Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 07)
Rate this Novel
Anadil (Episode 07)
Anadil by Uzma Mujahid Novel
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ دارا جان میں بھلا ایمرے سے شادی کیسے کرسکتا ہوں۔”
وہ سرخ چہرہ لیے بی جان کی تمام تر گھوریوں کو اگنور کیے انکے سامنے آیا تھا۔
“اوہ تو تم بخت حویلی کے اصولوں سے روگردانی کروگے بیٹا جی؟”
ہمیشہ نرم مزاج رہنے والے دارا جان کو بھی اس کی روش پہ غصہ آیا تھا۔
“پر میں ارینہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
وہ دوٹوک اپنا فیصلہ سنانے لگا تھا۔
“سنیں جی صیح تو کہہ رہا ہے آپ افراہیم کو منع کردیں بلکہ ایمرے کیلئے کوئی اور بر ڈھونڈ لیتے ہیں ارینہ بچی میرے دل کو بھی بھائی ہے تو۔۔۔۔۔”
“بس بہت ہوگیا ،اگر اسے یہ ہمارا فیصلہ منظور ہے تو یہاں رہے نہیں تو کہیں بھی منہ کرلے میں یہی سمجھوں گا کہ تیسرا بیٹا تھا ہی نہیں میرا۔”
دارا جان کی دھمکی پہ بی جان دل پکڑے بیٹھی تھیں۔
عجیب سی سرد مہری در آئی تھی بخت حویلی کے مقیموں کے دلوں میں۔
خود کی لڑائیاں لڑنے کے بعد وہ ارینہ کے پاس آیا تھا۔
“ہمارے پاس اسکے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم بھاگ کے شادی کریں۔”
اسکی بات ارینہ کے سر پہ لگی تھی۔تبھی وہ انتہائی بےمروتی کا مظاہرہ کرنے لگی تھی۔
“یہ کیسی بات کررہے ہیں آپ شاہ بخت ہم کہیں نہیں جانے والے آپ ہماری اپیا کی چوائس ہیں ہم خوش ہیں انہوں نے ہم سے ہی پوچھا تھا کہ وہ شاہ بخت کو پسند کرتی ہیں تو ہم نے انہیں کہا بابا سے بات کریں۔سوری اگر آپکو ہم سے کو رغبت ہوئی تو اس میں ہمارا قصور یقیناً نہیں ہے۔”
ارینہ کا دوٹوک جواب شاہ بخت کا دل توڑ گیا تھا شاید وہ بہن کیلئے قربانی دینا چاہ رہی تھی اسیلئے انہوں نے آخری بار کی کوشش کی لیکن دارا جان نے کسی قسم کے ساتھ نہ دینے کا اعلان کرتے قطعی تعلقی کا جواب دیتے ارینہ کا رشتہ افراہیم نے اپنے چھوٹے بھائی کے بیٹے منیب بخت سے طے کردیا اور ساتھ میں جھٹ منگنی پٹ نکاح بھی کردیا تھا۔
شاہ بخت نے اپنی محبت کو یوں نیلام ہوتے دیکھ چپ سادہ لی۔
اب انکے سوا دارا جان کے فیصلے کے آگے سر جھکانے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا محبت ملی نہیں تھی جس کا روگ لیتے اور امید بچی نہیں تھی جس کے سہارے عمر بتاتے۔
وقت تھوڑا سا اور سرکا تھا ارینہ اور ایمرے دلہن کی سج دھج لیے اپنے پیا کے آنگن میں چاند بن کے اتری تھیں۔
جہاں ایمرے اتنی جلدی اپنی محبت پالینے کے سرور میں مبتلا تھیں وہیں شاہ بخت انکے وجود میں ارینہ کی خوشبو تلاش کرتے نظر آتے جب شادی کے دوسال بعد ہی انکی جھولی میں دلہام بخت نے آتے انہیں کسی ایک سمت چلنے پہ مجبور کردیا تھا۔
انہی دنوں ایک ایسا واقعہ ہوا تھا جس نے شاہ بخت کی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیا تھا ۔
منیب بخت اور ارینہ کا انتہائی سریس ایکسڈینٹ ہوا تھا جسکے بعد وہ اجڑا سہاگ لیے بیوگی کی چادر اوڑھ گئیں۔
ڈاکٹر نے انہیں امید سے ہونے کی نوید سنائی تو وہ تڑپ کے رہ گئیں۔
دوسری طرف شاہ بخت اپنے محبت کے یوں اجڑ جانے پہ ایمرے سے بددل نظر آتے تھے اور انکے درمیان ہوتی چھوٹی چھوٹی چپقلش کبھی کبھی شدت اختیار کرجاتی تو بڑے مل بیٹھ کے فیصلہ کرتے سلجھا لیتے۔
ادھر ارینہ کو اپنا وجود چور لگنے لگتا تھا جسکی وجہ سے یہ سب ہورہا تھا۔۔وہ محبت جو راکھ بن گئی تھی ارینہ کو سامنے دیکھ شاہ بخت کیلئے اپنے جزبات پہ قابو رکھنا آسان نہ تھا لیکن وہ پھر بھی دلہام بخت کیلئے خود کو ایمرے کی طرف متوجہ کرنے لگے تھے اسکا حل یہی نکالا تھا کہ وہ ان سب سے دور ہوجائیں۔
















دلہام بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں گاؤں آیا تو اپنے بزی شیڈول سے وقت نکالتے حویلی بھی آیا تھا۔
سامنے ہی بی جان اور مما کپڑوں کا ڈھیر نکالے بیٹھی تھیں جبکہ ایک طرف کئی ایک جدید اور پرانے فیشن کے گہنوں کے انبار لگے تھے۔
“لو آگیا دلہا بھی،بتاؤ دلہام ان میں سے کون کون سے ڈریسسز بری کیلئے رکھوں تمہاری دلہن کے۔”
مما کی بات سنتے اس کا چہرہ نظروں کے سامنے آن سمایا تھا اور ساتھ ہی اسکے ارادے اگر وہ سب جان لیتے تو یقیناً مایوس ہوتے۔
“جو آپکو اچھا لگے مما جانی۔”
دلہام نے زرا کے جھکتے انکی پیشانی کا بوسہ لیا تو وہ اسکی اس قدر محبت پہ نہال ہوئی تھیں۔
“شادیاں بھی انہی کی کروائیں محبتیں بھی انہی پہ نچھاور ہوں ہم تو جل جل کے مرجائیں۔”
دورید کی آمد شکایات سے پر تھی۔
“اللّٰہ رے اس لڑکے کا ناشکرا پن۔”
بی جان کے کہنے پہ دلہام نے انکے برابر نشست سنبھالی تھی۔اسے اپنے رشتوں سے بےپناہ پیار تھا اور رشتے ہی اسکی کمزوری تھے۔
“لو آپکے اس سپوت سے پہلے ہی ہم نکاح شدگان کی لسٹ میں پائے جاتے ہیں زرا کوئی خیال ہی رکھ لیتا تو۔”
دورید نے برملا شکوہ کیا تو سب کے لبوں پہ مسکراہٹ در آئی تھی۔
“کل تمہارے دارا جان عناء بچی کے پاس جانا چاہ رہے ہیں وہ اکیلی وہاں کیسے بھلا شادی کے انتظامات کرے گی اسیلئے دونوں کے فنکشن ایک ساتھ نبٹاتے ہیں اور اسے یہاں آنے کیلئے منانا ہے۔”
بی جان نے اپنا ارادہ بتایا تو وہ سر ہلا گیا تھا اور اسکے علاوہ کرکیا سکتا تھا۔
بی جان اور دارا جان آئے تو انکے ساتھ رمز اور پریہان بھی چلی آئیں تھیں دورید بخت بھی موجود تھا۔
“سچ میں دلہام بھائی کی چوائس کتنی پیاری ہے نا۔”
رمز نے نازک سی عناء کو فریفتہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں یہ اپنے قسمت کا بخت ڈھونڈنے وہاں پہنچی تھیں تبھی مل گیا اور ایک ہم ہیں جو میسر ہیں پر قدر نہیں ہے۔”
دورید تو بیچ کی ساری کاروائی سے آگاہ تھا تبھی ذومعنی انداز میں کہا تھا۔
“اچھا ہے نا بھیا کی نیا پار لگی تو اب تمہاری باری آئے گی۔”
رمز نے اسے چڑایا تو دورید کی نگاہ پریہان کی طرف اٹھی تھی جس نے رخ موڑ لیا اور وہ گہری سانس بھر کے رہ گیا تھا۔
“اپنی ایسی قسمت کہاں کیا ہی اچھا ہو عناء یار تم ہماری پریہان کو اپنی شاگردی میں لے لو۔”
دورید نے عناء کے سامنے عرضی رکھی تو وہ پریہان کے چہرے پہ چھائی لالی اور دورید کی آنکھوں کی چمک کا کنکشن جوڑنا چاہا تھا۔
“میرے خیال سے ہمیں شادی کی تیاری شروع کردینی چاہیئے پر بیٹا کیا ہی اچھا ہو کہ ہم عناء بچی کو گھر لے چلیں اور ساری رسمیں ایک ساتھ ہی کی جائیں۔”
دارا جان کی بات پہ سچ میں اسکا دل دھڑکا تھا۔
بی جان اور لڑکیاں اسے بری کے سوٹ دکھانے لگی تھیں جبکہ حویلی کی لڑکیوِں کے ساتھ اسکا انداز کافی حدتک سپاٹ رہا تھا ۔
وہ سادہ لوح لڑکیاں اسے شرماہٹ پہ معمور کررہی تھیں۔
اگلے آنے والے دنوں میں شادی کی ڈیٹ فکس کردی گئی تھی ۔اس دن وہ اپنے گھر کا سامان سمیٹنے میں لگی تھی جب دلہام چلا آیا۔
“تو یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟”
کڑک کاٹن کے سوٹ میں ملبوس کندھوں پہ شال رکھے وہ روایتی لین لارڈ ہی لگ رہا تھا اسے جو ایک بار پھر سے اسے راستے کی دشواریوں سے آگاہ کررہا تھا۔
“ابھی بھی کوئی شک ہے کیا؟”
عناء نے پیک شدہ سامان کی طرف اشارہ کیا تھا۔
“تم چاہ کیا رہی ہو آخر؟”
وہ جھنجھلایا سا تھا۔وہ لڑکی اس جیسے مضبوط عصاب کے بندے کو گھائل کررہی تھی۔
“دلہام بخت کا دل۔”
ایک ادا سے کہتے اس نے دلہام کے دل پہ ہاتھ رکھا تھا۔
وہ بےساختہ اسکا ہاتھ جھٹک گیا تو خفت کے مارے عناء کا چہرہ سرخ پڑا تھا لیکن دوسرے ہی لمحے اپنی ازلی ڈھٹائی سے دلہام کے قریب ہوتے اسکے سینے پہ سر ٹکائے اپنے دونوں بازو اسکے گرد وا کیے۔
“نہ چھڑا سکو گے دامن جو میں دل کی بات کہہ دوں۔”
ایک ادا سے وہ گنگنائی تو دلہام کے پاؤں زمین میں جکڑے گئے تھے۔
جبکہ اسکا حصار توڑنے کی اب کے گستاخی نہیں کی تھی۔
“میں بہترین ہمراز ہوں دلہام بخت آزما کے دیکھ لیں۔”
وہ سراٹھائے اسکی غیض وغضب کا شکار ہوتی نظروں میں دیکھتے بولی تھی۔
دلہام کتنی ساعتیں خاموش کھڑا رہا تھا لیکن وہ اس ڈیڑھ فٹی لڑکی سے ہار نہیں سکتا تھا تبھی اس سے فاصلہ بناتی عناء کو اپنی گرفت میں لیا تو وہ چونک اٹھی یہ پلین تو اسکا تھا دلہام بخت کیوں؟
وہ بازی گر اچھی نہیں تھی تبھی دشمن کے وار سے سہم جایا کرتی تھی اور کتنی بار ہی دلہام بخت نے اسکی اس کمزوری کو سمجھا اور پرکھا تھا۔
“چاک دامن گر کردیا تو بےحجابی کے منظر سہہ نہیں پائیں گی عنادل اسیلئے آگ پانی کے کھیل سے دور رہیں نا۔”
دلہام نے زرا کے جھکتے اسکے کانوں میں سرگوشی کرتے لبوں کو ہلکے سے اسکی صراحدار گردن سے مس کیا تھا ۔
تاثر یہی دیا گیا کہ غلطی سے ہوا ہے جبکہ اسکی جسارت پہ عناء بت بنی تھی۔
“کتنے بدتمیز ہیں آپ ،یوں خواہ مخواہ اکیلے ہونے کا ایڈونٹیج نہیں لے سکتے۔”
اب کے وہ اسے پیچھے دھکیلنے لگی تو دلہام مزید شرارتوں پہ مائل نظر آیا تھا۔
“ہم اہل قدردان ہیں کوئی یوں قریب آئے تو پیچھے دھکیلنا گویا مہمان کی بےقدری ہے۔”
دلہام بخت کی گرم سانسوں کا بوجھل پن بڑھتے ہوئے ایک بار پھر سے شرارت کرگیا تو عناء کی جان پہ بن آئی تھی۔
“مجھے آپکی کسی قدر کی ضرورت نہیں ہے عناء اپنا مقام خود بنا لے گی چھوڑیں مجھے فضول انسان لڑکیوں کو پکڑنے کی بھی تمیز نہیں ہے۔”
وہ اناپ شناپ بولتی دلہام کو مزید اکسا رہی تھی۔
“وہیں تو تجربہ کررہا ہوں حالانکہ کوئی دو دو بیویوں کا الزام بھی لگا چکا ہے مجھ اناڑی پہ جسے شراب اور شباب کی لت بھی ہے، شراب نہ سہی شباب تو میسر ہے اور وہ بھی مکمل حق کے ساتھ یقیناً اعتراض کی گنجائش ہی نہیں بچتی ہے اب تو ۔”
دلہام نے اب کے اسے اٹھاۓ بیڈروم کا رخ کیا تو عناء گڑبڑائی تھی مگر وہ تو اسے کسی اور ہی موڈ میں نظر آیا تھا۔
“دیکھیں دلہام بخت میں آپکی بہت عزت کرتی ہوں اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپکا جو دل چاہے گا آپ ویسے کریں گے جبکہ۔۔۔”
عناء کے باقی ماندہ الفاظ دلہام کے لبوں نے چنے تو دہشت سے اسکی نگاہیں پھٹی پھٹی رہ گئیں۔
اسے اپنی سانس بند ہوتی معلوم ہوئی تھی۔
وہ اسکے کندھوں اور سینے کو نوچتے دلہام کو پیچھے ہٹانے کی تگ ودو کرنے لگی تھی پر اس پہ تو جیسے فرق ہی نہیں تھا۔
عناء کی غیر ہوتی حالت پہ مسکاتے اسکے لبوں کو اپنی
قید سے آزاد کیا تو گہری گہری سانسیں بھرتے آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے لگی تھی۔
“آزمانے کی کوشش مت کرنا عنادل ورنہ تنہائیوں کو اپنے بس میں کرنا آتا ہے مجھے ایکسپرینسڈ شدہ بندہ ہوں۔”
بھاری لب ولہجہ عناء کا دماغ فل آن چکرا چکا تھا۔
اس نے کاٹدار نگاہوں سے دلہام کو دیکھا جو اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے اسکے دیے زخموں کا جائزہ لینے لگا تھا جبکہ اسکا چوڑا سینہ ،کھلا گربیان عناء کو شرم کے مارے رخ موڑنے پہ مجبور کرگیا تھا۔
دلہام نے چینوٹی دل ،ہاتھی دوست بنانے کی دعویدار لڑکی کو دیکھا تو لبوں پہ گہری مسکراہٹ کھل گئی تھی۔
“میں دارا جان سے آپکی شکایت لگاؤنگی کہ آپ مجھے ٹارچر کرتے ہیں اور اس شادی کو ختم کرنے کیلئے مجھ پہ پریشر ڈال رہے ہیں پھر دیکھئے گا اپنا انجام۔”
عناء نے تگڑی دھمکی دی تو وہ اسکی قسمت پہ افسوس کرکے رہ گیا۔
“صرف دو باتیں اور دارا جان کے سامنے تمہارا یہ ستی ساوتری کا سارا ناٹک کھل جائے گا اگر کوئی عزت دے رہا ہے عنادل تو بہتر ہے لے لو اور اس رشتے کے انجام کی فکر نہ کرو وہ تو وہیں ہوگا جق دلہام بخت چاہے گا۔”
بنا اسکی بات سے متاثر ہوئے حسب عادت دھمکی کا جواب دھمکی سے دیتے اس نے باہر کی طرف قدم بڑھائے۔
“باہر آؤ موسیٰ سامان لے آئے گا۔”
اسکے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھتے دلہام نے اسے باہر آنے کا حکم دیا تو گھر چھوڑنے کا سوچتے اسکا دل بھرآیا تھا۔
پر بڑی منزل کے مسافروں کو چھوٹی چھوٹی چیزیں اتنا بھی متاثر نہیں کرسکتیں تبھی وہ باہر آئی تو دلہام بخت کو فرنٹ سیٹ پہ ایستادہ دیکھ کنفیوژن کا شکار نظر آئی کہ وہ کس کے ساتھ جانے والی ہے کیونکہ پیچھے ہی موسیٰ کی گاڑی کھڑی تھی۔
“کیا دوبارہ سے انیوٹیشن دینا پڑے گا؟”
کڑے تیوروں سے گھورتے اس نے عناء کو کہا تو وہ سرجھٹکتے اسکے برابر میں آبیٹھی تھی۔
محلے والے دلہام بخت کو عناء کے ہمراہ دیکھتے مختلف چہ مگوئیوِں میں مصروف نظر آئے پر اسے پرواہ ہی نہیں تھی۔
“سنو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تم مجھے بنا نقصان پہنچائے گاؤں لے کے جاؤ گے؟”
گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی عناء اسٹارٹ لے چکی تھی۔
“صیح سوچا ہے میں تمہیں لے کےجانےوالا بھی نہیں ہوں۔”
سامنے دیکھتے ہوئے اس نے کہا تھا۔
“اوہوں پتانہیں کیسے جھیلوں گی میں اس شخص کو ساری عمر دیکھو دلہا بخت میرے اپنے کافی نخرے ہیں تو میں آپکے نخرے نہیں سہہ سکتی اوکے تو ذرا یہ اپنا۔۔”
“اگر ایک لفظ اور بولا تو باہر پھینک دونگا اور کہہ دونگا کہ تم بھاگ گئی ہو۔”
وہ اسوقت اسکی فضول گوئی سننے کے قطعاً موڈ میں نہیں تھا۔
“اور آتا کیا ہے بخت حویلی کے مقیموں کو الزامات لگانے کے سوا؟”
عناء کی بات پہ دلہام کا دماغ ایک دم سے خالی ہوا تھا اور دوسرے ہی لمحے ہوا سے باتیں کرتی گاڑی کو دیکھتے وہ اندازہ کرچکی تھی کہ بےوقت کی بونگی سے اسکے عصاب چٹخنے لگے تھے۔
دو گھنٹے بعد وہ اپنی منزل پہ پہنچ چکے تھے۔
ایک بار پھر وہ یادوں کے مسکن میں اتر آئی تھی۔
سب اسے وہاں دیکھتے بہت خوش تھے ماسوائے اسکے جسکے نام سے منسوب کرکے لائی گئی تھی وہ اسے یہاں لاتے ہی بھول گیا تھا اور پلٹ کے ہی نہیں آیا۔
