے اپنی بہو کو سمجھانے لگے۔

“پریشان مت ہو۔۔۔۔ جیسی وہ فارغ ہوگا ضرور کال کرے گا۔۔۔” اسے تسلی دیتے ہوئے پاپا نے عارفہ کے کندھے کو تھپتھپایا۔

عارفہ ان کا لحاظ کرتے ہوئے پھیکا مسکرائی اور سر اثابت میں ہلایا۔

اسے تسلی ہوتے دیکھ کر دلاور صاحب آفس جانے کے لیے بڑھ گئے۔

سحر معصومیت سے عارفہ کے پاس آئی اور اس کے گرد بازو مائل کئے۔

“اdon’t worry۔۔۔۔۔ شاویز ٹھیک ہوگا۔۔۔۔” وہ اپنی بیسٹ فرینڈ کی دلی کیفیت سمجھ گئی تھی اس لیے اسے سمجھاتے ہوئے اس کا دھیان بٹانے اپنے ساتھ لیئے یونیورسٹی کے لیے روانہ ہوگئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہی دوسری جانب شاویز رات بھر ترغیبات کر کے بھی خود کو آزاد نہیں کر سکا تھا۔ صبح سویرے دھڑا دھڑ دروازہ کھلا اور وہی چھ سات چہرے اس کے سامنے آئے۔ کل کے بہ نسبت آج علی کے تاثرات پہلے سے زیادہ سخت تھے۔ اس نے آتے ہی شاویز کے بال مٹھی میں جکڑ لیئے اور اس کا رخ اپنے جانب بلند کیا۔

“دیکھ۔۔۔۔۔ ہم تجھے ساری زندگی ادھر نہیں رکھ سکتا۔۔۔۔۔ جلدی بتا فائل کدھر ہے۔۔۔۔۔ کہاں رکھا ہے۔۔۔۔۔” علی اپنے پٹھانی لہجے میں شاویز پر غرایا۔

وہ پھر بھی لب مینچھے رہا تو علی نے شاویز کے پیٹھ پر لات مار کر اسے اوندھے منہ گرا دیا۔ اپنے ساتھی سے ہنٹر لے کر وہ شاویز کے پٹھوں اور کندھوں پر ضربیں لگانے لگا۔ ضرب اتنی زوردار ہوتی کہ شاویز سانس روکے دانت جمائے ہوئے آنکھیں سختی سے مینچھے درد برداشت کرنے لگا۔ مارتے مارتے علی تھک گیا لیکن شاویز کے زبان سے اففف تک نہیں نکلی۔ شاویز کی سفید قمیض جگہ جگہ سے پھٹ گئی اور خون سے تر ہونے لگی۔

علی کی سانس پھول گئی۔ وہ تنفس نارمل کرنے کچھ دیر رک گیا۔ تب ہی اس کا موبائل بجنے لگا۔ وہ کونے میں جا کر کال سننے لگا۔

شاویز کراہتے ہوئے لمبی سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کرنے جتن کرنے لگا۔

“پانی۔۔۔۔ پانی۔۔۔۔۔” اس نے پھولے سانس میں فریاد کی۔ اسے کل سے بھوکا پیاسا رکھا گیا تھا۔ اب اتنی مار کھا کر اس کا گلا خشک ہو رہا تھا۔

“لالا۔۔۔۔ وہ پانی مانگ رہا ہے۔۔۔”

ان میں سے ایک چھوٹے قد آدمی نے علی کو متوجہ کیا۔

علی نے کال کاٹی اور ہاتھ اٹھا کر اس چھوٹے قد آمی کو کہنی دکھائی۔ وہ سہم کر پیچے ہوگیا۔

“تمہارے ماما کا لڑکا ہے۔۔۔۔۔ جو اس پر رحم آرہا ہے۔۔۔۔۔ چل نکل۔۔۔۔ پانی مانگ رہا ہے۔۔۔۔” علی نے ڈانٹ کر اسے جھڑکا اور کرہٹ بھرے لہجے میں اس کا جملہ دوہرایا۔ وہ آدمی چھنپ سا گیا اور کونے میں جا کر کھڑا ہوگیا۔

شاویز یہی دیکھنا چاہتا تھا کہ ان میں سے کس کے اندر کچھ انسانیت باقی ہے اور اس کے فریاد پر کوئی عمل دکھائے گا۔ اب شاویز کا ٹارگٹ وہ چھوٹا قد آدمی تھا۔ شاویز اسے اپنے باتوں میں پھسلا کر کچھ مدد لے سکتا تھا۔ لیکن اس کے سامنے بھی علی نام کا پہاڑ آ کھڑا ہو گیا تھا۔ پہلے شاویز کو علی کو سامنے سے ہٹانا تھا جو کہ نا ممکن کے مترادف تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆