Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 25)
Rate this Novel
Anadil (Episode 25)
Anadil by Uzma Mujahid
وہ یک ٹک اپنے سامنے کفن میں لپٹی لاش دیکھ رہا تھا۔
اسے یقین تھا کہ دلہام بخت کی اذیتوں کے سودذیاں کا حساب کرتے وہ صیح روش اپنا لیں گی۔
وہ ممتا کا قرض ادا کریں گی لیکن ایسا قرض؟
اسکا یقین توڑ دیا گیا تھا ایک بار پھر سے دلہام بخت ٹوٹ گیا تھا۔ایک بھٹکا آنسو بھیگی پلکوں کے کنارے پہ آٹکا تھا۔
اس نے اذیت سے آنکھیں بند کرلیں۔
“دلہام جنازے کا وقت ہوگیا ہے۔”
دارا جان نے اسکے شانے پہ ہاتھ رکھا تو اسے نے آنکھیں کھولے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا اور پھر معیز چچا، بابا جان سے ہوتی نگاہ انکے پیچھے موجود لوگوں پہ پڑی تھی اور پھر سے کفن میں لپٹی لاش پہ۔
“آپکی ذہنی رو صرف اس خودغرضی میں ہی کیوں بھٹکتی ہے کہ دوسروں کی خوشیاں چھیننا آپکی ہابی بن چکی ہیں۔”
“کلمۂ شہادت۔۔۔۔”
میت کو اٹھانے کو چار کندھے آگے بڑھے تھے تب کسی نے دلہام کو بھی شاید آگے کیا تھا وہ میکانکی انداز میں چارپائی کا کونہ پکڑتے کھڑا ہوگیا تھا۔
“آپکے وجود کا حصّہ ہوں شرمندگی ہے مجھے اس بات کی۔”
حویلی کے دالان پہ ٹہرا دلہام بخت سختی سے کسی سے مخاطب تھا۔آنکھیں دھندلا رہی تھیں۔
“فاتح صرف ایک ہوتا ہے۔۔۔”
“آپ تو اس داستان میں خودغرضی سے زیادہ کچھ کردار نبھا ہی نہیں سکیں۔۔۔”
وہ خودغرض عورت فاتح بن گئی تھی کیونکہ اس نے دلہام بخت کے یقین کو ہرایا تھا۔
وہ ماں تھیں اور دلہام کو انکی محبت آج محسوس ہورہی تھی۔پچھتاوے گھیرنے لگے تھے باپ کے قاتل کے مرنے کی خوشی منائے یا ماں کے مرنے کا سوگ۔
وہ ارینہ کی طرف بےنام موت نہیں مری تھیں وہ تو دلہام بخت کی ماں مرحوم شاہ بخت کی بیوہ ہوکے ایک شان تفاخر سے حویلی سے نکلی تھیں۔
عناء کے دل پہ بھی بوجھ بڑھنے لگا تھا۔
خودغرضی کی اس داستان کو آج وہ بند کرکے اپنا نام اس دنیا سے ہٹا گئی تھیں بنا دنیا کو سچائی سے آگاہ کیے۔
ایمرے کی موت بہت اچانک تھی اسے خبر ملی تھی کہ اسکے کمرے سے جانے کے بعد وہ گم صم ہوگئی تھیں حتیٰ کے کھانے پینے سے بھی منہ موڑ لیا تھا اور پغر دوسرے دن وہ اپنے کمرے میں مردہ ملی تھیں ڈاکٹر نے کہا تھا کہ وہ ہارٹ اٹیک کا شکار ہوئی تھیں۔
کفن ،دفن سے سوئم تک کا عرصہ اس نے اس دنیا سے کٹ کے گزارا تھا ۔ماسوائے مردوں کے کسی نے بھی اسکی شکل نہیں دیکھی تھی کیونکہ اس نے اپنا اوڑھنا بچھونا مردان خانے میں رکھا تھا۔آج دارا جان اسے زبردستی حویلی کے اندر لائے تھے امراؤ اور بی جان نے اسے آگے بڑھ کے تسلی دینے کو اسکے شانے پہ ہاتھ رکھے تو خفیف سا سرہلاتے اپنے ٹھیک ہونے کا کہتے فارمیلٹی نبھا گیا تھا۔
عناء انگلیاں چٹخاتے دور سے اسے دیکھ رہی تھی اسے رہ رہ کے اپنی ماں یاد آرہی تھی یہ درد تو اس نے بھی سہا تھا لیکن اسوقت بخت حویلی والوں کی نفرت میں وہ اپنی ماں کا غم بھی صیح سے نہیں منا سکی تھی اور تب محبت کا سوگ بھی منانا تھا لیکن آج۔۔۔
اسے دلہام بخت کی تکلیف اپنے دل پہ محسوس ہورہی تھی وہ عناء کے قریب نہیں رہا تھا لیکن عناء اسکے قریب رہتے اسکا غم بانٹنا چاہتی تھی ۔ناراضگی اور غم وغصے کا سہی انکے درمیان ایک رشتہ تھا وہ ایک دوسرے کے قریب رہتے آئے تھے پر آج جیسے اجبیت کی دیوار آٹکی تھی جسے وہ پھلانگ ہی نہیں پارہی تھی۔وہ جان سکتی تھی کہ اپنے دل کو خود سے بہت دور کرلیا ہے اس نے۔
رمز نے آگے بڑھتے اسکے بازو پہ سر رکھا تو دلہام چونکا تھا جو شاید اسکے غم میں شریک اپنائیت جتاتا احساس تھا اور پھر نگاہ رمز سے ہوتی عناء پہ پڑی تھی جسکے پیچھے ہی موسیٰ ٹہرا تھا۔
وہ سب پہ سرسری نگاہ ڈالتے رمز کے ہاتھوں سے بازو چھڑاتے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
اذیتیں بڑھ رہی تھیں جنکی حد لامحدود تھی۔
عناء نے سوالیہ نگاہوں سے موسیٰ کی جانب دیکھا وہ نظریں چرا گیا تھا ۔ایک وہیں تو تھا اسکا قریبی جو اسکی ہر کیفیت کے پیچھے محرک سے آگاہ رہتا تھا۔
دلہام کا ریکشن رمز کیلئے بھی تھوڑا آکورڈ تھا مگر اسکے ذہنی خلفشار کو محسوس کرتے وہ درگزر کرگئی تھی۔
“جاؤ بیٹا اس وقت بیوی ہی بہترین غم گسار ہوتی ہے دلہام کو تسلی دو جو اللّٰہ کو منظور تھا وہ ہوگیا اسکی رضا میں راضی رہنا ہی مصلحت پسندی ہے،اللّٰہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے۔۔۔”
بی جان نے عناء کے شانے پہ ہاتھ رکھا تو وہ سراثبات میں ہلاتے کمرے میں آئی تھی وہ بیڈ پہ لیٹا اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔
کمرے میں چھائی گہری خاموشی عناء کا دل ہولانے لگی تھی بےاختیار آگے بڑھتے ونڈو سے بھاری کرٹن ہٹائے تھے ستاروں بھرے روشن آسمان نے اسکی طبیعت پہ اچھا اثر ڈالا تھا۔
وہ سست روی سے چلتے اسکے برابر آبیٹھی دل بنجارہ سا ہمک ہمک کے اسکی توجہ کا منتظر تھا۔
لرزتے ہوا ہاتھ اسکے سر پہ رکھا تھا اور مخروطی انگلیوں کا لمس مساج کے انداز میں اسکے بالوں میں گھلنے لگا تھا۔
دلہام نے آنکھوں سے بازو ہٹائے اسے دیکھا جہاں اس کیلئے فکر عناء کے چہرے پہ درج تھی تو پرسوچ نگاہیں اس پہ جمی اسکے اندر کے رازوں کو تلاشنے کی کھوج میں تھیں۔
کچھ دیر اسے خاموش نظروں سے دیکھتے آنکھیں موند لیں اور اسکی طرف کھسکتے ہوئے اسکی گود میں رکھ گیا تھا۔
دلہام کا یہ عمل عناء کیلئے کسی انہونی سے کم نہیں تھا وہ اسکے سر میں اپنی مخروطی انگلیاں پھیرتے اسکے بالوں سے کھیلنے لگی تھی۔
“جو ہوا کیا اسے قسمت کا لکھا سمجھ کے قناعت نہیں کرسکتے آپ۔”
چپ کا روزہ ٹوٹا تھا۔
دلہام نے پیٹ کے بل لیٹتے مکمل طور پہ خود کو اسکی پناہ میں گم کرلیا تھا وہ واقعی ماں سے بچھڑا پریشان سا بچہ لگ رہا تھا۔
کیا یہ ستم نہیں تھا کہ جن حوالوں سے وہ ایک دوسرے سےمیلوں کا فاصلہ اپنائے ہوئے تھے ہمیشہ وہیں حوالے انہیں قریب بھی لائے تھے۔
صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے
میں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے
پھر اس کے بعد زمانے نے مجھ کو روند دیا
میں گر پڑا تھا کسی اور کو اٹھاتے ہوئے
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
پھر اس کے بعد عطا ہو گئی مجھے تاثیر
میں رو پڑا تھا کسی کو غزل سناتے ہوئے
خریدنا ہے تو دل کو خرید لے فوراً
کھلونے ٹوٹ بھی جاتے ہیں آزماتے ہوئے
تمہارا غم بھی کسی طفل شیرخار سا ہے
کہ اونگھ جاتا ہوں میں خود اسے سلاتے ہوئے
اگر ملے بھی تو ملتا ہے راہ میں فارسؔ
کہیں سے آتے ہوئے یا کہیں کو جاتے ہوئے۔۔۔
“میں نے ساری زندگی انہیں خود سے محروم رکھا ہے کیا تم اس اذیت کا اندازہ کرسکتی ہو جو بن ماں باپ کے بچے کی ہوتی ہے؟تمہیں تو سب میسر رہا ہے نا اور میں۔۔۔۔”
کمزور لہجے کی تکان پہ وہ اسے دیکھنے لگی اگرچہ آواز سرگوشی نما تھی مگر اسکی توجہ کے دھاگے مکمل طور پہ اسکی طرف مبذول تھے تو وہ بخوبی سمجھ پا رہی تھی۔
“میں تھک گیا ہوں ان اذیتوں کا شمار کرتے ہوئے مجھے سکون چاہیئے ۔”
ایک گہری سانس بھرتے وہ اٹھ بیٹھا تھا عناء خاموش سی اسے دیکھ رہی تھی جو اپنے سر کے بالوں کو جکڑے بدحال بیٹھا تھا۔
عجب کیفیت تھی پاس بیٹھا شخص اسکا محرم تھا اسکی اولین چاہت تھا ہاتھ بڑھا کے وہ اسکے دکھوں کا مدوا کرنا چاہتی تھی پر جانے کیا چیز اسے روک رہی تھی۔
“تم شاید میری وجہ سے پریشان ہورہی ہو؟”
اسکا انداز بدلہ تھا انتہائی نرم انداز میں کہتے اس نے عناء کے ہاتھ تھامے ہولے سے اپنے لبوں سے لگائے تھے۔
اسکا لمس رگ وجان میں سکون بن کے اترا تھا۔
لب اس پرشکن حادثے کے باوجود بھی مسکرا اٹھے تھے۔
سر خودبخود نفی میں ہلا تھا ۔
“میں کچھ دنوں کیلئے اس سب سے دور جانا چاہتا ہوں کیا تم میرے ساتھ چلو گی عنادل؟”
حددرجہ یارانہ تھا بلا کا مان بھرا انداز تھا اسکا دل پرزور انداز میں دھڑکا تھا بھلا اس انداز پہ انکار کی گنجائش تھی؟اس نے پھر سے نفی میں سرہلایا تھا۔
“میرے سر میں درد ہے کیا تم دبا دوگی؟”
وہ باتوں پہ مائل نظر آیا تھا نوازشات مانگ رہا تھا جبکہ عناء وہ تو صرف اسے سننا چاہتی تھی اثبات میں سر ہلا تو دلہام نے اسکے برابر میں تکیہ سیٹ کرتے سرٹکایا جبکہ کروٹ کے بل لیٹتے رخ اسکی جانب کیا تھا ۔
دلہام نے اسکے مومی ہاتھ اپنے ماتھے پہ رکھتے گویا مسیحائی کا لمس چاہا تھا اور آنکھیں موند لیں۔
عناء میکانکی انداز میں اسکا سردبانے لگی تھی۔
دماغ میں اسکے پرسکون انداز کو دیکھتے بھونچال سا برپا تھا جانے کیوں اسکے انداز ڈرا رہے تھے ،اوبہام میں مبتلا کرنے لگے تھے اس نے دلہام بخت کو اتنا بےچین اور پھر اتنا پرسکون کبھی نہیں دیکھا تھا۔
تھوڑی دیر بعد اسے احساس ہوا تھا دلہام پرسکون نیند سورہا ہے۔
عناء کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ جھپ دکھا گئی وہ اس پہ جھکتے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ گئی تھی شاید یہ بھی مسیحائی کا انداز تھا یا شریک غم ہونے کا یقین دلانا چاہتی تھی ۔
کچھ دیر اسکے پرمژدہ چہرے کو دیکھتے وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا گئی تھی۔
اب تو نفرت کی وجہ ہی ختم ہوچلی تھی بھلا اب بھی دلہام کے وجود سے وہ نظریں چرا سکتی تھی جس سے دل ودماغ کے ساتھ روح کا رشتہ بھی تھا۔




















“میں تمہیں کہہ رہی ہوں مجھے نہیں پتا میں کچھ نہیں جانتی کہ وہ کہاں ۔۔۔۔”
کال پہ بات کرتی رمز کی سانسیں اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرتے اٹکی تھیں۔
وہ ایک جھٹکے سے مڑی تھی سامنے ہی وہ دونوں ہاتھ سینے پہ جمائے اسے دیکھ رہا تھا۔
“بب۔۔۔بھائی وہ۔۔۔”
“میں کب سے آپ کو کچھ بتانا چاہ رہا تھا بیٹا۔”
وہ پرسکون سے انداز میں بولا تو رمز کو گونا گو سکون کا احساس ہوا کہ اس نے کچھ نہیں سنا تھا۔
“جج۔۔۔جی۔۔بھائی۔”
اس نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پہ سجانی چاہی تھی۔
“بابا جان اور بی جان کی خواہش ہے کہ پریہان کے فرض کے بعد وہ آپکو بھی اچھے ہاتھوں میں سونپیں جس کیلئے ہم سب کافی وقت سے اسٹرگل کررہے ہیں لیکن کچھ حالات ہی ایسے ہوئے کہ یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔۔۔”
دلہام بخت نے اپنی بات میں وقفہ لیا وہیں رمز کی سانسیں بھی اٹکی تھیں۔
وہ کیا کہہ رہا تھا سمجھنا اتنا مشکل نہیں تھا۔
“میں جانتاہوں کہ شاید یہ سب اتنی جلدی قبول کرنا کافی مشکل ہو لیکن۔۔اسی ہفتے تمہارا نکاح ہے میرے دوست کے ساتھ ،مما کی وجہ سے یہ نکاح انتہائی سادگی سے کیا جائے گا امید ہے کہ تمہیں میرے کسی فیصلے پہ اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ اس چیز کا انتظار میں کافی لمبے عرصے سے انہیں کروا رہا ہوں۔”
بنا اسکے پسینہ پسینہ ہوتے چہرے پہ نظریں کیے وہ سرد انداز میں بولا تھا جب رمز کی کی ریڑھ کی ہڈی تک میں ایک شدید سرد لہر دوڑی تھی۔
وہ نظریں جھکائے دلہام بخت کے جوتوں پہ نگاہ جمائے ٹہری تھی۔
“کچھ کہنا ہے تمہیں؟”
دلہام نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا تھا رمز کا سربےساختہ ہی نفی میں ہلا تھا۔
“ہننہ گڈ۔۔۔۔پریہان اور دورید کو بھی اس بارے میں آگاہ کردینا ۔”
دلہام کی بات پہ اسکے دل کی دھڑکن منتشر ہوئی تھی۔اسے بہت کچھ یاد آرہا تھا ان حوالوں سے۔
“وہ بھائی پریہان اور دورید تو۔۔۔۔”
“اوہ ہاں شاید وہ لوگ نہیں آسکیں گے سیل آف ہے دورید کا تبھی شاید مما کے بارے میں جان نہیں سکے وہ لوگ۔۔کیا تمہیں اس بارے میں کچھ معلوم ہے؟پریہان سے تو تم رابطے میں تھی نا؟”
رمز نے نفی میں سرہلاتے اسے اپنے اور آخری رابطے کے بارے میں بتایا تو وہ اسکی بات سمجھتے وہاں سے چلا گیا جبکہ رمز اس پہ تو کوئی ناگہانی آفت آئی تھی وہ بیڈ پہ دراز ہوئی۔
اسے لگ رہا تھا شاید دلہام کو پریہان اور دورید کا ایڈریس معلوم ہوگا لیکن ؟
اور اس پہ یہ اچانک نکاح کا فیصلہ بھلا وہ کیسے نکاح پہ نکاح کرسکتی تھی؟اور حقیقت وہ بتانا بھی تو مشکل امر تھا۔
یہ کیا ہونے جارہا تھا دلہام بخت کے فیصلے سے پیچھے ہٹنا تو کبھی گھر والوں کو نہیں آیا اور یقیناً اسکے اس فیصلے میں سب ساتھ تھے۔
“او خدا تو ہی مجھے راستہ دکھا میں کیا کروں۔۔۔”
آنسو موتی بن کے بکھر رہے تھے جب کچھ سوچتے وہ اٹھ بیٹھی تھی۔رات گہری تھی اسے موسیٰ سے بات کرلینی چاہیئے وہ دبے قدموں ایک محتاط نگاہ ہر طرف ڈالتے اسکے کواٹر کی طرف بڑھ رہی تھی جب چھت پہ ٹہرے دلہام نے اسے دیکھتے اذیت سے آنکھیں موند لیں۔
اتنا آسان نہیں تھا کسی کے دامن کو ریگ زاد کرنا لیکن کچھ فیصلوں کو وقت کے سپرد کردینا ہی بہتر ہوتا ہے وہ تیزی سے نیچے کی طرف آیا تھا۔
موسیٰ جو ابھی لیٹا تھا رمز کو کواٹر میں آتے دیکھ کر اٹھ بیٹھا تھا۔
“رمز بیبی آپ اسوقت میرا مطلب ہے اسوقت تو سب جاگ رہے ہونگے اگر کسی نے۔۔۔۔”
“بکواس بند کرو موسیٰ تم جانتے بھی ہو کہ میں کتنی بڑی مصیبت میں پھنسنے والی ہوں اسی ہفتے میرا نکاح کروارہے ہیں بھائی اپنے کسی دوست سے۔”
رمز نے موسیٰ پہ جیسے کوئی راز منکشف کیا تو وہ چونکا تھا۔
“یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ بیبی صاحب اگر دلہام سر کا ایسا کوئی پلین ہوتا تو وہ ضرور مجھے بتاتے جبکہ وہ تو کل ہی عناء بیبی کے ساتھ مری والے گھر میں شفٹ ہورہے ہیں اور اگلے کئی دن تک انکے پاس سراٹھانے کی فرصت نہیں ایسے میں کوئی فیصلہ لینا ہی ناممکن ہے۔”
موسیٰ کا ماتھا ٹھنکا تھا لیکن وہ کیوں جھوٹ بولے گی سمجھ سے باہر تھا۔اسکی نگاہ بار بار دروازے کی طرف اٹھ رہی تھی۔
“نن۔۔۔نہیں موسیٰ سچ میں بھائی ابھی کچھ دیر پہلے ہی میرے کمرے میں آئے تھے اور۔۔۔”
رمز کی باتوں کو بریک کسی کی آمد سے لگا تھا وہیں موسیٰ بھی بوکھلایا تھا جب ایک زوردار تھپڑ رمز کو پڑا تھا دوسرے ہی لمحے وہ لڑکھڑاتے ہوئے زمین بوس ہونے کو تھی جب موسیٰ نے اسے تھاما تھا۔
دلہام کی قہربرساتی نگاہیں اس پہ گڑیں تو وہ شرمندہ سا اسے چھوڑتے دو قدم پیچھے ہٹا تھا۔
“بھائی وہ۔۔۔”
“بکواس بند کرو تم اپنی تمہاری یہاں موجودگی ہی تمہاری پست ذہنیت کا پتا دیتی ہے۔”
وہ اسے کلائی سے تھامے گرجدار آواز میں بولا تھا۔
موسیٰ یک ٹک دلہام بخت کو دیکھ رہا تھا تو اس نے اپنی چال کی بساط بچھاتے رمز کو سزا کے طور پہ یہاں بھیجا تھا اور اس سے آگے وہ کیا کرنے والا تھا کچھ بھی سمجھنا مشکل تھا ۔




















عناء کی آنکھ کھلی تو وہ خالی دامن بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اسے یاد آرہا تھا کہ وہ دلہام کے ہمراہ ہی پرسکون سی سوگئی تھی گھڑی کی طرف نگاہ گئی تو رات کے بارہ بج رہے تھے۔
شدید بھوک کے احساس سے وہ اٹھ بیٹھی تھی۔
دلہام نجانے کہاں چلا گیا تھا جبکہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھے رہنے کی وجہ سے پٹھے اکڑنے لگے تھے۔
وہ کمر سیدھی کرنے کو سیدھا لیٹتے چھت کو گھورنے لگی تھی۔
دلہام کی خاموشی ،اسکی گود میں رکھا سر اور پھر اب جاگتے ہی اسکا غائب ہوجانا عناء کو اداس کررہا تھا کافی دیر بےچین کروٹیں بدلتے جب کسی پل سکون نہ آیا تو وہ اسکی تلاش میں باہر کی طرف بڑھی تھی۔
ہر طرف ہو کا عالم تھا تمام مہمانوں کے جانے کے بعد آج سب کو مکمل ریسٹ کا موقع ملا تھا ۔
کچھ سوچتے وہ باہر کی طرف بڑھی تھی اگر کوئی ملازم ہوگا تو اس سے دلہام کا پوچھ لے گی جب اچانک ہی اپنی پشت پہ حویلی کے تمام در کھولتے محسوس ہوئے تھے۔
دارا جان کی نگاہ اس پہ پڑی تو چند سیکنڈ پاؤں زمین پہ جمے تھے پھر اسے اگنور کرتے جلدی سے حویلی سے کچھ دور بنے سرونٹ کواٹر کی طرف بڑھے ۔
عناء کچھ تذدب کا شکار تھی اس ٹائم انکا یوں جانا ہولا رہا تھا۔
وہ نا آگے بڑھ پارہی تھی نا ہی پیچھے جب سامنے کے منظر نے اسکے دماغ کی چولیں ہلا دی تھیں۔
بلکتی ہوئی رمز کا ہاتھ پکڑے دلہام حویلی میں آیا تھا اور اسکے پیچھے جھکے شانے لیے دارا جان اور بابا جان۔
کچھ دیر میں منظر بدلہ تھا چھوٹی چچی رمز کو پیٹتے اپنی تربیت کو کوس رہی تھیں وہیں مرد حضرات ایک دوسرے سے نگاہیں چرائے ہوئے تھے۔
دلہام اپنے کمرے میں گم ہوچکا تھا وہ چوکھٹ سے ٹیک لگائے ماضی میں کھوئی تھی۔اسے رمز میں ارینہ نظر آرہی تھی لیکن یہاں تو سازشوں کا جال بچھانے والی ایمرے نہیں تھیں پھر کیا رمز ہی بہکی تھی۔
سب اسے کوستے لعنتیں ملامتیں بھیجتے کمروں کا رخ کرچکے تھے جبکہ چھوٹی چچی اسے کھینچتے کمرے میں لائی تھیں اسکا سیل فون راستے میں کہیں گرگیا تھا اسے کمرے میں لاک کرتے اس چیز کی اچھی طرح تسلی کی تھی کہ جزباتیات میں وہ کچھ ایسا ویسا نہ کرلے۔
وہ دلہام کی تلاش میں آئی تو وہ اسے کمرے کی بالکونی میں سگریٹ پھونکتا نظر آیا تھا۔
“یہ سب کیا ہے دلہام؟”
عناء کی آواز پہ وہ پلٹا تھا۔
“کیا ہے؟”
انداز مطمئن تھا لہجہ حددرجہ بے پرواہ۔
“رمز بھلا موسیٰ۔۔۔”
“میں نے شاید بتانا تھا کہ الصبح ہمیں مری کیلئے نکلنا ہے میری وہاں چند ایک اہم میٹنگز ہیں اسکے علاوہ بھی کچھ کیس ہیں جنہیں اسٹڈی کرنا ہے۔”
وہ سگریٹ مسلتے اندر آیا تھا ۔عناء الجھی سی اسکے پیچھے آئی تھی۔
“کچھ کھانے کو لادو ۔”
وہ بستر پہ دراز ہوتے بولا تھا جبکہ عناء کو جھٹکا لگا تھا گھر میں اتنا سب کچھ ہوگیا وہ اتنا مطمئن کیسے ہوسکتا تھا بھلا۔
اگلے تیس منٹ وہ اس سے بےحد نارمل رہا تھا جو اسے کھانا سرو کرچکی تھی۔سونے سے پہلے اس نے اپنا موبائل اٹھایا تھا اور پھر کچھ دیر بعد وہ اسے واپس رکھ چکا تھا جبکہ سوتے وقت میں پھر سے تکیہ انکے درمیان تھا اور وہ اپنا رخ موڑ چکا تھا ۔
اسکی کج ادائی عناء کے دل میں آگ لگا گئی تھی پر وہ خود پہ ضبط کیے بےاعتبار موسم جیسے شخص کو سوچتے سوچتے سوگئی تھی۔
اگلی صبح کافی ہنگامہ خیز تھی رمز گھر پہ نہیں تھی۔
عناء کیلئے جو سب سے حیران کن تھا وہ دلہام بخت کا رویہ جس نے کچھ دیر چیخنے چلانے کے بعد اسے اپنے ساتھ لیا اور سفر کو نکل پڑا تھا جبکہ حویلی والوں کو حکم ہی دیا تھا کہ وہ سب کو یہی بتائیں گے رمز اسکے ہمراہ مری میں ہے ساتھ میں یہ دھمکی بھی دے ڈالی تھی کہ جیسے ہی وہ رمز اور موسیٰ کو تلاش کرے گا انہیں موت کے گھاٹ اتارنے میں ایک لمحہ نہیں لگائے گا۔




















پریہان کی گھٹی گھٹی چیخوں پہ وہ اسکی جانب متوجہ ہوا تھا جو گٹھڑی سی بنی خود میں سمٹی جارہی تھی۔
ضمیر نے ہزارویں لمحے میں لعنت ملامت کی تو وہ لمحوں میں اسکے قریب پہنچا تھا وہیں خود پہ جھکتا سائیہ پریہان کو اپنی موت نظرآرہا تھا۔
“شش۔۔۔پریہان دیکھو یہ میں ہوں دورید۔”
وہ اسے اپنے حصار میں جکڑتے بولا تھا وہ جو اپنی سدہ بدھ کھونے لگی تھی جان بخشتی آواز کو سنتے فوراً سے اسکی پناہوں میں قید ہوئی تھی۔
“تت۔۔۔تم مجھے چھوڑ کک۔۔کے کہاں چلے گئے تھے دورید وہ لوسیفر مم۔۔مم۔۔”
“ہشش کچھ نہیں ہے پریہان دیکھو میں ہوں نا یہاں میرے ہوتے ہوئے کسی کی بھلا کہاں جرأت ہے جو تمہیں یہاں سے لےجاسکے ۔”
وہ اسے خود میں سموئے تھپکنے لگا تھا جو سسکیاں بھرتی اسے وحشت کا شکار کررہی تھی۔
“تم تھک گئے نا مجھ سے دورید تم نے مجھے چھوڑدیا تھا میں سائیکا۔۔ “
“یہ کہاں ممکن ہے کہ کوئی سانس لینے سے تھک جائے ،زندگی سے تھک جائے جب اتنا حسین محبوب ہر لمحہ آپکے ساتھ ہو۔”
وہ اسکی پیشانی چومتے بولا تھا۔
“تم مجھ سے ناراض۔۔”
“اگر شوہر کو اسکے جائز حق سے محروم رکھو گی تو کیا ناراض ہونا نہیں چاہیئے مجھے؟”
وہ اسے پیار بھری گھوریوں سے نوازتے بولا تھا۔جبکہ اسکی بات کی گہرائی کو سمجھتے اسکا چہرہ بلش کرنے لگا تھا۔
“یہی چیز مجھے تم سے دور رہنے پہ مجبور کرتی پاس رہتے کوئی خطا سرزد ہوگئی تو تمہاری ناراضگی میں افورڈ نہیں کرسکتا اسیلئے میرے ناراض رہنے میں ہی بھلائی ہے۔”
وہ منہ پھلاتے کھڑا ہونے لگا جب بےاختیار وہ اسکا بازو تھام گئی۔
“مم۔۔مت جاؤ م۔۔مجھے ڈرلگے لگا۔”
پریہان کا معصومانہ انداز دورید کو مکمل زیر کررہا تھا۔
“میں بہت پاس رہنا چاہتا ہوں پریہان تمہاری ساری فکریں سمیٹ لینا چاہتا ہوں ایک بار بھروسہ کرکے دیکھو۔”
وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے بیڈ پہ ہی گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھا تھا۔
پریہان کی پلکیں حیا کے بار سے جھکی تھیں وہیں دورید کے اختیار تمام ہوئے تھے وہ اسے ذرا سا دھکیلتے تکیے پہ گراتے اس پہ جھکا تھا۔
پریہان کا دل اپنی دھڑکنوں کے سروں میں الجھا تو آنکھیں دورید کے بدلے انداز دیکھتے بند ہوئی تھیں۔
“آنکھیں کھولو پریہان پلیز ایک بار اس سچ کا سامنا کرو جو تمہارے ساتھ ہے تمہارے پاس ہے۔”
اسکے کانوں کی لو کو انگلیوں کی پور سے چھوتے دورید نے پرزور انداز میں کہا تھا پریہان نے لرزتی پلکیں وا کی تھیں۔
عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے
دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کٹے ۔۔۔۔
دورید کی جان لیوا سرگوشیاں اسے نڈھال کرنے لگیں تو وہ اسکے سینے میں چہرہ چھپا گئی تھی۔
“عجب تقاضے ہیں تیری چاہتوں کے کلیوں کی مہک مستعار لینے کا شوق بھی ہے تو کلی کے گل بننے کا انتظار بھی۔”
اسکے لبوں پہ شریر مسکراہٹ نے گھیراؤ کیا ہوا تھا وہیں وہ اسے اپنے لمس سے نوازتے اس رشتے کے تقاضوں کو پورا کرنے لگا تھا۔
حسین شب کی صبح اس سے بھی بڑھ کے حسین تھی جب اسکی آنکھ کھلی ہر روز کی طرح کچھ اوبہام نہ تھے وہ بھول چکی تھی اپنے ماضی کو اپنے خوف کو اگر کچھ یاد تھا تو گزری شب کی حسین ساعتوں میں رس گھولتے لب جو ابھی بھی مکمل نیند میں ہونے کے باوجود مسکرا رہے تھے۔
پریہان نے اسکے سینے سے سر کو سرکاتے ہوئے تکیہ پہ اپنا وزن ڈالا اور بغور اسے دیکھنے لگی تھی۔
اگر میں کر لوں ارادہ محبت اوڑھ لینے کا
کرو وعدہ میری شال پہ تارے تم ٹانکو گے….
نک سک سے تراشی گئی بیئر اور بکھرے بالوں سے ڈھکی سفید چمکتی پیشانی ،روشن آنکھیں بند ہونے کے باوجود بھی زندگی کا یقین دلانے کو کافی تھیں۔
وہ تو ہر لمحہ محافظ بن کے اسکے ساتھ تھا جس سے پریہان بخت کی ذات مکمل ہورہی تھی اسے سوچتے لب کھلے تھے جب اچانک سے وہ دراز سراپا اس پہ سائیہ فگن ہوا تھا وہ بوکھلائی تھی۔
“سچ سچ بتاؤ کیا سوچ رہی تھی؟یقیناً میرے بارے میں ہی سوچ رہی تھیں نا؟”
دورید بخت خوشفہم تھا یا پھر اسکے لبوں کی مسکراہٹ کے راز سے بخوبی آگاہ تبھی تیر اندازی کا شغل اپنایا تھا۔
پریہان نے خود کو کمفرٹر میں چھپانے کی سعی کی تھی دورید بخت کی معنی خیز نگاہوں کو دن کے اجالوں میں سہنے کی سکت نہیں تھی۔
“مجھے کوئی اور کام نہیں ہے کیا میں یہی سوچ رہی تھی ہم گھر کب جائیں گے تمہیں جگا کے پوچھ لوں؟”
پریہان کے عذر پہ اس نے ابرو اچکائے تھے اتنا فرکینٹلی جھوٹ بھلا کون بول سکتا تھا۔
“تو پھر تم مسکرائی کیوں؟”
دورید کی جراح اسے پریشان کرنے لگی تھی۔
“تو کیا تم اب میرے مسکرانے پہ پابندی لگاؤ گے؟”
وہ شاکڈ تھی۔
“ہاں نا اگر تو مسکراہٹ میری وجہ سے تھی پھر تو اوکے ہے ورنہ۔۔۔۔”
اس نے ہونٹوں کا کونہ دبائے ذومعنی انداز میں بات ادھوری چھوڑی جبکہ اسکی جانب مزید پیش قدمی کی تو پریہان کو ان جانگسل لمحوں سے جان چھڑانا مشکل ہوا تھا۔
دورید بخت کو پہلی فتح محسوس ہوئی تھی اسکا اعتبار جیتنا اسکے قریب جانا۔




















“عنادل”
ایک جانی پہچانی آواز پہ وہ چونکی تھی سامنے ہی اپنی چھاجانے والی پرسنیالٹی کے ساتھ وہ ٹہرا تھا۔
“آر۔جے تم یہاں کیسے اگر دلہام کو پتا چل گیا تو وہ۔۔۔”
سنو۔۔۔مجھے تمہیں کچھ بہت امپورٹنٹ بتانا تھا کیا تم مجھ سے مل سکتی ہو اسی کیفٹریا میں جہاں ہم پہلے ملے تھے دلہام بخت کی بیوی ہونے کی حثیت سے تمہارے لیے اسکی ذات کے ہر راز سے آگاہی ضروری ہے ؟”
آر۔جے بےچین سا بول رہا تھا عناء کچھ دیر اسے دیکھتی رہی تھی اور اثبات میں سرہلایا تھا شاید وہیں اسکی الجھنیں سلجھا سکتا تھا۔وہ کسی ہوا کے جھونکے کی مانند غائب ہوا تو عناء اپنے گال تھپتھپاتے خود کو ریلکس کرتی گھر کے اندر آئی تھی۔
انہیں یہاں آئے تقریباً ایک ہفتہ ہوچکا تھا اور شازوناز ہی دلہام کی صورت دیکھنے کو مل رہی تھی تبھی وہ چہل قدمی کوقریبی پارک میں چلی جایا کرتی جہاں اچانک ہی آر۔جے سے سامنا ہوا تھا دماغ میں پہلے ہی ہزاروں الجھنیں تھیں جو آر۔جے ہی سلجھا سکتا تھا ایک طرح سے اچھا تھا وہ خود ہی سامنے آگیا تھا۔
سوچوں کے تانے بانے بنتی وہ گھر آئی تو سامنے ہی دلہام کی گاڑی موجود تھی مطلب کے وہ گھر میں موجود تھا اگر اسے آر۔جے کی بابت معلوم پڑگیا تو؟
دل ذرا سا سہما تھا لیکن خود کو مضبوط کرتی وہ تیزی سے اندر آئی تھی ۔
کمرہ خالی تھا لیکن شاور کی آواز سے اندازہ ہورہا تھا وہ فریش ہورہا ہے۔
سیل کی بپ پہ وہ تھوڑا چونکی تھی جہاں دلہام کے نمبر پہ ان گنت مسیجز کی بھرمار ہوئی تھی ۔
وہ بےیقینی سے دلہام کا سیل ہاتھ میں تھامے اس پہ درج الفاظ پڑھ رہی تھی جو ڈیجٹل دھماکے سے کم نہیں لگ رہے تھے وہ اتنی گم صم تھی کہ اسے دلہام کی آمد بھی نہیں چونکا پائی تھی۔
“کیا حرکت ہے مینرز بھول گئی ہوتم بنا پرمیشن کسی کاسیل نہیں اٹھاتے۔”
تقریباً سیل کو اسکے ہاتھوں سے کھینچتے وہ غصے میں بولا تھا۔
“کسی ۔۔۔۔کا نہیں بلکہ میرے شوہر کا سیل ہے اور اس ناتے مجھے مکمل حق ہے اسکی چیزیں استعمال کرنے کا۔”
وہ ڈھٹائی سے بولی تھی جسکے چہرے پہ شرمندگی کے کوئی آثار نہیں تھے۔
“اوہ۔۔۔تو شوہر۔۔۔بائے دا وے شوہر پہ تحکم دھونس جمانے کے علاوہ بھی کوئی حق وفرض ہوتے ہیں کے نہیں۔”
سیل کی اسکرین پہ ایک مطمئن نگاہ ڈالتے اس نے حسب عادت موڈ بدلہ تھا سکرین لاک تھی۔
وہ دلہام کی فضول گوئی پہ اسے دیکھ کے رہ گئی تھی۔
“ان بلیوایبل۔”
ہونٹ چباتے اس نے کہا تھا اور وہاں سے ہٹنا مناسب سمجھا تھا پر ایسا ہو نہیں پایا تھا۔
“کچھ پوچھا ہے میں نے۔”
پراشتیاق نگاہیں اس پہ جمائے وہ اسکے قریب ہوا تھا۔
عناء کو اسکے بدلے انداز حیران کررہے تھے ایمرے کی ڈیتھ کے بعد وہ کوئی اور دلہام تھا جسے شاید عناء جانتی نہیں تھی۔
“کل ایک سیمنار اٹینڈ کرنا ہے مسٹر اینڈ مسز دلہام بخت کو بی ریڈی فار اٹ۔”
بات کرنے کا بہانہ درکار تھا۔
دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں گھسائے وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا جسکی الجھی لٹیں چہرے کا حصار کیے ہوئے تھیں،سردی کی شدت سے سرخ پڑتی ناک اور اور رخسار دلہام بخت کو جسارتوں پہ مجبور کررہے تھے لیکن کبھی فاصلے بنتے اور کبھی گھٹتے تھے پر ابھی تک صیح منزل کا تعین نہیں ہوپارہا تھا۔
“مجھے نہیں جانا کہیں۔”
وہ رخ موڑ گئی تھی دل کی دھڑکنیں تیز تھیں اگر وہ کل آر۔جے سے نہ ملی تو شاید بہت کچھ مس ہوجاتا۔
“آہاں !رائٹ تو میں بھی پروگرام کینسل کردیتا ہوں ویسے بھی کافی ٹائم ہوگیا ہے ہم نے ساتھ میں وقت ہی نہیں گزارا کل کی شام تمہارے نام۔”
وہ اتنی جلدی اسکے اعتراض کو مانتے اپنے اگلا پلین بنا گیا تو عناء کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا اسے جانے کیوں یقین ہورہا تھا کہ وہ واقعی اسکی اور آر۔جے کی میٹنگ سے آگاہ ہے۔دلہام بغور اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ رہا تھا۔خاموشی طویل ہوئی تو عناء اسے اگنور کرتی گلاس ڈور سائیڈ پہ کرتے باہر بالکونی میں آئی تھی۔
ٹھنڈی ہوا کا جھونکا دماغ سے ٹکرایا تو بہت کچھ سوچنے لگی تھی۔سامنے ہی درخت تیزی سی سفیدی کی چادر اوڑھنے لگے تھے۔دلہام نے کچھ دیر اسکی حرکتوں کو دیکھا تھا اور پھر گہری سانس ہوا کے سپرد کرتے اسکے پاس آیا تھا جو غیرمرئی نقطے پہ نگاہیں جمائے دور تک کچھ کھوج رہی تھی۔
دلہام بخت نے اپنے کشادہ بازو وا کیے اور اسکی پشت سے اپنے حصار میں لیا تو وہ گڑبڑائی تھی جبکہ اس نے عناء کے کندھے پہ ٹھوڑی ٹکائے اسی کا مشغلہ اپنایا تھا۔
“اس لمحے دل چاہتا ہے کوئی خوبصورت بات کرو اور سارے جھگڑے ختم ہوجائیں،کبھی دل چاہتا ہے پرانی عنادل بن کے سامنے آجاؤ گلے لگوں ساری غلط فہمیاں ختم ہوجائیں ‘لوٹ آو عناء اس سے پہلے کے سب ختم ہوجائے۔۔۔”
سرگوشی میں ڈھلے لب عناء کے کانوں کی لو کو چھوتے پوری شدت سے اس لمحے کی گرفت میں لے گئے تھے۔
آنکھ نم ہوئی تھی۔
“اتنا آسان نہیں ہے سب بھول جانا میرے لیے ماضی کو بھولانا۔”
ایک سسکی سی لبوں سے نکلی تھی۔
“تم غلط ہو عنادل ‘ان چیزوں میں گھسنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جہاں تمہارا کوئی کام نہیں ہے تم بس مجھے دیکھو مجھے سوچو اور میں۔۔۔”
“صیح کہہ رہے ہیں آپ دلہام بخت غلط کو صیح لکھنے سے وہ صیح تھوڑی نا ہوجائے گا ‘جو میں غلط ہوں آپکی نظر میں شاید ہی کبھی اچھی بن سکوں مجھے نہیں پتا میں نے اپنا احترام کس مقام پہ کھویا ہے لیکن یہ احساس بڑا درد دیتا کہ ۔۔۔۔”
“یہی احساس مجھے بھی درد دیتا ہے کہ میں اپنا آپ لوٹا کہ بھی تہی داماں ہوں ،اس سراب کے پیچھے مت بھاگو عنادل جہاں سے وقت کی دھول کے سوا کچھ نہیں ملے گا ۔”
“تو آپ بتادیں سچ کیا ہے؟ایک لمحے کو آپ نے سوچا تھا آپ نے اتنے لوگوں کے سامنے میری ذات کے بخیے ادھیڑ دیے تھے میں جب جب یاد کرتی ہوں تو اس تھپڑ کی جلن ۔۔۔”
عناء کی ہچکی بندھی تھی دلہام نے اسکا رخ اپنی طرف کیا تھا۔
“سوری”
دلہام بخت کے لبوں سے نکلا ایک لفظ اسکی ہستی کا مان رکھتا تھا۔عناء بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
دلہام کے لب اسکے ریکشن پہ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے اور پھر اس نے ذرا کے اس پہ جھکتے اسکے لبوں پہ بوسہ دیا تو وہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔جبکہ وہ کچھ لمحوں کی شرارت کے بعد پیچھے ہٹ چکا تھا پر متبسم نگاہیں ابھی تک اس پہ ٹکی تھیں۔
“آپ یہ سب کیوں کررہے ہیں؟”
وہ چڑ کھاتے بولی تھی دلہام کے انداز کافی مشکوک تھے۔
“وجہ خاص ہے کیونکہ مجھے تم سے پیار ہے بےفضول کے جھگڑوں میں ،ہم دونوں نے اپنا کافی وقت ضائع کیا ہے سمجھو ازالہ کرنا چاہتا ہوں ۔”
دلہام کا انداز حددرجہ نارمل تھا اور یہی چیز عناء کو ابنارمل لگ رہی تھی۔
“تم بتاؤ کیسے معافی ملے گی ؟”
وہ پھر سے اسکے ہاتھ تھام گیا عناء کی نگاہیں اپنے ہاتھوں پہ جمے اسکے مضبوط ہاتھوں پہ تھیں۔
“مجھے اس چیز کا محرک جاننا ہے مجھے آرجے کے بارے میں جاننا ہے۔”
وہ جو ان لمحوں کو بہت خاص بنانے کیلئے مضر تھا اس پہ عناء کا سوال اسے منجمند کرگیا تھا۔
“اس پل میں مجھے صرف اپنے بارے بتاؤ میرے جرم کی تلافی کیا ہے عنادل۔”
دلہام نے اسکا سوال مکمل اگنور کرتے کیا تھا وہ اسکی بہت اپنی تھی لیکن پریہان کے معاملے میں وہ اپنے سائے پہ بھی یقین نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“سچ”
عناء کی بات دلہام کا ٹمپرلوز کرنے لگی تھی۔
بنا جواب دیے وہ مڑنے لگاتھا جب عناء اسکی راہ میں حائل ہوئی تھی۔
“رمز ،پریہان ،دورید کہاں ہیں دلہام بخت؟آر۔جے کون ہے؟”
وہ کئ سوال لیے اسکا ضبط آزما رہی تھی۔
دلہام نے اسے بازو سے کھینچتے اپنے بےحد قریب کیا تھا۔
“کیا تم نے کبھی دلہام بخت کو سوچا ہے؟”
وہ غصے میں پھنکارا تھا۔
“دلہام بخت ہی تو ہے ہرجگہ،دلہام بخت تک ہی رسائی چاہیئے مجھے ۔”
وہ مضبوطی سے تن کے کھڑی ہوتی اسکی آنکھوں میں دیکھتے بولی تھی وہیں ان نگاہوں کے آکٹوپس کا شکار ہوتی فوراً نظریں چرائی تھیں۔
“تم اتنی بڑی ڈیلنگز کیلئے نہیں ہو جان دل اسیلئے اپنے چھوٹے سے مائینڈ کو اتنا اسٹریس نہ دو جو چیزیں جہاں پڑی ہیں انہیں وہیں رہنے دو بےترتیبی سے میرا دم گھٹتا ہے اور تمہارے میں اتنی ایبیلٹی نہیں ہے کہ ایک بار سب بگاڑنے کے بعد سدھار سکو کیونکہ میں دیکھ چکا ہوں کتنا تم نے دلہام بخت کو بگاڑا ہے اور اب سلجھانے کے وقت کنی کترائے پھرتی ہو۔”
ایک بار پھر سے پٹڑی سے اترا تھا۔
عناء گہری سانس لیتے اپنا آپ اس سے چھڑانے لگی تھی۔
“طنز کے تیر بہت خوبصورتی سے مارتے ہیں آپ سینہ چھلنی کرنے والے۔”
وہ لفظوں کو چبا رہی تھی دلہام کا قہقہ بےساختہ تھا۔وہ بہت خوبصورتی سے اسکی توجہ کے دھاگے سمیٹ چکا تھا۔
“شکریہ اتنے بعد تعریف سننے کو ملی ہے اسی خوشی میں ایک روڈ ٹرپ ہونا چاہیئے۔”
ایک منٹ میں وہ پلین ترتیب دے چکا تھا۔
“اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کر کے آپ میری توجہ اصل مدعے سے ہٹا دیں گے تو غلط فہمی ہے میرا سوال وہیں ہے۔”
عناء نے پھر سے اسے ایک ہی نقطے پہ کھینچا تھا۔
“میری ہمیشہ سے خواہش ہے کہ مال روڈ کے لمبے ٹریک پہ میں تمہارا ہاتھ پکڑ کے چلوں کیا تم میری یہ خواہش پوری کروگی سنڈریلا۔”
دلہام کی بات اسے غش کھانے پہ مجبور کرگئی۔
“انتہائی۔۔۔”
بڑی مشکل سے خود پہ کنٹرول کرتے وہ پاؤں پٹختے روم سے نکل گئی تھی۔دلہام کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا۔
“کل آرجے عناء میم سے کیفٹریا ملنے آرہا ہے۔”
موبائل پہ مسیج کی آواز پہ اس نے سرسری نگاہ ڈالی تھی اور پھر غصے کی شدت سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
“ملنے دو پر تم اس پہ نگاہ رکھو گے میں جانتا ہوں اسے جبتک وہ خود سچ آنکھوں سے نہیں دیکھے گی سدھرے گی نہیں۔”
مسیج ٹائپ کرنے کے ساتھ ساتھ اسکے ماتھے پہ بھی بل
پڑرہے تھے۔اسے اندازہ ہورہا تھا کہ عناء نے اسکے ساتھ پارٹی پہ جانے سے کیوں منع کیا ہے۔




















رمز کی آنکھ کھلی تو کتنی دیر وہ چھت کو گھورتے سوچنے کی کوشش کررہی تھی کہ وہ کہاں تھی کیونکہ لکڑی کی چھت اسکیلئے انجان تھی بستر کی سختی سے بھی اندازہ ہورہا تھا یہ اسکا بیڈروم نہیں ہے ۔
گزری شب کے واقعات دماغ پہ چھائے تو وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی۔
کھڑکی سے چھن کے آتی سورج کی روشنی سے اسے دن اور رات کا فرق معلوم پڑا تھا جبکہ توجہ اس روشنی میں حائل اسکی جانب پشت کیے شخص کی طرف تھی۔
“کک کون ہوتم ۔۔مم۔۔میں یہاں کیسے آئی۔”
وہ بستر سے تقریباً کودنے کے انداز میں اٹھتے تیزی سے اسکی طرف بڑھی تھی جب وہ اسکی آواز پہ مڑا تھا۔
رمز کے قدم زمین پہ جمے تھے۔رات نیم اندھیرے کمرے میں بند وہ سسک رہی تھی جب کوئی اندر آیا تھا وہ اندازہ نہیں کرپائی تھی کہ آنے والا کون ہے پر اب وہ ہیولا سا واضع تھا۔
“بب۔۔۔بھائی آ۔۔آپ۔۔”
دل انجانے خدشوں میں دھڑکا تھا جب دلہام بخت نے آگے بڑھتے اسے شانوں سے تھاما تھا اور اسکا رخ واپس سے بیڈ کی جانب کیا اگلا لمحہ چھت اسے اپنے سر پہ گرتی محسوس ہورہی تھی جہاں دیوار پہ کچھ چاہت بھرے لمحے رقم تھے۔دلہام کے ہاتھ اسے اپنے کندھوں میں دھنستے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔
“کوئی اتنا خود غرض کیسے ہوسکتا ہے رمز بخت؟”
کانچ کے ٹکڑوں سے زخمی آواز درد سے پُر تھی۔
“بب۔۔بھائی وہ میں۔۔۔۔”
“ایک محرم رشتہ تھا موسیٰ اور تمہارے درمیان تم نے اسے بھی اپنی گیم کا حصّہ بنالیا کیسے؟ کیا اس رمز کو میں جانتا ہوں جو میرے دشمن کے ساتھ مل کے میرے اپنوں کا سکون برباد کررہی ہے ،جو رشتوں کے ساتھ کھیل رہی ہے کیوں رمز کیا ہماری محبتیں کافی نہیں ہیں کہ تم ایک انجان شخص پہ بھروسہ کر بیٹھی ۔۔۔موسیٰ کی آڑ میں ۔۔۔آر۔جے ۔۔رمز۔۔۔”
دلہام کا سانس اکھڑا تھا اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہورہا تھا۔ان حقیقتوں کی آگاہی نے اس سے کتنے غلط فیصلے نہیں کروائے تھے لیکن ایک اپنے کی خاطر وہ اپنے بہت سے اپنوں کو تکلیف نہیں دے سکتا تھا۔
“پریہان تو تمہاری دوست ہے نا بہن اور بھابھی تم اسکے ساتھ۔۔۔۔۔”
دلہام نے آنکھیں میچیں تھیں وہ نڈھال سی اسکی گرفت سے نکلتے زمین پہ ڈھیر ہوئی تھی۔
دلہام نے اس پہ ایک حقارت بھری نگاہ ڈالی اور تیزی سے وہاں سے نکل گیا ۔لکا چھپی کا مزید کھیل وہ جاری نہیں رکھ سکتا تھا اس میں اتنا حوصلہ ہی نہیں بچا تھا۔
جب کھٹکے کی آواز پہ نڈھال سی بیٹھی رمز نے سر اوپر کو اٹھایا تھا سپاٹ چہرے لیے موسیٰ اسکے سامنے تھا۔
وہ چیل کی طرح اس پہ جھپٹی تھی۔
“تم نے۔۔تم نے کیا ہے نا یہ سب ۔۔تم نے بھائی کو۔۔۔”
“میں نے محبت کی تھی رمز بیبی۔۔۔اور جن سے محبت کی جاتی ہے انکا ہر طرح اچھا سوچا جاتا ہے ۔”
اسکی بات کو درمیان میں کاٹتے اس نے کھانے کی ٹری اسکے سامنے رکھی تھی۔
“کھانا کھالیں اب کی بےہوشی کا دورانیہ خطرناک حد تک طویل رہا ہے۔”
وہ نظریں جو محبت لٹانے لگی تھیں ایک بار پھر سے جھکی ہوئی تھیں جیسے سارے گناہ اس سے سرزد ہوئے ہیں۔
رمز یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی اسکا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا کل شب جو کچھ ہوا تھا پلین کے تحت ہی ہوا تھا اسے حویلی سے غائب کیا گیا تھا کس لیے؟
