No Download Link
Rate this Novel
Episode 01
Bikhre Rishte BY Palawash Safi
وہ تاریک رات میں گھنے جنگل کے بیچو بیج تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ جنگل کے ہولناک آوازوں نے اس کے اوسان خطا کر رکھے تھے وہ بار بار پیچے دیکھتا چِلا رہا تھا خوف و ہراس کی وجہ سے پسینے سے شرابور بھاگتا ہوا وہ کسی کھائی میں گرنے لگا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ حواس باختہ سا آس پاس دیکھا تو وہ کسی جنگل میں نہیں اپنے نرم بستر پر تھا۔ ہاتھ بڑھا کر نائٹ لیمپ لگایا۔ اس کے وسیع کمرے میں روشنی پھیل گئی۔ ڈر کے مارے اب بھی اس کی حالت غیر ہورہی تھی سر سے پیر تک وہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا ہاتھ پاؤں میں لرزش سی طاری ہوئی تھی۔ بے ترتیب دھڑکنوں سے اسے گھٹن سی محسوس ہونے لگی تھی۔ اس نے لمبی لمبی سانس لی۔ چہرے پر سے پسینہ صاف کر کے خود کو کمپوز کیا اور ننگے پیر لکڑی سے بنے کمرے کے فرش پر چلتے ہوئے کھڑکی تک آیا اور پھٹ کھول کر تازہ ہوا لینے کھڑا ہوگیا۔
عموماً یہ خواب اسے تب آتا جب وہ بہت زیادہ پریشان ہوتا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی یہ خواب اسے کافی بے چین اور مضطرب کر گیا تھا۔ بچپن سے اب تک وہ یہ خواب کتنی مرتبہ دیکھ چکا تھا یہ گنتی سے بالاتر ہوچلا تھا۔ وہ رات کا آخری پہر تھا آسمان کی تاریکی اب بھی برقرار تھی۔ ہر جاندار اس لمحے نیند کی آغوش میں پڑا ہوا تھا۔ صرف دور کہی سے آتی کتوں کی بھوکنے کی آواز فضاء کی خاموشی کو موثر کر رہی تھی۔ موسم بہار کی آمد تھی اور اس پہر ماحول کی خنکی کا احساس بھی زیادہ ہورہا تھا۔ کچھ ہوش سنبھال لینے کے بعد وہ سست روی سے کھڑکی پر سے ہٹا۔ بھاری قدموں سے چلتا وہ واشروم میں گھسا اور شاور کے ٹھنڈی بوچھاڑ میں کھڑا ہوگیا۔ دس سے پندرہ منٹ بعد وہ نہا کر نکلا۔ دیوار پر لگی کلاک پر وقت دیکھا تو ابھی فجر شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔ اس نے بلیک کلر کے ٹریک ٹراؤزر کے ساتھ بلیو کلر کی ٹی شرٹ پہنی۔ اپنے پسندیدہ سپورٹس شوز پہن کر تسمے باندھے پھر ورزش کرنے کی نیت سے گھر سے باہر نکل کر سڑک پر دوڑنے لگا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سردیوں کی تعطیلات کے بعد آج ان کی یونیورسٹی کا پہلا دن تھا۔ وہ بی کام کے دوسرے سال کا آغاز کرنے جا رہی تھی۔ تین مہینوں کی چھٹیاں گزار کر آج اسے یونیورسٹی کے لیے صبح سویرے اٹھنے میں دشواری پیش ہوئی تھی اس لئے پہنچتے پہنچتے اسے خاصی دیر ہوگئی۔
وہ ابھی ابھی کار سے اتر کر تقریباً بھاگتے ہوئے یونیورسٹی کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔ گلابی رنگ کا شلوار قمیض زیب تن کئے۔ کندھوں سے نیچے تک آتے گھنے بال کیچر میں جکڑے ہوئے۔ وہ کندھے سے لٹکا بیگ اور ہاتھ میں پکڑی کتاب سنبھالتے ہوئے گھڑی کو دیکھ رہی تھی کہ کسی نے تیزی سے پیچے سے آکر اس کے ہاتھ میں سے کتاب اُچک لی۔
اس نے تعجبی نظروں سے اپنے سامنے گھوم کر آ کھڑے ہونے والے اس شریر لڑکے کو دیکھا جو اصولاً اس سے ایک سال سینئر تھا۔
“یہ کیا حرکت سے ذیشان۔۔۔۔۔۔ مجھے پہلے ہی کلاس کے لئے دیر ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ بک واپس کرو میری۔ ” عارفہ نے غصے اور اضطراب کے ملے جلے تاثرات سے کہا۔
قد کاٹ میں ذیشان عارفہ سے لمبا تھا۔ عارفہ نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے کتاب واپس لینی چاہی پر وہ پنچوں کے بل اور اونچا ہوگیا اور کتاب پکڑے ہاتھ کو ہوا میں بلند کر دیا۔ اسے عارفہ کو چھڑانے میں بہت مزا آرہا تھا وہ ہنستا ہوا کتاب ہوا میں لہرانے لگا۔ عارفہ نے ایک دو مرتبہ ہلکے سے اچھل کر کتاب پکڑنی چاہی لیکن وہ اس کے ہاتھ تک پہنچ نہ سکی۔ منہ بھسورتے ہوئے وہ پھر سے اس سے منت کرنے لگی۔
“ذیشان۔۔۔۔۔۔ دے بھی دو اب۔۔۔۔۔ کلاس شروع بھی ہوگئی ہوگی۔۔۔۔۔۔ پہلے دن پروفیسر سے ڈانٹ پڑواو گے۔۔۔۔ ” اس نے تنگ آکر ہار مان لینے والے انداز میں کہا۔
“تم مجھے سلام کئے بغیر کیسے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ سینئر کا احترام کرنا بھول گئی ہو کیا۔” ذیشان نے شرارتی انداز میں استحزیہ ہنستے ہوئے اسے چھیڑا۔
ذیشان مزاحیہ مزاج کا شریر لڑکا تھا۔ ایم کام کے پہلے سال کا طالب علم تھا۔ اسے اپنے سے جونیئر سٹوڈنٹس کو تنگ کرنے؛ ان کی ٹانگ کھچائی کرنے میں بہت دلچسپی تھی۔ جب عارفہ کا اس یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تب بھی ذیشان نے اسے سٹور روم میں بھوتوں اور روحوں کی موجودگی کی عجیب و غریب کہانیوں سے خوب ڈرایا تھا اور ایک دن جان بوچ کر اسے سٹور روم میں بند بھی کر دیا تھا۔ وہ دھڑا دھڑ دروازہ بجاتی رہی اور ذیشان ہنسی سے لوٹ پوٹ زمین پر پڑا رہا۔ وہ چیختی پکارتی رہی جب تک کہ کسی راہ گزرنے والے نے عارفہ کا رونا سن کر سٹور روم کا دروازہ کھولا۔ اس کے باہر نکلتے ہی ذیشان پیٹ پکڑ کر ہنستے ہوئے وہاں سے بھاگ گیا اور عارفہ پیر پٹختی روتی شکل لیئے کھڑی رہ گئی۔
آج بھی ذیشان اپنی اسی دلچسپی کے چلتے اسے تنگ کرنے ٹپک پڑا تھا۔
“میں نے دیکھا نہیں آپ کو حضور والا۔۔۔۔۔۔۔ اب جانے بھی دو۔” کلاس مس ہونے کے تشویش سے بِنا کتاب لیئے بیزاری سے جواب دے کر وہ جانے کے لیے آگے بڑھ گئی مگر ذیشان نے اس کا راستہ روک لیا۔
وہ اففف کرتی اپنا بیگ اٹھا کر ذیشان کو مارنے لگی تھی کہ اسی کے سے انداز میں ایک نوجوان تیزی سے ان کے پاس سے گزرا۔
جب تک ٹھٹک کر ذیشان نے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھا عارفہ کی کتاب اس نوجوان لڑکے کے ہاتھ میں تھی۔ عارفہ چہکتے ہوئے ذیشان کے سائیڈ سے گزر کر اس کے سامنے آئی۔ اس نوجوان نے بغیر کسی پس و پیش کے آرام سے کتاب عارفہ کو تھما دی۔
“اhey۔۔۔۔۔۔ یہ کیا بدمعاشی ہے۔۔۔۔۔” ذیشان کو اس کے غیر متوقع حرکت پر غصہ چڑھنے لگا۔
“وہی بدمعاشی ہے جو غالباً آپ۔۔۔۔۔ ان سے فرما رہے ہے۔” اس نوجوان نے اسی اعتماد کے ساتھ عارفہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
قد و قامت میں وہ ذیشان کے ہی جتنا تھا اس لیے ایک ہموار سطح سے ذیشان کے رو بہ رو ہو کر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ ذیشان کو اس کی خودسوزی پر تپ چڑھنے لگی وہ انگلی اٹھا کر اسے جھڑکنے لگا تھا کہ پہلا ہاور ختم ہونے کی گھنٹی بجی۔ عارفہ نے بے بسی سے سر پر ہاتھ مارا اور طیش میں ذیشان کی سامنے آگئی۔
“دیکھ لو کیا کر دیا۔۔۔۔۔ میری کلاس مس کرا دی۔۔۔۔۔۔ اللہ کریں تم اس سال فیل ہوجاو۔” اس نے تپتے ہوئے اسے بد دعا دی اور پیر پٹختی ہوئی روانہ ہوگئی۔ اسے ذیشان کی وجہ سے اب دوسری کلاس بھی مس نہیں کرنی تھی اس لیے تیز قدموں سے اپنے ڈیپارٹمنٹ میں چلی گئی۔
جس کے لیے وہ دونوں آمنے سامنے ہوئے۔ وہ وہاں سے جا چکی تھی۔ تو ان دونوں کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ بحث و مباحثہ میں پڑنے کا کوئی جواز نہیں رہا اس لیے ذیشان اسی سرد انداز میں اسے گھورتے ہوئے جانے لگا۔
“دوبارہ میرے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش مت کرنا” جاتے جاتے بھی اس نے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہہ کی۔
“یہی تجویز میری طرف سے بھی سنتے جاو۔” شاویز نے اسی انداز میں کھڑے ہوئے ہی کچھ پل کی خاموشی کے بعد پیچے سے پکارا۔
ذیشان نے چند قدم آگے جاتے جاتے اس کی پکار سنی تو مڑ کر ایک غصیلی نظر اس پر ڈال کر ناک پھلاتے ہوئے واپس لمبے لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ کلاس میں داخل ہوئی تو اسے سامنے کی قطار میں سحر بیٹھی نظر آئی۔ اسے اپنے پاس آتا دیکھ کر سحر آگ بگولا ہوتی کھڑی ہوگئی اور مظبوطی سے اس کا بازو جکڑ لیا۔
“کہاں رہ گئی تھی۔۔۔۔۔۔ کب سے انتظار کر رہی ہوں۔۔۔۔۔” اس نے دبے لہجے میں غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کا بازو جھنجوڑا۔
وہ جو پہلے ہی ذیشان پر غصہ تھی سحر کی ناراضی پر اور منہ بنا گئی۔
“صبح دیر سے آنکھ کھلی۔۔۔۔۔ تیار ہو کر آتے آتے پہلے ہی کافی دیر ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ کہ نیچے گیٹ کے پاس ذیشان مل گیا اور کتاب چھین کر تنگ کرنے لگا۔۔۔۔ اسی سے لڑتے جھگڑتے کلاس مس ہوگئی۔۔۔” وہ معصومیت سے سحر کو اپنے آغازِ صبح کی رو داد سنا رہی تھی اور وہ ہاتھ باندھے ناراض نگاہوں سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔
“یہ لڑکا کبھی نہیں سدھرنے والا۔” سحر نے سرد مہری سے ذیشان پر تبصرہ کیا۔
اس کا موڈ بگرتا دیکھ کر عارفہ نے گفتگو کا موضوع تبدیل کر دیا۔
“تمہیں پتا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک ہینڈسم نے ہیرو کی طرح آکر۔۔۔۔ میرے اور ذیشان کا پھڈا حل کروایا۔” وہ خوشگوار انداز میں اس نوجوان کے بارے میں بتانے لگی۔
سحر نے آبرو اچکا کر محظوظ ہوتے ہوئے سر تا پیر اپنی چنچل سہیلی کو دیکھا۔
“کون تھا” دوستانہ انداز بحال کرتے ہوئے اس نے عارفہ سے سوال کیا۔
“پتا نہیں لیکن بہت چارمنگ تھا۔۔۔۔۔۔ میں تو بس اسے دیکتھی رہ گئی۔” عارفہ نے پھر سے شاویز کو یاد کرتے ہوئے پُر سوچ انداز میں کہا جیسے وہ خود بھی اپنے کہے جملے کی تصدیق کرنا چاہتی ہو۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ کوریڈور میں چلتا ہوا ایک کلاس روم کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا۔ ایک لڑکا بے دھیانی میں چلتے ہوئے اس سے ٹکرا گیا۔
“کیا بات ہے بھئی۔۔۔۔۔۔ کیوں دروازے پر کھمبے کی طرح کھڑے ہو۔۔۔۔۔” لاریب نے اپنے چھوٹے قد کے آگے اس کا لمبا قد دیکھتے ہوئے مخاطب کیا۔
وہ جو کلاس میں جھانکتے ہوئے سنجیدہ تاثرات بنائے کھڑا تھا کسی حد تک مزاج نرم بناتے ہوئے لاریب کی جانب مڑا۔
“سوری دوست۔۔۔۔۔۔۔ میں نیاء آیا ہوں نا۔۔۔۔۔۔ تو کلاس کنفرم کرنے یہی کھڑا ہوگیا۔” شاویز دفاعی انداز میں گہری براون آنکھوں میں معصومیت بھر لایا پھر سر اٹھا کر کلاس کے باہری دیوار کو بغور مشاہدہ کرنے لگا جس پر نہ کوئی بورڈ لگا تھا نہ کسی مارکر سے مضمون کی نشاندہی کی گئی تھی۔
“کس کلاس کے ہو۔۔۔۔۔۔” لاریب نے دوست بلائے جانے پر غائبانہ خوشی ظاہر کرتے ہوئے اس کی مدد کرنے کو پوچھا۔ مطلوبہ مضمون اور سال کی معلومات فراہم کر کے وہ لاریب کی مدد پر جوش میں آگیا۔
“پھر تو صحیح جگہ آئے ہو۔۔۔۔۔۔۔ یہی کلاس ہے بی کام سیکنڈ ایئر۔۔۔۔۔ آجاو۔۔۔۔۔۔ میں بھی اسی مچھلی بازار کا حصہ ہوں۔”لاریب نے کلاس سے آتے شور و غل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے پیچے آنے کا کہا۔
وہ ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ سجائے خوش دلی سے اس کے پیچے پیچے کلاس میں داخل ہوگیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ایک گھنٹے تک فلیٹ کے سامنے پارک میں ورزش کرنے کے بعد وہ گھر آیا تو فجر ہوچلی تھی۔ کچھ اذانیں ہوگئی تھی کچھ اکا دکی ہورہی تھی۔ اس نے شوز اتارے اور وضو کرنے کے ارادے سے واشروم چلا گیا۔ گیلے سر ہاتھ منہ پیر؛ جب وہ وضو کر کے باہر آیا تو اذانیں پوری طرح تھم چکی تھی۔ کچھ اس فلیٹ کی بناوٹ اس ترتیب سے کی گئی تھی کہ دروازے کھڑکیاں بند کرنے کے بعد کوئی شور اور کوئی آواز اندر نہ آپاتی۔ وہ جائے نماز بھیچا کر اللہ اکبر کہتا کھڑا ہوا اور فجر کی نماز ادا کرنے لگا۔
دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر ہمیشہ کی طرح اس نے لبوں سے کچھ نہ کہا لیکن دل ہی دل میں صرف اور صرف انصاف اور راہ راست کی مانگ کی۔ چہرے پر ہاتھ پھیر کر وہ اٹھا۔ جائے نماز طے کر کے واپس ٹیبل پر رکھنے لگا تو اس کی نظر سامنے دیوار پر پڑی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ میز کے اوپر چڑھ کر بیٹھی تھی۔ کبھی وہ سحر سے بات کرتی کبھی دوسری کلاس میٹ سے۔ ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے اس نے لاریب کے ساتھ شاویز کو ان کی کلاس میں داخل ہوتے دیکھا۔ وہ گڑبڑا کر فوراً میز پر سے نیچے اتری۔
“وہ دیکھو۔۔۔۔۔۔ یہ وہی ہے” عارفہ اپنی سیٹ پر بیٹھ کر سحر کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولی۔
سحر نے ایک نظر اس کی نگاہوں کے سمت میں سرسری سا دیکھا
“کون” اس نے حیرانی سے پوچھا۔
“ارےےے۔۔۔۔۔ وہی ہیرو۔۔۔۔۔۔ جس کا میں بتا رہی تھی۔” عارفہ نے چمکتی آنکھوں سے اسے چند منٹ پہلے بتایا قصہ یاد کروایا۔
سحر نے آبرو اٹھا کر اسے دیکھا جیسے یاد آگیا ہو اور پھر سے لڑکوں کے گروپ میں کھڑے اس نوجوان کو مشاہدہ کرنے لگی جو سب سے متعارف ہوتا ہوا مسکرا کر مصافحہ کر رہا تھا۔
لمبا قد چوڑے شانے مظبوط بازو۔ بلیو جینز کے ساتھ سفید شرٹ پہنے۔ کالے بال سائیڈ پر اوپر کی رخ میں جمائے ہوئے۔ نئی تراشی نفیس سی شیو رکھے ہوئے۔ لمبی ناک ایک برابر چہرا۔ گہرے نسواری( dark brown ) آنکھیں جھپکاتے ہوئے۔ مدھم سی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے۔ خوش شکل کا وہ لڑکا مقناطیسی کشش کا حامل تھا۔ غور سے اس کے حرکات و سکنات اور مردانہ پرسنلٹی کے فزیکل زاوئیے ملاحظہ کرنے کے بعد اس نے دل میں عارفہ کی کہی بات کا اعتراف کیا۔ وہ واقعی ہیرو ہی لگ رہا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
عارفہ چنچل مزاج۔ زندگی کو انجوائے کرنے والی۔ سب سے فرینڈلی رہنے والی ہنس مکھ انسان تھی۔ درمیانہ قد گندمی سی رنگت لمبے گھنے بال۔ سیاہ گول آنکھیں چھوٹی ناک کے ساتھ وہ خوب رُو لڑکی سب کو پہلی ملاقات میں ہی اپنا بنا لیتی۔ معصومیت اور عاجزی کے ساتھ ساتھ اعتماد اور مثبت نظری بھی اس کی شخصیت کا حصہ تھی۔ اپنے ماں باپ اور ایک بھائی کے بشمول وہ اپنے ساری فیملی اور فرینڈز کی چہیتی تھی۔
عارفہ کے بہ نسبت سحر کم گو پڑھائی میں تیز۔ اپنے آپ میں رہنے والی۔ جلدی کسی سے نہ گھلتی ملتی محتاط سی شخصیت تھی۔ قد و قامت میں وہ عارفہ جیسی ہی تھی جبکہ رنگت میں کچھ سفیدی مائل تھی۔ اس کا خاموش اور سنجیدہ مزاج دیکھتے ہوئے اس کی بہت مختصر سی فرینڈ لسٹ تھی۔ سحر کی سب سے زیادہ صرف عارفہ سے دوستی تھی جو اس کے ہر سکھ دکھ کی ساتھی۔ اس کے دل کی ہر گہرائیوں کی ہم شریک اور ہمراز تھی۔
عارفہ اور سحر دونوں ہی شہر کے بڑے مانوس خاندانوں میں سے تھی۔ دونوں 8 سال کی عمر سے بیسٹ فرینڈز تھی۔ پہلے سکول پھر کالج اور اب یونیورسٹی ہر میدان میں وہ ساتھ ساتھ ہوتی پھر چاہے وہ تعلیمی میدان ہوتا یا کھیل کا۔ بغیر کسی حسد اور جلن کے دونوں ایک دوسرے کو بہت پیار کرتی ساتھ دیتی حوصلہ افزائی کرتی۔ نہ عارفہ کی کوئی سگی بہن تھی اور نہ سحر کی اس لیے ان دونوں نے ایک دوسرے کو ہی اپنی بہن بنا رکھا تھا۔ جس حد تک پیار تھا اتنا ہی کبھی کبھی تکرار بھی ہوجاتی لیکن زیادہ سے زیادہ ایک آدھ گھنٹے سے زیادہ ناراض نہ رہ پاتی۔ ان کی اس نوک جوک بھری پکی دوستی کے چلتے دونوں فیملیز کے بھی اچھے تعلقات تھے۔ آنا جانا زندگی کے اتار چڑھاؤ میں ساتھ دینا۔ عارفہ اور سحر کے گھر بھی قریب تھے گلی کے ایک کنارے سحر کا گھر اور دوسرے کنارے عارفہ کا گھر۔ زندگی حسین اور خوشیوں بھری اپنے سفر پر رواں دواں تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ سب سے متعارف ہونے کے بعد کلاس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے چارو سمت نظریں گھما کر دیکھنے لگا۔ اسی طرح تسلی سے آس پاس دیکھتے ہوئے اس کی پہلی قطار میں دوسری لڑکیوں کے مجموعے کے بیچ بیٹھی عارفہ پر نظر پڑی۔
چونکہ شاویز اسے خود کو دیکھتا محسوس کر چکا تھا اس لیے عارفہ نے نظریں نہیں جھکائی اور مروتی کا مظاہرہ کرتی رسانیت سے مسکرا دی۔ شاویز بھی اخلاقی طور پر جواب میں محتاط انداز میں مسکرا دیا اور جلدی سے رخ موڑ کر اپنی نشست پر جا بیٹھا۔ وہ پہلے ہی دن کوئی غیر مقدم تاثر دے کر کلاس میٹس پر غلط امپریشن نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر میں دوسرے ہاور کی گھنٹی بجی تو سب سیدھے ہوکر ترتیب سے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ پروفیسر اندر داخل ہوئے اور لیکچر کا آغاز ہوگیا۔
ڈیڑھ گھنٹہ کلاس لے لینے کے بعد ان کی تفریح کا وقت تھا۔ سب اپنا ضروری سامان اٹھاتے ہوئے کلاس سے جانے لگے۔ شاویز کی آج پہلے دن صرف لاریب سے ہی دوستی ہو سکی تھی اور باقی سب سے برائے نام نیو ایڈمیشن کے طور پر متعارف ہوا تھا۔
“اexcuse me۔۔۔” اسے باہر جاتا دیکھ کر عارفہ نے بلند آواز میں اسے مخاطب کیا۔
جو پہلی نظر میں اس کے دل میں گھر کر گیا تھا اس سے دوستی کرنے؛ بات کی شروعات کرنے سے وہ زیادہ دیر خود کو روک نہیں پائی۔
شاویز دروازے کی جانب چلتے چلتے روک کیا اور تعجبی انداز میں پیچے کو مڑا جیسے معلوم کرنا چاہ رہا ہو آواز اسے ہی لگائی گئی تھی یا کسی اور کو۔
“تم بات کرو۔۔۔۔۔ میں نوٹس بورڈ جا کر چیک کرتا ہوں۔”
عارفہ کو اس کی طرف آتا دیکھ کر لاریب نے کباب میں ہڈی بننے سے بچنے کیلئے شاویز کا بازو تھپتھپا کر کہا اور دروازے کے پار نکل گیا۔
“ہائے۔۔۔۔۔ میں عارفہ۔۔۔۔”اس نے خوش دلی سے اپنا نام بتاتے ہوئے مصافحہ کرنے ہاتھ آگے کیا۔
سحر اپنا بیگ سمیٹ کر اس کے پاس سے گزرتے ہوئے جانے لگی تھی کہ عارفہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔
شاویز نے ایک جھوٹی نظر سحر پر ڈالی۔
“شاویز۔۔۔” اسی خوشگوار تاثرات سے اس نے عارفہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔
اس کا مظبوط ہاتھ اپنے ہاتھ میں آتے ہی عارفہ کا دل ایک بیٹ مس کر گیا۔ اپنے جذبات کو سپاٹ رکھتے ہوئے اس نے شاویز کا ہاتھ واپس چھوڑا اور بلش کرنے لگی۔
سحر بغیر کسی دلچسپی کے شاویز کو نظر انداز کئے گھڑی دیکھنے لگی۔ ابھی عارفہ کے ڈرامے کو کچھ دیر لگنی تھی؛ سوچتے ہوئے وہ بیزاری سے دورازے کے باہر سٹوڈنٹس کا رش کش دیکھنے لگ گئی۔
“یہ میری بیسٹ فرینڈ ہے۔۔۔۔ سحر۔۔۔” جب عارفہ نے سحر کو بے مروتی سے خاموش کھڑے دیکھا تو خود ہی خجالتی انداز میں اس کا بھی تعارف کروایا۔
“ہائے۔۔۔” شاویز نے مسکرا کر اس کی طرف مصافحہ کرنے ہاتھ آگے کیا۔
سحر نے ایک سپاٹ نظر اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھا پھر اس کے ہاتھ کو۔
“ہائے۔۔۔” اس نے ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا۔ اس کے انداز سے یہ صاف ظاہر تھا کہ اسے ہاتھ ملانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ شاویز نے تاثرات سپاٹ کردیئے اور ہاتھ پیچے کر کے جینز کی جیب میں ڈالا۔ اس نے اپنی پوری توجہ عارفہ کی جانب کر لی۔ سحر کو یہ ظاہر کرنے کہ اگر اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے تو اسے بھی فرق نہیں پڑا۔
“ہم کیفیٹریا جا رہے ہیں۔۔۔۔۔ do you wanna come with us۔۔۔۔۔۔ (کیا تم بھی ساتھ آنا چاہو گے)۔”عارفہ نے ان دونوں کے مابین کی سرد مہری کو محسوس کرتے ہوئے اپنے مخصوص چہکتے انداز میں پوچھا۔
“نو تھینکس۔۔۔ مجھے لاریب کے ساتھ ایڈمنسٹریشن دفتر جانا ہے۔۔۔۔۔ اپنی امیگریشن کا کچھ کام نمٹانا ہے۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ کیفیٹریا کسی اور دن چلوں گا۔” سیدھے سادے منع کر کے وہ اس پیاری لڑکی کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا اس لیے اپنے درپیش کام کا بتاتے ہوئے نرمی سے اگلی دفعہ ساتھ چلنے کا کہہ کر اس کا دل رکھ لیا۔
عارفہ نے اس کے محبت بھرے لہجے سے مسرور ہوتے ہوئے۔ اس کی مصروفیات کا خیال کرتے اثابت میں سر ہلایا۔ وہ اسی خوش اخلاقی سے سحر کو نظرانداز کرتے ہوئے صرف عارفہ سے بائے کہتا وہاں سے روانہ ہوگیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اپنے بیڈروم کی یہ دیوار اس نے اپنے ورکنگ ایریا کے طور پر مخصوص کر رکھا تھا۔ جو بلکل اس کے بیڈ کے رو بہ رو تھا تا کہ وہ سوتے جاگتے اپنے مقصد کو دیکھتا اور یاد کرتا رہے۔ دیوار کے ساتھ لمبی میز لگائی گئی تھی جس پر لیپ ٹاپ؛ کچھ فائلز؛ قلم کتابچے؛ ایک وائس ٹرانسمیٹر اور بھی بہت سارے ساز و سامان موجود تھے۔ میز سے اوپر کو ایک نوٹس بورڈ دیوار پر ٹنگا ہوا تھا۔ جس پر جگہ جگہ اخبارات کے کٹے آرٹیکل۔ میگزین کے کٹے صفحات اور اس انسان کی فیملی کے ہر فرد کی تصاویر آویزاں تھیں۔ جس سے وہ سب سے زیادہ نفرت کرتا ہے۔ اس میں نمایاں طور پر بڑے سائز میں نوٹس بورڈ کے بیچو بیج اس خاندان کے سربراہ کی تصویر تھی دلاور پرویز جان کی۔
اس نے ایک غصیلی نگاہ ان سب تصویروں پر ڈالی۔ کرسی کھینچ کر بیٹھا اور ایک ڈائری نما نوٹ بک کھولا۔ اس میں الف سے لے کر یا تک دلاور پرویز خان اور اس کی فیملی کے بارے میں وہ تمام تر معلومات لکھی تھی جو اس نے پچھلے چار سالوں سے جمع کر کے رکھیں تھیں۔ آج سے اسے اپنے منصوبے کو جامعہ عملی پہنانا تھا۔
ڈائری میں پہلے ٹارگیٹ کی معلومات پڑھ کر اور بدلے کی آگ آنکھوں میں لیئے؛ اس نے نوٹس بورڈ پر اُس نام کے انسان کی تصویر کو دیکھا اور باہر کی جانب گامزن ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ دونوں ساتھ ساتھ کیفیٹریا میں بیٹھے۔ آرڈر بننے میں 3 سے 5 منٹ لگنے تھے۔ عارفہ نے منہ بھسورتے ہوئے سحر کے ہاتھ پر تھپڑ مار کر اپنی طرف متوجہ کیا۔
“مسئلہ کیا ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔ اچھے سے مل لیتی تو کیا ہوجاتا۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں وہ میری بیسٹ فرینڈ کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا۔” اس نے متفکر انداز میں مایوسی سے کہا۔
“تم اچھے سے مل لی نا۔۔۔۔۔۔ کافی ہے۔۔۔۔۔ مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے اس کا۔” سحر نے بد مزگی میں ہاتھ اٹھا کر کہا۔ وہ آج صبح سے عارفہ کے زبان سے شاویز کے متعلق سن سن کر تنگ ہوگئی تھی۔ جب آرڈر بن کر آیا تو وہ خاموشی سے اپنے اسنیکس کھانے لگی۔ اس کا غیر جانبدار روئیے کو ذہن سے جھٹکتے عارفہ بھی کھانے پینے میں مشغول ہوگئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
یونیورسٹی کی چھٹی ہوجانے کے بعد گیٹ تک وہ دونوں ساتھ میں آئی۔ ایک دوسرے کے گال سے گال ٹکرا کر الوداع کیا۔ عارفہ اپنی کار میں جاکر سوار ہوگئی اور سحر اپنی کار میں۔ آدھے راستے تک وہ کار میں آئی۔ پھر ایک چھوٹی سی مارکیٹ کے پاس کار رکوا کر وہ صرف پرس اور موبائل ہاتھ میں پکڑے اترنے لگی۔
“گل جان۔۔۔۔۔۔ تم گھر جاو۔۔۔۔۔ مجھے مارکیٹ میں کچھ کام ہے۔۔۔۔۔ یہاں سے میں پیدل آجاو گی۔”اس نے خوش مزاجی سے اپنے ادھیڑ عمر ڈرائیور کو مخاطب کیا۔ اس نے جی میڈم کہتے ہوئے سر اثابت میں ہلایا۔ سحر کار سے اتری تو وہ کار آگے لے گیا۔
وہ چھوٹی سی مارکیٹ کراچی کے اتوار بازار نما جگہ تھی۔ کپڑے جوتے اشیائے خوردونوش سے لیکر کتاب فروشی اور عجائبات کی نمائش تک سب دکانیں موجود تھی۔ وہ ایک ایک کر کے وینڈو شاپنگ کرتی رہی۔ ایک کتاب فروشی سے اس نے مرزا غالب کی افسانہ کی کتاب لی۔ مومپلی والے ٹھیلے سے اخبار میں بُھنی ہوئی مونگ پلی لے کر چہل قدمی کرتے ہوئے کھانے لگی۔ عجائبات کی دکان میں نظر گردانی کرتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ کوئی مسلسل اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ اس نے بِنا مڑے کنکھیوں سے دیکھا بلیک شوز؛ بلیک پینٹ؛ بلیک اَپّر پہنے؛ چہرہ اپر کے ٹوپی سے ڈھکے وہ اسی کی جانب رخ کر کے کھڑا تھا۔ اس کی چھٹی حس نے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا۔ سحر نے واپس نظریں نیچے کی اور خود کو انجان رکھنے؛ تاثرات سنجیدہ بنائے وہاں سے جانے لگی۔
مارکیٹ کی گلی میں لوگوں کے رش سے نکلتے وہ بار بار پیچے دیکھتی تو وہ اَپر والا؛ چہرہ اپر کے ٹوپی سے ڈکھا لڑکا اسی طرح سر جھکائے اس کے پیچے چل رہا تھا۔
سحر کو اس سے خوف آنے لگا۔ اس نے اپنی رفتار تیز کر دی اور سب کو دھکم پیل کرتی وہ جلدی سے سڑک پر پہنچ گئی۔
ہجوم کے بیچ کھڑی ہو کر وہ ٹریفک کے رکنے کی منتظر تھی تاکہ جلد از جلد وہ سڑک پار کر کے دوسری خانب اپنی گلی میں بھاگ پڑے۔
وہ ملاتشی نظروں سے آس پاس دیکھنے لگی وہ اپر والا لڑکا اب اس کے پیچھے نہیں تھا۔ اس نے گلا تر کرتے لمبی سانس خارج کی۔ کچھ مطمئن ہوتے ہوئے وہ سامنے دیکھنے لگی کہ ساتھ کچھ فاصلے پر اپنے سایئڈ پر کھڑی گاڑی کے شیشے میں اسے سر جھکائے جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس اپر والے کا عکس نظر آیا۔ اسے اپنے اتنا قریب محسوس کرتے وہ ہڑبڑا گئی اور بغیر ٹریفک کا دھیان کئے بے ہنگم سی سڑک پر دوڑ گئی۔
اچانک سے اس کالے سایے سے وہ اس قدر خوفزدہ ہوگئی کہ یک دم بھاگنے پر اسے نہ اپنے پیچے ہارن سنائی دیئے نہ گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے کی پروا کی اور نہ خود کا ایکسیڈنٹ ہونے کی پریشانی ہوئی۔ بچتے بچاتے وہ سڑک پار کر کے دوسرے جانب پہنچی۔ بغیر مڑے وہ سہمے انداز میں اپنے گلی میں داخل ہوئی اور تیزی سے اپنے گھر کا گیٹ بجانے لگی۔ چوکیدار نے فوراً سے پہلے اٹھ کر گیٹ کھولا تو وہ اندر بھاگی۔ ڈرائنگ روم میں سے تیز تیز چلتے وہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازے سے لگ کر کھڑی ہوگئی۔
بھاگتے بھاگتے اسے سانس چڑھنے لگی۔ ہانپتے کانپتے وہ اپنی سانس نارمل کرنے لگی۔ وہ حیرت سے سارے منظر کو پھر سوچنے لگی۔
کیا کوئی سچ میں اس کا تعاقب کر رہا تھا یا یہ اس کا وہم تھا۔ اگر کوئی اس کا تعاقب کر بھی رہا تھا تو کیوں۔ کون تھا وہ۔ کیا چاہیئے تھا اسے۔ کیا وہ اسے لوٹنے کے ارادے سے اس کے پیچے آرہا تھا۔ کیا وہ کوئی چور یا لوٹیرا تھا کوئی دشمن یا خفیہ کار۔
سحر اس کی شکل یاد کرنے لگی پر وہ ناکام رہی اس اَپر پہنے لڑکے نے ٹوپی نیچے کر رکھی تھی اور سر جھکائے ہوئے تھا۔ اس کا چہرہ واضح نہیں تھا۔ سحر اس کا چہرہ دیکھ نہیں پائی تھی۔ اسی کشمکش کو سوچتی وہ بے دم چال چلتی بیڈ پر آکر بیٹھ گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس کے کمرے کے دروازے کا پہلے ناب گھما جب لاک ملا تو دستک دی گئی۔
وہ گم سم بیٹھی تھی کہ دستک کی آواز پر اپنے حواس میں واپس لوٹی۔
“کون۔۔۔” سحر نے کچھ دیر پہلے کے حادثے کے حصار سے خود کو کمپوز کرتے ہوئے کہا۔
“سحر۔۔۔۔۔۔ میں ہوں۔۔۔۔۔ دروازہ کھول” اس نے خود سے دو سال چھوٹے 21 سالہ بھائی کی صدا سنی۔
تاثرات خوشگوار رکھتے ہوئے وہ اٹھی اور دروازے کا لاک کھولا۔ اس کے کمرے کے چوکٹ پر صائم اسی کا یونیورسٹی بیگ پکڑے کھڑا تھا جو یقیناً ڈرائیور نے اسے سحر کو دینے کے لیے دیا تھا۔
وہ شرارتی انداز میں مسکرائی اور صائم کے ہاتھوں میں سے اپنا بیگ لیا۔
“تم آج یونی کیوں نہیں آئے تھے۔۔۔۔۔” سحر نے بیگ سٹڈی ٹیبل پر رکھتے ہوئے جھڑکنے کے انداز میں اسے ٹوکا۔
سحر 23 سال کی تھی اور صائم 21 سال کا۔ عموماً ہر بہن بھائی کی طرح ان دونوں میں بھی کبھی پیار کھبی تکرار چلتی رہتی ہے۔ عارفہ کے بعد اگر سحر کو کوئی بہت پیارا تھا تو وہ صائم ہی تھا۔ عمر میں دو سال چھوٹا ہونے کے باوجود بھی وہ لاغر جان لمبا سا ٹین ایج لڑکا تھا۔ چھوٹی آنکھیں لمبی گردن تھیکے نکوش کا حامل وہ بھی اپنی بہن جیسی معزز شخصیت کا مالک تھا۔ صائم کی لڑکیوں سے کچھ خاص بنتی نہیں تھی اس لیے اس کی فرینڈ لسٹ میں کوئی زنانہ کردار شامل نہ تھا جبکہ سحر اور عارفہ کے ساتھ وہ بہت مستی مذاق کرتا۔ ویسے تو عارفہ سحر کی بیسٹ فرینڈ تھی لیکن صائم سے بھی اس کی برابر جتنی دوستی تھی۔
صائم آگے آیا اور سحر کے بیڈ پر نیم دراز ہو کر بیٹھا۔ اپنی طرف سحر کی پشت پا کر وہ بے آواز ہاتھ بڑھا کر سحر کا پرس ٹٹولنے لگا۔
“آج میری کلاس نہیں تھی۔۔۔۔۔اگلے monday سے شروع ہوگی۔” صائم نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے؛ نظریں سحر کے پرس پر جمائے آرام سے اس کے سوال کا جواب دیا۔
صائم کا اسی سال سحر اور عارفہ کے یونیورسٹی میں ہی داخلہ ہوا تھا۔ وہ کمپیوٹر سائنس کے فرسٹ ائیر کا سٹوڈنٹ تھا۔
سحر جانتی تھی صائم ہمیشہ کی طرح اس کے پرس میں جھانک رہا ہے اور وہ ہر بار کی طرح انجان بننے کی اداکاری کرتی میز پر ادھر اُدھر ہاتھ مارتی خود کو کام میں مگن دکھا رہی تھی۔
جب شروع شروع میں اسے صائم کی اس شرارت کا پتا چلا وہ بہت چڑ گئی تھی۔ پاپا سے شکایت بھی کر دی تھی۔ حلانکہ صائم کو بھی برابر کی پوکٹ منی ملتی پھر بھی پتا نہیں کیوں اسے سحر کے پرس سے چوری چپے پیسے نکالنے میں مزا آتا۔ صائم سمجھدار اور ذہین لرکا تھا۔ یہ شرارت وہ صرف اپنی بہن کے ساتھ ہی کرتا۔ جیسے جیسے دونوں بڑے ہوتے گئے۔ سحر نے صائم کی اس حرکت پر چڑنا چھوڑ دیا۔ اب وہ خود جان بوجھ کر دیکھ کر اَن دیکھا کر دیتی۔ اسے اپنے چھوٹے بھائی کی اس نا چیز سی شرارت پر غصہ نہیں آتا بلکہ پیار محسوس ہوتا۔ حالانکہ تھی تو یہ ایک بد تہذیب حرکت پھر بھی۔ صائم کو بھی اندازہ تھا کہ سحر کو اس کی شرارت کا علم ہے پھر بھی وہ خاموشی سے اسے اپنے پیسے لینے دیتی ہے۔ بہن کا یہ والہانہ پیار دیکھ کر اسے بہت خوشی ہوتی۔
اس وقت سحر کے پرس میں 500 چھوڑ کر باقی پیسے نکال کر اپنے جیب میں اڑسھتا وہ ممی بلا رہی ہے کا بہانہ کر کے اس کے کمرے سے نکل گیا۔ سحر اس کے باہر جاتے ہی پلٹی اور دبی دبی سی ہنستی ہوئی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔ صائم کی آمد نے اس کا موڈ اچھا کر دیا تھا۔ وہ مارکیٹ میں ہوئے اس حادثے کو بھول بھال گئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جارہی ہے
