Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 06)
Rate this Novel
Anadil (Episode 06)
Anadil by Uzma Mujahid Novel
فارم ہاؤس کی رات عناء نے اسکے بیڈروم میں گزاری تھی جبکہ دلہام نے پوری رات اسکی موجودگی کو آس پاس محسوس کرتے جلتے ہوئے گزاری تھی۔
صبح وہ اسکے اٹھنے سے پہلے جاچکا تھا جبکہ میرن کو اسے گھر چھوڑنے کی خصوصی ہدایت بھی دی تھی۔
وہ گھر پہنچی تو دلاور یزدانی اسکا انتظار کرتے نظر آئے تھے۔
“کیا کرنا چاہ رہی ہو تم عنو دبی راکھ کو کریدنے سے ریت ہی ہاتھ آئے گی اور اگر غلطی سے کوئی جو چنگاری سلگی تو میرے بچے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ تمہیں ہی نہ زخم دے دے۔”
گھر میں آتے ہی باپ کے کڑے سوالات اسے مزید غصہ دلا رہے تھے۔
“اپنا حق لے رہی ہوں بابا ،کیوں چھپا رہا ہے وہ مجھے ،اسے دنیا کے سامنے مجھے اکسپوذ کرنا ہی ہوگا میری مصمم حثیت سے ۔”
وہ پراعتماد انداز میں کہتی کمرے میں گھسی ۔
شاور لیتے اسکے دماغ کچھ ہلکا پڑا تھا تو وہ آگے کا سوچنے لگی دلہام بخت اور بخت حویلی کے مکینوں کی پراسرار خاموشی کو توڑنے کا توڑ کررہی تھی ۔
شب وروز ایسے ہی گزرے تھے پڑھائی ختم ہوچکی تھی جبکہ جاب کی تگ ودو کا وہ سوچ رہی تھی جب ایک دن دورید کی کال پہ وہ حیران ہوئی تھی کہ دارا جان سبکے ساتھ اسکے گھر آنا چاہ رہے تھے عناء کے تو پاؤں زمین پہ نہیں ٹک رہےتھے کامیابیاں تھیں کہ سمیٹنے میں نہیں آرہی تھیں۔
“بابا کچھ دنوں میں دارا جان اور بخت حویلی کے لوگ آئیں گے ۔”
وہ انکے کمرے میں داخل ہوتے خوشیوں کی نوید لائی تھی جب کمرے میں چھایا غیر معمولی سناٹا اور دلاور یزدانی کی خاموشی اسے ٹھٹکا گئ تھی۔
“بابا “
وہ انکے کندھے پہ ہاتھ رکھتی پکارنے لگی جب انکا بےجان وجود بےتوازن سا ایک طرف کو گرنے لگا تھا جب عناء انہیں اپنی پناہ میں لینے لگی تھی۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ انکو ناشتہ کروا کے گئی تھی بےیقینی تھی کے حدسوا ۔
عناء کی آہ بکا پہ اہل محلہ اکٹھے ہوئے اور دلاور کا بےجان وجود ان سب کو اس بیچاری پہ رحم کھانے پہ مجبور کرگیا تھا ۔
ابھی اسکی ماں کو گزرے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا دوسرا آج تک کوئی بھی انکا رشتہ دار یا دوست وہاں انکے گھر آتاجاتا نہیں تھا تبھی وہ سب عناء کو لے کے بھی پریشان سے تھے۔
دلاور یزدانی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
کشف جو اسکی کلاس فیلو تھی اور اسکے ہمسائیوں میں رہتی تھی تمام کلاس آگاہ کیا تو دورید بھی انکے جنازے میں آیا تھا سوئم کے بعد وہ محلے والی خواتین اسے تنہا جانتے اسکے ساتھ رہ رہی تھیں سوئم کے بعد گھر چل دی تھیں جب دورید اسکے پاس آیا تھا۔
“عناء بی بریو یار ہمت کرو پلیز۔”
وہ اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے دلاسہ دینے لگا تو وہ ٹوٹ کے بکھری تھی ایک بار پھر وہ اپنے ماں باپ کو رودی تھی۔
دورید نے کچھ سوچتے دلہام بخت اور دارا جان کو بھی اس پہ گزرے سانحے کے متعلق آگاہ کردیا تھا۔
دارا جان ٹہرے سدا کے نرم اور دلہام کے حوالے سے بھی اسے مؤدب جانتے وہ اسکے پاس آئے تھے۔عناء باہر ان سب کے درمیان بیٹھی تھی جب دلہام گھر کے اندر غائب ہوا تھا اور کچھ دیر بعد مطمئن سا واپس آیا تھا۔
دارا جان اپنے مخصوص نرم انداز میں اس سے بات کررہے تھے جبکہ بی۔جان بھی تنقیدی نگاہوں سے اس چھوٹے سے گھر کو دیکھتے ہوئے دلہام بخت کی چوائس دیکھ رہی تھیں کیونکہ گھر میں یہی بتایا گیا تھا کہ عناء کے ساتھ دارا جان نے دلہام بخت کی پسند پہ نکاگ کروایا ہے۔
دارا جان نے اسے بخت حویلی جانے کا کہا تو نفی میں سرہلا گئی تھی۔
“میں نے کہیں نہیں جانا اپنے بابا کا گھر چھوڑ کے میں یہی رہونگی۔”
اسکی ضد پہ دلہام نے کچھ چونکتے ہوئے اسے دیکھا اس موقع پہ تو وہ کوئی گیم نہیں کھیل سکتی تھی؟
“دارا جان رہنے دیتے ہیں نا اگر یہ نہیں جانا چاہتی تو آپ انہیں فورس مت کریں۔”
دلہام نے رسانیت سے کہا تھا ۔عناء نے ایک سلگتی نگاہ اس پہ ڈالی اور رخ موڑ لیا۔
“بیٹا جی وہ بھی تو آپکا ہی گھر ہے دلہام کی دلہن ہونے کی حثیت سے۔”
بی جان بھی اپنے پرشفیق انداز میں بولی تھیں۔
عناء پھر بھی نفی میاں سر ہلا گئیں تو انہوں نے زیادہ فورس کرنا مناسب نہیں سمجھا حالات ہی کچھ ایسے تھے پر دارا جان دلہام بخت کو اسکے پاس رہنے کا کہا تھا کیونکہ شہر میں زیادہ کام اسی کے ہوتے تھے ۔
وہ باہر آتے احتجاج بلند کرگیا۔
“دارا جان میں چوبیس گھنٹے کیسے بھلا ان محترمہ کے پاس رہ سکتا ہوں اور محلے کے لوگ کیا سوچیں گے میری ایک پہچان ہے پھر ۔۔۔”
“کیوں لوگوں کو اور کوئی کام نہیں ہے تمہیں سوچنے کے علاوہ یا تو پھر اسے قائل کرلو اپنے ساتھ چلنے کیلئے عناء بچی یہاں اکیلی نہیں رہنی چاہیئے۔”
دارا جان حکم مسلط کرتے جاچکے تھے۔
“کیا مصیبت ہے یہ لڑکی۔”
ان سب کے جاتے ہی وہ بھی وہاں سے چلا گیا تھا ۔
“موسیٰ کسی مستقل عورت کا بندوبست کرو عنادل کے ساتھ رہنے کیلئے۔”
اس نے گاڑی ڈرائیو کرتے موسیٰ کو حکم دیا تھا ۔
“جی بہتر “
اور ہاں ایک گارڈ کو بھی مستقل ہائر کردو جو اسکے آنے جانے میں بھی اسکے ساتھ رہے مناسب سی جگہ دیکھوں محلے میں اور اسکیلئے گاڑی بھی مستقل ہونی چاہہئے۔”
وہ اسکیلئے تمام تر فسیلٹیز کا انتظام کرتے گویا دارا جان کے خدشات اور اعتراضات کو ختم کرنے لگا تھا۔
رات گئے وہ تنہا لیٹی تو گھر کے سناٹے اسے ہولانے لگے تھے ۔
وہ سر گھٹنوں پہ ٹکائے باہر صحن میں بیٹھی فرش پہ اپنی الجھی زندگی کی لکریں کھینچ رہی تھی جب دو قدم اسکے سامنے آرکے تھے۔

















“ایمرے اور ارینہ آرہی ہیں بھائی صاحب کے ساتھ پاکستان ۔”
بخت حویلی میں ایک پکار پڑی تو ڈیوڑھی پہ بیٹھے ہوئے شخص کی دھڑکنیں تیز ہوئی تھیں۔
ارینہ صرف نام کا ہی چاند نہ تھی بلکہ ایسی معصوم صورت جو ہمیشہ سے اسکے دل میں ایک حسین یاد کی طرح رہتی تھی۔
“کیا یہ سچ ہے بھابھی افراہیم چچا آرہے ہیں؟”
اپنی دھڑکنوں کو معتدل کرتے اس نے کچن میں کام کرتی امراؤ سے پوچھا تھا۔
“ہاں سنا تو یہی ہے کہ بخت حویلی کے بخت جاگنے والے ہیں ان سناٹوں کو چیرنے دو اپسراء اتر رہی ہیں اور وہ آہمم سنا ہے افراہیم چچا اس بار کچھ اہم کام سے آرہے ہیں۔”
امراؤ بھابھی نے شرارتی نگاہوں سے اسے دیکھتے کہا تھا۔
انکا یہ دوسرے نمبر والا دیور انہیں بےحد عزیز تھا کیونکہ شادی کے اتنے عرصے بعد بھی وہ ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھیں تو چھوٹے دونوں دیور کو اپنے بچوں کے جیسے پالا تھا اور اسکے دل کے نہاں خانوں میں گونجتے نام کی صدا سے اچھے سے آگاہ بھی تھیں۔
حویلی میں کوئی لڑکی نہ ہونے کی وجہ سے وہیں انکی بہن اور بھابھی کا کردار ادا کرتی نظر آتیں۔
رامش نے وہ رات کئی خوابوں کو بنتے گزاری تھی جب سرشام ہی دربان نے حویلی کا دروازہ کھولتے ان کلیوں کا ویلکم کیا تھا ۔
بی جان اور دارا جان تو انہیں دیکھتے ہی کھل اٹھے تھے اتنے عرصے بعد انکی آمد جہاں افراہیم کی بیوی کے بچھڑنے پہ افسردہ کررہی تھی وہیں ان کلیوں کے آنگن میں کھلنے سے ایک نئی زندگی جاگ اٹھی تھی۔
رات گئے تک محفل جمی رہی تھی جب سب ہی تھک ہار کے کمروں میں جاسوئے تھے۔
ارینہ کی کھڑکی سے کودتا ایک پتھر اسکے کمرے میں آگرا تو وہ جو سونے کیلئے لیٹنے لگی تھی حیران سی کھڑکی سے جھانکنے لگی تھی۔
سامنے ہی وہ دونوں ہاتھ سینے پہ سجائے اسے اپنی اور بلائے جارہا تھا۔ارینہ کے چہرے پہ ایک شرمگیں مسکراہٹ کھلی تھی اور اپنے گرد چادر اوڑھے وہ باہر آئی۔
“کیسا رہا سفر؟”
پہلی بات کا آغاز رامش کی طرف سے ہی ہوا تھا۔
“اچھا “
مختصر سا جواب دیتے ارینہ نے اسکی طرف مسکراہٹ اچھالی تھی۔
“آہاں سنا ہے کہ اس بار کی افراہیم چچا کی آمد کچھ خاص وجہ سے ہوئی ہے؟”
وہ اسکے سامنے رکتے ہوئے پوچھنے لگا تھا۔
“ہاں اپیا کی شادی کرنا چاہ رہے ہیں پاپا۔”
اس نے گویا اس کی انفارمیشن میں اضافہ کیا تو وہ اثبات میں سر ہلا گیا تھا۔
“اور ارینے کا کیا؟”
بھرپور شرارتی مسکراہٹ لیے وہ اسکی طرف جھکا تھا۔
“آپ نے مجھے یہاں انسوٹی گیشن کیلئے بلایا ہے؟”
وہ اسے آنکھیں دکھانے لگی تو اس کا قہقہ بےساختہ تھا۔
“نہیں اتنے عرصے بعد جی بھر کے دیکھنے کیلئے اور یہ بتانے کیلئے کہ چچا جان کو بتا دیں اسطرف سے بےفکر ہوجائیں باقی سب میں سنبھال لونگا۔”
اس نے عالم دیوانگی میں کہتے ارینہ کے گلابی رخساروں کو شہادت کی انگلی سے چھوا تو وہ سر جھکائے مسکرانے لگی تھی۔
“جانتے ہیں سب”
شرمگیں مسکراہٹ سے اعتراف ہوا تھا کیونکہ بچپن سے ہی ارینہ کیلئے اس کا سوچا جارہا تھا۔
وہ اپنے چاند کو اپنے آنگن میں کھلتا دیکھ بہت خوش تھا جب بڑوں کے فیصلے نے ان دونوں کے چہرے کی مسکراہٹ چھین لی۔















عناء نے سر اٹھائے آنے والے کو دیکھا تھا۔
“ٹھنڈ بہت ہورہی ہے کمرے میں جاکے سوجاؤ۔”
تحکم بھری آواز پہ اس نے رخ موڑ لیا۔
“کیا اب تمہارا سانس بند نہیں ہورہا اتنی دیر خاموش رہنے سے؟”
وہ جان بوجھ کے اسے چڑاتے ہوئے بولا۔
“دورید انہیں اتنی جلدی نہیں جانا چاہیئے تھا۔”
وہ سسکتی ہوئی دوبارہ گھٹنوں میں سر دے گئی تھی۔
دورید پنجوں کے بل اسکے سامنے بیٹھتے انگشت شہادت سے اسکا سر اوپر کو اٹھا گیا۔
“آئی مسڈ ہم ،وہ دونوں ہی چلے گئے دورید میرا یہاں کون ہے اب۔”
گلابی آنکھوں کو دیکھتے اسے رحم آیا تھا۔
“ہم سب ہیں نا عناء ،دلہام بھائی بہت اچھے ہیں بس اگر تم ذرا سا اپنی بیوقوفیوں پہ قابو پا لو تو۔”
دورید کی زبان پھسلی تھی عناء نے کچھ دیر اسے دیکھا اور پھر اندر کی طرف بڑھ گئی۔
دورید نے گہری سانس بھری اسے دلہام نے ارجنٹ بیسسز پہ عناء کے ساتھ رہنے کیلئے بھیجا تھا کیونکہ اتنی جلدی کوئی قابل بھروسہ عورت مل نہیں پائی تھی۔
عناء کمرے میں آئی تو خالی دیواریں دیکھتے چونکی تھی۔اسے شدت سے احساس ہوا تھا کہ دلہام بخت کے نام سے جڑنے کے بعد وہ بےنام رہنے والی تھی۔
لیکن اسے بخت حویلی میں اپنی حثیت سے جانا تھا۔
کچھ دن مزید سرکے تھے اس بیچ میں دارا جان اور کبھی کبھی حویلی کی لڑکیاں بھی اس سے ملنے آتی رہی تھیں۔
اس دن کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی دورید نہیں آیا تو خالی گھر اسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔
لیٹ نائٹ ایک پارٹی سے فراغت پاتے اس نے سیل دیکھا تو دورید کے مسیج پہ چونکا تھا جس نے اپنے شہر سے باہر جانے اور عناء کے اکیلے ہونے کا بتایا تھا۔
اسے ایک دم سے ہی اس ضدی لڑکی پہ غصہ آیا جس سے ایک حادثاتی رشتہ بن جانے کی وجہ سے سب ہی سفل کررہے تھے اور اسے پرواہ ہی نہیں تھی۔
وہ گھر آیا تو ڈیوڑھی پہ لگا دروازہ اندر سے مقفل کیا گیا تھا کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ ہمیشہ کی طرح دیوار پھلانگتے اندر آیا تھا۔
پہلے بھی کئی ایک بار وہ عناء کی الٹی روش کی وجہ سے اسطرح گھر میں گھسا تھا۔
وہ بےچین سی کروٹیں بدل رہی تھی جب ایک سائیہ سا خود پہ محسوس کرتے وہ بےساختہ چیخی تھی اور دلہام نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھتے اسکی چیخ کی آواز گھونٹی۔
“ہمیشہ جاہل رہنا تم۔”
وہ اسکے کانوں میں پھنکارا تھا۔
عناء نے اسکے ہاتھوں سے خود کو آزاد کروایا۔
“اور یہ کونسی اعلیٰ ڈگری ہے جس میں آپ لوگوں کے گھر دیواریں پھلانگتے ہوئے آجاتے ہیں؟”
وہ سرخ چہرہ لیے دلہام کے تنے نقوش دیکھنے لگی۔
“بکواس کروالو اس لڑکی جو دل چاہے۔”
“خون کا اثر ہے کہیں نا کہیں۔”
سیدھی صاف بات دلہام بخت کے دل پہ لگی تھی۔
“شٹ اپ”
وہ انگلی اٹھائے اسے وارن کرگیا۔
“یو آلسو شٹ اپ دلہام بخت ایسے رعب نہیں جھاڑ سکتے آپ مجھ پر۔”
وہ دوبدو ہوتے بولی۔
“جھاڑنا بھی نہیں چاہتا جہاں کسی کے دماغ کے پیچ ڈھیلے ہوں وہاں اثر ہی نہیں ہونا۔”
وہ اس سے فاصلہ بنائے ایک صوفہ نما کرسی پہ بیٹھتے ٹانگ پہ ٹانگ جمائے بیٹھا تھا۔
“تمہیں جلد از جلدکوئی فیصلہ لینا ہوگا بخت حویلی کی ضد تم چھوڑ چکی ہو بہت اچھا کیا ہے لیکن میں ایک چھٹانک بھر لڑکی کی خاطر یہ گھن چکر نہیں بن سکتا۔جان چھوڑو میری اور کہیں بھی شادی کرکے سکون سے زندگی گزارو۔”
“آپ کو کس نے یہ غلط فہمی ڈالی کہ میں بخت حویلی نہیں جاؤنگی ،پوری شان وشوکت سے رخصت ہو کے جاؤنگی اور باقاعدہ دلہام بخت کی دلہن بن کے۔”
وہ اپنی پرانی جون میں لوٹتی نظر آئی۔
“پچھتاؤ گی تم۔”
دلہام نے وارن کیا تھا۔
دل پر مرے ہی شاق نہیں ہے ترا فراق
خاموش ہیں چمن میں عنادل ترے بغیر ۔۔۔
عنادل کے بغیر دلہام بخت کا بھلا کیا وجود رہ جانا ہے؟”
وہ کچھ زیادہ اوور کنفیڈینٹ تھی شاید دلہام کو لے کے۔
آج تک وہ اسے ژچ کرتا آیا تھا انجان زبان میں اب کے عناء نے ڈائریکٹ لفظوں کے تیر برسائے تو وہ چہرے کے زاویے بگاڑ کے رہ گیا۔
“دلہام بخت سے جنگ عصاب کی جنگ ہے عنادل تم ہار جاؤگی۔”
اس پہ چیلنجگ آئیز گاڑی تھیں۔
“عناء دلاور ہے نام میرا کہو مینار قطب پہ لکھوا دوں۔”
ہمیشہ کی طرح تصیح کی تھی۔جبکہ دلہام کا دل کیا کہ اسکو مینار قطب کے بجائے دیوار انار کلی میں جڑا دے ۔
“کسی عظیم انسان کا قول ہے عناء ،دلہام بخت کے دل میں رہتی اور اب دل دماغ سمیت دشت کی ساتھی ہے تو اسے عنادل ہی بننا پڑے گا۔”
دلہام کی انگلیوں کی پورز اسکے رخسار کو چھورہی تھیں۔عناء کی آنکھوں سے نکلتے شعلے اسے کافی محظوظ کررہے تھے ۔
اس نے دلہام بخت کا ہاتھ جھٹکا تھا۔
“آہاں زبان لڑانے کی ذرا سی سزا تو بنتی ہے۔”
دلہام کا انداز دلبرانہ جبکہ عناء کو سراسر لوفرانہ لگ رہا تھا۔
“لو آپ کے نام کے ساتھ ایک ذرا سا مرد کیا لگ گیا آپ تو تنہا سر دنیا کو سر کرلیں آپ کا دل چاہے کسی اور کے دل پہ تیر چلائیں،چاقو چھریاں ،گولیاں تک چلائیں بلکہ جہاز چلائیں گاڑیاں چلائیں رکشے ،ٹرک سے لے کے۔۔۔۔”
عناء بولنا شروع ہوچکی تھی جب دلہام نے اسے کلائی سے تھامے اپنی طرف کیا تھا اور سختی سے ہاتھ اسکے منہ پہ جمائے۔اسکی آنکھیں باہر کو ابلتی نظر آئیں تو دلہام نے اسے رہائی دی۔
“اور ہم زبان بھی نہ چلائیں۔”
وہ باتیں جو اسکی رہ گئی تھیں وہ اس نے دلہام بخت کے سامنے مکمل ضرور کی تھیں۔
“You Are imposible girl”
دلہام کا بس نہیں چلتا تھا اسکی گردن دبا دے۔
“بہت جلد دارا جان مجھے حویلی کی بہو بناکے لے جائیں گے تب آپ کو بتاؤں گی کتنا کہ عناء امپاسبل کو پوسبل بناتی ہے کبھی غور کرو تو لفظ ام۔پوسبل خود ہی کہ دیتا ہے دیٹ آئی۔ایم پوسبل کیونکہ دیکھیں نا ہجوں کے رو سے آئی اور ایم پہلے آجاتے تو۔۔۔”
“شٹ اپ عنادل کیا یہ تم ہر وقت لفظوں اور انکی گنتی کے پیچھے پڑے رہتی ہو ؟”
رات کے اس پہر بھی وہ لڑکی دلہام بخت کو چین نہیں لینے دینے والی تھی۔
