Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 02)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

“بھائی آپ ،یہ عناء ہے میری کالج فیلو ۔”

دورید اسے سامنے دیکھتے ہڑبڑایا تھا جبکہ عناء یک ٹک اسے دیکھے جارہی تھی اس نے اس شخص کو دیکھا تھا پر کہاں کچھ یاد نہیں تھا۔

“ہیلو سر!آئی ایم عناء ،عناء دلاور ۔”

وہ بےساختہ ہی اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھاتے اپنا تعارف کروانے لگی تھی۔

“دورید کیا تم نے اپنی دوست کو بتایا نہیں کہ دلہام بخت ہر ایرے غیرے سے ہاتھ نہیں ملاتا۔”

نظریں عناء کے گلابی چہرے پہ ٹکائے وہ سرد انداز میں دورید سے مخاطب تھا۔

“وہ بب۔۔بھائی یہ ابھی تو آئی ہیں آئی مین آپکا انٹرویو۔۔”

“اپائنٹمنٹ ہے انکی؟”

دلہام نے ابرو اچکائے اپنے پیچھے ٹہرے موسیٰ (اپنے خاص بندے) سے پوچھا تھا۔

“نو سر “

بنا ڈائری میں دیکھے ہی اس نے جواب دیا تو دلہام کندھے اچکاتے وہاں سے ہٹ گیا تھا۔

عناء ابھی تک اس شخص کی پرسنالیٹی کے سحر میں کھوئی تھی جو کہ فارمل ڈریس پینٹ میں اپنے اونچے لمبے قد اور شاندار پرسنیلٹی سے پورے ماحول پہ چھا گیا تھا ،جب دورید نے اسکے سامنے چٹکی بجاتے اسے ہوش میں لایا۔

“کیا بندہ ہے یار یہ دلہا بخت آئی ایم ایمپریسڈ۔”

عناء نے نیم سرگوشی میں کہا تو دورید کا قہقہ بےساختہ تھا وہ ہڑبڑاتے ہوئے خواب سے جاگی۔

“کیا ہے؟”

“مطلب تم ان سے ایمپریس ہو محترمہ لیکن افسوس کے ساتھ آج آپ انکا انٹرویو نہیں لے پائیں گی آپ ویسے بھی تو تمہیں زبردستی بھیجا گیا تو بیٹر لک فار نیکسٹ ٹائم۔”

دورید ہلکا پھلکا انداز اپنائے اسے واقعی گہر نیند سے جگایا تھا۔

“نو، نو اٹس نیسسری مجھے انکا انٹرویو لے کے جانا ہے ورنہ میری پے کٹ جائے گی دورید پلیز کچھ کرو۔”

سارا سحر اڑن چھو ہوچکا تھا جبکہ پے کے لالے پڑنے لگے تھے ۔

“اب تو بہت مشکل ہے اب تو وہ آؤٹ آف اسٹیشن جاچکے ہونگے وہ یا شاید ڈیرے پہ بٹ جب تک اپائنٹمنٹ فکس نہیں ہوگی تو وہ کسی سے نہیں ملیں گے۔”

دورید کی باتوں سے اسے سخت اہانت کا احساس جاگا تھا ۔

“کیا مطلب اپائنٹمنٹ ؟یہ کوئی تمیز تھوڑی نا ہے ایک بندہ اتنی دور سے چل کے آیا ہے تو کم از کم اسکا احساس کرلے تمہیں نہیں پتا وہ قوی بڈھا یہ گاڑی کا پیٹرول بھی میری جیب پہ ڈال دے گا۔”

عناء نے اسکے سامنے مجبوریوں کا رونا رویا تو دورید کی ہنسی چھوٹ گئی۔

“رئیلی عناء یو آر ان بلیوایبل ۔”

“تم ہنس رہے ہو میری جان سولی پہ لٹکی ہے بتاؤ میں کیا کروں؟ کیا جاتا دو باتیں بتا دیتے اپنے بارے بیوی بچوِں سے بھی اپائنٹمنٹ لے کے ملتا ہے کیا؟”

وہ پریشانی سے دورید کو دیکھتے بولی۔

“ہاہاہاہا۔۔۔۔ایسا کرو خود سے لکھ دو وہ تو اب ہاتھ آنےوالے نہیں ۔”

دورید کی ہنسی نہیں رک رہی تھی لیکن وہ عناء کے شیطانی دماغ کو ایک کک دے گیا تھا۔

وہ دل میں اس آئیڈیے پہ مسرور ہوئی تھی۔

کچھ دیر بعد وہ گھر کیلئے واپس مڑنے لگی تو اسکا سامنا دو لڑکیوں سے ہوا جو خود میں مگن تیزی سے حویلی کے اندر بڑھ رہی تھیں۔

عناء نے انکے بارے میں اندازہ لگانا چاہا وہ کون ہوسکتی ہیں پر سر جھٹکتے وہ واپس بڑھ گئی۔

“اتنی دیر کردی بیٹا؟”

گھر پہنچتے ہی باپ کا پریشان چہرہ نظر آیا تھا۔

“وہ فضول قوی صاحب نے آؤٹ آف فیلڈ بھیج دیا تھا کسی پولٹیشن کا انٹرویو لینے بخت حویلی ،آپ نے کچھ کھایا نسرین آئی تھی آج؟”

وہ ایک سانس میں تمام جواب دیے کچن کی طرف بڑھ گئی بنا انکے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے۔

“عجیب سائیکو لوگ ہیں بابا ایک تو حویلی اتنی پرسرار سی اوپر سے زندہ لاشیں گھوم رہی تھیں سوائے دورید کے۔”

وہ بولتے ساتھ ساتھ اپنے لیے کھانا بنانے لگی تھی ۔

“دورید کون؟”

دلاور یزدانی نے سر اٹھائے اسے دیکھا ۔

“وہ اس دلہا بخت کا بھائی ہے یہ تو مجھے حویلی جاکے پتا چلا ویسے دورید میرا بیچ میٹ بھی ہے ،اوپس بابا ایک بھائی مشرق ہے تو دوسرا مغرب پتا ہے کیا ہوا میں نے کہا انٹرویو لینے آئے ہیں کہتا جو بچے بغیر پیپر تیاری دیتے ہیں وہ فیل ہوجاتے لو اب اس میں بھلا کیا لاجک تھی جو خواہ مخواہ کا فلسفہ جھاڑنے لگا ۔کچھ لوگوں کو تو ویسے ہی بیماری ہوتی ہے کچھ پوچھو نا پوچھو بول ہی پڑنا ہے۔۔۔”

دلاور یزدانی اسکی بات سمجھ ہی نہیں پارہے تھے جو آدھی بات انکے سامنے اور فریج میں منہ دیے کررہی تھی لیکن اسکی آخری بات چہرے پہ مبہم مسکراہٹ کھلا گئی کیونکہ وہ خود بھی تو ایک بات کے جواب میں ہسٹریاں سناتی تھی۔

“فائن چل جاتا ہے ٹونٹ مارا تھا سن لیا ہوگا کہ بنا کوئی سوال نامہ لیے میں انٹرویو کرنے آئی ہوں پر یہ کیا بات ہوئی میں اجنبیوں سے ہاتھ نہیں ملاتا ۔۔۔۔ تو بھائی ہم کونسا مرے جارہے ہیں ہاتھ ملانے کو جو آپکے ہاتھ سونے کے ہیں انہیں چھونے سے ہم بھی سونے کے بن جائیں گے عجیب”

شدید بےعزتی کا احساس عناء کو چین نہیں لینے دے رہا تھا جبکہ دلاور یزدانی خاموشی سے اسے دیکھتے رہے۔

“اب تو میں نے سوچ لیا ہے اس دلہا بخت کا انٹرویو میں ہی چھاپونگی اور ایسا چھاپونگی یہ جو اسکی حویلی میں یہ گونگے بہرے گھوم رہے تھے نا انکی چیخیں نکل جانی ہیں بچو پتا نہیں ہے اسے پنگا لیا کس سے ہے تم نے۔”

ہل ہل کے کھانا بنانے کے ساتھ ساتھ وہ کمر پہ ایک ہاتھ رکھے سالن کا چمچ بھی لہرا لہرا کے بات کررہی تھی۔

دلاور یزدانی کے پاس ماسوائے اسکی بات سننے کے اور کوئی کام نہ تھا ۔

“عنو بچے میں کھانا نہیں کھاؤنگا تمہاری باتوِں سے ہی پیٹ بھرلیا ہے۔”

دلاور یزدانی کی بات پہ اس نے روٹھے انداز میں اپنے باپ کو دیکھا۔شاید اسکے بابا اپنی جوانی میں بہت حسین رہے ہونگے تبھی تو انکی بیٹی بےتحاشہ حسن کی مالک تھی۔

“پکا نا رات کو ایسڈیٹی تو نہیں ہوگی؟”

وہ انکی بات نظرانداز کرتے بولی تھی۔

“نہیں بلکل بھی نہیں ہوگی،اگر ہوئی تو تم سے اور قصے سن لونگا۔”

انکی بات عناء کے لبوں پہ مسکراہٹ کھلا گئی۔اسکے بابا ایسے ہی تھے جب انکا دل نہیں ہوتا تھا تو وہ سارا الزام عناء کی باتوں پہ لگادیتے۔

وہ تیزی سے کھانا کھاتے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی تھی اور پاکستان کی مشہور پولٹیکس شخصیات سے ان کی مماثلت اور خصوصیات ڈھونڈے دلہام بخت کا ایک بہترین سوال اور جواب نامہ تیار کرچکی تھی۔جو واقعی حویلی کے مُردوں کو بولنے پہ مجبور کردیتا۔

“یس عناء ڈئیر مجھے تو تم سے پیار ہوگیا ہے اوپس میں تو خود کی فیورٹ بنتی جارہی ہوں ،دل چاہتا ہے تمہارا منہ چوم لوں ۔۔اممنننہہ۔”

وہ آئینے کے سامنے ٹہری خود سے ہی اپنی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی کیونکہ کارنامہ ہی ایسا سرانجام دیا تھا۔

اپنا بہترین ورک جس میں اس دلہام بخت کے علاوہ باقی سب سیاسی شخصیات کی سیملرٹیز نکالی تھیں انہیں قوی صاحب کو میل کرتے ساتھ ہی خود کو شاباشی دیتے سوگئی تھی۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

دلہام کی آنکھ مسلسل ہوتی بیل اور کالز سے کھلی تو وہ کوفت زدہ سا اٹھ بیٹھا تھا۔

سرسری نگاہ موبائل پہ ڈالی جہاں موسیٰ کے ان گنت مسیجز تھے جن میں لاسٹ یہی تھا کہ سر ٹی ۔وی آن کریں۔

جس سرکل کا وہ حصہ تھا آئے روز کچھ نا کچھ انوکھا پراپوگنڈا ہوتا رہتا تھا جس میں وہ قطعاً انٹرسٹ نہیں رکھتا تھا۔ اسکی عادت سے واقف ہونے کے باوجود بھی موسٰی کی حرکت اسے سخت کبیدہ کرگئی۔

ٹی ۔وی آن کی جہاں کمرشلز چل رہے تھے عادت سے مجبور وائس لاؤڈ کیے وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا کیونکہ اسے نیوز دیکھنے کی عادت نہ تھی سرسری انداز میں ایک ادھ بار آنکھ ڈال لیا کرتا تھا۔

فریش ہوتے ہی وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ٹہرا بالوں میں کنگھا چلا رہا تھا جب شیشے میں ورٹیکل نظر آتی اپنی تصویر پہ چونکا تھا ۔

“یقیناً دلہام بخت کے مخالفین اس بات کو ضرور اٹھائیں گے جو شخص دو بیویوں میں انصاف نہیں کرسکا وہ بھلا عوام کے حقوق کیسے پورے کرے گا جی ڈار صاحب کیا کہنا آپکا اس بارے میں ؟”

دلہام اینکر کی آواز پہ جھٹکے سے مڑا تھا۔

“دیکھیں یہی ہمارے فیوڈرل سسٹم کی سب سے بڑی خامی ہے کہ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے ابھی صرف دو شادیاں پانچ بچے منظر عام پہ آئی ہیں جبکہ۔۔۔”

“واٹ دا بلڈی شٹ مین۔۔۔۔”

وہ سہ بار نیوز ٹاک کے نیچے لکھیں سرخیاں پڑھتے پھنکارا تھا۔

جہاں نجی اخبار کا اخبار کا حوالہ دیتے اسکی شادی،بچوں فیملی ٹرمز کے ساتھ ساتھ ایک ایگریسو پرسنالیٹی اور اپنی رعایا پہ بےجا ظلمات کی کہانی مرچ مصالحہ لگا کے شائع کی گئی تھی۔

وہ تیزی سے کمرے سے نکلتے باہر آیا تھا جہاں موسیٰ پہلے سے ہی ریڈی ٹہرا ہوا تھا۔

“کیا بکواس چل رہی ہے یہ کون ہے اس اخبار کا ایڈیٹر ؟”

اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ موسیٰ کا گربیان چاک کردے جو پیچارہ خود ہی صبح سے بوکھلایا ہوا تھا ۔

“سر انکا کہنا کہ انکی رپورٹر خود آپکے گھر آکے انٹرویو لے کے گئی ہیں اور۔۔۔۔۔۔”

موسیٰ اسے چیدہ چیدہ معلومات دینے لگا تھا جب اماں سائیں کے آنے پہ اس نے خاموشی اختیار کرلی۔

“اللّٰہ غارت کرے ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں کو لے دے کے میرے بچے کی ترقی کے پیچھے پڑگئے ہیں۔”

اماں سائیں کی بات پہ پھر سے موسیٰ کی گھوریوں سے مرمت کی گئی تو وہ نفی میں سرہلانے لگا ۔

“یہ کاہے کا مجمع اکھٹا ہوگیا صبح صبح ۔”

اماں سائیں کی بات پہ وہ چونکا تھا ۔

“سر باہر میڈیا والے آئے ہیں وہ آپکے کل کے انٹرویو کے بارے میں۔۔۔۔”

“کل میں نے کس کو انٹرویو دیا؟کیا آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا جو بجائے انہیں دفعان کرنے کے میرے سر پہ آرہے ہیں۔”

وہ زخمی شیر بنا دھاڑ رہا تھا جب باقی سب بھی اکھٹے ہونے لگے تھے ۔

“سر آپکا تردیدی بیان ضروری ہوگیا ہے ورنہ لوگ تو خوامخواہ باتیں ازیوم کرلیں گے آپکو ایک بار میڈیا کو فیس کرنا ہی پڑے گا۔”

موسیٰ کی بات پہ وہ کچھ لحظہ خاموش ہوا تھا۔

“میڈیا کو تردیدی بیان وہیں دے گا جس نے یہ خبر چھاپی ہے کیونکہ دلہام بخت لوگوں کو اپنی گواہیاں اور وضاحتیں دینے کیلئے پیدا نہیں ہوا تم ابھی مجھے اس اخبار کی ساری ڈیٹل بھیجو۔”

بنا کسی کے تاثرات دیکھے وہ اپنے کمرے میں بند ہوگیا تھا۔تھوڑی دیر میں موسٰی نے اسے تمام ڈیٹل بھیجی تو شاہانہ انداز میں لکھے جانے والا نام اسکے دماغ کی چولیں ہلا گیا ناممکن ہی تھا کہ عناء دلاور کو کوئی اسکے قہر سے بچا پاتا۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

عناء کی آنکھ کھلی تو کلاس شروع ہونے میں آدھا گھنٹہ باقی تھا۔

“اوپس کیا یار عناء تم نے اس دلہا بخت کے غم میں سارے گھوڑے گدھے بیچ دیے تھے جو مہارانی بن کے سوگئی ابھی تو جاکے لاشاری صاحب کے درشن کرنے ہیں اور انکا اسائنمنٹ؟لگ گئی نا نظر بریلنٹ اسٹوڈنٹ کو آفکورس بابا سے نظر جو نہیں اتراوئی تھی ۔”

گھر میں دو افراد ہونے کی وجہ سے عناء اکثر خود سے باتیں کرتی نظر آتی ۔

دلاور یزدانی کے کمرے میں جھانکا تو وہ اسے آرام کرتے نظر آئے تھے ۔

بنا ناشتہ کیے وہ کلاس کیلئے بھاگی لیکن آتے آتے کافی دیر ہوچکی تھی ۔

پریشان حال لوگوں کا واحد سہارا کنٹین جہاں پہ بیٹھتے دھوپ سینکنے لگی تھی جب سیل بج اٹھا تھا۔

“کیا یہ واقعی دلہام بخت کا انٹرویو ہے محترمہ؟”

قوی صاحب کے آفس سے کال آئی تھی۔

عناء نے خشک حلق کو تر کرنے کیلئے پانی پیا اور جلدی سے بولی۔

“جی جی سر قوی صاحب نے ہی تو بھیجا تھا مجھے۔”

عناء کے پریقین انداز پہ اگلا بندہ بھی اش اش کراٹھا تھا۔

“ٹھیک ہے تو اس بہترین انٹرویو کی خوشی میں آپ کل سے آفس نہ آئیے گا مس عناء دلاور۔”

دوسری طرف سے انتہائی روکھا جواب دیا گیا۔

“اوہ رئیلی تھنکیو سر مجھے تو کب سے چھٹی کی ضرورت تھی۔”

وہ حددجہ ایکسآئیٹڈ نظر آئی تھی۔

“جی بلکل اب پرمننٹ چھٹی پہ رہیں۔”

دوسری طرف سے فون رکھ دیا ۔

عناء الجھی تھی پر دوسرے ہی لمحے آنے والی سوچ اسکی سانس بند کردی گئ تھی۔

“تو کیا مجھے جاب سے نکال دیا گیا؟”

اس نے سرگوشی کے انداز میں پوچھا تھا۔

“نکال ہی دیا ہوگا محترمہ اگر دلہام بخت کی دو بیویوں اور پانچ بچوں کا سیکرٹ لیک کروگی جو کہ ایک خاندانی اور مجبوری میں کی جانے والی شادی تھی،دوسری لوو میرج حسین اتفاق سے۔”

دورید نے اسکے سامنے اخبار پھنکتے نشست سنبھالی تو وہ چونک اٹھی تھی۔

“بائے دا وے بھائی کے اتنے سیکریٹس تو ہمیں بھی نہیں پتا تھے جو تم نے بتائے۔”

دورید کا انداز صاف مذاق اڑاتا ہوا تھا۔

“ہاں تو کیا جھوٹ لکھ دیا یہ ٹیپکل فیوڈرل اور کیا کام کرتے سوائے شادیوں اور بچوں کے علاوہ بس لکھ دیا میرا دل کیا تو۔”

نوکری تو گئی سوگئی وہ دل کے پھاپھڑ کیوں نہ پھوڑتی۔

“واہ محترمہ ایسے ایسے انکشافات آپ نے دلہام بخت کیلئے دل کے کہنے پہ کیے ہیں اور ابھی زندہ ہیں مجھے حیرت ہے اور وہ کیا کہ ہر ایک کی طرح انکی آئیڈیل پرسنالیٹی انکی ماں ہیں انکی انسپائریشنل؟”

دورید کی آنکھیں لال ہونے لگی تھیں جبکہ وہ سراثبات میں ہلانے لگی تھی۔

“ہاں تو سبکی ہوتی بچپن سے تو۔۔۔۔۔”

” پر انکی نہیں ہیں۔۔۔۔۔مس عناء دلہام بھائی کی زندگی تکوں پہ نہیں حقیقت پہ چلتی ہے اور تم نے غلط بیانی سے کام لیتے خود کو پاتال میں دھکیل دیا ہے کیونکہ دلہام بخت کو زندگی میں دو چیزوں سے نفرت ہے ایک انکی ماں اور دوسرا جھوٹ سے اور انہیں دو چیزوں پہ تم نے اپنی فضالت جھاڑی ہے۔”

دورید کی آنکھوں کا سردپن اسے ایک لمحے کو سہما گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *