Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Bikhare Rishte (Episode 19)

Bikhare Rishte By Palwasha Safi

وعدے کا سن کر دلاور صاحب پریشان ہوگئے۔ بہت سال پہلے وہ بھی ایک وعدے کے پابند تھے لیکن پھر ان کے والد نے ان سے زبردستی اپنا فیصلہ منوایا تھا۔ اب وہ خود شاویز کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کنکھیوں سے فاصلے پر کھڑی عارفہ کو دیکھا جسے کچھ دیر پہلے انہوں نے شاویز سے جوڑ دیا تھا۔

“کسی لڑکی کا معاملہ ہے کیا۔۔۔۔ ” دلاور صاحب نے گلا صاف کرتے ہوئے سنجیدہ انداز میں کہا۔

لاؤنج میں اتنی خاموشی تھی کہ ان کے ہلکی آواز گفتگو بھی سب سن رہے تھے۔

شاویز نے پاپا کے خدشات کو محسوس کر لیا تھا۔ وہ پھیکا مسکرایا اور سر کو نفی میں ہلایا۔

“کوئی لڑکی کا معاملہ نہیں ہے پاپا۔۔۔۔ آپ بے فکر رہیں۔۔۔۔۔ جن سے ملنے جا رہا ہوں۔۔۔۔ وہ میرے سرپرست ہے ۔۔۔۔۔۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں۔۔۔۔ ان کے بل بوتے پر ہوں۔۔۔۔۔ میرے لیے میرے فرزندی باپ ہے۔۔۔۔ کرنل صادق صاحب۔۔۔۔” شاویز نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا۔ کرنل کا لفظ سن کر دلاور صاحب کے آبرو تعجب سے اٹھ گئے۔

“تم آرمی میں تھے۔۔۔۔” انہوں نے بے یقینی سے پوچھا

شاویز شرارتی انداز میں مسکرایا اور پاپا کے کان پر جھکا۔

“آرمی میں تھا نہیں۔۔۔۔۔ آرمی میں ہوں۔۔۔۔۔ iam a secret agent۔۔۔۔۔ ISI کے لیے معمور وظیفہ ہوں۔۔۔۔۔ ” اس نے پاپا کے کان میں سرگوشی کی اور سیدھا ہوتے ہوئے ہلکی سی آنکھ مار دی۔

دلاور صاحب جوش میں آگئے۔ اس سے پہلے وہ شور مچا کر سب کو خبر کرتے شاویز نے منہ پر انگلی رکھ کر ششش کر کے آنکھیں بڑی کی تو پاپا لب مینچھ گئے اور دبی دبی خوشی میں شاویز کو گلے لگایا۔

“میرے پاس الفاظ نہیں ہیں اپنے جذبات بیان کرنے۔۔۔ اللہ تمہیں ہمیشہ اپنے حفظ و آمان میں رکھے۔۔۔۔۔” انہوں نے الگ ہوتے ہوئے کہا۔

“میں سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔ اچھا پاپا۔۔۔۔۔ میں چلتا ہوں۔۔۔۔ دیر ہوجائے گی۔۔۔۔” شاویز نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔

“ہاں چلو۔۔۔۔۔ میں تمہیں ائیر پورٹ تک چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔” دلاور صاحب اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آگے چلنے لگے لیکن شاویز وہی رکا رہا۔ اس کے تاثرات سپاٹ ہوگئے۔

“اسی لیے میں آپ سب کو اپنے جانے کا نہیں بتا رہا تھا۔۔۔۔۔ مجھے آپ کا یہ تکلف کرنا اچھا نہیں لگتا پاپا۔۔۔۔۔ ڈرائیور چھوڑ آئے گا نا۔۔۔۔” شاویز برا مان گیا۔

“اچھا چلو۔۔۔۔ آو سب سے مل کر جاو۔۔۔۔” دلاور صاحب نے اس کا موڈ بگڑتے دیکھا تو تیزی سے دفاعی انداز میں اسے سب کے جانب متوجہ کیا۔

وہ آگے آیا اور عارفہ کے والدین سے ملا ان سے رخصت لی۔ ان کے پیچے کھڑی عارفہ پر ایک سرد نظر ڈال کر وہ مما کے جانب بڑھا۔ مما نے اسے ساتھ لگا کر پیار کیا اور اپنا خیال رکھنے کی ہدایت دی۔ صائم بھی اس سے گلے ملا اور میں تمہیں بہت مس کروں گا؛ کہہ کر اپنے جذبات ظاہر کئے۔ جب کہ سحر کسی بھی جذبات سے عاری دور سے خدا حافظ کہہ گئی۔

شاویز واپس مڑا اور پاپا سے دوبارہ گلے مل کر اپنے بیگز ملازم کو تھمائے۔ ملازم سے بات کرتے ہوئے اس نے خود کو دیکھتی عارفہ کو آنکھوں کے اشارے سے باہر آنے کا کہا۔ اور لاونج سے باہر نکل گیا۔

اس کے بلانے پر عارفہ چھنپ سی گئی پھر سب کو گفتگو میں مشغول ہوتے دیکھا تو خود معذرت کرتی باہر چلی گئی۔

شاویز لان کے کونے میں پلر کے ساتھ کھڑا تھا۔ عارفہ متذبذب سی اس کے پاس آئی۔ شاویز سرد مہری سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔ عارفہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔

“بہت شوق تھا نا۔۔۔۔۔ مجھ سے رشتہ جوڑنےکا۔۔۔۔۔ ہوگیا شوق پورا۔۔۔” شاویز نے سرد انداز میں کہا۔

عارفہ کا دل ڈگمگا گیا۔

“مجھے بلکل اندازہ نہیں تھا کہ سحر۔۔۔۔۔ ایسا کچھ کرے گی۔۔۔” عارفہ نے اپنی وضاحت پیش کی۔

“ااووو اچھا۔۔۔۔۔” شاویز نے جعلی خفگی سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔

“سیریسلی۔۔۔۔۔ مجھے اس بات کا قطعی علم نہیں تھا۔۔۔۔۔ یہ ساری پلاننگ سحر نے اکیلے کی تھی۔۔۔۔” عارفہ کی آواز بھر آنے لگی۔ شاویز کے سخت تاثرات نرمی میں بدل گئے۔

” ہمممم۔۔۔۔۔ چلو مان لیا۔۔۔۔ اب رشتہ ہوگیا ہے تو۔۔۔۔۔۔ میرے نام کی قید مبارک ہو۔۔۔۔” شاویز نے سرد سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ عارفہ نے کوئی جواب نہیں دیا وہ اداس کھڑی رہی۔ شاویز اس کے پہلو سے گزر کر جانے لگا۔ دو قدم آگے بڑھ کر شاویز مسکرایا لیکن پھر واپس تاثرات سپاٹ بنا کر الٹے قدم پیچے آیا اور عارفہ کے آگے ہلکا سا جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“کچھ اور کہنا ہے۔۔۔۔” اس نے معصوم چہرہ بنا کر کہا۔

“اففف یہ ہر بار میری دل کی بات کیسے سمجھ لیتا ہے۔۔۔” عارفہ نے بے چارگی سے دل میں سوچا۔

“تم واپس آو گے نا۔۔۔۔” اس نے متفکر انداز میں پوچھا۔

شاویز اب کی بار پورا مسکرایا۔ وہ سیدھا ہوا اور نرمی سے عارفہ کے رخسار پر ہاتھ رکھا۔

“انشاءاللہ ضرور آو گا۔۔۔۔۔ ” اس نے پیار سے کہا۔ عارفہ کو اس کی نظروں میں پیار، فکر، اپنائیت، کے ملے جلے تاثرات نظر آرہے تھے۔ اس نے ہلکے سے عارفہ کا گال تھپتھپایا اور جانے کے لیے روانہ ہوگیا۔

عارفہ نے پیچے مڑتے ہوئے اپنے گال پر شاویز کے ہاتھ کے جگہ پر ہاتھ رکھ کر اس کا لمس محسوس کیا۔ اس کے دل کی ساری کلفت مٹ گئی۔ اسے وہ یونیورسٹی والا شاویز لگا۔ اپنے آپ ہی عارفہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس کے دل میں شاویز کےلیے محبت پھر سے جوش مارنے لگی۔ جاتے جاتے بھی شاویز نے گیٹ سے نکلتے ہوئے ہاتھ ہوا میں لہرا کر بائے کہا اور باہر نکل گیا۔

عارفہ خوشی سے سر شار ہوتی اندر کو لپکی۔

لاؤنج میں امی اور ابو جی جانے کے لئے رخصت لیں رہے تھے۔ عارفہ سحر کے پاس آئی اور گلے مل کر ہلکی سرگوشی کی۔

“تمہارا طریقہ غلط ہی سہی۔۔۔۔۔ پر تم نے مجھے بہت بڑی خوشی دی ہے۔۔۔۔۔ تھینکیو۔۔۔۔” مشکور ہوتے ہوئے کہہ کر عارفہ اس سے الگ ہوئی پھر دلاور صاحب اور عابدہ بیگم سے مل کر اپنے والدین کے ہمراہ گھر چلی گئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شاویز ٹرین سے اگلی رات کو کوئٹہ پہنچا۔ اپنے آرمی کا کارڈ دکھاتے ہوئے وہ کینٹ ایریا میں داخل ہوا۔ چیک پوسٹ پر تعینات آفسر پہلے کارڈ کو دیکھتے پھر شاویز کے بے باک اور الجھے حال کو۔ لیکن ہر سیکرٹ ایجنٹ ہولیہ بدلتا رہتا ہے اس لیے وہ چیک پوسٹ والے بائومیٹرک تصدیق کر کے اندر جانے دیتے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

صادق صاحب اپنی کیپ ہاتھ میں تھامے اکیڈمی سے باہر نکل کر رہے تھے کہ ان کے ساتھ تیزی سے شاویز اپنے خفیہ انداز میں گزرا اور ان کے ہاتھ سے کیپ اچک کر چند قدم دور جا کر رک گیا۔ صادق صاحب تنے ہوئے اعصاب سے اسے دیکھ رہے تھے۔

“کون ہو تم۔۔۔۔” صادق سر نے ڈٹے آواز میں پکارا۔

شاویز نے سر دائیں سے بائیں ہلایا اور الٹے قدم پیچے آتا گیا۔

“کیا کرنل صادق صاحب۔۔۔۔ نظر کمزور ہوگئی ہے آپ کی۔۔۔۔۔ بوڑھے ہورہے ہے۔۔۔۔۔۔” شاویز نے ہنہ کرتے ہوئے کہا اور ایڑیوں کے بل پلٹ گیا۔

صادق سر کی آنکھیں چمک اٹھی اور آگے آکر شاویز کو گلے سے لگایا۔

“شاویز۔۔۔۔۔۔ کیسا ہے۔۔۔۔۔ کتنے عرصہ بعد آئے ہو۔۔۔۔۔ اور اتنے کمزور کیوں ہوگئے ہو۔۔۔۔۔ کیا ایجنسی والے خیال نہیں رکھتے۔۔۔۔۔ وقت پر تنخواہ نہیں ملتی۔۔۔۔” صادق صاحب نے اسے بازووں سے تھام رکھا تھا اور سر تا پیر اس کا جائزہ لے رہیں تھے۔

“یہ ایجنسی کی وجہ سے نہیں۔۔۔۔۔ گولی لگنے کی وجہ سے کمزور ہوا ہوں۔۔۔۔” شاویز نے دو انگلیاں سیدھی کر کے اور انگوٹھے کو موڑے گن کی شکل میں اپنے دائیں کندھے پر ہاتھ اور انگلیوں سے دستک دی۔

صادق سر کا سانس رک گیا تنے تاثرات ڈھیلے پڑ گئے۔ شاک کے عالم میں وہ پلکیں بھی نہ جھپکا سکے۔

“واٹ۔۔۔۔۔۔۔ تم شوٹ ہوگئے تھے۔۔۔۔۔ اور مجھے بتایا تک نہیں۔۔۔۔” صادق صاحب غصے سے اس پر جھڑپ پڑے۔ شاویز چھنپ سا گیا۔

“کب۔۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔۔ کس نے شوٹ کیا۔۔۔۔”انہوں نے غراتے ہوئے مزید اضافہ کیا۔

شاویز نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیئے۔

“ریلکس۔۔۔۔۔ آرام سے صادی بھائی۔۔۔۔۔ میرا دل بہت کمزور ہوگیا ہے۔۔۔۔ گولی سے تو نہیں مرا۔۔۔۔ آپ کے غضب سے ضرور مر جاوں گا۔۔۔۔۔” شاویز نے معصومیت سے آنکھیں جھپکاتے سینے پر ہاتھ رکھ کر خوفزدہ ہونے کی اداکاری کی۔

صادق صاحب نے مارنے ہاتھ ہوا میں اٹھایا۔

“منہ توڑ دوں گا دوبارہ ایسی بات کی تو۔۔۔۔” انہوں نے دبے دبے غصے میں کہا اور اسے پھر سے گلے لگایا۔

شاویز نرمی سے مسکرایا اور 48 سالہ صادق سر کو مضبوطی سے تھام لیا۔

“لیکن ہوا کیا تھا۔۔۔۔۔” صادق سر کی آواز میں افسردگی در آئی تھی۔

“کیا ساری باتیں یہی کریں گے۔۔۔۔ گھر نہیں لیں جائے گے۔۔۔۔” شاویز نے سپاٹ تاثرات سے منہ بھسورا تو صادق سر کے تاثرات نارمل ہوگئے اور اس کے کندھے کے گرد بازو مائل کرتے ہوئے اسے ساتھ لیئے اپنے کار میں جا بیٹھے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

رات کافی دیر تک وہ سب فیملی شاویز کے گرد بیٹھی رہی۔ پھر چاہے وہ مسزز نورین تھی۔ 20 سالہ کامران تھا یا 18 اور 15 سالہ کلثوم اور مریم۔ صادق صاحب کے بچوں سے بھی شاویز کا ہمیشہ سے بہن بھائیوں جیسا تعلق رہا تھا۔ وہ تینوں بہت غور سے شاویز کا مشورہ سنتے اس پر عمل کرتے۔

رات کے قریب دو بجے جب باقی سب اپنے بیڈرومز میں چلے گئے تب صادق صاحب اور شاویز پورچ کی سیڑھیوں پر پودوں کے سامنے اپنے مخصوص جگہ پر بیٹھے تھے۔ ان دنوں بلوچستان میں شدید سردی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

“اووففففف۔۔۔۔۔ یہ کوئٹہ کی ٹھنڈ۔۔۔۔۔” شاویز نے ہاتھ میں ہوا پھونک کر آپس میں مسلے۔

صادق صاحب خوش دلی سے شاویز کو دیکھ رہے تھے۔

“کیا بات ہے۔۔۔۔ خوش لگ رہے ہو۔۔۔” صادق صاحب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

شاویز آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لیئے۔ شام کے بہ نسبت نفیس حالت میں ان کی جانب مڑا۔

“مجھے میرے پاپا مل گئے ہے۔۔۔۔ ان کی فیملی نے مجھے اپنا بھی لیا ہے۔۔۔۔ ان کی وائف بہت اچھی خاتون ہے۔۔۔۔۔ بلکل میرے ماں جیسی۔۔۔۔۔” خوش مزاجی سے شاویز نے شروع سے آخر تک صادق صاحب کو پاپا کے سچائی معلوم ہونے سے لے کر اپنے شوٹ ہونے تک سارا قصہ سنایا۔ وہ خوشی سے کھل اٹھے۔

“بہت بہت خوشی ہوئی۔۔۔۔۔ اللہ اپنے نیک بندوں کے ساتھ کبھی ناجائز نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔ آخر تمہیں اپنے پاپا مل گئے۔۔۔ ” انہوں نے اس کا کندھا تھپتھپایا۔

“اب تو تمہارا دل تسلی ہوگیا ہوگا۔۔۔۔” ان کے پوچھنے پر شاویز نے جوش سے سر اثابت میں ہلایا۔

“تو کب ملوا رہے ہو اپنی فیملی سے۔۔۔۔ ” صادق سر نے مستحکم بھرے انداز میں کہا۔

“بہت جلد۔۔۔” شاویز نے جوشیلے انداز میں جواب دیا۔

“ویسے۔۔۔۔۔۔ میری ایک female سٹوڈنٹ ہے۔۔۔۔ بہت اچھی ہے۔۔۔۔۔ مجھے تمہارے لیے بہت پسند آئی ہے۔۔۔۔۔۔ تم کہو تو تمہیں اس سے متعارف کرواتا ہوں۔۔۔۔۔”صادق صاحب نے شرارتی انداز میں آبرو اچکا کر مسکراتے ہوئے اسے آنکھ مار کر اشارہ کیا۔

“ہاہاہا۔۔۔۔ صادی بھائی۔۔۔۔ میری بات پکی ہوگئی ہے۔۔۔۔۔ ” شاویز نے محظوظ ہوتے ہوئے سر جھٹکا۔ پھر اپنے موبائل میں کل کی لی گئی عارفہ کے ساتھ کی تصاویر دکھائی۔

صادق صاحب پہلے تو خوش ہوئے اسے مبارکباد پیش کی پھر ان کے آبرو تن گئے۔

“اکیلے اکیلے شوٹ ہوگئے۔۔۔۔۔ اکیلے ہی فیملی بھی بنا لی ہے۔۔۔۔ اکیلے بات بھی پکی کروا لی ہے۔۔۔۔۔۔ تو اب میرے پاس کیوں آئے ہو۔۔۔۔ ” صادق صاحب برا مان گئے تھے۔

شاویز ہنستا ہوا ان کے قریب ہوا اور ان کے گرد بازو مائل کئے۔

“آپ کے ساتھ اپنی خوشیاں بانٹنے۔۔۔۔۔ آپ کے بغیر میری ہر خوشی ادھوری ہے۔۔۔۔” شاویز جھلاتے ہوئے انہیں منانے لگا۔ صادق صاحب مسکرا دیئے۔

“اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔۔” صادق صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دعا دی۔

شاویز نے دعا تسلیم کرتے ہوئے اپنے جیب سے فلیٹ کی چابی نکالی۔

“آپ کی امانت بھائی۔۔۔۔۔” اس نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے چابی ان کو پیش کی۔

صادق صاحب سپاٹ انداز میں اسے دیکھنے لگے۔

” اسے تم اپنی بات پکی کا تحفہ سمجھ کر رکھ لو۔۔۔۔ اب سے وہ فلیٹ تمہارا۔۔۔۔” صادق صاحب اس کے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا۔

شاویز کے تاثرات بدل گئے لیکن اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی صادق سر نے اسے خاموش کروا دیا۔

“اNo more discussion۔۔۔۔۔ مزید انکار نہیں کرو گے تم۔۔۔” انہوں نے ڈٹے آواز میں اپنا فیصلہ سنایا تو شاویز نرمی سے مسکرایا اور ان کی مہربانی سے مشکور ہوتا ہوا چابی واپس جیب میں ڈال دی۔

“ویسے۔۔۔۔۔ شکایت تو مجھے آپ سے بھی ہے۔۔۔۔۔ اکیلے اکیلے پروموشن ہوگئی۔۔۔۔۔ اکیلے ہی کرنل سے بریگیڈئیر کے عہدے پر آگئے۔۔۔۔ اکیلے پارٹی بھی دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔ اور مجھے اطلاع تک نہیں دی۔۔۔” شاویز نے صادق سر کے ہی انداز میں پوچھا۔

“وہ تو اچھا ہوا۔۔۔۔۔ مجھے پچھلے ہفتے ریحان سر مل گئے تھے اپنی فیملی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ تو ان کے زبانی پتا لگا۔۔۔۔” اس نے ہنہ کرتے ہوئے مزید اضافہ کیا۔

صادق صاحب ہلکا ہنسے۔

“تو اب میری جاسوسی بھی کرنے لگ گئے ہو۔۔۔” انہوں نے جتاتے ہوئے کہا۔

“اور نہیں تو کیا۔۔۔۔۔ ایسی نہیں ایجنٹ بن گیا۔۔۔۔۔۔ میرے ہنر کو معمولی مت سمجھیئے گا۔۔۔۔” شاویز نے گردن اکھڑا کر کہا اور پھر دونوں ہنس دیئے۔

“تو آگے کا کیا سوچا ہے۔۔۔۔۔”صادق صاحب کا پوائنٹ اس کے جاب کے جانب تھا۔

“میں اپنے اسی ایجنٹ کی نوکری سے مطمئن ہوں۔۔۔۔۔ فوج کے نوجوان تو رو بہ رو آنے والے دشمنوں کو ختم کرتے ہیں۔۔۔۔۔ پر میں تو ملک میں ہی چپے غداروں کو پکڑواتا ہوں۔۔۔۔ آپ کا اور میرا مقصد تو وطن کی حفاظت کرنا ہی ہے نا۔۔۔۔۔۔ وہ تو اس جاب سے بھی میں اچھی طرح سر انجام دے رہا ہوں۔۔۔۔۔ فلحال اسی پیشے سے منسلک رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔” شاویز نے صادق سر کو مطمئن کرتے ہوئے کہا۔

صادق صاحب نے شاویز کی پسند کا احترام کرتے ہوئے مزید بحث نہیں کی۔ رات گہری ہونے لگی تو وہ دونوں شب بخیر کہتے سونے کے لیے چلے گئے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

ایک ہفتے تک شاویز وہی رہا۔ صادق صاحب کے پروموشن پارٹی میں بہت سے پرانے چہرے نظر آئے۔ اس کے کئی کولیگ نے اس پارٹی میں شرکت کی تھی۔ کبیر اب کافی سدھر گیا تھا۔ اس کی آرمی میں سلیکشن بھی ہوگئی تھی اور وہ میجر کے عہدے پر فائز ہوگیا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

واپسی پر شاویز کراچی پہنچ کر سب سے پہلے بلال حمید کے گھر گیا۔

ملازم نے اسے درائنگ روم میں بیٹھایا۔ شاویز تیز نظروں سے آس پاس دیکھنے لگا تھا جب بلال صاحب اندر آتے دیکھائی دیئے۔

ان کے درائنگ روم میں داخل ہوتے ہی شاویز معنی خیز انداز میں مسکراتا ہوا کھڑا ہوگیا۔

“یقیناً پہچان تو لیا ہوگا مجھے۔۔۔۔” پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ قدم قدم چلتا ان کے سامنے آیا۔

بلال صاحب نے پہلے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا پھر پہچانتے ہوئے مزاج خوشگوار بنائے۔

“ہاں۔۔۔۔۔ وہ زرتاج کے بیٹے ہو نا تم۔۔۔۔۔ کیا نام تھا۔۔۔۔۔۔ شاہ۔۔۔شاویز۔۔۔۔ ” بلال صاحب نے اس کا نام یاد کرتے ہوئے اپنی پیشانی مسلی۔

“واہ آپ کی یاداشت تو کمال کی ہے۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔ میرا نام بتانے میں تھوڑی غلطی کر دی۔۔۔۔۔” شاویز بلکل ان کے سر پر آن پہنچا تھا۔

“میرا پورا نام ہے۔۔۔۔۔۔ مسٹر۔۔۔۔ شاویز دلاور خان۔۔۔۔” اپنے نام کی تصحیح کراتے ہوئے شاویز کی آواز ڈٹ گئی تھی۔ آنکھوں میں سختی در آئی تھی۔

بلال حمید اس کی کھا جانے والی نظر دیکھ کر گھبرا گئے۔

“تم جانتے تھے نا۔۔۔۔۔۔ تم اچھے سے جانتے تھے دلاور پرویز خان میرے والد ہے۔۔۔۔ پھر بھی چار سال پہلے جب میں تم سے پوچھنے آیا تھا۔۔۔۔ تم نے مجھے سچائی نہیں بتائی۔۔۔۔۔ تم نے مجھے گمراہ ہی رہنے دیا۔۔۔۔۔ بلکہ تم نے مجھے مزید بھڑکا دیا۔۔۔۔۔۔ تم نے مجھے میرے ہی باپ کا دشمن بنا دیا۔۔۔۔۔” شاویز کا طیش زور پکڑنے لگا۔ بلال صاحب گڑبڑا گئے۔

“میری۔۔۔۔۔ میری بات۔۔۔۔ سسسسس۔۔سنو۔۔۔۔۔۔ i can explain۔۔۔۔۔” بلال صاحب نے متذبذب ہو کر وضاحت دینا چاہی۔

“اexplian what۔۔۔۔۔ ہاااااا۔۔۔” شاویز بھیڑے کے مانند اس پر جھڑپ پڑا اور بلال حمید کے کوٹ کا کالر دبوچ لیا۔ وہ سہم سے گئے۔

“کیا explain کرو گے تم۔۔۔۔۔ کیسے میرے باپ کو غلط مخبری کی۔۔۔۔۔ کیسے میری ماں کو molest ( ایذا رسانی) کرنا چاہا۔۔۔۔۔۔ کیسے ان دونوں کو غلط فہمی میں مبتلا کر دیا تھا۔۔۔۔ ہااااا بولو۔۔۔۔۔ کیسے انہیں الگ کر دیا۔۔۔۔۔۔ کیا کیا explain کرو گے تم۔۔۔۔۔” اس نے حلق کے بل چلا کر کہا۔

اس کے غرانے سے بلال صاحب کے ملازم اور چوکیدار وہاں بھاگ کر آئے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر شاویز کو بلال صاحب سے دور کرنا چاہا پر شاویز اپنے پورے تاب سے بلال حمید پر برس رہا تھا۔

اس نے بازو پورے زور سے پرے جھڑکے تو چوکیدار اور ملازم لڑکھڑا کر زمین پر گر پڑے۔

“یہ میرے پاپا سے دوستی میں فریب کرنے کے لیے۔۔۔۔” شاویز نے مٹھی بند کر کے ایک زور دار ضرب بلال حمید کو رسید کیا۔ وہ لھڑکرا گیا۔

“یہ میری ماں کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کرنے کے لیے۔۔۔۔۔” دوسرا ضرب لگا تو بلال فرش پر گر پڑے۔ چوکیدار اور ملازم نے کراہتے ہوئے شاویز کو پکڑا لیکن شاویز کسی کی قابو میں نہیں آرہا تھا۔ اس نے لاتے گھوسے مار کر انہیں پھر سے پیچے کیا۔ اتنے میں بلال صاحب خود کو سنبھالتے ہوئے ڈرائنگ روم سے باہر نکلے اور گرتے پڑتے لاؤنج میں آگئے۔ شاویز ان کے پیچے وہاں آیا۔ انہیں کندھے سے پکڑ کر ان کا رخ اپنے جانب کیا اور ان کے منہ پر ایک اور ضرب دے مارا۔ بلال حمید کے ناک سے خون رسنے لگا تھا۔

“اور یہ میرے جذبات سے کھیلنے کے لیے۔۔۔۔۔ میرے ہاتھوں میرے پاپا کو تکلیف پہنچانے کے لیے۔۔۔۔۔” بلال صاحب کی ناک سے خون رسنے لگا وہ فرش پر گر پڑے تھے۔ لاؤنج میں برپا شور سے بلال صاحب کے بوڑھے والدین اور بیوی بچے ہڑبڑا کر کمروں سے باہر آگئے۔ بلال صاحب کے والدین اور فیملی کو دیکھ کر شاویز انہیں مارنا رک گیا۔

“آیندہ میرے پاپا یا ان کی فیملی کو کسی بھی ذریعے سے نقصان پہنچانے کا سوچا بھی۔۔۔۔۔۔ تو کلمہ پڑھ کر رکھنا۔۔۔۔ کیونکہ اگلی دفعہ میں ملا۔۔۔۔۔۔ تو موقع نہیں ملے گا۔۔۔۔۔۔ وہ حال کر دوں گا کہ تمہاری روح بھی کانپ جائے گی۔۔۔۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔۔۔ زرتاج اور دلاور کے شاہ سوار کا وعدہ۔۔۔۔۔” شاویز نے موت کے فرشتہ کی طرح انگلی اٹھا کر تنبیہہ کرتے ہوئے دھمکایا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا روانہ ہوگیا۔ بلال صاحب بچوں کی مدد سے اٹھ بیٹھے اور ہانپتے ہوئے اس سپہ سالار بہادر نوجوان کو جاتے دیکھنے لگے۔ ان کا بیٹا طیش میں آکر شاویز کی جانب جانے لگا لیکن بلال صاحب نے روک لیا۔

“جانے دو۔۔۔۔۔۔ اس کے سر پر خون سوار ہے۔۔۔۔۔ جانے دو اسے۔۔۔۔” انہوں نے کراہتے ہوئے کہا اور بیٹے کے سہارے سے کمرے میں جانے لگے۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

شادی کے دن قریب آتے ہی دلاور صاحب کے گھر تیاریاں بھی عروج پر تھی۔ سحر نے بڑھ چڑھ کر شادی کے انتظامات میں حصہ لیا۔ وہ روز عارفہ کے ساتھ شاپنگ پر جاتی۔ کارڈ کے ڈیزائن سے لے کر شادی ہال کی سجاوٹ تک سب اس نے خود پسند کیا تھا۔

ایک دن سب لاؤنج میں بیٹھے شاپنگ کر تبصرہ کر رہے تھے جب شاویز کچھ کاغذات لے کر اندر داخل ہوا اور پاپا کے ساتھ صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔ تب ہی چوکیدار اور ملازم کوئی بڑا سا پیکنگ اندر کر رہے تھے۔ عابدہ بیگم سحر اور صائم تینوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا۔

شاویز نے صائم کے آگے وہ دستاویزات کئے۔

“یہ کیا ہے۔۔۔۔ “صائم نے تعجب سے باہر دیکھا۔ پاپا بھی اسی جانب متوجہ تھے۔ مما اور سحر شاپنگ سمیٹنے میں لگ گئی تھی۔

“پہلے یہ پیپر سائن کرو۔۔۔۔۔ پھر جا کر خود دیکھ لینا۔۔۔۔” شاویز نے صائم کو مخاطب کیا تو وہ تیزی سے سائن کر کے اٹھا اور پورچ میں بھاگا۔

اس کے پیچے دلاور صاحب بھی اٹھ کر لاؤنج کے دورازے تک آئے۔

صائم نے پلاسٹک کی پیکنگ کھولی تو اس کی آنکھیں چندیا گئی۔ وہ نت نئی سپورٹس بائک تھی۔ جدید ماڈل کی بائک دیکھ کر صائم چہک اٹھا۔ خوشی سے ہر زاویے سے بائک کا جائزہ لینے لگا۔

“شاویز۔۔۔۔۔ ” دلاور صاحب نے شاویز کو اپنے ساتھ کھڑے ہوتے پا کر اسے مخاطب کیا۔

“یس پاپا۔۔۔۔” پاپا اور شاویز دونوں ہی صائم کو دیکھ رہے تھے۔

“کونسا بینک لوٹا ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ تمہاری جتنی بھی انکم ہو۔۔۔۔۔ یا جتنی بھی بچت کر رکھی ہو۔۔۔۔۔ اتنی تو بلکل نہیں ہوسکتی کہ تم یہ بائک افورڈ کرسکو۔۔۔۔۔” دلاور صاحب نے اپنی نظریں شاویز پر جما لی تاکہ وہ کوئی کہانی نہ سنا سکے۔

شاویز پاپا کو خود کو گھورتا پا کر متذبذب ہو کر ان کی جانب مڑا۔

“مطلب آپ سچ سننا چاہتے ہیں۔۔۔” شاویز نے تصدیق چاہی تو پاپا نے اسی انداز میں سر اثابت میں ہلایا۔

“میں نے صادق سر کا گفٹ کردہ فلیٹ بھیج دیا۔” شاویز نے معصومیت سے بال کھجاتے ہوئے کہا۔

شاویز کی بات سن کر دلاور صاحب کے تاثرات سپاٹ ہوگئے۔

“شاویز۔۔۔۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ صادق صاحب کیا سوچے گے۔۔۔۔ تم نے ان کا تحفہ بھیج دیا۔۔۔” انہوں نے متفکر انداز میں کہا۔

شاویز ہنستے خوش ہوتے صائم کو دیکھ رہا تھا جو اب بائک پر بیٹھ کر تصوراتی طور پر چلانے کی پریکٹس میں لگا تھا۔

“میں جانتا ہوں انہیں۔۔۔۔۔ مجھ سے زیادہ انہیں رشتوں کی اہمیت کا پتا ہے۔۔۔۔۔وہ میرے فیلنگز سمجھ جائے گے۔۔۔۔” شاویز نے پاپا کو تسلی دی۔

اسی اثناء میں صائم تیزی سے آکر شاویز کے گلے لگ گیا۔

“تھینکیو۔۔۔۔۔ تھینکیو سو مچ شاویز بھائی۔۔۔۔۔۔” اس نے چہکتے ہوئے کہا۔ پھر پاپا کو دیکھا جو بے تاثر تھے۔ صائم کو اپنی ندامت کا احساس ہوا تو تاثرات سنجیدہ بنائے۔

“شاویز بھائی۔۔۔۔۔۔ میں اتنا مہنگا گفٹ نہیں لے سکتا۔۔۔۔۔ آپ سے۔۔۔۔۔” صائم پھیکی مسکراہٹ بنائے وضاحت دینے لگا تھا پر شاویز نے روک لیا۔

“صائم۔۔۔۔۔ اسے میری طرف سے تمہارا ایکسیڈنٹ کروانے کا۔۔۔۔ تمہاری بائک توڑنے کا مدافع سمجھ کر رکھ لو۔۔۔۔۔ پاپا کو میں سنبھالتا ہوں۔۔۔۔۔ تم جا کر نیو بائک پر گھوم کر آو۔۔۔۔” شاویز نے خوشگوار مزاجی سے چابی اسے تھمائی اور پلکیں جھپکا کر حوصلہ افزائی کی۔ وہ پھر سے مسکراتا ہوا اس کی ہاتھ سے چابی لے کر بائک پر جا بیٹھا۔

“شاویز۔۔۔۔۔ فلیٹ کس کو sale کیا ہے۔۔۔۔” دلاور صاحب نے مضبوط اعصابی سے پوچھا۔

“امممم ہممم۔۔۔۔ پاپا۔۔۔۔ ریلکس۔۔۔۔۔ جانے دیں” شاویز نے لا پرواہی سے سر جھٹکا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔

دلاور صاحب وہی کھڑے پر سوچ انداز میں اسے جاتے دیکھتے رہے پھر موبائل نکال کر ایک کال ملائی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

خوشی کا وہ سماء آن پہنچا تھا۔ بڑے بڑے نامور شخصیات شاویز کی شادی میں مدعو کیے گئے تھے۔ شہر کے سب سے اعلی شان ہال میں اس کی شادی کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔

شاویز کی شادی میں شریک ہونے صادق صاحب اور ان کی فیملی بھی خاص طور پر آئی ہوئی تھی۔ ان کے علاوہ ریحان سر اور اس کے بہت سے اکیڈمی کے کولیگ نے اپنی شرکت سے محفل کی زینت بڑھائی۔

پس منظر میں دل نشین میوزک کے موجودگی نے شام کو اور بھی حسین بنا دیا تھا۔ اور اس میں چار چاند تب لگا جب عارفہ دلہن بنی اسٹیج کی جانب آنے لگی جہاں شاویز بلیک کلر کی شیروانی زیب تن کئے مسکراتے ہوئے اسے آتے دیکھ رہا تھا۔

سحر عارفہ کی سہیلی کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ اس کے لہنگے کا دامن صحیح کرتے ہوئے چل رہی تھی۔ جامنی رنگ کا فراک پہنے ہوئے لمبے بال کھلے چھوڑے ہلکا میک اپ کئے نفیس سی ڈائمنڈ جیولری پہنے سحر اتنی حسین لگ رہی تھی کہ ایک پل کے لیے مہمانوں کے بیچ موجود جاوید کی بھی نظر اس پر آکر رک گئی تھی۔

اسٹیج تک آتے ہوئے عارفہ کی امی کی آنکھیں بھر آگئی تھی۔ اپنی بیٹی کو دلہن بنی دیکھ کر ان سے جذبات قابو نہیں ہو پا رہے تھے۔ عارفہ کے بھائی بھابی بھی اس محفل کی رونق بننے آئے ہوئے تھے۔

اسٹیج پر ساتھ ساتھ بیٹھ کر قاری صاحب کو قبولیت کے تین بول، بول کر عارفہ اور شاویز نے ایک دوسرے کو اپنے نکاح میں قبول کیا۔ پورے دل سے عارفہ نے شاویز کو اور شاویز نے عارفہ کو اپنا بنا لیا تھا۔

ہنسی خوشی ناچتے گاتے ان کی شادی کی تقریب اختتام کو پہنچی۔ سب نے دعاوں کے ساتھ ساتھ بہت سارے تحائف بھی دیئے۔

زبیدہ خالہ صائم کا ہاتھ تھام کر ان کے پاس آئی۔ شاویز اور عارفہ کے پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے انہیں دعائیں دیں۔

“یہ زرتاج کا ہے۔۔۔۔۔ اسے دلاور نے منہ دکھائی میں دیا تھا۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے چھوٹی سی ڈبی سے ایک سونے کی چین نکال کر عارفہ کے آگے کیا۔ وہ چین دیکھ کر دلاور صاحب کو ماضی کے بہت سے لمحات یاد آگئے تھے۔ وہ لب مینچھے افسردگی سے مسکرائے۔

“اپنے آخری وقت پر اس نے مجھے دیا اور کہا۔۔۔۔۔ میں اسے بھیج دوں۔۔۔۔۔ اور اس رقم سے شاویز کی کفالت کروں۔۔۔۔۔ لیکن مجھ سے یہ بھیجا نہیں گیا۔۔۔۔۔ میں نے آج تک اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔۔۔ سوچا جب شاویز کی شادی ہوگی۔۔۔۔ تو اس کی ماں کے نشانی کے طور پر اس کی بیوی کو بطور تحفہ دے دوں گی۔۔۔۔” زبیدہ خالہ نے کہتے ساتھ ہی وہ چین عارفہ کے ہاتھ میں رکھ دیا۔

عارفہ کی آنکھیں آبدیدہ ہونے لگی۔ اس نے لب کاٹتے ہوئے رخ موڑ کر ساتھ کھڑے شاویز کو دیکھا۔ وہ سپاٹ تاثرات بنائے سامنے دیکھ رہا تھا۔

“شاویز اوپر سے جتنا سخت لگتا ہے۔۔۔۔۔ اندر سے اتنا ہی نرم ہے۔۔۔۔۔ بہت با اخلاص بچہ ہے۔۔۔۔۔ اسے ہمیشہ خوش رکھنا۔۔۔۔” ایک مرتبہ پھر عارفہ کو پیار کر کے خالہ آگے بڑھ گئی۔

سب سے آخر میں دلاور صاحب ان کے پاس آئے اور شاویز کے ہاتھ میں ایک عدد چابی رکھی۔ شاویز نے حیرت سے اس چابی کو دیکھا اور پھر شریر انداز میں آبرو اچکا کر جتانے والے انداز میں مسکراتے ہوئے پاپا کو۔

“پاپا۔۔۔۔۔” شاویز نے تنے ہوئے اعصاب سے مخاطب کیا۔

“یس بیٹا۔۔۔۔” دلاور صاحب اس کے ساتھ آکر کھڑے ہوگئے تھے۔

“آپ کو کیسے پتا چلا۔۔۔۔۔ میں نے فلیٹ کس کو بھیجا ہے۔۔۔۔” شاویز نے جعلی خفگی سے کہا۔ وہ چابی اسی فلیٹ کی تھی جو صادق صاحب نے اسے گفٹ کیا تھا اور جسے شاویز نے صائم کو بائک دلانے کی خاطر بھیج دیا تھا۔

“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔۔ یہ آرمی ایجنٹ والا دماغ تمہیں کہاں سے ملا ہے ہمممم۔۔۔۔” دلاور صاحب نے گردن اکھڑا کر کہا۔ شاویز خاموش نظروں سے انہیں دیکھے گیا۔

“اب اس تحفے میں صادق صاحب کے شفقت کے ساتھ ساتھ میرا پیار بھی شامل ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ اسے سنبھال کر رکھنا۔۔۔۔” دلاور صاحب نے قدرے سختی سے تنبیہ کیا تو شاویز سر جھٹکتا ہوا مسکرایا اور ان کے گلے لگ گیا۔ دلاور صاحب جانتے تھے وہ فلیٹ صادق صاحب اور شاویز دونوں ہی کے لیے بہت قدر دان تھا۔ اس لیے انہوں نے بر وقت ذاکر کے ذریعے اس ڈیلر کا پتا لگا کر وہ فلیٹ واپس خرید لیا تھا۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆

سارے رسم و رواج کے مطابق عارفہ کی رخصتی ہوئی تھی۔ اس وقت وہ شاویز کے پھولوں سے سجائے کمرے میں مسرور ہوتے ہوئے بیٹھی تھی۔ اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا جب دروازہ کھلتا محسوس ہوا۔ اسے لگا شاویز ہوگا لیکن وہ سحر تھی۔ دبے پاؤں چلتی وہ اس کے پاس آئی۔

“کیا بات ہے میڈم۔۔۔۔۔ بڑی دلہن بنی بیٹھی ہو۔۔۔۔”سحر نے عارفہ کو چھیڑتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جانے لگی۔ عارفہ کے سو دفعہ پوچھنے پر بھی اس نے نہیں بتایا بس اپنے ساتھ پردے کے پیچے ساکت کھڑا کیا۔

شاویز جب صائم اور جاوید کے چھیڑنے سے تنگ ہو کر بچتے بچاتے کمرے کے اندر داخل ہوا تو اسے بیڈ خالی ملا۔ اس نے قریب آکر بیڈ کا جائزہ لیا تو وہ بلکل بنا ہوا تھا جیسے کوئی بیٹھا ہی نہ ہو۔ عارفہ کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے واشروم کے دروازے پر دستک دی۔ تب ہی اسے پردے کے پیچے کچھ حرکت محسوس ہوئی۔ وہ اپنے ایجنٹ کے سے انداز میں محتاط چلتا ہوا قریب گیا اور ایک جھٹکے سے پردا ہٹایا۔ پردا ہٹانے کے ساتھ ہی سحر نے بھوووو کر کے اس پر حملہ کیا۔ شاویز ڈرا تو نہیں لیکن اچانک حملے سے قدرے پیچے ہوگیا۔ سحر اور عارفہ محض ہنسے جا رہی تھی۔ شاویز نے تند تاثرات بنا کر عارفہ کی کلائی دبوچ لی تو وہ سہم گئی۔ سحر اپنی ہنسی پر قابو کرتے ہوئے خود کو ان میاں بیوی سے انجان دکھاتے ہوئے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ شاویز نے اسی طرح ہاتھ پکڑے عارفہ کو اپنے قریب کیا۔ اس کی سانس رکنے لگی دھڑکن تیز ہوگئی۔ پھر شاویز نے اپنا چہرا اس پر جھکا دیا۔ عارفہ نے سانس روکے شرماتے ہوئے آنکھیں بند کی لیکن تب ہی اسے اپنے ہاتھ پر شاویز کی گرفت آزاد ہوتی محسوس ہوئی وہ واپس پیچے ہٹ گیا۔ اس نے گڑبڑا کر آنکھیں کھولی۔

“شاویز۔۔۔۔” عارفہ نے شاک کے عالم میں اسے پکارا۔

“ہوگیا مزاق۔۔۔۔۔ مل گیا سکون۔۔۔” شاویز نے اپنی شیروانی کے بٹن کھولتے ہوئے سرد مہری سے کہا۔

“لیکن شاویز۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔۔ سحر۔۔۔۔۔” عارفہ نے آگے آتے ہوئے وضاحت دینا چاہی لیکن شاویز نے ٹوک دیا۔

“وہی رہو۔۔۔۔ ” شاویز نے تندی سے کہا تو عارفہ مضطرب سی ہوکر وہی رک گئی۔ اس کا دل ڈگمگا رہا تھا۔ اسے شدت سے رونا آرہا تھا۔

شاویز نے شیروانی اتاری۔ بیڈ پر اپنے حصہ سے پھول کی پتیاں جھاڑ کر اسی طرح برہنہ باڈی لیئے چت لیٹ گیا۔ اور آنکھوں پر بازو رکھ دیا۔

“شاویز۔۔۔۔” عارفہ نے اب کی بار معصومیت سے پکارا۔

“مجھے سونا ہے۔۔۔۔۔ ڈسٹرب مت کرو۔۔۔۔۔” جواب اب بھی کرہٹ بھرا ملا۔ عارفہ مایوسی سے آنکھوں پر بازو رکھے شاویز کو دیکھتے ہوئے دل گرفتگی سے وہی بیٹھ گئی۔

☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆