Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

وہ جو صائم پر حملہ کرنے کا منصوبہ بندی کر کے گیا تھا۔ اس انجان آدمی سے جھڑپ کر کے اپنا منصوبہ بغیر تکمیل کئے واپس آگیا۔ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے گھر میں داخل ہوا۔ کمرے میں جاتے ہی تیز تیز شرٹ اتاری اور واشروم میں گھس کر ٹھنڈے پانی کے شاور میں کھڑا ہوگیا۔ اس وقت اپنے جذبات قابو کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی آپشن نہیں تھا۔ بار بار زرتاج کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ آنکھیں بند کر کے اس لمحے کو یاد کرنے لگا۔

8 سال کا وہ بچہ اپنے سے عمر میں بڑے لڑکے سے لڑائی جھگڑا کر رہا تھا۔ اس نے اسے جکڑ رکھا تھا۔

اس لڑکے کی چیخ و پکار سن کر زرتاج کمرے سے باہر آئی۔

“یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔۔۔” وہ تیزی سے ان بچوں کے پاس گئی اور لڑائی آزاد کروائی۔

اپنے ننھے شاہ سوار کو غصے سے آگ بگولا دیکھ کر وہ پریشان ہوگئی تھی۔ وہ ماں کی گرفت سے آزاد ہو کر پھر سے اس لڑکے پر جھڑپنا چاہتا تھا لیکن زرتاج نے اسے جھنجوڑ دیا۔

“کسی کو نا حق نہیں مارتے۔۔۔۔ کیوں مار رہے ہو اسے۔۔۔” اس نے شدید تفکر میں پوچھا۔

“اس نے مجھے گالی دی” وہ معصوم بچہ گالی کا مطلب بھی نہیں جانتا تھا۔ بس اتنا پتا تھا کہ اس بڑے لڑکے نے اس کی ماں کو برا بھلا کہا ہے۔

وہ کھا جانے والے انداز میں حلق کے بل چیخا تھا۔ اس کا یہ روپ دیکھ کر زرتاج بہت سہم گئی تھی۔ اتنی سی عمر میں اتنا غصہ؛ سوچتے ہوئے وہ اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ کمرے میں لے گئی۔

” ایسا نہیں کرتے۔۔۔۔۔ اپنے طیش کو سنبھالو۔۔۔۔۔ اپنی طاقت کو اچھے کام میں لگاو میرے بچے۔۔۔۔ لڑائی جھگڑا مسئلوں کا حل نہیں ہوتا۔۔۔۔” وہ اسے گود میں بیٹھا کر نرمی سے سمجھا رہی تھی۔

وہ اپنی ماں سے مزید بحث نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے خاموشی اختیار کر گیا۔

کچھ دنوں بعد اس کی پھر سے اپنے سے بڑے لڑکوں سے جھڑپ ہوگئی۔ زرتاج روٹی پکاتے ہوئے اسے سختی سے دیکھنے لگی۔

آج ان میں سے ایک لڑکے نے اسے باپ کی گالی دی لیکن وہ سر جھکا کر خاموشی سے پلٹ کر دہلیز سے اندر آگیا۔

“کیا ہوا ہاں۔۔۔۔۔ اس دن ماں کی گالی پڑی تو تم پر خون سوار ہوگیا۔۔۔۔۔۔ ان لڑکوں کو مارنے پر آگئے تھے۔۔۔۔۔ اور آج باپ کی گالی پر خاموشی اختیار کر لی۔۔۔۔ “زرتاج نے سپاٹ انداز میں اسے جھڑکا۔

وہ سست روی سے چلتا اس کے قریب آیا۔

“وہ ہے ہی اسی قابل۔۔۔۔۔۔ تمہیں چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔ میری تو اسے خبر تک نہیں۔۔۔۔۔۔اور مجھے تو اس کا نام تک نہیں معلوم۔۔۔۔۔ پھر اسے گالی پڑے یا مار۔۔۔۔۔ مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔” اس نے مایوسی سے ننھا سر ہلاتے ہوئے کہا۔

زرتاج کو اس کی مایوس کن شکست خوردہ باتوں سے بہت تکلیف ہوئی۔ وہ حسب عادت ڈوپٹے کے پلو سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی اٹھی اور اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔

“پڑنا چاہیئے۔۔۔۔۔ تمہیں فرق پڑنا چاہیئے۔۔۔۔۔ تمہارے باپ کا نام اتنا کم ظرف نہیں ہے بیٹا۔۔۔۔۔ کہ کوئی ان کے لیے گالی نکالے۔۔۔۔۔” اس کی ماں نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر سمجھانے لگی۔

“وہ بہت اچھے انسان ہے۔۔۔۔۔ صاف دل۔۔۔۔۔۔ نیک۔۔۔۔ ایماندار۔۔۔۔ خوش اخلاق۔۔۔۔۔ پیار محبت بانٹنے والے۔۔۔۔” اس کی ماں نرمی سے مدھم آواز میں اسے اپنے انجان باپ کی خوبیاں گنوانے لگی۔

غصے سے سرخ گال پھلائے بچے نے اداس نظروں سے ماں کو دیکھا۔

“جو بھی ہو۔۔۔۔۔ پر ہماری اسے کوئی پروا نہیں ہے نا۔۔۔۔ ورنہ ایسے چھوڑ کر جاتا کیا۔۔۔۔” اس نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ وہ بلکل بھی غائبانہ باپ کے خصوصیات سے قائل ہونے کے لیے راضی نہیں تھا۔

زرتاج بے بسی سے لب کاٹنے لگی۔

“تمہیں پتہ ہے۔۔۔۔۔ قسمت کون لکھتا ہے۔۔۔۔۔” اس نے چمکتی گول گہری آنکھیں بڑی کر کے اس سے پوچھا۔

جواب میں وہ خاموش رہا تو زرتاج نے اس کا چہرہ اپنے جانب کیا۔

“قسمت اللہ تعالی لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ ہماری زندگیوں میں جو بھی ہونا ہوتا ہے وہ پہلے سے لکھا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ میری قسمت میں تمہارے پاپا کا اتنا ہی ساتھ لکھا تھا۔۔۔۔۔ مدت پوری ہوئی تو ساتھ بھی چھوٹ گیا۔۔۔۔۔۔ ” زرتاج کچھ لمحے اپنے آنسو روکنے خاموش ہوگئی۔

اس نے ماں کی آنکھوں میں بے پناہ افسردگی دیکھی تھی۔

“پر اس کا یہ مطلب نہیں۔۔۔۔۔ کہ ہم ان کی بے حرمتی ہونے دیں۔۔۔۔۔ ان کی بے عزتی برداشت کریں۔۔۔۔ اگر کبھی بھی کوئی تمہارے پاپا کے لیے غلط الفاظ استعمال کریں۔۔۔۔ تو تمہیں ان کو جواب دینا چاہیئے میرے شاہ سوار۔۔۔۔” زرتاج نے مسکراتے ہوئے اپنے لخت جگر کو سینے سے لگایا۔

یادوں کے پھوار اس کے اوپر گرتے شاور کے پانی میں بہہ گئی۔ وہ پھر سے ماضی سے نکل کر حال میں لوٹ آیا۔ شاور بند کیا اور تولیہ سے گیلے بال سکھانے لگا۔

آج اسے فرق پڑا تھا۔۔۔۔ آج اس نے اپنے باپ کو گالی دینے والے کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔۔۔۔۔ آج اپنے باپ کے لیے غلط الفاظ نکالنے والے کی اس نے مار مار کر چمڑی سجا دی تھی۔۔۔۔ کاش اپنے شاہ سوار کی یہ جرآت مندی دیکھنے اس کی ماں زندہ ہوتی؛ سوچتے ہوئے اس نے سر جھٹکا پھیکا سا مسکرایا اور اپنے الماری سے خشک کپڑے نکال کر چینج کرنے لگا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

عارفہ کی شاویز سے اس دن کے بعد سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ نظرانداز تو وہ کافی دنوں سے کرتا رہا تھا۔ پر اس دن کے بعد وہ مکمل طور پر اس کے سامنے آنے سے بھی گریزاں تھا۔ عارفہ ملنے کی کوشش کرتی پر وہ کسی بہانے سے دور چلا جاتا۔

دو دن بعد یونیورسٹی کی تعطیلات کا آغاز ہونے والا تھا اس لیے آج عارفہ نے اس سے لازمی بات کرنے کے ارادے سے لائبریری کے باہر اسے جکڑ لیا۔

“کیا ہوگیا ہے شاویز۔۔۔۔۔ ایسا کیوں بیہو کر رہے ہو۔۔۔۔۔ میرا نمبر بھی بلاک کر دیا ہے۔۔۔۔۔ یونی میں بھی اگنور کرتے ہو۔۔۔۔۔۔ ناراض ہو۔۔۔” عارفہ نے ایک ہی سانس میں سب شکایات اور سوالات پوچھ ڈالے۔

شاویز سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے اپنا بازو چھڑا گیا۔

” آئی ایم سوری عارفہ۔۔۔۔۔۔۔ پر مجھے تم سے اب کوئی رابطہ نہیں رکھنا۔۔۔۔” اس نے سپاٹ انداز میں سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔

عارفہ پر جیسے گڑھوں پانی گر گیا ہو وہ یک دم ہی روہانسی ہو گئی۔

“دیکھو شاویز۔۔۔۔۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ تو میں دل سے معذرت خواہ ہوں۔۔۔۔۔ پر اس طرح رابطہ توڑنے کی بات مت کرو۔۔۔۔۔” اس کا دل ڈگمگانے لگا۔ آواز کپکانے لگی۔ جسے اتنی شدت سے چاہا ہو وہ رابطہ توڑنے کی بات کریں تو دل دہل جاتا ہے۔ عارفہ کی بھی اس وقت یہی کیفیت تھی۔

“غلطی مجھ سے ہوگئی۔۔۔۔۔ مجھے پہلے ہی اس سب کو بڑھاوا نہیں دینا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔”

وہ اب عارفہ کو دیکھ رہا تھا۔ عارفہ کو اس کی نظروں میں بے پناہ اجنبیت محسوس ہوئی۔

“تمہیں پہلے دن ہی روک لینا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔ سمجھا لینا چاہیئے تھا۔۔۔۔۔ کہ میں تمہیں۔۔۔۔” اس کی آواز تند و تیز ہونے لگی تو وہ خاموش ہوگیا۔ وہ یونیورسٹی میں پھر سے کوئی بکھیڑا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

“کہ تم مجھے پسند نہیں کرتے۔۔۔۔” اس کا نا مکمل جملہ عارفہ نے پورا کیا۔ اسے اپنا دماغ سُن ہوتا ہوا لگ رہا تھا۔ آواز کھائی میں سے آتی محسوس ہوئی تھی۔

“اوپر سے وہ سحر۔۔۔۔ ہر وقت مجھے ڈانٹتی پھرتی ہے۔۔۔۔ میری بھی کوئی self respect ہے۔۔۔۔ اس طرح ہر وقت اس کے ہاتھوں بے عزت ہوتا نہیں پِھر سکتا۔۔۔۔” شاویز کا لہجہ بے لچک اور سپاٹ تھا اسے اب کسی کی پروا نہیں تھی۔

“اور تم سحر کی سزا مجھے دے رہے ہو” دو آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر بہہ رہے تھے۔

“تم سے دوستی بھی میں نے سحر کے قریب جانے کے لیے کی تھی۔۔۔۔۔ پر اب جب وہ نہیں تو تم بھی نہیں۔۔۔۔۔” شاویز نے ہاتھ اٹھا کر اپنا حتمی فیصلہ سنایا۔

اس بات پر عارفہ شاک سی ہوگئی۔

“تم نے مجھ سے دوستی۔۔۔۔ سحر کے لیے کی تھی۔۔۔۔۔ کیا تم۔۔۔۔ سحر کو پسند کرتے ہو۔۔۔” بے یقینی سے اس نے شاویز کے بے تاثر چہرے کو دیکھا۔

“آگر تم سیدھا سیدھا جواب سننا چاہتی ہو۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔ ہاں۔۔۔” اس کے یک ٹک جواب سے عارفہ کا دل ڈوب گیا۔ اس نے کرب سے آنکھیں میچھ لی۔ اس کی سانس رکنے لگی۔

“میرا زرا بھی احساس نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔ میرے جذبات سے کھیلا۔۔۔۔۔ میرا دل توڑ دیا۔۔۔۔۔ سحر کے رقبت کے لیے اتنے بے حس ہوگئے تم۔۔۔۔۔۔” عارفہ کو ایک کے بعد دوسرا شاک مل رہا تھا۔ اس کا دل بھر آگیا۔ وہ اپنی جگہ جامد ہوگئی تھی۔ اس سے ہلا بھی نہیں جارہا تھا۔ شدید گرمی میں بھی اسے ٹھنڈ لگنے لگی۔ اسے کپکپی ہونے لگی تھی۔

“میں سوری کر رہا ہوں نا۔۔۔۔۔ تسلیم کر رہا ہوں اپنی غلطی۔۔۔۔ اور کیا کروں۔۔۔۔” شاویز دو قدم آگے ہوا اور کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے تیز آواز میں غرایا۔

عارفہ بے حس و حرکت بھیگی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔

“کاش سوری کہہ دینے سے سب پہلے جیسا ہوسکتا۔۔۔” اس کا زور زور سے رو دینے کو دل کیا۔

اس کی کسی بھی بات کا اثر لیئے بغیر شاویز جانے لگا۔

“اب سے ہم نہ رابطہ کریں گے۔۔۔۔ اور نہ ملے گے۔۔۔۔۔ its over ۔۔۔” جاتے جاتے اس نے سختی سے تنبیہہ کرتے ہوئے کہا اور بنا مڑے آگے بڑھ گیا۔

عارفہ نے اسے روکنا چاہا پر وہ نہیں رکا۔ وہ اس کا دل اپنے قدموں تلے روندتے ہوئے اس سے اپنے سارے رابطے توڑتا وہاں سے چلا گیا اور عارفہ بہتے آنسوؤں سے اسے جاتے دیکھتی رہی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

دلاور صاحب کی نئی کمپنی کی تکمیل ہوچکی تھی۔ کچھ ہی دنوں میں افتتاحی تقریب کے سلسلے میں اچھی خاصی پارٹی دینے کا انتظام بھی کیا جا چکا تھا جس کی سیکیورٹی کے لیے جاوید نے اپنی ٹیم کو چاک و چوبند کر رکھا تھا۔

یونیورسٹی کے تعطیلات کے چلتے عارفہ اور سحر کی ملاقاتیں بھی کم ہوگئی تھی۔ سحر زیادہ تر اوقات گھر میں رہتی۔ البتہ صائم اپنے فٹبال میچ کے لیے جاتا رہتا۔

ان دنوں دلاور صاحب چیف مینسٹر سے کمپنی کے اجازت نامے پر دستخط کروانے اسلام آباد گئے ہوئے تھے۔

صائم کا آج فائنل میچ تھا۔ وہ جلدی سے تیار ہوا اور اپنی بائک پر سوار ہو کر گراونڈ کے لیے روانہ ہوگیا۔ مین روڈ پر پہنچ کر اس نے ایک طویل ٹریفک جام دیکھی۔ گھڑی دیکھتے ہوئے اس نے سر جھٹکا اور بائیں جانب گلی میں مڑ گیا۔ اسے میچ کے لیے دیر ہورہی تھی۔ وہ الگ الگ گلیوں میں بائک لے جاتے ہوئے جلد از جلد اپنے منزل کو پہنچنا چاہتا تھا۔ ایک گلی کے کونے پر وہ موڑ مڑا ہی تھا کہ سامنے ایک بلیک لینڈ کروزر کار اس کے راستے میں آگئی۔ اس نے پھرتی سے بریک مارا۔ جھٹکا اتنا شدید تھا کہ وہ سیٹ سے اٹھ کر آگے جھک گیا۔ خود کو سنبھال کر اس نے سامنے دیکھا وہ بلیک لینڈ کروزر کار وہاں سے اوجھل ہو چکی تھی۔ اس نے جان بچی تو لاکھوں پائے؛ سوچتے ہوئے پھر سے بائک سٹارٹ کی اور روڈ پر آگیا۔

تیز سپیڈ سے بائک چلاتے اسے احساس ہوا وہ بلیک لینڈ کروزر کار عین اس کے پیچے ہے اور بار بار اسے لائٹ مار رہی ہے۔ وہ اس کار کو راستہ دینے سائیڈ پر بھی ہوا لیکن وہ کار آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔ صائم کے آبرو تن گئے۔ وہ اضطراب میں سپیڈ کم اور تیز کرنے لگا تو وہ کار بھی اس کے ساتھ ہی اپنی سپیڈ کم یا تیز کر دیتی۔ صائم کو وہ کار مشکوک لگی۔ اس نے کار کے اندر جھانکنے کی کوشش کی لیکن اس کار کے شیشے بھی کالے رنگ کے تھے اس لیے وہ کچھ دیکھ نہیں سکا۔

گروانڈ کے سڑک پر بائک لاد کر صائم نے دیکھا اس بلیک لینڈ کروزر کار نے اپنی سپیڈ بڑھائی اور ایک جھٹکے سے اس کے بائک کے سامنے آگئی۔ صائم سہم گیا اور گھبراہٹ میں بائک کو غلط رخ موڑا کہ یک دم اس کا موازنہ ڈگمگا گیا اور پوری قوت سے بائک صائم کے بائیں پیر پر گر گئی اور ساتھ ہی کچھ میل تک اسے ساتھ لیئے آگے گھسیٹ گئی۔ صائم نے بریک پر زور دیا تو بائک کے ٹائر رک گئے لیکن تیز سپیڈ کی وجہ سے کھچاو اتنا زور دار تھا کہ بائک پر صائم کی گرفت چھوٹ گئی۔ وہ وہی گر پڑا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بائک دوسری گاڑیوں سے ٹکرا کر ضرر زدہ ہوگئی۔ اس کے ٹکڑے ادھر ادھر اڑتے نظر آئے۔

صائم کا بایاں بازو اور پیر بری طرح زخمی ہوگیا تھا اس کی فٹبال کی جرسی خون سے لت پت ہوگئی۔ وہ درد سے کراہنے لگا۔ اس نے بھیگی آنکھوں سے پیچے دیکھا وہ بلیک لینڈ کروزر کار اسی طرز میں کھڑی تھی۔ شاید اندر بیٹھا شخص اس کے زخموں کی تصدیق کرنا چاہتا تھا۔ چند لمحے اور گزرے صائم نڈھال پڑتا گیا۔ اس کے گرد بہت سے لوگ جمع ہوگئے تھے۔ وہ بے ہوش ہونے لگا اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تو اس نے دیکھا وہ بلیک کار خاموشی سے مخالف سمت روانہ ہوگئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

“ہیلو۔۔۔۔ ہاں صائم۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔ کہاں پر۔۔۔۔۔ اچھا میں آرہا ہوں۔۔۔” شاویز کو ایک انجان نمبر سے کال موصول ہوئی۔ دوسری طرف صائم تھا۔ اس کی آواز سے لگ رہا تھا وہ بہت مشکل سے گفتگو کر رہا ہے۔

صائم کی جب آنکھ کھلی وہ ہسپتال میں تھا۔ اس کے بائیں پیر اور بازو پر پٹیاں لگی ہوئی تھی۔ اس کے اپنے موبائل کا اسے پتا نہیں تھا کہ کہی گر گیا تھا یا اس کے بے ہوشی کے وقت کسی نے چرا لیا تھا۔

پاپا اسلام آباد میں تھے اور گھر پر فون کر کے وہ مما اور سحر کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جاوید بھائی کا نمبر اسے زبانی یاد نہیں تھا۔ ان سب کے علاوہ جو نام اس کے ذہن میں نمودار ہوا تھا وہ شاویز کا تھا۔ شاویز کا نمبر اتنا آسان تھا کہ صائم کو ایک ہی دفعہ میں یاد ہوگیا تھا۔ اس نے ہوش میں آکر نرس کے موبائل سے شاویز کو کال ملائی اور اپنے ایکسیڈنٹ کا بتایا۔

جس وقت شاویز اس کے پاس پہنچا وہ پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ صد شکر کہ اسے زیادہ زخم نہیں آئے تھے۔ پر تکلیف کی وجہ سے اسے اٹھنے بیٹھنے میں مدد درکار تھی۔ ہاتھ اور پیر پوری طرح چِھل گئے تھے اور پیر پر بھاری بائک گرنے کے باعث بل پڑ گیا تھا۔

ان سب سے زیادہ دکھ اسے اپنے آج کے فائنل میچ میں شرکت سے محروم ہونے کا تھا۔ بائک کی حالت تو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا تو اس کا کیا غم بیان کرتا۔

صائم کے ہی کہنے پر شاویز نے اس کے گھر کال کر کے عابدہ بیگم کو صائم کا رات اس کے ساتھ رکنے کا بتایا۔ لیکن وہ ماں تھی فوراً سمجھ گئی کہ کوئی تو بات ہے اس لیے انہوں نے صائم سے بات کرنے کی ضد کی۔ اس سے گفتگو کے دوران عابدہ بیگم کو احساس ہوا کہ وہ تکلیف میں مبتلا ہے۔ ان کے بار بار پوچھنے پر صائم نے اپنے ساتھ ہوئے حادثے کے بارے میں انہیں بتایا۔

“مما۔۔۔۔۔ مما میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔ زیادہ نہیں لگی۔۔۔۔۔ پلیز ایسے نہ روئے۔۔۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم بیٹے کے زخمی ہونے کا سن کر فون پر ہی زار و قطار رونے لگی۔ ان کی رونے کی آواز سن کر سحر ہڑبڑا کر بھاگتے لاؤنج میں آئی۔

عابدہ بیگم تو روئے جا رہی تھی ان سے کچھ کہا نہیں گیا۔ سحر نے از خود ان کے ہاتھ سے فون کا رسیور لپکا اور صائم سے بات کرنے لگی۔

“صائم۔۔۔۔ تم کس ہسپتال میں ہو۔۔۔۔۔ مجھے بتاو۔۔۔۔ میں ابھی آتی ہوں۔۔۔۔” سحر نے لرزتے آواز میں کہا۔ اسے اپنے چھوٹے دل عزیز بھائی کی بہت فکر ہونے لگی تھی۔

صائم ہسپتال کے بستر پر نیم دراز لیٹا؛ موبائل فون کان سے لگائے ہوئے حیران پریشان شاویز کو دیکھنے لگا۔ اس سے اپنی مما اور بہن سنبھالی نہیں جا رہی تھی۔ شاویز اس کے سامنے صوفے پر بیٹھے ہوئے ہاتھ ہوا میں اٹھا کر آبرو اچکا کر مسکرایا۔

صائم نے سرد سانس خارج کی اور پھر سے کال کی طرف متوجہ ہوا۔

“سحر۔۔۔۔ اس وقت اتنی رات گئے۔۔۔۔ تم یہاں آکر کیا کر لو گی۔۔۔ میں اب ٹھیک ہوں۔۔۔۔ میں نے صرف اپنی خیریت بتانے کال کی تھی۔۔۔۔”وہ اب مستحکم لہجے میں متفکر بہن کو دلاسہ دے رہا تھا۔

“ابھی تم آ بھی جاو تو میں تو سو جاوں گا۔۔۔۔۔ اور صبح ویسے بھی ڈسچارج ہورہا ہوں۔۔۔۔ تم پلیز اس وقت مما کو سنبھالو۔۔۔۔ میری تشویش مت کرو۔۔۔۔۔ میرے ساتھ شاویز ہے نا۔۔۔۔ صبح گھر آکر ملتا ہوں۔۔۔۔۔ اوکے میری پیاری بہن۔۔۔۔” اس نے معصوم انداز بنا کر سحر کو قائل کر دیا تھا۔

“ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ پر اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔ تکلیف زیادہ ہو تو فوراً ڈاکٹر کو بلا لینا۔۔۔۔” سحر نے اسے ہدایات جاری کی اور فون رکھ کر مما کی جانب متوجہ ہوئی۔ عابدہ بیگم اشک بار آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے مما کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے انہیں تسلی دی۔

صائم نے کال کاٹ کر سکون کی سانس لی اور موبائل شاویز کی طرف بڑھایا۔

“تمہاری کوئی بہن ہے شاویز۔۔۔۔۔” صائم نے استحزیہ ہنستے ہوئے کہا۔

شاویز نے موبائل تھام کر نفی میں سر ہلایا۔

“پھر تو شکر کرو۔۔۔۔ کیونکہ بہنوں کو سنبھالنا انٹری ٹیسٹ سے بھی مشکل کام ہے۔۔۔۔ وہ بھی اگر بہن سحر جیسی ہو۔ ” کہتے کہتے وہ کھلکھلا کر ہنسا۔ اس کا ساتھ دینے شاویز بھی مسکرا دیا۔

“چلو اب تم آرام کرو۔۔۔۔۔ اس وقت تمہیں ریسٹ کی ضرورت ہے۔۔۔” شاویز ہدایت دیتے صوفے پر سے اٹھا اور اس کے پاس آکر اسے لیٹنے میں مدد کی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

وہ رات سحر اپنی مما کے ساتھ ان کے کمرے میں سوئی۔ عابدہ بیگم کو تو پریشانی سے نیند ہی نہیں آئی۔ جیسے تیسے کر کے رات گزاری۔ فجر کی نماز میں اپنے نور چشم کے لیے بہت دعائیں کی۔

ان سے اور رہا نہیں گیا اور طلوع آفتاب کے ساتھ ہی انہوں نے دلاور صاحب کو کال کر کے وہاں کے در پیش حالات سے واقف کیا۔

سحر جب اٹھی اسے مما پر غصہ آگیا۔

“مما۔۔۔۔۔ کیا ضرورت تھی پاپا کو پریشان کرنے کی۔۔۔۔ اب وہ اپنا سارا کام چھوڑ کر واپس روانہ ہوجائے گے۔۔۔۔۔۔ چھوٹا سا ایکسیڈنٹ تھا تھوڑی دیر میں وہ گھر بھی آجائے گا۔۔۔۔۔ آپ بھی نا۔۔۔۔ ” سحر نے کہتے ہوئے بے بسی سے سر پکڑ لیا۔

“مجھ سے مزید صبر نہیں ہوسکا۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم نے بھر آئی آواز میں اپنے کئے کی وضاحت دی۔

سحر کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔ دلاور صاحب اپنے مینیجر اور سیکرٹری کو مینسٹر صاحب کے دفتر میں متعارف کروا کر خود پہلی فلائٹ سے واپسی روانہ ہوگئے تھے۔

دن کے 11 بجے تک صائم ہسپتال سے رخصت ہوگیا تھا۔ زخموں کی نوعیت زیادہ پریشان کن نہیں تھی۔ اسے ابھی ایک دو ہفتے بس آرام کرنا تھا اور پابندی سے پٹی تبدیل کرواتے رہنا تھا۔ زیادہ بھاگ دوڑ اور چلنے پھرنے سے احتیاط برتنی تھی۔

عابدہ بیگم کے ضد پر بھی سحر انہیں ساتھ ہسپتال لے کر جانے پر آمادہ نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی عابدہ بیگم صائم کو پٹیوں میں جکڑا دیکھ کر جذباتی ہوجائے گی اور رو دے گی اس لیے وہ انہیں تسلی سے گھر پر ہی انتظار کرنے کی ہدایت دے کر خود ڈرائیور کے ساتھ چلی گئی۔

اس دن کے بعد سحر کی ہسپتال میں شاویز سے ملاقات ہوئی۔ رسمی سی علیک سلیک ہوئی۔ سحر کے ہوتے ہوئے بھی اٹھنے بیٹھنے میں شاویز ہی صائم کی مدد کرتا رہا۔ سحر کو اپنے برے رویئے پر پچھتاوا ہوا۔ وہ مسلسل شاویز کو دیکھتی رہی اور وہ بدلے میں مسلسل اسے نظرانداز کرتا رہا۔

اسے کار میں بیٹھا کر شاویز جانے لگا تھا لیکن صائم نے اسے روک لیا اور ان کے ساتھ گھر جانے کی پیشکش کی۔ اس کے بہت اصرار پر شاویز گاڑی میں بیٹھ گیا اور کار ان کے گھر کی جانب بڑھ گئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

عابدہ بیگم اضطراب میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہی تھی جب صائم؛ شاویز کے کندھے پر بازو ڈالے لنگڑاتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔ سحر خاموشی سے ان کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔

انہیں آتے دیکھ کر عابدہ بیگم تیزی سے ان کے پاس پہنچی اور روتے ہوئے صائم کو گلے سے لگایا۔

“مما۔۔۔۔ پہلے آرام سے بیٹھنے تو دیں۔۔۔۔ پھر تسلی کر لیجیئے گا۔۔۔” سحر نے آنکھیں بڑی کر کے عابدہ بیگم کو گھورا۔ وہ آنسو پونچھتی گیلی سانس اندر کھینچتی سامنے سے ہٹی۔

صائم کے زخمی پاوں کا سوچ کر انہوں نے اس کے لیے نیچے اپنے کمرے کے ساتھ والا کمرہ تیار کروایا تھا۔ وہ اسی طرح شاویز کا سہارا لیئے کمرے میں آیا اور بیڈ پر نیم دراز بیٹھ گیا۔

اپنے بیٹے کو آرام دہ ہوتا دیکھ کر عابدہ بیگم تسلی ہوگئی۔

“کھڑے کیوں ہو۔۔۔۔ بیٹھو۔۔۔۔” صائم کی طرف سے مطمئن ہو کر وہ شاویز سے مخاطب ہوئی۔

اس نے منع کرنا چاہا لیکن انہوں نے اسے ہاتھ سے تھام لیا۔

” ناشتہ کیے بغیر تو میں جانے نہیں دوں گی۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی۔۔۔۔ صائم کے پاپا بس پہنچنے والے ہیں۔۔۔۔۔ انہوں نے خاص طور پر مجھے ہدایت دی ہے کہ ان کے آنے تک تمہیں بیٹھائے رکھوں۔۔۔۔۔ وہ خود تم سے مل کر پرسنلی شکریہ کرنا چاہتے ہے۔۔۔” عابدہ بیگم نے خوش دلی سے کہا اور صائم کو آرام کرنے کا کہہ کر شاویز کو ساتھ لیئے لاؤنج میں آگئی۔

سحر کچن میں ملازمہ کے ساتھ صائم کے لیے سوپ بنانے لگی تھی اور عابدہ بیگم لاؤنج میں شاویز کی خاطر داری کرنے۔ وہ اس کے آگے الگ الگ لوازمات رکھنے لگی تھی اور شاویز غیر آرام دہ ہو کر ہر چیز سے منع کرتا رہا۔

“آنٹی۔۔۔۔۔ ان سب کی کوئی ضرورت نہیں ہے سیریسلی۔۔۔۔۔” اس نے ان کا دل رکھنے صرف ایک کپ چائے سے کفارہ کیا۔

ابھی وہ چائے پی رہا تھا جب اس نے دروازے سے ایک نوجوان کو پولیس وردی میں تیار؛ تیز قدموں سے اندر آتے دیکھا۔

عابدہ آنٹی اسے دیکھ کر مسکرائی اور ملنے کھڑی ہوگئی۔

“جاوید۔۔۔” انہوں نے خوش دلی سے اس کا استقبال کیا۔

“میں آپ سے بہت ناراض ہوں آنٹی۔۔۔۔ ہمیشہ بیٹا بیٹا کہتی ہے۔۔۔۔ لیکن ضرورت کے وقت پرایا کر دیا۔۔۔۔ خان انکل یہاں نہیں تھے تو کیا ہوا۔۔۔۔ میں تو تھا۔۔۔۔ آپ مجھے ایک کال کر لیتی۔۔۔۔ یہ تو میری تھوڑی دیر پہلے خان انکل سے کال پر بات ہوئی ہے۔۔۔ تو انہوں نے بتایا صائم کے ایکسیڈنٹ کا۔۔۔ ۔” جاوید نے جعلی خفگی سے آبرو جمائے ہوئے کہا۔

وہ وردی میں تیار ہوکر ڈیوٹی پر جانے کے لیے نکل رہا تھا جب اسے دلاور صاحب کی کال موصول ہوئی۔ وہ چاہتے تھے جب تک وہ واپس پہنچتے ہے؛ جاوید ان کے فیملی کی حفاظت کریں۔ اس لیے ان کی بات سنتے ہی جاوید فوراً آگیا تھا۔ پولیس کی خاکی وردی پہنے۔ بال چھوٹے تراشے ہوئے۔ سینہ تانے۔ ڈاڑھی موچ نفاست سے بنائے وہ با وقار آفسر عابدہ بیگم سے گِلہ کر رہا تھا۔

عابدہ بیگم اسی طرح اس کا ہاتھ تھام کر مسکرائی۔

“ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔ سب کچھ اتنی جلدی ہوگیا کہ تمہیں کال کرنا یاد نہیں رہا۔۔۔۔۔ اور پھر شاویز تھا نا صائم کے ساتھ۔۔” عابدہ بیگم نے دفاعی انداز میں تیزی سے اسے شاویز کی طرف متوجہ کیا۔

جاوید مسکراتا ہوا اس کے جانب مڑا تو وہ کھڑا ہوگیا۔

“ہائے شاویز۔۔۔۔ A.S.P جاوید” جاوید نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے مصافحہ کرنے ہاتھ آگے کیا۔

جو شاویز نے بر وقت مسکرا کر تھام لیا اور جنبش دے کر مصافحہ کیا۔

“اچھا آنٹی۔۔۔۔ میں زرا صائم سے مل لوں۔۔۔۔۔ کہاں ہے وہ۔۔۔” جاوید مصافحہ کر کے پھر سے عابدہ بیگم سے گویا ہوا۔

“نیچے والے کمرے میں ہیں۔۔۔” انہوں نے کمرے کی طرف اشارہ کر کے بتایا تو وہ سر کو جنبش دیتا اس کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سحر اس کے سرہانے کھڑی صائم کو سوپ پینے میں مدد کر رہی تھی جب اس نے دروازے پر دستک سنی پھر دروازہ کھلتے دیکھا۔

جاوید اندر داخل ہوا تو صائم چہک اٹھا جبکہ سحر حسب عادت مضطرب ہوگئی۔

“کیسے ہو champion۔۔۔۔۔ اچھی ٹرافی جیتے ہو” جاوید نے مسکراتے ہوئے مذاق اڑاتے ہوئے اس کے پٹی شدہ ہاتھ پیر کو دیکھ کر کہا۔

“بس ٹھیک ہی ہوں۔۔۔۔” صائم کو پھر سے اپنا فٹبال میچ یاد آیا اور اداس ہوگیا۔

سحر ایک ہی جگہ کھڑی سوپ کے پیالے میں چمچا چلاتی جا رہی تھی۔

“کوئی بات نہیں۔۔۔۔ ایسے ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے۔۔۔۔ ہم سب اس بات کا شکر کر رہے ہیں۔۔۔۔ کہ اللہ کے فضل سے تمہیں زیادہ نہیں لگی۔” جاوید اس کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بھائی کے جیسے سمجھانے لگا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز کو اب واقعی جانا تھا۔ عابدہ بیگم نے اس کی مرضی کا لحاظ کرتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دی ہی تھی کہ پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی۔

“لو۔۔۔۔ آگئے۔۔۔۔” کہتے ہوئے وہ لاؤنج کے دروازے میں کھڑی ہوگئی۔

دلاور صاحب تیز قدموں سے پورچ کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئے۔

“عابدہ۔۔۔۔ صائم کیسا ہے۔۔۔۔”انہوں نے اکھڑے سانس میں پوچھا۔ تیز تیز سفر کرنے سے ان کی سانس چڑھ گئی تھی۔

“وہ اب بلکل ٹھیک ہے۔۔۔۔ کمرے میں آرام کر رہا ہے۔۔۔۔” بیوی کے تسلی بخش تاثرات دیکھ کر انہیں راحت ملی۔

“خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔۔” دلاور صاحب نے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا۔

“یہ شاویز ہے۔۔۔۔” اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتے عابدہ بیگم نے انہیں شاویز کی طرف متوجہ کیا جو ان سے تھوڑا فاصلے پر کھڑا انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔

دلاور صاحب براون کلر کے سوٹ میں ملبوس قدم قدم چلتے اس کے طرف آنے لگے۔

دلاور پرویز خان کی با رعب اور بااعتماد شخصیت سے؛ ان کے پر خلوص لہجے سے شاویز بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔

“ہائے شاویز۔۔۔۔۔۔ تھینکیو سو مچ۔۔۔۔۔” انہوں نے شاویز کو مخاطب کیا اور اس کا ہاتھ تھام کر مصافحہ کرنے لگے۔

“میری غیر موجودگی میں۔۔۔ میرے بیٹے کی مدد کر کے۔۔۔۔ تم نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔۔۔” دلاور صاحب اسی انداز میں اس کے ہاتھ کو تھپکتے ہوئے نرمی سے پلکیں جھپکا کر اس سے اظہار تشکر کر رہے تھے۔

“پلیز انکل۔۔۔۔ اب آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہے۔۔۔۔ اس میں احسان کی کیا بات ہے۔۔۔۔۔ صائم میرا دوست ہے۔۔۔۔ اس کی مدد کرنا میرا فرض تھا۔” شاویز نے خوش اخلاقی سے سر کو جنبش دیتے ہوئے کہا۔ وہ اس کی خوش مزاجی کو سراہنے لگے۔ ان سے رخصت لیتا شاویز باہر کی سمت بڑھ گیا اور دلاور صاحب صائم سے ملنے چلے گئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

جاوید نے صائم سے حال احوال پوچھتے اور باتیں کرتے ہوئے ایک آدھ مرتبہ خاموش نظروں سے سحر کو دیکھا۔ وہ سر جھکائے سوپ پر نظریں جمائے متواتر چمچ ہلا رہی تھی۔

“اوکے میں چلتا ہوں۔۔۔۔۔ تم جلدی سوپ پیو۔۔۔۔ چمچ چلا چلا کر پہلے ہی سارا ٹھنڈا کر دیا ہے۔” اٹھتے ہوئے شرارتی انداز میں آبرو اچکا کر جاوید نے سحر کو ڈائریکٹ مخاطب کئے بغیر اس پر تبصرہ کیا۔

جاوید کو دیکھتے ہوئے صائم لب مینچھے اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کرنے لگا جبکہ سحر خود پر ہونے والے اس تبصرے پر چھنپ سی گئی اور چمچ ہلاتا ہاتھ رک گیا۔

جاوید دروازے کے در تک گیا تھا کہ دروازہ کھول کر دلاور صاحب اندر داخل ہوئے۔ دروازے پر ہی ان سے کچھ مباحثہ کر کے جاوید باہر نکلا اور دلاور صاحب اندر آئے۔

جاوید کے جاتے ہی سحر کے پیروں میں حرکت شروع ہوئی۔ وہ بھاگتی ہوئی لاؤنج میں گئی۔ وہاں کوئی نہ تھا۔

“مما۔۔۔۔ شاویز چلا گیا کیا۔” اس نے عابدہ بیگم کو بلند آواز میں مخاطب کیا۔

“ہاں ۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی نکلا ہے۔۔۔”عابدہ بیگم نے بھی اپنے کمرے سے جوابی صدا لگائی۔

ان کا جواب سن کر وہ بھاگتے ہوئے گھر کے گیٹ سے باہر جھانکنے لگی۔ خوش قسمتی سے اسے شاویز دِکھ گیا تھا۔ وہ بس تھوڑا ہی آگے گیا تھا۔

جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے پیدل چلتے ہوئے شاویز نے کسی کو خود کو پکارتے سنا۔ اس نے رک کر پیچے دیکھا سحر اسی کی طرف بھاگ کر آرہی تھی۔

وہ پورا گھوم کر اس کے جانب رخ کر کے کھڑا ہوگیا۔ وہ بھاگتے ہانپتے اس کے پاس پہنچی۔

“تھینکیو” اس نے نرم لہجے میں کہا۔

وہ جو سنجیدہ تاثرات بنائے کھڑا تھا سحر کے نرم لہجے پر ہلکا سا مسکرایا۔

“اینڈ سوری۔۔۔۔”سحر نے جھجکتے ہوئے معافی مانگی۔

اس نے آبرو اچکا کر سحر کو دیکھا اور قدم قدم چل کر اس کے تھوڑا قریب آیا۔

“اگر یہ سوری۔۔۔۔۔ تم اپنے روئیے پر کر رہی ہو تو۔۔۔۔ میں قبول کر لیتا ہوں” شاویز نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

“لیکن۔۔۔۔۔۔ اگر یہ سوری۔۔۔۔۔ تم عارفہ کے لیے کر رہی ہو تو۔۔۔۔۔ مجھے قبول نہیں ہے۔۔۔۔۔ میں اب اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتا۔۔۔۔۔ تو تم بھی ہمارا patch up کروانے کی کوشش مت کرو۔۔۔۔” اس نے تندی سے کہا اور واپس مڑ کر تیز رفتاری سے چلنے لگا۔

سحر بے یقینی سے اس کی کہی باتیں سمجھنے کی کوشش کرتی رہی اور جب سمجھ آئی تو وہ دنگ رہ گئی۔

“مطلب۔۔۔۔۔۔ شاویز نے عارفہ سے بریک اپ کر لیا ہے۔۔۔۔ مگر کیوں۔۔۔۔۔۔” سوچتے ہوئے حیرت سے اس کا منہ کھل گیا۔ اس نے دوبارہ اسے پکارنا چاہا لیکن تب تک وہ ان کے گلی کے حدود سے دور جا چکا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆