Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 11,12)
Rate this Novel
Anadil (Episode 11,12)
Anadil by Uzma Mujahid Novel
وائٹ روزز اور للی فلاورز سے سجایا گیا کمرہ اور اسکے وسط میں رکھے جہازی سائز گول شیپ کے ڈبل بیڈ پہ بیٹھی وہ سر جھکائے بمشکل اپنے آنسو پینے کی کوشش میں تھی
وہ کمرے میں داخل ہوتے اسے دیکھتے گہر سانس بھر کے رہ گیا تھا کھٹکے کی آواز پہ اس نے چونکتے ہوئے سامنے دیکھا جہاں وہ روایتی دلہا کا لباس پہنے اسکا دلہا دلہام بخت سپاٹ چہرہ لیے آگے بڑھ رہا تھا۔
عناء نے ایک شکایتی نگاہ اس پہ ڈالتے رخ موڑ لیا تھا کچھ ایسی ہی شکایتی نگاہ دلہام بخت نے بھی اس پہ ڈالی تھی۔
“آپ انتہائی بزدل انسان ہو دلہام بخت۔”
وہ اسے دیکھتے ہی سائیڈ ٹیبل پہ رکھے پھول اٹھائے اسے مارنے لگی تھی جو بیچارے چٹیل سینے کے مالک دلہام بخت کا کیا بگاڑتے اور کسی ڈالی سے ٹوٹ ٹوٹ کر زمین پہ گررہے تھے۔
“اوہ مائے گڈنیس دیکھو میری بہنوں کو کتنی کے وہ سیانی ہیں تمہارے ارادوں سے بخوبی واقف تھیں تبھی کمرے میں کوئی ایسی ویسی چیز نہیں رکھی جو انکے بھائی کو نقصان پہنچائے۔”
اسکی حالت زار سے محظوظ ہوتے دلہام بخت نے کہا آج وہ دوسری بار عناء کو یوں روتے دیکھ رہا تھا کہیں نا کہیں سوئی محبت نے اسکے سینے میں چبھن پیدا کرنی چاہی تھی پر وہ دلہام بخت تھا پتھروں کو مات دینے والا۔
“ویسے مجھے بھی حق تھا تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھنے کا۔”
اسکی بات پہ عناء نے غصے میں اسے گھورا تھا جو اسے دیکھنے کے بعد لاکھوں کی مالکیت والے عالیشان لباس کو دیکھنے لگا جس نے اسے آتے ہی دروازے کے قریب ہی سلامی دی تھی۔
اسوقت وہ اپنے معمول کے حلیے میں ملبوس دلہنوں کا روایتی لباس اتار کم پھینک زیادہ چکی تھی غرضیکہ بلکل صاف شفاف نکھرے نقوش اسے کہیں سے بھی کچھ منٹوں پہلے کی دلہن ظاہر نہیں کررہے تھے۔
“بھاڑ میں جائیں آپ اور بھاڑ میں گیا آپکا حق خبردار خبردار اگر اب مجھ پہ کسی قسم کا رعب جمانے کی کوشش کی دوسروں کے سامنے بنایا گیا آپکا بھرم توڑنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤنگی میں۔”
وہ بیڈ سے اترتے اسکے قریب آتے وارننگ دینے لگی تھی۔
دلہام بخت نےہونٹوں کو کترتے ناک کے ذریعے سانس لیتے اپنی مسکراہٹ چھپانے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی تھی۔
عناء کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس شخص کا مرڈرد کردے جس نے اسکا سارا پلین چوپٹ کردیا تھا۔
وہ آنکھوں میں آنسو بھرے وہاں سے نکلتے باہر کی جانب بڑھنے لگی تھی جب دلہام نے ایک ہی جست میں اسے جالیا تھا۔
“نو نو مائے ڈئیر عنادل اتنی آسانی سے بھلا کیسے دلہام بخت تمہیں اپنا تماشہ لگانے دے سکتا ہے کچھ تو ہماری بھی سن لو ۔”
“عناء دلاور ہوں میں۔”
اس نے ہمیشہ والا ریمائنڈر دہرایا تو دلہام نے اپنے دایے ہاتھ کی پشت سے اسکے کلی جیسے ملائم رخساروں کو چھوا تھا ایک کرنٹ کی لہر عناء کے وجود میں دوڑی تھی۔
“عنادل ،دلہام کے دل و دماغ میں اپنی تمام تر نفرتوں کو سہتے رہنے والی عناء ،مسسز عناءدلہام صرف تمہاری خوشی کیلئے ۔”
اس نے بےجان سی ٹہری عناء کی طرف ذرا سے جھکتے دھیمے سروں میں اسکے کانوں میں سرگوشی کی تھی۔
اس دو بار کے نکاح میں پہلی بار دلہام نے اپنے حوالے سے عناء کے نام پہ زور دیا تو اسکی رنگت سفید پڑنے لگی تھی۔
“اپنی اوقات سے بڑھ کے پنگے نہیں لینے چاہیئے مائے وائفی۔”
رخسار سے سے پھسلتا ہاتھ عناء کے سینے پہ آٹکا تھا اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھ پاتی دلہام نے اسے ہلکا سا پش کرتے بیڈ پہ گرایا تھا۔
“یہ تمہارے فیورٹ ڈرامہ ،مووی کا سین نہیں ہے عنادل جہاں تم ڈرامہ رچاتی روم چینج کرلو،باہر جاکے مجھے تماشہ بنا دو یہ حقیقی زندگی ہے جہاں تمہیں دلہام بخت کی نفرت کو اپنے دل ودماغ کے ساتھ اپنے وجود پہ بھی سہنا ہوگا تمہیں دلہام بخت کے ساتھ تاعمر رہنا ہوگا۔”
اپنے وجود پہ رینگتے دلہام کے ہاتھ اسے ناگ کی مانند ڈسنے لگے تھے خوف سے اسکی آنکھیں پھٹنے لگی تھیں جب دلہام نے اس پہ جھکتے پہلی جسارت کرڈالی تو وہ جیسے ہوش میں آئی تھی پوری قوت سے اسے پیچھے دھکیلنا چاہا تھا۔
اپنے خوف میں وہ دلہام کے لبوں پہ کھلتی مسکراہٹ نہیں دیکھ پائی تھی۔
“آ آپ ایسا نہیں کرسکتے مم مجھے یہ سب منظور نہیں ہے۔”
اسکی آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے تھے جبکہ خوف سے زبان میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہوئی تھی۔
“آہاں میرے لیے امتحان بننے سے پہلے کبھی میری اجازت لی تھی جو مجھ سے رحم کی توقع کریں گی آپ۔”
دلہام کی آنکھوں میں جما گلشئیر اسے ٹھٹھرائے جارہا تھا۔
وہ جواب دینا چاہتی تھی پر اپنے رخسار پہ ہونے والی دلہام کی بائٹ نے اسے چلانے پہ مجبور کیا تھا اور اس پہ دلہام کا تھپڑ نے دوسرے ہی لمحے اسکی بولتی بند کروا دی تھی۔
“اب تک عزت اچھالنے کا ڈھونگ تم نے رچا ہے عناء دلہام بخت لیکن اب شطرنج کی بازی میں چلوں گا مہرہ تم بنو گی۔”
اسکے سینے پہ شہادت کی انگلی سے چبھن چھوڑے وہ پیچھے ہٹ گیا تھا۔
“تمہارے ساتھ سونے سے بہتر ہے میں کسی کو رکھیل رکھ لوں یہ خوش فہمی نکال تو کہ دلہام بخت حق کی بات کرے گا وہ بھی تمہارے وجود سے۔”
دلہام کے الفاظ اتنا کے اسکے وجود کیلئے ہتک لیے ہوئے تھے جبکہ اسکی زبان بےدریغ ہی اسکی ذات کے بغیے ادھیڑنے لگی تھی۔وہ پہلی شب کی دلہن تھی جو اپنی قسمت پہ حددرجہ ماتم کناہ سی تھی۔
وہ اوندھے منہ بستر پہ گرتے پوری شدت سے رودی تھی وہ مضبوط عناء موتیوں کی نازک لڑی جیسی لڑکی زرا سی سختی پہ ٹوٹ کے بکھری تھی۔
شاید کے ایک لمبے عرصے تک چاہنے والوں کا یہ نفرت بھرا انداز ایک دوسرے کیلئے ہی تکلیف دہ تھا۔
روم سے نکلتے دلہام بخت نے حویلی کے تاریک گوشے کا انتخاب کیا تھا ۔اسکے دماغ کی نسیں پھٹنے لگی تھیں پوری شدت سے اس نے اپنے ہاتھوں کو دیوار پہ مارتے اس نے خود سے عناء کو مارے جانے والے تھپڑ کا انتقام لیا تھا۔
اگر گزری شب عناء نے اسکے زخم کا حساب خود کو زخم دے کے لیا تھا تو وہ بھی تو اتنا ہی دیوانہ شخص تھا۔
دیوار سے سرٹکائے وہ اپنا سب کچھ ہارے بیٹھا تھا آنکھوں کے سامنے گزری شب کا منظر گھوما تھا جب اس لڑکی کی بغاوت نے دلہام کی مردانگی پہ کاری ضرب لگاتے اپنے لیے ہی گڑھا کھود لیا تھا۔
“مجھے دلہام بخت سے طلاق چاہیئے مجھے یہ شادی نہیں کرنی ہے کیونکہ۔۔۔ کیونکہ انہوں نے مجھے اس چیز کو لے کے زدوکوب کیا ہے یہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے دارا جان اور میں انکی خوشی کیلئے اپنی اس محبت کی قربانی دیتی ہوں جو نکاح جیسے مقدس رشتے میں بندھ جانے کے بعد میں نے ان سے کی ہے۔”
وہ سسکتی ہوئی اپنے سر کی چادر دارا جان کے قدموں میں رکھتے دلہام کے دماغ کو فق کرگئی تھی۔
“دلہام بخت کیا یہ لڑکی صیح کہہ رہی ہے؟”
دارا جان کی آواز کی گونج سے پورا کمرہ لرز اٹھا تھا دلہام ابھی تک غیریقینی کیفیت میں جھوٹ کے پلندے باندھتی عناء کو دیکھ رہی تھا۔
“دادا جان میں کیوں جھوٹ بولوں گی ،یہ ساری زندگی کا معمالہ میں ایسے ہی ایک ان چاہی بیوی بن کے نہیں گزار سکتی۔”
عناء کے دلائل دلہام کی خاموشی اسے مجرم ثابت کرنے لگی تھی۔
“کیا تم نہیں جانتے اس خاندان کی سات پشتوں میں بھی ایسا لفظ کسی نے استعمال نہیں کیا دلہام بخت تم اسکے نتائج سے آگاہ ہو پوری دنیا ہم پہ تھو تھو کرے گی چند گھنٹوں بعد شادی ہے اور تم اپنی دلہن سے یہ رویہ اپنا رہے ہو۔”
دارا جان کی بات پہ اس نے ایک کاٹدار نگاہ عناء پہ ڈالی۔
“آئی۔ایم سوری دارا جان میں اسوقت غصے میں تھا آئی سوئیر اب کے میں اپنی بیوی کا ساتھ سانس چھوٹنے کے ساتھ ہی چھوڑوں گا ،میں اپنے کیے پہ شرمندہ ہوں اب اگر یہ خود بھی یہ رشتہ توڑنا چاہے گی تو بھی یہ ممکن نہیں ہوگا۔”
دلہام بخت کا وار عناء کو ایک دم لڑکھڑا گیا ۔وہ کیا سوچ کے آئی تھی اور کیاہونے جارہا تھا۔دارا جان سرخرو سے ٹہرے دلہام بخت کو گلے سے لگا گئے اور عناء کے سر پہ چادر اوڑھائے اسے اسکے کمرے کی طرف لے جانے لگے تھے۔
وہ بےیقین سی آگے بڑھتے ذرا سی گردن موڑے دلہام بخت کو دیکھنے لگی تھی جس نے وکٹری کا نشان بناتے دونوں انگلیوں کو ماتھے سے مس کرتے اسکی گیم کو گڈ بائے کہا تھا۔
اور اب وہ اسکے کمرے میں موجود تھی ایک مصمم حثیت دے ایک زمانہ تھا کہ اس نے عناء کو اس روپ اس جگہ پہ دیکھنے کیلئے کتنے سپنے بنے تھے اور اب محبت سرنگوڑے کسی ملنگ کے مسکن پہ پڑی تھی اور دونوں اطراف میں نفرت کا ڈیرہ جما تھا۔
کافی دیر اپنے اندر کے حبس کو سگریٹ کے دھوے میں میں تحلیل کرنے کے بعد وہ کمرے میں آیا تو وہ اسے صوفے پہ سوئی دکھائی دی جس نے دونوں بازو آنکھوں پہ رکھے ہوئے تھے۔دلہام نے اسے اگنور کرتے اپنا ڈریس لیا اور کتنی دیر باتھ لینے کے بعد خود کو کچھ بہتر محسوس کرتا باہر آیا تھا بھولی بھٹکی نگاہ اسکے وجود پہ پڑی جو ابھی بھی ایسے ہی پڑی ہوئی تھی ایک گہری سانس بھرتے اس نے ٹاول ایک طرف پھینکا اور اس پھولوں کے جیسے ملائم لڑکی کو اپنے دیو ہیکل سینے میں چھپائے بستر پہ لایا تھا۔اسے اندازہ ہوا تھا کہ وہ نیند میں سسک رہی تھی اسے ایک طرف سولاتے اس نے لائٹس آف کیں اور اس سے رخ موڑے سوگیا تھا۔یقیناً عناء بھی بیدار ہوتی تو یہی رویہ اپناتی۔
تمام تر پراگندہ سوچیں سوتے وقت اسکے دماغ پہ حاوی ہونے لگی تھیں جن سے چاہ کے بھی وہ جان نہیں چھڑا پاتا تھا۔
جس وقت ارینہ کو حویلی سے نکالا گیا اسوقت وہ چھ سال کی عمر کا ہندسہ عبور کرتا دکھائی دیا تھا۔
عام بچوں کی نسبت ماں باپ کے رویوں نے اسے وقت سے پہلے بڑا کردیا تھا اور وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات کو حددرجہ گہرائی سے دیکھنے لگا تھا۔
برستی بارش میں روتی اس چھوٹی گڑیا کی آواز پہ اٹھتے ہوئے وہ کمرے سے باہر آیا تو اسے ایمرے کے ہاتھ میں دیکھ شوق محبت سے لینے کو آگے ہاتھ بڑھائے جنہیں ایمرے نے سختی سے جھٹک دیا۔
“نجانے کسکا گندا خون پالے پھررہی ہے اسکی ماں دلہام تم اس گند کو چھوؤں گے تو تم بھی گندے ہوجاؤگے۔”
ایمرے نے ہمیشہ نک سک تیار رہنے والے اپنے بیٹے کو کہا تو اس نے ایک نظر اس گڑیا پہ ڈالی اور پیچھے ہوگیا تھا تبھی شاہ بخت اندر آیا تھا۔
“کیوں رو رہی ہے یہ ارینہ کہاں ہے؟”
ایک نظر خالی کمرے پہ ڈالتے اس نے کہا تھا تو ایمرے نے بھرپور چونکنے کی ایکٹنگ کی۔
“پتا نہیں اور آپ یہاں ہیں میں تو سمجھی آپ انیکسی میں گئے ہیں کافی دیر پہلے ہی مجھے ایک سایہ سا انیکسی کی طرف بڑھتا معلوم ہوا میں سمجھی آپ اپنے دوست کے پاس جارہے ہیں۔”
ایمرے نے بچی کو جھلاتے ہوئے کہا تھا تو شاہ بخت کے ماتھے پہ کئی سلوٹیں نمودرا ہوئیں وہ تیزی سے انیکسی کی طرف بڑھے تو ایمرے جان بوجھ کے روتی ہوئی بچی کو ہر ایک کے دروازے کے سامنے سے گزارتے کمرے میں جھانک جھانک کے ارینہ کی موجودگی کا پوچھا تھا یہ سب اتنی تیزی سے ہوا تھا کہ سب ہی حواس باختہ تھے اور پھر انیکسی کی طرف بڑھتے ایمرے اور شاہ بخت کے قدموں کے سائے میں سبھی انکے پیچھے آئے تھے۔
سامنے کے منظر کو سب نے ویسے ہی لیا تھا جیسا دکھایا جارہا تھا۔
ارینہ کو نکالے ایمرے مکمل سکون کی زندگی گزار رہی تھی جب ایک دن بی جان اور افراہیم کے ساتھ بات کرتے شاہ بخت کی آواز نے اسے تجسس پہ مجبور کیا تھا۔
“دلاور یزدانی کافی برے حالوں میں ہے ارینہ کو میں نے اسکی جگہ کلرک کی جاب کرتے دیکھا ہے ۔۔۔”
ابھی شاید کچھ اور بھی کہہ رہا تھا جسے ارینہ کے حالات اور دلاور یزدانی کے ایکسڈینٹ نے کافی دکھی کیا تھا پہلی محبت بھولنے کی نہ تھی اور خون کا رشتہ بھی اپنی جگہ قائم تِھا۔
ایمرے کا دماغ کئی اصطلاح بننے لگا تھا اگر جو ارینہ نے شاہ بخت کے سامنے اس رات کا راز کھول دیا تو وہ پاگلوں کی طرح چکراتی پھر رہی تھی ۔
امن کی فاختہ پہ چھ سال پڑنے والا یہ پتھر اسے حددرجہ ڈپریس کرچکا تھا دلہام جو ماں کے سامنے اپنا رزلٹ کارڈ لایا تھا اور دکھانا چاہتا تھا ایمرے نے اسے بےطرح جھڑک دیا تھا۔
“مما یہ۔۔۔”
اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی جب اسکے منہ پہ تھپڑ پڑا تھا۔
“تمہارا باپ اس کم ذات بدکردار عورت کے عشق میں مبتلا مجھے دھوکا دے رہا اسے تم سے زیادہ اپنی بیوی سے زیادہ ارینہ کی ناجائز بیٹی اور اسکی فکر ہورہی ہے اور تم ان کتابوِں کے پیچھے پڑے ہو۔”
ایمرے نے اسکی نوٹ بک اٹھائے تار تار کردی تھی۔
ماں کے اس عمل پہ وہ سسکنے لگا تھا جب شاہ بخت کمرے میں آئے ۔
“کیا ہوا دلہام ۔۔۔”
“ہاتھ مت لگاؤ میرے بیٹے کو کچھ نہیں لگتے ہم تمہارے خوش رہو تم اپنی اس ہوتی سوتی کے ساتھ جس بدکردار۔۔۔”
“ایمرے۔۔”
شاہ بخت نے اسکی بات کو مکمل ہونے سے پہلے ہی تھپڑ دے مارا تو دلہام ڈر کے مارے ماں سے لپٹ کے سسکنے لگا تھا۔
“ہاں مارو مجھے مارو تمہاری اصلیت جو سب کے سامنے آرہی ہے تو مجھے ایک منٹ بھی تمہارے ساتھ نہیں رہنا ہے ۔”
وہ دلہام کا ہاتھ پکڑے باہر نکل گئی تھی باہر سب لوگ اس تماشے پہ اکھٹے ہونے لگے تھے۔دارا جان اور افراہیم اسے ایک طرف لے جاکے سمجھانے لگے تھے جب اس نے یہ حویلی دلہام بخت کے نام کرنے کا کہا تھا تاکہ کل کو کوئی بھی انہیں اس حویلی سے نہ نکال سکے۔
دارا جان نے ایک نظر وہاں موجود لوگوں کو دیکھا۔
امراؤ کو خدا بیس سال بعد اولاد کی نعمت سے نوازنے لگا تِھا وہ نہیں جانتی تھیں کہ بیٹا ہے یا بیٹی لیکن اس حویلی پہ انکی اولاد کا بھی تو حق تھا پر وہ خاموش رہیں۔
شاہ بخت سے چھوٹے معیز بخت کی گود میں بھی دورید بخت اور رمز موجود تھیں ایسے میں انکے بچے بھی اس حویلی کے حقداران میں شامل تھے اور پھر یہ افراہیم بخت اور داریام بخت کی وارثتی حویلی تھی اس حساب سے تو ارینہ بھی حصہ دار تھی اور اسکی اولاد عناء بھی کیونکہ وہ انکے مرحوم بھائی اور بھتیجے کی وارث تھی ۔
صرف دلہام بخت کے نام اس حویلی کے چلے جانے سے کتنے لوگ اپنے حصے سے محروم پڑجاتے۔لیکن فتح ایمرے کی ہوئی اور دلہام بخت کے نام ہوتے ہی وہ ایک شان تفاخر سے وہاں رہنے لگی تھی ۔
اس امن کی فاختہ نے زیادہ دن پر نہیں پھیلائے تھے جب حویلی میں ایک بار پھر سے ماتم سجا تھا۔
شاہ بخت ایک ہفتے کیلئے کسی کام سے شہر میں رہ گئے تھے اور ایمرے کا وہم اسے کسی کل سکون نہیں لینے دے رہا تھا۔جب اس نے ڈرائیور سے کہتے دلہام کو لیے شہر کا رخ کیا تھا۔
اپنوں کی بیوفائی سہتی ارینہ کب کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوتے بستر پہ جاپڑیں کوئی بھی انکے حال سے آگاہ نہ تھا ایسے میں ایک دن دوست کی عیادت کو آئے شاہ بخت کی نگاہ ان پہ پڑی تو کتنی ساعتیں انہیں پہچاننے میں لگے تھے کہ وہ ارینہ ہی ہے ۔
ارینہ ان سے نظریں چرا کے نکل جانا چاہتی تھیں لیکن شاہ بخت کی قسموں نے قدم روک لیے اور انہیں مجبوراً شاہ بخت کی مدد لینی پڑ رہی تھی۔
ایمرے شہر میں آئیں تو ان ملازمین سے انکے اور ارینہ کے رابطے کی بابت معلوم پڑا تھا گھر میں گویا طوفان ہی آیا تھا رات گئے جب وہ واپس آئے تو ایمرے کی
موجودگی انہیں چونکا گئی تھی۔
“تم شہر میں سب سے چھپ کے یہی کارنامے کررہے تھے دیکھنا شاہ بخت میں اس بدذات کے ساتھ تمہاری عزت کا چولا کیسے نکال پھینکتی ہوں۔”
ایمرے شیدید غصے میں ان پہ جھپٹی جو ابھی آخری سیڑھی پر ہی تھے۔
“ایمرے تم ۔۔”
نہیں سننی مجھے کوئی بھی تمہاری بات ۔”
بنا شاہ بخت کو سنے اس نے کہا تھا ۔
“ایمرے ایک بار۔۔۔”
“چھوڑو مجھے تم حددرجہ نیچ ذات انسان۔۔۔۔”
ایمرے نے اپنی طرف بڑھتے شاہ بخت کو اچانک سے پیچھے دھکیلا تھا اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پاتے پیچھے کو گرے تھے اور سیڑھیوں سے لڑھکتے ڈھلتی عمر کے وجود نے زیادہ دیر تکلیف برداشت نہیں کی تھی اور وہیں دم توڑ دیا ۔
ایک طرف ٹہرے دلہام نے یہ دلدوذ منظر دیکھا تو اسے گہرا صدمہ لگا تھا جس وقت اسے ہوش آیا چڑیا کا وہ عارضی ٹھکانہ ہوا کے دوش پہ اڑ چکا تھا۔
بیوگی کا لباس اوڑھے ایمرے سفید کفن میں لپٹا شاہ بخت کا چہرہ اسے ایک بار پھر سے آنکھیں موند لینے پہ مجبور کرگیا تھا اور جس وقت دوبارہ آنکھ کھلی تو اسکے رشتوں کے ساتھ اسکے اندر کا دلہام بخت بھی مرگیا تھا جسکی جگہ ایک پتھر کی مورت نے لے لی تھی۔
Episode 12
عناء کے کسمسانے پہ وہ یادوں کے دریچے سے نکلتے اسے دیکھنے لگا تھا۔
وہ لڑکی آج بھی ویسی ہی تھی جیسے دو سال پہلے۔
حثیت بدلنے سے جو مقام اسے ملنا چاہیئے تھا وہ اسے نہیں دے پارہا تھا وجہ وہیں ارینہ سے نفرت جس نے اسکا چھوٹا سا آشیانہ تباہ کردیا تھا۔
ایک بار پھر سے آنکھیں موندے وہ ماضی کا سفر کرنے لگا تھا۔
“آپ نے میرے بابا کو مارا ہے یہ بات میں سب کو بتادوں گا۔”
وہ سسکتے ہوئے بولا تھا۔
ایمرے جو شاہ بخت کی موت کے بعد گم صم ہوکے رہ گئی تھی اپنے بیٹے کے منہ سے یہ بات سنتے سہمی تھی۔
“نہیں دل میں نے شاہ بخت کو نہیں مارا وہ صرف ایک حادثہ تھا اور میں۔۔”
“نہیں آپ نے ہی انہیں مارا ہے میں نے دیکھا تھا آپ نے انہیں سیڑھیوں سے دھکا دیا تھا ۔”
دلہام اپنی بات پہ باضد نظر آیا تو ایمرے کا خوف بڑھنے لگا تھا اپنی گردن کے گرد تنگ ہوتا شکنجہ نظر آیا تو وہ ایک دم سے دلہام کی گردن دبوچے اسے مارنے کے درپہ تھی جب امراؤ کمرے میں داخل سامنے کا منظر ناقابل یقین تھا۔
“ہاں میں نے مارا ہے شاہ بخت کو میں تمہیں بھی ماردونگی اور اسے بھی۔”
وہ ہیجانی کیفیت میں مبتلا تھی اسکا خوف اسکے حواسوں پہ حاوی ہونے لگا تھا۔
“ایمرے کیا کررہی ہو یہ تم پاگل ہوگئی ہے چھوڑو اسے ۔”
امراؤ دلہام کو اسکی گرفت سے نکالنے کی تگ ودو کرنے لگی تھیں لیکن ایمرے پہ تو جیسے جنون سوار تھا۔
شاہ بخت کی موت کے بعد تو ڈاکٹرز ویسے بھی اسے ٹرومیٹک کنڈیشن کا بتا رہے تھے۔
امراؤ بڑی مشکل سے دلہام کو بچا پائی تھیں۔
“تم تم ہوتی کون ہو مجھ سے میری اولاد کو چھیننے والی ،میرا شوہر چھینا اور اب میرا بچہ ۔۔میں سارے فساد کی جڑ کو ہی ختم کردونگی ۔”
ایمرے پہ جیسے جنون سا طاری تھا جہاں امراؤ کا عکس ارینہ میں بدل رہا تھا۔
اسکی جنونیت سے سمہتے دلہام اور امراؤ ایک طرف کو بڑھے تھے جب ایمرے کمرے میں اسے مارنے کو چیزیں ڈھونڈ رہی تھی۔کچھ بھی نا پاکے اس نے ڈریسنگ کے سامنے پڑا اسٹول اٹھائے امراؤ کی طرف پوری قوت سے اچھالا وہ دلہام کو پیچھے ہٹانے کے چکر میں خود اس اسٹول کا نشانہ بنی تھیں۔
انکے پیٹ سے درد کی لہر سی اٹھی تھی درد سے بےحال امراؤ کی چیخوں پہ متوجہ ہوتے سب ہی وہاں پہنچے تھا ایمرے کا بگڑا توازن ،امراؤ کی تشویشناک حالت اور ایک طرف کو سہما سا دلہام اچانک سے ہی اتنے سالوں بعد آنے والی خوشی نے طوفان کا روپ دھارا اور امراؤ کی گود بھرنے سے پہلے ہی اجڑ گئی تھی۔
دلہام ہر وقت اس چیز کا قصوروار خود کو سمجھتا جسکی وجہ سے ایک ننھی جان دنیا میں آنے سے پہلے ہی چلی گئی تھی۔
افراہیم بیٹیوں کے روگ میں بستر سے لگے تو سب کو ایمرے کیلئے کڑا فیصلہ لینا پڑا تھا اور اسے پاگل خانے میں داخل کروا دیا گیا تھا جہاں کبھی کبھار افراہیم اور انکے مرنے کے بعد دارا جان بھی چلے جاتے تھے لیکن شعور کی منازل طے کرتے دلہام نے کبھی انکی حالت زار کا سوچا بھی نہیں تھا۔
اس حادثے کے دو سال بعد امراؤ کو خدا نے پریہان کی نعمت سے نوازا تو دلہام نے اسے ہاتھ کا چھالہ بنا لیا تھا اور پریہان سے اسکی محبت کو دیکھتے امراؤ بھی اس وقت کے مارے بچے پہ رحم کھاتے اسے اپنی گود کی گرمی دینے لگی تھیں۔
وقت تیزی سے گزر رہا تھا جب دلہام بخت کی بےرونق زندگی میں وہ بہاروں کے جیسی لڑکی نے تہلکہ مچا گئی۔
اس دن وہ بڑے بابا کی جگہ مہمان بن کے گیا تھا جو کسی اور تقریب میں تھے اور دلہام کو اچھے خاصے ڈونیشن کے ساتھ کالج بھیجا تھا اور عناء سے پہلی ملاقات ہی دلہام کو اس لڑکی کے حصول کیلئے کوشاں کرگئی تھی۔
سوتی ہوئی عناء کا ہاتھ دلہام کے سینے سے ٹکرایا تو وہ ماضی کی اتھاہ گہرائیوں سے واپس لوٹا تھا جہاں وہ اسکے مزید نزدیک ہوتے پہلی رات ہی اسکا ضبط آزمانے لگی تھی
۔
دلہام یک ٹک اسے دیکھے جارہا تھا قدرت کا وہ حسیں شاہکار سراپہ الفت تھا لیکن دلہام اس مقام سے لوٹ آیا تھا۔
ماتھے پہ شکنوں کا جال بچھا تھا اور وہ اسکا ہاتھ جھٹکتے اٹھ کھڑا ہوا تھا شاید کہ اپنے کمزور پڑ جانے کا ڈر تھا۔
نیند تو ویسے ہی روٹھ گئی تھی یا اسکے پہلو میں رہتی لڑکی وجہ سے آنے سے انکاری تھی۔
















صبح عناء کی آنکھ کھلی تو خود کو دبیز بیڈ پہ پاتے اٹھ بیٹھی تھی ۔خالی کمرہ اسکی غیر موجودگی کی داستان سنا رہا تھا ۔
“اپنی عنادل کیلئے تو دلہام بخت دنیا کو بھلا دے صبح کے آغاز پہ دلہام بخت کا چہرہ اور سوتے وقت بھی صرف اور صرف دلہام بخت عنادل کی دنیا اس سے ہٹ کے ہونی نہیں ہونی چاہیئے۔”
کچھ خوبصورت لمحوں کی سرگوشیاں کانوں میں گونجی تو احساس ہوا کہ لوگ کسطرح اپنی باتوں سے مکر جایا کرتے ہیں۔
میں نے جانا ہے کہہ
محبت موسم نہیں
اپنی مدت پوری کرے
اور رخصت ہو جائے۔۔
محبت ساون نہیں، ٹوٹ کر برسے
محبت آگ نہیں، سلگے بھڑکے
اور بجھ جائے۔۔
محبت آفتاب نہیں، ابھرے چمکے اور ڈھل جائے
محبت تو چاند کی مانند ہے
جو بڑحتا ہے،گھٹتا ہے
نکلتا ہے،چھپتا ہے
مگر فنا نہیں ہوتا…..
“اگر آپ مجھے بچوں کی طرح ٹریٹ کریں گے آئی سوئیر عناء دلاور بگڑ جائے گی۔۔۔۔اوہ سوری عنادل۔”
آس پاس ہی کہیں اپنی شریر ہنسی گونجی تھی جو اسے عناء اور عنادل کے درمیان کی جنگ پہ گھوریوں سے نوازے دلہام بخت کی آنکھوں پہ آتی تھی۔
بےاختیار سی مسکراہٹ اسوقت بھی لبوں کو چھو گئی تھی ماضی کو یاد کرتے ۔
دروازہ ناک کرتے امراؤ کمرے میں داخل ہوئی تھیں اور دو لمحوں کی وہ مسکراہٹ سمٹی تھی۔
ماضی ہمیشہ خوبصورت ہوتا ہے اسے حال کی سنگنیاں بتا رہی تھیں۔
“کیسی ہے میرے دلہام کی دلہن۔”
ایک خوبصورت مسکراہٹ جو ہمیشہ انکی شخصیت کا شاخسانہ تھی لبوں پہ سجائے وہ عناء کی طرف بڑھیں تو عناء کو اپنے حلیے پہ شرمندگی ہوئی تھی۔
“میں ٹھیک ہوں آنٹی پلیز بیٹھیں نا۔”
حوالہ کچھ عجیب سا تھا دلہام کی دلہن ،رشتے بھی کچھ الجھے سے تھے تبھی امراؤ نے آگے بڑھتے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے اور اسکے پاس بیٹھ گئیں۔
“آنٹی نہیں مما آج سے تم بھی مجھے دلہام اور باقی سب بچوں کی طرح مما ہی کہو گی۔”
امراؤ نے اسکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑے پیار سے کہا تو انکی محبت پہ عناء کا دل بھر آیا تھا۔
تبھی پریہان اور رمز بھی کمرے میں داخل ہوئی تھیں جنکے ہاتھ میں عناء کیلئے ڈریس اور جیولری وغیرہ تھی آج کے ریسپشن کیلئے۔
“مما آپ نے منگوایا تھا نا سب۔”
پریہان امراؤ کے گلے کا ہار بنتے بولی تھی۔
“ہاں چلو اب ٹائم ویسٹ نہ کرو عناء کا اور اسے تیار ہونے میں مدد دو میں باہر کے کام دیکھ لوں اور ناشتہ بھجواتی ہوں میں ۔دلہام تو پتا نہیں صبح کا نکلا ہے اسکا کوئی جلسہ تھا دنیا کا انوکھا دلہا ہے جسے اپنے ریسپشن سے زیادہ جلسے جلوسوں کی پڑی ہے ۔”
امراؤ کمرے سے باہر نکلتے تک بولتی گئیں تو عناء کو ماں کی یاد آئی تھی وہ بھی تو ایسے ہی بولتی تھیں اور وہ دلاور کے ساتھ مل کے ارینہ کا مذاق اڑاتیں کہ انہیں پیٹھ پیچھے بولنے کی عادت پڑتی جارہی ہے۔
آنکھیں بھیگی تھیں زندگی نجانے کیسے دھوپ چھاؤں جیسے بننے لگی تھی۔
امراؤ نے فریش جوس بھجوایا تو وہ فریش ہونے چل دی تھی جبکہ پریہان اور رمز اسکی جیولری سیٹ کرنے پہ لگی تھیں جب دلہام کی آمد پہ وہ مجسم بنی تھیں۔
“بھائی وہ ہم بھابھی کی ہیلپ کررہے تھے۔”
رمز نے فوراً سے یہاں موجودگی کی وجہ بیان کی۔
“جاؤ تم لوگ میں کردونگا اسکی ہیلپ۔”
دلہام کا انداز وہ سمجھ نہیں پائیں تھیں لیکن فوراً سے گردنیں اثبات میں ہلائے وہاں سےرخصت ہوئیں تھیں۔
وہ اپنی دھن میں شاور لیے باتھ گاؤن پہنے باہر آئی تھی جب اسے سامنے دیکھتے بری طرح چونکی تھی۔
وہیں دلہام بھی اپنی جگہ ساکت ہوا تھا۔
شہد رنگ بالوں سے ٹپکتا پانی اسکے چہرے پہ شبنم کے جیسے بکھرا تھا جبکہ غلافی آنکھوں کی شرم آلود اٹھتی جھکتی پلکوں نے جیسے اسے لمحوں کی گرفت میں لیا تھا وہ بھول رہا تھا کہ گزری شب کتنی رعونت سے اسکے وجود کی دھجیاں اڑا کے گیا تھا۔
عناء نے خود کو اسکی بولتی آنکھوں کے سحر سے آزاد کروایا اور بیڈ پہ پڑے ڈریس کی طرف دیکھا جو اسے میلوں دور پڑا لگ رہا تھا لیکن اٹھانا تو تھا اسیلئے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے تھے اور دلہام کے قدم اسکی طرف بڑھے تھے۔
عناء کا اعتماد کہیں جاسویا تھا اسے قریب آتا دیکھ کر لیکن اگلے ہی لمحے وہ ساکت ہوئی تھی جب دلہام اسے بازو سے پکڑے پیچھے کی جانب دھکیلتے دیوار سے لگا گیا تھا۔
“اس کمرے میں رہنے کے کچھ اصولوں ضوابط طے کرلو جس میں صف اول یہ بھی ہے کہ دلہام بخت کے کمرے میں رہتے ہوئے تم مکمل ڈریس میں رہو گی ۔”
رت جگے کی غماز آنکھوں کو اس پہ گاڑے بولا تھا۔
“یہ کمرہ میرا بھی اگر میں چپ ہوں دلہام بخت یہ مت بھولو کے میں سدھر گئی ہوں ۔”
نازک وجود اسکی گرفت میں پھڑپھڑایا تھا اور ساتھ میں انگشت شہادت کا اشارہ کرتے اسے وارن کرنا چاہا تھا جب دلہام نے ایک اٹھی انگلی کے جرم میں اسکا پورا ہاتھ اپنے آہنی شکنجے میں لیا تھا وہ تڑپ کے رہ گئی تھی۔
“چیلنج کررہی ہو؟دلہام بخت کو؟”
اب کے اس گستاخ ہاتھ کی سزا وہ تھی جو کسی مجرم کے جیسے بل دیتے اسے عناء کی پشت پہ لگا گیا ۔
یہ حرکت ایسی تھی کہ وہ تڑپتے ہوئے ہاتھ کے ساتھ درد کی شدت سے بچنے کو چلاتے ہوئے رخ پھیر گئی اور غیرارادی طور پر ہی اسکی پشت دلہام کے سینے سے ٹکرائی تھی اسکا پورا وجود ہی دلہام کے حصار میں گیا تھا۔
نتھنوں سے ٹکراتی عناء کے وجود کی مہک،گیلے بالوں اور وجود سے اٹھتی شیمپو اور باڈی لوشن کی خوشبو دلہام کے حواسوں پہ چھانے لگی تھی۔
“آپ حد سے زیادہ جنگلی انسان ہیں ہاتھ چھوڑیں میرا مجھے درد ہورہا ہے دلہام۔”
درد واقعی ناقابل برداشت تھا تبھی تو بن پانی کے مچھلی کی مانند تڑپی تھی۔
کوله باریست پر از هیچ که بر شانه ماست
گله از دست کسی نیست’ مقصر دل دیوانه ماست!
اسکی تڑپ پہ گونجتی دلہام کی آواز سرگوشیوں میں ڈھلتے مخمور ہورہی تھی جب اس نے اپنا تکان زدہ چہرہ اسکے گیلوں میں چھپائے لب اسکے شانوں پہ ٹکائے تھے۔
عناء منجمند ہوئی تھی۔
“چلو یہ تجربہ بھی کرکے دیکھو کہ یہ جنگلی شخص کیسے اپنے وصف تم پہ عیاں کرتا ہے عنادل۔”
اسکے سزایافتہ ہاتھ پہ اپنی گرفت مزید سخت کیے اس نے اسوقت اسکے جذبات کو شولہ جوالہ بناتی عناء کو پھر سے دیوار سے لگایا جسکا چہرہ کنکریٹ زدہ دیوار کے نقش ونگار میں الجھا تھا۔
عناء کا دماغ سنسنانے لگا تھا اسے لگ رہا تھا اگر دلہام نے مزید اسکے چہرے پہ جبر کیا تو یقناً اسکے جبڑے ٹوٹ جائیں گے لیکن دلہام کے ہاتھوں کی جنبش عناء کے حواس مختل کرنے لگی تھی جنہوں نے باتھ گاؤن کی ڈوریوں کو کھولتے گویا اسے زمین بوس کیا تھا۔
بےحجابی کا ڈر اسے چلانے پہ مجبور کرگیا تھا۔
“دلہام پلیز۔۔۔۔”
اب کے التجا میں آنسوؤں کی نمی گھلی تھی۔
“کیوں ابھی سے ہار مان لی جبکہ داستان وحشت از عشق کا پہلا ہی قرطاس پلٹا ہے ابھی۔”
ذرا سا جھکتے اپنا چہرہ اسکے شانے سے ٹکائے دلہام نے اپنا سارا وزن اسکے ناتواں کندھوں پہ منتقل کیا تھا۔
“مم میں چلی جاؤنگی یہاں سے بہت دور آئی سوئیر دلہام مم میں یہ انتقام کی جنگ۔۔۔۔۔”
“نہیں مائے ڈئیرسٹ عنو یہ جذبہ انتقام کا شوق تم نے پالا تھا اور اسکا انجام میں ڈیسائیڈ کرونگا ،بھول کر بھی یہ مت بھولنا کہ تم دلہام بخت کے شکنجے سے باہر جاسکوگی ۔”
دلہام نے سختی سے کہتے اسکا بازو جھٹکتے اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا جبکہ وہ رہائی پاتے بازو کو ایک ڈھال بنائے خود کو محفوظ بنانے لگی تھی۔
دلہام کی بےباک نگاہیں اسے اپنے وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہورہی تھیں جبکہ عناء کا چہرہ آنسوؤں سے تر بتر ہونے لگا تھا۔
“اسٹاپ کرائینگ۔”
وہ دھاڑا تھا ۔
عناء نے جھٹ سے آنکھوں کو صاف کرتے خود کو کمپوز کیا۔
“آئی ہیٹ یو دلہام بخت تم اگر سمجھتے ہو تم یہ سب کرکے مجھے زیر کرلوگے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے میں۔۔۔”
“سے آئی لوو یو دلہام۔۔”
دلہام نے اسکی نفرت انگیز تقریر کو ہوا میں اڑاتے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں دبوچے اسکی نفرت پہ محبت کا پرچار چاہا تھا۔عناء نے نفی میں سر ہلایا تھا۔
“آئی جسٹ ہیٹ یو ،یو آر آ لووزر یو کن ناٹ فیس یور پرم فیس دین ۔۔۔۔”
“عنادل جسٹ سے آئی لوو یو دلہام۔۔”
اسکی جزباتی تقریر کو ایک بار پھر سے دلہام کی دھاڑ نے چپ کرایا تھا۔
اب کے عناء نے نفی میں سر ہلایا تھا اور دلہام نے اسکی سزا میں اسکی نازک کمر میں سختی سے اپنی گرفت کا کمند ڈالے اسے اپنے قریب کرلیا کہ وہ اسکی سانسوں کی تپش سے اپنا چہرہ جھلستا ہوا محسوس کررہی تھی۔
“عنادل”
اب کے وارننگ دیتا انداز تھا جبکہ سزا کی معیاد بڑھاتے اپنی ہلکی ہلکی شیوڈ داڑھی کو اسکے نقوش میں پرویا تو وہ کسمسائی تھی۔
دلہام کی قربت اور اس پہ موت کے پروانے کی سزا وہ گڑبڑائی سی تھی ۔
آخر کو کمزور اسے پڑنا تھا کیونکہ اس پہ عورت ذات کا لیبل جو لگا تھا اگر وہ پہلے والا دلہام اور عناء ہوتے تو کہنے کہلوانے کی نوبت ہی نہ آتی تھی جب صبح صبح عناء کا وائس مسیج ڈراپ کیا ہوا ملتا کہ آج اسے دلہام بخت سے ہنڈرڈ ٹائم آئی لوو یو سننا ہے اور وہ لفظوں کی بارش کرنے خود چلا آتا اور پلینٹی میں عناء کو سود سمیت ان لفظوں کو لوٹانا ہوتا تھا کیونکہ محض لفظ نہ تھے ان میں جذبات تھے
۔
اور آج کھوکھلے لفظوں کی فرمائش اور انکی ادائیگی میں انا آرکی تھی۔
اس نے ہلکی سی سسکی بھری تِھی جب دروازہ بجایا گیا تھا۔
“بھابھی اگر آپ ریڈی ہیں تو پارلر والی کو بھیجوں؟”
زمر کی آواز پہ اس نے اپنے صیاد کو دیکھا جسکی گرفت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
“مم مجھے جانا ہے دلہام۔”
اس نے التجا پیش کی تِھی۔
“لیکن اس جنگلی شخص سے محبت کا اعتراف کیے بنا تم یہاں سے ہل نہیں سکتی عنادل اسیلئے جو کہا ہے وہ کرو ۔”
وہاں رعایت کا کوئی خانہ نہ تھا۔
عناء نے اسوقت کو کوسا تھا جب اس نے دلہام سے ضد لگائی تھی۔
“نہیں بولونگی کیا کروگے زیادہ سے زیادہ تھپڑ مار لوگے ،جبراً جنسی استحصال کروگے اوکے ڈن آئی۔ایم ریڈی ایٹ آل ،بیوی ہوں نا شرعی قانونی اور ایسی بیوی جس سے دو دو بار نکاح پڑھوایا آپ نے لائیک اسٹار پلس سریز ۔”
اپنے ڈر کو مات دینے کیلئے اس نے پرانی عناء کو جگایا تھا جبکہ دلہام اسکے انداز کو دیکھتے شاک ہوا تھا۔
“حیران کیوں ہورہے ہیں دلہام بخت اگر اس روم تک آئی ہوں تو اس رشتے کے تقاضوں سے بھی آگاہ ہوں جانتی ہوں بہک جاؤگے اسیلئے آپکی رو اپناتے طعنہ زنی نہیں کی ،کہنے کو تو میں بھی کہہ سکتی ہوں جس وجود پہ آپ اتنے حق سے تسلط جمائے ہوئے ہیں رات اسی وجود کے ٹھوکر مارتے آپ نے ہی کہا تھا نا کہ عناء دلاور سے تعلق بنانے سے اچھا ہے آپ کسی کو رکھیل رکھ لیں کیا ہوا ضبط کی طنابیں ٹوٹ گئیں کہیں مجھے ہی تو رکھیل بنانے کا نہیں سوچ لیاجو۔۔۔۔”
“عنادل”
عناء بے فالتو کی چلتی زبان کو بریک دلہام کے تھپڑ نے لگائے تھے۔
وہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“تم نے میری عنادل کو تھپڑ مارا بھی تو کیسے؟”
عناء کے سن ہوتے دماغ میں ایک بازگشت گونجی تھی جب ایک واقعہ میں ایک لڑکے نے اسکے چہرے پہ تھپڑ مارا تھا اور بدلے میں دلہام نے اسکے دونوں رخساروں پہ اپنی وحشت کے عمر بھر کے نشان چھوڑے تھے اور آج وہ خود اسے زدوکوب کرنے لگا تھا۔
وہ بےیقین تھی اور اپنی حرکت پہ پیشمان تو وہ بھی تھا رات ہی تو اپنی حرکت پہ اس نے خود کو سزا دی تِھی اور اب پھر سے وہی روش ؟
لیکن وہ ہار نہیں مان سکتا تھا ۔
“خبردار اگر آئیندہ تم نے میرے سامنے زبان چلائی تو بہت برے طریقے سے پیش آؤنگا میں ۔”
اپنے شکستہ لہجے پہ قابو پائے اسے وارن کرتے نکل گیا تھا اور خود کو دوسرے کمرے میں مقید کیے سامنے آئینے میں اپنا عکس دیکھا تھا۔
“کیا ہوا دلہام بخت وہی تو لوٹایا ہے جو تم نے بولا تھا محض لفظ ہی تو تھے پھر ایسا کیوں؟”
آئینے میں نظر آتے شخص نے دلہام سے سوال کیا تو اسکی آنکھیں پانی سے بھرنے لگی تھیں۔
کتنا عرصہ وہ اس لڑکی سے بھاگتا رہا تھا کیونکہ وہ نفرت اور محبت میں الجھ نہیں سکتا تھا اور پھر سے وہ واپس آتے دلہام کے غضب کو آواز دے گئی تھی۔
آئینے میں دو بےیقین ،کانچ کے جیسی زخمی آنکھیں ابھریں تو دلہام نے ہاتھ بڑھائے انہیں چھونا چاہا تھا پر وہ دور ہوگئیں۔
“کیوں۔۔۔۔۔۔”
وہ دھاڑا تھا اور اگلے ہی لمحے دونوں ہاتھ آئینے میں نظر آتے اپنے عکس پہ دے مارے تھے ۔
شیشہ کئی ٹکڑوِں میں بٹتے دلہام بخت کے ہاتھوں پہ بھی نارسائی کے دکھ رقم کرگیا تھا۔
نیچے بکھرے کانچ پہ دو شکوہ کناں نگاہیں اسے انہیں چھونے کی بےقراری پیدا کررہی تھیں وہ دیوانہ سا انہیں ایک ٹکڑے سے دوسرے ٹکڑے پہ تلاشتے اپنے ہاتھوں کو خون آلود کرگیا تھا پر اسے فکر ہی نہ تھی۔اسے اپنی عنادل کی آنکھوں کے شکوے مٹانے تھے پر کیسے؟
اسکی محبت پہ تو نفرت غالب تھی اتنا آسان کہاں تھا محبت سے نفرت اور پھر نفرت سے محبت کی پہیلی کو سلجھانا۔۔۔
ایک مدت سے کہیں گم ہے مرا نصف وجود
ایک مدت سے مری نیند جدا_ خواب جدا

















عناء بےیقینی سے رخسار پہ ہاتھ رکھے آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھ رہی تھی۔
ہمیشہ سے دلہام بخت کی ذات اس پہ حاوی رہی تھی جیسے اب وہ اسکے رخسار پہ اپنے ہاتھوں کے نقوش چھوڑ گیا تھا۔
“ان رخساروں کو پھولوں سے بھی چھو لو تو بھی مجھے تکلیف ہوگی عنادل اس نے تمہیں تھپڑ مارا میں کیسے برداشت کرسکتا ہوں؟”
عناء کی آنکھیں خشک ہوئی تھیں ۔
وہ شخص باتوِں کا پاس نہیں رکھتا تھا۔
وہ شکست خوردہ سی زمین پہ بیٹھی تھی آنکھوں کے سامنے ماضی کے کچھ منظر سے چلنے لگے تھے جب وہ دلہام بخت کے دل میں رہنے والی عناء تھی۔
کالج میں دلہام سے ملنے کے بعد سے اسے اکثر یہ وہم لاحق رہتا تھا کوئی اسے واچ کررہا ہے جسے اپنا وہم گردانتے وہ سر جھٹک دیتی تھی۔
اس دن تپتی دوپہر میں وہ اپنی وین کا انتظار کررہی تھی پر وین والے بابا تھے کہ آنے کے نہیں دے رہے تھے جب بلیک کرولا سامنے آرکی تھی اس نے چونکتے ہوئے سامنے دیکھا تھا اور دلہام پہ نظر پڑتے وہ ذہن کے دریچوں کو کھنگالنے لگی تھی کہ اس نے اسے کہاں دیکھا ہے؟
“آجائیں مس عنادل میں آپکو چھوڑ دیتا ہوں۔”
اس نے گاڑی کا دروازہ وا کیا تھا ۔عناء کے دماغ جھماکہ سا ہوا تھا۔
“ارے آپ ،آپ تو وہیں ہیں نا دلہام بخت۔”
شناسائی کی پہلی سیڑھی چڑھی تو دلہام نے دل پہ ہاتھ رکھے ذرا کو جھکتے گویا اسکی بات پہ سربسجود ہونے کا اشارہ کیا تو وہ کھلکھلائی تھی۔
“او واؤ یہ آپکی گاڑی ہے؟”
وہ پرشوق سی اسکی گاڑی میں بیٹھی تھی جب دلہام نے سر اثبات میں ہلاتے سے نفی میں ہلادیا تھا۔
وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اس نے یہ کیوں کیا پر شاید وہ عناء کو آزمانا چاہتا تھا پرکیوں؟
یہ تو اسے بھی نہیں پتا تھا۔
“اوہ تو پھر کس کی ہے؟”
وہ اداس ہوئی تھی۔
دلہام نے خود کو لعنت ملامت کی جسکے ایک جھوٹ سے وہ اداس ہوئی تھی۔
“دوست کی ہے میں کہاں اتنی بڑی گاڑی افورڈ کرسکتا ہوں؟”
دلہام کو پہلی بار اندازہ ہوا تھا کہ جھوٹ بولنا کتنا آسان ہے اور اس پہ قائم رہنا کتنا مشکل۔
“اوہ لیکن آپ نے تو ہمارے کالج کو اتنا بڑا ڈونیشن دیا تھا تو پھر آپ کیسے افورڈ نہیں کرسکتے؟”
عناء کے سوال پہ دلہام کے جھوٹ بولنے کی مزید سکت کم پڑگئی تھی جب اس نے سچ بولنے کا ارادہ کیا
