Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 14)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

کبھی جو فرصت ملے تو

وقت کی طنابوں کو

کھینچ کر واپس لے لوں

وہ لمحے جو ہم جیا کرتے تھے

وہ ساعتیں جو ہم بتایا کرتے تھے

وہ خوشیاں جو ہم منایا کرتے تھے

وہ اداسیاں جو ہم مٹایا کرتے تھے

وہ ساتھ جو ہم نبھایا کرتے تھے

وہ ہاتھ جو ہم پر سایہ کرتے تھے

وہ رونقیں جنہیں ہم سرمایہ کہتے تھے

وہ وحشتیں جنہیں ہم مایہ کہتے تھے

مگر افسوس

کہ اس جہدِمسلسل میں

اب وہ فرصتیں کہاں

وہ فراغتیں کہاں

وہ جو لمحوں کومٹھی میں سمیٹ لیں

اب وہ چاہتیں کہاں۔۔..

دلہام بخت کے پہلو میں بیٹھی عناء نے سامنے موجود خوش اور مطمئن لوگوں پہ نگاہ ڈالتے چور نگاہوں سے اپنے پہلو میں بیٹھے شخص کو دیکھا جو علاقائی لباس میں ملبوس کندھے پہ اجرک ڈالے بڑے طمراق سے اسکے ساتھ برجمان تھا بلکل روایتی سردار کے جیسے آن بان لیے ۔

کم بخت ہر روپ میں ہی جم کے پیارا لگتا تھا عناء کے چور دل نے تعریف کی تو اس نے سرزنش کرتے ہوئے ڈانٹ ڈپٹ کے اسے چپ کروایا۔

“عناء یار کیا اب تم بھابھی کے عہدے پہ فائز ہوتے ہی سنجیدہ خاتون کا روپ دھار لو گی؟”

دورید جو کب سے اس سے بات کرنے کا سوچ رہا تھا دلہام بخت کے اسکے پہلو سے اٹھتے ہی اسکے پاس آیا تھا۔

“ایسا کیوں سوچا تم نے؟اور میں کوئی بھابھی نہیں ہوں بس عناء دلاور ہی ہوں۔”

وہ ہٹ دھرمی سے اپنے نام کی مالا چبنے لگی تھی۔

“دورید”

داراجان کی آواز پہ اس نے بدمزہ سا ہوتے سر اوپر کو اٹھایا جو اسے کچھ اہم بتانے والا تھا اور بات ادھوری رہ گئ تھی۔

“جی دارا جان آئیں بیٹھیں۔”

وہ مؤدب سا اپنی نشست سے کھڑا ہوا جب دلہام پھر سے عناء کے پہلو میں آٹکا تھا جب کہ دوسری جانب دارا جان تحھے۔

دلہام نے انتہائی دلبرانہ انداز سے( دیکھنے والوں کیلئے )جبکہ عناء کیلئے انتہائی جابرانہ انداز میں اسکا مومی ہاتھ اپنی گرفت میں لیا تھا جوکہ دارا جان کے سامنے زبان بندی کا حربہ تھا۔

“بٹیا آپکو اس نالائق سے کوئی بھی مسئلہ ہو آپ ہمیں بتائیے گا یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پہ گھبرا کے ایسے فیصلے نہیں لے لیتے جو آپکو اور ہمیں پشیمان کریں ۔”

دارا جان حددرجہ نفاست سے مخاطب تھے عناء نے لپ اسٹک سے مزین ہونٹوں کا کونہ دانتوں تلے دبایا۔جابر دلہا ساتھ جو بیٹھا تِھا۔

“اس حویلی کے رسم ورواج محبتوں کے پابند رہے ہیں،اس خاندان کی مضبوطی اپنوں کیلئے دی جانے والی قربانی اور اعتماد ہی اس حویلی کے مکینوں کی پہچان ہے۔”

دارا جان کے انداز سے چھلکتا تدبر اور شیریں انداز گفتگو عناء کے دل میں آگ لگا رہا تھا۔

یہ محبت کی فصلیں اور اعتماد کے دعوے اسوقت کہاں تھے جب اسکی ماں کو بدکردار کہا گیا تھا اور اتنے رشتوں کے باوجود بھی وہ لاوارث سی ہاسپٹل میں اپنی نآجہانی موت کا انتظار کرتی رہی تھیں۔

عناء کی پلکیں نم سی ہوئیں تھیں جبکہ دارا جان اپنے مضبوط لفظوں کا حصار بچھاتے جا چکے تھے اور ساتھ میں دلہام کا ہاتھ بھی عناء کے ہاتھ سےچھوٹا تھا جو بہت سختی سا اب تک جما تھا۔

درد کی لہر سی اٹھی تھی جانے دل میں یا اسکی ظالم گرفت پہ۔

“آنسو صاف کرو دنیا تمہارے مظلومیت کے ڈھونگ سے ایمپریس ہوسکتی ہے میں نہیں۔”

اسے دھیان نہیں رہا تھا کہ اسوقت وہ بھی یہاں موجود ہے۔

“مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے آپکویا کسی اور کو اپنی

مظلومیت دکھا کے ہمدردی بٹورنے کی اوکے میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ یہاں آکے بیٹھیں۔”

عناء نے بنا اسکی پوزیشن کا لحاظ کیے اسے کھری سنائی تو وہ اسے دیکھ کے رہ گیا تھا۔

فیملی فوٹو سیشن اسٹارٹ ہوا تو ان دوغلے لوگوں کو دیکھ عناء کڑھنے لگی تھی۔

انکے ولیمے میں بڑی تعداد میں پولٹیشنز بھی شامل تھے۔

کڑے ضبط سے تقریب نبٹاتے وہ گھر پہنچے تھے جب روم میں آتےہی اس نے ہر چیز کو نوچ نوچ کے ہی پھینکا تھا وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو عناء کا جنونی انداز اسے بھی پُروحشت سا کرگیا تھا جانے کیوں دل میں آس تھی اسکے دوآتشہ حسن کو جی بھر کے دیکھنے کی۔

“کس بات کا غصہ ہے آخر یہ؟”

وہ جو آخر کی دو چوڑیاں اتارنے کی تگ ودو میں تھی دلہام نے اسے بازو سے پکڑے اپنے قریب کیا۔

“کتنے دوغلے لوگ ہو نا تم سب لوگ گھن آرہی ہے مجھے سب سے۔”

“شٹ اپ عنادل تمہارا بہت ہورہا ہے میری فیملی کے بارے میں ایک لفظ نہیں سننا مجھے۔”

“یہ تمہاری فیملی نہیں ہے تمہاری فیملی وہ ہے جو پاگل خانے کی زینت۔۔ “

“عنادل۔۔۔۔”

دلہام کا ہاتھ بےساختہ اٹھا تھا لیکن راستے میں ہی رک گیا تھا کہ اسے اب برداشت کرنا سیکھنا تھا اس لڑکی کو گزند پہنچا کے وہ خود بھی تکلیف میں مبتلا رہتا تھا۔

اپنے راز اپنے تک ہی رہیں تو ہی وہ راز رہتے ہیں اگر وہ کسی دوسرے سے شئیر کرلیے جائیں تو زبان زدعام قصہ بن جاتے ہیں اس چیز کا احساس دلہام کو ہورہا تھا کہ اس نے عناء کو اپنے بارے میں بتا کے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔

“کیوں چپ کروانا چاہتے ہو آپ مجھے آپکے یوں دھاڑنے سے کیا حقیقت چھپ جائے گی ،شور وہیں مچاتا ہے جسے اپنی حقیقتوِں کا خوف ہو اگر ارینہ بدکردار تھی حویلی والی کیلئے تو ایمرے کو بھی قاتل ثابت ہونا پڑے گا۔”

عناء کی آنکھوں میں جنون سوار تھا جبکہ دلہام کیلئے وہ کسی آستین کے سانپ کی مانند لگی تھی جسکے عشق میں ڈوبتے وہ راز ہستی تھما چکا تھا اور اب وہ اسے ہرموڑ پہ بلیک میل کرتی پھررہی تھی۔

اسے عناء سے خوف محسوس ہورہا تھا لیکن وہ اسے بتانا نہیں چاہتا تھا تبھی اسے ایک جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے روم لاک کیا اور موسیٰ کو کال ملائی۔

“سنو گاڑی تیار کرو ہمیں مری کیلئے نکلنا ہے۔”

دلہام کی بات پہ اسے خونخوار نگاہوں سے گھورتی وہ چونکی تھی ۔

دلہام نے مری میں ایک گھر خرید رکھا تھا جہاں وہ سب اکثر دوستوں کے ساتھ سنوفال انجوائے کرنے جاتے تھے یہ بات عناء کے علم میں تھی لیکن وہ اب کیوں جانا چاہتآ تھا؟

ان دونوں کے حالات اتنے خوبصورت نہ تھے کہ وہ سمجھتی وہ اسے ہنی مون کیلئے لے کے جانا چاہتا ہے۔

موسیٰ کو انسٹرکشنز دیتے وہ پھر سے اسکے پاس آیا تھا۔

“صرف دس منٹ ہیں تمہارے پاس اپنا حلیہ درست کیے باہر آؤگی تم اور سب کو یہی بتاؤگی کہ ہمارا ہنی مون پلین شیڈول تھا۔”

دلہام اس کو حکم دیتے باہر کی جانب بڑھا۔

“میں کہیں نہیں جاؤنگی آپ سے کیا بعید کے آپ مجھے وہاں جاکے قتل کردیں۔”

عناء کی بات پہ اسکے ڈھیلے پڑتے عصاب ایک بار پھر سے چٹخے تھے۔

“وہاں کا تو پتا نہیں لیکن یہاں تم ضرور میرے ہاتھوں سے قتل ہوجاؤ گی تم اپنے تین منٹ ضائع کرچکی ہو۔”

اسے اڑیل بنا دیکھ دلہام خود ہی الماری کی طرف بڑھتے اسکا سارا سامان الٹے سیدھے ہاتھ سفری بیگ میں پھینک چکا تھا۔

“تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں عزت دی جائے۔”

دلہام نے اسکا تقریباً سامان پیک کرتے پھر سے موسیٰ کو کال کرتے سامان لے جانے کا کہا تھا عناء بت بنی اسے دیکھ رہی تھی جب اپنی اجرک شال اتارے اس نے عناء کے کندھوں سے لپیٹی۔

عناء کا عجب ہی ہال تھا کاسنی رنگ کی ہیوی میکسی میں ملبوس الجھا بکھرا حلیہ اور اس پہ وہ میرون اور وائٹ کمبنیشن کی اجرک ۔

دلہام نے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ سختی سے جمی تھی۔

“میں کہیں نہیں جاؤنگی سنا تم نے میں یہی رہونگی اور میں دیکھتی ہوں کہ مجھے یہاں سے کون لے کے جاتا ہے یہ حویلی میرے نام ہے دلہام بخت۔”

وہ اڑیل بنی تھی۔

“پہلے نکاح میں ایسا کچھ نہیں تھا اور دوسرا نکاح جائز ہی نہیں ہے تو تمہاری شرط وشرائط بھی قابل قبول نہیں ہے ایک دم فضول تمہاری طرح۔”

وہ بدتمیزی میں بھی آپ جناب کی حدود میں رہتی تھی لیکن آج حدیں توڑتی عناء اسے بہت بری لگ رہی تھی۔

“یہ تو تمہیں پتا ہے نا گھر والے صرف اسی نکاح کو مانتے ہیّں جو دارا جان نے کروایا ہے۔”

دارا جان کی مبہم انداز میں دھمکی دیتے اس نے اپنا پلس پوائنٹ سنوایا تھا۔

“کیوں تم دبی ہوئی چنگاری کو آواز دینا چاہتی ہو۔”

وہ دانت پیستے ہوئے بولا اس سے پہلے کے وہ جواب دیتی دروازہ ناک ہوا تھا۔

موسیٰ کی آواز پہ وہ اس سے فاصلہ بنا گیا جبکہ دلہام کے دروازہ کھولنے پہ وہ انکے سوٹ کیس لے جانے لگا تھا۔

“پانچ منٹ میں باہر نظر آؤ مجھے۔”

موسیٰ کے نکلتے باقاعدہ آرڈر کیا تھا ۔

“کتنی دیر وہ سوچتی رہی تھی کہ اسے دلہام اور اسکی ماں سے بدلہ لینا اور اپنی ماِں کو انصاف دلانا تھا تو اسے گھروالوں کا دل اور بھروسہ جیتنا ہوگا اور اسوقت دلہام اسے ان سے دور لے جانا چاہ رہا تھا تو کیا اسے گھر والوں کے سامنے ابھی سے اپنا آپ ظاہر کردینا چاہیئے ؟

کتنی دیر خود سے الجھتے وقت کی دھار کو دیکھنے کا سوچتے اسکی من مرضی سے باہر آئی تھی۔

“مجھے تو بلکل مناسب نہیں لگ رہا دلہام تم ایسے ایک دن کی دلہن کو لے کے جارہے ہو۔”

بی جان نے نکھری سی عناء کو دیکھتے ہوئے کہا جسکے کھلے بال شال پر بھی بکھرے ہوئے تھے جنہیں تازہ تازہ کنگھا کیا گیا تھا جبکہ کاجل تھوڑا سا مٹا تھا ،لپ اسٹک بھی ندارد تھی میک اپ سے پاک صبیح چہرہ بہت پیارا لگ رہا تھا۔

“بی جان آنے والے دنوں میں ،ہمارے پاس بلکل ٹائم نہیں ہوگا اور پھر خوشی کے اس موقع پر بھی عناء جان اپنے والدین کو یاد کرکے دکھی ہورہی تھیں تو ہم نے یہی سوچا تھا کچھ تفریح سے وہ فریش ہوجائیں گی اور پی۔ایم سے بھی اپنی میٹنگ وغیرہ کے سیشن نمٹا لیں گے۔”

عناء دلہام کی جھوٹ کے فراٹے بھرتی زبان کو دیکھ رہی تھی۔

“عناء بٹیا تو ابھی بھی بہت اداس لگ رہی ہیں۔”

مما نے اسے خود سے لپٹاتے ہوئے کہا تھا۔

“میں بھی یہی چاہتی تھی کہ ابھی آپ لوگوں کے ساتھ رہوں ایک فیملی کی محبت محسوس کروں لیکن دلہام کی ضد پہ مجبور ہوگئی ہوں میں مما جان۔”

عناء کی معصومیت پہ سب اسے پیار لٹاتی نظروں سے دیکھنے لگے تھے جبکہ دلہام جزبز ہوکے رہ گیا تھا وہ اسکی عنادل تھی؟معصوم سی یقین نہیں ہوتا تھا۔

“دلہام عناء کو یہاں رہنے دیتے بیٹا۔”

چھوٹی چچی بھی میدان میں آئیں تو عناء کو امید بندھی۔

“نہیں دلہام اور عناء کو ایک ساتھ جانا چاہیئے انکی نئی نئی شادی ہوئی ہے انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کا وقت ملنا چاہیئے اور ویسے بھی کام مکمل کرتے ہی بچوں نے یہاں واپس آجانا ہے آپ لوگ بدشگونی پھیلا کے انہیں روک رہی ہیں۔”

بابا جان کی سخت آواز پہ سب دل مسوس کے رہ گئے۔

رمز اور پریہان نے تو باقاعدہ آنسو بہا ڈالے جیسے وہ یہاں سے وداع ہورہی ہو۔

عناء اس چالاک شخص کو سوچ کے رہ گئی تھی جس نے چند سیکنڈ میں ہی گاڑی نکالی تھی جبکہ سکیورٹی کیلئے ایک گاڑی انکے ہمراہ تھی جس میں موسیٰ اور دوگارڈذ موجود تھے۔

گاؤں کی حدود سے نکلنے تک وہ خاموش رہ سکی تھی لیکن گاڑی جیسے ہی موٹرووے پہ چڑھی تھی تو گویا عناء کیلئے خاموش رہنا دوبھر ہونے لگا تھا۔

“دیکھنا دلہام بخت ایک دن مظلوم لڑکی کی آہ لگے گی تمہیں۔”

“عنادل اپنی حدود یاد رکھوگی تم ،اب اگر ایک بار بھی بدتمیزی کی مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔”

ڈرائیونگ اسٹئرر پہ اسکے ہاتھ سختی سے جمے تھے۔

عناء کی ایک نگاہ سامنے دیکھتے ہوئے دلہام پہ ڈالی اور پھر نگاہ اسکے سفید ہاتھوں پہ پڑی بایے ہاتھ کی کلائی میں بیش قیمت واچ اسکے مردانہ ہاتھوں کی خوبصورتی کو بڑھا رہے تھے کچھ دیر اسکے ہاتھوں کو گھورتے پھر چہرے پہ فوکس کیا عنابی ہونٹوں کی قدرتی کٹ اور ان پہ گھنی موچھیں پتا دے رہی تھیں کہ وہ دانتوں کو ضرور بھینچے بیٹھا تھا۔

ہلکی ہلکی داڑھی سے نظر نے اسکی دراز پیشانی کا سفر کیا جہاں اتنی سردی کے باوجود بھی پسینے کے ننھے قطرے نمودار ہورہے تھے جبکہ ماتھے کی نسیں بھی عام روٹین سے ہٹ کے ابھری ہوئی تھی۔

“آپ سے برا ویسے بھی کوئی نہیں ہے دلہام بخت۔”

جانے کب اسکا غصہ ٹھنڈا ہو تمام تر جائزے کے بعد اس نے زبان کے جوہر دکھانے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

“تو دور رہنا چاہیئے تمہیں اس برے شخص سے۔”

دایاں ہاتھ داڑھی کو سہلانے لگا تھا ۔

“تو شوق کسے ہے خود ہی لائے ہیں آپ مجھے یہاں اور بہت ہی برا کیا ہے دلہام بخت ناکوں چنے نہ چبوائے تو یاد رکھناکوئی عناء دلاور تھی۔”

وہ دھمکیوِں پہ اتری تو دلہام نے ایک اچٹکتی نگاہ اس پہ ڈالی تھی اور اسے جواب نہ دینے کا تہیہ کیا۔

“آپ نے حویلی سے مجھے اسیلئے نکالا ہے نا تاکہ میں آپکی اصلیت کسی کو نہ بتادوں؟”

دلہام کا ہاتھ اپنے ہونٹوں کو مسلنے لگا تھا۔

“دیکھنا ایک دن میں ایمرے کو غلط اور اپنی ماں کو صیح ثابت کرکے رہونگی۔”

دھمکیاں ویسے ہی جاری تھیں جب دلہام کا سیل بج اٹھا تھاموسیٰ کی کال تھی جو اسے اسلام آباد اور مری جانے والے راستوں کی بندش کا بتا رہا تھا جو شدید دھند کی وجہ سے بلاک تھے۔

دلہام نے اس سے قریبی کوئی ٹھکانے کا پوچھا اور کچھ ہی دیر بعد وہ ایک مناسب درجے کے ہوٹل میں قیام کیلئے رکے تھے۔

دلہام اسےروم کی چابی پکڑاتے موسیٰ وغیرہ کے پاس چلا گیا تھا جبکہ عناء نے کمرے میں انٹر ہوتے اردگرد کا جائزہ لیا۔

وہ ایک نارمل روم تھا جہاں ایک بیڈ اور ایک چئیر کے علاوہ ڈرا وغیرہ اور اٹیچ باتھ موجود تھا۔

شاید دلہام نے اسکیلئے سنگل روم بک کروایا تھا اس سوچ کے آتے اس نے بریف کیس کی طرف نگاہ دوڑائی یقیناً رات گزارنے کو یہ شاہانہ لباس قابل قبول نہیں تھا۔

شال اتارے اپنا سفری بیگ کھولا تو کپڑوں کا ملغوبہ سا بنا نظر آیا تھا جبھی نگاہ دلہام کے بیگ پہ آٹکی تھی۔

اپنے لباس کو بدظن نگاہوں سے دیکھتے اس نے دلہام کا بیگ کھولا اور اس میں سے اسکی ٹراؤذر شرٹ نکالی۔

اسے آج رات کے لباس کی ضرورت تھی صبح تک وہ بدل لے گی اسی سوچ کے تحت وہ اسکا ڈریس نکالے واشروم میں گھسی تھی اور تبھی دلہام روم میں انٹر ہوا ۔

خالی کمرہ اور واشروم سے پانی گرنے کی آواز پہ وہ اندازہ کرسکتا تھا کہ عناء اندر ہی ہوگی۔

وہ ریلکس سا بستر پہ دراز ہوا تھا جب اسکی آمد پہ چونکا تھا جو حسب معمول گانا گانے میں مشغول تھی۔

آج تک وہ جان نہیں پائی تھی کہ دلہام نے اسے عنادل کا نام کیوں دیا تھا تبھی اسے چڑانے کو ہر بار یہی کہہ دیتی تھی کہ عناء اور دلہام کو اکٹھا کرکے دلہام نے اسے عنادل کا نام دیاہے جبکہ اس نے تو تبھی اسے عنادل پکارا تھا جب اسے گاتے سنا تھا۔جب اسکے نام سے بھی واقف نہ تِھا۔

ہزارہا بیزاری کے باوجود دلہام کے لب مسکائے تھے لبوں نے”عنادل” کا ورد کیا تھا۔

چھو لوں تجھے جیسے کوئی چاند کو چھونا چاہے

چاہوں تجھے جیسے کوئی بچہ کھلونا چاہے

فکر کی رات میں توں سکون کی نیند ہے

پت جھڑ کے موسم میں تو بارش کی پہلی بوند ہے

دل مانڑ اج عید تیرے واسطے۔۔۔۔۔۔آی۔۔۔

اپنی دھن میں گنگناتی عناء کی زبان کو بریک دوسرے شخص کی موجودگی نے لگائے تھے جو یک ٹک اسے ہی دیکھے جارہا تھا وہ جو اب تک خود میں مگن سی اپنے بالوں کو ٹاول سے سکھانے میں مشغول تھی اور اسی تگ ودو میں کچھ پانی کے چھینٹے دلہام بخت کے چہرے پہر بھی پڑے تھے جسکی تمام تر حسیات بیدار ہوئی تھیں اسے اپنی سافٹ کاٹن کی وائٹ شرٹ میں ملبوس دیکھ کر جو تقریباً اسکے جسم سے چپکتے ہوئے تمام خدوخال کو نمایاں کررہی تھی۔

“آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟”

عناء اسکی نظروں کی تپش سے انجان اسکی موجودگی پہ چیخی۔

“میرے خیال سے یہ انتہائی بکواس سوال تھا کہ نہیں؟”

طنزیہً کہتے وہ اسکی طرف پیش قدمی کرنے لگا تھا۔

عناء کا دل دھک سا رہ گیا یقیناً وہ اس سے اپنی شرٹ کے بارے میں جرح کرنے والا تِھا کیا سوچا اور ہوا کیا؟

“سوال صیح تھا جواب بھی چاہیئے مجھے۔”

اپنے خوف پہ قابو پائے وہ نڈر سی بولی۔

“اسکا جواب یہ ہے کہ محترمہ ابھی چندگھنٹوں پہلے ہم نے اپنا ولیمہ بھگتایا ہے جو یقیناً اس بات کی دلیل ہے کہ غلطی سے مجھے آپکا شوہر ہونے کی سزا ہوئی ہے اور اسی سزا کے تحت میری یہاں موجودگی کو انوکھی بات نہیں۔”

دلہام کی نظریں اسکے سراپے میں الجھی تھیں ۔

قطرہ قطرہ گیلے بالوں سے گرتا پانی عناء کے چہرے اور کپڑوں پہ گرتے دلہام کا ضبط بھی بہا لے جانا چاہتا تھا۔

کمرے میں پھیلتا جادوئی فسوں اسے جکڑنے لگا تھا تو وہیں حق ملکیت کا احساس پوری طرح انگڑائیاں لیتے انا کی دیوار گرانے پہ مضر نظر آتا تھا۔

“ہاں تو یہاں دارا جان آپ پہ نظریں نہیں جمائے بیٹھے ہیں جاکے کہیں بھی سو جائیں۔”

وہ اسکی آنکھوں میں جنم لیتے خمار سے نظریں چرائے پھر سے رخ موڑے اپنا کام کرنے لگی تھی جبکہ ٹاول بار بار ہاتھوں سے پھسل رہا تھا۔

“یہ میری فیورٹ شرٹ تھی تمہارے وجود کا حصہ بننے سے پہلے۔”

بہت قریب سے دلہام کی آواز ابھری تھی جو اسے سانس ساکن کرنے پہ مجبور کرگئی۔

دلہام نے ہاتھ بڑھائے اسکے گیلے بالوں کی چند لٹیں اپنے ہاتھ میں لی تھیں عناء کو لگ رہا تھا وہ ہل نہیں پائے گی ۔

چاہے لاکھ وہ نفرت اور بیزاری کے دعویدار سہی لیکن تنہائی میں ایک مصمم رشتہ حاوی ہوبھی سکتا تھا۔

“میں اس ڈریس میں کمفرٹیبل نہیں تھی اور پھر باقی کے ڈریسسز بھی اس حالت میں نہیں تھے کہ۔۔۔۔”

دلہام کی جسارت پہ اسکے لبوں پہ قفل پڑے تھے جب ایک دہکتا لمس اسکی پشت پہ نمودارا ہوا تھا۔

اسکے جان گزیں دہکتے لمس کو محسوس کرتے وہ جھٹکے سے مڑی تھی اور دلہام کے سینے سے ٹکرائی تھی اسے دھیان نہیں تھا کہ وہ اسکے اتنے قریب ٹہرا ہے۔

غلافی آنکھیں اٹھیں تو گھنی موچھوں کے تلے دبے سنجیدہ لب ان پہ جھکے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *