Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

سحر اس خواب کے بعد کافی ڈسٹرب ہوگئی تھی۔ راتوں کو ٹھیک سے سو نہیں پاتی۔ دن میں مضطرب ہوتی رہتی۔ گھر میں نہ یونیورسٹی میں کہی بھی اس کا دل نہیں لگتا۔ پینٹنگ میں بھی دھیان نہیں دے پاتی۔ سب سے اکھڑی مزاج رہنے لگی تھی۔

عارفہ تو ہر وقت اس کے ساتھ ہی ہوتی پر پکنک کے بعد سے شاویز بھی کافی حد تک ساتھ رہنے لگا تھا۔

عارفہ کو لگتا شاویز اس کے ساتھ کے لیے ان کے ساتھ چلتا پھیرتا ہے لیکن در حقیقت وہ سحر کے ساتھ کے لیے موجود ہوتا۔ عارفہ کو اس بات سے کافی پریشانی ہونے لگی تھی۔ شاویز کو نہ صحیح لیکن وہ سحر کو بہت اچھے سے جانتی تھی۔ یہ جانتے ہوئے کہ وہ شاویز سے محبت کرتی ہے سحر کبھی اس سے دوستی نہیں بڑھائے گی؛ اتنا اسے یقین تھا۔

کچھ دنوں میں جولائی کی تعطیلات کا آغاز ہونے والا تھا اس لیے پڑھائی کے پریشر میں اضافہ ہو گیا تھا۔ وہ لوگ طویل کلاس لے کر تھکے ہارے کیفیٹریا میں آئے۔ سحر اور عارفہ کرسی پر بیٹھ گئیں۔ البتہ شاویز اب بھی ویسا ہی چست و چوبند تھا۔ وہ از خود گیا اور سب کے لیے اسنیکس اور چائے لے آیا۔ عارفہ نے چپ چاپ ایک پلیٹ اپنے جانب کھسکا دیا۔

“برسات کے موسم میں۔۔۔۔۔۔ چائے اور پکوڑے کا اپنا ہی مزا ہے۔” شاویز نے ایک پکوڑے کا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔

آج صبح سے آسمان بادلوں میں ڈھکا ہوا تھا اور اس وقت ہلکی پوندا باندی شروع ہونے لگی تھی۔

عارفہ خاموشی سے چائے پینے لگی۔ سحر کسی چیز کو ہاتھ لگائے بغیر گم سم بیٹھی تھی۔

“سحر۔۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔۔ تم لے کیوں نہیں رہی۔۔۔۔۔” شاویز نے تعجب سے اسے آبرو اچکا کر دیکھا۔

سحر ایک نظر اسے دیکھ کر نظرانداز کر گئی۔

“لے لے گی۔۔۔۔ تم کیوں ٹینشن لے رہے ہو” عارفہ نے ہس و مزاح کا انداز اپنائے دبے غصے سے شاویز کو مخاطب کیا۔

شاویز آج کل اسے پوری طرح نظرانداز کئے سارا دھیان سحر پر مزکوز کئے ہوئے تھا جس سے عارفہ کے اندر ناراضی اور جلن کے ایثار پنپنے لگے تھے۔

“مجھے بھوک نہیں ہے” سحر بد مزا سی ہو کر کیفیٹریا کے دوسرے جانب دیکھنے لگی۔

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔ صبح ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا۔۔۔۔۔ iam sure۔۔۔۔ یہ لو تھوڑا سا کھا لو۔” شاویز نے نرمی سے کہتے ہوئے اسنیکس ہاتھ میں لے کر اس کے منہ کے آگے کیا۔

عارفہ کا؛ شاویز کا اسے اپنے ہاتھوں سے کھلاتے دیکھ کر پارا چڑھنے لگا۔

یہ ہمدردی تھی؛ دوستی تھی؛ مستی تھی؛ یا کچھ اور سحر سمجھ نہیں سکی اور میز پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوگئی۔

“بس کرو۔۔۔۔۔just stop it ۔۔۔۔۔ کیا ثابت کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔ بہت فکر ہے تمہیں میری۔۔۔۔۔۔ جب سے تم سے تھوڑا ہنس کر بات کرنا شروع کیا ہے۔۔۔۔ تم تو ہر وقت میرے سر پر چڑھنے لگے ہو۔” آخری فقرہ کہتے ہوئے سحر نے اپنے سر کے طرف ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا۔

وہ یک دم ہی غصے سے پھٹ پڑی تھی۔ اسے طیش میں آتے دیکھ کر عارفہ اور شاویز بھی کرسی سے اٹھ گئے۔ باقی میزوں پر بیٹھے سٹوڈنٹس بھی ان کے جانب دیکھنے لگے۔

“تنگ آگئی ہوں میں۔۔۔۔۔۔ غلطی کر دی تمہیں اچھا سمجھ کر۔۔۔۔۔۔ لیکن اب بس۔۔۔۔۔ آئیندہ تم۔۔۔۔۔ مجھے میرے آس پاس بھٹکتے نہ دِکھو۔۔۔۔۔” اس کے منہ میں جو آرہا تھا وہ بنا سوچے سمجھے بولے جا رہی تھی۔ عارفہ کا متفکر انداز میں منہ کھل گیا۔ وہ فکرمندی سے کبھی سحر کو انگلی اٹھا کر شاویز کو سناتے ہوئے؛ تنبیہہ کرتے دیکھتی کبھی شاویز کو جو جبڑا سخت کر کے اس کے غصے کو ضبط کر رہا تھا۔

لمبی سانس لیتے ہوئے سحر اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے وہاں سے بھاگ گئی۔

“سحر۔۔۔۔” عارفہ نے بے بسی سے اسے پکارا لیکن وہ نہیں رکی۔

شاویز آس پاس سب میں اپنا تماشا بنتا دیکھ کر چھنپ سا گیا اور سخت تاثرات بناتا دوسری سمت بڑھ گیا۔

عارفہ نے اداس نظروں سے اسے جاتے دیکھا اور سحر کے پیچے لپکی۔

“سحر رکو۔۔۔۔” اس کا بازو پکڑ کر عارفہ نے اسے روکا۔ اس کے پیچے بھاگتے ہوئے اس کی سانس چڑھ گئی۔ اسے مظبوطی سے پکڑے عارفہ پاس پڑے بینچ پر بیٹھی۔ سانس بحال کرنے کے بعد وہ سحر کے بے تاثر چہرے کو دیکھنے لگی۔

“کیا ہوگیا سحر۔۔۔۔۔ اتنا غصہ کس بات کا ہے۔۔۔۔۔ ایسا بھی کیا کر دیا شاویز نے جو اتنا ڈانٹ دیا بیچارے کو۔ ” عارفہ نے مدھم آواز میں سختی سے پوچھا۔

“کچھ نہیں” سحر گود میں رکھے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔ وہ عارفہ سے نظریں ملانے سے کترا رہی تھی۔

“سحر۔۔۔۔اب ایسی بھی کیا بات ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ جو تم مجھ سے بھی شیئر نہیں کرنا چاہتی۔” اس نے بھر آئی آواز میں کہا۔ عارفہ کو اب واقعی اس کی بہت فکر ہونے لگی۔ نرمی سے اس کا رخ اپنے جانب کیا۔ سحر سے مزید چپایا نہیں گیا وہ اس کے کندھے سے لپٹ کر زار و قطار رونے لگی۔

“سحر۔۔۔۔ کیا بات ہے۔۔۔۔ خدا کے لیے بولو۔۔۔۔۔ تم اب مجھے خوفزدہ کر رہی ہو۔۔۔۔۔” عارفہ حواس باختہ سی ہوگئی۔ اس کے دل میں بہت برے خیالات آرہے تھے۔ وہ عجیب و غریب وہم میں مبتلا ہوگئی تھی۔

کچھ آنسو بہہ جانے کے بعد سحر نے چہرے پر آئے بال پیچے کئے اور زکام زدہ سانس اندر کھینچ کر خود کو کمپوز کیا۔ اپنے رویے پر اسے شدید احساس ندامت ہوا۔

“آئی ایم سوری۔۔۔۔۔ عارفہ۔۔۔۔۔ میں کئی دنوں سے بہت پریشان ہوں۔۔۔۔۔۔ کوئی میرا پیچا کر رہا ہے۔۔۔۔۔ مجھے ڈراتا دھمکاتا ہے۔۔۔۔۔۔ میں نہیں جانتی وہ کون ہے۔۔۔۔۔ کیا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ پر جب بھی میرے سامنے آتا ہے میں وحشت میں آجاتی ہوں۔۔۔۔۔” سحر نے روتے ہوئے عارفہ سے اپنی دلی کیفیت بیان کی۔

عارفہ شاک سی پلکیں جھپکائے بغیر اس کے افسردہ سراپے کو دیکھ رہی تھی۔

“تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔۔ تم نے اسے دیکھا ہے کیا۔۔۔۔۔ ” اس نے مظبوطی سے سحر کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیئے تھے۔ اسے اپنی بیسٹ فرینڈ کی بے چارگی پر بہت افسوس ہونے لگا۔

“وہ ہمیشہ نقاب پوش رہتا ہے۔۔۔۔۔ میں نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا۔۔۔۔ پر وہ بہت خطرناک ہے۔۔۔۔۔ اس کے سامنے آتے ہی میں اپنے ہوش و حواس کھو دیتی ہوں اور والہانہ پن سے بھاگنے لگتی ہوں۔۔۔۔ ” سحر نے جھکی نظروں سے اسے اپنے ساتھ ہوئے سارے واقعات بیان کئے۔ مارکیٹ میں اسے دیکھنا پھر اس کا روڈ پر دوڑ لگا دینا۔ اس کی کار کا پیچے آنا اور سحر کو گن دکھانا۔ جنگل میں اس کا اسے پکڑنے کی کوشش کرنا۔ یہاں تک کہ اپنے اس خواب کے بارے میں بھی سب بتا دیا۔ آج وہ عارفہ سے کچھ بھی چپائے نہیں رہ سکیں تھی۔ اس نے اپنی بیسٹ فرینڈ کے سامنے اپنے دل کے سارے راز افشاں کر کے رکھ دیئے تھے۔

اس کی آپ بیتی سن کر عارفہ آبدیدہ ہوگئی۔

بولتے بولتے سحر نے اپنا سر پکڑ لیا اور پھر سے رونے لگی۔

“تم نے گھر پر بتایا۔ ” عارفہ نے اپنے جذبات قابو کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔ وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔

“پاپا آج کل اپنے نئے پروجیکٹ کے تکمیل میں بہت بزی ہیں۔۔۔۔۔ مجھے ان سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا۔۔۔۔ اور مما کو بتانے کی ہمت نہیں ہو سکی تھی۔۔۔۔۔ وہ بہت پریشان ہوجائے گی۔” سحر نے افسوس سے سر جھٹکا۔ عارفہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تھپکتے ہوئے اسے دلاسہ دیتی رہی۔

“پہلے مجھے لگا شاید میرا وہم ہو۔۔۔۔۔ شاید مجھے غلط فہمی ہوئی ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن پکنک پوائنٹ پر اسے دیکھنے کے بعد اب تو مجھے ہر وقت۔۔۔۔ ہر جگہ یہ وہم لگا رہتا ہے۔۔۔۔ کہ وہ میرے پیچے آرہا ہے اور کسی بھی وقت مجھ پر حملہ کر دے گا۔۔۔۔” سحر نے اضطراب میں اپنا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

“اسے سوچ سوچ کر میرا دماغ خراب ہورہا ہے۔۔۔۔ میں پاگل ہو جاؤں گی۔۔۔۔۔ عارفہ مجھ سے یہ ٹارچر اور برداشت نہیں ہورہا۔” اس نے بھیگی آنکھوں سے عارفہ کا دل گرفتہ چہرہ دیکھا اور پھر سے سر پکڑ کر رونے لگی۔

“سحر۔۔۔۔۔ اس طرح رونے سے بھی تو کچھ نہیں ہوگا نا۔۔۔۔ تمہیں اپنے گھر پر بتا دینا چاہیئے۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے خان انکل ضرور حل ڈھونڈ لیں گے۔۔۔۔۔ وہ جو کوئی بھی ہے۔۔۔۔ خان انکل اسے پکڑ لیں گے۔۔۔۔۔ تم انہیں ساری سچائی بتا دو” عارفہ نے دل سے اسے امید دلائی۔ اس کی پر امید نظریں دیکھ کر سحر کو بہت حوصلہ ملا۔ اس نے دل میں ٹھان لیا وہ آج گھر جا کر اپنے فیملی سے اس بارے میں ضرور بات کریں گی۔

ماں باپ ہی تو ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کی ہر تکلیف سمجھ لیتے ہیں۔ ان کی مشکلات دور کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

عارفہ کو اتنے دنوں بعد اس کے چہرے پر تسلی بخش تاثرات نظر آئے تھے۔ اس وقت اس کی بچپن کی بیسٹ فرینڈ کو اس کے ساتھ کی اشد ضرورت تھی۔ وہ اسی کے ساتھ بیٹھی رہی شاویز کو منانے نہیں گئی۔ سحر اپنے غموں میں گم تھی کہ اس نے بھی دوبارہ شاویز کے بارے میں دریافت کرنے کی کوشش نہیں کی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

یونیورسٹی سے لوٹتے وقت وہ اپنی ساری ہمت جمع کرتی رہی کہ گھر پہنچتے ہی اگر پاپا نہ بھی ہوئے وہ مما کو لازمی سب بتا دے گی۔

پورچ میں کار سے اتر کر وہ لاؤنج میں داخل ہوئی تو اسے سامنے صوفے پر دلاور صاحب اور عابدہ بیگم کے ساتھ ایک جوان مرد بیٹھے نظر آئے۔ اس کی طرف اس کی پیٹھ تھی لیکن وہ جسامت اسے کچھ شناسا لگا تھا۔ اسے پہچاننے کے غرض سے اس کی پیٹھ کو دیکھتی وہ قدم قدم چلتی آگے گئی۔

“ارے سحر۔۔۔۔ آو۔۔۔۔ دیکھو۔۔۔۔ کون آیا ہے۔۔۔” عابدہ بیگم نے اسے دیکھ کر خوشگوار مزاجی سے مخاطب کیا۔

عابدہ بیگم کے اسے مخاطب کرنے پر دلاور صاحب بھی اس کی جانب متوجہ ہوئے اور اس مرد سے بات کرتے کرتے خاموش ہوگئے۔ تنے ہوئے اعصاب سے قریب پہنچ کر اس نے اس مرد کو اپنے طرف مڑتے دیکھا۔

سحر کی پہلی نظر اس سے ٹکرائی ہی تھی کہ وہ ٹھٹک گئی۔ تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے اور تیزی سے نظریں جھکا گئی۔

“اسلام علیکم” بغیر کسی کو مخصوص کئے اس نے مشترکہ انداز میں سلام کیا۔ چونکہ سب اس کی طرف متوجہ تھے وہ بے مروتی کا مظاہرہ کرتی وہاں سے جا بھی نہیں سکتی تھی اس لیے مجبوراً عابدہ بیگم کے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔

“وعلیکم السلام۔۔۔” اس کے سلام کا جواب دلاور صاحب نے دیا۔

وہ مرد بھی شاید ایسے اچانک سے اسے دیکھ کر حیران ہوگیا تھا۔ ایک جھوٹی نظر سحر پر ڈال کر وہ پھر سے دلاور صاحب کے جانب رخ پھیر گیا۔

“سحر۔۔۔۔ تمہیں جاوید تو یاد ہوگا۔۔۔۔۔ پتا ہے پولیس میں اچھی پوسٹ پر نوکری ہوگئی ہے اس کی۔۔۔۔۔ ہمارے ہی شہر میں A.S.P کے عہدے پر فائز ہوا ہے۔۔۔” عابدہ بیگم نے سامنے بیٹھے اس نوجوان مرد کا مختصر سا تعارف کیا۔ سحر اپنی مما کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی۔ جاوید نے عابدہ آنٹی کی تعریف پر انہیں دیکھا جبکہ سحر کے جانب دیکھنے سے کتراتا رہا تھا۔

دلاور صاحب جاوید کو اپنے نئے پروجیکٹ کے متعلق آگاہ کر رہے تھے اور وہ غور سے ان کی باتیں سنتا سر کو جنبش دیتا رہا۔ دلاور صاحب کمپنی کے افتتاحی تقریب کے سلسلے میں اس سے سیکیورٹی کے انتظامات کرنے کے بابت اس سے گفتگو کرتے رہے۔

“آپ بے فکر رہے خان انکل۔۔۔۔۔۔ آپ کو جب بھی میری سروس درکار ہوگی میں ایک کال پر حاضر ہوجاؤ گا۔” جاوید نے با رعب اور بااعتماد لہجے میں دلاور صاحب کو اپنی موجودگی کی یقین دہانی کروائی۔

“باقی باتیں بعد میں کر لیجیئے گا۔۔۔۔۔ اتنا عرصہ بعد جاوید ہمارے گھر آیا ہے۔۔۔۔۔۔ اسے سکون سے چائے تو پینے دیں۔۔۔” عابدہ بیگم نے دلاور صاحب سے خفگی ظاہر کرتے ہوئے جاوید کو لوازمات پیش کئے۔

سحر کو وہاں بیٹھے کوفت ہونے لگی وہ آہستہ آواز میں معذرت کرتی اٹھ گئی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔

“آنٹی بس۔۔۔۔ بہت لے لیا۔۔۔۔۔ صبح سے کھلائے جا رہی ہیں۔۔۔۔ لگتا ہے مجھے اپنا ورک آوٹ ہاور بڑھانا پڑے گا۔۔۔” جاوید نے خوش مزاجی سے کہا۔ اس کی بات پر دلاور صاحب اور عابدہ بیگم کھلکھلا کر ہنسے۔

جاوید جانے کے لیے اٹھا تو وہ دونوں میاں بیوی بھی ساتھ اٹھ گئے۔

“تھوڑی دیر اور رک جاتے جاوید۔۔۔۔۔ لنچ کا وقت ہونے والا ہے۔۔۔۔ کھانا کھا کر جاتے۔ ” عابدہ بیگم نے اس سے ملتے ہوئے کہا۔

“آنٹی۔۔۔ اب تو میں اسی شہر کا ہوگیا ہوں۔۔۔۔ اب تو آنا جانا لگا رہے گا۔۔۔۔ کھانا اگلی دفعہ کھاو گا۔۔۔۔۔” جاوید نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے تھپتھپایا۔

“اوکے۔۔۔۔۔ لیکن اگلی دفعہ۔۔۔۔۔ ممی بابا کو بھی لے کر آنا۔” عابدہ بیگم نے آنکھیں بڑی کر کے اسے تنبیہ کیا۔

“ضرور۔۔۔۔ اوکے انکل چلتا ہوں” جاوید دلاور صاحب سے گلے مل کر رخصت ہوا اور پورچ کی جانب بڑھ گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ آج خوش تھا۔ اس کا پہلا پلان کامیاب گیا تھا۔ دلاور پرویز خان کے فیملی کے پہلے فرد کی نیند حرام ہوچکی تھی۔ دن کا چین برباد ہوچکا تھا۔ سحر بنت دلاور پرویز کو اس نے ذہنی اذیت سے روشناس کروا دیا تھا۔ اس کا پہلا ٹارگٹ اختتام کو پہنچ گیا تھا اب اسے اپنا نشانہ سحر سے ہٹا کر دوسرے ٹارگٹ کے جانب کرنا تھا۔ سحر نے آج عارفہ کو سب بتا دیا تو اب وہ دلاور کو بھی بتا دے گی؛ اس بات سے وہ مطمئن تھا۔

سحر کی زندگی میں طوفان برپا کرنے کی خوشی میں وہ آج چھوٹا سا جشن منا رہا تھا۔

لاؤنج میں ایل سی ڈی پر بلند آواز میں گانے لگا کر وہ اوپن کچن میں اپنے لیے کھانا پکانے میں مصروف تھا۔ اس نے مٹن کڑاہی تیار کی اور گانے سنتے ہوئے مزے سے کھانے لگا۔

کھانے کے بعد میٹھے کے طور پر فروٹ چاٹ بنائی۔ پھلوں سے بھرا پیالہ لیئے وہ اپنے بیڈروم میں آیا۔ ورکنگ ایریا میں آکر؛ چند ٹکڑے پھل منہ میں ڈالا کر؛ اس نے پیالہ میز پر رکھا۔ پھل جباتے ہوئے اس نے نیلے مارکر سے سحر کی تصویر پر ٹک مارک لگایا۔ پھر سرخ پین لے کر اس نے سوچتے ہوئے آنکھیں چھوٹی کی۔

“اگلا نشانہ کون ہونا چاہیئے دلاور صاحب عابدہ بیگم یا۔۔۔۔۔ صائم دلاور” سوچتے ہوئے اس نے استحزیہ مسکرا کر سرخ قلم سے صائم کے تصویر پر گول دائرے کا نشان بنایا۔ وہ فیصلہ کر چکا تھا۔ اب اس کا اگلا ٹارگٹ صائم دلاور تھا۔

اپر پہننے کے بجائے اس نے جینز کے ساتھ بلیک ٹی شرٹ پہنی۔ کالے چشمے لگائے چہرے پر ماسک پہنا۔ بالوں کو ماتھے پر بکھیرے ہوئے چھوڑ کر سر پر پی کیپ جمائی۔

نارمل انداز میں چلتا وہ گاڑی کے پاس آکر اس میں سوار ہوگیا اور تیز رفتار سے سڑک پر دوڑا دی۔

صائم اس وقت فٹبال گراونڈ میں فٹبال کھیل رہا تھا۔ وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے شائقین کے بیچ آکر بیٹھ گیا۔ صائم ادھر ادھر بھاگتا اپنے کھیل میں مشغول تھا اور وہ اپنی تیز نظریں اس پر گاڑھے ہوئے آگے کو ہو کر بیٹھا تھا۔

آدھے ٹائم میں تفریح کے دوران سب کھلاڑی پانی پینے بیٹھ گئے۔ وہ صائم کو دیکھتا ہوا اٹھ کر جانے لگا کہ ساتھ بیٹھے ایک آدمی سے ٹکرا گیا۔

“اندھے ہو کیا۔۔۔۔۔۔” اس آدمی نے جھڑکتے ہوئے اسے گالی دی۔ وہ اس کی جھڑک کو ضبط کر کے جانے لگا تھا لیکن گالی سن کر رک گیا۔

طیش میں آکر وہ ایڑیوں کے بل گھوما۔ گلاسس ہٹا کر جیب میں اڑھسے۔ اس کی غصیلی نگاہ محسوس کر کے اس آدمی کو اپنے گالی دینے پر پچھتاوا ہوا۔ وہ پھرتی سے اٹھا اور باہر کے جانب بھاگنے لگا۔

وہ اسی تیزی سے تند و تیز نظریں اس آدمی پر مرکوز کئے اس کے پیچے بھاگنے لگا۔ آدمی نے اپنی پوری جان لگا دی سب کو دھکم پیل کرتا بھاگتا گیا لیکن اس کی رفتار سے زیادہ تیز بھاگ نہیں سکا۔ گروانڈ کے گیٹ پر ہی وہ اس آدمی پر جھڑپ پڑا۔ اسے کندھے سے دبوچ کر اس کا رخ اپنے جانب کیا اور کس کر اس کے قمیض کا کالر پکڑ لیا۔ ضرب لگانے ہاتھ اٹھا کر مٹھی مینچھ لی۔

“کسی کو نا حق نہیں مارتے” اس کی سماعتوں میں رزتاج کی نرم آواز گونجی تھی۔

“پر اس نے مجھے گالی دی۔” ساتھ ہی اس ننھے بچے کی غضب ناک چنگارتی آواز۔

اس کے طیش میں اور اضافہ ہوگیا۔ اس نے زور دار مقہ اس آدمی کے منہ پر دے مارا وہ لڑکھڑا گیا لیکن اس نے کالر سے کھینچ کر اسے پھر سے سیدھا کیا اور دوسرا ضرب لگایا۔ سب لوگوں کا جمکٹا بن گیا۔ فٹبال دیکھنے آنے والے شائقین راستے میں کھڑے ہوکر ان کی مار پیٹ دیکھنے لگے۔

اس آدمی نے اپنے دفاع میں جوابی کاروائی کرنی چاہی لیکن اس نے اپنے جانب بڑھتا اس کا ہاتھ پکڑ کر مظبوطی سے مڑوڑ دیا اور اس کی پیٹھ پر اپنی پوری قوت سے کہنی ماری۔ وہ بلکتا ہوا نیچے جھکا۔ اس کا ہاتھ ابھی بھی اس کے گرفت میں تھا۔ اس کا غصہ تھا جو قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس نے درد سے کراہتے اس جھکے مرد کے پیٹ میں گھٹنا مارا اور اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر ڈگمگا گیا اور زمین بوس ہوگیا۔ اس نے آگے بڑھ کر اس زمین پر پڑے کراہتے آدمی کے پاوں اور پھٹو پر لاتیں برسانا شروع کی۔ اس غضب ناک نوجوان کو روکنے کی کسی میں ہمت نہیں ہو پا رہی تھی۔ کسی لڑکے نے بھاگ کر گراونڈ کے سیکیورٹی کو اطلاع دی تو وہ بھاگتے ہوئے آئے اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ دو سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک بازو سے اور دو اہلکاروں نے دوسرے بازو سے پکڑ کر اسے گھسیٹتے ہوئے اس آدھ مرے آدمی سے دور کیا۔ کچھ شہری لوگ تیزی سے آگے آئے اور اس زخمی آدمی کو جلد از جلد ہسپتال لے جانے لگے۔

وہ تھوڑا آگے کو جھکا اور ساری طاقت سے اپنے بازو اپنے جانب کئے پھر ایک جھٹکے سے خود کو سیدھا کیا تو سیکیورٹی اہلکاروں کی گرفت اس پر سے آذاد ہوگئی۔ وہ ڈگمگا گئے۔ سب نے پریشانی سے اسے دیکھا۔ دوبارہ آگے آکر اسے پکڑنے کی وہ جرات نہیں کر سکے تھے۔ اس نے تنے ہوئے اعصاب سے ان کو دیکھا اور اپنی شرٹ کی سلوٹیں صحیح کرتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا گیٹ سے باہر روانہ ہوگیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سحر اضطرابی کیفیت میں کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہی تھی۔ وہ جو ساری ہمت اکٹھا کرتی یونیورسٹی سے گھر آئی تھی جاوید سے رو بہ رو ہونے کے بعد ہوا میں اڑ گئی تھی۔ اس نے پاپا کے پاس جانے کا سوچا لیکن پھر مایوس ہو کر رک گئی۔

“اگر میں نے پاپا کو بتایا۔۔۔۔۔ تو وہ پولیس میں رپورٹ کرنے کے غرض سے۔۔۔۔۔ سب کچھ جاوید کو بتا دینگے۔۔۔۔۔۔ اب تو اس گھر میں کوئی بھی مسئلہ ہوگا۔۔۔۔ پاپا کی پہلی کال ہی جاوید کو ہوگی۔۔۔۔۔۔۔ اففف اب پاپا کو کیسے بتاوں۔۔۔ ” وہ ناخن کاٹتی بے بسی سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔

“جاوید کو بھی ابھی پولیس آفسر بن کر آنا تھا۔۔۔۔۔ اففف۔۔۔۔۔ قسمت بھی کیا کھیل؛ کھیل رہی ہے میرے ساتھ۔۔۔ ” اس نے دل گرفتگی سے سر پکڑ لیا۔ اتنا سوچ سوچ کر اس کے سر میں درد شروع ہو گیا تھا۔

“کیا کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ اور کیا ہوگیا” اس نے سوچتے ہوئے لمبی سانس لی۔ جہاں وہ اپنے ارادے کے پست ہوجانے پر اداس تھی وہی دوسری جانب جاوید کے واپس آنے پر خوش بھی تھی۔

جاوید ارسلان۔ ارسلان منیر کے بڑے بیٹے تھے۔ ارسلان صاحب پولیس کمشنر رہ چکے تھے۔ دلاور صاحب اور ارسلان صاحب تعلیمی دور سے ایک دوسرے کے دوست تھے۔ ہر سکھ دکھ خوشی غم میں دونوں فیملیز ایک دوسرے کے ساتھ ہوتیں۔ جاوید کی چھوٹی بہن رابعہ سے سحر کی بہت اچھی بنتی تھی۔ عمر میں 3 سال بڑی ہو کر بھی رابعہ اور سحر کی اچھی دوستی تھیں۔ سحر 10 سال کی تھی اور جاوید 16 سال کا جب ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔

ہر تہوار میں سحر ہمیشہ رابعہ کے ساتھ رکنے کی ضد کرتی اور دلاور صاحب بیٹی کے اموشنل بلیک میل کے آگے ہار جاتے۔ اس رات وہ رابعہ اور جاوید دیر گئے تک بیٹھ کر باتیں کرتے گیمز کھیلتے بہت شغل رہتا۔

جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی جاوید لڑکپن سے جوانی میں جاتا گیا سحر کا اس پر کرش بنتا گیا۔ وہ دل ہی دل اسے پسند کرنے لگی۔ اپنے بڑھتے جذبات کے چلتے سحر کو جاوید سے شرم آنے لگی وہ اس کے سامنے جانے سے کترانے لگی۔ جاوید اگر کبھی اچانک سے اس کے سامنے آجاتا تو وہ کھسیا سی جاتی۔ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی۔ سحر سے سیدھے منہ جاوید سے سلام دعا بھی نہیں کیا جاتا۔ اسے اپنے اس کیفیت پر سخت غصہ آتا لیکن وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوجاتی۔

وہ 15 سال کی ہوئی اور جاوید 21 کا تھا۔ جب وہ پولیس کی تعلیمات حاصل کرنے لاہور چلا گیا۔ اس رات وہ اپنے کمرے میں چھپ کر اس کی یاد میں بہت روئی تھی۔ اس کے بعد سحر کا ان کے گھر جانا کم ہوگیا۔ جب بھی وہ وہاں جاتی نا جانے کیوں اسے جاوید بہت یاد آتا۔ جاوید سال میں ایک مرتبہ گھر آتا اور اس موقعے پر سحر اپنی فیملی کے ساتھ سرما کی چھٹیوں میں گاوں گئی ہوتی۔ اس سلسلے میں اس کا جاوید سے پھر کبھی سامنا نہیں ہوسکا تھا۔ تہواروں میں عیدوں میں وہ ارسلان انکل تہمینہ آنٹی اور رابعہ سے ملتی لیکن کہی نہ کہی اسے جاوید کی کافی کمی محسوس ہوتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے جذبات قابو تو ہوگئے لیکن دل کے کسی کونے میں آج بھی جاوید کے لیے نرم گوشہ موجود تھا۔

آج سے پہلے اس نے جاوید کو تین سال پہلے رابعہ کی شادی میں دیکھا تھا۔ وہ 26 سال کا باوقار اور رعب دار جوان مرد بن گیا تھا۔ اس کا لمبا قد؛ چوڑی باڈی آنکھوں میں اعتماد دیکھ کر سب سمجھ گئے تھے کہ اس نے پورے دل اور لگن سے پولیس کی تعلیمات حاصل کی تھی۔ اس وقت وہ لاہور کے ہی مضافات میں اپنی کارکردگی کے جوہر دکھا رہا تھا اور صرف بہن کی شادی کے سلسلے میں کراچی آیا ہوا تھا۔

سحر کو جب پتا چلا کہ جاوید شادی میں شریک ہونے آئے گا۔ وہ بہت اہتمام سے تین دن لگا تار لگا کر عارفہ کے ہمراہ شاپنگ پر گئی تھی اور اپنے لیے اناری رنگ کا لانگ فراک خرید لائی تھی۔

بارات کے دن وہ 20 سالہ خوب رو لڑکی اناری رنگ کے لانگ فراک میں ملبوس تھی ساتھ میں لمبی ہیل والی سینڈل پہنی لمبے بال رول کئے نفیس سی جیولری زیب تن کی اور ہلکا میک اپ کیا۔

شادی ہال میں مسلسل اس کی نظریں جاوید کو ڈھونڈتی رہی اور آخر کار وہ اس کو نظر بھی آگیا۔ دلاور صاحب سے وہ مردانہ ہال میں مل کر اب 18 سالہ صائم کے ساتھ چلتے عابدہ بیگم سے ملنے ان ہی کی طرف آرہا تھا۔ جہاں وہ ایک قدم آگے بڑھاتا سحر ایک قدم پیچے ہوجاتی۔ جس کے لیے وہ اتنے اہتمام سے تیار ہو کر آئی تھی اب اس کے رو بہ رو ہونے میں اسے شرم محسوس ہورہی تھی۔

سفید قمیض شلوار پہنے مسکراتے ہوئے وہ ان کے قریب آیا۔

“اسلام علیکم۔۔۔” اس نے عابدہ بیگم کو مخاطب کیا۔

“وعلیکم السلام۔۔۔۔۔ جاوید۔۔۔۔۔ ماشااللہ ماشااللہ۔۔۔۔۔۔ کیسے ہو” عابدہ بیگم نے خوش دلی سے اسے خود سے لگاتے ہوئے اس کی تعریف کی۔

وہ جو مما کی آوٹ میں کھڑی تھی۔ مما سے گلے ملتے ہوئے جاوید کے پرفیوم کی خوشبو سحر کے نتھوں میں پڑنے لگی۔ اس کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اس پر جاوید کا جادو پھر سے سر چڑھنے لگا۔ مما سے حال احوال کرتے ہوئے جاوید نے ایک ہلکی نظر سحر کو دیکھا اور واپس دھیان عابدہ بیگم پر مرکوز کیا۔ اس کا دل بد مزا ہوگیا۔ وہ جو ٹھاٹھیں مارتی ہوئی آئی تھی اسے جاوید کی اس غیر دلچسپ نظر سے سب غارت ہوتا ہوا محسوس ہوا۔

عابدہ بیگم سے حال چال معلوم کر کے وہ رخصت لیتا دوسری جانب بڑھ گیا۔

شادی کے اختتام پر رخصتی کے دوران وہ رابعہ کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی جب رابعہ نے جاوید بھائی کہتے ہوئے جاوید کو مخاطب کیا۔ جاوید چلتا ہوا ان کے پاس آیا۔ سحر کا دل ڈگمگانے لگا وہ تیزی سے وہاں سے جانے کے لیے مڑی تھی کہ اس کے لمبے فراک کا دامن اس کی ہیل کے نیچے آگیا وہ بہت بری طرح لڑکھڑائی اور گرنے لگی تھی کہ جاوید نے اسے پکڑ لیا۔

جاوید کی بازووں میں آکر؛ اپنے کندھوں پر اس کے لمس کا احساس ہوتے ہی وہ گڑبڑا گئی۔

“اAre you okay۔۔۔۔ “جاوید نے نرمی سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے کہا۔

وہ یک دم سر اثابت میں ہلاتے ہوئے سیدھی ہوئی اور فراک پہلووں سے اٹھا کر تیز رفتاری سے وہاں سے روانہ ہوگئی۔

اگلی صبح اس نے عارفہ کو رات کی رو داد سنائی تو وہ پیٹ پکڑ کر ہنستے ہوئے لوٹ پوٹ ہوگئی تھی۔

“پتا نہیں کیا سوچ رہا ہوگا میرے بارے میں” سحر نے خفگی سے کہا۔

“یہی۔۔۔۔ کہ۔۔۔ اتنی بڑی ہوگئی ہے۔۔۔۔ اب تک ڈنگ سے چلنا نہیں آیا۔۔۔۔” عارفہ نے ہنستے ہوئے اس کا مذاق اڑاتے اس پر قہقہے لگاتے ہوئے کہا ۔

“شٹ اپ عارفہ۔۔۔۔۔ بس بھی کرو۔۔۔۔” سحر اس کے اس طرح پنسنے پر تپ گئی تھی۔

“اچھا کوئی بات نہیں۔۔۔۔ آج ولیمے میں مل کر۔۔۔۔۔ سوری اور تھینکیو۔۔۔۔ دونوں کہہ دینا۔۔۔” عارفہ نے اپنے ہنسی روکتے ہوئے اسے تجویز دی۔

ولیمے کے فنکشن میں وہ سادگی سے تیار ہوکر گئی۔ عارفہ کے تجویز پر اس نے ہمت کر کے جاوید سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ سارے فنکشن وہ نظر گردانی کرتی رہی لیکن اسے وہ کہی نہیں ملا۔ تقریب کے اختتام پر دلاور صاحب نے ارسلان صاحب سے جاوید کی غیر موجودگی کے متعلق پوچھا۔

“ہاں۔۔۔۔ اس کے ڈی آئی جی صاحب کی کال آگئی تھی۔۔۔۔ ایک ضروری کاروائی کے لیے اسے واپس بلا لیا تھا۔۔۔۔۔ اس لیے آج صبح ایمرجنسی میں اسے واپس جانا پڑا۔” ارسلان صاحب نے درپیش صورت حال سے آگاہ کیا۔

سحر کا دل بجھ گیا تھا اتنے سالوں بعد وہ اس سے ملی تھی اور امپریس کرنے کے بجائے وہ اپنی حرکت سے خود اس کے سامنے شرمندہ سی ہوگئی تھی۔ اب پتا نہیں پھر کب دیدار نصیب ہو سوچتے ہوئے اس پر مایوسی چھا گئی تھی۔ یونیورسٹی میں داخلے کے ساتھ جاوید کے خیالات اس کے دل میں دب گئے تھے۔ اب وہ اسے بہت کم یاد کیا کرتی لیکن ہمیشہ کی طرح اس کے سامنے آجانے پر سحر کھسیا سی جاتی۔

اس دن کے بعد؛ آج تین سالوں بعد وہ اسی کے شہر میں اچھے عہدے پر فائز ہوکر واپس آیا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

صائم تھکا ہارا فٹبال میچ سے واپس آیا۔ پہلے تو صوفے پر پھیل کے بیٹھ گیا اور ٹیبل پر پڑے لوازمات کھانے لگا۔

“کون آیا تھا مما۔۔۔۔” اس نے کاجو منہ میں بھرتے ہوئے کہا۔

ڈرائی فروٹ فریش فروٹ پیسٹری کباب سموسے پکوڑے پیٹیز رولز اور بھی بیکری کے اشیاء دیکھ کر وہ سمجھ گیا کوئی خاص بندے کی خاطر داری کی گئی ہے۔

“جاوید آیا تھا۔” عابدہ بیگم نے ڈائننگ ٹیبل پر ڈش رکھتے ہوئے کہا۔ صائم جاوید کا نام سن کر خوشی سے چہک اٹھا۔

“صائم گندے ہاتھوں سے نہ کھاو۔۔۔۔ پہلے جا کر فریش ہوجاو” اسے کھاتے دیکھ کر عابدہ بیگم نے سختی سے تنبیہہ کیا۔

وہ اٹھا اور اپنے کمرے میں جانے کے بجائے سحر کے کمرے میں در آیا۔ وہ جو نہا کر نکلی تھی آئینہ کے سامنے کھڑی ہو کر بال برش کر رہی تھی۔

“ہائے sis۔۔۔ ” اس نے کہتے ہوئے اس کا بیگ اٹھایا اور پرس ٹٹولنے لگا۔

“تم آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئے تھے۔” سحر غیر مروی نقطہ کو دیکھتے ہوئے خود کو انجان رکھنے کی کوشش کرتی رہی۔

“میچ تھا میرا۔۔۔۔۔ پتا ہے ہم جیت گئے۔۔۔۔۔ اگلے ہفتے فائنل ہے۔۔۔ ” صائم نے جوش و خروش سے اپنے آنے والے میچ کے بارے میں معلومات فراہم کی۔

سحر نے آئینہ میں ہی اسے دیکھا وہ فٹبال کے میلے مٹھی لگے شرٹ اور شارٹس میں ہی اس کے بیڈ پر لیٹا تھا۔

“صائم گندے کپڑوں میں میرے بیڈ پر لیٹے ہو۔۔۔۔۔ اٹھو۔۔” وہ برش چھوڑ کر تند و تیز لہجے میں اسے جھڑکتی اس کے سر پر پہنچی اور اس کے ہاتھ سے بیگ لے کر اسے اپنے بیڈ پر سے اٹھایا۔

“تم نے اس گھر کے۔۔۔۔ شہزادے سلیم کی بے حرمتی کر دی ہے۔۔۔۔۔ گستاخ کنیز۔۔۔۔ میں تمہارا سر۔۔۔۔ قلم کرنے کا حکم دیتا ہوں۔۔۔” صائم نے مزاحیہ انداز میں آواز کو بھاری بنا کر اداکاری کرتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اشارہ کیا۔

وہ اس کا ڈائلاگ بولنے تک خاموش رہی جب اس کی اداکاری مکمل ہوئی تو وہ کمرے کے در تک آئی اور دروازہ کھولا۔

“پاپا۔۔۔۔۔۔ صائم مجھے تنگ کر رہا ہے۔۔۔۔۔” وہ پورے جوش سے دلاور صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے چلائی تھی۔

صائم کی آنکھیں پھیل گئی۔ وہ دانت پیستے ہوئے اس کے سامنے آیا۔

“صائم۔۔۔۔۔” وہ کچھ اور کہتا اس سے پہلے دلاور صاحب نے رعب دار آواز میں اسے پکارا۔

“آیا۔۔۔۔۔۔ پاپا۔۔۔۔۔۔” وہ منہ پھلائے زیر لب سحر کو سناتے ہوئے اسے آنکھیں دکھاتا باہر نکل گیا۔

اس کے جاتے ہی سحر نے سرد سانس خارج کی اور پھر سے برش کرنے لگی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆