Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bikhare Rishte (Episode 13)

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

ایک ہفتے تک صائم کا پیر بہتر ہو گیا تھا۔ وہ بغیر مدد کے چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تھا۔ اس کے ہاتھ کی پٹی اتر چکی تھی اور پھیکی رنگت بحال ہوگئی تھی۔

ہفتہ کے دن دلاور صاحب کے گھر صبح سے ہی بھاگ دوڑ لگی تھی۔ انہیں چار بجے خاص مہمانوں کے ہمراہ کمپنی سائیڈ پر افتتاح کرنے پہنچنا تھا۔ اور پھر رات کو شہر کے سب سے عالی شان ہال میں پارٹی رکھی گئی تھی جس میں تمام عزیز و اقارب سمیت شہر کے کئی معزز شخصیات اور میڈیا کے باشندے مدعو کئے گئے تھے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز نے آج کے دن کے لیے لانگ کوٹ نما پوشاک پہنا چہرے پر نقاب لگایا جوتے کس کر باندھے۔ احتیاطی طور پر حفاظت کے لیے اپنی گن بھی اٹھا لی تھی۔ جاتے جاتے اس نے اپنی اور زرتاج کی تصویر پر ایک نظر ضرور ڈالی۔

آج اگر سب کچھ پلان کے مطابق ہوا تو یہ اس کی سب سے بڑی چیت ہوگی؛ سوچتے ہوئے اس کے آبرو تن گئے اسے دلاور پرویز خان پر شدید غصہ آنے لگا۔ الماری کا پھٹ بند کر کے وہ گاڑی کی چابی اٹھائے گھر سے نکل گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

افتتاحی تقریب پورے جوش و جذبہ کے ساتھ چیف منسٹر کے ہاتھوں ربن کاٹ کر اختتام پزیر ہوا۔

عابدہ بیگم صائم سحر عارفہ اور اس کی فیملی۔ جاوید اور اس کی فیملی سمیت سب ہی قریبی دوست و رشتہ داروں نے اپنی موجودگی سے اس تقریب کی زینت بڑھائی۔

کمپنی کا اندورنی معائنہ کرنے کے بعد میڈیا والے دلاور صاحب سے اس کی کمپنی کی خصوصیات کا پوچھنے لگے۔ ہجوم سے دور ایک محفوظ جگہ پر کھڑا لانگ کوٹ کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ دلاور صاحب کی تقریر سن رہا تھا۔ وہ اتنے مستحکم بھرے انداز اور عاجزی سے سب کے سوالات کے جواب دیتے کہ کچھ وقت کے لیے تو شاویز بھی دھوکہ ہوجاتا۔

شام ہونے والی تھی۔ وہاں سے رخصت ہو کر سب وہی سے ہال کے جانب روانہ ہوگئے۔

تب وہاں چند سیکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ شاویز نے موقع دیکھ کر آس پاس عقابی نظروں سے دیکھتے ہوئے کمپنی کے احاتے کی جانب بڑھ گیا۔

دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے وہ یک دم اس پر چڑھ کر اندر پھلانگ گیا۔ چوکیدار نے اسے دیکھ کر شور مچانا چاہا پر اس سے پہلے ہی شاویز نے تیزی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور گردن میں انجیکشن چبا کر اسے بے ہوش کر دیا۔

کیمرے کی آنکھ سے بچ کر اندھیرے میں چلتے وہ گیٹ تک آیا۔ راشد ہاشمی کے آدمی گیٹ کے پار اس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ شاویز نے گیٹ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ ڈیجیٹل لاک تھا صرف سیکیورٹی اہلکاروں کے fingerprint سے کھل سکتا تھا۔ وہ طیش میں دیوار پر لات مارتا ہوا ایک سائیڈ سے خفیہ انداز میں چلتے ہوئے سکیورٹی کمرے کے دروازے تک آیا۔

ایک ہی جھٹکے میں اس نے دروازہ دکھیلا۔ جب تک اسکرین کے آگے بیٹھے اہلکار ہڑبڑا کر کھڑے ہوئے شاویز نے نشہ آور سوئی ان دونوں پر ایک ایک کر کے شوٹ کر دی اور وہ دونوں زمین بوس ہو کر بے ہوش ہوگئے۔

پھر شاویز نے آگے بڑھ کر سب کیمروں کے وائر نکال پھینکے۔ سارے اسکرین ایک ساتھ تاریک ہوگئے۔ شاویز ان میں سے ایک اہلکار کو گھسیٹھتے ہوئے باہر لایا اور اس کا انگوٹھا ڈیجیٹل لاک کے حصہ پر رکھا۔ ایک سبز لکیر اس کے انگھوٹے پر سے گزری اور چند ہی سکینڈ میں گیٹ کھل گیا۔

راشد ہاشمی کے آدمی ہاتھوں میں پٹرول کے دبے لیئے کمپنی میں داخل ہوئے اور شاویز کے اشارے پر الگ الگ ہو کر سب جگہ پٹرول چھڑکنے لگے۔

جب تک وہ لوگ کپمنی میں پیٹرول پاشی کر رہے تھے شاویز چوکیدار اور دونوں سیکیورٹی اہلکاروں کو احاطے سے باہر لے گیا۔

وہ صرف کمپنی کو جلانا چاہتا تھا کسی کو جانی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔

پورے کمپنی کو پیٹرول سے تر کر کے وہ غنڈے باہر آئے۔ شاویز نے سر کے جنبش سے اجازت دی تو ان میں سے ایک نے لکڑی کے ڈنڈے پر کپڑا لپیٹ کر شعلہ بھڑکایا اور فوراً سے کمپنی کے طرف اچھال دیا۔ ایک لمحے میں اس کی آنکھوں کے سامنے آگ بھڑک گئی۔ جیسے جیسے کمپنی کے ہر گوشے میں ایک ایک کر کے آگ لگتی گئی ویسے ویسے شاویز کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلتی گئی۔

اس نے باقیوں کو رخصت کیا پر خود وہی رکا رہا۔ اس کی خواہش تھی کہ جب دلاور صاحب کو خبر ہوگی اور وہ بھاگے بھاگے آئے گے تو وہ وہی رک کر دلاور پرویز خان کی آہ و بکا اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ وہ نفرت اور حقارت سے اس لمحے کو تصور کر کے ہی محظوظ ہو رہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شہر کے سب سے بڑے اور عالی شان ہال میں اس وقت پارٹی اپنے زور و شور سے جاری تھی۔ سب ہاتھوں میں مشروبات کا گلاس تھامے ادھر ادھر ٹہل رہے تھے۔ کچھ وہاں موجود براہ راست موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ عارفہ سحر کے ساتھ ساتھ ٹہلتی بہانے بہانے سے اسے لیئے entrance گیٹ کے پاس آجاتی جہاں جاوید بلیک سوٹ میں ملبوس ہاتھ میں پولیس کا وائر لیس پکڑے حفاظتی انتظامات پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

عارفہ سحر کو اس سے بات کرنے آگے دکھیل دیتی لکین وہ گڑبڑا کر واپس الٹے قدم اندر بھاگ جاتی اور عارفہ سر پکڑ کر اس پر غصہ کرتی رہ جاتی۔

عابدہ بیگم اپنے ہم۔منصبوں اور سہیلیوں کے ساتھ گپ شپ میں مشغول تھی۔ صائم اپنے دوستوں کے بیچ پیر لمبا کئے بیٹھا تھا۔ اس نے شاویز کو بھی مدعو کیا تھا لیکن وہ out of town ہونے کا بہانہ کر کے معذرت کر گیا تھا۔

دلاور صاحب مہمانوں کی خیر مقدمی کرتے ہوئے ہنستے مسکراتے ہر مہمان کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں کھچوا رہے تھے جو وہاں موجود میڈیا والے بھی اپنی کیمروں میں ریکارڈ کر رہے تھے۔

ابھی دلاور صاحب اپنے ایک ہم منصب بزنس مین کے کندھے پر ہاتھ رکھے کچھ گفتگو فرما رہے تھے کہ ان کا سکرٹری ذاکر پسینہ صاف کرتا ہوا اپنے تاثرات نارمل رکھنے کی کوشش کرتا ان کے پاس آیا اور کان میں کچھ سرگوشی کی۔ دلاور صاحب کے آبرو تعجب سے پھیل گئے وہ مہمان سے معذرت کرتے تیز قدموں سے اس کے ساتھ ساتھ باہر کی جانب بڑھ گئے۔

عورتوں کے گھیرے میں کھڑی خوبصورت اور دلکش تیار شدہ عابدہ بیگم بھی دلاور صاحب کو پریشان ہوتے سکرٹری کے ساتھ باہر نکلتے دیکھ کر گھبرا گئی اور ان کے پیچے چل پڑی۔

سب مہمان ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران پریشان چی مگوئیاں کرنے لگے۔

اسی اثناء سب میڈیا رپورٹرز کے موبائل بھی بجنے لگے۔

ہال میں اچانک پریشانی کا سماء بندھ گیا تھا موسیقار نے حالت گھمبیر ہوتے دیکھ کر موسیقی روک دی۔

“کیا ہوا ذاکر۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔۔۔ ایسی ایمرجنسی میں باہر کیوں بلایا۔” دلاور صاحب نے ایک کونے میں آکر سکرٹری ذاکر کو مخاطب کیا۔ عابدہ بیگم بھی روہانسی ہوکر اسے دیکھ رہی تھی۔ انہیں اس طرح تشویش میں دیکھ کر جاوید بھی بھاگ کر ان کے سمت آیا۔

“سر۔۔۔۔۔ بات ہی کچھ ایسی ہے۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔ اصل میں۔۔۔۔۔۔ کمپنی میں۔۔۔۔ آگ لگ گئی ہے۔۔۔۔” ذاکر نے لب کاٹتے ہوئے افسردگی سے سر جھکائے ہوئے ٹوٹے لفظوں میں خبر ان کو بیاں کی۔

عابدہ بیگم نے منہ پر ہاتھ رکھ لیے وہی دلاور صاحب نے ہاتھ ناگہانی میں سینے پر رکھ لیا اور جاوید تو مانو سانس لینا بھول گیا۔

سب مہمان اور میڈیا والے بھی حقیقت جاننے باہر آگئے۔ سحر اور صائم تیزی سے عابدہ بیگم کو سنبھالنے قریب آئے۔ دلاور صاحب سے کچھ کہا نہیں گیا وہ اپنی ساری قوت لگا کر ہال کی سیڑھیاں اترنے لگے۔ ان کا رخ اپنی گاڑی کے جانب تھا۔

“خان انکل رکیں۔۔۔۔۔” ان کے پیچے جاوید بھی ان کو پکارتا ہوا بھاگا۔

“مما کیا ہوا۔۔۔۔” سحر نے خوف زدہ سی ہو کر مما سے پوچھا۔ عارفہ اور اس کے والدین بھی عابدہ بیگم کو سنبھالنے قریب آگئے تھے۔

“بیٹا کمپنی میں آگ لگ گئی ہے۔۔۔۔” عابدہ بیگم کہتے کہتے وہی بیٹھ گئی اور زار و قطار رونے لگی۔ سحر کے بھی آنسو جاری ہو گئے تھے۔ صائم پاپا کے ساتھ جانا چاہتا تھا لیکن پٹی بندھے پیر کی وجہ سے وہ بھاگ نہ سکا۔ تو وہی رک کر ماں اور بہن کو دلاسہ دینے لگا۔

ان کے پیچے سارے میڈیا کارکنان بھی اپنی گاڑیوں میں سوار ہوئے اور زن کر کے جائے وقوعہ کے جانب گاڑیاں دوڑا دی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جاوید دلاور صاحب کے ساتھ ان کی کار میں آگیا تھا۔ پورا راستہ وہ دلاور صاحب کو حوصلہ رکھنے اور صبر سے کام لینے کی تلقین کرتا رہا لیکن ان کے اوسان خطا ہو گئے تھے۔ وہ خوف و ہراس میں مبتلا کانپنے لگے تھے۔ جاوید نے ساتھ ساتھ فائر بریگیڈ والوں کو بھی اطلاع کر دی تھی۔

کمپنی کے آس پاس سارا علاقہ کالے دھوئیں کی زد میں آچکا تھا۔ دلاور صاحب کار روک کر نیچے اترے۔ اپنی آنکھوں سے محنت سے بنائی اپنی کپمنی کو راکھ ہوتے دیکھ کر وہ آپے سے باہر ہوگئے اور آگ کے قریب جانے لگے کہ جاوید نے انہیں بازووں میں جکڑ لیا۔ وہ خود کو اس کے حصار سے آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگے لیکن جاوید نے بلند آواز میں انہیں جھنجھوڑ دیا۔

“ہوش سے کام لیں۔۔۔۔۔ پلیز خان انکل۔۔۔۔۔۔حوصلہ رکھیں ۔” دلاور صاحب نے مایوسی سے جاوید کو دیکھا اس نے دل گرفتگی سے نفی میں سر ہلایا۔

دلاور صاحب کمپنی کے ڈھیر ہوتے عمارت کے طرف دیکھ کر جذباتی ہوگئے اور وہی زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رونے لگے۔ اسی دوران فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی پہنچی۔ تیز تیز پائپ برابر کیا اور آگ بجانے پانی کی بوچھاڑ کر دی۔

جاوید پیشانی پر ہاتھ رکھے لب مینچھے بھیگی آنکھوں سے روتے ہوئے دلاور پرویز خان کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے انہیں چپ نہیں کروایا بلکہ رونے دیا تاکہ دل کا درد آنسوؤں کے ذریعے بہہ جائے۔

دوسری جانب دور چھپ کر کھڑے شاویز نے ان کو بے بس دیکھتے ہوئے سکون کی لمبی سانس لی اور آنکھیں بند کر کے وہ لمحہ اپنے یادوں میں قید کر لیا۔ جب دل کے ٹکڑے ہوتے ہیں تب کیسا محسوس ہوتا ہے یہ دلاور کو احساس ہوگیا ہوگا؛ سوچتے ہوئے شاویز تنے آبرو لیئے وہاں سے دبے قدموں روانہ ہوگیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

اب مزید دلاور صاحب کا وہاں کوئی کام نہ تھا۔ جاوید انہیں سنبھالے ہوئے گھر لے آیا تھا۔ عابدہ بیگم اور بچے بھی آچکے تھے۔ دلاور صاحب کی سرخ پڑتی آنکھیں ان کا رو رو کر ہلکان ہونے کا راز صاف بیان کر گئی تھی۔ وہ تینوں ان کے پاس آئے لیکن جاوید نے خود ہی انہیں کمرے تک لے جانے کا اشارہ کیا۔ میاں کی یہ حالت دیکھ کر عابدہ بیگم پھر سے زار و قطار رونے لگی۔ صائم اپنے پیر کا زخم بھولے پاپا کا ہاتھ پکڑ کر جاوید کے ساتھ مل کر انہیں کمرے تک لایا اور بیڈ پر بیٹھا دیا۔

“پاپا۔۔۔۔۔” سحر نے گیلی سانس اندر کھینچ کر انہیں مخاطب کیا پر وہ اب بھی نظریں جھکائے خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے۔

سحر پھر بھی ان کے پہلو میں بیٹھی ان کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی جبکہ صائم اور جاوید عابدہ بیگم کو دلاسہ دینے لگے تھے۔ اچانک دلاور صاحب کو متلی ہونے لگی وہ کھانستے ہوئے اٹھے اور تیزی سے واشروم میں چلے گئے۔ عابدہ بیگم بھی ان کے پیچے چلی گئی تاکہ مدد کر سکے۔

“میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں۔۔۔۔” جاوید ڈاکٹر کو کال کرنے کمرے سے باہر نکل گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

“گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔ بی پی زرا ہائی ہوگیا تھا۔۔۔۔ میں نے مڈیسن دی ہے۔۔۔۔۔ کچھ دیر دیکھ لیں اگر حالت نہیں سنبھلی۔۔۔ تو ہسپتال اڈمٹ کرنا پڑے گا۔” ڈاکٹر نے دلاور صاحب کا چیک اپ کر کے انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا۔

عابدہ بیگم خود کو کمپوز کرتے ہوئے ان کے پاس بیٹھی اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

“آپ اپنی طبیعت خراب نہ کریں۔۔۔۔۔۔ اللہ آپ کو لبمی زندگی دے۔۔۔۔۔ کمپنیاں اور بن جائے گی۔۔۔۔۔ ہمارا سب کچھ تو آپ ہے۔۔۔۔ آپ کو خدا نخاستہ کچھ ہوگیا تو ہم کیسے زندہ رہے گے۔۔۔۔ ” وہ کہتے ہوئے ان کے کندھے پر سر رکھ کر پھر سے رونے لگی۔

“ہاں پاپا۔۔۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ جو ہوا اسے خود پر اتنا سوار نہ کریں۔۔۔۔۔ آپ تو بہت با حوصلہ ہے۔۔۔۔۔۔ صبر سے کام لیں۔۔۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔۔” سحر بھی بیڈ کے دوسرے حصہ سے ان کے پاس آکر ان کے کندھے سے لپٹ گئی۔ صائم ان کے پیروں کے پاس آبدیدہ سا بیٹھ گیا تھا۔

دلاور صاحب نے اپنی سب سے بڑی طاقت، اپنے بیوی بچوں کو صحیح سلامت اپنے سرہانے دیکھا تو پلکیں جھپکائی اور ان کے گرد بازو مائل کئیے۔

“شکریہ میرے بچوں۔۔۔۔ میں اللہ کا صد شکرگزار ہوں کہ۔۔۔۔۔۔ میری بیوی میرے بچیں میرے ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔ پتا نہیں اگر تم لوگ نہ ہوتے تو میں ان حالات کا سامنا کیسے کر پاتا۔۔۔” دلاور صاحب نے بھر آئی آواز میں کہا۔

ان کی حالت سنبھلتے دیکھ کر جاوید نے رخصت لی اور اپنے گھر کو روانہ ہوگیا۔

جاتے جاتے سحر نے اس کی پشت کو دیکھا۔ اسے اپنے پاپا کی اتنی مدد کرتے دیکھ کر سحر کے دل میں جاوید کے لیے چاہت میں مزید اضافہ ہو رہا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ اپنے بیڈروم میں راکنگ چیئر پر پُر سکون بیٹھا چیئر جھلا رہا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا۔

اس نے کال اٹھائی تو راشد ہاشمی کا قہقہہ سنا۔

“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔ بھئی واہ۔۔۔۔۔ مزا آگیا۔۔۔۔۔۔ کمال کر دیا تم نے۔۔۔۔۔ پہلی بار مجھے کوئی واردات کر کے خوشی محسوس ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔ میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ میرے فارم ہاوس پر آو۔۔۔۔۔ ساتھ میں جشن منائے گے۔” انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔

“مل لوں گا۔۔۔۔۔ ضرور ملوں گا۔۔۔۔ جب ایسے ہی ایک ایک کر کے دلاور پرویز خان کی ساری صنعتوں کو آگ کی نظر کر دینگے۔۔۔۔۔۔۔ تب ایک ساتھ سب کامیابیوں کا مل کر جشن مناوں گا۔۔۔۔۔” اس نے استحزیہ مسکرا کر کہا۔

“دلاور کو برباد کرنے کے تیرے اس مشن میں، میں تیرے ساتھ ہوں۔۔۔۔ اگلا واردات کب کہاں کیسے کرنا ہے۔۔۔۔۔ یہ پلان کر کے بتا دینا۔۔۔۔” راشد ہاشمی کی آواز سے ان کی خوشی صاف چھلک رہی تھی۔

“حوصلہ رکھو۔۔۔۔ راشد صاحب۔۔۔۔۔ جلد بازی اچھی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ ابھی کچھ دن انڈر گراؤنڈ ہی رہو۔۔۔۔۔۔ تھوڑا یہ غم تھم جائے پھر دوسرا جھٹکا دینگے۔۔۔۔” اس نے سر چیئر کی پشت سے ٹکایا۔

شاویز کو کئی دنوں بعد کسی بھی دوائی کے بغیر نیند آرہی تھی۔ اسے لگا یہ وہ سکون کی نیند ہوگی جو وہ اتنے سالوں سے چاہتا ہے۔ اس سے پہلے نیند اڑ جاتی وہ کال بند کر کے اٹھا اور اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رات کے تاریکی میں اسے اپنے سرہانے کسی کی رونے کی آواز سنائی دی۔ شاویز نے عنودگی میں آنکھیں کھولی تو زرتاج اس کے سرہانے بیٹھی رو رہی تھی۔

ماں ماں کر کے شاویز نے اسے مخاطب کیا لیکن وہ چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے روئے جا رہی تھی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر زرتاج کو چھونا چاہا پر وہ اچانک بہت دور ہوگئی۔ شاویز نے بیڈ سے اتر کر اس کے پاس بھاگنا چاہا لیکن اس کے ہاتھ پیر زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ وہ بلکتا ہوا چلا چلا کر ماں کو پکارنے لگا۔ ہاتھ پیر چلاتے ہوئے وہ خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگا۔ زرتاج مسلسل روئے جا رہی تھی۔ شاویز کو اس کی سسکیوں سے تکلیف ہونے لگی وہ خود بھی رونے لگا اور اسی اثناء میں اس کی آنکھ کھل گئی۔

وہ گڑبڑا کر بیڈ سے اچھل پڑا۔ اس کی سانس رکنے لگی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے رخسار پر ہاتھ پھیرا تو اس کا گال آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔

اس نے افففف کرتے ہوئے سر پکڑ لیا اور گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔

“تم رو کیوں رہی تھی ماں۔۔۔۔۔۔ آج تو میں نے تمہیں رلانے والے کی ساری خوشیاں پامال کر دی۔۔۔۔۔ آج تو میں نے اسے موت کے قریب لا کھڑا کیا۔۔۔۔۔۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے تھا ماں۔۔۔۔۔ تم رو کیوں رہی تھی۔۔۔۔” شاویز نے گیلے رخسار کو صاف کرتے ہوئے سوچا۔

خواب میں بھی زرتاج کے سسک سسک کر رونے نے اسے مضطرب کر دیا تھا۔ وہ بے چینی سے اٹھا اور بھاری قدموں سے چلتا ہوا واشروم میں داخل ہوگیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ایک ہفتے تک ان کے گھر سوگ کا سماء چھایا رہا پھر آہستہ آہستہ زندگی بحال ہوتی گئی۔

دلاور صاحب اپنے دفتر جانا شروع ہوگئے تھے اور یونیورسٹی میں مڈ ٹرم امتحانات کا آغاز ہوگیا تھا۔

وہ امتحان کا پہلا دن تھا۔ سب ہاتھ میں کتاب پکڑے آخری نظر سبق دوہرا رہے تھے۔

شاویز جینز اور ٹی شرٹ پہنے بال اور ہکلی داڑھی اسٹائل سے بنائے تیزی سے سٹوڈنٹس کے جمکٹے میں در آیا۔

“ہائے سحر۔۔۔۔۔۔ تمہارے پاپا کی کمپنی کے حادثے کا سنا۔۔۔۔۔۔ بہت افسوس ہوا۔۔۔۔” شاویز نے ہمدردی بھرے لہجے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

سحر نے مدھم مسکرا کر سر کو جنبش دے کر افسوس قبول کیا۔ عارفہ سر جھکائے ان کی گفتگو نظر انداز کئے ہوئے کھڑی تھی۔

گھنٹی بجتے ہی سب دکم پھیل کرتے ہوئے ہال کے اندر گھسے اور کمرے امتحان میں اپنے متعین سیٹ پر جا بیٹھے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

صائم اور سحر امتحان دے کر جلدی گھر لوٹے تھے۔ صائم بھی آج کل سحر کے ساتھ گاڑی میں آنا جانا کر رہا تھا۔

شام میں وہ پوری فیملی لاؤنج میں اکھٹے بیٹھے تھے کہ جاوید پورچ کی سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اندر داخل ہوا۔ پہلے متذبذب سا ہوکر سب کو دیکھا پھر دلاور صاحب کے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔

“سب خیریت تو ہے جاوید۔۔۔۔ پریشان لگ رہے ہو۔۔۔” دلاور صاحب نے رخ اس کی جانب کر کے پوچھا۔

عابدہ بیگم نے ملازمہ سے اس کے لیے چائے منگوائی۔ سحر اور صائم خاموش بیٹھے رہے۔

“خان انکل میں حادثے کی اگلی صبح پھر سے سائٹ پر گیا تھا۔۔۔۔۔ مجھے کمپنی کا چوکیدار اور سیکیورٹی والے وہاں سے فاصلے پر بے ہوش ملے۔۔۔۔۔” جاوید نے تسلی سے بات کا آغاز کیا۔ دلاور صاحب پوری توجہ سے اسے سن رہے تھے۔

” انہیں ہوش میں لانے کے بعد انہوں نے مجھے بتایا کہ آگ حادثاتی طور پر نہیں لگی تھی۔۔۔۔۔ بلکہ کسی نے جان بوج کر لگائی تھی۔۔۔” اس نے سنگین تاثرات بنائے ہوئے کہا۔

اس کا انکشاف سن کر ان سب کے اوسان خطا ہو گئے وہ شاک کے عالم میں کھڑے ہوگئے۔

“یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔” دلاور صاحب کو مانو اپنے کانو سنے پر یقین نہیں آرہا تھا۔

“مجھے بھی پہلے یقین نہیں آیا۔۔۔۔۔ میں ان تینوں کو اپنے ساتھ forensic examination کے لیے لیں گیا۔۔۔۔۔ وہاں بھی یہی تصدیق ہوئی کہ انہیں صرف انجیکشن سے بے ہوش کیا گیا اور جانی نقصان سے بچانے کے لیے دور لے جایا گیا تھا۔۔۔” جاوید پروفیشنل انداز میں انہیں تفصیلات سے آگاہ کر رہا تھا۔

“پر کس نے کیا ہے یہ سب۔۔۔” اب کی بار سوال پریشان کھڑی عابدہ بیگم کی طرف سے ہوا۔

“سیکیورٹی سسٹم تو سارا کمپنی کے ساتھ ہی جل گیا۔۔۔۔۔ ان میں سے ایک سیکیورٹی اہلکار کے موبائل میں سسٹم کنیکشن کے ذریعے بس گیٹ کھلنے سے پہلے کا صرف یہ ایک کلپ ریکارڈ ہوا ہے۔۔۔۔” جاوید اب لیپ ٹاپ پر جھک کر انہیں وہ کلپ دکھانے لگا۔

اس کلپ میں نقاب پوش لڑکے کی پشت تھی۔ لونگ کوٹ کی ٹوپی نے ہر زاویے سے اس کا چہرا ڈھکا ہوا تھا۔

دلاور صاحب عابدہ بیگم سحر اور صائم سمیت سب ہی کی نظریں لیپ ٹاپ پر جمی ہوئی تھی۔ اس نقاب پوش لڑکے کے حرکات و سکنات دیکھتے ہوئے سحر سہم سی گئی۔ اپنا پیچا کرتے تعاقب کار کو وہ کسی صورت نہیں بھول سکتی۔

“پر یہ ہے کون۔۔۔۔” دلاور صاحب نے تنگ ہو کر پوچھا۔

“پچھلے ایک ہفتے سے میں یہی انویسٹیگیشن کروا رہا ہوں۔۔۔۔۔ لیکن کہی سے بھی معلوم نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ آپ کے سب مخالفین کی جانچ پڑتال بھی کروائی۔۔۔۔ یہ ان میں سے کسی کا آدمی نہیں ہے۔۔۔۔” جاوید نے بے بسی سے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔

“یہ تو وہ۔۔۔۔۔۔ ” سحر اسکرین کے جانب ہاتھ لہرا کر کچھ کہنے لگی تھی لیکن سب کو ایک ساتھ اپنی طرف متوجہ ہوتے پا کر چپ ہوگئی۔

“سحر۔۔۔۔ کیا تم اسے جانتی ہو۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے سپاٹ انداز سے لیکن نرم لہجے میں پوچھا۔

“پاپا وہ۔۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔۔ کافی عرصے سے۔۔۔۔۔ میرا تعاقب کرتا رہا ہے۔۔۔۔۔ کہی دفعہ مجھ پر۔۔۔۔۔ حملہ بھی کیا ہے۔۔۔۔” سحر نے رک رک کر انگلیاں مڑوڑتے سر جھکائے ہوئے وضاحت دی۔

اب اور یہ راز چھپائے رکھنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ وہ جاوید کو نظرانداز کرتے ہوئے دلاور صاحب کی جانب رخ کر کے بولنے لگی۔ اس نے ایک ایک کر کے اپنے ساتھ ہوئے سارے حادثے بیان کئے۔

“سحر۔۔۔۔ اتنا سب ہوگیا اور تم نے مجھے بتایا تک نہیں۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔ ” نا چاہتے ہوئے بھی دلاور صاحب کی آواز بلند اور سخت ہوگئی۔ سحر چھنپ سی گئی۔

عابدہ بیگم نے آگے آکر ان کے بازو کو پکڑا۔ دلاور صاحب نے پہلے انہیں دیکھا اور پھر ان کی نظروں کے سمت میں سنجیدہ کھڑے جاوید کو۔

“خان انکل کا مطلب تھا۔۔۔۔۔ اگر تم بتا دیتی تو ہم الرٹ ہوجاتے۔۔۔۔۔ در پیش خطرے کی روک تھام کے لیے قدم اٹھاتے۔” دلاور صاحب کے تند لہجے کی وضاحت جاوید نے پیش کی۔

” پاپا اس کی ایک بلیک لینڈ کروزر کار بھی ہے اور اس کے پاس گن بھی ہے۔۔۔۔۔ یہ کوئی عام پریشان کرنے والا آوارہ نہیں ہے۔۔۔۔۔سیریس کرمنل ہے۔۔۔” سحر نے مدافعتی انداز میں اس تعاقب کار کے بارے میں مزید اضافہ کیا۔

“کیا اس کار کے شیشے بھی پورے بلیک ہے۔۔۔” صائم نے سحر سے تعجبی نظروں کا تبادلہ کیا۔ اس نے سر اثابت میں ہلایا۔

دلاور صاحب ایک نظر سحر کو دیکھتے پھر صائم کو۔

“پاپا۔۔۔۔ میرا ایکسیڈنٹ بھی حادثاتی نہیں تھا۔۔۔۔۔ یہ بلیک لینڈ کروزر جان بوج کر میرے بائک کے سامنے آگئی تھی۔۔۔۔” صائم نے مایوسی سے کہا۔

دلاور صاحب کو یہ تمام باتیں سمجھنے میں وقت لگ رہا تھا جبکہ جاوید کا تیز پولیس والا دماغ فوراً سے سمجھ گیا۔

“اس کا مطلب۔۔۔۔۔ سحر کو تنگ کرنے والا۔۔۔۔۔ صائم کا ایکسیڈنٹ کروانے والا۔۔۔۔۔ اور کمپنی میں آگ لگانے والا۔۔۔۔۔۔ ایک ہی بندہ ہے۔۔۔۔۔” وہ انگلی اٹھائے چکر کاٹتے ہوئے خود گوئی سے کہے جا رہا تھا۔

” پر یہ کون ہے اور کیوں میری فیملی کے پیچھے پڑا ہے۔” دلاور صاحب بے بسی سے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔

“یہ جو کوئی بھی ہے۔۔۔۔۔ صرف آپ سب کو اذیت پہنچانا چاہ رہا ہے۔۔۔۔۔” جاوید کہتے ہوئے دلاور صاحب کے ساتھ آکر بیٹھا اور ان کا کندھا تھپتھپا کر دلاسہ دیا۔

“مجھے تو اس نے کبھی کوئی تکلیف نہیں دی۔” عابدہ بیگم حیران پریشان آبدیدہ ہوگئی تھی۔

“کیونکہ جب آپ کے بچوں کو یا آپ کے شوہر کو تکلیف پہنچتی ہے۔۔۔۔ آپ automatically پریشانی میں مبتلا ہوجاتی ہے۔۔۔۔ اس لیے وہ آپ کو indirectly اذیت پہنچا ہی رہا ہے۔۔۔۔۔” جاوید نے شانے اچکا کر سمجھایا۔

“لیکن یہ چاہتا کیا ہے۔۔۔۔۔ ہمیں نقصان پہنچا کر کے اسے کیا مل رہا ہے۔۔۔۔” دلاور صاحب بے چارگی سے بول پڑے۔

“یہی تو مجھے بھی سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔۔ لیکن ایک بات صاف ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ مارکیٹ میں آپ کا کوئی نیا دشمن اٹھ آیا ہے خان انکل۔۔۔۔۔ آپ سب کو اب بہت محتاط رہنا ہوگا۔۔۔۔۔” اس نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

ایک مرتبہ پھر سے وہ کلپ چلا کر دیکھنے لگا لیکن کالے پوشاک میں اس لمبے چوڑے لڑکے کی پشت کے علاوہ کوئی سراغ نہیں ملا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ایک ماہ تک جاوید مسلسل اسی انویسٹیگیشن میں لگا رہا۔ اس نے شہری کپڑوں میں دو اہلکار صائم کے ساتھ لگا دیے تھے اور دو کو دلاور صاحب کے ساتھ۔ اور خود سحر کی سیکیورٹی میں رہتا۔ قدرت نے سحر اور جاوید پر خود ہی ایک دوسرے کا ساتھ مصلحت کر دیا تھا۔

چونکہ سحر نے اس تعاقب کار کو نزدیک سے دیکھا ہوا تھا وہ اسے پہچان سکتی تھی اس لیے جاوید سحر سے کچھ فاصلے پر چلتا تا کہ اس تعاقب کار کو شک بھی نہ ہو اور جاوید اسے پکڑنے میں کامیاب ہو سکے۔

یونیورسٹی کے آتے جاتے جاوید اس کی کار میں بیٹھا ہوتا۔

شاویز آج کل یونیورسٹی کم آیا کرتا تھا۔ عادفہ کو اس کی یاد نہ آئے اس لیے سحر اس کا ذکر نہیں کرتی اور عارفہ تو ویسے بھی اس کا نام تک لینے سے گریزاں تھی۔

اس دن بھی سحر یونیورسٹی سے نکل کر سڑک کے کنارے چل رہی تھی اور وہی دوسرے جانب جاوید گاڑیوں کے پار دوسرے فٹ پاتھ پر چل رہا تھا۔

شاویز نے سحر کو اکیلا چلتا پا کر اس کے پیچے جانے کا سوچا لیکن اس کی چال کچھ مشکوک سی لگی۔ وہ چلتے چلتے بار بار رخ موڑ کر دوسری جانب دیکھتی۔ شاویز نے تیز ترار نظروں سے اس کے رخ کے سمت میں دیکھا تو اسے وہاں کانوں میں ائیر پوڈ لگائے محتاط انداز میں چلتا ہوا جاوید نظر آیا۔

شاویز کے آبرو تن گئے۔ تو یہ منصوبہ بندی کی ہے ان لوگوں نے؛ سوچتے ہوئے شاویز تند تاثرات بنائے دوسرے سڑک پر آکر چلنے لگا۔ چلتے چلتے وہ جاوید کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا۔ سحر اپنے دھن میں چلتی رخ موڑ کر شرماتے ہوئے جاوید کو دیکھنے لگی تھی کہ ٹھٹک گئی۔

وہ سہم کر اپنی جگہ ساکت کھڑی ہوگئی۔

جاوید نے کنکھیوں سے اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑتے دیکھا تو اسے کال ملائی۔

سحر نے بے یقینی سے موبائل کان سے لگایا۔

“کیا ہوا سحر۔۔۔۔” اسے کال پر جاوید کی آواز سنائی دی۔ اس سے کچھ بولا تک نہیں گیا۔ شاویز اپر کی ٹوپی سے چہرا چھپائے جاوید کے آوٹ سے آگے بڑھ گیا۔

“سحررررر۔۔۔”

“جاوید۔۔۔۔۔ وہ ابھی آپ کے پیچھے سے گزرا ہے۔۔۔۔” دوسری دفعہ جاوید نے تندی سے سحر کو مخاطب کیا تو اس نے لرزتے آواز میں جواب دیا۔

جاوید نے پھرتی سے ملاتشی نظروں سے آس پاس دیکھا تو دور ہجوم میں اسے اپر پہنے تیز رفتار سے چلتا مرد دیکھائی دیا۔

“تم سحر کو گھر چھوڑ آو۔۔۔۔” جاوید اپنے ساتھی پولیس والے کو پکارتے ہوئے ہجوم کی جانب بھاگنے لگا۔

شاویز نے بنا پلٹے ہی جاوید کو اپنے جانب بھاگ کر آتا محسوس کیا تو منہ پر ماسک پہن کر اس نے بھی دوڑ لگا دی۔

اب لوگوں کے رش کو چیرتا ہوا وہ آگے تھا اور جاوید اس کی رفتار سے خود کو ملاتے ہوئے پیچھے۔

جاوید نے رک کر اپنی گن نکالی اور اسے بلند آواز میں رکنے کا کہتے ہوئے ہوائی فائر کیا۔ شاویز نے رفتار ہلکی کر دی اور ہاتھ ہوا میں اٹھا دیے۔

جاوید اس کا نشانہ بنا کر دبے پاؤں چلتے قریب جانے لگا۔

“کون ہو تم۔۔۔۔۔۔ اس طرف منہ کرو۔۔۔۔” جاوید سنجیدہ انداز میں کہتے ہوئے تیز چلنے لگا۔

اس سے پہلے کہ جاوید اسے دبوچ پاتا شاویز سڑک پر کھڑے بس پر کود پڑا اور کھمبے پر لٹک کر سامنے بلڈنگ پر چھلانگ لگا دی۔

جاوید منہ کھولے پھٹی آنکھوں سے اس نقاب پوش جوان کو ایک بلڈنگ سے دوسرے پر پھلانگتا ہوا اپنی نظروں سے دور ہوتا ہوا دیکھتا رہا۔ لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا نہ کرنے کی خاطر اس نے دوبارہ فائر نہیں کیا۔

جب وہ تیزی سے بھاگتا پوری طرح آنکھوں سے اوجھل ہو گیا تو جاوید نے ہوا میں پیر پٹخا اور ناکامی لیئے مڑ گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دلاور صاحب گھر کے لاؤنج میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہے تھے۔ عابدہ بیگم اور سحر مضطرب سی بیٹھی تھیں۔

جب جاوید غصے سے لاؤنج میں داخل ہوا۔

“کیا ہوا جاوید۔۔۔۔” اسے طیش میں اندر داخل ہوتے دیکھ کر دلاور صاحب مزید پریشان ہوگئے تھے۔

“ہاتھ سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔ باسٹرڈ ۔۔۔۔۔۔۔” جاوید نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بے دھیانی میں گالی نکالی پھر خواتین کے موجودگی محسوس کر کے چھنپ سا گیا اور خاموش ہوگیا۔

اسے آتے دیکھ کر جو ایک آس دلاور صاحب میں جاگی تھی وہ پھر سے مایوسی میں تبدیل ہوگئی۔

“بہت شاطر ہے۔۔۔۔۔۔ اتنی تیز رفتار سے بھاگنا اور ایسے پھرتی سے کرتب کرنا۔۔۔۔ یہ کوئی عام آدمی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔ یقیناً اس نے کوئی خاص تربیت حاصل کر رکھی ہے۔۔۔۔ he is something different۔۔۔۔۔۔” جاوید سوچتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا۔

“لمبا قد۔۔۔ چوڑی باڈی۔۔۔۔۔ مظبوط muscles۔۔۔۔۔ محنت مشقت سے تنے ہاتھ۔۔۔۔۔ تیز رفتار۔۔۔۔۔۔ شاطر دماغ۔۔۔۔۔۔ یہ کسی راہ چلتے غنڈے کی خصوصیات نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔۔آخر یہ ہے کون۔۔۔” وہ ہاتھوں کی مٹھی باندھے۔ پیشانی اس پر ٹکائے۔ آنکھیں بند کر کے اس کے فزیکل زاویے یاد کر رہا تھا۔ آخر میں ایک لمبی سانس خارج کر کے وہ اٹھا۔

“آپ فکر نہ کریں خان انکل۔۔۔۔ بہت جلد میں اسے ڈھونڈ لوں گا۔۔۔۔” جاوید نے دلاور صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے انہیں دلاسہ دیا۔

دلاور صاحب اور ان کی فیملی جاوید کے تعاون سے مشکور ہوتے ہوئے تسلی ہوئی اور سب نے سر اثابت میں ہلا کر اس کی تسکین وصول کی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆