Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

وہ اَپر کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے۔ تیز نظروں سے آس پاس دیکھ رہا تھا۔ کمپنی کا کام تقریباً مکمل ہوچکا تھا صرف سامان لاد کر آغاز کرنے کی دیر تھی۔ شام کا وقت تھا سب کاریگر اپنے گھروں کو واپس جا چکے تھے۔ ہر ایک کونے میں سیکیورٹی کیمروں سے خود کو محفوظ رکھتا وہ تیز رفتار سے چلتا سب تعمیری کام کو ملاخطہ کرتا رہا۔ اس عمارت سے نکل کر وہ کچھ فاصلے پر ایک گھنے درخت کی آڑ میں چھپ کر بیٹھا۔ موبائل سے باہری سمت کی کچھ تصاویر کھینچی۔ جیب سے پین اور چھوٹی سی نوٹ پیڈ نکال کر کچھ نقشہ بنایا۔ چند لمحے سوچتے رہنے کے بعد اٹھا اور اپنے کار کا رخ کیا۔

گھر پہنچ کر اس نے پہلا کام دماغ میں بنائے نقشے اور موبائل کے تصاویروں کے ذریعے سارا پلان کتابچے میں اتارا۔

اپنے ورکنگ ایریا کے کرسی پر بیٹھ کر وائس ٹرانسمیٹر سے اپنا موبائل جوڑا اور ایک نمبر ملایا۔

وائس ٹرانسمیٹر سے اس کی آواز کچھ بھاری اور دبدبی سی ہوجاتی ہے۔ ساتھ ساتھ اگر کبھی کال ٹریس ہو تو وہ آواز پہچان میں نہیں آسکتی تھی۔ وہ کسی بھی صورت کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا۔

کال اٹھانے پر اس نے راشد ہاشمی سے بات کرنے کا کہا۔

“سنا ہے۔۔۔۔ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اس لحاظ سے ہم دوست ہوئے۔۔۔۔۔ کیونکہ میرا اور تمہارا دشمن ایک ہی ہے۔۔۔۔ راشد ہاشمی صاحب۔۔” اس نے کال پر راشد صاحب کی ہیلو سنتے ساتھ ہی کہا۔ ان کی سیکرٹری کو وہ پہلے ہی آگاہ کر چکا تھا کہ وہ ان سے کس موضوع پر تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہے۔

بات کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے نفرت بھری نگاہوں سے دلاور پرویز خان کی تصویر کو دیکھا۔ لہجا سپاٹ اور بے تاثر تھا۔

“کس دشمن کی بات کر رہے ہو۔۔۔۔”اس کے سماعتوں میں راشد صاحب کی آواز گونجی۔

راشد ہاشمی بزنس کے دنیا کا دوسرا معمر نام تھا۔ دلاور پرویز خان جنتا نیک؛ ایماندار؛ پر خلوص؛ ذہین؛ رحم دل؛ دیانت دار؛ با رعب؛ با اعتماد؛ اور اعلی ظرف شخص تھے۔ راشد ہاشمی اتنا ہی حاسد؛ کم ظرف؛ ظالم؛ بے حس؛ بے ایمان؛ کم عقل؛ دوغلے پن سے بھر پور شخص تھا۔ اگر دلاور صاحب نے ایمانداری؛ لگن اور محنت سے یہ مقام حاصل کیا تھا تو راشد ہاشمی نے مظلوم کا حق چھین کر زبردستی زمینداروں کی زمینوں پر قبضہ کر کے کرپشن کر کے بزنس بنایا تھا۔ اسے دلاور صاحب کی کامیابیوں سے خاصی جلن اور حسد ہوتی۔ وہ اپنے اس کم ظرفی کے چلتے دلاور صاحب کے بزنس کو پس پشت ڈالنا چاہتا تھا۔ ایک آدھ مرتبہ پہلے بھی کوشش کی تھی لیکن دلاور صاحب نے اس کے کسی بھی غلط منصوبے کو رسائی حاصل نہیں ہونے دی۔

اپنے غنڈہ گردی اور بے ایمانی کے کاموں کے لیے راشد ہاشمی نے الگ سے 5 سے 6 بندے تعینات کر رکھے تھے۔

“تمہارا تو نہیں پتا۔۔۔۔۔۔۔ پر میرا فلحال ایک ہی ہے۔۔۔۔۔۔ جو اتفاق سے ہمارا مشترکہ ہے۔۔۔۔ وہ دلاور پرویز خان ہے۔۔۔” اس نے استحزیہ ہنستے ہوئے کہا۔

راشد صاحب کچھ لمحے خاموش ہوگئے جیسے سوچ میں پڑ گئے ہو۔ جتنی دیر وہ خاموش تھے۔ اس نے اپنے بڑے کمپیوٹر پر تیز تیز انگلیاں چلا کر ان کے گھر کے سٹڈی روم کا سیکورٹی کیمرا ہیک کیا۔

وہ 55 سالہ درمیانہ شکل آدمی اپنی سیٹ پر بیٹھا غور سے فون کان سے لگائے ہوئے تھے۔

“اتنا مت سوچیئے مجھے راشد صاحب۔۔۔۔۔۔ میں تیری سمجھ سے باہر کی چیز ہوں۔۔۔۔۔۔ ” اپنی تیز نظریں اس نے کمپیوٹر اسکرین پر نظر آتے راشد صاحب پر مرکوز کر لی تھی۔

“تو یہ سب تم مجھے کیوں بتا رہے ہو” راشد صاحب سرد مہری سے بولے تھے۔

“میرے پاس ایک ڈیل ہے۔” بنا مزید وقت ضائع کئے وہ مدعہ پر آیا۔

“کیسی ڈیل” راشد صاحب نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا

وہ بہت مہارت سے اپنے اندر اٹھتے جذبات قابو کئے ہوئے تھا۔ راشد ہاشمی صاحب کا یہ ٹون اسے شدید غصہ دلا رہا تھا۔

“تم دلاور پرویز خان کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔ اور میں اسے برباد کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں کا دشمن اور اسے تباہ کرنے کا مقصد ایک ہی ہے۔” اس نے سنجیدگی سے تیز آواز میں کہا۔

اب کی بار اس نے اسکرین پر راشد صاحب کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلتے دیکھی۔ وہ اس کی بات سے متاثر نظر آرہے تھے۔

“ڈیل کیا ہے” راشد صاحب نے اس مرتبہ قدرے نرمی سے کہا۔ ان کی آواز سے خوشی صاف چھلک رہی تھی۔

“ڈیل یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ نہ تم اکیلے اسے گرا سکتے ہو۔۔۔۔ نہ میں اکیلے اتنا سب manage کر سکتا ہوں۔۔۔۔ تو ہم ہاتھ ملا لیتے ہے۔۔۔ دونوں مل کر دلاور کی خوشیاں اور کامیابیاں مٹھی میں ملاتے ہیں۔۔۔” اس نے خوشگوار مزاجی سے اپنا مطالبہ بیان کیا۔

راشد صاحب محظوظ ہوتے ہوئے کرسی پر آگے کو ہوئے اور سگار کے ڈبی سے سگار نکال کر منہ میں دبایا۔ وہ دلاور کی بربادی کا سوچ کر لطف اندوز ہو رہا تھا۔

“کرنا کیا ہوگا” اس نے راشد صاحب کا اگلا سوال سنا۔

اسے اپنا ٹارگٹ پھنستا ہوا لگا۔

“اس کی خوشیاں شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دینگے۔۔۔۔۔ اس کی نئی کمپنی کو آگ لگا دینگے۔” اس نے شعلہ برساتی زبان سے راشد صاحب کو جواب دیا۔

راشد صاحب کی آنکھیں کھل گئی آبرو حیرانگی سے پھیل گئے۔

“اس کام کی کیا قیمت چاہیے تمہیں۔” راشد ہاشمی صاحب نے اسے اپنے ٹیم میں شامل کرنے کی پیشکش کی۔

“ہاہاہا۔۔۔۔۔۔ راشد صاحب میں وہ انمول رتن ہوں۔۔۔۔۔ جیسے دنیا کا کوئی خزانہ نہیں خرید سکتا۔۔۔۔۔۔” وہ راشد صاحب کی پیشکش پر کھلھلا کر ہنسا۔

“ڈیل یہ ہے کہ۔۔۔۔ میں تمہیں پلان فراہم کروں گا۔۔۔۔۔ اور اپنے آدمیوں کے ذریعے وہاں آگ تم لگوا کر دو گے۔” اس نے تھیکی نظریں گھما کر دلاور کی تصویر کو دیکھا۔

“منظور ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن میں تمہارا یقین کیسے کروں۔۔۔۔ اگر تم دلاور کے ہی آدمی تھے تو۔۔۔۔۔ یا پولیس کے خفیہ جاسوس” راشد صاحب نے سخت لہجے میں رعب دار آواز میں کہا۔

اس نے سر جھٹکا اور اپنے لیپ ٹاپ پر سے وہ پلان راشد ہاشمی کو ای میل کر دیا جو وہ کچھ دیر پہلے تیار کر چکا تھا۔

“پلان بھیج دیا ہے۔۔۔۔ اپنے پاس محفوظ کر لو۔۔۔۔۔ اگر مجھ پر یقین نہیں ہے تو۔۔۔۔” اس نے سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔

راشد صاحب نے تعجبی کیفیت میں ای میل کھولا۔ وہاں لکھے عبارت اور نقشہ دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔ شاک کی حالت میں ان کے ہاتھ میں پکڑا جلتا سگار سرک کر ان کے کپڑوں پر گر گیا۔ وہ فون کا رسیور چھوڑتے؛ ہڑبڑا کر اٹھے اور اپنی قمیض جھاڑی۔

“ارے ارے آرام سے راشد صاحب۔۔۔۔۔ کہی دلاور کے کمپنی سے پہلے تمہیں نہ آگ لگ جائے۔۔۔۔” اس نے اپنی شرارتی ہنسی روکتے ہوئے کہا۔

کپڑے چھاڑتے؛ سگار واپس اٹھا کر انہوں نے فون کان سے لگایا تو طنزیہ انداز میں اس لڑکے کی آواز سنی۔

انہوں نے محتاط انداز میں آس پاس دیکھا۔

“اسے کیسے پتا چلا” دل میں سوچتے ہوئے راشد ہاشمی کے آبرو تن گئے۔

“کون ہو تم” وہ کھا جانے والے انداز میں آگ بگولا ہوتے ہوئے فون پر غرائے۔

“یقین جانو راشد ہاشمی۔۔۔۔۔۔ میں بہت کمینی چیز ہوں۔۔۔۔” اس نے سخت لہجے میں بھاری آواز بنائی۔

“آگ کس دن اور کس وقت لگانی ہے۔۔۔۔ یہ میں تمہیں اگلے کال پر بتاوں گا۔۔۔۔۔ میرے کال کا انتظار کرنا” اس نے دانت پیستے ہوئے کہا اور موبائل پٹخ کر کال کاٹ دی۔

ضبط کرتے ہوئے وہ اٹھا اور بیڈ پر نیم دراز بیٹھ گیا۔ پھر آگے کا لائحہ عمل طے کرنے لگا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز اس رات کافی دیر گئے تک گھر نہیں گیا۔ وہ ریسٹورنٹ سے اسی سوٹ بوٹ میں ملبوس سی ویو پر آگیا تھا۔ بوٹ اور کوٹ اتار کر اس وقت وہ ننگے پیر سمندر کے کنارے گیلی ریت پر چل رہا تھا۔ وہ یہاں دوستیاں کرنے یا رشتے بنانے کے ارادے سے نہیں آیا تھا۔ اس لیے اب اسے عارفہ کے بڑھتے جذبات سے ڈر لگنے لگا تھا۔ اسے اپنے لیے عارفہ کی دلچسپی کا پہلے دن سے ہی اندازہ تھا۔ وہ ہر دفعہ اسے سمجھانے کی نیت سے ملتا لیکن ہر بار عارفہ کی معصومیت اور خوش دلی؛ اسے کچھ کہنے نہیں دیتی۔ آج کی ملاقات میں اسے عارفہ کی آنکھوں میں اپنے لیے والہانہ پن صاف نظر آرہا تھا۔ وہ جہاں سے آیا تھا جس طرح کی زندگی وہ جی رہا تھا۔ وہاں عارفہ کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اور نہ ہی وہ بنانا چاہتا تھا۔ اب اسے یہ تشویش تھی کہ کسی طرح کسی بھی وجہ سے عارفہ اس سے بد گمان ہو جائے اور دور چلی جائے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ان دو واقعات کے بعد سحر محتاط ہوگئی تھی۔ وہ کہی اکیلے آتی جاتی نہیں تھی۔ عارفہ کے گھر تک بھی گاڑی میں جاتی یا کسی چوکیدار کو اپنے ہمراہ لے کر جاتی۔

اس کے سارے پسندیدہ مشاغل جیسے مارکیٹ جانا؛ پارک میں چہل قدمی کرنا؛ پینٹنگ کلاس سے کسی کافی شاپ میں چلے جانا؛ سب اس نے ترک کر دیئے تھے۔ یونیورسٹی میں بھی پہلے سے زیادہ سنجیدہ رہنے لگی تھی۔

اس دن بریک ٹائم میں بھی سب کلاس میں ہی رہے۔ ان کے کلاس کا جون کے گرمیوں کے ان دنوں کو کچھ خوشگوار بنانے کے لیے کسی دیدہ زیب علاقے میں سیر و تفریح کرنے پکنک پر جانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

کلاس کے سی آر نے سب کو کوئی نہ کوئی ذمہ داری سونپی ہوئی تھی۔ عارفہ اور شاویز کو پیسے جمع کر کے سب کی لسٹ بنانے کا کام کرنا تھا۔

وہ تقریباً پوری کلاس سے پیمنٹ وصول کرنے کے بعد سحر کے پاس آئے جو کونے کی سیٹ پر خاموشی سے بیٹھی تھی۔

“چل سحر اپنی بھی دے اور میری بھی پیمنٹ کروا۔ ” عارفہ اس کے سامنے میز پر چڑھ کر بیٹھی اور اس کا پرس اٹھا کر پیسے نکالنے لگی۔

شاویز مسکراتے ہوئے ان دونوں کی کاروائی دیکھ رہا تھا۔

اس کی تقریباً سب سے کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ سحر سے اس کی دوستی تو نہیں ہوئی تھی پر اس کا وہ سخت اور پیچیدہ لہجا ہموار ہوگیا تھا۔ اب وہ دونوں کہی مل جاتے تو رک کر سلام دعا کر لیتے۔ پڑھائی کے متعلق کوئی مشکل ہوتی تو ایک دوسرے کی مدد بھی کر دیتے۔

“میرا دل نہیں چاہ رہا جانے کا۔۔۔۔” سحر نے بے تاثر سے انداز میں کہا۔

اس کا یہ جواب سن کر عارفہ ٹھٹک گئی اور میز پر سے اتر کر اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔

شاویز نے بھی حیرت سے اسے دیکھا۔

“یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔ میرے ہوتے ہوئے تم جانے سے انکار کیسے کر سکتی ہو۔” عارفہ نے دبے دبے غصے سے اسے جھڑکا۔

سحر آج کل گھر سے اکیلے نکلنے سے گریزاں تھی پھر 2 دن کے لیے گھر سے دور اکیلے جانے کے لیے اس کا دل راضی نہیں ہورہا تھا۔ کافی دنوں سے وہ گھر یونیورسٹی اور پینٹنگ کلاس کے ہی گرد رہ گئی تھی۔ اسے کافی بوریت محسوس ہوتی۔ اس وقت وہ جائے کہ نا جائے کے اسی کشمکش سے دو چار تھی۔

“سب جا رہے ہیں۔۔۔۔۔ بہت مزا آئے گا۔۔۔۔ پلیز چلو سحر۔۔۔۔۔ we will enjoy۔۔۔۔ تم نہیں آئی تو ہمارا بھی دل نہیں لگے گا۔” شاویز نے اپنے طرف سے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔

“کم آن سحر۔۔۔۔۔ دیکھو اب تو شاویز نے بھی کہہ دیا۔” عارفہ نے آنکھ مار کر سحر کو اشارہ کیا۔

وہ سر جھٹکتی ہوئی مسکرانے لگی۔ ایک نظر چہکتی ہوئی عارفہ کو دیکھا پھر دوسری نظر خوش مزاج سے شاویز کو۔

“ٹھیک ہے۔۔۔۔ چلوں گی”اس نے عارفہ کے رخسار پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا۔

وہ آہ کرتی اپنا گال سہلانے لگی۔ شاویز نے اس کا نام لسٹ میں شامل کیا اور آگے بڑھ گیا جبکہ عارفہ وہی بیٹھی رہی۔

“سحر کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔۔۔ تم بہت اداس رہنے لگی ہو۔۔۔۔۔” عارفہ نے متفکر انداز میں اس کے ہاتھ کو تھام کر اندیشہ ظاہر کیا۔

سحر خود نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے تو وہ عارفہ کو کیا بتاتی۔

“نہیں میری جان۔۔۔۔ کوئی پرابلم نہیں ہے۔۔۔۔ سب ٹھیک ہے” سحر نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔

“پکا نا” عارفہ نے سختی سے تنے ہوئے اعصاب سے اس سے تصدیق مانگی۔

“بلکل پکا۔۔۔۔۔ تم سے کبھی کچھ چپایا ہے کیا۔” سحر نے ہنہ کرتے ہوئے مظبوطی سے اس کے گلے کے گرد بازو مائل کئے۔ منہ بھسورتے ہوئے عارفہ نے خود کو اس کے بازووں سے آذاد کیا اور دونوں ہی ہنسنے لگی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ہفتے کی صبح 7 بجے ان کے بس کو پکنک پوائنٹ کے لیے نکلنا تھا۔ ہر سٹوڈنٹ کو ہدایت تھی اپنے ساتھ سفری بیگ میں ایک جوڑا کپڑے؛ جوتے؛ اشیائے خوردونوش؛ اوڑھنے کے لیے چادر اور فرسٹ ایڈ کا باکس بھی لے کر آئے۔

جہاں وہ لوگ جا رہے تھے وہ بلکل سحر کے من پسند قدرتی مناظر سے سر شار جگہ تھی۔ چشمے سے بہتا پانی؛ سبزہ زار؛ ندی؛ اس کے آگے جنگل اور پھر پہاڑ۔ سحر اپنے ساتھ کچھ پینٹنگ کا سامان بھی لے کر گئی تا کہ اس جگہ کی خوبصورتی کو کینوس پر بنا سکے۔

بس اس وقت لوڈ کی جا رہی تھی۔ لاریب شہزاد نبیل صمد اور باقی لڑکوں کے بشمول شاویز بھی سامان رکھنے کے کام میں مصروف رہا۔ عارفہ سحر منال علشبہ اور دو تین اور کلاس میٹس لڑکیاں بس میں چڑھ کر بیٹھ گئی تھی۔ صبح سویرے اس پہر موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہلکی ہوا کے چلنے سے گرمی کافی کم محسوس ہورہی تھی۔ ایک گھنٹے کے محنت کے بعد سب لڑکے بھی بس میں سوار ہوئے۔ آہستہ آہستہ بس اپنے منزل کے جانب روانہ ہوگئی۔ 3 گھنٹے کا وہ راستہ مستی مذاق ناچتے گاتے گزارا۔

اپنے مطلوبہ جگہ پر پہنچ کر ایک جگہ بس رک گئی جہاں سے آگے کچا راستہ شروع ہوتا تھا اور بس کے آگے جانے کے امکانات نہیں تھے۔ سب اپنا اپنا بیگ اٹھائے بس سے اتر گئے۔ یہاں سے آگے کا سفر ان کو پیدل چل کر طے کرنا تھا۔ وہ ایک پتھریلا غیر موازنہ راستہ تھا۔ پہاڑیوں کے پار گزرتے ہوئے ان کو اپنے جائے وقوعہ پر پہنچنا تھا۔ سب اپنے جوتے کس کر بیگ کندھے پر ڈال کر قدم قدم چلنے لگے۔

ان کو پتھریلے چوٹی پر اوپر کی جانب چڑھ کر جانا تھا کیونکہ نیچے سے ندی نکل رہی تھی وہاں سے گزرنے کا مناسب راستہ نہیں تھا۔ سی آر سب سے آگے چلتے بلند آواز میں ان کو گائیڈ کرتا رہا۔

عارفہ اور سحر اپنا بیگ کندھے پر ڈالے؛ ہاتھ پکڑے احتیاط سے چلتی رہی ۔ ایک جگہ پر ان کو ایک چوٹی سے دوسری چوٹی پر چھلانگ لگا کر جانا تھا۔ اس جگہ شاویز پہلے جمپ کر کے گیا پھر ہاتھ بڑھا کر عارفہ کو کھائی پار کروائی۔ اس کے حرکات کو مشاہدہ کرتے شہزاد بھی اسی طرح پہلے خود گیا پھر سحر کے جانب ہاتھ بڑھایا۔

شہزاد اور سحر فرسٹ ایئر سے کلاس میٹ تھے۔ شہزاد دل ہی دل میں سحر کو پسند بھی کرتا تھا لیکن سحر نے کبھی کسی لڑکے سے حد سے زیادہ بات کرنا بھی گوارا نہ کیا تھا تو شہزاد سے دوستی بہت دور کی بات تھی۔

جب شہزاد نے سحر کی مدد کرنے ہاتھ بڑھایا تو شاویز نے مداخلت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ اور عارفہ اسی طرح ان کو دیکھنے لگے۔ سحر کو شہزاد سے مدد لینے میں کوفت محسوس ہونے لگی تھی اور خود بنا سہارے کے کھائی پار کرنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ اس نے ایک پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ شہزاد کو دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑنے کے بجائے خود ہی شاویز کی جانب ہاتھ بڑھایا جو شاویز نے پھرتی سے آگے ہو کر تھام لیا اور اسے کھائی پار کروانے میں مدد کی۔

سحر کو مظبوطی سے پکڑے اسے اپنے جانب کر کے شاویز سیدھا ہوا تھا کہ اس نے لاریب کی پکار سنی۔

“ارے کمینو۔۔۔۔۔ کہاں پھنسا دیا۔۔۔۔۔۔۔ نیچے اتارو۔۔۔۔۔۔ بچاو۔۔۔۔۔” وہ ان سے اوپری سطح پر ایک جگہ ساکت بیٹھا اپنی پوری قوت سے پتھر کو جکڑے ہوئے تھا۔

“لاریب۔۔۔۔ تم وہاں کیا کر رہے ہو۔”شاویز نے منہ کے آگے ہاتھ کا گولہ بنا کر اسے آواز لگائی۔

“ارے ان کمینو نے کہا۔۔۔۔۔ ادھر سے شارٹ کٹ ہے” اس نے نبیل اور باقی ساتھیوں کے جانب اشارہ کر کے کہا۔ ڈر کے مارے وہ بچوں کی طرح رونے لگا۔

شاویز نے دیکھا باقی سب اس کا مذاق اڑاتے۔ اس پر قہقہے لگا لگا کر ہنسے جا رہے تھے۔ اس نے پلٹ کر سی آر کو دیکھا وہ باقی گرلز گروپ کے ہمراہ کافی آگے نکل چکا تھا اور اس وقت اضطراب میں ان ہی کو دیکھ رہا تھا۔ شاویز نے اسے پلکیں جھپکا کر تسلی دی۔ سی آر سر کو جنبش دیتا وہی رک گیا۔

“کس کر پکڑے رکھو۔۔۔۔۔ میں آرہا ہوں۔۔۔۔ “شاویز واپس چھلانگ لگا کر دوسری طرف بھاگا۔

“جلدی کر۔۔۔۔۔۔ میرے ہاتھ سلپ ہورہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔” لاریب قریب قریب دھاڑا تھا۔

“شاویز۔۔۔۔ سنبھل کر۔۔۔۔۔۔” شاویز نے اپنے پیچے عارفہ کی فکرمند صدا سنی تھی۔ عارفہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

شاویز بہت مہارت سے ایک چٹان سے دوسرے پھر تیسرے پر چڑھنے لگا۔

عارفہ اور سحر ناخن چباتے اس کے لیے دل میں دعائیں پڑھنے لگی۔ باقی سب وہاں سے جا چکے تھے۔ صرف عارفہ اور سحر ان کی منتظر کھڑی رہی۔

ایک چٹان پر کافی پھسلن تھا۔ شاویز ڈگمگا گیا۔ عارفہ چیخ مارتی سحر کے کندھے سے لگ گئی اور آنکھیں مینچھ لی۔ وہاں کا ڈھلان اتنا نیچے تھا کہ ایک پل کے لیے سحر کا دل بھی دہل گیا۔ شاویز کو جیسے لاریب تک رسائی ملی وہ ہاتھ بڑھا کر اس سے لپک گیا اور بچوں کی طرح اس کی گود میں چڑھ گیا۔

خوشی سے وہ شاویز کو پیار کرنے لگا اس کے پیشانی پر بوسہ دیا۔ شاویز اسی طرح اسے گود میں اٹھائے احتیاط سے نیچے آیا۔ کھائی پار کر کے عارفہ اور سحر تک پہنچنے تک لاریب شاویز کے بازووں میں رہا۔ پھر جا کر اسے نیچے اتارا۔ عارفہ تو جھٹ سے شاویز کے قریب ہوئی۔

“تم ٹھیک ہو” اس نے خوف اور محبت کے ملے جلے تاثرات سے شاویز کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ شاویز نے محض سر کو خم دے کر اپنی سلامتی کی تصدیق دی۔

سحر بچوں کی طرح مایوس لاریب کو دیکھنے لگی۔

“کوئی کہہ دے۔۔۔۔ کنویں میں چھلانگ لگا دے۔۔۔۔ تو تم لگا دو گے۔۔۔۔ ” سحر نے جعلی خفگی سے اسے جھڑکا۔ وہ شرم سے سرخ پڑنے لگا۔

“کچھ ہوجاتا تو۔۔۔۔۔” اب کی بار سحر کا لہجا ہمدردانہ اور متفکر تھا۔ لاریب اسی خاموشی سے لب کاٹنے لگا۔

“چلو۔۔۔۔ اب میرے ساتھ ہی رہنا۔۔۔۔۔۔ ادھر ادھر مت نکلنا” سحر نے مسکراتے ہوئے بڑی بہن جیسے اس کا ہاتھ تھاما اور ساتھ لے جانے لگی۔ لاریب اس کے نرمی پر پوری بتی سی دکھا کر مسکرایا تھا اور مطمئن ہو کر اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

“بندر کہی کا۔۔۔”عارفہ نے شاویز کی آوٹ سے بلند آواز لگائی۔

“چڑیل کہی کی۔۔۔۔” لاریب نے منہ بھسورتے ہوئے کہا۔

“ہاں تو چڑیل بندر سے تو اچھی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔بے وقوف۔۔۔۔” عارفہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ لاریب سحر کی آوٹ سے بات کر رہا تھا تو عارفہ شاویز کے آوٹ سے۔

“تو چمڑ جا۔۔۔۔۔۔ اندر ہی گھس جا اس کے۔۔۔” لاریب نے ہاتھ اٹھا کر ہلاتے ہوئے اشارہ کیا۔ وہ جو پہلے ہی شاویز کا بازو مظبوطی سے پکڑے ہوئے تھی۔ اس طنزیہ بات پر تپ کے رہ گئی۔

“مارو گی اب تمہیں” عارفہ ہاتھ اٹھا کر اس پر جھڑپنے لگی۔

“اووو ہیلو guys۔۔۔۔۔ یہ کوئی جگہ ہے لڑنے کی۔۔۔۔۔۔ دیکھو سب کتنا آگے نکل گئے ہیں۔۔۔۔۔ جلدی جلدی چلو پلیز۔۔۔۔” شاویز ان دونوں کے مابین آیا۔ ہاتھ اٹھا کر ان کی لڑائی روکی اور تیز چلنے کی تردید کی۔

عارفہ اور لاریب دونوں ہی غصیلی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ کر چپ ہوگئے۔ سب نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنی رفتار تیز کر دی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

پیر لمبے پھیلائے وہ سینے پر ہاتھ باندھے بیڈ پہ بیٹھا تھا۔

“کیا دلاور پرویز خان اپنے خواب کو چکنا چور ہوتے دیکھ کر روئے گا۔۔۔۔۔ یا اپنا گریبان پکڑ لے گا۔۔۔۔۔۔ یا سر کے بال نوچ لے گا۔۔۔۔” وہ سرد و سپاٹ انداز میں سوچتے سوچتے یادوں کی گلیوں میں کھو گیا۔

زرتاج اس ننھے 4 سالہ شہزادے کو سینے سے لگائے بلک بلک کر رو رہی تھی۔ وہ زبیدہ خالہ سے ہاتھ جوڑے التجا کر رہی تھی۔

“نہیں میں اپنا بچہ اسے مجھ سے چھیننے نہیں دوں گی۔۔۔۔۔ میں کبھی دلاور کو اپنا بیٹا قبضہ کرنے نہیں دوں گی۔۔۔۔۔” اس نے زرتاج کو زار و قطار اپنی ممتا کی دہائیاں دیتے ہوئے روتے تڑپتے دیکھا۔

وہ پہلی بار تھا جب اس نے اپنی ماں کے زبان سے یہ نام سنا تھا۔ 4 سالہ بچہ ماں کو ایسے روتے دیکھ کر سہم گیا تھا۔ ماں کے سینے سے لگے اس کی اپنے ماں سے اس نام کے بارے میں پوچھنے کی ہمت نہیں ہو سکی تھی۔

زبیدہ خالہ زرتاج کو چپ کروانے اور آواز آہستہ رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے دلاسہ دینے لگی۔

“حوصلہ رکھو زرتاج۔۔۔۔۔ میں سنبھال لوں گی۔۔۔۔۔۔ تم بس یہاں سے باہر نہیں نکلنا۔۔” اڈھیر عمر زبیدہ خالہ نے زرتاج کو سر پر ہاتھ پھیر کر دلاسہ دیا۔ اسے چپ کرواتے وہ کمرے سے باہر نکل گئی اور باہر سے تالہ لگا دیا۔ اسے نیچے بیٹھا کر زرتاج اٹھی اور کمرے کی ساری لائٹیں بند کر دی۔ زرتاج واپس اس کے پاس آکر بیٹھی تو اندھیرے کے خوف سے وہ پھر سے ماں کی حصار میں چھپ گیا۔

زرتاج مسلسل زیر لب دعائیں پڑھ کر اس پر اور کمرے میں پھونک رہی تھی۔ آنسو اب رک چکے تھے لیکن دل کی دھڑکن اتنی تیز تھی کہ اس سے سر لگائے وہ ماں کا دلآرہ واضح طور پر سن سکتا تھا۔

“ماں۔۔۔۔۔ یہ لوگ مجھے تم سے الگ کر دے گے۔” توتلی زبان سے ٹوٹی پھوٹی بولتی میں اس نے ماں سے خدشہ ظاہر کیا۔

زرتاج جو ملاتشی نظروں سے آس پاس دیکھ رہی تھی۔ کان لگائے غور سے باہر برپا شور سن رہی تھی اچانک اس کے اندیشے پر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔

اپنے بھیگی آنکھوں سے اس کے ننھی گول گول آنکھوں میں دیکھ کر پھیکا مسکرائی۔

“نہیں میری جان۔۔۔۔۔ تمہیں مجھ سے کوئی الگ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔ میرے جیتے جی۔۔۔۔۔۔ میں کسی کو تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگانے دوں گی۔” زرتاج کے اندر ممتا کا ولولہ امڑ امڑ کر آرہا تھا۔

ماں کا تسلی بخش جواب سن کر وہ پورے دل سے مسکرایا۔ اس پل اسے بلا کا تحفظ محسوس ہوا۔ اس کی ماں ہے نا اس کے پاس؛ اس سوچ نے اس کا سارا خوف رفو چکر کر دیا۔

وہ دن گرزنے کے کافی دن بعد زرتاج کنویں کے پاس بیٹھی اس کے کپڑے دھو رہی تھی۔

“ماں دلاور کون ہے۔” وہ پاوں اوپر کر کے کرسی پر بیٹھا تھا جب یک دم سے اس نے یہ سوال پوچھا۔ زرتاج کے تیز تیز چلتے ہاتھ رک گئے۔ تعجبی نظروں سے اسے دیکھا۔ چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔

“تم کیسے جانتے ہو اس نام کو” زرتاج نے تنے ہوئے اعصاب سے اسے دیکھا۔ وہ ماں کی غصیلی نظر سے گھبرا گیا۔

” وہ۔۔۔۔۔ وہ اس دن۔۔۔۔۔ اس دن۔۔۔۔ روتے ہوئے تم نے۔۔۔۔ تم نے خود یہ نام لیا تھا۔” ننھے شہزادے کے مانو پیروں تلے زمین نکل گئی تھی۔ اس نے گڑبڑا کر ماں کو اس دن کا سچ بتایا۔

زرتاج کے تنے آبرو پھیل گئے اور رخ موڑ لیا جیسے اپنے انجانے میں کئے اس غلطی پر سخت پچھتا رہی ہو۔ احساس ندامت سے وہ اپنی جگہ جامد ہوگئی تھی۔

“کیا ہوا ماں۔۔۔”اس نے ماں کو حیران پریشان دیکھ کر دوبارہ مخاطب کیا۔

“کچھ نہیں۔۔۔۔۔ اور اس نام کا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔ آئیندہ یہ نام کبھی مت لینا۔۔۔۔۔ سمجھ آئی۔۔۔۔۔ اب اندر جاو۔۔۔۔۔ میرے سر پر مت بیٹھے رہو۔۔ ” زرتاج نے سپاٹ انداز میں سخت لہجے میں اسے جھڑکا۔ وہ ماں کے اچانک طیش میں آنے کی وجہ نہ سمجھ پایا۔ ماں کی ڈانٹ پر وہ فوراً سے کرسی سے اترا اور کمرے میں بھاگ گیا۔

اس شام زرتاج بہت اداس بیٹھی تھی۔ وہ کمرے کے کھڑکی میں مایوس کھڑا اپنی ماں کو بے آواز آنسو بہاتے دیکھ رہا تھا۔ “کون ہے یہ دلاور۔۔۔۔ جس کا نام سنتے ہی اس کی ماں رونے لگ جاتی ہے۔ ” اس غیر معمولی ذہانت اور صلاحیت رکھنے والے بچے نے یہ ضرور سوچا تھا۔

“کیا ہوا رزتاج۔۔۔۔۔”اسے گم سم سی بے آواز روتا دیکھ کر زبیدہ خالہ اس کے پاس آکر زینے پر بیٹھ گئی۔

“وہ آج مجھ سے دلاور کے بارے میں پوچھ رہا تھا خالہ۔۔۔۔ ” زرتاج اب پوری روہانسی ہوکر روئے جا رہی تھی۔ ان کے پیچے کھڑکی کر در سے چہرا ٹکائے کان لگا کر سنتا بچہ جانتا تھا یہ اس کے بارے میں بات ہورہی ہے۔

” پھر تم نے کیا کہا۔” زبیدہ خالہ نے زرتاج کے رخسار پر بہتے آنسوؤں کو صاف کر کے اس کا سر اپنے کندھے سے لگا دیا۔

“میں نے اسے ڈانٹ دیا خالہ۔۔۔۔۔ میں نے اسے ڈانٹ دیا۔۔۔۔” زرتاج اب بلند آواز میں زار و قطار رو رہی تھی۔

“میں کس منہ سے اسے بتاوں۔۔۔۔۔ دلاور پرویز خان کون ہے۔۔۔۔۔۔ کل کا آنے والا سردار دلاور پرویز خان کون ہے۔۔۔” یہ نام لیتے زرتاج کانپ اٹھی اس پر کپکپی طاری ہوگئی تھی۔

“بس کر زرتاج۔۔۔۔۔ سنبھال اپنے آپ کو۔۔۔۔۔ وہ بچہ ہے۔۔۔۔۔۔ معصوم ہے۔۔۔۔ سمجھ جائے گا۔۔۔۔” خالہ آبدیدہ ہوگئی۔ ان سے زرتاج کا یوں زار و قطار رونا دیکھا نہیں جا رہا تھا۔

“پر میں نے اسے ڈانٹ دیا۔۔۔۔۔ آج دلاور کے نام سے ہی میرے اور میرے بچے کے بیچ تکرار آگئی۔۔۔۔۔ آگے پتا نہیں کیا کیا ہوگا ہمارے ساتھ۔۔۔۔” زرتاج آنسو صاف کرتی منہ پر ہاتھ رکھ گئی جیسے وہ اپنے دکھ بیان کرنے سے گریزاں ہو۔

اس ننھے بچے کو یہ احساس نہیں ہوا کب اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے۔ وہ بھاگتا ہوا یتیم خانے سے نکل گیا اور وہاں سے فاصلے پر ایک خالی میدان تھا جہاں صرف ایک درخت تھا۔ اس گھنے درخت کے پیچے چھپ کر وہ رونے لگا۔ یہ اس کی وہ مخصوص جگہ تھی جہاں وہ بہت زیادہ غمگین صورت حال میں آتا تھا اور سسک سسک کر روتا تھا۔

اس وقت اس کی ماں اسے ڈانٹنے پر رو رہی تھی یا دلاور کو یاد کر کے وہ سمجھ نہیں سکا تھا۔ سمجھا تھا تو صرف اتنا کہ اس کی ماں کے آنسوؤں کی وجہ صرف ایک ہے دلاور پرویز خان۔ سمجھ سکا تو اتنا کہ اس کی مظلوم ماں کو اتنے دکھ دینے والا صرف ایک ہے دلاور پرویز خان۔ جان سکا تو اتنا کہ اس کی بے بسی کی وجہ صرف ایک ہے دلاور پرویز خان۔ اس نے روتے روتے یہ عزم کر لیا تھا کہ وہ اب آئیندہ کبھی بھی ماں کے سامنے اس شخص کا ذکر نہیں کرے گا۔ وہ اب اپنی ماں کو اس نام کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا نہیں کرے گا۔ البتہ یہ نام دلاور پرویز خان اس کے دل اور دماغ پر چسپاں ہو گیا۔ اپنی ماں کے ہر آنسو کو یاد کر کے اس کے ننھے سے دل میں اس انسان کے لیے نفرت ابھرنے لگی۔

آج اتنے سالوں بعد وہ نفرت ابلتے لاوا میں تبدیل ہوگیا تھا۔ ضبط کرتے کرتے اس کی آنکھیں سرخ انگارہ پڑنے لگی تھی۔ وہ مظبوط عصاب مرد تھا جلدی آپے سے باہر نہیں ہوا کرتا تھا لیکن آج اس کے ماں کے وہ زار و قطار آنسو اس کے دل کے زخموں پر نمک بن کر برس رہے تھے۔

“آااااھھھھ۔۔۔۔۔۔ “وہ بیڈ پر سے اٹھا اور سائیڈ ٹیبل پر پڑے نائٹ لیمپ کو اٹھایا اور دھاڑتے ہوئے اپنی پوری قوت سے دلاور پرویز خان کی تصویر پر دے مارا۔

لیمپ ایک جھٹکے سے گر کر کرچی کرچی ہوگیا۔

“میری ماں کے ایک ایک آنسو کا بدلہ۔۔۔۔۔۔ تمہیں اپنے خون سے دینا ہوگا دلاور۔۔۔۔۔” اپنی پوری طاقت سے غراتے ہوئے اس نے دلاور کی تصویر سے کہا۔

اس کے اندر کا گھولتا یہ لاوا دلاور پرویز خان اور اس کی فیملی کے بربادی کے ساتھ تھمے گا یہ وہ جانتا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

تین گھنٹے بس کا سفر کر کے اور 1 گھنٹہ اوپر نیچے چٹانی اور پتھریلے پہاڑوں کے درمیان سے گزر کر وہ سب ایک سبزہ زار میدانی علاقے میں پہنچے۔ جہاں قریب ہی ایک جانب ندی بہہ رہی تھی اور دوسری جانب گھنا جنگل شروع ہوتا تھا۔ ٹینٹ لگا کر سب تھوڑی دیر سستانے بیٹھ گئے۔ سحر کو وہ جگہ بہت ہی اسرار کن لگی۔ وہاں کا نظارہ دیکھتے ہی اس کی ساری تھکاوٹ دور ہوگئی۔ اس نے پھرتی سے اپنے بیگ سے کینوس اور پینٹنگ کا سامان نکالا۔ ٹینٹ سے کچھ دور چھوٹی سی چٹان پر کینوس کو برابر کیا۔ وہ جلد از جلد اس نظارے کی پینٹنگ بنانا چاہتی تھی۔

ایک طرف بہتی ندی۔ دوسری طرف جنگل۔ ندی کے پیچے پہاڑ۔ نیلے آسمان میں ہلکے بادل اور اڑتے پرندے۔ سبزہ زار میں لگے ان کے ٹینٹس۔ یہ قدرت کا شاہ کار دل کش اور دل نشیں نظارہ اسے اپنے خوبصورتی سے مسرور کر رہا تھا۔

وہ پینسل نکال کر تیزی سے ہاتھ چلانے لگی۔

عارفہ اپنے باقی گرلز گروپ کے بشمول ٹینٹ کے اندر اپنا سامان سیٹ کر رہی تھی۔ شاویز سامان رکھ کر بوائز ٹینٹ سے باہر آیا۔ ٹراؤزر کے پائنچے اوپر چڑھائے اور ندی کنارے پیر پانی کے اندر جھلاتا ہوا بیٹھ گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆