Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 20)
Rate this Novel
Anadil (Episode 20)
Anadil by Uzma Mujahid Novel
“پریہان”
اسکی پلکوں کے لرزتے رقص کو دیکھ وہ فوراً سے اسکا ہاتھ تھام گیا تھا۔ذہن پہ ابھرتے عکس نے شعور کی منازل طے کیں تو فوراً اٹھ بیٹھی تھی۔
“سویٹی یہ میں ہوں دورید۔”
اسکے ڈر کو سمجھتے دورید نے فوراً سے اسے تھامنا چاہا تھا جب وہ اسکا ہاتھ جھٹکتے کھڑی ہوئی تھی۔
“مم۔۔مجھے جانا ہے یہاں سے مم۔۔مما پاس ۔۔”
اسکے اتنے شدید ریکشن پہ وہ شاک ہوا تھا ۔پریہان کی جیولری وہ اسکی بےہوشی میں ہی اتار چکا تھا ہر قسم کی زیبائش سے پاک چہرہ اور شب زفاف کے تقاضے دورید کے دل میں نئی خواہشیں پیدا کررہے تھے پر پریہان ٹھیک نہیں تھی۔
“یہ کیا پاگل پن ہے پریہان تم جانتی ہوں نہ کچھ گھنٹوں پہلے ہماری رخصتی ہوئی ہے اور تم ۔۔۔۔۔کیا تم سب کو جاننے کا موقع دینا چاہتی ہو پریہان جو چھپا ہوا ہے؟بولو۔”
وہ درشت انداز میں کہتے اسکا ہاتھ تھام گیا جبکہ اسکا لمس محسوس کرتے ہی پریہان بےجان سی ہوئی تھی۔
“دد دور رہو مجھ سے نن۔۔نجس ہے سب ۔”
دورید اسکی باتوں پہ بےبس ہوا تھا بنا کچھ بولے وہ کمرے سے نکل گیا تھا جب پریہان نے آئینے میں ابھرتے اپنے مومی نقوش کو دیکھتے اپنے چہرے کو چھوا تھا۔
“مم۔۔۔مجھے معاف کردو دورید میں ایسا نہیں چاہتی مگر۔۔۔”
اپنے وجود پہ رینگتے لمس کو محسوس کرتے پریہان نے بےاختیار ہی اپنے کپڑے نوچ ڈالے تھے۔
“نن۔۔نہیں ہوں میں تمہارے قابل ۔۔۔نہیں ہوں میں۔”
اسکا بیش قیمتی لباس اپنے ہی نوچنے سے پھٹ چکا تھا۔
دورید خود کو ریلکس کرتا کمرے میں آیا تو پریہان کی حالت اسکا دل دہلا گئی تھی۔
“پریہان یہ کیا کیا تم نے؟”
وہ شاکڈ تھا جو شاید فروٹ کی چھری سے اپنی کلائی کاٹ بیٹھی تھی۔
“وہ ، وہ لوٹ آیا ،تت۔۔۔تم تو کہتے تھے وہ نہیں آئے گا دورید تم نے جھوٹ بولا تھا نا وہ مم۔۔مجھے لے جائے گا وہ۔۔۔”
“ہشش ۔۔کوئی تمہیں نہیں لے کے جائے گا پریہان میں ہوں یہاں دلہام بھیا ہم سب ہیں ۔۔۔”
دورید نے اسکی کلائی پہ اپنا رومال باندھا تھا زخم زیادہ گہرے نہیں تھے نا ہی نبض کٹی تھی۔
“وہ بہت گندہ اس نے پریہان کو۔۔۔”
“پریہان “
وہ دھاڑا تو پریہان سہمی تھی۔
وہ بےاختیار اسے گلے لگا گیا تھا جو سہمی ہوئی چڑیا کے جیسے اسکے سینے سے لگی تھی۔
دورید نے ایک حسرت سے اپنے حال پہ مسکراتے پھولوں کو دیکھا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ پریہان کی میڈیسن ریپلیس کردی گئی تھی۔اسکی ذہنی حالت نارمل ہونے کے بجائے مزید بگڑنے والی تھی۔وہ جو گھر والوں سے چھپ کے اسکے سائیکاٹرسٹ سے سیشن کروا رہا تھا کوئی اس راز کو بھانپ گیا تھا۔
اسکی دلہن شب بھر اپنی اذیتوں کو یاد کرتے اسے بھی اذیت میں مبتلا دکھے ہوئے تھی۔

















پریہان اور دورید کے رسیپشن کو نمٹاتے وہ کمرے میں آیا تو وہ اسے اپنا سفری بیگ تھامے جانے کی منتظر نظر آئی تھی۔
دلہام نے ایک اچٹکتی نگاہ اس پہ ڈالی اور اپنا کام کرنے لگا تھا۔
“میں جارہی ہوں شہر۔”
عناء نے مضبوط لہجے میں اپنا اٹل فیصلہ سنایا ۔
دلہام نے سر تا پیر اسکا تنقیدی جائزہ لیا تھا۔
“میرے خیال سے تمہارا یہاں سے چلے جانا ہی مناسب ہے دوہری اذیت کا شکار ، شاید میں کوئی خوش آئن فیصلہ نہ لے پاؤں۔”
وہ جسکے دل میں موہوم سی امید تھی کہ وہ اسے روک لے گا دلہام کے دوٹوک انداز نے گویا اسکے فیصلے پہ آخری کیل ٹھونکی تھی ۔
وہ تیزی سے کمرے سے نکل گئی تھی ۔
دلہام نے اذیت سے پر آنکھیں بند کرلی تھیں۔
تم نے دیکھی ہے کبھی۔۔۔
عشق کے مست قلندر کی دھمال ؟
درد کی لے میں پٹختا ہوا سر اور تڑپتا ہوا تن من ؟
پیر پتھر پہ بھی پڑ جائیں تو دھول اٹھنے لگے
اور کسی دھیان میں لپٹا ہوا یہ ہجر زدہ جسم
رقص کرتا ہوا گر جائے کہیں
تو زمیں درد کی شدت سے تڑپنے لگ جائے
ہجر کی لمبی مسافت کا رِدھم گھوڑوں کی ٹاپوں میں گندھا ہے
رقص دراصل ریاضت ہے کسی ایسے سفر کی
جسے وہ کر نہیں پایا
تم نے دیکھے ہیں کبھی
شہر کے وسط میں گھڑیال کے روندے ہوئے پل
جن میں چاہت کے ہزاروں قصے
عشق کے سبز اجالے میں کئی زرد بدن
اپنے ہونے کی سزا کاٹ رہے ہیں
تم نے دیکھے نہیں شاید
عشق میں ہارے ہوئے جسم
جسم ایسے جو کبھی پوریں بھی کٹ جائیں
توپھر خوں کی جگہ اشک نکلتے ہیں وہاں
حسرتیں دل میں چھپائے ہوئے کچھ لوگ یہاں
دم بدم بہتی ہوئی آنکھوں سے لکھتے ہیں کہانی
یہ نئی بات نہیں
واقعہ ایک ہے کردار بدل جاتے ہیں
ایک تیشہ ہے مگر وار بدل جاتے ہیں۔۔۔
سب اپنے کمروں میں شاید آرام کررہے تھے جبھی اسے بیرونی دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کوئی نظر نہیں آیا تھا۔موسیٰ اسے دیکھتے ہوئے الرٹ ہوا تھا اور فوراً سے آگے بڑھتے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول دیا ۔
وہ تھکن زدہ وجود سیٹ پہ منتقل کیے پلکیں موند گئی۔
ہجر کا ایک آنسو پلکوں کی نوک پہ آجما تھا جب موسیٰ نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی تبھی اسے حویلی کے دروازے سے نکلتا دلہام بخت نظر آیا تھا وہ رک گیا۔
“چلیں موسیٰ بھائی۔۔۔”
عناء نے بند پلکوں سے حکم سنایا تو وہ ایک نظر اسے دیکھتے دلہام کی طرف متوجہ ہوا جو اسے جانے کا اشارہ کرتے خود پچھلی سیٹ پہ عناء کے ساتھ برجمان ہوا تھا۔وہ زبردست انداز میں چونکی تھی کہ اسکے کلون کی مخصوص خوشبو عناء کے حواسوں پہ چھائی تھی۔
“من در عشق باشما ہستم”
(مجھے تم سے عشق هو گیا ھے)
دلہام کی نیم سرگوشی میں ڈھلی آواز عناء کے حواس بیدار کرگئی وہ جھٹ سے آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی تھی جب موسیٰ نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔
ترس بیهوده ندارم! صحبت از خاطره هاست
صبحت از کشتن نا خواسته عاطفه هاست۔۔۔۔۔
(مجھے بیکار کا کوئی خوف نہیں! یادوں کے بارے میں،میرے زخموں پہ نمک چھڑکنے کے بارے میں بات کریں
آؤ ناپسندیدہ جذبات کو مارنے کی بات کریں ۔۔۔۔۔)
عناء نےپھنکارتے ہوئے دلہام کے پسندیدہ جملے دہرائے تو اسکی مقناطیسی آنکھیں پرشوق سی مسکرائی تھیں۔
“تم سے عشق لازوال ہے ناپسندیدہ جذبات مار کے ہی یہاں تک پہنچا ہوں عنادل ۔ہم تو دیوانے ہوگئے ہیں آپ کے،عشق ہے کیوں ہے؟ کیسے ہے؟ ہم نہیں جانتے بس عشق ہے عنادل سے۔”
دلہام نے آواز نیچی رکھنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی تھی لیکن آخری لفظ مسمرائز کردینے والے تھے مدھم سے ،دلنشین سے خاموشیوں کے اسرار کو عیاں کرتے ہوئے۔
عناء کا دل دھک سا رہ گیا یہ کیا کہہ رہا تھا وہ ؟کیا اس نے نفرت کی داستان ختم کردی تھی؟پر کیوں؟کیا وہ اسے کھودینے سے ڈر سے کہہ رہا تھا لیکن چند منٹ پہلے اس نے کچھ اور کہا تھا وہ دلہام کو یک ٹک دیکھے جارہی تھی۔
“بیبی جی چلیں؟”
ڈرائیونگ سیٹ پہ برجمان موسیٰ نے اجازت چاہی تھی۔
خوابوں کا طلسم ٹوٹا تھا اس نے بےاختیار گاڑی کے بند شیشوں کو نیچے کرتے پیچھے جھانکا تھا جہاں سر سبر لان کی لمبی پگڈنڈی کے علاوہ کچھ نہ تھا دلہام تو بہت پیچھے رہ گیا تھا ۔
“عناء بیبی؟”
موسیٰ کی آواز پہ اس نے صرف “ہوں “کہتے گویا اجازت دی تھی۔
وہ حوصلہ کیوں ہار گئی تھی؟وہ تو بڑے دعوے سے یہاں آئی تھی بخت حویلی کو فتح کرنے پھر یوں بزدلوں کی طرح منہ چھپا کے جانا کیا اسے زیب دیتا تھا؟
شہر تک کے سفر میں وہ ان گنت سوچوں کی یلغار میں رہی تھی جب گاڑی کو اپنے گھر کے راستے کے بجائے دوسری طرف جاتے دیکھ وہ چونکی تھی۔
“ہم کہاں جارہے ہیں؟”
وہ جانتی تھی کہ موسیٰ دلہام بخت کا وفادار ملازم تھا جو اسکی مرضی کے بغیر ایک انچ نہیں ہل سکتا تھا یقیناً دلہام بخت کی طرف سے ہی کوئی حکم دیا گیا ہوگا۔
“سر کے ڈیفینس والے والے بنگلور میں ۔”
موسیٰ نےمختصر جواب دیا۔
“لیکن مجھے اپنے گھر جانا ہے گاڑی ریوریس کریں موسیٰ بھائی۔”وہ اپنے روایتی جاہ جلال میں آئی تھی۔
“لیکن عناء بیبی وہاں جانا سیف نہیں ہے۔”
موسیٰ نے دلیل دی۔
“مجھے وہیں جانا ہے ،آپ کیوں چاہتے ہیں میں بدتمیزی کروں؟”عناء کی پیشانی دہکنے لگی تو موسیٰ نے خاموشی سے گاڑی کا رخ موڑ لیا۔وہ جانتا تھا کہ دونوں ہی ضدی ہیں ۔
دلہام کو جب اس نے خبر دی تو اس نے الٹا موسیٰ کی کلاس لے ڈالی تھی وہ سر جھکائے باہر جارہا تھا جب اسکی نظر کچن میں پڑی تھی جہاں رمز نائٹ ڈریس میں ملبوس اپنے لیے چائے بناتی نظر آئی تھی۔
اسکے لباس پہ موسیٰ نے اسے ناگواری سے دیکھا تھا اور تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔
رمز نے اسکی خوشبو محسوس کرتے پیچھے مڑ کے دیکھا وہ کہیں نہیں تھا وہ گہری سانس بھرتے اپنے لیے چائے بناتی روم میں چلی گئی تھی۔
صبح عناء کے جانے کی خبر گھر میں پھیلی تو گویا بھونچال آیا تھا سب نے دلہام کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہوا تھا۔
“وہ جانے کیلئے ہی آئی تھی یہاں۔”
دلہام سے مشکل ہورہا تھا مزید یہ بوجھ سنبھالنا تبھی اس نے دھیمے سروں میں عناء اور ارینہ کے تعلق کو واضع کیا تو سب حیران رہ گئے تھے۔
“کہیں نا کہیں عناء بچی سے اپنوں والوں خوشبو آتی تھی مجھے۔”بی جان نے دارا جان کے ڈر سے ذرا سہمی آواز میں کہا تھا۔
“اگر عناء ہماری اتنی کلوز ریلٹو ہے تو اسے یہی رہنا چاہئیے تھا بھیا۔”رمز اداسی سے بولی تھی جبکہ دلہام خود اتنا ڈسٹرب ہوچکا تھا کہ اسکے پاس کسی کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

















وہ آنکھوں پہ تکیے رکھے نظروں پہ مکمل قابو رکھنے کی کوشش میں تھا جو بار بار بھٹکتی ہوئی پریہان کے بےداغ چہرے کی طرف جارہی تھیں جو بےفکری سے ٹاول میں بال لپیٹے آئینے کے سامنے گنگناتے ہوئے اپنے نقوش کا جائزہ لے رہی تھی۔
ان دو دنوں میں اس نے پریہان کا مکمل اعتماد بحال رکھتے ہوئے ان دونوں کے درمیان ایک مخصوص فاصلہ رکھا تھا۔
“ول یو اسٹاپ سنگنگ پریہان؟”
تکیہ ایک طرف پھینکتے وہ اٹھ بیٹھا تھا پریہان چونکی اور پھر اسکی بات سنتے منہ کے اٹھارہ زاویے بنائے تھے۔
“کل تم نے کہا تھا یہ میرا روم ہے یہاں میں اپنی مرضی سے رہ سکتی ہوں تو ابھی سے اعتراضات شروع؟”
وہ بالوں کو ٹاول سے آذاد کیے انہیں جھٹکتے ہوئے بولی تھی۔گیلے پانی کے کچھ نم قطرے دورید کے چہرے پہ بھی پڑے تھے جو اسکیلئے کھلی آزمائش ثابت ہوئے۔
جبکہ اسکی آنکھوں میں بھی پانی جمع ہونا شروع ہوگیا تھا۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا پریہان اچھا سوری بابا۔”
وہ جھٹ اسکے قریب آتے پریہان کے کان پکڑے سوری بولنے لگا تھا جب شفاف ہنسی کے کمرے مہک اٹھا تھا۔
دورید مہبوت سا اسے دیکھنے لگا تھا حنائی ہاتھ بار بار گلابی لبوں کو چھوتے دورید کا ضبط آزما رہے تھے لیکن کب تک؟اسکے کانوں کے چھوتے ہاتھ پریہان کے گیلے بالوں پہ جمے تھےجبکہ دوسرا ہاتھ اسکے رخساروں کو چھوتے پلکوں تک کا سفر کررہا تھا۔اسکے لمس کو محسوس کرتے عناء سہمی تھی ایک بار اگر وہ اسکی آنکھوں میں تحریر ہوتے خوف کو دیکھتا تو شاید خود پہ ضبط کے پہرے بٹھا لیتا۔
“تم میرے دھیان کے
سبھی راستوں میں رہتی ہو”
اسکی پیشانی پہ عقیدت سے پر لمس عطا کرتے دورید نے سرگوشی کرتے کہا تو پریہان نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔
“زندگی شما وقف شده است ، شما تجسم خدا هستید ، شما برای خدا هستید”
(تمہاری زندگی وقف کردی گئی ہے،تم خدا کا اوتار ہے تم خدا کیلئے ہو)
ایک ورد کا الاپ اسکے شعور میں سرسرایا تھا۔
“نن۔۔نہیں نن۔۔نجس۔۔”
دورید کے دہکتے لبوں نے جسارت کی ہی تھی جب پریہان اسے دھکیلتے دونوں ہاتھ کانوں پہ رکھے چلائی تھی لیکن آوازوں کا شور بڑھنے لگا تھا۔دورید اسکی اذیت کو دیکھتے اسے شانوں سے پکڑے اپنے سامنے کرگیا تھا۔
“پریہان “
“لل۔۔۔لوسیفر۔۔۔۔”
دورید کی شکل میں نظر آتا مجسمہ پریہان کی آنکھیں چندھیا گیا تھا۔
“پریہان گٹ اپ ڈیمڈ یہ میں ہوں دورید ،تم یہاں ہو اپنے گھر پریہان پلیز گٹ اپ۔”
دورید اسے سنبھالتے سنبھالتے خود روہانسا ہونے لگا تھا جبکہ آنکھیں کرب سے لال تھیں۔اسکے لاکھ سنبھالنے پر بھی وہ سنبھل نہیں پائی تو دورید کو محبوراً سے نیند آور انجکشن لگانا تھا جسکے لگتے وہ تھوڑی دیر میں ہی پرسکون ہوگئی تھی۔
اسے بےبسی سے دیکھتے دورید نے باہر کی جانب قدم بڑھائے تھے جب دلہام بخت کے کمرے سے گزرتے وہ چونکا تھا اور پھر کچھ سوچتے اندر داخل ہوا۔
“ارے دورید “
“بھائی مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے ۔”
دلہام کو پرجوش انداز میں اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر اس نے کہا تو دلہام کے پاؤں تھمے تھے۔
اسکا سنجیدہ انداز دیکھتے دلہام نے خفیف سا سرکو جنبش دی ۔
“میں پریہان کو پھر سے سائیکاٹرسٹ کے پاس لے کے جانا چاہتا ہوں۔”
اسکی آواز قدرے دھیمی تھی دلہام کا چہرہ سرخ پڑا۔
“وہ ٹھیک ہے دورید تم کیوں اسے اس سب میں گھسیٹنا چاہتے ہو؟”
دلہام کا انداز سخت تھا۔
“وہ ٹھیک نہیں ہے بھائی وہ آج بھی کہیں آر۔جے اور لوسیفر کے گرد گھوم رہی اور ۔۔۔”
“تمہاری محبت اور کئیر اسے اس سب سے نکال سکتی ہے دورید میں کیا کروں میں بےبس ہوں ،اپنوں کی زندگی کا بکھرا شیرازہ مجھے پست کررہا ہے میں اسے مزید ان حوالوں میں نہیں بھیج سکتا جو اسے تکلیف دیں۔”
دلہام کے چہرے پہ اذیتیں رقم تھیں اور اس سب سے بچنے کو وہ خاموش تھا لیکن پریہان بھی تو اسکی زندگی تھی۔
“وہ اس رشتے کو اور شاید مجھے قبول نہیں کرپارہی آپ بتائیں کوئی حل ہے اسکا؟”
دورید تلخ ہوا تھا کیونکہ قصوروار جو دلہام بخت تھا۔
“تو کیا یہ حل مناسب ہے ؟”
“ہننہ بہت حد تک مجھے صرف آخری کوشش کرنے دیں بھائی میں اپنی زندگی کو یوں ہارتے نہیں دیکھ سکتا ہوں۔”دورید نے التجائیہ انداز میں کہا تو وہ خاموش ہوگئے تھے۔
“کہاں جانا ہے؟”
دلہام نے ہنکارا بھرا۔
دورید اسے اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے باہر چلا گیا تھا جبکہ ایک تھکن سی اسکے وجود میں گھل گئی تھی ایک آواز آس پاس گونجی تھی۔
صیاد خندہ زن نہ گل و غنچہ نالہ کش
کیا بے نمک ہے شور عنادل کو دیکھنا۔۔”
اس پرشوق آواز پہ دلہام کے لب مسکرائے۔
“مجھے آج یہ بتادو کہ یہ عنادل میل ہے یا فیمیل؟”
دلہام نے اسے دیکھتے پوچھا۔
“اوہوں کونسا مشکل کام ہے یہ ابھی دیکھ لیتے ہیں۔”
اس نے اپنی سریلی آواز میں بُلبل کی آواز نکالی تو پاس کہیں سے ویسی ہی آواز آئی تھی ان دونوں کا قہقہ بےساختہ تھا۔
“فیمیل ہے جواب دیتی ہے دیکھا نہیں ایک آواز پہ چار بار جواب دے دیا۔”
وہ تو گویا شغل میں ہی مصروف ہوا اسکی ہرآواز پہ ہی بلبل کا جواب آرہا تھا۔
“لیکن میں نے سنا ہے کہ میل بلبل گنگناتے ہیں فیمیل چپ رہتی ہیں۔”
دلہام نے گویا اسے غلط ثابت کرنا چاہا تو وہ خاموش ہوگیا۔
“تم ایسا کیوں نہیں کرتے میرے بھائی کہ ایک تھیسسز عنادل کے جوڑے پہ لکھ ڈالو حد ہے یار میں تمہیں صرف خوش کرنے کو عنادل بن جاتا ہوں اسکا یہ مطلب نہیں کہ اپنی کوئی عزت نہیں۔”
دلہام کی ہر بار کی بحث کا نتیجہ یہی ہوتا تھا کہ آر۔جے چڑ جاتا۔
“تم بھی تو عنادل ہونا سریلی آواز والے یہ اور بات ہے فلاپ سنگر ۔”
دلہام نے اسے خوش کرتے کرتے اچانک ہی پٹڑی بدلی تھی جسکے نتیجے میں وہ دونوں درختوں کی اوٹ میں ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔
درخت پہ بیٹھے عنادل کے جوڑے نے انہیں روکنے کو آوازیں دیں لیکن وہ اپنی مستی میں گم تھے۔
“آج بتا ہی دے تمہیں عنادل سے اتنا پیار کیوں ہے؟” آر۔جے نے اس سے پوچھا تھا۔
“کیونکہ وہ عنادل کا جوڑا تاعمر ساتھ نبھاتا ہے جب تک کے ان میں سے کوئی ایک مر نہ جائے اور مجھے بھی ایسا ہی ساتھ چاہیئے ان جیسا چاہے وہ دوستی ہو یا کوئی اور رشتہ ۔”
دلہام کی خواہش نے آر۔جے کے پاؤں زمین پہ جمائے۔
“اتنی شدت اچھی نہیں ہوتی دلہام ۔”
جانے کیوں وہ اسے روکنا چاہتا تھا بھلا ساتھ نبھانے والے کہاں ملتے ہیں۔
دلہام کا سیل بجا تو وہ اسطرف متوجہ ہوا۔
بابا جان اسے کسی جاننے والے کو ائیرپورٹ سے لانے کو کہہ رہے تھے اور اس بات پہ بضد تھے کہ وہ انہیں خود بابا جان تک لائے ۔وہ ہڑبونگ میں وہاں سے نکلا تھا جب اسے راستے میں یاد آیا کہ اسے پریہان کو سکول سے پک کرنا تھا وہ الجھا سا تھا۔پریہان کو پک کرنے کا ذمہ اسکے ہی سر تھا کیونکہ معیز بخت تو رمز اور دورید کی پڑھائی اور دوسرے امور کی خاطر اپنی اہلیہ سمیت شہر میں رہتے تھے جبکہ پریہان کی ابھی سکولنگ چل رہی تھی تبھی وہ گاؤں میں ہی تھی۔
کچھ سوچتے اس نے آر۔جے کو کال کی تھی جو اسے اپنی بہن کو سکول سے لانے کا کہہ رہا تِھا۔اسے اپنے سونگ کی کمپوزیشن کیلئے کسی سے ملنے جانا تھا لیکن وہ دلہام کیلئے اپنے کام پس پشت ڈال چکا تھا۔
چوکیدار سے اس نے پریہان بخت کو لانے کو کہا تو حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔وہ بارہ سالہ بچی دلہام کی بہن تھی پھر اپنی عقل کند کو جھٹکتے اسے لیے گاڑی میں بیٹھا تھا۔پریہان کو دیکھتے ہی اسے اندازہ ہوا تھا کہ وہ اپنی عمر کے بچوں کی نسبت کافی شرمیلی بچی تھی۔
“آپ انکے بھائی ہیں؟لیکن پہلے تو کبھی آپکو یہاں نہیں دیکھا؟”چوکیدار کچھ مشکوک ہوا تھا جبکہ پریہان جانتی تھی کہ وہ دلہام کا دوست آر۔جے ہے کئی بار اسے گھر میں دیکھا تھا۔
آر۔جے نے کال ملائے دلہام سے انکی بات کروائی تو انہوں نے مطمئن ہوتے پریہان کو بھیج دیا تھا۔
“کیا نام ہے آپکا بچے؟”
آر۔جے نے گاڑی کے ماحول کو سازگار بنایا تھا۔
“پریہان”
دھیمی آواز جو وہ بامشکل سن پارہا تھا۔
“بہت پیارا نام ہے اور میرا نام ہے ۔۔”
“آر۔جے۔”
پریہان نے ہولے سے نام لیا تو کھلکھلایا تھا۔
“اسکا مطلب ہے کہ کافی فیمس ہوں میں؟”
آر۔جے نے گردن اکڑائی تھی تو پریہان نے اثبات میں سرہلایا۔
“ہم سب آپکے سونگ سنتے ہیں گھر میں ۔”
کیونکہ دلہام خود اسکی آواز کا دیوانہ تھا تو تقریباً سب ہی اس آواز سے خوب واقف تھے۔
“آہاں یور فیورٹ ون؟”
کہیں نا کہیں خود پرست طبیعت اپنی تعریف سنتے خوش ہوئی تھی۔
پریہان کے بتاتے وہ خوش ہوا کہ واقعی لوگ اسے جانتے تھے اور پھر اکثر ایسا ہونے لگا تھا کہ دلہام اس پہ ٹرسٹ کرتے پریہان کی ڈیوٹی اسے سونپ دیتا ۔پریہان بھی اس پہ ٹرسٹ کرنے لگی تھی لیکن گھر میں پریہان کی روز بروز گرتی طبیعت کو دیکھتے سب پریشان ہونے لگے تھے۔
وہ ایک دم سے بیمار نظر آنے لگی تھی گلابی چہرے کی رنگت نچڑ پیلاہٹ میں بدلنے لگی تھی۔
“چاکلیٹ”
آرجے کی آواز پہ وہ چونکی تھی ۔
“نہیں آر۔جے مما نے منع کیا ہے چاکلیٹ نہیں کھانی میں بیمار ہوں نا ڈرپ لگی تھی۔”
وہ اسے بتانے لگی جو اسے آج سکول سے واپسی پہ ایک پارک میں لایا تھا۔
“اوہ بٹ چاکلیٹ تو اچھی ہوتی ہے نا اور پری کی فیورٹ بھی ہے؟”
آر۔جے کی بات پہ وہ اسے دیکھنے لگی تھی۔انکار کرنا اسے بھلا کہاں آتا تھا اس نے وہ چاکلیٹ تھام لی تھی۔
آر۔جے کا سیل بجا تو وہ چونک اٹھا جہاں دلہام کی کال تھی۔وہ وہاں سے اٹھ گیا تھا پریہان نے ادھر ادھر دیکھتے چاکلیٹ کا ریپر پھاڑتے چاکلیٹ اپنے اسکول بیگ میں گرائی اور ریپر نیچے پھینک دیا۔
جانے کیوں اسے ایسا لگتا تھا کہ اس چاکلیٹ کو کھانے کے بعد وہ اور زیادہ ویک ہوجاتی ہے۔
“دلہام بھیا کی کال تھی پری میں نے انہیں بتایا کہ پری کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو میں اسے گھمانے لایا ہوں۔”
وہ مسکراتے ہوئے بینچ پہ اسکے پاس ٹکا تھا پریہان نے سراثبات میں ہلایا ۔
“چلیں گھر مما بھی پریشان ہونگی۔”
پریہان کی بات پہ وہ چونکا جو چاکلیٹ کا ریپر نیچے پھینک رہی تھی۔آر۔جے نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
گاڑی میں بیٹھتے کمزوری کی وجہ سے اس پہ غشی طاری تھی اور وہ راستے میں سوگئی۔
پریہان کی جب دوبارہ آنکھ کھلی تو وہ حیران ہوئی وہ اپنے گھر نہیں تھی بلکہ وہ کچھ عجیب سے ہی جگہ تھی۔وہ اٹھنے لگی تھی جب سوئی کی چبھن نے اسے دوبارہ لیٹنے پہ مجبور کردیا وہ سوئے سوئے حواسوں سے اپنے اردگرد کا جائزہ لینے لگی تھی۔
“شیطان خدای من است. من او را می پرستم. لذت او راه موفقیت من را باز می کند.”
(شیطان ہی میرا خدا ہے میں اسی کی پرستش کرتا ہوں اسکی خوشنودی میری کامیابی کے در کھولے گی۔)
(نعوذبااللّٰہ)
انجانی زبان میں کچھ بڑبڑاتا شخص یقیناً آر۔جے تھا پریہان کو ایک دھچکا سا لگا۔وہ دیکھ سکتی تھی کہ اسکی رگوں سے نچڑتا خون اس پتھر کے مجسمے کے سر پہ پڑرہا تھا جسکی پتھر پہ ایک آنکھ کنندہ تھی۔
جانے کیا ماجرا تھا ۔پریہان کے حواس بری طرح مختل ہوئے تھے۔
اپنا ورد مکمل کرتے وہ پریہان کے پاس آیا تھا شاید آج کی دین مکمل ہوئی تھی ۔
“ای لوسیفر (شیطانوں کےبادشاہ)، این برده توست. قربانی او را بپذیر۔۔”
(اے لوسیفر یہ تمہاری ہی غلام ہے اسکی قربانی قبول کرو).
.
اس پتھر کی طرف رخ کیے آر۔جے نے کہا تھا جبکہ اپنے گلے میں پہنے لاکٹ کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔کچھ دیر اور اس پراسرار سے ماحول میں کچھ بڑبڑاتے اس نے پریہان کے ہاتھ کو آذاد کیا تھا اور اسے اٹھائے گاڑی میں آیا تھا گھر کے قریب آتے اس نے پریہان کے چہرے پہ کچھ پانی پھینکا تھا جسکے بعد اسکے حواس پوری طرح سے بیدار ہونے لگے تھے۔
گھر آتے وہ معمول کی طرح سوئی نہیں تھی بلکہ اسکے دل دماغ پہ انجانے خدشے سر اٹھانے لگے تھے۔اسے یاد آرہا تھا وہ چاکلیٹ کھانے کے بعد سوجایا کرتی تھی اور آنکھ کھلنے پہ گھر ہوتی۔
اس دن کے بعد آر۔جے نہیں آیا تھا اسے لینے کیونکہ دلہام شہر سے واپس آچکا تھا۔پریہان کا دل چاہا وہ اسے سب بتائے لیکن کہنے کی ہمت نہیں تھی اور پھر پریہان نے دورید کو اپنا ہمراز بنانا چاہا تو وہ بھڑک اٹھا تھا کہ اس نے یہ سب دلہام کو کیوں نہیں بتایا ۔پریہان اپنی بات پہ پچھتائی تھی۔
ادھر آر ۔جے کی ایلومیناتی پرستش کام دکھانے لگی تھی کچھ ہی دنوں میں وہ میوزک انڈسٹری کا ایک بےتاج بادشاہ بنا تھا جسکو حاصل کرنے کیلئے اسے کم سن خون کی ضرورت پڑی تھی جسے وہ شیطان کے چڑھاوے دیتا رہا تھا۔پریہان کی حالت مزید بگڑنے لگی تھی اسے عجیب وغریب خواب اور آوازیں سنائی دیتیں جب ایک بار پھر آر۔جے کو اسکے خون کی ضرورت پڑنے لگی تھی جبھی وہ حویلی چلا آیا۔
“یو نوواٹ دلہام پریہان از لکی فار می جس دن میں اسے اسکول لینے گیا تھا اسی شام سے گویا مری کامیابیوں کی کہانی شروع ہوئی ہے۔”
آر۔جے کی پرجوش آواز گھر میں سنتے پریہان کا دل دھڑکا تھا۔
“یا شی از”
دلہام کے چہرے پہ بہن کی محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن تھا۔
“میں چاہتا ہوں ایک بار ہم سب مل کے یہ خوشی سیلبریٹ کریں۔”
آر۔جے کی فرمائش پہ دلہام نے اثبات میں سر ہلایا تھا وہ دوستوں کا دوست تھا جبکہ آر۔جے پہ تو اسے اندھا اعتماد تھا آر۔جے کی فیملی اور دلہام نے امراؤ کے ساتھ سلبریشن کا پلین بنایا تھا جب دلہام کو دوسرے شہر جانا پڑا تھا۔
“میں پریہان کو لے جاؤں آنٹی مما اور میشا(بہن) بھی کافی یاد کررہی تھیں پریہان کو۔”
وہ مؤدب سا امراؤ سے پوچھ رہا تھا جب انہوں نے بخوشی اجازت دی تھی جبکہ پریہان ایک خاموش احتجاج کرکے رہ گئی تھی۔اس بار آر۔جے نے اسے بہلانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی ۔
“مم۔۔ میں بھیا کو بتاؤں گی کہ آپ نے مم۔۔میرا بلڈ۔۔”
وہ ہاتھ میں لگی سوئی کو کھنچتے بولی تھی۔
“نو نو پری ، اچھی پریاں توانسانوں کی مدد کو ہوتی ہیں نا؟ دیکھو تمہاری تھوڑی سی مدد سے میرا اتنا بڑا فائدہ ہوجائے گا لوسیفر خوش ہوجائے گا اور زندگی شما وقف شده است ، شما تجسم خدا هستید ، شما برای خدا هستید۔”
آر۔جے کی سرد نظروں سے وہ ان آخری لفظوں کو سمجھ نہیں پارہی تھی لیکن وہ پراحتجاج انداز میں وہ چلاتی ہوئی اس ڈرپ سے آذادی حاصل کرنے لگی تھی جب آر۔جے اور اسکے درمیان کی ہوتی کھینچا تانی میں پریہان کا لباس پھٹنے لگا تھا۔
آر۔جے کی نظریں کونپلوں سے پھوٹتی کلیوں پہ رکی تھیں۔اسکی آنکھوں میں شیطانی طاقتوں کا خمار چھایا تھا جب اسکے وجدان میں آواز گونجی تھی کہ اسکے دیوتاؤں کو اس لڑکی کی بلی چاہیئے تھی۔
آر۔جے کی نگاہیں ایک سمت میں پڑے تیز دھار آلے پہ پڑی تھیں جبکہ پریہان خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔
“زندگی شما وقف شده است ، شما تجسم خدا هستید ، شما برای خدا هستید۔”
آر۔جے ایک ہی ورد کرتے اسکی طرف بڑھ رہا تھا جب کوئی تیزی سے اسکے فلیٹ میں داخل ہوا تھا اور دوسرے ہی لمحے آر جے زمین پہ نظر آیا تھا۔
پریہان نے اپنے مسیحا کو دیکھنا چاہا جب ایک زوردار تھپڑ اسے پڑا تھا۔
“منع کیا تھا نا کہ آر۔جے کے ساتھ کہیں نہیں آنا جانا پھر کیوں آئیں؟”
دورید کی سناٹوں کی چیرتی آواز پہ پریہان کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں جبکہ دوسرے ہی لمحے وہ اسے کھنچتے ہوئے خود سے لگا گیا تھا ایک نفرت بھری نگاہ آر۔جے پہ ڈالتے اس نے پریہان کو اپنے ساتھ لیا اور وہاں سے نکل آیا تھا یہی وہ سب سے بڑی غلطی کرگیا تھا کہ اسے آر۔جے کو اسی وقت پولیس کے حوالے کردینا چاہیئے تھا۔
پریہان کی باتوں سے اس نے نیٹ سرچنگ کرتے ان چیزوں کو کھوجا تھا جو آر۔جے کررہا تھا اور تب حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا جب اسے پتا چلا کہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھونے والا آر۔جے ایلومینتی طاقتوں کا استعمال کررہا تھا ۔وہ جو اچانک ہی حویلی آیا تھا اور اس پہ پریہان کی غیرموجودگی کی وجہ جانتے وہ دلہام سے اسکا ایڈرس لیتے اسکے فلیٹ پہنچا تھا جہاں پریہان کی ابتر حالت دورید کو حددرجہ قلق میں ڈال رہی تھی ۔وہ بچپن سے اسکے نام سے منسوب تھی بھلا ایک شوہر کیلئے کہاں آسان تھا اپنی بیوی کو ابتر حالت میں دیکھنا لیکن وہ اسکا رازداں بن گیا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ پریہان کی مزید بیوقوفیاں حویلی کے لوگ کیلئے امتحان کھڑا کریں گی۔
