Anadil by Uzma Mujahid Novel

"آگئی لڑکی؟"
قوی صاحب نے اپنی ڈیڑھ انچی عینک کے اوپر سے جھانکتے اسے دیکھا۔
"جی سر ۔"
وہ اپنا بیگ اپنی ٹیبل پہ رکھتے اسی سالہ اپنے باس کو دیکھتے مصنوعی مسکراہٹ سجائے مسکائی۔
"تو کیا رہا آج کا دن کوئی بڑی خبر؟"
چشم کے اوپر اٹکی نگاہیں اب اسکے نیچے سے اخبار سے لپٹ رہی تھیں ۔عناء کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ شخص دیکھتا کس اینگل سے ہے۔
"ہیں نا عناء دلاور کو بیسٹ اسٹوڈنٹ آف دا ائیر کا ایوارڈ ملا ہے۔"
وہ بیگ سے اپنی شیلڈ نکالے انہیں دکھانے لگی تھی پر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا تھا۔
"ایک انٹرویو کیلئے جانا ہوگا تمہیں آفس کی گاڑی ریڈی کھڑی ہے۔"
پان چباتے اپنے باس کو کوفت زدہ سے انداز میں دیکھا۔
"میں کیسے انٹرویو لے سکتی ہوں آئی مین میں تو صرف پرنٹر آپریٹر ہوں نا؟"
قوی صاحب کی آنکھیں پھر سے عینک سے جھانکنے لگی تھیں۔
"اس مہینے کی سیلری لینی ہے یا نہیں تمہیں؟"
عناء کی آنکھیں مکمل کھلی تھیں۔
"بڈھا سٹھیا گیا ہے عناء،مر یا جی انٹرویو تو کرنا ہی ہوگا تمہیں۔۔۔پر ۔۔۔"
"باہر ڈرائیور سے کہو تمہیں بخت حویلی لے کے جائے۔"
قوی صاحب کی بات پہ اسکا دل چاہ رہا تھا بڈھے کی آخری دو چار سانسیں بھی چھین لے جو اسکی عمر اللّٰہ اللّہ کرنے کی تھی اس میں بھی وہ دوسروں کو ذلیل کر رہا تھا۔پر اکلوتی نوکری بھی تو پیاری تھی جو بامشکل ہاتھ لگی تھی۔
"پر سر وہ ہے کون دلہا آئی مین دلہام۔"
ایک تو نام ہی کم بخت کا ایسا تھا کہ زبان پہ آئے نہیں دے رہا تھا۔
"موبائل سرچ کرلو ،پولٹیشن ہے ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی الیکٹ ہوا ہے ۔"
سرسری سے انداز میں اسکا تعارف دیتے وہ پھر سے ہاتھ میں پکڑی فائل پہ جھک گئے۔
"اللّٰہ اللّٰہ بوڑھے بابا جانے کونسے سیپ سلائی کررہے ہیں ۔"
"اور سن لو کل کے اخبار میں دلہام بخت کا انٹرویو چھپنا ضروری ہے اسیلئے جب ہاتھ میں پرچہ تھاما ہو تبھی آفس آنا ورنہ نہیں۔"
وہ ہکا بکا قوی صاحب کو دیکھ رہی تھی ۔
وہ پاؤں پٹختے باہر آئی تھی۔
"کہاں ہے یہ بخت حویلی؟"
اس نے پھاڑ کھانے والی نگاہوں سے ڈرائیور کو دیکھا۔
"جی بس یہی شہر سے دو گھنٹے کے فاصلے پہ۔"
ڈرائیور کی بات سنتے وہ جھنجھلاتی ہوئی گاڑی میں بیٹھی پورے راستہ دماغ اس ایوارڈ میں میں رہا تھا جو اسے اپنے بابا کو دکھانا تھا۔پر قسمت کی یاوری جو رات گئے ہی شاید گھر پہنچنے والی تھی تب تک بابا نے سوجانا۔
انہیں سوچوں کی گرداب میں اس نے دو گھنٹوں کا سفر طے کیا تھا اور آفس کی گاڑی ایسی تھی کہ اسکے جسم کا ایک ایک حصہ دکھنے لگا تھا۔
بیرونی گیٹ کی آہنی مضبوطی کو دیکھتے وہ اسے کسی قدیم راجہ مہاراجہ کی حویلی ہی لگ رہی تھی۔
سست روی سے چلتے وہ دالان تک پہنچی تھی ۔
"سنیں کیا دلہا بخت یہی ملے گا؟"
ایک گھنی موچھوں اور داڑھی والا شخص جس نے مکمل چوکیداروں والی یونیفارم پہن رکھی تھی اسے دیکھتے ہی عناء نے گھبرائے ہوئے انداز میں کہا۔
"دلہام بخت۔"
سرد آنکھیں اس پہ گاڑے جواب دیا گیا تو عناء بار بار اس نام کا ورد کرنے لگی بھول جو رہا تھا۔
"ہاں وہی دلہام بخت ہم اخبار سے آئے ہیں انکا انٹرویو کرنے۔"
اس نے جلدی جلدی بتایا مبادہ ان سرد نگاہوں سے وہ فریز ہی نہ ہوجائے۔
اسے ایک بار سر تا پیر دیکھنے کے بعد چوکیدار نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا تھا۔
حویلی کے اندر داخل ہوتے اسے وہ محل نما عمارت دھند میں لپٹی نظر آئی تھی۔اتنی دور پیدل چلنے کا تصور اسے نڈھال کرنے لگا تھا پر جانا تو تھا سو بھاگتے قدموں سے چوکیدار کے پیچھے تھی جس نے اسے مرکزی دروازے پہ چھوڑنے کے بعد واپسی کا رخ موڑ لیا تھا۔
"عجیب"
اپنا فیورٹ لفظ دہراتے اس نے ایک تنقیدی نگاہ ادھر ادھر ڈالی جہاں اکثر عورتیں اور مرد اسے لان کی مرمت ،پودوں کیاروں کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے دکھائی دیے تھے جیسے کوئی روبوٹ کی طرح ۔
وہ سرجھٹکے مرکزی دروازہ کھولنے لگی تھی پر وہ پہلے ہی کھل گیا۔وہاں پر بھی کم وبیش باہر والے چوکیدار کا ہم شکل آدمی "جی" بولتے گویا اسکی آمد کی وجہ جاننے لگا تھا۔
"وہ مجھے دلہام بخت سے ملنا ہے انٹرویو کیلئے۔"
نجانے اور کتنے بندوں کے سامنے یہ نام لینا پڑتا تبھی اچھے سے یاد کیے بولا تو اس شخص نے دروازہ کھول دیا تھا۔
وہ حیرت زدہ سی اندر داخل ہوئی خود کو کوئی ماورائی مخلوق سمجھتے،یہ چیزیں چنیوٹی لکڑی سے بنے اندر کھلتے دروازے ،پیتل ،چاندی اور دیگر دھاتوں سے بنے قدیم نقش ونگار لیے یہ حویلی اسے پراسرار سی لگی تھی۔نجانے اسکی اگلی منزل کیا تھی۔
"بیبی جی یہ بڑے والا دروازہ گھر کے اندر کھلتا ہے جی۔"
پاس سے گزرتی راجھستانی لباس پہنے ایک ملازمہ نے اس پہ ترس کھائے اسے آگاہی دینی چاہی تو وہ سر ہلائے اندر داخل ہوئی جو باہر کی قدیمی عمارت کے بلکل برعکس تھی لیکن لاؤنچ میں پڑا مہنگا فرنیچر وہاں کے مقیموں کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
حویلی میں داخل ہوتی عناء کا دل گھبرایا سا تھا اور اب تو جان تھی کہ لبوں پہ اٹکی نظر آئی۔
یہ سرخ دیواریں ،چنیوٹی لکڑی سے بنا مضبوط دروازہ سب کچھ دیکھا دیکھا سا لگا تھا پر کہاں؟
"اکثر ہمارے وجدان میں ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کے ہمیں لگتا ہے ہم ایسی جگہوں سے،ایسے لوگوں سے شاید دیکھ اور مل چکے ہیں۔"
نفسیات کے ٹیچر کی بات کو دماغ میں دہراتے عناء نے عامر خان کے عظیم قول "آل از ویل" کا پرچار کرتے اعتماد بحال کرنا چاہا اور قدم آگے بڑھائے تھے۔
"ارے عناء تم یہاں واؤ واٹ آ سرپرائز یار؟"
ایک مخصوص جانی پہچانی آواز پہ وہ فوراً سے پلٹی تھی سامنے ہی درید حسب عادت چیونگم چباتے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"درید تم اوہ مائے گاڈ شکر ہے یہاں کوئی انسان تو دکھا۔"
عناء کی خوشی بےساختہ تھی جبکہ درید کو اسکی بات سن کے دھچکا لگا تھا۔
"یو مین گیٹ سے لے کے یہاں تک تمہارا کسی انسان سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے واسطہ رہا ہے؟"
درید کی بات پہ وہ شرمندہ ہوئی تھی ۔
"نہیں آئی مین تم وہ پہلے انسان ہو جسے میں یہاں جانتی ہوں۔"
وہ شرمندہ شرمندہ سی وضاحت دینے لگی تھی۔
"تم یہاں کیسے؟"
درید نے اسکی شرمندگی کا تاثر زائل کرنا چاہا۔
"پتا نہیں یار کوئی دلہام بخت ہے جس نے کوئی الیکشن جیتا ہے اسی کے انٹرویو کیلئے قوی صاحب نے بھیج دیا ہے اس پراسرار سی حویلی میں ایک تو مجھے پولیٹیکس اور پولٹیشنز میں میں ذرا کے انٹرسٹ نہیں اوپر سے یہ آفت۔"
وہ بیزار سی اپنی یہاں آمد کی وجہ بیان کررہی تھی۔
"یو مین تم دلہام بخت کا انٹرویو کرنے آئی ہو اور وہ بھی بنا پرپریشن کے؟"
درید نے حیرانگی سے سر تاپیر پھر اسکا جائزہ لیا۔
"ہاں نا تمہیں تو پتاہے یہ میری پارٹ ٹائم جاب ہے لیکن یہ انٹرویو وغیرہ۔۔۔۔۔"
"درید انہیں بتا دو کہ جو بچے بنا تیاری کے پرچہ دینے جاتے ہیں وہیں فیل ہوتے ہیں اور لوزرز سے دلہام بخت بات نہیں کرتا۔"
بھاری گھمبیر آواز پہ درید کے ساتھ ساتھ عناء کا دل بھی حلق میں آیا تھا ۔
"ایکسکیوزمی ٹیک آ سائیڈ ۔"
وہیں بھاری آواز عناء نے رخ موڑے اپنے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھا تھا اور اسی لمحے اس شخص کے گلاسسز لگانے کیلئے اٹھتے ہاتھ بھوری آنکھوں کے پاس ابھرے سیاہ تل کو دیکھتے رکے تھے۔
"عنادل"
نیم وا لبوں سے سرگوشی سی ہوئی تھی۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *