Bikhare Rishte By Palwasha Safi Readelle50251 Bikhare Rishte (Episode 23) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Bikhare Rishte (Episode 23) Last Episode
Bikhare Rishte By Palwasha Safi
تہمینہ آنٹی نے پکارا تو سحر اٹھتے اٹھتے واپس بیٹھ گئی۔ وہ اٹھ کر اس کے پاس آئی اور اس کے گرد بازو مائل کیا۔
“مجھے تو ہمارے جاوید کے لیے یہ لڑکی بہت پسند ہے۔۔۔۔۔ کیوں جی۔۔۔۔” انہوں نے سحر پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے میاں کو مخاطب کیا۔
“ہاں بھئی۔۔۔۔ یہ تو مجھے بھی پسند ہے۔۔۔۔۔” ارسلان صاحب نے بیگم کے ہاں میں ہاں ملائی۔
سحر کے تاثرات بدل گئے۔ وہ تعجب سے انہیں دیکھنے لگی۔
“اس لڑکی پر تو مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔۔” رابعہ نے خوشی سے اپنے حصے کا اضافہ کیا۔
سحر کا دل دھڑکنے لگا اسے ماحول تجسس بھرا لگنے لگا۔
“کیوں جاوید۔۔۔۔۔ تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔ ” تہمینہ آنٹی نے جاوید کو مخاطب کیا۔ کب سے جا کر اب جاوید نے سحر کی طرف دیکھا۔ اس کی نظروں سے سحر بلش کرنے لگی۔
جاوید نے کچھ کہنے کے بجائے آنکھوں کے اشارے سے اپنے والدین کو ہامی بھری۔
“دلاور صاحب۔۔۔۔۔ پھر آپ اپنی بیٹی ہمیں دینے کے لیے تیار ہے کیا۔۔۔۔۔” ارسلان صاحب کہتے ہوئے صوفے پر سے اٹھ گئے۔ ان کی پیروی کرتے ہوئے باقی سب نے بھی اپنی نشستیں چھوڑ دیں۔
“بیٹیاں تو پیدا ہوتے ہی۔۔۔۔۔ اپنا نصیب ساتھ لاتی ہے۔۔۔۔۔” دلاور صاحب چل سحر کے پاس آئے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“سحر کے اس گھر سے جانے کا سب سے زیادہ دکھ مجھے ہی ہوگا۔۔۔۔۔ لیکن اس کا اپنا گھر بستا دیکھ کر سب سے زیادہ خوشی بھی مجھے ہی ہوگی۔” پاپا کی جذباتی باتیں سن کر سحر آبدیدہ ہوگئی۔ آنسو بہہ جانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ سر جھکا کر آنکھوں کے بھیگے کنارے صاف کرنے لگی۔
“اور پھر جاوید تو لاکھوں میں ایک ہے۔۔۔۔۔ اسے اپنی بیٹی سونپنا میری خوش قسمتی ہوگی۔۔۔۔” دلاور صاحب نے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر جاوید کے جانب کیا تو وہ تیزی سے ان کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔ پھر پاپا نے جاوید کا کندھا تھپتھپایا۔ جاوید شرمانے لگا۔ آج تک وہ اس فیملی سے فیملی فرینڈ یا پولیس اہلکار کے نسبت سے ملتا آرہا تھا۔ آج اس کا اس گھر سے نیا رشتہ جڑ رہا تھا۔
“تو پھر رشتہ مبارک ہو دلاور صاحب۔۔۔۔۔” ارسلان صاحب آگے آئے اور دلاور صاحب کے گلے ملے۔ وہی دوسری جانب عابدہ بیگم اور تہمینہ بیگم بھی آغوش گیر ہو کر مبارکباد پیش کرنے لگی۔ رابعہ اور عارفہ سحر کو شرماتے مسکراتی دیکھنے لگی اور آنکھ مار کر مبارکباد پیش کی۔
شاویز سب کے درمیان آیا اور ہاتھ ہوا میں بلند کر کے اعلانیہ صورت کنکارا۔
“تو پھر جھٹ پھٹ۔۔۔۔ ایک چھوٹی سی منگنی بھی کروا دیں۔۔۔” اس نے شرارت بھری دلچسپی سے کہا۔
سحر تو گڑبڑا گئی لیکن باقی سب خوشی سے چہک اٹھے۔
عارفہ سحر کو منگنی کے لحاظ سے تیار کرنے اپنے ساتھ کمرے میں لیں گئی۔ عابدہ بیگم رسم کی تیاریاں کرنے لگی۔ رابعہ ان کا ہاتھ بٹانے کچن میں چلی گئی اور باقی سب اپنے نشستوں پر بیٹھ گئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تھوڑی دیر بعد شاویز دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوا۔ سحر سفید کشیدہ کاری کی قمیض اور چوڑی دار پجامہ پہنے۔ ہلکا سا میک اپ کئے۔ بالوں کا جوڑا بنائے۔ ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے۔ سر پر سرخ رنگ کا ڈوپٹہ ٹکائے دلکش اور حسین لگ رہی تھی۔ شاویز اسے سراہتے ہوئے قریب آیا۔ لیکن سحر کے تاثرات سپاٹ تھے۔
“تمہیں کیا لگا۔۔۔۔۔ سرپرائز منگنی کروانا صرف تمہیں آتا ہے۔۔۔۔۔ میں نے کہا تھا نا۔۔۔۔۔ صبر کر little sister۔۔۔۔۔ میری باری ابھی رہتی ہے۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔ پھنسا دیا نا۔۔۔۔” شاویز نے شرارتی انداز میں آبرو اچکا کر جتایا۔
سحر کے پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔
“ویسے۔۔۔۔ اگر تمہیں جاوید نہیں پسند تو مجھے بتا دو۔۔۔۔۔ میں یہ منگنی رکوا دوں گا۔۔۔۔” اس نے سحر کے گرد چکر کاٹتے ہوئے کہا۔
“کیا کر لو گے۔۔۔۔۔ پاپا کے فیصلے کے خلاف جاو گے۔۔۔۔”سحر نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے کہا۔
“ہمممم نہیں۔۔۔۔۔ وہ تو نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔ پر ہاں۔۔۔۔۔ تمہارا کہی اور رشتہ ہونے تک۔۔۔۔۔ جاوید کو غائب کرا دوں گا۔۔۔۔۔” گھومتے ہوئے شاویز سحر کے بلکل سامنے آگیا۔ عارفہ کچھ فاصلے پر کھڑی ان بھائی بہن کی نوک جوک سے مسرور ہو رہی تھی۔
“او ہیلو مسٹر۔۔۔۔۔ خبردار میرے جاوید کو کچھ کیا تو۔۔۔۔” سحر نے انگلی اٹھا کر سختی سے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا۔
شاویز کے آبرو پھیل گئے۔
“میرے جاوید۔۔۔۔۔” اس نے اپنے مخصوص انداز میں ہلکا سا جھک کر کمر پر ہاتھ باندھ کر سحر کے الفاظ دوہرائے۔
سحر کو احساس ندامت ہوا تو نظریں جھکا گئی۔
عارفہ ہنستے ہوئے آگے آئی اور شاویز کے کندھے پر کہنی رکھی۔
“مائی ڈئیر husband۔۔۔۔۔ آپ نے ان محترمہ کو پھنسایا نہیں ہے۔۔۔۔۔ بلکہ ان کا کام آسان کر دیا۔۔۔۔ پچھلے گیارہ سال سے یہ اس اتنظار میں تھی۔۔۔۔ کہ کب جاوید کو اس کی محبت کا احساس ہوگا اور وہ اسے پروپوز کریں گا۔۔۔۔” عارفہ نے سحر کا راز افشاں کرتے ہوئے بتایا۔ سحر دانت پیستے ہوئے اسے آنکھیں دکھانے لگی۔
“جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ خوش رہنا۔۔۔۔۔۔” شاویز نے معصومیت سے سحر کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر دعا دی۔
“ویسے تو جاوید بہت سمجھ دار ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن کبھی اگر تنگ کیا۔۔۔۔۔ تو ڈائریکٹ مجھے آکر بتانا۔۔۔۔۔ تب تو اسے لازمی غائب کرا دوں گا۔۔۔۔”شاویز نے ہنستے ہوئے مزید شرارت کی۔ سحر آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر شرماتے ہوئے ہنسنے لگی۔ تب ہی عابدہ بیگم کمرے کے اندر داخل ہوئی۔
“سحر۔۔۔۔ کتنا وقت لگا رہی ہو۔۔۔۔ چلو جلدی کرو۔۔۔۔۔ سب اتنظار کر رہے ہیں۔۔۔۔” انہوں نے مصروف انداز میں پوچھا پھر سحر کو اتنا پیارا تیار ہوئے دیکھ کر وہ اس کے قریب آئی۔ سر تا پیر اسے دیکھا۔ ان کے دل کی بیٹی کو دلہن بنے دیکھنے کی آس پوری ہوتے پا کر ان کا دل بھرا گیا۔ مما نے مضبوطی سے سحر کو خود سے لگایا۔
“ماشااللہ میری پیاری بچی۔۔۔۔۔” مما نے اس کی تعریف کر دی پھر ایک خیال آنے سے وہ تیزی سے شاویز کے جانب متوجہ ہوئی۔
“شاویز۔۔۔ جاوید کہ انگھوٹی۔۔۔۔” رسم کرنے کی اہم چیز بھولنے پر وہ بھوکلا گئی تھی۔
“مما۔۔۔۔ رِنگ میرے پاس ہے۔۔۔۔ میں ابھی لایا۔۔۔۔” شاویز نے ان کے بازو پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
“شاویز نے ہیرے جیسا لڑکا چُنا ہے ہماری شہزادی کے لیے۔۔۔۔۔۔” عابدہ بیگم نے سحر کی نظر اتارتے ہوئے جاوید کی تعریف کی پھر عارفہ کو ہدایت دے کر باہر نکل گئی۔ مما کی بات نے سحر کو سوچ میں ڈال دیا تھا۔ اس کی پریشانی محسوس کر کے عارفہ اس کے ڈوپٹے کا پہلو ٹکاتے ہوئے ہلکے آواز میں وضاحت دینے لگی۔
“شاویز نے پاپا اور مما کو تمہارے جاوید کے لیے جذبات سے آگاہ کیا۔۔۔۔۔۔ پھر جاوید اور ان کی فیملی کو بھی اس رشتے کے لیے شاویز نے قائل کیا۔۔۔۔ رابعہ کو لانے سے لیکر انجان لڑکیوں کی تصاویر دکھانے تک اور پھر آنٹی کا تمہیں انتخاب کرنے تک۔۔۔۔۔ ساری اداکاری کی پلاننگ شاویز کی تھی۔۔۔۔۔” عارفہ نے نرمی سے اسے سچائی بتائی۔
“شاویز نے ہمیں تمہیں یہ بات بتانے سے منع کیا تھا کہ یہ سب اس کا آئیڈیا ہے۔۔۔۔۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ کہ تم یہ سب اس کا احسان سمجھو۔۔۔۔۔” اس کے بازو کو تھام کر عارفہ کمرے سے باہر بڑھنے لگی۔ سحر کے دل میں شاویز کے لیے محبت اور احترام میں مزید اضافہ ہورہا تھا۔
دروازے کے پار سب سے پہلے سحر کو شاویز دکھا۔ وہ آنکھوں میں محبت۔ عزت۔ اپنائیت۔ مشکور ہونے کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھنے لگی۔
“تمہارے خواہش پوری کرنے کے لیے مجھے تھینکس بعد میں کہہ دینا۔۔۔” شاویز سحر کے دیکھنے کا انداز سمجھ گیا تھا۔ سحر نے ہنہ کرتے سر کو جنبش دیتے ہوئے رخ پھیر لیا اور لاؤنج کی طرف روانہ ہوگئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سحر کو آتے دیکھ کر سب اس کے استقبال کے لیے کھڑے ہوگئے۔
سحر بلش کرتی ہلکا مسکراتی نظریں جھکائے شاویز اور عارفہ کے ہمراہ چلتی سب کے بیچ آئی اور جاوید کے ساتھ بڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔
پاپا اور مما خوش دلی سے اپنی پری کو دلہن کے روپ میں دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماء رہے تھے۔
تہمینہ آنٹی نے جاوید کو سحر کو انگھوٹی پہنانے کے لیے دی۔ جاوید نے مستحکم بھرے انداز میں سحر کا ہاتھ تھامنے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ سحر نے متذبذب سی ہوکر اپنا ہاتھ آگے کیا۔ جب جاوید نے اس کا ہاتھ پھاما اور انگھوٹی پہنانے لگا تو سحر کا دل دھڑکنے لگا اس کا ہاتھ کانپنے لگا تھا لیکن جاوید کے گرفت میں ہونے کے باعث لرزش نظر نہیں آرہی تھی۔ اس کے بہ نسبت جاوید نے با اعتماد انداز میں فوراً سے ہاتھ آگے کیا اور سحر نے اسے انگھوٹی پہنا دی۔ ماحول تالیوں سے گونج اٹھا۔ اب ایک ایک کر سب ان دونوں کو مٹھائی کھلانے لگے۔ شاویز اور صائم اپنے موبائل میں تصویریں لیتے ہوئے اس لمحے کو یادگار بنانے لگے تھے۔
آخر میں شاویز آیا اور جاوید کے ساتھ بیٹھ کر اسے مٹھائی کھلانے لگا۔ آدھا گلاب جامن اسے کھلا کر اس نے بقیہ حصہ اپنے منہ میں ڈالا۔
“سنا ہے دلہے کا جھوٹا کھانے سے۔۔۔۔۔ جلدی شادی ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔ ” اس کی شرارت بھری نظریں دوسرے سائیڈ پر کھڑی عارفہ پر مرکوز تھی۔ عارفہ سپاٹ تاثرات بنائے شاویز کو گھورنے لگی۔
“تو کیا آپ کا دوسری شادی کرنے کا ارادہ ہے جناب۔۔۔۔” جاوید نے اس کے اشارے کی تصحیح کرتے ہوئے اسے دیکھا۔
شاویز اسی شریر انداز میں جاوید کے جانب متوجہ ہوا۔
“آئیڈیا برا بھی تو نہیں ہے۔۔۔۔۔ سحر اس گھر سے چلی جائے گی۔۔۔۔ تو عارفہ اکیلی ہوجائے گی۔۔۔۔ اکیلے اتنا بڑا گھر کیسے سنبھالے گی۔۔۔۔ اچھا ہے نا۔۔۔۔۔ اس کا ہاتھ بٹانے کوئی اور بھی ہو۔۔۔۔” شاویز جیسے پلاننگ کرتے ہوئے سوچ سوچ کر بول رہا تھا۔
عارفہ کو غصہ آنے لگا وہ منہ بھسورتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔
شاویز اور جاوید آپس میں ہنسنے لگے۔ سحر کو اپنی بیسٹ فرینڈ پر ایسا تبصرہ اچھا نہیں لگا اس نے تنے ہوئے اعصاب سے اسے دیکھا۔
“ناراض کر دیا نا۔۔۔۔۔ کیا ضرورت تھی ایسا بولنے کی۔۔۔۔” سحر نے برا منا کر کہا۔
“ایسی چھوٹی موٹی نوک جوک سے میاں بیوی کا پیار بڑھتا ہے۔۔۔۔ ” جواب جاوید کی جانب سے ملا۔
سحر بدلے میں چپ ہوگئی۔ وہ اب تک جاوید کے ساتھ اتنا فری نہیں ہو سکی تھی کہ ایسے کھل کر بات کر سکے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جاوید اور ان کے گھر والوں کو رخصت کرتے وقت بھی عارفہ مسلسل شاویز کو نظرانداز کر رہی تھی۔ شاویز محظوظ ہوتے ہوئے مسکراہٹ دبائے ہوئے کھڑا تھا۔ اسے عارفہ کو تنگ کرنے میں مزا آرہا تھا۔
کمرے میں آنے تک بھی عارفہ کا موڈ بگڑا ہوا تھا۔ وہ سارے کام مکمل کر کے آدھی رات کمرے میں آئی تو شاویز وہاں نہیں تھا۔ عارفہ حیرانگی سے آس پاس دیکھنے لگی تھی لیکن پیچے سے اچانک کسی نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی۔ عارفہ نے ہڑبڑا کر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر محسوس کیا تو شاویز کو پا کر خوفزدہ نہیں ہوئی۔
شاویز نے عارفہ کے آنکھوں پر پٹی باندھ کر اسے گود میں اٹھا لیا۔
“شاویز۔۔۔۔۔ کہاں لے جا رہے ہو۔۔۔” عارفہ نے متفکر انداز میں پوچھا۔
“اMy highness۔۔۔۔۔ تھوڑا صبر رکھو۔۔۔۔۔ خود پتا چل جائے گا۔۔۔۔۔” شاویز اسے گود میں اٹھائے ہی کمرے سے باہر لے آیا اور لاؤنج کو عبور کرتا ہوا اپنی کار میں بیٹھا دیا۔
عارفہ نے مضطرب سی ہو کر پھر سے پوچھنا چاہا پر شاویز نے ٹوک دیا۔
“میرے پٹی کھولنے تک اب کچھ نہیں بولو گی۔۔۔۔” اس نے سخت لہجے میں ٹوکا تو عارفہ خاموش ہوگئی۔
رات کے بارہ بجے عارفہ کو ایسے گھر سے نکلنا عجیب لگ رہا تھا لیکن شوہر کی تلقین کرتے وہ چپ رہی۔ کچھ دیر مسافت کر کے ایک ہوٹل کے سامنے شاویز نے کار روکی۔ پہلے خود اترا پھر عارفہ کا ہاتھ تھام کر اسے اتارا۔
شاویز نے عارفہ کی پٹی کھولی تو وہ دونوں اسی فائف سٹار ہوٹل کے سامنے کھڑے تھے جہاں وہ ڈیٹ کے طور پر پہلی مرتبہ آئے تھے۔
عارفہ نے تعجب سے شاویز کو دیکھا وہ کھل کر مسکرا رہا تھا۔ پھر اس نے عارفہ کے آگے ہاتھ بڑھایا۔ عارفہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور خاموشی سے اس کے ساتھ اندر جانے لگی۔ ریسٹورینٹ کی طرف جانے کے بجائے وہ لفٹ کے اندر داخل ہوا۔ اگر اس وقت وہ دونوں میاں بیوی نہ ہوتے تو عارفہ بہت گھبرا جاتی اور اس کے ساتھ جانے سے منع کر دیتی۔ لیکن اس وقت وہ اپنے سرپناہ اپنے محافظ کے ساتھ ہی تھی
دوسرے منزل پر وہ ایک کمرے کے سامنے آئے۔ شاویز نے جیب سے ایک عدد کارڈ نکالا اور دروازے کے درز میں دیا تو دروازہ کھلتا گیا۔
پہلے شاویز اندر گیا اور لائٹ آن کی۔ عارفہ نے اپنے قدموں سے لیکر کمرے کے آخری حصہ تک گلاب کی پتیاں بچھی پائی۔ جگہ جگہ خوشبو دار موم بتیاں سجائی گئی تھی۔ بیڈ پر بہت سے سرخ کلر کے ہارٹ والے غبارے پھیلائے ہوئے تھے۔ عارفہ نے سینڈل وہی اتاری اور محظوظ ہوتے ہوئے ننگے پیر گلاب کے پتیوں پر چلنے لگی۔ کمرے کے بیچ تک آکر اس نے ایڑیوں کے بل گھوم کر پورے کمرے کی سجاوٹ دیکھی۔ اس کا چہرا خوشی سے کھلکھلا رہا تھا۔ شاویز نے تیزی سے ہاتھ بڑھا کر ہلکے سپیڈ سے چھت پر لگا پھنکا آن کیا تو کچھ پتیاں عارفہ پر گرنے لگی۔ وہ ہاتھ ہوا میں بلند کر کے آنکھیں موندھے گول گول گھومنے لگی۔ محبت کے احساس سے وہ جھوم گئی تھی۔
“شاویز یہ سب کس لیے۔۔۔” عارفہ نے چہکتے ہوئے پوچھا۔ نہ آج اس کی سالگرہ تھی نہ شاویز کی نہ ہی شادی کی سالگرہ نہ کوئی اور خاص دن
“بس یوں ہی۔۔۔۔۔ دل کر رہا تھا۔۔۔۔ یاد ہے پہلی بار اس ہوٹل میں ہم انجان ہوتے ہوئے ڈیٹ پر آئے تھے۔۔۔۔۔ اور آج سچ مچ کے کپل بن کر آئے ہیں۔۔۔۔” شاویز نرمی سے کہتا ہوا اس کے پاس آیا اور پیچے سے عارفہ کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے کہا۔ عارفہ نے شاویز کے رومینٹک انداز سے مسرور ہوتے ہوئے اس کے رخسار پر ہاتھ رکھ دیا۔
عارفہ نے مسکراتے ہوئے ان لمحوں کو یاد کیا۔ شاویز نے اسی طرح بانہوں میں لیئے ہوئے عارفہ کے بال پیچے کر کے اس کے گردن پر بوسہ دیا۔ عارفہ نے سانس روک کر آنکھیں بند کی۔ پھر شاویز نے اس کا رخ اپنے جانب کیا۔
“تمہاری جگہ میری زندگی میں کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔۔” شاویز نے اپنی شام والی حرکت کی وضاحت دی۔
“تم میری اکلوتی اور سب سے عزیز بیوی ہو۔۔۔۔۔ اور تا حیات رہو گی۔۔۔۔” اس نے اپنے پیار کی یقین دہانی کروائی۔
عارفہ اس کے محبت سے سر شار ہوتے۔ اس کے رومینٹک انداز سے مسرور ہوتے اس سے لپٹ گئی۔ شاویز نے پورا اسے اپنے حصار میں لے لیا اور اس کے ایک ایک نقش چومنے لگا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
############### 6 ماہ بعد ############
پانچ سال سے اپنے ایجنسی کے لیے خدمات سر انجام دے کر شاویز کی پروموشن ہوگئی۔ وہ کیپٹن کے عہدے پر آگیا۔ اسے سرکار کے جانب سے کراچی کینٹ میں گھر اور گاڑی دی گئی۔
اس نے گاڑی تو منظور کر لی البتہ فلحال اپنے فیملی کے ساتھ ہی رہنا چاہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ایک دن وہ اپنے کیپٹن کے یونیفارم میں تیار ٹھاٹ باٹ لیئے آرمی قید خانے کا دورا کر رہا تھا۔ اسے راشد ہاشمی اور علی کے گروہ کے بہت سارے سیل دکھے۔ کوریڈور میں چلتے ہوئے وہ ایک سیل کے آگے رک گیا۔ وہ سلطان کا سیل تھا۔ شاویز نے ہاتھ بڑھا کر دروازے کا سلاخ دار پھٹ کھولا۔ سلطان نے آہٹ پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو شاویز کو الگ ہی روپ میں اپنے سامنے پایا۔ سلطان ایک سال سے وہاں قید تھا۔ آرمی قید خانے میں جو داخل ہوتا ہے پھر اس کے خاندان والوں کو تو اس کی زندگی اور موت کی خبر تک نہیں ملتی نہ کسی کو ملنے دیا جاتا ہے۔
شاویز سینہ تانے با اعتماد تاثرات بنائے کھڑا سرد مہری سے سلطان کو دیکھ رہا تھا۔
“کیسے ہو سلطان۔۔۔۔” شاویز نے ڈٹے آواز میں اسے مخاطب کیا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ہونے والی فزیکلی تبدیلیوں میں اس کی آواز کا رعب دار ہونا بھی شامل تھا۔
سلطان نے اس کے سوال کو بے رخی سے نظر انداز کر دیا۔
شاویز نے پھیکا مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔ اسے سلطان کے جہالت پر افسوس ہونے لگا۔
“کیا مل گیا ایسا کر کے۔۔۔۔ میں بچ گیا۔۔۔۔۔ عمران خٹک پر کروائی بھی چل رہی ہے۔۔۔۔۔ نقصان کس کا ہوا۔۔۔۔۔ تمہارا اپنا۔۔۔۔۔۔ میری تو پروموشن ہوگئی۔۔۔۔۔۔ قید میں تم پھنس گئے۔۔۔۔۔” اب کی بار شاویز کا لہجہ نرم اور دوستانہ تھا۔
“وہ مثال تو سنی ہوگی۔۔۔۔ جو دوسروں کے لیے کھڈا کودتا ہے۔۔۔۔۔ خود اسی میں گر جاتا ہے۔۔۔۔۔ چند رقم کے لیے تم نے اپنا پورا کیرئیر تباہ کر دیا۔۔۔” شاویز کے ہمدردی سے بے مروتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلطان رخ دیوار کی جانب کر کے بیٹھا تھا۔ جواب دینے کے موڈ میں وہ اب بھی نہیں تھا۔
“خیر۔۔۔۔ میں دعا کروں گا۔۔۔۔۔ تمہاری قید آسان گزرے۔۔۔۔ اور تمہاری فیملی تمہیں شہید سمجھ کر صبر کر لیں۔۔۔۔” شاویز سرد سانس خارج کی اور دروازے کا پھٹ بند کر کے آگے روانہ ہوگیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
دورے سے شاویز اپنے فلیٹ آگیا تھا۔ اس فلیٹ کو اب شاویز اپنے چھوٹے آفس کے طور پر استعمال کیا کرتا۔ جب اسے کسی ضروری کیس پر فرصت سے کام کرنا ہوتا۔ وہ فلیٹ آجایا کرتا۔ کبھی کبھار جب عارفہ میکے گئی ہوتی وہ رات بھی فلیٹ میں رہ جاتا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سحر کی شادی کی زیادہ تر تیاریاں شاویز اور صائم کے سپرد تھی۔ اور وہ پوری زمہ داری سے اسے تکمیل دینے لگے تھے۔
سحر کے شادی کے سارے فنکشن دھوم دھام سے کیے گئے۔ پہلے نکاح پھر مہندی اور پھر بارات کے تقریب جوش و خروش سے منائے گئے۔ بارات کے تقریب میں سحر سرخ رنگ کا لہنگا پہنے دلہن بنے گولڈن کلر کی شیروانی میں ملبوس جاوید کے ساتھ آکر بیٹھی۔
ہال کے وسط میں میڈیا کے رپورٹرز نے شاویز کو گھیر لیا تھا اور اس سے فیملی کے بابت اور کام کے بابت سوالات پوچھ رہے تھے۔
عارفہ اس کے فارغ ہونے کے انتظار میں ادھر ادھر ہوتی رہی۔ اسے شاویز کو ساتھ لیئے سحر اور جاوید کے ساتھ جا کر تصویریں کھنچوانی تھی۔ عارفہ ہاتھ سینے پر باندھے بے دلی سے میڈیا کے جانب دیکھ رہی تھی جب اس کے پاس کوئی آکر کھڑا ہو گیا۔
“چڑیل آخر چمڑ ہی گئی نا میرے دوست پر۔۔۔۔۔”لاریب نے اپنا مخصوص جملہ دوہرایا۔
عارفہ اسے دیکھ کر حیران ہوگئی تھی۔ لاریب سوٹ بوٹ میں ملبوس با وقار بزنس مین لگ رہا تھا۔
“لاریببببب۔۔۔۔۔۔ کیسے ہو۔۔۔۔۔ what a pleasant surprise
کہاں تھے۔۔۔۔۔ ” وہ اس کی موجودگی سے محظوظ ہوتے ہوئے اس کا حال احوال دریافت کر رہی تھی۔
شاویز نے بھی لاریب کو دیکھا تو میڈیا والوں سے معذرت کرتا وہاں آیا اور لاریب کا اچھے سے استقبال کیا۔
“کیپٹن صاحب۔۔۔۔ آپ کی تو بڑی تعریفیں سنی ہے۔۔۔۔” لاریب نے شاویز سے ملتے ہوئے کہا۔
“ویسے تم دونوں کی شادی کا سن کر بہت خوشی ہوئی۔۔۔” اس نے شاویز اور عارفہ کو کپل کے طور دیکھ کر خوش دلی سے کہا۔ پھر وہ تینوں اسی طرح باتیں کرتے شاویز کی فیملی سے ملنے بڑھ گئے۔
رابعہ اور عارفہ نے سہیلی کا کردار نبھاتے ہوئے دودھ پلائی کی رسم میں جاوید کی جیب خالی کر کے رکھ دی تھی۔
رخصتی کے وقت سب نے اشک بار آنکھوں سے سحر کو رخصت کیا۔ صائم ہمیشہ جتنا سحر کے جانے کی خوشی مناتا تھا آج حقیقت کی دوری سے سب سے زیادہ وہ رویا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سحر کا رشتہ پکا ہونے کے بعد بھی جاوید سے ایسا خاص رابطہ نہیں رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ دوستانہ بن پاتی۔ اس کا جاوید سے گھبرانا شرمانا اب بھی برقرار تھا۔ اس وقت وہ مضطرب سی جاوید کے سجے ہوئے کمرے میں بیٹھی تھی۔ اس کی دھڑکن اتنی تیز تھی مانو اس کا دل باہر آجائے گا۔
جاوید تہذیب سے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوا۔ سحر اپنی لرزش قابو کرنے مٹھیاں سختی سے مینچھے سر جھکائے بیٹھی تھی۔
جاوید اس کے پہلو میں آکر بیٹھا۔ سحر پھر بھی سر جھکائے ہوئے تھی۔ جاوید، سحر کا چہرہ اوپر کرنے کے بجائے خود ہلکا سا نیم دراز ہو کر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ سحر نے ایک جھوٹی نظر جاوید کے جانب دیکھا دونوں کی نظریں آپس میں ملی تو سحر بلش کرنے لگی اور رخ پھیر لیا۔
جاوید کھل کر مسکراتا ہوا سیدھا اور سحر کے قریب کھسکا تو اس کی سانس رکنے لگی۔
“آج بھی صرف شرماتی رہو گی یا۔۔۔۔۔۔ کچھ کہو گی بھی۔۔۔۔” جاوید نے اپنے نئی نویلی دلہن کے تیار سراپے کو سر تا پیر دیکھتے ہوئے کہا۔
سحر چھنپ سی گئی۔
“کیا کہو۔۔۔۔” سحر جاوید کے رقبت سے کنفیوز ہونے لگی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا جواب دیں۔
“وہی جو اتنے سالوں سے دل میں چھپا کر رکھا ہے۔۔۔۔۔” جاوید نے مدھم آواز میں سرگوشی کی۔ وہ اب ہاتھ بڑھا کر سحر کے چہرے پر آتے لٹوں کو سنوار رہا تھا۔
“تو۔۔۔۔۔ جاوید میری دل کی بات جانتے ہے۔۔۔۔۔ کیا وہ بھی مجھ سے پیار۔۔۔۔۔۔۔”
جاوید کی بات پر سحر کو شاک سا لگا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
جاوید کی انگلیاں جیسے جیسے سحر کے رخسار پر لگ رہی تھی سحر کے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا تھا۔
“آپ بھی تو کچھ کہہ سکتے ہے۔۔۔۔” سحر نے پہلی بار ایک معصومانہ خواہش کی۔
جاوید کچھ لمحے خاموش ہوا اور پھر ایک جھٹکے سے سحر کو بانہوں کے حصار میں لے لیا۔
اس کے سینے سے لگ کر سحر نے آنکھیں مینجھ لی۔
زبان سے کہنے کے بجائے جاوید اسی طرح گلے لگائے ہوئے ہی سحر کے کندھے پر اپنے پھوروں سے کچھ عبارت بنانے لگا۔ سب سے پہلے اس نے اپنی انگلی کو I کی شکل میں جنبش دی۔ سحر کسمسا سی گئی۔ آنکھیں موندھے تیز سانس لیتے اس نے جاوید کے گرد بازو مائل کئے۔
پھر اسی طرح کرتے کرتے جاوید کی پھوریں دوسری عبارت نقش کرنے لگی L O V E۔ سحر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ وہ ان عبارت کو سمجھ بھی گئی تھی اور محسوس بھی کر سکتی تھی۔ آخر میں Y O U اور U کی شکل تکمیل دیتے ساتھ ہی جاوید نے اپنے لب سحر کے کندھے پر لگا دیئے۔ سحر کے لبوں سے ایک سسکی نکلی لیکن فوراً آواز روکنے اپنا نچلا لب دانتوں میں دبا دیا۔ خوشی سے سرشار اس کا دل جھوم رہا تھا۔ جسے اس نے بچپن سے چاہا اس کے دل میں اپنی محبت پا کر۔ اس کے اظہار کے ایسے انھوکے طریقہ کار سے سحر کی زندگی میں خوشیوں کی بہار آگئی تھی۔ جاوید کی حصار میں آکر اس کی محبت سے سرشار ہوتے سحر کا گھبرانا ختم ہوگیا تھا اس کی لرزش تھم گئی تھی۔ اسے اس کی محبت مل گئی تھی۔ قسمت نے جاوید کو زندگی بھر کے لیے اس کا کر دیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
صبح جب جاوید کی آنکھ کھلی تو سحر آئینہ کے سامنے کھڑی گیلے بال سکھا رہی تھی۔ جاوید نے اپنی زندگی کی نئی روشن صبح کو خوب خوش دلی سے ویلکم کیا۔ وہ اسی سمت کروٹ پر لیٹا آئینہ میں سحر کے پُر نور چہرے کا عکس دیکھ رہا تھا جب سحر کو اس کی نظریں خود پر جمی محسوس ہوئی۔ وہ متذبذب سی ہوگئی۔
“گڈ مارننگ۔۔۔۔” سحر کا بالوں میں چلتے برش کی رفتار آہستہ ہوگئی تھی۔
“گڈ مارننننننگ۔۔۔۔” جاوید نے بیڈ پر سے اٹھ کر سستاتے ہوئے کہا۔
سحر کی اس طرف پشت تھی۔ جاوید اس کے قریب آیا اور اس کے گرد بازو مائل کئے۔ سحر نے بلش کرتے ہوئے نظریں نیچی کر لی۔
“تمہیں پتا ہے سحر۔۔۔۔ تمہارا مجھ سے یوں شرمانا۔۔۔۔۔ تمہاری یہ حیا یہ لاج شرم۔۔۔۔۔ مجھے ہمیشہ سے تمہارے جانب راغب کرتا رہا ہے۔۔۔۔” جاوید نے نرمی سے اسے اپنے دل کے راز بیان کئے۔
“میری ہمیشہ سے خواہش تھی۔۔۔۔۔ کبھی میری شادی ہو۔۔۔۔۔ تو ایسی ہی عاجز لڑکی سے ہو۔۔۔۔” اس نے سحر کو کندھوں سے تھام کر اس کا رخ اپنے جانب کیا۔
“میں چاہتا ہوں۔۔۔۔ تم اپنی یہ عادت برقرار رکھو۔۔۔۔۔ کیونکہ مجھے بہت پسند ہے۔۔۔۔۔ میں اس عاجزی پر فدا ہوں۔۔۔۔ ” جاوید نے اپنی خواہش ظاہر کی جس پر سحر نے ہامی بھرتے ہوئے سر اثابت میں ہلایا۔ جاوید خوشی سے سر شار، مشکور ہوتے ہوئے اس کے پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے فریش ہونے بڑھ گیا۔ سحر محبت اور اپنائیت کے ملے جلے تاثرات سے اسے جاتے دیکھتی رہی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جب بھی سحر کو گھر کی یاد آتی جاوید اسے میکے لے آتا۔ وہ ایک زمہ دار شوہر ہونے کی پوری زمہ داری نبھا رہا تھا۔ سحر اور جاوید اب بھی عاجز اور خاموش مزاج کپل تھے اور وہ اسی میں خوش تھے۔
اس دن بھی سحر گھر آئی ہوئی تھی۔ جب شاویز کسی اہم کیس کی وجہ سے پریشان اور سنجیدہ انداز میں گھر میں داخل ہوا۔
شاویز نے پروفیشنل اور پرسنل لائف الگ الگ کر کے رکھی تھی۔ نہ وہ کبھی پروفیشنل پریشانی گھر لاتا اور نہ پرسنل مسئلہ ہیڈ کوارٹرز لے کر جاتا۔ گھر میں وہ عام آدمی جیسا رہتا اور دفتر میں با اعتماد رعب و دبدبہ کا حامل کیپٹن۔
لاؤنج میں داخل ہوتے جب اس نے سحر کو دیکھا تو مزاج خوشگوار بنا لیئے۔ اس سے اچھے سے ملا پھر کمرے میں جاکر یونیفارم چینج کیا۔ ڈنر کے وقت جاوید بھی سحر کو لینے آگیا تھا۔ سب کے ساتھ مل کر خوش گپیاں کرتے ہوئے ڈنر کیا۔ شاویز ان کے جانے تک ان کے ساتھ رہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ان دنوں موسم سرما اپنے تاب پر تھی۔ کراچی میں بھی صبح صادق کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلتی۔
عارفہ کو سوتے ہوئے سردی محسوس ہوئی تو کمرے کا آے سی بند کرنے اٹھی لیکن اس نے شاویز کا بیڈ خالی پایا۔
“یہ کہاں چلا گیا اتنی صبح صبح۔۔۔۔۔۔”عارفہ نے حیرت سے سوچا۔
پیروں میں چپل پہن کر وہ کندھوں کے گرد گرم شال اوڑھ کر باہر آئی۔ لاؤنج میں جھانکا، کچن میں دیکھا۔ لان میں بھی چکر لگایا لیکن شاویز کہی نہیں ملا۔ فون کر کے دیکھتی ہوں؛ سوچتے ہوئے وہ متفکر ہو کر واپس کمرے میں جانے لگی تھی کہ اس کی نظر ہوا سے کھلتی بند ہوتی ٹیرس کے دروازے پر پڑی۔
وہ ہنہ کرتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئی تو شاویز سامنے راکنگ چیئر پر بیٹھا اسے جھلاتا ہوا مشرق کے جانب دیکھ رہا تھا۔
“تم یہاں بیٹھے ہو۔۔۔۔ اور میں پورے گھر میں ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔۔۔ کیا کر رہے ہو اس وقت یہاں۔۔۔” عارفہ نے شاویز کے قریب جا کر منہ بناتے ہوئے کہا۔
شاویز کی نظریں طلوع ہوتے آفتاب پر مرکوز تھی۔ اس کے چہرے پر تسکین بھری مسکراہٹ تھی۔ اس نے ایک نظر عارفہ کو دیکھا پھر اس کے لیے جگہ بناتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ بیٹھایا ۔
“صبح ہوتے دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔ وہ صبح جس کا مجھے برسوں سے انتظار تھا۔۔۔۔۔ وہ صبح جس کی خواہش میری ماں نے کی تھی۔۔۔۔ لیکن انہیں نصیب نہ ہوسکی۔۔۔” شاویز نرم لہجے میں آفتاب کو نکلتے دیکھ رہا تھا۔
عارفہ اس کے کندھے پر سر رکھے اسی سمت دیکھنے لگی۔
“وہ صبح۔۔۔۔ جو اتنی روشن ہوگی میں نے کبھی سوچا نہ تھا۔۔۔۔۔ وہ صبح۔۔۔۔۔ جس کا میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔۔” اپنے ماضی کو یاد کر کے وہ پھیکا مسکرایا
“بے شک اللہ انسان کو بہترین سے نوازتا ہے۔۔۔۔۔۔ یہ ہم انسانوں کی فطرت ہے جو جلدبازی میں رہتے ہیں۔۔۔۔۔ جو ہمارے نصیب میں ہوتا ہے۔۔۔۔ وہ اپنے صحیح وقت پر ہمیں مل ہی جاتا ہے۔۔۔۔” شاویز لمبی سانس لیتے ہوئے کچھ پل خاموش ہوا۔
“میں اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں۔۔۔۔۔ جنہوں نے مجھے یہ صبح عطا فرمائی۔۔۔۔ جہاں میرے پاس میرے اتنے خاص رشتے ہیں۔۔۔۔” وہ اب ایک ایک کر کے اپنی موجودہ نعمتوں کو یاد کرنے لگا اور عارفہ سورج کو دیکھتے، جو پورا طلوع ہوچکا تھا، اسے سن رہی تھی۔
“اتنا پیار کرنے والے پاپا ملے گیں۔۔۔۔۔ سگی ماں جیسی فکر کرنے والی مما۔۔۔۔ شرارتی چھوٹا بھائی صائم۔۔۔۔۔ حساس بہن سحر۔۔۔۔۔ با اخلاق دوست جاوید۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔” شاویز اور کہتے ساتھ خاموش ہوگیا۔
آفتاب اب پورا چمک رہا تھا۔ عارفہ نے کچھ پل اس کے گویا ہونے کا انتظار کیا لیکن وہ نہیں بولا تو سر اٹھا کر رخ اس کی جانب کیا۔
“اور۔۔۔۔” عارفہ نے اسے مزید سننے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا۔
شاویز کو لگا عارفہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر سوچکی ہے اس لیے خاموش ہوگیا تھا۔ لیکن اسے جاگا ہوا اور بغور اس کے دل کا حال سنتے پا کر وہ کھل کر مسکرایا اور عارفہ کے چہرے کے گرد ہاتھوں کا پیالہ بنایا۔
“اور اتنی نٹ کٹ۔۔۔۔۔ پیاری سی بیوی۔۔۔۔۔ ” شاویز نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خوش مزاجی سے اپنا جملہ مکمل کیا۔ عارفہ کھلکھلا اٹھی۔ پھر اس کے پاس سے اٹھ گئی۔
“جو لوگ اللہ کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔۔۔۔۔ اپنے بیٹے ہونے کا۔۔۔۔ بھائی ہونے کا۔۔۔۔۔ شوہر ہونے کا۔۔۔۔ فوجی ہونے کا ہر فرض پورے ایمانداری سے نبھاتے ہیں۔۔۔۔۔ پھر انہیں اجر بھی بہترین ہی ملتا ہے۔۔۔۔” عارفہ نے شاویز کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اسے تسکین دلائی۔ وہ اس کی بات پر ہامی بھرتے ہوئے سر کو جنبش دیتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے لگا۔
“اب تو ایک رشتے کی کمی ہے۔۔۔۔۔ جو مجھے صرف تم دے سکتی ہو۔۔۔” شاویز نے دروازے کے پاس رک کر معصومیت سے آنکھیں جھپکاتے ہوئے اسے دیکھا۔ اس کے نظروں سے عارفہ متذبذب ہونے لگی۔
“کونسا۔۔۔۔” اس نے حیرت اور فکرمندی سے آبرو ملا کر سوچنے کے انداز میں پوچھا۔
شاویز شریر انداز میں مسکرایا۔
“باپ بننے کا۔۔۔۔” اس نے اپنے مخصوص انداز میں ہلکا سا جھک کر اپنی خواہش ظاہر کی تو عارفہ کے آبرو پھیل گئے آنکھیں بڑی ہوگئی۔ وہ بلش کرتے ہوئے رخ پھیر گئی۔
“دو گی یہ رشتہ۔۔۔” شاویز نے اس کے ہاتھ پر دباؤ دے کر تصدیق چاہی تو عارفہ نے شرماتے ہوئے سر اثابت میں ہلایا۔ شاویز نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے سینے سے لگا لیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
############# 5 سال بعد ############
32 سالہ جوان میجر شاویز صبح سویرے یونیفارم میں تیار ہوا۔ با اعتماد انداز میں چلتے وہ اپنے کینٹ کے چھوٹے سے نفیس گھر سے باہر آیا تو دو نوجوان فوجی اس کے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔ شاویز کو آتے دیکھ کر وہ دونوں نوجوان سیدھے ہوئے اور ہاتھ پیشانی تک لے جا کر سیلوٹ کیا۔
شاویز ان کو دیکھتے ہوئے مسکرا دیا۔ بہت سی ماضی کی یادیں تازہ ہوگئی تھی۔ اسے وہ وقت یاد آگیا تھا جب کرنل صادق صاحب کے ساتھ ایسی ہی گاڑی میں جاتے ہوئے اس نے اس دن کی خواہش کی تھی۔
ایک سال پہلے شاویز کیپٹن کے عہدے سے میجر کے عہدے پر آگیا تھا۔ وہ اور عارفہ اپنی چار سالہ چھوٹی بیٹی زرتاشہ کے ساتھ کینٹ میں قیام پذیر تھے۔
شاویز نے اپنی بیٹی کا نام اس لیے زرتاشہ رکھا کیونکہ اسے زرتاشہ نین نقش میں اپنی ماں زرتاج کی مشابہہ لگتی۔ اس کی گہری آنکھیں لمبے گھنے بال زرتاج سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔ اسے اپنی بیٹی کے روپ میں زرتاج واپس مل گئی تھی۔
صائم نے ماسٹرز کی ڈگری پوری کر کے پاپا کا ہاتھ بٹانے بزنس کا رخ کیا اس لیے وہ MBA کرنے امریکہ گیا ہوا تھا۔ عارفہ دن میں اپنے کینٹ والے گھر کے کام مکمل کر کے زرتاشہ کو لیئے دلاور صاحب کے گھر آجایا کرتی۔ صائم کے بعد زرتاشہ اس فیملی کی چھوٹی بچی تھی اس لیے سب کی عزیز تھی۔ سحر اور جاوید کا بھی دو سالہ بیٹا تھا لیکن وہ تو کبھی کبھار آیا کرتا۔ جبکہ اب اس گھر کی شہزادی ہونے کا لقب زرتاشہ نے اپنے نام کر رکھا تھا۔ عابدہ بیگم اور دلاور صاحب کا اپنی پوتی کے ساتھ بہت ٹائم پاس ہوجاتا۔ دلاور صاحب آفس سے جلدی گھر آجایا کرتے تاکہ زرتاشہ کے ساتھ کھیل سکے۔ زرتاشہ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ بہت شرارتی بھی تھی۔ کبھی کبھی تو عارفہ کے لیے اسے اکیلے سنبھالنا مشکل ہوجایا کرتا لیکن شاویز کے آتے ہی وہ تہذیب سے رہتی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
عیوان صدر میں آج سب معزز شخصیات اعزازات سے نوازنے کے بابت اکھٹا کیئے گئے تھے۔
دلاور صاحب اپنی فیملی کے ہمراہ تیسری قطار میں بیٹھے تھے۔ عارفہ بار بار زرتاشہ کو تہذیب سے رہنے کی تلقین کرتی مضبوطی سے گود میں بیٹھائے ہوئے تھی۔ سحر اور جاوید بھی ان کی قطار میں تشریف فرما تھے۔ سحر ویڈیو کال پر صائم کو وہاں کی تقریب دکھا رہی تھی۔
تقریب میں صدر مملکت کے ہاتھوں ملک کے خدمت گزاروں کو اعزاز سے نوازا جا رہا تھا۔
میجر شاویز کے اس خاص دن کو مزید روشن کرنے ریٹائرڈ بریگیڈئیر صادق صاحب بھی ہال میں موجود تھے۔
شاویز اپنے ساتھی آفسران کے ہمراہ یونیفارم میں تیار فوجیوں کے قطار میں بیٹھا اپنی باری کا اتنظار کر رہا تھا۔
“اب میں جس نوجوان کو بلانے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔ انہوں نے اتنے کم عمری میں ہمارے ملک کے بڑے بڑے غداروں کو پکڑوایا۔۔۔۔۔۔ ملک کی حفاظت میں اپنی جان تک لگا دیں۔۔۔۔ ہمارے ملک کو ایسے ہی دلیر نوجوانوں کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے خوشی ہیں کہ وہ ہمارے دفاعی سسٹم کا حصہ ہیں۔۔۔۔۔ میری دعا ہیں کہ وہ مزید آگے بڑھے۔۔۔۔۔ اور اسی طرح پوری ایمانداری سے ملک کے لیے خدمات سر انجام دیتے رہے۔۔۔۔۔۔ میجر شاویز دلاور۔۔۔۔” صدر مملکت نے تعریف کی بوچھاڑ کرتے ہوئے شاویز کا نام پکارا۔ شاویز مسکراتا ہوا اپنی نشست سے اٹھا۔ یونیفارم کی شکن درست کی۔ اپنی کیپ کا زاویہ برابر کیا اور ہاتھ پہلو میں گرا کر فوجی انداز میں چلتا اسٹیج کے جانب چلنے لگا۔
ہال کی فضاء تالیوں سے گونج اٹھی تھی۔ زرتاشہ بھی ممی کے گود میں بیٹھی اپنے پاپا کے لیے بھر پور تالیاں بجا کر اسے سراہتے ہوئے خوش ہورہی تھی۔
شاویز اسٹیج پر آیا۔ پیر ہوا میں اٹھاتے ہوئے۔ ہاتھ ہوا میں بلند کر کے پیشانی تک لے جا کر سیلوٹ کر کے صدر مملکت اور ان کے ساتھ موجود آفسران کو احترام پیش گیا۔
صدر صاحب نے اس کا احترام قبول کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر مصافحہ کیا پھر اسے تمغہ امتیاز اور تمغہ جرآت دونوں پیش کئے گئے۔ شاویز سینہ تانے چمکتی آنکھوں سے سر اٹھا کر کھڑا تھا۔ صدر مملکت نے اس کے شرٹ پر دونوں تمغے چسپاں کر دیئے۔ شاویز کی آنکھیں بھر آنے لگی۔ اسے اپنی ماں کی شدید یاد آرہی تھی۔ آخر وہی تو تھی جس کے لیے وہ اس راہ پر آیا تھا۔ صدر صاحب نے مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس سے پھر مصافحہ کیا تو شاویز نے تیزی سے پلکیں جھپکا کر بھیگتی آنکھوں سے آنسو اندر کھینچ لیئے۔
خوش دلی سے مسکراتا ہوا وہ واپس مڑا۔ تالیوں کی گونج اب بھی رواں دواں تھی۔ ایک آفسر نے اسے مائک پر آنے کا اشارہ کیا۔ وہ مائک پر آیا تو سب خاموش ہوگئے۔ شاویز نے پہلے ایک نظر پورے ہال کو دیکھا۔ دلاور صاحب کی آنکھوں میں تیرتا پانی اسے صاف محسوس ہو رہا تھا۔ صادق صاحب کے لیے بھی یہ کوئی کم خوشی نہ تھی کہ ان کا عزیز بیٹے جیسا جوان آج اپنی کامیابی کو چھو رہا ہے۔ عارفہ تو اپنے شوہر کو اس مقام پر کھڑا دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماء رہی تھی۔
شاویز مائک اپنے قد کے حساب سے برابر کر کے کنکارا۔
“بسم اللہ الرحمن الرحیم” ہر کام کے جیسے اپنی تقریر کا آغاز اس نے اللہ کے پاک نام سے کیا۔
“سب سے پہلے یہاں موجود سب معزز مہمانوں کو السلام علیکم۔۔۔۔۔” پھر اس نے سب پر سلامتی بھیجی۔ ہلکی سرگوشی کے انداز میں سب نے اس کے سلام کا جواب دیا۔
“اس وقت اپنے جذبات بیان کرنے کے لیے مجھے الفاظ نہیں مل رہے۔۔۔۔۔ شاید زبان سے ادا ہونے والے الفاظ۔۔۔۔۔ دل کے احساس کو بیان کرنے کافی نہ ہو۔۔۔۔” اس نے با اعتماد لہجے میں تقریر کا آغاز کیا۔
“میری مرحومہ والدہ۔۔۔۔۔ مجھے ہمیشہ شاہ سوار بلایا کرتی تھی۔۔۔۔۔ اس وقت مجھے اس لفظ کے معنی پتا نہیں تھے۔۔۔۔۔۔ لیکن ان کے زبان سے اپنے لیے یہ لفظ سننا مجھے اچھا لگتا تھا۔۔۔۔” وہ باری باری سب کو دیکھتے ہوئے مخاطب تھا
“میرے ارادوں پر کبھی مجھے بھی یقین نہیں تھا۔۔۔۔۔ لیکن میرے کوچ۔۔۔۔ میرے سرپرست صادق صاحب کو مجھ پر بھروسہ تھا۔۔۔۔۔۔” شاویز نے صادق سر کو دیکھتے ہوئے آنکھوں کو جھپکا ان کا شکریہ ادا کیا۔
“کرنے کچھ اور چلا تھا۔۔۔۔۔ ملا کچھ اور۔۔۔۔۔” اس نے اپنے بدلے کو یاد کرتے ہوئے سوچا اور پھر خوشی سے سرشار اپنی فیملی کو دیکھا۔
“بیشک اللہ بہترین فیصلہ کرنے والے ہیں۔۔۔۔۔ ان کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔۔۔۔” وہ سانس لینے کچھ لمحے رکا۔
صدر مملکت اور ہال میں موجود سب ہی اسے بغور سن رہے تھے۔
“شاہ سوار صرف وہ نہیں جو فوجی ہو۔۔۔۔ جو لڑنا جھگڑنا جانتے ہو۔۔۔۔” وہ اب اپنے الفاظ میں شاہ سوار کی تعریف بیان کر رہا تھا۔
“جو بھی دنیا کے حالات کا ڈٹ کا مقابلہ کریں۔۔۔۔ ہر مشکل کو اللہ توکل کر کے پار کر جائے۔۔۔۔ وہ کوئی فوجی ہو یا عام آدمی۔۔۔۔ اپنے آپ میں شاہ سوار ہے۔۔۔ پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔۔۔۔۔ سب اشرف المخلوقات کو اپنے اندر کے شاہ سوار کو پہچاننا چاہیئے۔۔۔۔” وہ میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ان کے چپے قوت سے روشناس کرا رہا تھا۔
“میری زندگی کے دو ہی اصول ہے۔۔۔۔۔ کام میں ایمانداری اور اس پروردگار عظیم پر بھروسہ۔۔۔۔۔ یہی ایک کامیاب زندگی کی نسخہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنے سب دعا گو اور چاہنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔۔۔۔۔ تھینکیو۔۔۔۔۔ آپ سب کا میجر شاویز دلاور ۔” وہ سب کا زیادہ وقت لیئے بغیر مختصر سا تقریر دے کر اسٹیج سے اترنے لگا۔ ہال میں ایک مرتبہ پھر سے تالیاں گونجنے لگی۔
اپنے نشست پر جانے کے بجائے وہ پاپا کے پاس آیا ان کے گلے سے لگ گیا۔ پاپا نے مضبوطی سے اسے تھام لیا۔ پھر ایک کے بعد ایک کر کے مما سے ملا جاوید اور سحر سے بھی مبارک باد وصول کی۔ صائم ویڈیو کال پر اپنے انگریز دوستوں کے ہمراہ بیٹھا آوازیں اور سیٹھیاں مار کر اس کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ پھر عارفہ سے مل کر وہ دوسری قطار میں گیا اور اڈھیر عمر صادق صاحب کو مضبوطی سے حصار میں لے لیا۔
“ہم جیت گئے صادی بھائی۔” اس نے جوش و خروش سے کہا۔ صادق صاحب نے اس کا کندھا تھپتھپا کر اسے داد دی۔ وہ ابھی ان سے مبارکباد وصول کر رہا تھا جب اس نے پاپا کر کے پکار سنی۔ زرتاشہ ننھے قدموں سے بھاگتے ہوئے اس کے پاس آرہی تھی۔ شاویز نے جھک کر اپنی ننھی پری کو؛ جو سفید فراک میں بالوں میں سفید کلپس لگائے سچ مچ کی پری لگ رہی تھی، گود میں اٹھا لیا۔
“میرے شاہ سوار پاپا۔۔۔۔” زرتاشہ نے اپنے ہینڈسم میجر پاپا کو بوسہ دیتے ہوئے کہا۔
“میری شاہ سوار بیٹی۔۔۔۔” شاویز نے معصومیت سے زرتاشہ کے رخسار کو چومتے ہوئے اسے پیار کیا۔
اور اس طرح شاویز نے اپنے سارے بکھرے رشتے اپنی جولی میں سمیٹ لیئے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
