Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 03)
Rate this Novel
Anadil (Episode 03)
Anadil by Uzma Mujahid Novel
“تمہیں بھائی سے معافی مانگنی ہوگی عناء۔”
کافی دیر کی چھائی خاموشی کو دورید کی آواز نے توڑا تھا۔
“معافی کس بات کی معافی؟ انہیں ذرا شرم آئی ہے ایک غریب لڑکی اپنے بیمار اپاہج باپ کو بستر پہ چھوڑے اس لین لارڈ کا انٹرویو کرنے گئی تھی اور انہوں نے کیا کہہ دیا اپنی سو کالڈ اپائنٹمنٹ کا اور ویسے بھی تم نے ہی کہا
تھا خود سے چھاپ دو لو چھاپ دیا۔”
دورید اس سے بات کرکے پچھتایا تھا ۔وہ یقین نہیں کرنا چاہتا تھا اس جیسی انٹیلجنٹ لڑکی نے اسکے مذاق کو سنجیدہ لے لیا تھا؟
“گوٹو ہیل ۔”
وہ پاؤں پٹختے اخبار اسکی گود میں پھینکتے ہوئے نکل گیا تھا ۔
عناء نے “ہننہ” کہتے ساتھ ہی اخبار کھول لیا جہاں دلہام بکت کی بلیک اینڈ وائٹ میں بھی شاندار سی تصویر کے ساتھ “ایک نشست دلہام بخت کے ساتھ” نمایاں لکھا تھا۔
“اوہوں اچھا ہے اس اکڑو دماغ والے کے ساتھ نشست نہیں ہوئی ورنہ عناء تیرا تو خون جل جل جانا تھا۔”
ایک تنقیدی نگاہ اس پہ ڈالے وہ اپنا کارنامہ دیکھنے لگی۔
“لو کیا غلط لکھ دیا کہ دلہام صاحب آپکے مزاج کیسے ہیں؟ آفکورس ہینڈرٹ پرسینٹ شیور انہوں نے یہی کہنا تھا انتہائی رنگین مزاج ۔۔۔سو لکھ دیا خیر اس پہ تو اعتراض نہیں ہوگا اسے ہنمم۔۔۔”
وہ اپنے ساتھ ہی مکالمہ بازی کرتی نظر آئی۔
“یہ تو انتہائی سادہ سا سوال تھا آپکی نارمل روٹین کی پسند کیا ہے ؟یہ تو گوگل باجی نے بھی بتایا تھا کہ ہر سیاست دان شباب اور شراب کے عادی ہوتے ہیں دوباتیں ہی تو لکھ دی ہیں ایسا کیا طوفان آگیا ہننہ عجیب۔”
اگر اسوقت دلہام اسکے خصوصی انٹرویو کے ساتھ عناء کی کمنٹری بھی سن لیتا تو پاگل ہی ہوجاتا۔
“ہاں شاید اس سوال پہ غصہ آیا ہوگا لین لارڈ کو کہ تیسری شادی کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ ہننہ ۔۔۔سوچ عناء کہ۔۔۔ “
“تیسری شادی کے بارے میں کافی نیک خیالات ہیں میرے مس عنادل۔”
قریب کہیں سے آواز آئی تھی۔
“ہاں ایسا ہی کچھ لکھنا تھا عناء ڈفر اور تم نے کیا لکھ دیا کہ پہلی دو میں سے کسی ایک کے مرنے پہ کرونگا۔۔۔”
عنادل ؟شاید کسی نے ایسا کچھ کہا تھا ؟عناء کے شعور کے پردے بیدار ہوئے تو اس نے سراٹھائے سامنے والے کو دیکھا جہاں سختی سے جبڑے بھینچے وہ اسے کھاجانے والی نظروِں سے دیکھ رہا تھا۔
“اونہوں عناء ہوش کر دن میں تارے نظر نہیں آتے ایسے ہی دلہا بخت اتنا لچڑ بندہ نہیں لگتا جو ذرا سے انٹرویو کی جرح کرنے یہاں پہنچ جائے۔”
عناء نے دونوں ہاتھ اٹھائے اپنا چہرہ تھپتپھایا تھا اسکی سرگوشی اتنی بلند ضرور تھی کہ سامنے والا باآسانی سن سکتا تھا ۔
دلہام نے ٹیبل پہ پڑا پانی کا بھرا ہوا گلاس اسکے منہ پہ اچھالا تھا۔
وہ جھٹکے سے کھڑی ہوئی تھی ۔
وہ اسکی ذہنی اختراع نہیں بلکہ حقیقت میں بانفس نفیس وہاِں موجود تھا۔
“تم۔۔۔آئی مین سر ۔۔نو۔۔۔مسٹر دلہا ۔۔شٹ ۔۔۔مسٹر دلہام آپ یہاں؟”
وہ بارہا اپنی بات کو ڈینائے کرتے ہڑبڑاتے ہوئے دلہام کے ماتھے کے بل بڑھا رہی تھی۔
“آفکورس میں عنادل یہ لیچڑ بندہ حددرجہ امیج کانشئس بھی ہے۔”
وہ پھنکارتے ہوئے انداز میں اس سے مخاطب تھا۔
“عناء ،عناء دلاور ناٹ عنادل کیسے سیاست دان ہیں آپ چار حرف یاد نہیں ہوسکتے آپ سے ع۔۔ن۔ا۔۔ء۔۔ جبکہ عنادل پانچ حروف پہ مشمل ہے اوہ دلہام میں بھی تو پانچ۔۔۔؟”
“موسیٰ”
“عناء ،عناء دلاور نام ہے میرا موسیٰ نہیں یہ ایکچوئلی لڑکوں کا نام ہوتا ہے ناتو۔۔۔۔”
“موسیٰ”
دلہام کی چنگھاڑ پہ کچھ فاصلے پہ رکے موسیٰ نے جی حضوری کرتے اس تک فاصلہ بھاگ کے طے کیا۔
“مس عنادل کو اپنے مہمان خانے کی دعوت دے دیں میرے وہاں پہنچنے سے پہلے۔”
وہ ایک جملے میں اپنا آرڈر تمام کرتے تیز تیز قدموں سے واپس مڑگیا تھا جبکہ کئی ایک لوگ اسکے شانہ بشانہ چلنے لگے تھے۔
“چلیں میم۔”
موسیٰ سرجھکائے مؤدب انداز میں بولا تھا۔
“کیوں چلیں بھائی ،جب آئے تھے تب تو آپکے لارڈ صاحب کو بغیر اپائنمنٹ ملنا گوارہ نہیں تھا تو اسے اب عناء دلاور سے بھی اپائنمنٹ لینی پڑے گی جاکے بتادو انہیں۔”
ایک ادائے بے نیازی سے کہتی وہ بیگ اپنے شولڈر پہ لٹکائے کلاس کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ اس کا جواب لفظ بہ لفظ دلہام تک پہنچا دیا گیا تھا۔
“دنیا جہاں کا بکواس بندہ لے کے ٹھنڈ میں بھگو دیا مجھے اب اگر نمونہ ہوگیا تو؟”
وہ بڑبڑاتی ہوئی کلاس میں انٹر ہوئی تو دورید نے ایک نگاہ اس پہ ڈالی ۔مجال ہے جو عناء دلاور میں ایٹی کیٹس نامی کوئی چیز ہو وہ سرجھٹکتے اپنا کام کرنے لگا۔
“تمہارے بھائی صاحب آئے تھے ۔”
وہ بیگ سامنے والی چئیر پہ لٹکا کے دورید کے برابر میں رکھی چئیر پہ بیٹھتے بولی۔
“تمہارے خواب میں؟”
وہ طنزیہ کہتے پینسل منہ میں چبائے پروفیسر صاحب کی طرف متوجہ تھا ۔
“جی نہیں حقیقت میں یہ دیکھ رہے ہو یہ حال انہیں نے کیا ہے۔”
وہ دانت پیستے دبے دبے غصے میں بولی۔
“پھر بھی بہتر ہے دعا کرو انتہا پہ نہیں گئے۔”
بظاہر وہ پینسل دانتوں میں چبائے بیٹھا تھا لیکن سرگوشی میں عناء سے ہی باتیں کررہا تھا ۔
“واٹ ایور عناء دلاور کسی سے ڈرتی نہیں۔”
وہ شولڈر کٹ بالوں کو جھٹکتے ایک ادا سے بولی تھی۔
“وہ تو نظر آرہا ہے تبھی پانی میں نہائے یہاں آ بیٹھی ہو۔”
وہ سرجھکائے کاپی پہ کچھ رائٹ کرنے لگا تھا ۔
“ہننہ دعوت دے رہے تھے موصوف ۔”
عناءکی بات پہ اسکا دل زور سے دھڑکا تھا بہرحال غصہ ایک طرف وہ اسکی اچھی دوست تھی ۔
“پھر؟”
“پھر کیا؟ریجکٹ کردی میں نے عناء دلاور بنا اپائنٹمنٹ ہر کسی کی دعوت پہ نہیں جاتی ۔”
دورید تو اسکی ادائیں اور نازکی دیکھتے شاکڈ تھا ۔
“تمہارے مرنے پہ پرسہ کسے دینا ہے عناء؟”
دورید نے گم صم انداز میں پوچھا تھا ۔
وہ ایک دم سے اسکی طرف پلٹی تھی ۔
“دورید اپنے بھائی کی طرح تمہیں بھی چڑھ گئی ہے کیا میں کیوں مروں ؟”
وہ بڑی بڑی خوابناک آنکھوں کو سکوڑنے کی کوشش کرتے بولی۔
“کیونکہ دلہام بخت کی جو دعوت خاص ہے وہ تمہارے لیے نہیں بلکہ انکے فارم ہاؤس پہ جو بڑے بڑے ٹائیگرز ہیں انکیلئے ہے جو تمہارے لذیذ خون میں پکائی جائے گی ویسے یہ بھائی کے موڈ پہ ڈپینڈ ہے وہ اپنے ٹائیگرز کو کیسا کھلانا چاہتے ہیں اکثر وہ تازہ گوشت بھی کہلاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔انہیں۔”
اب تک کی مبہم کا گفتگو کا شاندار طریقے سے خلاصہ کرتے دورید اسکے چھکے چھڑا چکے تھا جبکہ “انہیں “
پہ خصوصی زور عناء کا دل دہلا رہا تھا ۔
“ہائے اللّٰہ دورید اس دلہا بخت کے چکر میں میرا دلہا رنڈوہ رہ جائے گا کیا؟”
وہ روہانسی سی پوچھ رہی تھی۔
“نو وسپرینگ کلاس۔”
شاید عناء کی آواز کچھ زیادہ ہی اونچی ہوگئی تھی۔
“اس طرح تو ہوتا ہے اسطرح کے کاموں میں۔”
دورید اسکی حالت سے حظ اٹھاتے بولا تھا ۔
“دورید ،عناء گیٹ آؤٹ آف کلاس۔”
پروفیسر کی نگاہ ان پہ پڑی تو بنا رعایت انہیں کلاس سے جلاوطنی کی سزا سنائی۔
وہ تو جیسے تیار تھی فوراً اٹھی تھی جبکہ اسکے بھاگنے کی وجہ سے دورید کی بھی شنوائی نہیں ہوئی تھی۔
وہ اسکے پیچھے ہی آیا تھا ۔
“کیا بیوقوفی ہے عناء لے کے پوری کلاس کے سامنے انسلٹ کروا دی۔”
دورید غصے میں اسے جھاڑنے لگا تھا ۔
“تمہیں کلاس کی پڑی ہے اگر تمہارے بھائی نے واقعی مجھے ٹائیگرز کے سامنے پھینک دیاتو میرا سوچا ہے کیا ہوگا؟”
وہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے لگی تھی۔
“بتایا تو ہے معافی مانگ لو۔”
دورید نے بیزار سی نگاہ اردگرد ڈالی۔
“ایویں ہی معافی مانگ لوں۔”
اسکی انا جاگی تھی۔
“تو پھر بھاڑ میں جاؤ بےوقوف۔”
وہ اسے آنکھیں دکھاتے وہاں سے چلا گیا ویسے بھی رکنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا۔
وہ بھی بددل سی باہر نکلی تھی جب ایک گاڑی اسکے سامنے آرکی سامنے موجود شخصیت کو دیکھتے اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے ہی رہ گیا تھا۔
“بنا کوئی تماشہ لگائے گاڑی میں بیٹھیں۔”
دلہام کی ہوش ربا آواز اسکے واقعی ہوش اڑا گئی۔
“وہ میں ایک کال کرلوں دورید نے پوچھا تھا کہ میرے مرنے پہ پرسہ کسے دینا ہے تو اسے بتادوِں؟”
وہ بمشکل نکلتی آواز سے ممنائی تھی۔
“واٹ”
دلہام کے تاثرات ناقابل فہم تھے۔
“وہ دورید۔۔۔”
“مس عنادل گاڑی میں بیٹھیں۔”
بیک ڈور وا کیے وہ تقریباً چنگھاڑا تھا تو وہ کانوں میں انگلیاں دیے بیٹھ گئی تھی جبکہ وہ اسکی سائیڈ کا دروازہ بند کیے دوسری طرف سے آکے بیٹھا تھا۔
گیٹ پہ موجود کتنے طالبات نے حسرت بھری نگاہوں سے عناء کو دیکھا جسکیلئے دلہام بخت نے دروازہ کھولا ہوا تھا ۔
“موسیٰ”
“سر”
موسیٰ نے ایک لفظ میں اسکی بات کا مطلب سمجھتے گاڑی دوڑائی تھی جبکہ عناء کو اپنے پاس بیٹھے دلہام سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔
وہ موبائل پہ جھکی تھی۔
“سنو دورید میرا پرسہ میرے بابا سے کرنا اور انہیں کہنا کہ آپکی بیٹی حق کی راہ میں شہید کردی گئی ہے ،دی گریٹ عناء ۔۔۔۔۔”
“میرا سیل ہے یہ۔”
وہ ابھی مسیج مکمل نہیں لکھ پائی تھی جب دلہام بڑی فرصت سے اس سے موبائل لیتے ایک طرف پھینک چکا تھا۔جبکہ اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔
“لو اچھی زبردستی ہے ایک تو آپ مجھے اغوا کرکے لے جارہے ہیں اوپر سے سیل بھی لے لیا ہے میرا آپ نے کونسی دشمنی نکال رہے ہیں آپ۔۔۔مانا کہ آپکا انٹرویو چھاپ کے بہت بڑی غلطی کردی ہم نے پر آپ یہ بھی تو دیکھیں نہ محترم دلہا بخت ۔۔۔سوری دلہام بخت صاحب کہ آپکی وجہ سے ہماری نوکری چلی گئی اور وہ تنخواہ جس کیلئے ہم نے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کے اتنا اہم فریضہ سرانجام دیا اس سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔”
صرف ایک سیل لینے کی پاداش میں وہ اسکے کانوں کو اپنی آواز سے کافی حد تک محظوظ کرچکی تھی۔
“موسیٰ کسی میڈیکل اسٹور سے میڈیکل بینڈج لے کے اس لڑکی کے منہ پہ لگا دو۔”
دلہام نے حسب عادت نظروں کا ارتکاز اس پہ رکھا تھا جبکہ زبان پہ حرف موسیٰ تھا۔
“نہیں نہیں ،موسیٰ بھائی یہ کام نہ کریے گا دیکھیں سر آپ شاید جانتے نہیں مجھے استھما کی شکایت ہے مائنر ہی سہی لیکن اگر آپ میرے منہ پہ ٹیپ وغیرہ لگائیں گے تو میں سانس کیسے لونگی اور ویسے بھی میں تھوڑی دیر نہ بولوں تو میرا سانس بند ہوجاتا ہے بابا۔۔۔۔”
“عنادل”
دلہام زور سے بولا تو وہ لرزتے ہوئے اپنے آس پاس دیکھنے لگی لیکن پھر کچھ یاد آنے پہ چونکی وہ بار بار اسے ہی عنادل کہہ رہا تھا؟
“عنادل کون میں تو عناء۔۔۔”
تبھی گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔
وہ اب کے اسکیلئے دروازہ کھولے بغیر ہی باہر نکل گیا تھا۔
موسیٰ نے اسکیلئے گاڑی کا دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر اسے ہلا گیا تھا بند پنجروں میں گھومتے ٹائیگرز۔
“موسیٰ بھائی کیا آپکی کوئی بہن ہے؟”
وہ اس سے پوچھنے لگی تھی جو اسکا ایک پاؤں باہر تو دوسرا گاڑی کے اندر رکھے دیکھتے ہوئے انتظار میں تھا کب وہ باہر نکلے۔
“نہیں لیکن اگر ہوتی تو یقیناً آپ جیسی ہوتی ۔”
اس تمام وقت میں وہ روبوٹ پہلی بار مسکرایا تھا اور عناء کا دل باغ باغ ہوا تھا ۔
“پھر آپ یقیناً یہ نہیں چاہتے کہ وہ ان خونخوار ٹائیگرز کا لقمہ بنے پلیز مجھے یہاں سے بھگا دیں۔”
موسیٰ اسکی بات سنتے بھونچکا رہ گیا وہ لڑکی خود تو نوکری سے گئی تھی ساتھا سے بھی نکلوانا چاہتی تھی۔
وہ سر نفی میں ہلائے پیچھے ہوتے مؤدب سا ٹہر گیا تو عناء بھی باہر نکلنے سے انکاری نظر آئی۔
سائیڈ پہ نگاہ پڑی تو اپنا موبائل تقریباً سیٹ سے نیچے لٹکتا نظر آیا تو جھٹ سے اسے اٹھائے دورید کا نمبر ملایا تھا۔
“دورید مم۔۔مجھے بچا لو پلیز وہ دلہام بخت مجھے ما۔۔۔”
ابھی اسکی بات مکمل نہ ہونے پائی تھی جب وہ اس کی طرف جھکتے اسکا موبائل چھنتے دور اچھال گیا تھا اور اسکا ہاتھ پکڑتے وہاں سے گھسیٹتا ہوا لے گیا۔
دلہام کی کوئی غلط اٹینشن نہیں تھی وہ صرف اس سے ایک تردیدی بیان لکھوانا چاہتا تھا پر وہ لڑکی بار بار اسکیلئے مسائل کھڑے کرتے اسکے نوکروں کے سامنے اسے مشکوک کروا رہی تھی۔
وہ اسے ڈرائنگ روم میں لایا تھا جسکا حلیہ کافی حد تک اس کھینچا تانی میں بگڑ چکا تھا ۔
عناء کے دماغ میں آئے روز اخبار کی زینت بنتی خبریں گھومنے لگی تھیں۔
“دیکھیں آ۔۔آپ ایسا نہیِں کرسکتے ہماری کوئی خاندانی دشمنی تھوڑی نہ ہے پھر آپ کی بیو۔ ۔۔۔”
“شٹ اپ بیوقوف لڑکی کبھی بولتی بند بھی ہوئی ہے تمہاری جب سے آئی ہو پٹر پٹر بولے جارہی ہو ۔”
عناء وحشت زدہ سی اپنے اوپر جھکتے دلہام کو دیکھ آنکھیں میچ گئی تھی۔
جب کوئی زور سے دروازہ کھولے اندر داخل ہوا تھا ۔
دلہام جو اسکی طرف جھکتے ہوئے اس بیوقوف کو اپنی بات بتانا چاہ رہا تھا چونک کے سیدھا ہوا تھا لیکن دوسرے ہی لمحے ہونے والا عمل اس سمیت سب کو ہکا بکا کرگیا تھا۔
“تم اس حد تک گرجاؤ گے دلہام میں نے کبھی سوچا نہیں تھا اس حد تک آنے سے پہلے تمہیں یہ سوچنا چاہیئے تھا کہ تمہارے گھر میں بھی دو نوجوان بہنیں ہیں۔”
دارا جان کی پھبھری آواز پہ وہ رخسار سے ہاتھ اٹھائے اپنی صفائی دینا چاہتا لیکن وہ کچھ سننے پہ مضر نظر نہیں آئے تھے۔
“ہم شرمندہ ہیں تم سے بیٹی ،تم کون ہو بتاؤ ہمیں ہم ہر ازالہ کریں گے تمہاری تکلیف کا۔”
دارا جان اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولے تھے ۔
عناء کے سامنے تو دلہام بدلے کی پوری ترکیب گھومی تھی پہلی نظر میں اندازہ ہوگیا تھا دلہام بخت کی باگ ان محترم جلالی دارا جان کے ہاتھ میں ہے۔
آنکھیِ برساتی نالہ بنی تھیں۔
“مم مجھے انصاف چاہیئے انہوں نے میرے ساتھ بد ۔۔۔”
عناء کی روتے میں ہچکی بندھی تھی لیکن اسکی سانس اٹکنے لگی تھی جب دورید چونکا تھا۔
“بھائی وہ عناء کو استھما ہے۔”
گھبراہٹ اسکے چہرے پہ واضع تھی جبکہ عناء کو سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی۔دلہام اسے قہر برساتی نگاہوں سے دیکھنے پہ کوئی نرمی نہیں لانے والا تھا۔
دورید نے موسیٰ سے اسکے بیگ کا پوچھا وہاں ان ہیلر اور ٹیبلٹس موجود تھیں وہ لاتے ساتھ اس نے عناء کا بگڑا تنفس بحال کیا تھا ۔
دلہام خاموش تماشائی بنا اس لڑکی کی وجہ سے ایک بار پھر ہونے والی تذلیل دیکھ رہا تھا۔
“انصاف تو ضرور ہی ملے گا اس اس بچی کو موسیٰ قاضی کو بلواؤ۔”
دارا جان کی بات پہ سب سناٹے میں آئے تھے اور وہ ابھی تک رونے میِں مشغول نظر آئی تھی اس بات سے انجان کہ دارا جان اسکیلئے کیا فیصلہ لے رہے ہیں۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
