Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 18)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

احباب نے، رقیب نے، دِل نے، رفیق نے

یہ بھی رہا نہ یاد کہ کس کس نے مات دی…..

“باہر کیسے آیا وہ آخر؟”

دلہام کی دھاڑ وہ دور رہ کے بھی سن سکتی تھی جسکی برداشت کا پیمانہ صرف تین گھنٹے رہا تھا ۔

دوسری طرف موجود شخص بھی اپنی اس بےخبری پہ ماتم کدہ ہوا تھا جسکی وجہ سے اسکی زندگی میں بھونچال آیا تھا وہ بھلا اس سے اتنا غافل کیسے ہوسکتا تھا؟

“سر میں ابھی جیلر سے بات کرتا ہوں۔”

موسیٰ نے بمشکل اپنی کانپتی آواز پہ قابو پایا تھا۔

“نہیں اب وہ شخص مجھے میرے ٹھکانے پہ چاہیئے میرے حویلی پہنچنے سے پہلے،پہلے رائٹ ناؤ اسے پاتال سے ڈھونڈ کے بھی لا سکتے ہو تو لے کے آؤ۔”

دلہام ہمیشہ کی طرح اپنی سنا کے کال بند کرگیا تھا ۔موسیٰ کو تاسف نے گھیرا کہ آج وہ پھر سے ڈپریشن میں جارہا تھا اس شخص کی وجہ سے جو قطرہ قطرہ زہر بن کے سب کی زندگیوں میں گھل گیا تھا لیکن یہ اور بات تھی کہ یہاں ہر کوئی ایک دوسرے سے یہ راز چھپائے ہوئے تھا۔تو کیا سالوں پہلے کا راز اسکی آمد سے کھلنے لگا ہے؟

“نہیں “

اپنے ماتھے پہ نمودار ہوتے ننھے قطروں کو وہ صاف کرنے لگا تھا وہ جانتا تھا جس اعتبار کو لیے وہ اس حویلی میں جی رہا ہے اسکا بھرم ٹوٹنے سے دلہام بخت بھی ٹوٹ جائے گا ۔اب جو کرنا تھا اسے ہی کرنا تھا۔

“رحمٰن جیلانی”

موسیٰ کے ماتھے پہ کئی سلوٹیں نمودار ہوئی تھیں۔

اسوقت وہ اپنے کواٹر میں اکیلا ہی بیٹھا تھا دماغ کی نسیں مزید بوجھ نہیں سہل کرپارہی تھیں جب کسی کی چاپ محسوس کرتے وہ چونکا تھا۔

“مجھے تم سے بات کرنی ہے شاید تم نہیں جانتے کہ دورید اور پریہان کی شادی کے بعد سب کو میری ہی فکر ستائے گی اور میں نے جسکا نام لینا تم جانتے ہو۔”

وہ سرخ چہرہ لیے اسے دیکھ رہی تھی کیونکہ آج ہی بی جان اور امراؤجان کو بات کرتے سنا تھا۔

“کیا تم یہ اپنی چپ توڑ نہیں سکتے؟اب بھی نہیں موسیٰ؟”

وہ ملتجیانہ انداز میں کہتے اسکا ہاتھ تھام گئ تھی موسیٰ کو تو جیسے کرنٹ نے چھوا تھا۔وہ کسی چھوت کی مانند لگتی رمز سے دور ہوا تھا۔

“موسیٰ پلیز اور کتنا گراؤِں میں خود کو تمہارے سامنے؟”رمز کی آنکھوں سے ساون چھاچھوں مینہ برس رہا تھا ۔موسیٰ باوجود چاہت کے ہاتھ نہیں بڑھا سکتا تھا۔

“موسیٰ”

“آپ جائیں بیبی جی ۔”

دو جملوں کی داستان میں پہلا جملہ ادا ہوا تھا۔

“میں بھیا کو سب کچھ بتادونگی۔”

وہ ہاتھ کی پشت سے آنسوں صاف کرتے اسے دھمکی دینے لگی تھی۔

“اسکا انجام جانتی ہیں نا آپ؟”

شاید کہ اب چپ رہنا مناسب نہیں رہا تھا تبھی وہ سرخ آنکھیں اس پہ گاڑے بولا تھا۔

“مجھے کسی انجام کی پرواہ نہیں ہے۔”

وہ ہٹ دھرمی سے بولی تھی۔

“پریہان بیبی،اس سب کے بعد انکا کیا ہوگا؟”

وہ اسے جذبات کی رو میں بہکنے سے روکنا چاہتا تھا۔

رمز ایک لمحے کو ساکت ہوئی تھی۔

حقیقت ہی تو بتا رہا تھا وہ اسے ایک رمز کی چپ سو سکھ لا سکتی تھی پھر کیوں؟

“خود غرض ہونا چاہتی ہیں آپ؟دورید ،دلہام بخت ،دارا جان بڑے سائیں کس کس کو اپنے عمل کی وضاحت دیں گی اور کیسے؟پریہان بیبی کی شادی ٹوٹ جائے گی۔”

موسیٰ اسکے سامنے تمام حقائق رکھنا چاہتا تھا شاید کہ اسکی جذباتیات کم ہوجائے۔

“میں تم سے دستبردار نہیں ہوسکتی موسیٰ ،ہم بھاگ چلتے ہیں یہاں۔۔۔”

رمز کی بات پوری نہیں ہوئی تھی جب موسیٰ کے تھپڑ نے اسے ہوش میں لایا تھا۔

“میں اپنے مالکوں کا وفادرا رہنا چاہتا ہوں رمز بیبی ،میرے پرکھوں نے اس حویلی کو اپنا خون دیا ہے میں یہ کہتے ہوئے بلکل شرمندگی محسوس نہیں کرونگا کہ آپ ایک شیطان کا روپ دھارے مجھے ورغلانے آئی ہیں۔”

وہ بی۔اے پاس لڑکا اسے وفاداری کے رموزاقاف بتا رہا تھا۔

“میں آج ہی کسی لائر سے بات کرکے یہ کاغذی رشتہ ختم کردونگا رمز بیبی جو میری وفاداری پہ دھبہ بنے اس رشتے کی مجھے ضرورت نہیں ہے جو صرف حویلی کی عزت اور بھرم قائم رکھنے کیلئے ہوا تھا۔”

موسیٰ رخ موڑے اسے کہہ رہا تھا یہ جانے بغیر کہ وہ تو کب سے وہاں سے چلی گئی ہے ۔اسے موسیٰ کی خاموشی ہی منظور تھی۔

گہری خاموشی پہ رخ موڑا تو وہ کہیں نہیں تھی۔

“مجھے معاف کردیجئے گا رمز بیبی۔”

اسے اپنے اقدام پہ انتہائی شرمندگی تھی کہ عورت پہ ہاتھ اٹھانا اسکی سرزشت میں شامل نہ تھا۔وہ کم ذات تھا لیکن عورت کی عزت کو مقدم جانتا تھا پر رمز کے معماملے میں وہ فتنہ پروری کا شکار نہیں ہونا چاہتا تھا۔

اسکے روم سے نکلتی رمز تیزی سے اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔

محبت کرنے پہ اسکا اختیار ہوتا تو شاید وہ خود کو روک بھی لیتی لیکن اسے خود پہ ہی کوئی اختیار نہیں تھا۔

پریہان کمرے میں آئی تو اسے اوندھے منہ بستر پہ لیٹے ہچکیاں لیتے دیکھ پریشانی سے اسکی طرف بڑھی تھی۔

“رمز”

پریہان نے اسے سیدھا کرنا چاہا وہ جو جوالہ مکھی بنی تھی پریہان کی آواز پہ ایک دم سے پلٹی تھی۔

“رمز کیا ہوا ہے پلیز بتاؤ مجھے؟”

رمز کا الگ داستان سناتا چہرہ اسکی سانس روکنے لگا تھا۔

“رمز۔۔”

“پریہان وہ۔۔۔۔۔”

رمز اسے اس دن کی داستان سنانے لگی تھی جب وہ پریہان کی مدد کیلئے رحمٰن جیلانی کے ڈیرے پہ اس سے ملنے گئی تھی اور وہاں پہ جو کچھ ہوا پریہان کی سانسیں اٹکی تھیں۔وہ بےیقین سی تھی اسے جو لگتا تھا کہ وہ اب تک اس داستان کی اکیلی وکٹم تھی رمز کی بات تو اسے سانس لینا تک بھلا رہی تھی۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

ابھی انکی منزل دور تھی تبھی دلہام نے ریسٹ لینے کا ارادہ کیا تھا۔عناء کی ذات گہری چپ کے سائے میں تھی ،دلہام بخت کا ہتک آمیز رویہ وہ آرام سے سہل کرتی آئی تھی کہ اسے لگتا تھا وہ دوبدو جواب دے کے قرض چکتا کرلیتی ہے۔وہ تمام فارمیلٹیز پوری کیے ایک کمرے میں اسکے ہمراہ آیا تھا ۔

ایک نگاہ اسکے ستے چہرے پہ ڈالی تو پیشمانی ہی پیشمانی تھی بہرحال جو بھی تھا عناء پہ اسے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے تھا لیکن وہ اسکی بات کو رد کیے آر۔جے سے ملی تھی جبکہ اسکی عنادل کا گانا ۔۔۔؟

اس سے آگے کی سوچ اسے پھر جنون میں مبتلا کررہی تھی کہ اسکی عنادل کی آواز ایک دنیا تک گئی تھی۔

وہ جو اس دن اسے کیرٹ ریڈ کلر میں ملبوس دیکھتے مبہوت رہ گیا تھا اسے یقین تھا کہ اگر وہ اسے باہر لے کے گیا تو دلہام کسی کی نگاہ بھی اس پہ برداشت نہیں کرسکے گا پھر اسے کسی اجنبی کے ساتھ عناء کی موجودگی کی خبر بھی بہت کھلی اور جب نام آر۔جے ہو تو ؟

مژداد اتنی آسانی سے عناء تک اس شخص کی رسائی ،اپنی معاونت میں اسے اسٹوڈیو لے کے جانا دلہام کی غیرت کو گوارہ نہیں تھا۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ عناء اسکی ضد میں مزید کسی کے ہاتھوں کا کھلونا بنے اسے عناء کو سنبھالنا تھا۔

دلہام نے اسے دیکھا جو اپنا اوور کوٹ اور جوگرز اتارے بیڈ پہ لیٹ چکی تھی جبکہ دلہام کی طرف اسکی پشت تھی۔

کچھ دیر اسکی پیٹھ کو گھورتے وہ دوسری طرف سے چلتے اسطرف آکے بیٹھا تھا جہاں عناء کا رخ تھا۔

اسکی آہٹ کو محسوس کرتے عناء نے سختی سے آنکھیں بھینچیں جبکہ پلکوں کی لرزش اسکے جھوٹ کو پوشیدہ نہیں رکھ پارہی تھی۔

ڈھیر ساری شرمندگی کے گھیرے میں وہ ذرا سا اس پہ جھکتے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے گویا تمام دردوں کو چننا چاہ رہا تھا۔

“آئی۔ایم سوری۔”

اسکے کانوں میں ہوئی سرگوشی نے عناء کو بےیقینی کا شکار کیا تھا وہ ناچاہتے ہوئے بھی آنکھیں کھول گئی تھی جبکہ آنکھوں میں اجنبیت کے ڈیرے تھے۔

“تم نہیں جانتی عنادل اس شخص کے ہاتھوں میں نے کتنا عظیم نقصان اٹھایا ہے میں تمہارے سائے کو بھی اس سے دور رکھنا چاہونگا ، حتیٰ کہ وہ ہوا جو اسے چھوتے تم تک آئے اسے بھی روک دوں اور تم خود۔۔۔میں یہ نہیں سوچنا چاہتا کہ میری ذرا سی لاپروائی تمہیں کتنا نقصان پہنچا سکتی تھی ڈیمڈ۔”

دلہام نے حتیٰ المکان کوشش کی کہ اسکی آواز دھیمی رہے ۔عناء نے ایک نظر اسکے ماتھے پہ کنندہ تحریر کو پڑھنا چاہا اور پھر کروٹ بدل لی۔

“اس نے وہ نام لیا جس پہ صرف میرا حق ہے اسے تمہیں عنادل کہنے کا حق کس نے دیا آخر؟”

دلہام کی آنکھوں میں اذیت کا لمحۂ درج تھا جو عنادل سے اسکی عشق کی داستان سنا رہا تھا۔

وہ اسے کہنا چاہتی تھی کہ کل تک اس حق کو وہ خود ہی چھوڑ گیا تھا کہ بعض چیزیں اپنے مقام پہ اچھی لگتی ہیں۔

عناء بھی تو چیز شمار کی گئی تھی پھر اتنا وویلا کیوں؟خاموشیوں کے گہرے کہر اسکی زبان پہ بھی پڑے تھے۔

“مجھے سونا ہے بہت تھک گئی ہوں میں۔”

عناء نے رکھائی کا مظاہرہ کیا تو دلہام اسے پرسوچ نگاہوں سے دیکھتے اٹھ کھڑا ہوا تھا وہ جانتا تھا کہ عناء انجان تھی زیادتی اسکی طرف سے ہی ہوئی پر وہ ازالہ بھی تو کرنے آیا تھا؟

ایک گہری سانس بھرتے ذرا کے اسکے سر پہ جھکا تھا شدت بھرا بوسہ اسکے بالوں پہ دیتے کمرے سے نکل گیا۔

آنسوؤں نے ایک بار پھر سے پلکوں کی باڑ توڑی تھی۔

دل تھا کہ اپنی غلطی ماننے پہ راضی نہیں تھا ۔

کون تھا آرجے؟وہ دلہام کے ہر لمحے سے آگاہ تھی پھر بھلا وہ کیسے کسی آرجے کو بھول سکتی دماغ کی طنابیں کھولیں تب بھی اس شخص کا نام تک ذہن میں نہیں تھا۔

ماسوائے صبر کے وہ اسوقت کچھ نہیں کرسکتی تھی اسکی خاموشی گہرے طوفان کی منتظر تھی۔

فضا میں سگریٹ کا دھواں چھوڑتے وہ ایک ہاتھ سے کنپٹی دبانے لگا تھا۔

اپنے سرکل اور پولٹیکس کی ٹینشن میں عناء کی حرکتیں ایک مستقل سردرد ہی تھیں۔

“آخر کیوں نہیں سمجھتی یہ لڑکی؟”

سیل بجنے پہ متوجہ ہوا تھا ۔

بابا جان کی کال دیکھتے چونکا تھا ۔

“السلام علیکم !بابا جان ۔”

دلہام نے اپنی آواز میں تازگی پیدا کرنی چاہی تھی۔

“وعلیکم السلام!برخودار یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں یہاں سے جاتے ہی آپ نے کوئی رابطہ نہیں کیا یہاں کسی سے؟”

بابا جان کی بات پہ وہ شرمندہ ہوا تھا جب پریہان اور دورید کی ڈیٹ فکس ہونے کی بابت معلوم ہوا تو دل میں سناٹے سے گھر کرنے لگے تھے جانے کیوں اسے لگ رہا تھا پریہان اس سب کیلئے ابھی بہت چھوٹی ہے لیکن احتجاج کی پوزیشن میں نہیں تھا تبھی انہیں اپنی کراچی آمد کا بتاتے کال بند کردیا تھا۔

وہ واپس کمرے کی طرف بڑھنے لگا ، جب سیل پھر سے بجا تھا انجانے نمبر کو دیکھتے تھوڑے تذدب کا شکار ہوا تھا لیکن پھر کال اٹھائی۔

“کیا آپ دلہام بخت بات کررہے ہیں؟”

ایک انتہائی شائستہ آواز پہ اس نے ہنکارا بھرا تھا۔

“میں ڈاکٹر ماہم بات کررہی ہوں آپکی مدر کی ڈاکٹر کیا آپ ہاسپٹل آسکتے ہیں؟”

دلہام کے ماتھے پہ ایک بار پھر سے سلوٹوں کا جال بچھا تھا۔

“اگر امپورٹنٹ ہے تو میں اپنے پی۔اے کو بھیج دیتا ہوں؟ کیونکہ میں آؤٹ آف اسٹیشن ہوں۔”

ڈاکٹر جانتی تھیں کہ کئی بار کا جواب دوبارہ دہرایا جائے گا لیکن اب کے بات اسکے بہانوں کی نہیں بلکہ مرتے ہوئے ایک انسان کی خواہش تھی تبھی مختصراً اسکی ماں کی طبیعت اور اسکی بیماری کا بتاتے وہ کال بند کرگئیں تھیں۔

دلہام نے درد کی شدت سے آنکھیں میچ لیں۔

پے در پے اسکے اپنوں کی طرف سے لیے جانے والے امتحانات نے اسے ایک دم کمزور کردیا تھا۔

وہ رات آنکھوں میں کٹی تھی الصبح ہی وہ عناء کو جگائے پھر سے سفر پہ روانہ ہوئے تھے۔

عناء ناراض تھی جبکہ دلہام پریشان ،وہ بول نہیں رہی تھی دلہام کو فرق نہیں پڑرہا تھا۔

وہ اسکے ہمراہ ہاسپٹل ہی آیا تھا عناء حیران تھی لیکن ڈاکٹر ماہم ماہر امراض ذہنی عارضے کی لگی چپ پڑھتے وہ خاموش ہوگئی تھی۔

روم میں داخل ہوتے ہی ڈاکٹر حیران تھیں گویا معجزہ ہوا تھا اسکا یہاں آنا۔

اسپشل وارڈ کی طرف بڑھتے دلہام کے قدم نڈھال تھے جبکہ عناء کی دھڑکنیں تیز وہ پہلی بار اس عورت کو دیکھنے لگی تھی جسکی وجہ سے اسکی ماں اپنوں سے دور ہوئی تھی ،جبکہ دلہام اس عورت کی بیٹی کو پہلو میں لیے مضطرب تھا جسکی وجہ سے اسکی ماں ان حالوں میں تھی۔

شیشے کے اس پار نرسوں کے شکنجے میں نڈھال عورت کو دیکھتے وہ لڑکھڑایا تھا پندرہ سال بعد وہ اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔وہ ماں جو ہمیشہ سے نک سک تیار رہتے شاہ بخت کو دلربائی میں رکھنے کی کوشش کرتی آئی تھیں۔

دلہام کی سرخ آنکھوں پہ پڑتے ڈوروں کو عناء نے خوف سے دیکھا تھا وہ اس سے فاصلہ بنا گئی تھی جب وہ ضبط کی حدود توڑے اندر داخل ہوا تھا۔

“تت تم۔۔سب لوگ اس ارینہ سے مل گئے ہو۔۔مم۔۔مجھے دور کرنا چاہتے ہو نا شاہ بخت سے نن۔۔نہیں میرا دل ۔۔مم مجھے لے جائے گا۔۔دد۔۔دیکھنا تم لوگ۔۔میں بتاؤں گی اسے کہ ۔۔۔تت۔۔تم لوگ مجھ پہ ظلم۔۔۔کرتے ہو وہ ارینہ۔۔۔”

نرس نے انہیں سنبھالنے کو انجکشن لگایا تھا جب وہ نیم حواسوں میں رہتے آخر تک بڑبڑائی تھی۔

وہ ارینہ کی ہم شکل نہیں تھیں لیکن کافی حدتک ان سے مشہابت رکھتی رکھتی تھیں وقت نے انکی سفید رنگ کا ماند کردیا تھا۔

“سر انکا برین ٹیومر لاسٹ اسٹیج پر ہے ہم آپکو یہی ریکمنڈ کریں گے کہ آپ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں شاید گھر کے ماحول میں یہ تھوڑا بہتر محسوس کریں کیونکہ لاسٹ ایک ویک یہ کافی ایکسٹریم لیول کا ریکٹ کررہی ہیں ،ہمارے ایک ڈاکٹر اور نرس انکے ہاتھوں سے کافی زخمی ہوگئے ہیں۔”

ویران آنکھوں کے نیچے بڑے بڑے سیاہ حلقے، جھریاں، سیاہ پڑتا رنگ،بد رنگ ہوتے سوکھے بال،سیاہی مائل خشک پپڑی ذدہ ہونٹ،دن بدن خراب ہوتی صحت،دل و دماغ کی تباہ حالت،وحشت زدہ سا دل، ابنارمل دماغ

ڈاکٹر کی ڈیٹیل دلہام کو ایک انتہائی اہم فیصلہ لینے پہ مجبور کرگئی تھی۔

شاہ بخت حویلی کی طرف بڑھتے سفر میں اب کے پندرہ سال بعد ایمرے بھی شامل تھی جو ایمبولینس میں انکے ساتھ تھی۔حویلی میں داخل ہوتی ایمبولینس کو دیکھ سب ہی تقریباً گھبرائے ہوئے سے باہر آئے تھے جب ویل چیئر پہ بیٹھے پرمژدہ وجود نے سب کو سناٹے میں لایا تھا۔

“دلہام یہ۔۔؟”

سب سے پہلے دارا جان آگے آئے تھے۔

“آج سے یہ یہیں رہیں گی ہمارے ساتھ شاہ بخت حویلی میں۔”

دلہام کے سپاٹ انداز پہ کسی کو کچھ بولنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔

ایمرے کیلئے ایک الگ کمرہ مختص کردیا گیا تھا جہاں مستقل بنیادوں پہ دو نرسسز کا انتظام کیا گیا تھا۔

حویلی میں ایک بار پھر سناٹے بولنے لگے تھے دلہام بخت کا یہ فیصلہ دیرپا تھا یا نہیں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

وہ پریہان اور رمز سے ہوتے رات گئے کمرے میں آئی تھی۔

بی۔جان اور امراؤ نے اسے مختصراً ایمرے کی ذہنی حالت کے بارے میں بتایا اور ایک حیران کن انکشاف جو اسے شرمندہ کررہا تھا وہ ارینہ کو لے کے حویلی والوں کی سوچ تھی ۔گھر کے مردوں کی نسبت خواتین ایمرے اور ارینہ کے معمالات سے خوب آگاہ تھے اور ایمرے کے ان حالوں کا ذمدار وہ اسے ہی گردان رہی تھیں جس نے ارینہ کے خوف میں اپنی ازدواجی زندگی کے ساتھ ذہنی سکون بھی غارت کیا تھا۔

وہ حویلی والوں پہ ترس کھا سکتی تھی لیکن اپنی ماں کی تڑپ اسے بےکل کررہی تھی۔شاید کہ ابھی اپنی حقیقتوں کو منکشف کرنے کا صیح وقت نہیں تھا۔

دلہام کمرے میں نہیں تھا۔وہ بستر پہ پڑتے ہی سوگئی تھی جب درمیانی شب وہ واپس آیا تھا۔

دو راتوں کی مسلسل تھکان نے اسے پرمضحمل سا کررکھا تھا۔

نائٹ بلب کی روشنی میں عناء کا روشن چہرہ اسکے دھیان کے دھاگے سمیٹ گیا ۔ان دو تین دنوں میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے انکے درمیان فاصلے مزید حائل

ہوئے تھے جو طنز ونشتر کا رشتہ تھا وہ بھی خاموش تھا۔

کسی سے دور ہونا اور کسی کو دور کر دینا آسان نہیں ہوتا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم بے حس ہوگئے ہیں لیکن بہتری کے لئے راستے الگ کرنا پڑتے ہیں اس ایک حقیقت میں بہت تلخی چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ ہو سکتا ہے جسے آپ بے رخی سمجھ رہے ہوں وہ اس شخص کی ذات کا اذیت بھرا دور ہو۔

دلدل صرف زمین پر ہی نہیں ہوتی، بلکہ دلدل جیسی خصوصیات ذہن میں پیدا ہونے والے کئی خیالات میں بھی پائی جاتی ہے جن میں پھنسنے کےبعد نکلنا مشکل ہو جاتا ہے.

“عنادل”

اسکے بالوں میں اپنی انگلیوں کا سرسراتا لمس چھوڑتے وہ اسے جگانے لگا تھا۔

عناء کی آنکھیں اس تڑپ خیز آواز پہ جھٹ سی کھلی تھیں۔سائیڈ لیمپ آن کرتے وہ اٹھ بیٹھی تھی جبکہ دلہام ابھی بھی گھٹنوں کے بل فرش پہ بیٹھا تھا۔

عناء کا دل سہما کہیں ایمرے کو تو کچھ نہیں ہوگیا ؟ایک سوچ کے آتے اس نے دلہام کے کندھوں پہ اپنا لرزتا ہوا ہاتھ رکھا۔وہ اس شخص سے بےحد نالاں سی ،ناراض تھی شاید بات نہ کرنے کا بھی عہد کررکھا تھا لیکن اسکا بکھرا وجود عناء کی سوئی محبت جگانے لگا تھا۔

“عنادل مم۔۔میں بہت تنہا پڑ گیا ہوں یار۔۔۔”

وہ رو رہا تھا ،تیس سال کا کڑیل جوان بندہ رو رہا تھا۔

“دلہام۔۔کک کیا ہوا ہے؟”

وہ بےاختیار سی اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے گئی تھی۔وہ شخص اسکی اولین چاہت تھا ،وہ درد میں تھا تو بھلا عنادل کیسے نا اسکی اذیت دل پہ محسوس کرتی۔

“میں ٹوٹ رہا ہوں عنادل۔۔مم۔۔مجھے سمیٹ لو ۔”

وہ عناء کے دونوں ہاتھوں کو لبوں سے لگائے بولا تھا جب عناء نے بستر سے اٹھتے دلہام کو شانوں کا سہارا دیے بیڈ پہ بٹھانا چاہا تھا اور وہ کسی معصوم بچے کی مانند اسکی بات مانتے بستر پہ آیا تھا۔

“دلہام میں ہوں نا یہاں ؟کیا ہوا ہے پلیز بتاؤ؟”

وہ دو سال پہلے والی عنادل تھی سامنے بیٹھا شخص اسکا دل تھا،وہ اسکی رزداں تھی ،وہ اسکی اذیتوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں پہ چن رہی تھی جب دلہام نے اذیت سے پر آنکھیں موندے اسکی گود میں سر رکھا تھا۔

“انہیں یہاں نہیں آنا چاہیئے تھا عنادل ،انہیں دیکھتے میری اذیتوں کا شمار بڑھ جاتا ہے ،میں بھلا کیسے چھپا سکتا ہوں سب سے کہ وہ۔۔۔”

دلہام اذیت میں مبتلا ہوتے لب بھینچ گیا تھا۔

عجیب شخص تھا وہ جو عناء سے ماں کی ذات کے بدلے لینا چاہتا تھا اس سے نفرت کا دعویدار اسی کی گود میں سر رکھے اپنی ماں سے نفرت کا اظہار بھی کررہا تھا؟

عناء نے کرب سے آنکھیں میچ لیں ۔

لیکن صرف آنکھیں بند کرنا اذیتوں کو کم نہیں کرسکتا تھا جبکہ محبت تو ازل سے انکے درمیان تھی وہ اسکے گھنے بالوں میں اپنی مخروطی انگلیاں پھیرتے اسکی سن رہی تھی جو صرف اپنی عنادل سے مخاطب تھا جو اسکی دوست اور عشق کی داستان تھی صرف دلہام کے دل میں رہنے والی عناء جو عنادل تھی جسکی آواز دلہام کو زندگی دیتی تھی۔

چلو تم کو بتاتے ہیں

کہ

تمکو دیکھ کر دل نے کہا…

تم رشتہِ جاں سے بڑھ کر ہو…

دُعا کی سرحدوں پر’ جو ادھوری ہے میری ایسی تمنا ہو

میرے دل کی مراد ہو…

کہ

تم ایک روشنی بن کر’شِفا لے کر

کسی دستِ مسیحا کی طرح’ ہر زخمِ دل پر اُترے ہو

چلو تمکو بتاتے ہیں

کہ

تم ایمان ہمارا ہو…

سرائے دہر میں’اندیشِ زندگانی میں

تمہی دل کا سہارا ہو…

جو روح کے آسمان پہ جگمگایا ہے محبت سے

سہانی شام کی چاہتوں کا پہلا تارا ہو…

وفا کا استعارہ ہو…

تمہارے قرب کی خوشبو سے’پتھر کی طرح ہم نے

سلگتی دھوپ میں پھیلاؤ پایا ہے…

چلو تمکو بتاتے ہیں

کہ

تم سانس ہماری ہو…

میری رگوں میں جو سرخ رنگ ہے

یہ سب تمہاری محبت ہے…

ہر درد پہ سکوں میرا

تمہارے ساتھ کی کہانی ہے…

چلو تمکو بتاتے ہیں

کہ

تم جہاں ہمارا ہو…

میری تنہائی میں اک محفل سجتی ہے

تیری یاد کے گیت بجتے ہیں

تیرے نام کی شہرت ہوتی ہے

تیری باتوں کا ذکر چلتا ہے

تیرے حسن کے دعوے ہوتے ہیں

تیری وفا کی مثال دیتے ہیں

چلو تمکو بتاتے ہیں

کہ

تم زندگی ہماری ہو…

تم سے جدا ہونے کا خیال بھی’سوہانِ روح لگتا ہے

تمہیں دیکھنے سے ہی آنکھیں روشن رہتی ہیں

تمہاری آواز کی مٹھاس کانوں میں رس گھولتی ہے

تمہارے ہونے سے ہی تو یہ دل دھڑکتا ہے…

چلو تمکو بتاتے ہیں

کہ

دل نے کہا…

تم رشتہِ جاں سے بڑھ کر ہو…!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *