Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 13)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

قصۂ ماضی!

‏چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر

ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو…..

دلہام نے عناء کی سوالیہ نظروں کو دیکھا جانے کیوں من کررہا تھا اس لڑکی کو آزما لے کہ وہ اسکی عمارت سے ایمپریس ہوتی یا اسے ان حالوں سے ۔

“ایک دوست ہے باہر اسی کے بےہاف پہ ڈونیشن دیا تھا میں نے۔”

دلہام نے انتہائی احتیاط سے جھوٹ بولا تھا۔

“اوہ چلیں گڈ لک ٹو یو۔”

عناء نے سر کو خفیف سی جنبش دیتے ہوئے کہا تھا۔

“ویسے کچھ عجیب نہیں لگتا اجنبی کے ساتھ سفر کرنا میری مما دیکھ لیں تو مجھے جوتے ماریں ۔”

وہ حددرجہ صاف گوئی سے بولی تھی۔

“کیوں میں کوئی وانٹڈ پرسن نہیں ہوں۔”

وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ اسے خود کو خوشقسمت سمجھنا چاہیئے کہ وہ ایک معروف ہستی کے ساتھ بیٹھی ہے پر کہہ نہیں پایا تھا۔

“ارے نہیں ویسے ہی مما لوگ ہوتے نا ایسے کانشئیس سے۔”

عناء نے فوراً وضاحت دی تھی آگے ٹریفک جام ہونے کی وجہ انہیں ٹریفک سگنل پہ رکنا پڑا تھا۔

“ایک تو ہمارے ملک کا سسٹم کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا،ہو بھی کیسے ایک سے بڑھ کے ایک کرپٹ بند ڈیموکریسی کے نام پہ اپنی جیب کو شاد آباد رکھنے میں مصروف آئی ہیٹ پاکستانی پولٹیکس اینڈ اسپیشلی۔۔۔پولٹیشنز۔”

عناء کی چلتی زبان سامنے سے گزرتے سیاسی جلوس کیلئے فراٹے بھررہی تھی۔دلہام کے چہرے پہ ایک سائیہ سا لہرایا تھا۔

“سب ایک جیسے نہیں ہوتے مس عنادل۔”

دلہام نے گلہ کھنکارتے اپنی ہی صفائی پیش کرنی چاہی تھی۔

“میں نا مانوں۔۔ویسے اس گاڑی میں میوزک نہیں ہے کیا؟”

اپنی رائے دیتی وہ بات کا رخ موڑ چکی تھی جسکا مطلب تھا کہ وہ اس ٹاپک پہ بولنا نہیں چاہتی تھی۔

دلہام دل مسوس کے رہ گیا۔

“کہاں ڈراپ کروں آپکو مس عنادل۔”

دلہام کا دل تنہائیوں کا شکار ہونے لگا تھا زندگی میں پہلی بار کوئی شخص اچھا لگا تھا ،اپنا اپنا سا اور بھی مخالف سمت کو دوڑ رہا تھا ایسے میں دل ڈوب ہی تو گیا تھا۔اسکی زندگی میں خوشیوں کی مدت اتنی کم کیوں تھی۔

“پی۔سی ہوٹل۔”

عناء نے کہتے ساتھ اپنے بیگ میں جھانکنا شروع کردیا تھا۔دلہام کے جسم میں ایک ناگواری کی لہر دوڑی تھی۔

“کیوں؟”

اسے اس سوال کا حق نہیں تھا لیکن پھر بھی پوچھ لیا۔

“کیا مطلب کیوں؟آفکورس وہاں میری جاب ہے۔”

عناء نے آرام سے جواب دیا تو دلہام کو دھچکا سا لگا تھا وہ اٹھارہ سال کی بمشکل تھی اور اسے بھلا کیا ضرورت پڑی تھی جاب کی جتنا کے وہ اسے جان پایا تھا وہ اسے اچھی فیملی کی لگ رہی تِھی۔

آج وہ لڑکی اسے ذہنی دباؤ کا ہی شکار رکھنا چاہتی تھی وہ خاموش سا اسکے مطلوبہ مقام تک پہنچاتے ہوئے گاڑی روک گیا۔

“شکریہ آپ نے میری اتنی مدد کی۔”

وہ ہاتھ میں دو سرخ نوٹ لیے اسکی طرف بڑھاتے بولی۔وہ لڑکی کیا تھی؟وہ سمجھ نہیں پارہا تھا۔

“یہ کس لیے میں آپکو کوئی ٹیکسی ڈرائیور نظر آرہا ہوں؟”

دلہام کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔

“نہیں بلکل بھی نہیں لیکن آپ نے یہاں تک آنے کیلئے گاڑی کا پیٹرول تو ضائع کیا ہے نا ویسے بھی یہ آپکے دوست کی گاڑی ہے اچھا نہیں لگتا میری مما کہتی ہیں انسان کو کسی کا احسان نہیں لینا چاہیئے۔”

وہ اجنبیت کی دیواریں کھڑی کرتی ڈیش بورڈ پہ کرایہ رکھتے ہوئے جاچکی تِھی۔

دلہام نے ضبط سے مٹھیاں بھینچے اسٹیر پہ ماری کوئی شیشہ بجا رہا تھا اس نے چونک کے دیکھا ایک بچہ بھیک کیلئے ہاتھ بڑھا رہا تھا اس نے ایک نظر عناء کے دیے پیسوں پہ ڈالی اور پھر اپنا وولٹ نکالتے اس میں سے کچھ پیسے اس بچے کو دیتے ہوئے عناء کے دیے پیسے اپنے وولٹ میں سنبھال کے رکھ چکا تھا۔

اسے خوددار لوگ بہت پسند تھے پر اسے عناء کی خودداری پسند نہیں آئی تھی۔

کتنے دن وہ جلتے کڑھتے ہوئے صرف اسے ہی سوچتا رہا تھا جب ایک دن دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے وہ پی۔سی۔ہوٹل آیا تھا سامنے ہی وہ ویٹر کے ساتھ گھومتے ایک ایک سے حال احوال جیسے دریافت کرتی پھررہی تھی۔

ایک طرف خاموش کونے میں بیٹھے تقریباً وہ اسے اسکی ڈیوٹی مکمل ہونے تک دیکھنے کا شغل کرتا رہا تھا اس دوران اسکا سیل بج بج کے تھک چکا تھا پر اسے کوئی پرواہ ہی نہیں تھی وہ باہر نکلی تو کوئی تیزی سے اسے بازو سے پکڑتے اپنے ساتھ گھسیٹنے لگا تھا وہ جو سخت بےہیو کرنے والی تھی دلہام کو دیکھتے چونکی تھی۔

“یہ کیا حرکت ہے مسٹر دلہام۔”

لوگوں کو اپنی طرف گھورتے پا کے وہ چلائی تھی پر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی اور اسے گھسیٹتے ہوئے گاڑی میں لاڈالا تھا وہ اسکے سپاٹ تیوروں پہ شدید احتجاج برپا کرنے لگی تھی۔

“آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے دلہام بخت۔”

وہ چلائی تھی۔

“کیپ کوائٹ مس عنادل۔”

کتنی دیر وہ بےوجہ روڈ پہ گاڑی دوڑاتا رہا تھا جبکہ عنادل کے ہونے کے باوجود بھی خاموشی ہی چھائی تھی کافی دیر اپنا غصہ نکالنے کے بعد وہ اسے سی ویو پہ لایا تھا۔

“اگر آپ مجھے ایسی ویسی لڑکی سمجھ رہے ہیں تو بہت بڑی غلطی کا شکار ہیں میری جاب کی ٹائمنگ کی فکر نہ ہوتی تو میں اس دن گاڑی میںنا بیٹھتی اور شاید نہ ہی آپکی اتنی جرات ہوتی۔”

دلہام کی بے ساختہ سی نظر اس پہ پڑی تھی۔

“سوری میں روڈ نہیں ہونا چاہتا تھا۔”

دلہام نرم پڑا تھا دل کے معمالے ایسے نا سلجھائے جاتے تھے وہ دیوانہ ہوا تھا عناء تو انجان تھی۔

“آپ روڈ ہیں۔”

وہ اسکی تصیح کرگئی۔

“سوری بولا تو ہے۔۔۔”

“مجھے گاڑی سے اترنا ہے۔”

“میری بات سنے بغیر یہاں سے نہیں جاسکتی عنادل۔”

“عناء دلاور ہوں میں۔”

اب کے اس نے دلہام پہ نظریں گاڑی تھیں۔

“کیا تم مجھے ان پلکوں کو چھونے کا حق دے سکتی ہو؟”

بات آپ سے تم اور پھر حق کی ہوئی تھی عناء بےطرح چونکی۔

“کیامطلب ہے اس بات کا؟”

آنکھوں کے ساتھ تل نے سوالیہ نشان اٹھایا۔

“وہیں جو تم سمجھ رہی ہو عنادل میں بہت پریکٹکل سا بندہ ہوں ،اور اپنے جذبات میں بھی اتنا ہی کھرا تو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم مجھ سے شادی کروگی؟”

سیدھا سا سوال تھا پر عناء کو زبرفست جھٹکا لگا تھا۔

“آپ ہوش میں تو ہیں مسٹر دلہام بخت۔”

وہ زرا کے اسکی طرف جھکتے گویا اسکے ڈرنک ہونے کے خدشے کو محسوس کرنا چاہا۔

“میں ڈرنک نہیں کرتا عنادل”

متبسم انداز نے بھاری آواز اپنائی تھی۔

“میرے پاس آپکے فضول سوال کا جواب نہیں ہے کوئی بھی سڑک چھاپ اٹھ کے عناء دلاور کو پرپوز کرے گا تو کیا وہ ایکسپٹ کرلے گی؟”

دلہام نے نوٹ کیا کہ وہ جب غصہ کرتی ہے اسکے نوز کی پیک سرخ پڑجاتی تھی۔

“تمہاری نوز غصے میں بہت پیاری لگتی ہے انفیکٹ غصہ تم پہ سوٹ کرتا ہے۔”

وہ ایزی سا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔

“ہوگیا آپکا چلیں اب؟”

عناء نے بنا اسکی بات کو نوٹس کیے کہا تھا۔

“تمہارے پاس وقت ہے سوچ لو۔”

بےساختہ ہی اسکی انگلیاں عناء کے رخساروں کو چھوگئیں اور عناء کا ہاتھ اسکے رخسار کو لیکن نرمی سے نہیں۔

دلہام کا چہرہ سرخ پڑا تھا ۔گاڑی تیزی سے واپس بھگاتے وہ اسے وہیں چھوڑ گیا تھا جہاں سے پک کیا تھا۔

دلہام بخت کو عناء دلاور سے تھپڑ پڑا تھا وہ بھی اپنی بےاختیار سی حرکت کی وجہ سے وہ پریشان سا الجھا سا تھا۔

اسے اپنی پسندیدہ شے سے دسبتردار ہونا اتنا آسان نہیں لگا تھا وہ بار بار محبوب کی چوکھٹ پہ چلا آتا تھا۔

ایسے ہی ایک دن وہ پھر سے وہاں جا پہنچا تھا اسے پتا چلا تھا کہ عناء اپنی اسٹڈی چھوڑ چکی ہے اسیلئے وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا جب سامنے کا منظر اسکا دماغ گھما گیا تھا۔

گرین پلانٹس سے کچھ شرارتی لڑکی مکھی اٹھا کے بار بار سرونگ ڈش میں ڈالتے اسے کمپلین کررہے تھے اور وہ بار بار وضاحتیں پیش کررہی تھی لیکن کب تک وہ عناء دلاور تھی۔

“سر میں آپ سے اس چیز کیلۃے معذرت کررہی ہوں لیکن بار بار آپکی ڈش کا فالٹ۔۔۔”

“تو میں کیا بکواس کررہی ہوں سالی تجھے نظر نہیں آتا۔”

وہ کوئی امیر زادہ تھا جو شاید ڈرنک بھی تھا۔

“بےہیو یور سیلف سر میں آپ سے عزت۔۔”

“چٹاخ۔۔۔۔توں دے گی عالمگیر شاہ کو عزت دو کوڑی کی ویٹرس۔”

عناء کی زبان پہ سامنے والے کے تھپڑ نے قفل ڈالے تھے۔اسے محسوس ہوئی تھی دلہام کی تکلیف جو اس نے بھی دلہام کو تھپڑ کی صورت میں دی تھی۔

ابھی پلکوں پہ آنسو آجمے تھے جب سامنے موجود شخص کو تیزی سے ٹیبل پہ پٹخا گیا تھا دوسرے ہی لمحے وہ اسکا گربیان پکڑے باہر کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔

عناء ہوش میں آئی تو اسکے پیچھے بھاگی تھی۔دلہام کا ریکشن اسکی جاب داؤ پہ لگا سکتا تِھا۔

“یہ آپ کیا کررہے ہیں دلہام بخت چھوڑیں اسے میرے معمالات سے دور رہیں آپ میں۔۔۔”

“تم سے میں بعد نبٹوں گا۔”

وہ ڈیڑھ پسلی لڑکا آہ بکا کررہا تھا جبکہ دلہام کے پیچھے کئی ایک لوگ دوڑ رہےتھے جن میں اس لڑکے کے دوست بھی تھے۔

“موسیٰ مجھے ارجنٹلی ملوں ۔۔۔۔”

دلہام کا ہاتھ تیزی سے مسیج ٹائپ کررہے تھے ۔دلہام کے باہر آنے تک ایک بلیک مرسڈیز ریڈی کھڑی تھی ۔

وہ دوست جو اپنے دوست کی مدد کو آرہےتھے تین دیوہیکل آدمی ان چاروں لڑکوں کو گاڑی میں ڈال چکے تھے۔

“یہ آپ اچھا نہیں کررہے دلہام بخت۔”

اپنا کام انجام دیتے اس نے ہاتھ جھاڑے تھے۔دلہام نے ایک نظر اس پہ ڈالی جسکا لال رخسار دہکتا ہوا معلوم ہوا تھا۔دلہام کی انگلیاں ایک بار پھر سے ان رخساروں سے لالی چننے پہ۔مضر نظر آئی تھیں۔عناء بت بنی ٹہری تھی۔جب دلہام نے نرمی سے اسکا ہاتھ تھاما اور گاڑی میں بٹھاتے اسے اس مقام تک لایا تھا جہاں وہ لڑکے لائے گئے تھے۔عناء کی آنکھوں میں شدید خوف کی لہر دوڑی تھی۔

ان لڑکوں کو اپنے سامنے دیکھتے وہ ایک بار پھر سے دلہام کو دیکھنے لگی تھی۔

دلہام کی آنکھیں صرف اس شخص پہ ٹکی تھیں جس نے عناء پہ ہاتھ اٹھایا تھا۔اسکی آنکھ کا اشارہ سمجھتے باقی لڑکوں سمیت وہاں سے سب غائب ہوگئے تھے جب دلہام کا ایک زوردار تھپڑ اس لڑکے کے چہرے پہ پڑا تھا۔

“تم نے میری عنادل کو تھپڑ مارا بھی تو کیسے؟”

اب کے اسکا گربیان دلہام کے ہاتھ میں تھا۔

“سس۔۔سوری سر وہ۔۔”

اگلا منظر عناء کا دل بند کرنے لگا تھا ساتھ میں لڑکے کا بھی شاید جب دلہام نے جیب سے چاقو نکالتے اسکے ہتھیلیوں میں میں کراس کے نشان بنائے تھے۔

عناء خون کو دیکھتے سہمی تھی اور آنکھیں بند کیے رخ موڑ لیا تھا۔دلہام بہت سکون سے اپنا کام انجام دیتے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

ایک نظر درد سے چلاتے لڑکے پہ ڈالنے کے بعد عماء پہ ڈالی اور اپنے بھاری مضبوط ہاتھوں میں اسے جکڑے اپنے ساتھ باہر لایا تھا۔

“آپ انسان نہیں ہیں۔”

اسکی قربت محسوس کرتے وہ اسکی گرفت سے نکلنے کو مچلی تھی۔

“بلکل تمہارے معمالے میں ،میں حددرجہ پوزیسو ہوں اور یہ شخص روز ہی ایسے درد سہے گا جیسے اس نے میری عنادل کو دیا ہے۔”

تسلط جماتے شخص کو دیکھتے عناء ٹھٹکی تھی۔

“میں آپکی نہیں ہوں۔”

عناء نے احتجاج بلند کیا تھا۔

“یو آر اونلی مائن عنادل ۔”

دلہام کی آنکھوں میں سخت تنبہیہ تھی۔وہ گم صم سی ہوئی تھی جب اپنی پیشانی پہ دہکتے لمس نے اسے ہوش میں لایا ۔

“آج کے بعد تم ہوٹل میں جاب نہیں کروگی۔”

وہ تحکم بھرے انداز میں بولا تھا۔

“میں آپکی پابند نہیں ہوں۔”

وہ روگردانی دکھاتے پیچھے ہٹی تِھی۔

“لیکن آج سے ہو اتنی کہ تمہیں سانس بھی مجھ سے پوچھ کے لینی ہوگی۔”

وہ سمجھ نہیں پائی کہ وہ شخص سنجیدہ ہے یا مذاق کررہا ہے لیکن وہ حددرجہ سمجیدہ تھا اتنا کہ آنے والے دنوں میں روح بن کے عناء کے ساتھ گردش کرنے لگا تھا اور وہ بھی آہستہ آہستہ اسکی عادی ہوتی ہوتی جارہی تھی۔کب وہ دونوں محبت کے اٹوٹ بندھن میں بندھے ایک دوسرے سے خاموش عہدوپیمان باندھنے لگے تھے پتا ہی نہیں چلا۔

وہ ایک آئیڈل پرسن اور دوست تھا اور اسی دانست میں اس نے عناء پہ اپنی ذات کے سارے راز منکشف کیے تھے کیونکہ وہ اس سے الگ نہیں تھی۔

دلہام کی تنہائیوں اور محرومیوں کو محسوس کرتی عناء کی جان بسنے لگی تھی دلہام میں اور جب انکی خوشیوں کو اپنی ہی نظر لگ گئی تھی۔

ارینہ نے اسے پہلی بار الیکشن کمیشن کے آفس میں ہی دیکھا تھا جہاں وہ اپنے حلقے سے لڑنے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے آیا تھا ۔پہلی نظر میں اس پہ شاہ بخت کا گمان ہوا تھا لیکن وہ شاہ بخت نہیں تھا۔

“ایکسکیوزمی میم وئیر ٹو سائن اٹ۔”

بھاری خوشبوؤں بھرا لہجہ ارینہ کو سانس لینے میں دشواری ہوئی تھی وہ وہاں سینئر کلرک مسسز دلاور یزدانی کے نام سے جانی جاتی تھیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک لمبا عرصہ کینسر جیسے موذی مرض کے ساتھ لڑتے ہوئے گزارا تھا اور نڈھال سی نظرآتی تھیں۔ارینہ نے ایک نظر اسکے سبمٹ کیے گئے ڈاکومینٹس پہ ڈالی اور چند ایک سرکاری مہریں لگاتے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔

“سو کن آئی گو؟”

دلہام نے ابرو اچکائے سام ے موجود حجاب میں ملبوس عورت سے پوچھا تھا جنہوں نے ایاے ہی سرجھکائے خفیف سا اشارہ کرتے اسے جانے کا اشارہ کیا اور وہ وہیں بھرپور مردانہ وجاہت لیے اپنی ازل اکڑو چال چلتے وہاں سے نکل گیا تھا۔

“یہ دلہام بخت مرحوم شاہ بخت کا بیٹا بلکل باپ کا پرتو رحمدل سا لیکن جو اسے نہیں جانتے وہ اسے کسی گہرے راز کے جیسے سمجھتے ہیں۔”

کوئی شخص وہاں دلہام کے بارے میں کسی کو بتا رہا تھا۔

ارینہ کے دماغ کی سوئی مرحوم شاہ بخت پہ اٹکی تھی۔

اس دن وہ اسے ہاسپٹائلز کروانے کے بعد مڑ کے ہی نہیں آیا تھا۔

وہ ایک ہی تو تھا جسے ارینہ کی پارسائی پہ یقین تھا کچھ لمحے ایمرے کی چال کا اثر رہا تھا لیکن کڑی سے کڑی جوڑتے ان پہ منکشف ہوا تھا کہ گھر میں تو کوئی بِھی انکے دوست کی آمد سے آگاہ نہیں تھا اور پھر انیکسی کی جانب بڑھتا سائیہ ایمرے کو بارش میں کیسے دکھا تھا ان گنت سوالوں کے جواب جواب وہ جو ایمرے سے نہ پوچھ سکے انہیں ارینہ سے مل گئے تھے اور پیشمان سے اسکی مدد کرنا چاہتے تھے پر آج یہ راز بھی کھلا وہ جو لازم بےوفائی کا الزام اس شخص پہ دھرتی آئی تھی وہ تو دنیا میں ہی نہیں تھا پر کیسے؟

سامنے پڑے سسٹم پہ گوگل کرتے وہ شاہ بخت کو سرچ کرنے لگی تھیں سامنے ہی انکی موت کی وجہ سیڑھیوں سے گرکے جاں بحق ہونے کی بتائی گئی تھی۔

دل تھا کہ اس ابدی جدائی پہ پریشان ہواٹھا۔دل کی حالت نے انہیں اتنا مضطرب کیا کہ ماضی کے زخم ایک بار پھر بستر مئرگ پہ لے گئے۔

وہ عناء کے ساتھ لنچ کررہا تھا جب اسکے پرسنل سیل پہ کسی کی کال آئی تھی جو اسکی کسی عزیزہ کی معرفت سے کی جارہی تھی اور نام سنتے اسکے ماتھے پہ کئی بل پڑے تھے وہ عناء کو ڈراپ کرتے ہاسپٹل پہنچا تھا وہیں عناء کو دلاور یزدانی سے ارینہ کی طبیعت کا پتا چلا تو وہ بھی ہاسپٹل پہنچی تھی۔

سامنے کا منظر اسکے قدم روک گیا تھا جہاں پیٹھ کیے ہوئے شخص کے سامنے ہاتھ جوڑے ارینہ اپنی بیٹی کے مستقبل کی پریشانی اسکے سر لگانا چاہتی تھیں۔

ایک وہ عورت جس سے بےانتہا نفرت تھی بھلا وہ کیسے اسکی بیٹی کو اپنا سکتا تھا اور وہ بھی اسوقت جب وہ کسی سے وعدوں کی ڈور میں جکڑا تھا ۔

عناء نہیں جانتی تھی کہ وہاں کیا گفتگو ہورہی ہے پر اسے اس شخص کے سامنے اپنی ماں کے جڑے ہاتھ پسند نہیں آئے وہ اندر جانا چاہتی تھی جب ڈاکٹر نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روکا تھا۔

“میم ایک وقت میں ایک ہی وزیٹر الاؤ ہے آپ ویٹ کریں۔”

“لیکن وہ میری مما ہیں۔”

عناء نے غصے سے بولی تھی۔

“اور میم یہ ہاسپٹل ہے سینئر ڈاکٹر کو اسکی بات پسند نہیں آئی تھی وہ پاؤں پٹختے ایک طرف سر جھکائے بیٹھی تھی جب وہ بنا کسی طرف دیکھے باہر نکل گیا تھا۔

“میم آپ جاسکتی ہیں ۔”

نرس نے اسے کہا تو وہ بھاگتے ہوئے اندر آئی تھی۔

“مما وہ ۔۔۔”

“عنو اگر آج تمہار ماں تم سے کچھ مانگے تو کیا تم اسے دوگی؟”

ارینہ کی بات پہ وہ حیران سی انکا چہرہ دیکھنے لگی تھی۔

“کچھ دیر میں تمہارا نکاح ہے وہ نکاح خواں کو لے کے آتا ہی ہوگا ،وہ کون ہے تم جان جاؤ گی جب میری الماری کے نچلے خانے سے میری قسمت جیسے سیاہ رنگ کی ڈائری کو اٹھا کے اپنی ماں کی ذات کے راز پاؤ گی وہ سچ جو زندگی بھر تم سے چھپائے گئے ہیں ۔۔۔لیکن انکارمت کرنا۔”

ارینہ نے اپنی بیٹی کے چہرے کو دیکھا جہاں ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا جارہا تھا۔

“لیکن مما۔۔۔”

عناء کی بولتی اندر آتے ایک بزرگ کو دیکھتے بند ہوئی تھی اسکی نگاہ ماں کی طرف اٹھی جہاں منت بھرے ہاتھ اٹھے تو وہ بےاختیار ہی انہیں تھام گئی تھی۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ اس بزرگ نے اس سے کیا پوچھا تھا کیا نہیں لیکن اسے اتنا یاد تھا کہ اسکے جسم کو چیر کے روح نکالی گئی تھی کیونکہ اسے محبت کی قربانی دینی پڑی تھی۔

وہ سرجھکائے وہ آنسو چھپا رہی تھی جو اسے ماں کو نہیں دکھانے تھے جب دروازہ کھولے کوئی شخص اندر آیا تھا۔

عناء نے سر اٹھائے آنے والے کو دیکھا تھا پاؤں زمین میں جکڑے گئے تھے وہ اتنی جلدی آپہنچا تھا اس سے بیوفائی کا حساب لینے عناء نے لب کھولنے چاہے تھے جب آنے والے کے پاؤں عناء کو دیکھتے منجمند ہوئے تھے۔

کیا یہ کوئی مذاق تھا؟

کوئی حساب تھا؟

یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ جو خود سے عہدوپیمان کیے اس مرتی ہوئی عورت کی آخری سانس کے بعد اس زبردستی کے تعلق سے جان چھڑانا چاہتا تھا اسی میں جکڑا گیا تھا اسے عناء دلاور اسکی عنادل کے نکاح میں باندھا گیا تھا۔

وہ جس سے اسے نفرت کرنی تھی سوچ سمجھ کر وہ پاگل پن اختیار کیے اسے جنون کی حد تک عشق کربیٹھا تھا کیونکہ وہ واحد شخص تھی جس نے دلہام کی پسند جاننا چاہی تھی۔اس نے دلہام بخت کو مقام دیا تھا اور دلہام بخت نے اسے دل کے اونچے مسند پہ بٹھایا تھا۔

وہ یقین نہیں کرنا چاہتا تھا کہ جس سے بنا سوچے سمجھے محبت کی تھی اس سے سوچ سمجھ کے نفرت کرنے والا تھا

۔وہ ارینہ کی بیٹی سے اپنے حساب لینے والا تھا۔

“مما یہ دلہا۔۔۔۔”

“یہ دلہام بخت ہے تمہارا دلہا۔”

ارینہ کی آواز نے ماحول میں چھائی پراسراریت کم کی تھی۔عناء کے ہوش اڑے تھے کیا دعائیں ایسے بھی قبول ہوجایا کرتی ہیں وہ بات ،وہ اعتراض جو شاید اسکے ماں باپ دلہام کے وجود پہ کرتے وہ مقبول ہوگئے تھے پر ایسے کیسے اور کیونکر یہ جاننے کی چاہ کہاں تھی اسے تو دلہام بخت مل گیا تھا۔

اس دن ارینہ اسے زندگی دے کے مرگئی اور دلہام بخت اسکی آخری رسوم میں نہیں آیا کیوں؟

اس رات وہ سوال اٹھے ان سوالوں کے جواب کیا اس سیاہ ڈائری میں تھے جنہیں لینے وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور ماں کے ماضی کے ہرورک کو پلٹتے وہ اپنے ماضی کا ہر قرطاس دفن کرتی گئی تھی وہ دلہام کو دل میں رکھنی والی عناء سوچوں کی نفرت میں رکھنے لگی تھی ۔

وہ عناء دلاور نہیں تھی وہ بخت حویلی کے مکینوں کی نشانی تھی جسے بخت حویلی والوں کے سپرد کیے اسکی ماں منوں مٹی تلے جاسوئی تھی۔

اسے مضبوط بننا تھا سیلف اسٹڈی کرتے وہ بہت کچھ بننا چاہ رہی تھی لیکن وہ بن نہ پائی اور وقت اسے بخت حویلی کی دہلیز پہ لے آیا تھا جہاں اسوقت وہ دلہام بخت کی بیوی کی حثیت سے اپنا ریسپشن اٹینڈ کررہی تھی۔

لیکن اسے دلہام بخت کی بیوی نہیں بننا تھا اسے بخت حویلی والوں پہ اپنی اصلی حثیت واضع کرتے ماں کو بےگناہ ثابت کرنا تھا جو دلہام بخت کے ہوتے ناممکن سا لگ رہا تھا۔

وہ عناء جو دلہام کے دل میں رہتی تھی اب صرف اسکے کمرے میں رہ رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *