Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Last Episode)Part3  

Anadil by Uzma Mujahid 

“عنادل”

بھانت بھانت کی بولیاں بولتے لوگوں کے درمیان ایک آشنا آواز پہ وہ فوراً مڑی تھی۔

دلہام کو سامنے دیکھتے مانو کوئی منت برآئی تھی۔

“دل وہ۔۔۔یہ میں نے نہیں کیا۔۔۔ سچی ٹرن کرتے ہوئے یہ شخص خود ہی میری گاڑی کے سامنے آگیا تھا۔۔۔”

اپنی صفائی پیش کرتی عناء کو یاد آیا وہ تو اس شخص کی نظروں میں اپنا اعتبار کھو چکی ہے پھر کونسا وہ یقین کرے گا۔

جبکہ اسکی آنکھیں نمکین پانی سے لبریز تھیں۔

وہ تیزی سے ہجوم کو چیرتے اسکی طرف بڑھا اور ایک مضبوط حصار قائم کیے اپنی موجودگی کا احساس بخشا تھا ۔

“اٹس اوکے ۔۔۔کچھ نہیں ہوا اوکے ریلکس۔”

وہ اسے شانوں سے تھامے اپنے قریب کرتے بولا تھا ۔

اتنے دن بعد دلہام کی نرم آواز نے عناء کے صبر کی باڑ توڑی تھی۔

وہ اسکے سینے سے لگتے ہی زاروقطار رو پڑی تھی۔

دل کا غبار نکالنے کو جگہ مناسب نہیں تھی لیکن وہ اسکی ڈھارس بندھانے کو ہلکے سے اسکی پیٹھ پہ تشفی بھری تھپکی دے گیا تھا۔

“اوہ تو یہ چئیر پرسن دلہام بخت کی بیوی ہے تبھی دولت کے نشے میں دھت غریب شخص کا ٹھیلا روند دیا بلکہ اسے بھی مارنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ۔”

مجمعے سے ایک آواز آئی تو عناء نے خوفزدہ نگاہوں سے دلہام کو دیکھا جسکے چہرہ غصے کی شدت سے دہک رہا تھا جبکہ مٹھیاں بھینچے وہ سامنے ہی دیکھ رہا تھا۔

“دل۔۔۔”

“تم ٹھیک ہونا؟”

تاثرات کے برعکس آواز میں نرمی تھی جبکہ وہ عناء کی توجہ سب سے ہٹانا چاہتا تھا ۔

عناء نے گردن اثبات میں ہلائی تھی۔

“ارے یہ بڑے لوگ انکیلئے عام لوگ تو کیڑے مکوڑے ہی ہیں۔”کوئی اور بھی بولا تھا۔

عناء نے کرب سے آنکھیں بند کی تھیں۔

“چلو تم گاڑی میں بیٹھو میں ان لوگوں سے بات کرکے آتا ہوں۔”

انتہائی نرمی سے اسے اپنے حصار سے نکلاتے اس نے گارڈ کو اشارہ کیا تھا کہ وہ عناء کو لے کے جائے وہ کسی مجرم کی طرح سرجھکائے جانے لگی تھی اسوقت پولیس بھی وہاں آئی تھی۔

“ارے بیبی اس غریب کی بھرپائی کون کرے گا پولیس کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑی ہوئیں؟”

ایک جذباتی سا شخص آگے بڑھا تھا شاید اسے دلہام بخت نظر نہیں آیا تھا یا اس نے سنا ہی نہیں تھا کہ وہ دلہام بخت کی کچھ لگتی ہے تبھی مجمعے کا فائدہ اٹھاتے عناء کے روکنے کو ہاتھ بڑھایا تھا پر دوسرے ہی لمحے وہ شخص زمین بوس ہوا تھا۔

“سر۔۔۔”

عناء بےیقین سی زمین پہ پڑے شخص کو دیکھ رہی تھی جسکے ناک سے خون بہہ رہا تھا جبکہ گارڈ دلہام کے سامنے آیا تھا ۔تبھی وہاں علاقے کا ڈی۔ایس ۔پی پہنچا تو معمالہ اتنا بڑا نہیں تھا جتنا وہاں موجود لوگوں نے بڑھاتے ہوئے عناء کو ہراساں کردیا تھا۔

اگلے پانچ منٹ میں وہ اس زخمی شخص سے مک مکا کرتے گارڈذ کو اسے ہاسپٹل لے جانے اور مرہم پٹی کروانے کے احکامات کے ساتھ پولیس والوں کو بھی نبٹا آیا تھا۔

عناء بار بار بھیگتی پلکوں پہ اٹکی نمی کو صاف کرتے چور نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو سامنے دیکھتے معمول کے مطابق ڈرائیونگ کررہا تھا۔

تمام راستہ خاموشی سے کٹا تھا۔

گھر آتے ہی وہ خود اسکیلئے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اسکے انتظار میں کھڑا تھا۔

عناء کو اسکی خاموشی بہت کھل رہی تھی۔

نا تو وہ ڈانٹ رہا تھا نا کوئی بات کررہا تھا جبکہ عناء جس زعم میں گئی تھی وہ تو معمولی سے حادثے پہ ہی دھیما پڑ گیا تھا۔

“سکینہ بیبی جی کیلئے قہوہ بنا کے لاؤ۔”

اسے اندر لاتے ہی سامنے موجود سکینہ کو احکام دیتے وہ خود کمرے میں چلا گیا تھا ۔

عناء کی آنکھیں ایک بار پھر سے ساون بھادوں کا منظر پیش کررہی تھیں۔

وہ اسکے پیچھے کمرے میں آئی تھی جو کھڑکی کی جانب رخ کیے یقیناً سموکنگ کررہا تھا۔

عناء کا ضبط جواب دے گیا تھا وہ سسکتے ہوئے اسکی پشت سے جالگی تھی دلہام نے آنکھیں بند کرلیں تھیں۔

شاید اسے عناء کا رونا تکلیف دے رہا تھا۔

“کس جرم کا بدلہ لیا تم نے مجھ سے عنادل کیا محبت کرنا میری سزا تھی؟اس تمام قصے میں میرا بےگناہ دل اور میں کہاں ہیں؟تمہاری نادانیوں نے مجھے فنا کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے جانتی ہو شاید اپنوں میں اتنا کوئی بےرحم اپنا ہو جتنا تم بن گئی تھی عنادل۔”

جیسے وہ اس انتظار میں ہی تھا کہ وہ آئے گی اور وہ اسے ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کرے گا۔

“کیوں کیا ایسا ہاں بتاؤ؟”

وہ اچانک سے رخ موڑتے اسکے سامنے ہوا تھا۔

عناء پھوٹ پھوٹ کے روتی زمین پہ جھکتے اسکے پاؤں کے قریب بیٹھی تھی خطا کار جو تھی۔

دلہام کو ایک جھٹکا لگا تھا وہ دو قدم پیچھے ہٹا تھا۔

“میرا مقصد کبھی تمہیں جھکانا نہیں رہا عناء میں نے دوستی بھی برابری کی سطح پہ کی تھی یہ رشتہ بھی مکمل ایمانداری سے نبھانا چاہا ہے’کیا تم میرے حال دل سے انجان تھی جو تمہارے ہر ستم اور غم پہ کڑھتا رہا ہے’میں جزا کی امید رکھوں بھی تو کس سے عنادل جسے سب سے زیادہ اپنا مانا ‘خود سے بڑھ کے چاہا اس نے میرے دشمنوں کے ساتھ مل کے کیا ‘کیا بتاؤ؟”

شاید وہ عناء کی شرمندگیوں کے سامنے اپنے ٹوٹے دل کی داستان رکھتے اسے کبھی سر نہیں اٹھانے دینا چاہتا تھا۔

“دل میں مانتی ہوں میں نے بہت غلط کیا ہے کیا آپ مجھے صرف ایک موقع نہیں دے سکتے میں خود کو سنوار لونگی جیسے آپ چاہتے میں۔۔۔”

“میں نے تمہیں کبھی خود کو سنوارنے کی بات ہی نہیں کی عنادل کیونکہ میرے لیے تم ہر طرح سے مکمل ہوں ‘ماسوائے اسکے کہ تم اپنی غلطیوں سے سیکھ جاؤ اور مجھے کچھ بھی نہیں چاہیئے لیکن مجھے میری ذات کا قصور بتادو کیا مجھے کبھی رشتوں کا اعتماد نہیں ملے گا؟”

دلہام ہنوز اس پہ نگاہیں جمائے زمین پہ دوزانو اسکے قریب بیٹھتے سراپا سوال تھا۔

“تم نے ایسا سوچا بھی کیسے عنادل کہ میں کبھی محبت کرونگا اور اسے ادھورا چھوڑ دونگا؟کیا مشکل ہے میرے لیے کچھ بھی حاصل کرنا جو میں کسی بھی عورت کو نہ حاصل کرپاتا ‘دولت ‘پاور ہونے کے باوجود صرف ایک عورت کی چاہ نے کیا دن لادکھایا عنادل تمہاری بےاعتباری نے مجھے مارنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے۔”

شاید دلہام کا لہجہ اور آنکھیں بھیگی تھیں۔

عناء نے بھیگی پلکیں اٹھائے اسے دیکھا تھا جو عناء کی آنکھوں میں ہی جھانک رہا تھا جبکہ اسکی انگلیوں کی پورز نامحسوس انداز میں اسکے آنسو چن رہی تھیں۔

۔

“تم ان سوچوں کے عذاب میں مبتلا نہ ہو کہ مجھے اب تم سے محبت نہیں ہے ‘ابھی بھی روز اول جیسی بےپناہ محبت ہے۔۔۔۔”

دلہام نے اسکے رخسار پہ ایک ہاتھ رکھا تھا ۔

“بس مجھے کچھ وقت دو خود کو سنبھالنے کا’دلہام بخت عنادل کی محبت میں ہارا ہوا شخص ہے آخر کے تم سے بھاگ کے کہاں تک جاسکتا ہے پر کچھ وقت دو مجھے کہ میں اپنا ظرف وسیع کرلوں’ان وہموں سے نکل آؤں کہ پریہان کے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا تھا لیکن تمہارا آج کا جذباتی عمل ایک بار پھر مجھے کانٹوں پہ گھسیٹ گیا تھا کیا تم میرے دل سے کھیلنا بند نہیں کرسکتی؟”

دلہام کا وہیں نپا تلا لہجہ عناء کے دل کی دنیا کو زیروبر کررہا تھا۔اگرچہ وہ خطاؤں کو معاف کرنے کی امید بندھا رہا تھا پر معاف نہیں کررہا تھا۔

“دل۔۔۔”

وہ اسکا ہاتھ تھامے لبوں سے لگا گئی تھی۔دلہام کے لبوں پہ اذیت سے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔

یہ بھی ایک کڑی حقیقت تھی کہ بےپناہ پیار کرنے والے ہی اکثر آپکی اذیت وجہ بن جاتے ہیں ۔دلہام نے بارہا اپنے چاہنے والوں سے چوٹ کھائی تھی۔

دروازہ بجا تو دلہام فوراً سے کھڑے ہوتے دوبارہ کھڑکی کی جانب رخ کرگیا جبکہ عناء خود کو سنبھالتی خود ہی اپنے آنسو سمیٹ گئی تھی آخر کے اسکے انمول موتیوں کو چننے والا ستم گر بن چکا تھا۔

“بیبی جی قہوہ۔۔”

سکینہ نے کمرے میں رکھے سنگل اسٹول پہ قہوے کا کپ رکھا اور باہر چلی گئی تھی۔دلہام نے دوبارہ مڑتے ایک سرسری سے نگاہ اس پہ ڈالی تھی جو اپنے ہتھلیوں میں قسمت کے وار سے الجھی لکیروں کو کھوج رہی تھی۔

ہر ایک غم تمہارا سہیں گے خوشی سے

کریں گے نا شکوہ کبھی بھی کسی سے۔۔۔

سرمئ رنگ کا اونی ڈریس پہنے وہ روئی آنکھوں سے عجیب پرکشش سی ہستی لگ رہی تھی۔دلہام نے عناء سے نظریں ہٹائے بھاپ اڑاتے مگ کو دیکھا اور دھیمی چال چلتے وہ مگ اٹھائے اسکے پاس بیٹھا تھا۔عناء نے اسکا پاس آنا محسوس کیا تو سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔اب کچھ اور بھی تھا کہنے کو۔

“یہ پی لو کافی ریلکس فیل کروگی تم۔”

وہ زبردستی مگ اسے تھما گیا تھا جبکہ عناء اسکے چہرے پہ کچھ کھوجنا چاہتی تھی مگر وہ شخص بہت بڑا ایکٹر تھا جو ایک بار دل کی بھڑاس نکالنے کے بعد پھر سے اپنے خول میں سمٹ گیا تھا۔

“اگر تم چاہو تو حویلی جاسکتی ہو’ وہاں کا ماحول اچھا اثر کرے گا تم پہ کیونکہ میں اگلے کچھ دن کافی مصروف رہنے والا ہوں ۔”

جب عناء جانا چاہتی تھی وہ قید کر کے رکھتا تھا اور آج اسے بنا مانگے اجازت دے رہا تھا شاید دامن چھڑانے کا ایک بہانہ درکار تھا۔

وہ خاموشی سے قہوہ پیتے روم سے نکل گئی تھی دلہام نے ایک بار بھی اسے نہیں روکا تھا۔

کمرے میں آتے پھر سے تنہائیاں اسکی ساتھی بنی تھیں۔

کتنی دیر وہ مختلف سوچوں کے حصار میں رہی تھی جب دروازے کھلنے کی آواز پہ فٹ سے آنکھیں موند لی تھیں۔

ابھی اور ہمت نہیں تھی دلہام بخت کی گھائل کرتی آنکھوں کا سامنا کرنے کی۔

وہ دبیز قالین پہ مضبوطی سے پاؤں جمائے اسکے پاس آٹکا تھا۔کچھ دیر ہر طرف پھر سے خاموشی چھاگئی تھی۔عناء کی دھڑکنیں بےترتیب ہونے لگی تھیں ۔دلہام نے اس پہ جھکتے محبت سے پر لمس اسکی پیشانی پہ رقم کیا اور کتنی دیر بےوجہ ٹہرتے اسکے موہنے روپ کو آنکھوں کے راستے دل میں اتارتا رہا تھا جو ان چند دنوں میں کملا کے رہ گیا تھا۔

وہ جانتا تھا کہ وہ اپنے لفظوں سے اسے بہت توڑ چکاہے پر اسکا مسیحا بننے کیلئے پہلے اسے اپنے زخموں کی رفوگری کرنی تھی ۔

ایک بھرپور طمنایت کا احساس اسکے وجود میں سرائیت کرگیا تھا ایک آس ملی تھی کہ وہ اسے معاف کردے گا۔

نگاہ و دل کے پاس ہو وہ میرا آشنا رہے

ہوس ہے یا کہ عشق ہے یہ کون سوچتا رہے

وہ میرا جب نہ ہو سکا تو پھر یہی سزا رہے

کسی کو پیار جب کروں وہ چھپ کے دیکھتا رہے

اسے منا تو لوں مگر یہ سلسلہ بھی کیا رہے

الگ ہے اس کا ذائقہ کہ وہ کھنچا کھنچا رہے

مشام جاں پہ خوشبوؤں کی جب پھوار ہی نہ ہو

ہزار بات بات میں وہ پھول ٹانکتا رہے

شگفتن جمال کو حجاب لمس چاہئے

فصیل شب کی اوٹ میں چراغ یہ جلا رہے

نہ اتنی دور جائیے کہ لوگ پوچھنے لگیں

کسی کو دل کی کیا خبر یہ ہاتھ تو ملا رہے

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

“پریہان پلیز کچھ تو رحم کھا لو مجھ پہ ‘کیا اپنی جان لینا چاہتی ہو یا مجھے مارنا چاہتی ہو؟”

اتنے دنوں سے پریہان کا لاپرواہ انداز دیکھتے دورید کا صبر ٹوٹا تھا تبھی وہ اس پہ برس پڑا ۔

وہ جو اپنی رپورٹ ہاتھ میں لیے بیٹھی چھم چھم نیر برسا رہی تھی دورید کی سخت آواز پہ بوکھلائی تھی۔

“دورید ایسی باتیں کیوں کررہے ہو؟”

وہ ناراض انداز میں بولی تھی۔

“کیونکہ تم ایسی حرکتیں کررہی ہو ۔آج بھائی اور عناء واپس آرہے ہیں کیا سوچیں گے وہ تمہیں اس حال میں دیکھ کے۔”

دورید صحیح اس پہ تپا ہوا تھا۔

“دورید اگر آج ہمارا بےبی ہوتا تو ہم۔۔۔”

“اوہ گاڈ پریہان کیا تم اس سب کو بھول نہیں سکتی کیا ہمیں اس چیز پہ شکرگزار نہیں رہنا چاہیئے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے چھوٹی سے قربانی لے کے ہمیں زندگی بھر کا سکون عطا کیا ہے؟بےبی کا کیا ہے ہم ایک اور پلین کرلیں گے۔”

سنجیدگی سے کہتا دورید شوخ ہوا تو پریہان سرخ پڑتے چہرہ جھکا گئی تھی۔

“اوہ بیوی یار شرماتے ہوئے کافی سینس ایبل لگتی ہو۔”

وہ جو اسکی تعریف کرنا چاہ رہا تھا زبان نے غلط لے پکڑی تھی ۔وہ ہونقوں کی طرح اسکا چہرہ دیکھنے لگی تھی۔

“اسکا کیا مطلب ہوا بھلا؟”

پریہان کے پوچھنے پہ دورید نے زبان کو دانتوں تلے دبایا تھا۔

“آہ کچھ خاص نہیں میں تو بس یہ کہہ رہا تھا کہ وہ۔۔۔۔باہر چلیں آئی مین کافی اچھا موسم ہے خوبصورت سا تمہاری طرح۔”

دورید اسکے موڈ میں ڈھلنے کو باتیں بنا گیا تھا۔

“پتا نہیں کیوں دورید دل میں عجیب سے اوبہام اور وسوسے سے ہیں۔”

پریہان پھر سے سینٹی موڈ میں آئی تھی۔

“کیا یار کونسے اوبہام اب تو آر۔جے اور اس لوسیفر کا قصہ بھی تمام ہوا ساری زندگی جیل میں سڑے گا اب کس بات کی پریشانی ۔۔۔میں ہوں نا تمہارے ساتھ ہمیشہ تمہارا ہم زاد ‘سائیہ بن کے تم پہ آنے والی ہر مصیبت کو میں سب سے پہلے اپنے سر لونگا میری جان بس میری بیوقوف بیوی یہ بیوقوفیاں کرنا اور اداس رہنا چھوڑ دے تو زندگی حسین ہوجائے ۔”

پریہان کے سر کے اوپر سے اسکی باتیں گزر رہی تھیں پر دورید کا پراعتماد انداز اسے اتنا یقین ضرور دلا رہا تھا کہ بہاروں کے رنگوں میں ڈھلنے اور خوشیوں کے سنگیت سننے کا وقت دور نہیں ہے اب ۔

یقیناً لوسیفر نامی کوئی بلا اسکے مستقبل میں نہیں ہوگی۔زندگی بےحد حسین تھی کیونکہ اسے اپنوں کا

ساتھ میسر تھا جو اسے ہر طرح مضبوط بنانے اور دلجوئی کرنے کیلئے ہمہ وقت اسکے ساتھ تھے۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

تنگ راستے پہ پہاڑوں سے گزرتی گاڑی حویلی کی طرف رواں دواں تھی جس میں فرنٹ سیٹ پہ موسیٰ اور دلہام تھے جبکہ بیک سیٹ پہ رمز اور عناء بیٹھی تھیں۔

رمز کے چہرے پہ ایک عجیب سا گلال بکھرا تھا ۔دلہام اس سے بات نہیں کررہا تھا رمز کے ساتھ اسکا روڈ انداز برقرار تھا پر محبت پانے کا احساس فلحال ہر رشتے پہ غالب تھا ۔

یہ رمز کی فطرت کہ وہ ایک محبت کے حاصل ہوتے پھر سے سب رشتوں کو پیچھے چھوڑنے لگی تھی۔

عناء کی حالت رمز کے مقابلے مخلتف تھی ‘دلہام کا اچانک حویلی جانے کا پروگرام کیوں بنا تھا اسکے پیچھے کیا محرکات تھے وہ کسی بھی چیز سے آگاہ نہیں تھی جبکہ کل رات کے بعد سے اس نے عناء سے بات ہی نہیں کی تھی۔صبح سکینہ ہی پیغام لائی تھی کہ صاحب انہیں حویلی جانے کیلئے ریڈی ہونے کا کہہ رہے ہیں۔

اور اب گاڑی میں ماسوائے دلہام اور موسیٰ کی باتوں کے کسی اور کی کوئی بات تھی ہی نہیں ۔

اسلام آباد پہنچتے ہی دلہام ان سے الگ ہوگیا تھا۔

“موسیٰ بھائی دلہام کہاں ہیں ؟کیاوہ نہیں آئیں گے ہمارے ساتھ؟”

موسیٰ کو گاڑی اسٹارٹ کرتے دیکھ کر وہ پریشان سی بولی۔

“سر کچھ دنوں کیلئے آؤٹ آف کنٹری گئے ہیں کچھ سرکاری کام سے۔”

دلہام کا رٹایا گیا جواب اسے دیتے موسیٰ نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔

عناء جانتی تھی کہ وہ اسے معاف نہیں کرسکا تبھی وہ جان بوجھ کے کچھ دنوں کیلئے کنی کترا گیا ہے۔

پورا راستہ بھیگی پلکوں سے کٹا تھا حویلی میں آتے ہی اس نے خاموش کونہ پکڑ لیا تھا۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

“بی جان کیا میں اتنی بری ہوں؟جو کچھ ہوا وہ انجانے میں ہوا تھا کیا اس سب کی اکیلی میں ہی مجرم ہوں انہوں نے بھی تو بہت کچھ چھپایا تھا مجھ سے۔”

وہ انکی گود میں سر رکھے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کررہی تھی۔

دلہام کے کچھ دن کا برائے نام سرکاری کام ایک مہینے سے بھی طویل ہوچکا تھا جبھی آج وہ بی۔جان کے سامنے اپنےغم لیے بیٹھی تھی۔

“یہی تو کم فہمی ہے تمہاری نئی نسل کی اپنے معمالات کے خود بڑے بن جاتے ہو بنا فائدہ نقصان سوچے ‘اور جہاں تک رہی کون مجرم ہے کون قصوروار تو قصور تم دونوں کا برابر کا ہی ہے کیونکہ رشتوں میں بےاعتباری اور عدم تحفظ کا احساس ہی رشتوں میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے اب تم اسے سزا دو یا وہ تمہیں کیا فرق پڑتا ہے یہاں تم سلگ رہی ادھر وہ بھی سکون سے نہیں ہوگا۔اب تو انا کی جنگ بن گئی ہے شاید ۔”

بی جان نے اسکی کلاس لے ڈالی تھی وہ مزید دکھی آتما بن گئی تھی۔

گھر میں چھائی خاموشیوں کو توڑنے کیلئے رمز اور موسیٰ کی شادی کے فنکشن رکھے جانے لگے تو اسے امید سی بندھی تھی کہ شاید وہ آجائے ۔

گھر میں کوئی بھی اسکے آنے یا ناآنے سے متعلق کوئی بات ہی نہیں کررہا تھا۔پریہان تو روز اول کی طرح ہر معمالات سے انجان تھی لیکن دورید کو بڑوں کی موجودگی میں رمز اور عناء کے تمام معملات سے آگاہ کیا تھا وہ بھی دل میں کچھ ناراض ناراض سا گھوم رہا تھا۔

“یہ پھول یہاں لگائیں گے تو زیادہ اچھے لگیں گے نا انٹرس پہ ہی آنے والے یقیناً اسے دیکھتے خوش ہونگے۔”

پریہان دورید کو خوشی خوشی مفت کے مشوروں سے نواز رہی تھی۔

“یار خدا کا نام لو تمہارے مشوروں پہ چل کے میں نے موسیٰ کی تقریب کو خراب نہیں کرنا ‘یہ ووکے تو سائیڈ پہ ہی لگیں گے اور ان پہ پڑتی لائٹس زبردست ویو دیں گی۔”

دورید باقاعدہ کیمرہ مین کے جیسے ہاتھ بناتے سچویشن بنا رہا تھا ۔موسیٰ بھی انکی نوک جھونک پہ مسکرا رہا تھا۔

گھر کی کوئی تقریب موسیٰ کے بغیر مکمل نہیں تھی اسیلئے اس تقریب کو بھی کمبائن رکھا گیا تھا اور اپنی ہی تقریب کے معمالات دلہا میاں خود دیکھ رہے تھے۔

“تم رہنا ہمیشہ سڑیل۔۔عناء بھابھی بات سنیں یار یہ پھول یہاں۔۔۔”

“پریہان شاید تمہیں مما ڈھونڈ رہی تھیں کسی ڈریس کو لے کے ڈسکیشن کرنی تھی تم سے انہیں۔”

عناء باہر نکلی تو پریہان فوراً اسکے پاس پہنچی تھی پر دورید نے اسے ٹوکتے وہاں سے جانے کی وجہ بتائی تھی۔

عناء کے لب سختی سے آپس میں بھینچے تھے۔

ایک تو ویسے ہی سب کو آپس میں مگن دیکھتے اسے اپنا آپ بہت تنہا سا محسوس ہورہا تھا اس پہ دورید پریہان کو عناء اور رمز سے دور رکھنے کی ہر تگ ودو کرتے زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ بزی رکھتا یا پھر کسی نا کسی کام میں لگا دیتا تھا۔

“دورید۔۔”

وہ اسکے پاس آئی تھی۔

دورید نے ایک اچٹکتی نگاہ اس پہ ڈالتے دوبارہ سے اپنی توجہ کام پہ مبذول کی تھی۔

“کیا وہ سزا کم ہے جو تمہارا بھائی دے رہا جو اب تم بھی میرے زخموں پہ نمک چھڑک رہے ہو؟”

وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے اسکے سامنے ٹہری تھی۔

“اوہ کیا دوسروں کو زخم دینے والوں کو بھی زخم لگتے ہیں سن کے بہت خوشی ہوئی ۔۔۔۔یار یہ تھوڑا سا آگے کرکے کے لگاؤ۔”

وہ اسے سنواتے پھر سے کام والے لڑکے کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

“دورید میں نے سب سے معافی مانگی تو۔۔۔”

“کیا تمہارے معافی مانگنے سے اس اذیت کا مدوا ہوجائے گا جو ہم سب نے اسپیشلی پریہان اور میں نے سہی ہے تو چلو معاف کیا۔”

وہ حددرجہ تلخ ہورہا تھا۔

عناء کی آنکھوں میں مرچیں سی بھری تھیں کیونکہ پہلے ہی وہ شخص اسے اتنا رلا چکا تھا اور اب دورید ۔وہ چہرے پہ ہاتھ جمائے وہاں سے بھاگی تھی۔

“دورید عناء بیبی بہت ہرٹ ہیں۔”

موسیٰ کو اسکی حالت سے تکلیف ہوئی تھی۔

دورید نے موسیٰ کو ایک نظر دیکھا اور آگے بڑھ گیا تھا۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

دل نادان بےصبر ہے ‘کرآیا خطا ایسی

پتا نہ تھا جدائی بھی ‘ہے ہوتی ایک سزا جیسی

وجہ ہوگی کوئی اسکی ‘کہ دل یوں توڑ آئے ہیں

کہ سب اپنوں کی خاطر ہم’ ایک اپنا چھوڑ آئے ہیں

بھر نا پائے جو کبھی’ زخم گہرا ہے لگا

بھول میں فیصلہ کرلیا جا محبت تجھے الوداع کردیا۔۔۔۔۔۔

وہ اضطراری کیفیت میں اپنے پاؤں ہلاتے شہادت کی انگلی سے ماتھا مسل رہا تھا جبکہ دل ودماغ میں ایک جنگ سی چھڑی تھی۔وہ اپنی عنادل سے بہت دور آگیا تھا پر جیسے جسم کا ایک حصہ کھوگیا تھا بےچینی کے عروج پہ بیٹھا شخص انا کو معتبر کررہا تھا۔

پر دل کی بغاوت کا کوئی ثانی نہیں تھا جو ہمہ وقت عناء کا راگ الاپتا رہتا تھا۔

آج حویلی میں رمز اور موسیٰ کی شادی کی تقریب تھی یقیناً اس اہم موقعے پہ اسکا وہاں نا ہونا بہت سے سوالات اور شکوک وشبہات کو جنم دے رہا ہوگا پر وہ دماغ کی ضد پہ کان دھرے بیٹھا جبکہ دل ہمک ہمک کے انا کی دیوار گرانے کی راہ سجھا رہا تھا۔

موبائل کی بیل بجنے پہ وہ متوجہ ہوا تھا جب سے وہ یہاں آیا تھا پوری دنیا سے کٹ کے ہی بیٹھا تھا اور موسیٰ کو بھی سختی سے منع کیا تھا کہ وہ اسکا نمبر کسی سے شئیر نہیں کرے گا۔اسوقت بھی موسیٰ کی ہی کال تھی۔

“سر یقین مانیں آپکے بغیر یہ تقریب بہت ویران سی ہے۔”

موسیٰ کیلئے اگرچہ ایک اہم دن تھا مگر پھر بھی اسکے انداز میں اداسیاں سی گھلی تھیں۔

“شادی مبارک ہو موسیٰ ‘آئی ہوپ سب اچھے سے نمٹ گیا ہوگا؟”

اسکی بات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔

موسیٰ نے کچھ لمحوں کی خاموشی اختیار کی تھی کہ دلہام کو سیل کان سے ہٹا کے دیکھنا پڑا تھا کہیں وہ کال آف تو نہیں کرگیا۔

“سر سچ پوچھیں تو سب کچھ بہترین ہوکے بھی جو ایک کمی ہے وہ سب پہ بھاری ہے اور عناء بیبی ۔۔۔”

“موسیٰ میں تمہیں کال بیک کرونگا کچھ کام ہے مجھے۔”

پھر سے اس کا ذکر چل نکلا تھی جسکے نام کی بازگشت سے بچنا چاہتا تھا ۔

موسیٰ نے اسے کچھ تصاویر بھیجیں تو وہ دم سادھے بیٹھا رہا تھا کسی بھی تصویر کھولنے کی ہمت نہیں۔

آج تک جو اپنوں کی محبت میں ہارتا آیا تھا اب بھی ضبط کی سبیلیں ناکام ہوجاتیں۔

خنکی بھرے موسم میں بھی اسکا دم گھٹنے لگا تھا اس نے شرٹ کے تمام بٹن کھولے تھے۔

توجہ کے دھاگے بھٹکتے سیل پہ چلے جاتے اگر ان سب کے درمیان وہ بھی ہوئی تو؟

بالاآخر کمزور پڑتے اس نے تمام تصاویر ڈاؤن لوڈنگ پہ لگائی تھیں اول پہ ہی وہ دشمن جان تھی۔اداسی برساتی آنکھوں کے ساتھ بی جان کی کوئی بات غور سے سن رہی تھی۔

دلہام پہ منکشف ہوا کہ موسیٰ نے سراسر اسکے جذباتوں کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی تھی اور تمام تصاویر ہی عناء کی تھیں کہیں چہرے پہ مسکراہٹ تھی بھی تو مصنوعی سی۔

وہ ہر ہر تصویر کو غور سے دیکھ رہا تھا جب اسکرین رک گئی تھی مطلب کے آگے کوئی اور تصویر نہیں تھا۔

آنکھوں کی پیاس بڑھی تھی تو انا کی دیوار گری بےساختہ ہی وہ اس آخری تصویر کو تکتے اس پہ لب جما گیا تھا۔ایک اشک آنکھوں سے گرا تھا ۔

“دل کی ضد ہے عنادل تمہیں معاف کرنا ہی پڑے گا نہیں تو یہ دل مجھے دغا دے جائے گا۔”

وہ خود پہ طنز کرتے مسکرایا۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

اگر ہوتا میرے بس میں تو واپس وہ لمحہ لاتے

ناجانے تم کو ہم دیتے ‘نا تم بھی چھوڑ کر جاتے

اگر ممکن ہوا پھر سے تمہیں پاکر نا کھوئیں گے

جدا ہوکر ملے جب بھی تو پہلے خوب روئیں گے

وہ آئینے میں اپنا عکس دیکھتے کنول کا مرجھایا پھول لگ رہی تھی ۔

گزرے دنوں میں اسکی طبیعت کافی خراب رہنے لگی تھی وجہ خود سے حددرجہ لاپروائی تھی۔

دل بری طرح ٹوٹا تھا ایک آس تھی شاید وہ رمز اور موسیٰ کی شادی پہ لوٹ آئے پر وہ تو سزا دے رہا تھا ان دونوں کو ہی اور کچھ مقام افسوس یہ بھی تھا گھر میں کسی نے بھی اسے آنے کو نہیں کہا تھا ۔

“عناء بیبی یہ امراؤ بیبی نے آپکیلئے بھجوایا ہے کہ آج کی تقریب میں آپ یہ ڈریس پہنیں گی۔”

ملازمہ اندر آئی تو وہ اپنے خیالوں کی دنیا سے نکلی تھی۔

“یہ تو بہت ہیوی ہے۔”

ڈریس دیکھتے ہی اس نے انکار کیا تھا۔

“تو کیا ہوا اس تقریب میں میری بہو کو سب سے اسپیشل دکھنا چاہیئے۔”

وہ سوال جو ملازمہ سے ہوا تھا اسکا جواب اندر آتی امراؤ نے دیا تھا۔

“پر مما یہ۔۔۔”

“کوئی انکار اور بہانے کی گنجائش ہی نہیں ہے پہلے دو فنکشنز بھی انتہائی سادگی سے گزارے ہیں کونسا تمہاری شادی کو اتنے دن ہوگئے ہیں جو یہ حال بنا کے رکھا ہوا ہے یہی دن اور تقریبات کے بہانے تو ہوتے ہیں ہنسنے کھیلنے کے۔”

امراؤ اسکا چہرہ تھامے پیار بھرے انداز میں کہہ رہی تھیں۔

“کیا فائدہ اس سب کا جب دیکھنے اور سراہنے والا ہی کوئی نہ ہو۔”

آرزدہ دل لیے وہ بول گئی تو امراؤ چپ ہوگئی تھیں۔

“کیوں نہیں ہے ہم سب ہیں نا یہاں اور ہمیں تمہیں ایزی دیکھ کے خوشی ہوگا بیٹا ۔”

امراؤ اسے ہر طرح سے بہلانا چاہ رہی تھیں۔

“آپ اسے کہیں نا لوٹ آئے ۔”

ضبط کی طنابیں ٹوٹی تو وہ انکے ہاتھوں میں چہرہ دیے پھوٹ پھوٹ کے رودی تھی۔

امراؤ کا دل بھاری ہونے لگا تھا۔عناء کی خاموشی اور خود سے روٹھا روٹھا انداز انہیں بھی دکھی کرتا تھا پر وہ خود بھی مجبور تھیں جس نے ان سے بھی رابطہ نہیں رکھا تھا کوئی۔

“سب ٹھیک ہوجائے گا عناء خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے چلو شاباش تیار ہوجاؤ یہ جیولری اور ہاں ابھی پارلر والی بھی آجائے گی اچھا سا ٹچ اپ ہونا چاہیئے۔”

وہ مصروف سے انداز میں آج کی تقریب کی مناسبت سے لائی گئی جیولری وغیرہ اسکے سامنے رکھتے کمرے سے چلی گئی تھیں۔

“کیا تمہیں یقین ہے وہ آئے گا؟”

اسکے کمرے سے باہر آتے ہی انہوں نے موسیٰ کا نمبر ملایا تھا۔

“جانتا ہوں میں انہیں دن رات کا ساتھ رہا ہے ان سے میرا ۔”

وہ مسکرایا تھا امراؤ نے کال بند کی تھی جبکہ اسے دیکھتی رمز بھی اداسی کے گھیرے میں آئی تھی۔

“آپکے چہرے پہ بارہ کیوں بج رہے ہیں؟”

آج موسیٰ اور رمز کے ریسپشن کی تقریب تھی اور رمز عناء کی اداسی دیکھتے مسلسل اداسی میں تھی جبکہ موسیٰ نے اسے ہر طرح بہلا پھسلا کے دیکھ لیا تھا۔

“بس عناء کیلئے برا لگ رہا ہے بڑی مشکلوں سے ان کے درمیان سب ٹھیک ہوا تھا اور پھر سے طویل دیواریں در آئی ہیں انکے بیچ۔”

اسکی آنکھیں نم ہونے لگیں تو موسیٰ مضطرب ہوا تھا۔

“دیکھیں رمز اگر آپ ایسا کریں گی تو میں آپ سے ناراض ہوجاؤنگا یار غریب بندے کی سیلری سے اتنا مہنگا میک اپ کروایا گیا ہے جو آپ ایسے بہانے پہ بیٹھی ہیں ابھی تو اسکی قیمت ہی وصول نہیں کرسکا میں۔”

وہ شوخی سے کہتا پٹڑی سے اترا تو رمز کی آنکھوں میں حیا کی لالی در آئی تھی۔

“مینو رنگ لگیا اک ہیر دا۔۔۔”

موسیٰ نے گنگناتے ہوئے اسکے ہاتھوں کو لبوں سے لگایا تو وہ کچھ دیر پہلے کی پرشانیاں بھولنے لگی تھی۔موسیٰ اسکے قریب رہتے اسے پوری دنیا کو بھولانے کے ہنر سے آشنا تھا۔

وہ اسکا ہاتھ تھامے گاڑی تک لایا تھا اور پھر ہال تک۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

پرل سے سجا ہیوی دوپٹہ اسے اپنے وزن سے زیادہ لگ رہا تھا کچھ ایسا ہی حال اس لباس شاہانہ کا تھا۔

“بہت پیاری لگ رہی ہیں عناء میم ‘میں کہہ سکتی ہوں کہ دلہام سر بہت لکی ہیں جنہیں آپ جیسی وائف ملی ہیں ۔”

پارلر والی نے بےدریغ تعریف کرتے انجانے میں اسکے زخموں پہ نمک چھڑکا تھا۔

وہ چاہ کے بھی مسکرا نہیں پائی تھی۔

تنقیدی نظریں اپنا موجودہ حال پہ ڈالی کچھ دیر پہلے اور اب کی حالت میں واضع فرق تھا۔پہلو میں ایک کمی سی تھی۔اسکے عشق میں اتنا بچپنا تھا کہ وہ بہاروں جیسا شخص سنبھال نہیں سکی تھی۔

کرب کے عالم میں آنکھیں بند کیے کچھ لمحوں بعد کھولی تو پہلو خالی نہ تھا۔اسکا الیوژن محبت کی تخیل جیسے شخص کو اسکا ساتھی بنا گیا تھا۔اس نے بھیگی پلکوں سے دو قدم آگے بڑھتے آئینے میں نظر آتے شخص کو چھوا تھا۔ایک مہینے بعد کی بندگی اتنی پختگی اختیار کرگئی تھی کہ ہر طرف ہی اسی کا گمان تھا۔زخم خوردہ لبوں پہ مسکراہٹ بکھری تھی۔

سات رنگوں کی قسم تو مرا رنگِ ہشتم

میں تیرے رنگ میں رنگتے ہی سنور جاؤں گی

جا کے بیٹھوں گی تری سمت جھکائے نظریں

نہ میں بھٹکوں، نہ کسی اور کے در جاؤں گی۔۔

ٹی۔پنک لپ اسٹک سے مزین شبنمی لبوں نے ہولے سے اس عکس سے اقرار کیا تھا جبکہ انگلیاں اس عکس پہ اپنی خوشبو بکھیر رہی تھیں۔اس مجسم میں حرکت ہوئی تھی۔آئینے سے ابھرتا عکس دھیرے دھیرے قدم اٹھائے اسکی جانب بڑھ رہا تھا۔

عناء کے مسکراتے لب سکڑے تھے یقین تھا کہ پیچھے مڑتے سب کچھ ختم ہوجائے گا پر دھڑکنیں بےترتیب ہوئی تھیں ۔فاصلہ گھٹ رہا تھا وہ اسکی پشت پہ آرکا تھا۔

گرم سانسوں کی تپش اسے اپنے کان کی لو پہ محسوس ہورہی تھی۔وہ بت کی مانند یک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی۔

ایک بار اسکی انگلیوں نے آئینے کو چھوا تھا جبکہ وہ عکس عناء کی پشت پہ جھکا تھا۔اسکی انگلیاں اس شبہیہ کو چھونے سے محروم رہی تھیں پر عناء کی پشت ایک آشنا لمس سے مہک اٹھی تھی۔

وہ جھٹکا کھاتے مڑی تھی۔دلہام اسکے اس ریکشن کیلئے بلکل تیار نہیں تھا جبکہ عناء کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ واقعی اسکے اتنے قریب ہے ۔اسکے مڑنے سے عناء کا چہرہ دلہام کے چہرے سے ٹکرایا تھا۔ایک کرنٹ کی لہر سی پورے جسم میں دوڑی تھی۔

اتنے دن بعد ملن کی چاہ تھی پر لمحوں میں میسر آئی قربت نے گویا چمن کو کلیوں سے بھردیا تھا۔

دلہام عناء کی بےترتیب سانسوں کا تیز ردھم اپنے چہرے پہ محسوس کرسکتا تھا۔

یہ اس ہائی ہیل کا کمال تھا کہ آج عناء دلہام بخت کے برابر میں کھڑی تھی جسکا چہرہ اسکے چہرے سے ٹکرا رہا تھا۔عناء کی آنکھوں میں ابھی بھی حیرانی تھی یقین ہی نہ تھا کہ وہ آگیا تھا۔

دلہام نے اسکا وہیں ہاتھ تھاما تھا جو آئینے میں اسکے عکس کو تلاش رہا تھا اور اپنے چہرے پہ پھیرتے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا یقین دیا تھا۔

“دل۔۔”

دلہام کے ہاتھوں میں تھاما ہاتھ اسکے نقوش کھوجتے جان گزین لمحوں کے حصار میں تھا تو لبوں سے سرگوشی سی ابھری تھی۔دلہام لپ اسٹک سے مزین ہونٹوں کے راز میں پنہاں موتوں جیسے دانتوں کی جھلک کے ساتھ انکی جنبش میں کھویا ہوا تھا۔

وہ واقعی کسی اپسراء سے کم نہیں لگ رہی تھی یا اتنے دن بعد روبرو یار ہونے کا سحر تھا جو وہ اسے اسوقت دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی۔دل مغرور سا ہوا تھا کہ وہ دیوانی سی لڑکی اسکی ملکیت میں تھی۔

“دل۔۔۔”

عناء اسکی آواز سننے کی متمنی تھی اسے ان حیات لمحوں کی نشانی میں اسکی آواز کی چاشنی بھی چاہیئے تھی جو وجود زندگانی بخشے ۔

تبھی دلہام نے اسکا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاتے لبوں سے مس کیا تھا اور عناء کو اپنے بےحد قریب کرتے اسکے آویزوں پہ نگاہ جمائی ۔اسکے لب ہلے تو عناء کی دھڑکنیں تھمی تھیں۔

دِل رو بُرده اون نِگاهش

با چشمون سیاهِش

تو قَلبم عزیز جات …

دِل میرَقصه هِی بسازش۔۔

(اپنے دل کا خیال رکھنا’ان سیاہ آنکھوں سے ‘میری جان آؤ مل کے اس کہانی کا دل بنائیں)

دِلبر ای شیرین زَبونم

مَن میخوام عاشِق بمونم

تو تَقدیر مَنی …

مَن با توام ای مِهربونم۔۔۔

(میری جان ‘میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں’تم ہی میری منزل ہو اور میں ابرمہربان سا لمحہ ہوں تمہارے لیے۔)

وہ یک ٹک اسکے ہلتے لبوں پہ نظریں جمائے اسکی جادوئی آواز میں کھوئی تھی۔ہر طرف ہی روشن اجالے پھیلے تھے۔کھڑکیوں سے جھانکتی چاندنی نے ان لمحوں کے امر ہونے کی گزارش کی تو ستاروں نے محبت کی سازش میں شریک ہونے راہ سجھا دی۔

“امشَب شب عشق است و من عاشِق کن عاشِقتر کُن

بیا احوالمو بهتر کن ، مَنو دیوونه تر کن

آشتی بده گلارو ، بیا نَقاشی کن شبارو

تَمومه غُصه هارو ، امشب به دَر کن۔۔۔۔”

(آج کی رات محبت کی رات ہے جو پھر سے مجھے محبت میں مبتلا کر دے۔ چلو مجھے اپنی محبت سے سنوار دو، مجھے اپنا پاگل کردو’ گلارو سے صلح کرو ، آؤ اور شابارو کو محبت کے رنگ میں رنگ دیں۔۔۔ آج رات اپنے تمام غم دور کر دیں۔)

دلہام بخت اسے آگے بڑھنے کا کہہ رہا تھا’مطلب کے ماضی کٹھان بھلائے وہ مستقبل کی راہ سجھا رہا تھا۔وہ اپنی عنادل سے زندگی کے خوش بخت رنگوں سے صلح کا کہہ رہا تھا۔نم آنکھوں کے گوشے پہ موجود بھورا تل مسکرایا تو ہونٹوں پہ بھی ایک بھنور پڑا تھا۔

دلہام کا ہاتھ اس بھنور کی گہرائی کھوجنے کو اس پہ پڑا تو عناء نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے اس بھنور کو مقید کرنے کی چاہ جتلائی تھی۔دلہام امرت گھولنے کو اس بھنور پہ جھکا تو عناء نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔

“دِل بیقرار عِشقه ، رو قَلب مَن نِوشته۔۔”

(دل محبت کرنے کو بےچین ہے، جس کا دل نے لکھا ہے)

دلہام کی عرضی پہ اس نے فوراً آنکھیں کھولی تھیں۔

“اگه تو بخوای ، جونَمم میدَم۔۔”

( اگر تم کرو گی تو میں کروں گا…)

عناء کی آنکھوں میں تجسس ابھرا تھا۔

دلہام نے شانے اچکاتے دوری اختیار کی گویا اجازت درکار تھی۔

وہ اسے حیران ہی تو کررہا تھا بھلا کون کسی کو محبت میں اتنا معتبر کرتا ہے کہ محبت کیلئے بھی اجازت درکار تھی۔

دلہام کے پیچھے پڑتے قدم عناء کے اندر خالی پن کا احساس بکھیرنے لگے تھے۔

“دل نہیں۔۔۔”

وہ فاصلہ لمحوں میں سمیٹتے اسکے سینے سے جالگی تھی۔

“این رَسم عِشقه …”

(یہ محبت کی رسم ہے)

دلہام نے اسکے کانوں میں سرگوشی کی تو وہ مسلسل نفی میں سرہلانے لگی تھی۔

“ایسا کہاں ہوتا دل کے آپ اپنے سے سب سوچ لو ‘دوسرے انسان کو بیچ منجدھار چھوڑ جاؤ ؟کیا محبت صرف آپ نے کی تھی؟ دل میں۔۔۔”

وہ بہت جذباتی ہورہی تھی تبھی دلہام نے ہلکے سے اسکا سرتھامے اسکا چہرہ بلکل اپنے سامنے کیا تھا۔

کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں گزرے دنوں کے ہزار شکوے آنکھوں میں ابھر رہے تھے دوسرے پل ان شکووں کو دور کرنے کی سبیل نکالی گئی اور دلہام نے شبنمی ہونٹوں کے لفظ چنے تھے ۔اسکا دل اپنے بس میں نہیں رہا تھا۔اتنے دنوں کی پیاس بجھی تو ایک سرور سا رگوں میں اترا تھا۔عناء کے لب مسکائے تھے سرشاری ہی حدسوا تھی۔

“عنادل۔۔”

دلہام نے اسے کھوئے دیکھ پکارا تھا۔۔۔۔

“آپ بہت برے ہیں دل۔۔”

وہ منہ بسورتے ہلکا سا مکا اسکے کشادہ سینے پہ مارتے ہوئے بولی تھی۔

“دل کی عنادل بہت اچھی ہے نا ہم اس پہ صبروشکر گزارہ کرلیں گے۔”دلہام کی آنکھیں اس ملن پہ چمک رہی تھیں تو عناء کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔

اسے چھوڑتے وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا تھا اور سرتاپیر اسکا جائزہ لینے لگا ۔عناء تھوڑی کنفیوژ ہوئی تھی۔

“اچھی لگ رہی ہو بلکل اپنی اپنی سی عنادل ۔”

سادہ لفظوں میں گئی تعریف عنا کا دل دھڑکا گئی تھی۔

“یہ امراؤ مما۔۔۔۔کیا انہیں پتا تھا آپ آرہے ہیں؟”

عناء کی ذہنی رو بھٹکی تھی امراؤ کا اصرار کرتا انداز اور پچھلے دو دنوں کی نسبت آج کے دن کا خصوصی کا اہتمام اسے انکا منصوبہ سمجھ میں آنے لگا تھا۔

دلہام نے گردن اثبات میں ہلائی تو وہ خفا سی منہ پھلا گئی۔

“مطلب کیا ہے سب مل کے مجھے بیوقوف بناتے کسی کو احساس نہیں تھا میں کتنا تڑپی تھی اور یہ سب میری حالت سے مزہ لیتے رہے ہیں۔”۔عناء کو اپنے سودسوزیاں کے حساب میں گزرے دنوں کی یاد آئی تھی۔

“میں نے منع کیا تھا موسیٰ کو کہ کسی کو نا بتائے لیکن اسکے پیٹ میں کچھ کہاں ٹہرتا ہے۔”

دلہام نے پھر سے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔

“کیا موسیٰ بھائی کو پتا تھا آپ کہاں ہیں وہ مجھ سے اتنی بڑی بات چھپا گئے۔”

وہ صدماتی انداز میں بولی تو دلہام کو موسیٰ کی متوقع شامت کا سوچتے ہنسی آئی تھی۔

“کیا اتنا کافی نہیں میں یہاں تمہارے سامنے ہوں ۔”

“ہوں اور اس ہجر کی طویل شام کا حساب کون دے گا جو میں نے آپکو یاد کرتے گزاری ہے۔”

وہ مصنوعی غصے سے بولی تھی۔

“تمہارے شکووں کا جواب میں بہترین انداز میں دے سکتا ہوں اگر تم میرا ساتھ دو تو پر افسوس کہ امراؤ مما کی یہ محنت غارت جائے گی۔”

دلہام نے شرارتی انداز میں کہا تو وہ سٹپٹائی تھی۔

“بولو جواب چاہیئے؟”

دلہام کی معنی خیز نظروں کی تاب لانا اس کے بس میں کہا تھا پلکیں جھکی تھیں ۔

غم کی شام جتنی ہی طویل کیوں نہ ہو آخر اسے ایک دن ڈھلنا ہی تھا تبھی روشن سویرا ہوا تھا ۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

“کیا بھائی مجھ سے کبھی بات نہیں کریں گے؟”

رمز نے مہمانوں سے ہنس ہنس کے بات کرتے دلہام کو دیکھتے اپنے برابر میں بیٹھی عناء سے کہا تو وہ اسکی پرمژدہ شکل دیکھتے اداس ہوئی تھی۔

“ایسا نہیں ہے رمز دیکھنا بہت جلد سب ٹھیک ہوجائے گا۔”

“دورید بھی بات نہیں کررہا ۔”

رمز کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔

عناء اسے کیا تسلی دیتی جو خود سب کے عجیب رویے فیس کررہی تھی پر دلہام کے آنے کے بعد وہ بےانتہا خوش تھی۔

ایک بھرپور دن کا اختتام بہت سی اچھی یادوں کو لیے ہوا تھا۔

ریپشن کے ختم ہوتے ہی وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جب کسی نے اسے بازو سے تھامے احتیاط سے دیوار سے لگایا تھا۔

اسکی آنکھوں میں خوف کا سائیہ ابھرا تھا لیکن آشنا گرفت کی پکڑ محسوس کی تو لب مسکا اٹھا تھے ۔

اس نے ابرو اچکائے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔

“میرے کمرے میں آنے تک ایک انچ کا بھی فرق نہیں پڑنا چاہیئے نا ہی لباس بدلنا ہے۔”

دلہام بخت نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے تحکم دیا تھا۔

عناء کا چہرہ پل میں سرخ ہوا تھا جو اسے ڈریس چینج نہ کرنے کا کہہ رہا تھا۔

“بہت ہیوی ہے میں تھک گئی ہوں ۔”

وہ منہ بسورتے بولی تھی۔

“جو کہنا تھا کہہ دیا ورنہ سخت سزا ملے گی۔”

اسے اپنی گرفت سے آذاد کرتے وہ پیچھے ہٹا تھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا گیلری میں کہیں غائب ہوگیا۔

عناء کے چہرے پہ خوبصورت سی مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا۔وہ سرشار سی اپنے روم میں آئی تھی۔اپنا جائزہ لیا تو خود کو صبح سے زیادہ فریش پایا یقیناً یہ سب اس شخص کی کچھ گھنٹوں کی صبحت کا اثر تھا۔

دل میں گزری ساعتوں کی عذاب سوچوں کا ہجوم ابھی بھی برپا تھا لیکن وقت سب سے بڑا مسیحا ہے یقیناً گزرے کل کو ماضی بننا تھا اور ماضی میں جینا بھلا کہاں کی دانشمندی تھی۔

ادھر دلہام عناء سے ملنے کے بعد دارا جان کے کمرے میں آیا تھا اور دورید کو بلوایا تھا ساتھ ہی رمز کو بھی۔

اسوقت دارا جان بھی اپنے کمرے میں موجود نہ تھے۔رمز کے چہرے پہ گھبراہٹ سی طاری تھی دونوں کو سامنے دیکھتے ہوئے کمرے میں چھائی گھمبیر خاموشی کو دلہام کی بھاری آواز نے توڑا تھا۔

“میں جانتا ہوں کہ آر۔جے کے معمالے میں سراسر میرا ہی قصور ہے جس نے ایک قطعی انجان شخص کو محض دوستی کے نام پہ اپنے گھر میں گھسایا تھا’زندگی کے ہر موڑ بہت سے لوگ ملتے ہیں جنکی فطرت کچھ لمحوں کیلئے ہمیں اچھی لگتی ہے اور ہم انہیں اپنا مان بیٹھتے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ’ ہم انہیں اپنا مان بیٹھتے ہیں کبھی یہ نہیں سوچتے کیا وہ بھی ہماری جیسی سوچ لیے بیٹھے ہیں؟یا کچھ مختلف ہے ۔”

دلہام نے گہری سانس بھرتے پھر سے اپنی بات کا تعلق جوڑا تھا۔

“آر۔جے کے معمالے میں بھی میں اپنی دوستی کو لے کے ایک طرف کی سوچ پہ چلتے اپنے خاندان کو موت کے دہانے لے آیا تھا پر وقت پڑتے سنبھل جانے سے شاید ہم نے پریہان کو اس درندے سے بچا بھی لیا تھا’لیکن اس خاندان کے ایک اور جذباتی انسان نے وہ کہانی پھر سے دہرائی ایک بار پھر ایک اجنبی پہ بھروسہ کیا گیا۔۔۔۔۔”

دلہام نے سختی سے آنکھیں میچتے دوبارہ سے کھولی تھیں۔رمز کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا تھا۔

“اس بار کی کہانی اسیلئے بھی دشمنوں کو فائدہ دے گئی کہ گھر کی بیٹی نے اپنے بھائیوں پہ بھروسہ کرنے کی بجائے غیر شخص پہ اعتماد کرنا زیادہ مناسب سمجھا تھا۔ رمز صرف ایک بات صرف ایک بات پوچھنی ہے مجھے آپ سے بیٹا کیوں آپ کو ایسا لگا کہ آپکے بھائی آپکا سائبان نہیں بنیں گے؟آپکی پسند کو نہیں اپنائیں گے ایک بار بغاوت کرنے سے پہلے صرف ایک بار دورید یا مجھے آکے کہا ہوتا کہ تمہیں موسیٰ پسند ہے ‘تمہیں آر۔جے سے خطرہ ہے تمہارے بھائی اتنے کمزور تو نہیں تھے کہ وہ

حثیت کی خاطر موسیٰ کو ٹھکرا دیتے؟اگر بچپن میں کسی بھی لڑکے کی غلط جیسچر پہ تم اپنے بھائیوں کو شکایت لگاسکتی تھی تو اب کیوں نہیں بھروسہ کیا بھائیوں پہ؟”

باوجود ضبط کے دلہام کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔

“آئی ایم سوری بھائی میں۔۔۔”

رمز کی ہچکیوں نے بات مکمل ہی نہیں کرنے دی تھی۔

“تم موسیٰ پہ بھی تو بھروسہ کرسکتی تھی نا وہ بھی تو تمہارا محرم ہے؟”

دلہام کے سوال بہت کڑے تھے۔

“مجھے لگا شاید آپ لوگ۔۔۔”

“صرف ایک ‘شاید’ پہ انحصار کرتے تم نے ایک اجنبی شخص کی انگلی پکڑتے اسکی اندھی تقلید کی رمز ایسا کہیں نہیں ہوتا بیٹا مجھے بس یہی کہنا ہے اپنے محرم

رشتوں کو اہمیت دینا اور ان پہ بھروسہ کرنا سیکھو میری جان’عناء کا معمالہ یکسر الگ تھا وہ انجان تھی آر۔جے سے پر تم تو نہیں ۔”

دلہام نے کھڑے ہوتے گویا اسے یہاں بلانے کے مقصد سے آگاہ کیا تو وہ اسے دیکھنے لگی تھی۔

دورید بھی اسی تقلید میں کھڑا ہوا تھا۔

“بھائی مجھے معاف کردیں۔”

وہ اسکا ہاتھ تھامے پھوٹ پھوٹ کے رودی تو دلہام نے اسکا سر تھپتھپایا تھا اور آنکھوں سے دورید کو مبہم اشارہ کیا تو وہ بھی رمز کے گرد ایک تحفظ دیتا حصار باندھ گیا تھا۔

“تم خود ہی تو کہتی تھی رمز کے تمہاری دوستیں کہتی ہیں کاش انہیں دلہام اور دورید بخت جیسا بھائی ملے پھر اپنے بھائیوں بےمول کردیا پاگل۔”

دورید نے ہلکا پھلکا انداز اپناتے اسکے سر پہ ہلکی سی چپت رسید کی تھی۔

“سوری بھائی آئیندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا۔”

اسکی وضاحت پہ دلہام نے اسے سینے سے لگایا تھا وہیں ہاتھ بڑھائے دورید کو بِھی اپنے حصار میں لیا تھا جیسے اس نے اپنے آشیاء میں ان پنچھیوں کو تحفظ کا احساس دیاتھا۔

“اوہ تو ایک سوتیلی میں ہی تھی۔”

پریہان کی آواز پہ وہ چونکے جو ابھی وہاں آئی تھی اور بہن بھائیوں کے محبت بھرے مظاہروں پہ کافی جیلس نظر آرہی تھی۔دلہام نے اسے اشارے سے پاس بلایا تھا ۔

وہ دلہام کے شانے سے آلگی دورید نے ایک آنکھ دبائے اسے اشارہ کیا تو دلہام کے سامنے اسکے فلرٹ پہ گھبرا اٹھی۔دلہام خوش تھا کہ بخت حویلی کے بھٹکے پنچھی بلاآخر اپنے آشیاء تک پہنچ ہی گئے تھے۔

اسے یقین تھا کہ اب کے رشتوں کو اہمیت دی جائے گی’ان میں توازن رکھا جائے گا۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

وہ بار بار گھڑی کو دیکھتے ہوئے دروازے کو دیکھ رہی تھی پر دلہام بخت کے آنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے تبھی جھنجھلاتے ہوئے اس نے اپنے پاؤں کو ہیل کی قید سے آذاد کیا تھا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے غصہ پینے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

دلہام کمرے میں آیا تو وہ گہری نیند میں جاچکی تھی۔اسے بےاختیار شرمندگی نے گھیرا کے وہ اسے انتظار کی سولی پہ لٹکاتے خود مصروف ہوگیا تھا۔

دروازہ لاک کرتے وہ اسکے پاس آیا تھا۔ایک بھرپور نگاہ اسکے سراپے پہ ڈالی تو لب آپ ہی آپ مسکرا اٹھے تھے۔

موسیٰ نے جو تصاویر بھیجی وہ اسکے صبر کی دیوار میں آخری کیل ثابت ہوئی تھیں اور سب چھوڑ چھاڑ کے پہلی فلائیٹ سے وہاں آپہنچا تھا اور وہاں آتے اسے اپنے فیصلے صحیح ہونے کا اندازہ ہوا تھا۔

عناء کی اسے دیکھتے جو حالت تھی جیسے صحرا میں بھٹکےشخص کے سامنے پانی کا کنواں آگیا تھا۔

ایک پرسکون گہری سانس بھرتے اس نے عناء کو بانہوں میں بھرا تھا اور لیے بیڈ پہ آیا ۔

“کم از کم آج کی رات تو سونے کی نہیں تھی ظالم لڑکی۔”

وہ اسکے آویزے اتارتے بولا جو یقیناً اسے نیند میں ڈسٹرب کرتے۔

“مائے سلیپنگ بیوٹی۔”

دلہام نے اس پہ جھکتے اسکے ماتھے پہ نفاست سے سجی بندی کو اتارتے سرگوشی کی تھی۔

“پھر بھی قدر نہیں۔”

اسکے سرگوشی کا جواب آنکھیں پٹ سے وا کیے دیا گیا تو دلہام کا قہقہ بلند ہوا تھا۔

“اب ایسی بھی بات نہیں ہے آپ نے موقع ہی نہیں دیا کہ بتا سکیں کتنی قدر ہے آپکی بلکہ دور جاکے تو کچھ زیادہ ہی قدر ہوئی ہے۔”

دلہام کے ہاتھ اسکے گلے میں لٹکتی چین میں الجھے تھے وہیں اسکے دل چھوتے لمس پہ عناء کی سانسیں تھمی تھیں ۔

“دل آپ بہت خراب ہوگئے ہیں۔”

وہ ہلکی سی مزاحمت کرتے بولی تھی۔

“بلکل یہ ایک مسئلہ ہے کہ مسٹر دل اپنی عنادل کو بھی اسی خراب رنگ میں ڈھلتے دیکھنا چاہتے ہیں یعنی محبت کے رنگ میں۔”

دلہام کے لبوں پہ شرارتی مسکراہٹ کا بسیرا ہوا تو کبھی اسے گھورتی اور کبھی اسکی شرارتوں سے محظوظ ہوتی عناء کی جھینپی جھینپی ہنسی نے کئی گلوں میں رنگ بکھیرے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *