Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 09)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

“ارے دلہام بیٹا یہ تو کافی گہرا زخم ہے ۔”

مما کی آواز پہ عناء سمیت وہ دونوں بھی دلہام کے ہاتھ کی طرف دیکھنے لگی تھیں جہاں سے الرجی کی وجہ سے ریڈش مزید بڑھ چکی تھی جبکہ زخم بھی کافی گہرا تھا۔عناء کا لکھا ہوا ایک حرف بھی نظر نہیں آرہا تھا ایسے لگ رہا تھا جیسے بڑی فرصت سے بیٹھے ان لفظوں کو کھرچ دیا گیا تھا۔

عناء کی آنکھوں میں حیرت تھی تو رمز اور پریہان کا شرمندگی کے مارے برا حال تھا۔عناء نے بےساختہ نظر موبائل پہ کی تھی جہاں پہ اس نے دلہام کے ہاتھوں پہ

مہندی لگانے کے بعد تصویریں کھینچ رکھی تھیں۔

دلہام نے اسکی حالت دیکھتے ہاتھ بڑھائے سیل لیا اور تصویر ریمو کردی۔

عناء نے سر جھکا لیا تھا جو کہ یہ بازی ہار جانے کا واضع اعلان تھا۔

اسکے زخم کو رستے اپنے نام سے نفرت کی انتہا جو دیکھی تھی۔

مما جان دلہام کو وہاں سے اٹھا کے لے گئی تھیں اسکی طبیعت سے واقفیت جو تھی۔

“آخر لگا کیسے یہ زخم۔”

وہ اسکے ہاتھ کی ڈریسنگ کرنے لگیں تو دلہام نے انہیں روک دیا اور موسیٰ کو کرتے فوراً اندر آنے کا ساتھ میں اسکی میڈیسن بھی۔

“سب اتنے حیران جو ہیں کہ دلہام اور عناء کا جوڑ اتنا پیارا اور پریفکٹ سا بن گیا ہے نظر تو لگنی ہی تھی۔”

موسیٰ کو ڈریسنگ کرتے دیکھ وہ اسکیلئے میڈیسن نکال رہی تھیں۔

“مما آپ لوگوں نے خواہ مخواہ کی رسموں کا گھڑاک پالا ہے آپ جانتی بھی ہیں یہ دن میرے لیے کتنے امپورٹنٹ ہیں۔”

وہ حد درجہ بیزاریت کا مظاہرہ کرتے بولا تھا۔

“اے لو ایسے کیسے گھڑاک ہمارے بچے کی شادی ہے ہم تو ہر ہر رسم میں بڑھ چڑھ کے حصّہ لیں گے اور دنیا بھی تو دیکھے اپنے طبقے کے لوگوں کو دیکھا ہے کیسے نمائش کرتے شادی کرتے ہیں اور تم نے اتنے کم لوگوں کو انوائیٹ کرنے دیا ہے۔”

مما نے باتوں ہی باتوں میں خوب اسکی کلاس لے لی تھی۔

“اوہو کیسے ہیں بھائی آپ مجھے ابھی رمز نے بتایا ہے کہ عناء بیوقوفی کی وجہ سے۔۔۔۔”

دورید جو فل آن زبان چلاتے آیا تھا ماں کو دیکھتے زبان پہ بریک لگے تھے۔

“کیا،کیا ہے عناء نے؟”

ماں کا ماتھا ٹھنکا تو دلہام کی گھوریاں ملیں۔

“وہ یہ ۔۔وہ مطلب کے بھائی کو الرجی ہے ریڈ روزز سے تو وہ اس نے کچھ پتا نہیں شاید ایسا کچھ کہا تھا۔”

دورید نے بوکھلاہٹ میں الٹے سیدھے ہاتھ پاؤں مارتے بات مکمل کی تھی۔

“لو اس بچی کو بھلا کیا معلوم کہ دلہام کے کیا عادات وخصائل ہیں دورید تم نے باہر کے انتظامات دیکھے ہیں ؟”

“جی مما آل از اوکے۔”

دورید نے فوراً سے جواب دیا تھا۔

“ٹھیک ہے پھر موسیٰ اور تم زنان خانے میں کھانے کا بندوبست کرواؤ اور اپنی موجودگی میں سرونگ کروانا مجھے ان لڑکیوں پہ زرا بھی اعتبار نہیں ہے کہ یہ کوئی کام احسن طریقے سے کریں ،چلو بیٹا اب میں خواتین کو منع کردونگی مزید کوئی رسم کریں گی تو عناء تک ہی ہوگی۔”

مما نے آل ان ون آرڈر ریپلیس کیے تو اسے انکی خاطر ماننا پڑا تھا۔

عناء نے اسے آتا دیکھا تو مزید کوئی شرارت اور پنگا لینے سے گریز کیا تھا۔

“یہ تو ٹیزر تھا اگر تم نے مجھے ٹارچر کرنا بند نہ کیا تو اسکے بدلے میں جو ہوگا تم سوچ سکتی ہو۔”

دلہام نے حاظرین پہ سر سری سی نگاہ دوڑاتے مبہم آواز میں عناء کو کہا تھا تو اس نے گلابی ہونٹوں کو سختی سے بھینچ لیا تھا۔

“بہتر یہی ہے نا کہ تم میرے راز رکھو اور میں تمہارے۔”

اب کے دلہام نے بنا کسی کی پرواہ کیے اسکا ہاتھ تھامے آہستگی سے لبوں سے لگایا تو وہ ساکن رہ گئی تھی۔

اپنا مومی ہاتھ اسکے جلادی ہاتھوں سے چھڑانا چاہا پر گرفت سخت تھی۔

“اوہوں سرعام رومینس ۔”

دورید نے بھائی کو چھیڑا تو اسکا قہقہ بلند ہوا۔

“ہم سفر من چاہا ہوتو بڑے بڑے تیس مار خان بھی سرینڈر کردیتے ہیں۔”

دورید کی کزن نے بھی پھلجھڑی چھوڑی کیونکہ تقریباً سب یہی جانتے تھے کہ عناء دلہام کی چوائس ہے۔

“من پسند ہمسفر کو تو ہم تنہائی میں بتائیں گے اپنی محنت کی انتہا۔”

دلہام نے زخمی ہاتھ سے ہی اسکا ہاتھ دبایا تھا جبکہ خون کی ایک پتلی سی لکیر دلہام کی پٹی پہ پھر سے نمودار ہوئی تھی۔وہ اسکی شخص کی جنونیت سے خائف ہوئی تھی۔

مہمان کھانا کھانے لگے تو وہ رمز اور پریہان کے ہمراہ اپنے روم میں آئی تھی جبکہ وہ اسے چھوڑتے ہی چلی گئیں۔

دماغ کی نسیں بری طرح پھٹنے لگی تھیں۔

اپنے جلد بازی میں لیے گئے فیصلوں کی سنگینی کا احساس ہورہا تھا وہ جانتی تھی کہ دلہام بخت اسے چاہے گا تو چیونٹی کی طرح مسل سکتا ہے ۔

وہ بےچین سی کمرے میں ٹہل رہی تھی اسے یہ شادی نہیں کرنی چاہہئے تھی۔

وقت تو ابھی بھی اسکے پاس تھا کچھ سوچتے اس نے ہینڈ کیری میں اپنا سامان سمیٹا تھا وہ جانتی تھی کہ اسکا یہ قدم حویلی والوں کی بدنامی کو باعث بنے گا پر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

بخت حویلی میں ارینہ کی اجاڑ زندگی کو لیے اداسی چھائی تھی جب عدت کے دوران ہی یہ انکشاف ہو کہ وہ منیب بخت کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔

ادھر ایمرے کو ارینہ کے لوٹ آنے سے عجیب سی بےچینی اور انسکیورٹی کا احساس ہوتا تھا۔عدت کی مدت پوری کیے اس نے جیسے ہی سب کے درمیان اٹھنا بیٹھنا شروع کردیا تو ایمرے کی نگاہیں ہر وقت اسی کی کھوج میں رہتیں۔

بی جان کی ارینہ کیلئے صدقے واری ہوتی محبت ،بڑی بھابھی کا اسکے آگے پیچھے گھومنا بڑے بھا سے لے کے شاہ بخت سمیت اس سے چھوٹے بھائی کا ارینہ کیلئے کنسرن اسے مینٹلی ٹارچر لگتا تھا اور اس سب میں وہ دلہام کو مسلسل اگنور کیے شاہ بخت سے لڑائی کا ایک نیا نقطہ نکالے بیٹھی ہوتی۔

“خدا کا نام لو ایمرے وہ تمہاری بہن ہے اسکی اولاد دنیا میں آنے سے پہلے یتم ہوگئی ہے تو کیا تمہیں نہیں لگتا ہم سب کو اس سے ہمدردی دکھانی چاہیئے؟”

شاہ بخت ایک دن اس سے دوٹوک بات کرنے کا فیصلہ کر بیٹھے تھے۔

“ہمدردی یا پھر سوئی ہوئی محبتیں بیدار کرنے کا تمہیں بتا دوں کہ وہ میری سگی ہی بہن ہے اور اس سے نکاح تم میرے مرنے پہ ہی کرسکتے ہو۔”

ایمرے دھاڑی تو شاہ بخت اپنے ہاتھ کو اٹھنے سے نہیں روک سکے تھے۔

“تم نے مجھے اس لڑکی کی وجہ سے مارا ہے جس دن سے وہ یہاں آئی ہے تم ہمیں پوچھتے نہیں ہو تمہیں ہماری ضرورتوں سے زیادہ ارینہ کی فکر کھائے رکھتی ہے ۔”

وہ اسکا گربیان تھامے بھرپور انداز میں احتجاج کرنے لگی تھی جبکہ دلہام سہما سا ایک طرف ہوگیا ۔

اسکے ماں باپ کے درمیان ہمیشہ سے ہی جھگڑے ہوتے تھے پر اس شدت کے وہ پہلی بار دیکھا تھا۔

“جس دن تمہارے دماغ میں بھرا شک کا خناس نکل جائے گا تو تمہیں سب کچھ ہی صاف شفاف دکھے گا ورنہ تمہارے وہموں کا علاج میرے پاس نہیں ہے اور نہ ہی خود کو پارسا ثابت کرنے کیلئے میرے پاس کوئی دلیل ہے۔”

شاہ بخت غصہ میِں کمرے سے نکل گئے تو وہ نڈھال سی بستر پہ بیٹھی تھیں۔

گھر میں اسے لے کے ہوتی باتوں اور اسٹریس سے فری ارینہ ہر دم شوہر کو یاد کرتے آنے والی زندگی کے بارے میں ہزار اوباہام لیے ہوئے تھیں جب اسکی ڈلیوری کے دن نزدیک آنے لگے تھے۔

اسے دن مرد حضرات میں سے گھر میں کوئی بھی نہیں تھا جب شاہ بخت گھر میں داخل ہوئے تو کچن سے نکلتی ارینہ کو فرش پہ ڈھیر ہوتے دیکھے تیزی سے اسکی طرف بڑھے تھے اور اسی وقت ایمرے بھی کمرے سے نکلی تھی جو ارینہ کو شاہ بخت کی گود میں دیکھ ہکا بکا سی ہوئی تھی جو کہ اسے تیزی سے باہر کی طرف لے کے دوڑا تھا۔اس منظر نے رگوں میں فشار برپا کیا تھا۔

ارینہ کے ہاں بیٹی ہوئی تو اپنی روشن پیشانی والی بدقسمت بیٹی کو دیکھتے وہ پھر سے رو پڑی تھی۔

ایک ہفتے بعد گھر آئی تو بزرگوں کا فیصلہ سنتے گم صم ہوگئی تھی جنہوں نے ارینہ اور اسکی بچی کے بہتر مستقبل کیلئے اسکا عقد شاہ بخت سے چھوٹے معیز بخت سے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ادھر ایمرے تو چنگاری بنی تھی۔

“تم یہی چاہتے تھے نا کہ وہ ہمیشہ تمہارے سامنے رہے مجھے تو یہی لگتا ہے کہ تم نے منیب کا بھی ایکسڈینٹ کرایا ہے تاکہ ارینہ ہمیشہ کیلئے یہاں آجائے۔”

ایمرے کی باتوں پہ وہ شاکی سا بیٹھا تھا۔

“تم حددرجہ جاہلیت کا مظاہرہ کررہی ہو ایمرے میں اپنے بیٹے کے ساتھ بہت خوش ور مطمئن ہوں۔”

شاہ بخت ناچاہتے ہوئے بھی وضاحت دینے لگا تھا۔

پر ایمرے پہ تو جیسے ارینہ کی نفرت کا بھوت سوار تھا۔

ایک رات بادل کھل کے برسے تھے اسکے باوجود بھی طوفان تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

ارینہ اپنی چھ مہینے کی روتی بچی کو چپ کرانے میں نڈھال سی بیٹھی تھی جب کوئی اسکے روم میں آیا تھا۔

“ارینہ شاہ بخت کو گولی لگ گئی ہے اتنے طوفان میں کوئی ڈاکٹر ملنا بھی ناممکن ہے پلیز تم انہیں دیکھو تم۔نے تو ڈاکٹری پڑھی تھی نا۔”

ایمرے کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر ارینہ کی دھڑکن بند کرنے لگا تھا۔اس پہ تو آج منکشف ہوا تھا کہ وہ تو کبھی اسے دل سے نکال ہی نہیں پائی تھی وہ اپنی بچی اور ایمرے کے ہمراہ تیزی سے وہاں سے نکلی تھی یہ دیکھے بنا کہ ایمرے نے دوبارہ سے ہی روتی بلکتی بچی کو وہیں چھوڑ دیا ہے۔

ارینہ بارش میں بھیگتے انیکسی کی طرف دوڑی تھی کیونکہ ایمرے نے کہا تھا وہ وہیں اور ایمرے آرام سے چھاتہ پکڑے اسکے پیچھے آئی تھی۔انیکسی میں داخل ہوتی ارینہ سمجھ ہی نہیں پائی تھی کہ کب انیکسی کا لاک گھماتے دروازہ بند ہوا تھا۔

“شاہ بخت”

زیرو بلب کی روشنی میں سامنے پڑے بےجان سے وجود کی طرف وہ جھکی ہی تھی جب ایک دم سے تمام لائٹس آن ہوئی تھیں۔

کوله باریست پر از هیچ که بر شانه ماست

گله از دست کسی نیست’ مقصر دل دیوانه ماست!

(بار ہمارے کندھوں پر کچھ بھی نہیں بھرا ہوا ہے

کوئی شکایت نہیں کر رہا ، ‘ہمارے پاگل دل کا مجرم )

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

“تمہارے بیٹے کی شادی ہے آج اور وہ تمہیں لینے بھی نہیں آیا تم تو کہتی تھی کہ وہ تمہیں لینے آئے گا؟”

اسکی ڈیوٹی پہ مامور عورت نے زمین کو کھودتی عورت سے پوچھا تھا۔

“وہ آئے گا شاہ بخت اور ارینہ کو دفن کرنے کے بعد وہ آجائے گا یہاں ہمیشہ کیلئے میرے پاس۔”

وہ حددرجہ خوشفہم ہوئی تھی جبکہ سامنے بیٹھی عورت نے تاسف سے اسے دیکھا۔

“وہ آج تک تم سے ملنےنہیں آیا آخر ایسا کیا ،کیا ہے تم نے جو ایک بیٹے کو اپنی ماں سے اتنی نفرت ہے؟”

سامنے والی عورت کے سوال کی بات پہ اسکی آنکھوں میں سرخی چھائی تھی۔

“تم ،تمہیں کس نے کہا وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے وہ میرا بیٹا ہے وہ بہن نہیں تھیں وہ ڈائن ،وہ میرا بچہ میرا شوہر چھین کے لے گئی مجھ سے ،نہیں نفرت کرتا کوئی مجھ سے میں تو ،ہاں میں ہی تو لاڈلی بیٹی ہوں شاہ بخت حویلی کی۔”

وہ جنونی انداز میں کہتی اس عورت کا گلہ دبا رہی تھی جو وزن میں اس سے تقریباً آدھی ہی تھی اسکی قسمت اچھی کہ سیکیورٹی گارڈ کا وہاں سے گزر ہوا تھا اور وہاں کی انتظامیہ الرٹ ہوئی تھی۔

باہر بجتے ڈھول کی تھاپ اور شہنائیوں سے وہ موبائل کی آواز سن نہیں پایا تھا جبکہ کئی بار شور مچانے کے بعد موبائل دوبارہ بجنا شروع ہوا تھا۔

دلہام کی اچانک نگاہ پڑی تو ہاسپٹل سے کال دیکھتے وہ چونکا تھا۔

“سر میڈیم ایمرے کی طبیعت ایک بار پھر بگڑگئی ہے اور انہوں نے ہماری ساتھی عورت کو زخمی کردیا ہے۔”

دوسری طرف سے سہما سا انداز دلہام کو اسٹک کرگیا تھاکتنی دیر ماؤف ہوتے دماغ سے سچویشن کا اندازہ کرنے لگا تھا جب کچھ سوچتے وہ کھڑا ہوا تھا اور تیزی سے پارکنگ کی طرف بڑھتے گاڑی نکالی۔

دکھتے سر سے وہ بمشکل ڈرائیو کرپارہا تھا جب حویلی سے کچھ دور ہی مخالف سمت سے آتے وجود سے گاڑی ٹکرائی تھی وہ بمشکل گاڑی کنٹرول کرتے تیزی سے نیچے اترا تھا ۔ا

ادھر اسکے سر سے چادر ڈھلکی تھی اس نے چندھیائی سی آنکھیں اوپر کو اٹھائیں اور اسی وقت دلہام کی نگاہ اس پہ پڑی تھی دوسرا ہی لمحے گویا آسمان سر پہ گرا تھا وہ کیا کرنے والی تھی یہ سوچ آتے ہی دلہام کا دماغ شارٹ ہوا تھا اور دوسرے ہی لمحے سناٹے میں ایک زوردار تھپڑ کی گونج پڑی تھی۔

“بدکردار ماں کی بدکردار بیٹی۔”

وہ غصے میں پھنکارتے اسے بازو سے پکڑتے دوبارہ زمین پہ گرا گیا تھا۔

“اور تم کیا ہو دلہام بخت قاتل ماں کے قاتل بیٹے۔”

سناٹوں کو چیرتی آواز نے اسکی ذات کے زخم ادھیڑتے پھر سے خاموشی اختیار کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *