Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Last Episode)Part 1,2
Rate this Novel
Anadil (Last Episode)Part 1,2
Anadil by Uzma Mujahid
آر۔جے کے دئیے گئے ویڈیوز کے بعد تو وہ جیسے ٹوٹ سی گئی تھی لیکن دلہام کا یہ روپ اسکیلئے واقعی نیا تھا۔
وہ تو اس کی کل کائنات تھی کالج کے فرسٹ ڈے سے اب تک وہ ہزار اختلافات کے باوجود بھی اسی گمان میں رہی تھی کہ وہ تن تنہا اس شخص کے دل ودماغ کی سلطنت پہ برجمان ہے۔
کل رات دلہام نے اسے کچھ گفٹس دلائے تھے جو اسے سختی سے کیری کرنے کا حکم دے کے گیا تھا لیکن دل کی دنیا تباہ ہوچکی تھی بھلا اس شخص کیلئے سجنا سنورنا معنی رکھتا تھا اب؟
روتے روتے اسکی ہچکی بندھی ہوئی تھی جب نظریں اٹھائے خود کو سامنے آئینے میں دیکھا تھا۔
سرخی مائل گلابی آنکھیں شدت گریہ زاری سے سوج چکی تھیں ۔وہ اٹھ کے آئینے کے سامنے آٹہری تھی بےاختیار ہی اپنا موازنہ پریہان سے کرنے لگی تھی۔
جو بھی تھا وہ اس سے عمر میں چھوٹی تھی اور معصوم سی کلی شاید کہ دلہام کے دل پہ اسکا ہی راج ہو؟
منفی سوچوں کے در آتے اور دلہام بخت کے ساتھ کسی اور کا تصور کرتے ہوئے وہ سب کچھ تہس نہس کرنے کو تیار تھی۔
“پریہان یہاں نا ہو کے بھی تمہارے اور دلہام بخت کے درمیان موجود ہے صرف دلہام بخت ہی کیوں؟گھر کے کسی اور فرد کو کیوں نہیں پتا دورید اور پریہان کہاں ہیں اور کہیں اس نے رقابت میں دورید کو نقصان پہنچا دیا ہو تو؟”
اردگرد سرگوشیوں میں ڈھلی آر۔جے کی آواز پہ وہ تڑپ اٹھی تھی۔دورید اسکا بہت پیارا دوست تھا اور یہ سچ ہی تو تھا کہ کب سے پریہان اور دورید کا کوئی اتاپتا نہیں تھا۔
عناء کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا۔
“یہ چپ تم موقع دیکھتے ہی دلہام بخت کے سیل سے اٹیچ کروگی عناء ہم اسے واچ کریں گے رمز ،پریہان اور دورید کہاں ہیں دلہام بخت کا ایک دوسرا روپ ہم دنیا کے سامنے لائیں گے تم میرا ساتھ دوگی بولو عناء تم اپنی دوستی کا حق ادا کروگی ۔”
آر۔جے کی ہمت دلاتی آواز پہ وہ خود کو مضبوط کرنے لگی تھی۔
وہ اس شخص کی گری ہوئی شخصیت کی انتہا دیکھنا چاہتی تھی وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ دوغلا انسان ایمرے کا بیٹا ہوکے محبتوں کا دعویدار کیسے بن سکتا ہے؟
وہ الجھی سی جلے پاؤں کے بلی کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ گھوم رہی تھی جب دلہام کی گاڑی کا ہارن سنتے اسکے پاؤں تھمے تھےوہ سرعت سے کھڑکی طرف بڑھی تھی
۔
حسب عادت گاڑی سے نکلتے اس نے ٹائی ڈھیلی کی تھی ساتھ ہی کوٹ اتارتے بازو پہ ڈالا’گھڑی کی چین کھولتے ہلکے سے ماتھا مسلا تھا اس سے پہلے کے وہ اوپر کو نگاہ اٹھاتا وہ بنا دیر کیے پیچھے ہٹی تھی اور واشروم میں گھستے خود کو کمپوز کرنے لگی۔
دلہام کمرے میں داخل ہوا تو بکھرا روم اسکی نفیس طبیعت پہ اثر چھوڑتے تیوری پہ کئی بل ڈال گیا تھا ۔
“عنادل”
وہ دھاڑتے ہوئے اسے آوازیں دینے لگا تھا۔کچھ نہ کرکے بھی عناء کا دل عجیب طرح سے دھڑکنے لگا تھا۔
عناء بال سلجھاتے حلیہ درست کیے باہر آئی تھی۔
“آپ کب آئے؟”
زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے وہ اسکے قریب آئی تھی۔دلہام نے اسکے چہرے پہ کچھ کھوجنے کی کوشش کی جو ان کہی کہانیاں بیان کررہا تھا۔
“یہ سب کیا ہے؟”
اس نے ایک نظر روم پہ دوڑاتے الجھی سی آواز میں کہا تھا۔
“اوہ یہ پتا نہیں بس ایسے ہی میرا پاؤں رپٹا تو سہارا لینے کی خاطر چادر تھامی اور یہ سب ہوگیا۔”
عناء نے ہاتھ آگے بڑھاتے فرمانبردار بیویوں کی طرح اسکا کوٹ تھامنا چاہا پر دلہام نے کوئی جنبش ظاہر نہیں کی تھی جو مسلسل عناء کا چہرہ کھوج رہا تھا۔
“میں ٹھیک کردیتی ہوں یہ۔”
دلہام کے موڈ کے پیش نظر کہتے وہ فوراً آگے بڑھی تھی جب دلہام نے آگے بڑھتے اسے بازو سے تھاما اور کوٹ پیچھے کو گرایا تھا۔
اسکا عمل عناء کو کچھ بوکھلا گیا تھا جب وہ اسے خود سے قریب کیے اسکی خوشبو اپنے اندر اتارنے کو اسکے بالوں میں چہرہ چھپانے کی سعی کرنے لگا اس ان چاہی قربت پہ عناء کا چہرہ تپ اٹھا تھا ایک باغی آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے ہوئے باہر آیا تھا۔
“بہت ڈل لگ رہی ہیں مسسز دلہام بخت کیا بہت مس کیا تھا مجھے۔۔؟”
ایک ہاتھ سختی سے اسکی کمر میں گڑا تھا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسکے چہرے پہ آئے بالوں کو ہٹاتے اسکی آنکھوں میں جھانکا تھا۔عناء نے نظریں چرائی تھیں۔
“جانتی ہو اسوقت میرا دل کیا چاہ رہا ہے؟”
اسکے چہرہ کا بغور جائزہ لیتے وہ پوچھ رہا تھا۔
“ہوں کیا؟”
وہ کھوئی کھوئی سی دلہام کو دیکھ رہی وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی ہستی کے پوشیدہ اسرار جاننا چاہتے تھے پر آنکھوں سے۔
“کیوں نا ہم پریہان اور دورید کی طرح ایک لانگ ہنی مون ٹرپ پہ چلیں یہاں کام کی کثرت سر اٹھانے کو فرصت نہیں دے رہی ہے۔”
عناء چونکی تھی اتنے دن بعد پریہان کا ذکر ہورہا تھا وہ دلہام کو بغور دیکھنے لگی شاید کہ محبت کی کوئی رمز محسوس دلہام کو اسکی مشکوک حرکتیں طیش دلا رہی تھیں۔
“عنادل”
گھمبیر آواز گرم سانسیں بےحد پاس سے ابھریں تو وہ ہوش میں آئی تھی۔
“ہنہہ۔۔۔کیا؟”
اسکا دماغ ایک دم سے خالی ہوا تھا دلہام اسے تھامے بیڈ پہ لایا تھا۔
“کہاں کھوئی ہوئی ہوتم میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے؟”
انداز مہربان لہجہ نرم تھا عناء نے نفی میں سرہلایا تھا۔
“طبیعت ٹھیک ہے نا تمہاری ؟”
وہ اسکے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے بولا تو عناء نے اثبات میں سرہلایا۔
“آہاں رائٹ میں فریش ہوکے آتا ہوں تو کہیں باہر چل کے ڈنر کرتے ہیں۔”
اٹھتے ہوئے اسکے ماتھے کو چوما تھا اور واشروم میں گھسا عناء نے کب سے رکی سانس بحال کی تھی۔
اسکی نظریں تیزی سے اردگرد کا جائزہ لے رہی تھیں تبھی اسکا دھیان دلہام کے سیل کی طرف گیا تھا چور نظروں سے واشروم کو دیکھا اور پھر پھرتی سے دلہام کا سیل پکڑا پر موبائل پہ لگا پاسورڈ اسکا منہ چڑا رہا تھا جو کہ وہ بدل چکا تھا۔
اب اسکے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ آر۔جے کی بات پہ عمل کرے تبھی وہ سینسر چٹ اسکے سیل سے کور ہٹاتے بیک پہ اٹیچ کی تھی۔لمحوں کی کاروائی کرتے وہ سیل مخصوص جگہ پہ رکھتے آر۔جے کو ڈن کا مسیج چھوڑتے اپنا سیل لیے کمرے سے نکل گئی تھی۔
دلہام کمرے میں آیا تو وہ وہاں نہیں تھی۔
کچھ سوچتے باہر آیا تو وہ اسے بے چین سی لاؤنچ میں واک کرتی دکھائی دی تھی۔دلہام چاہ رہا تھا وہ اسے اعتماد میں لیتے خود ہی سب بتا دے پر شاید وہ اسکے دل میں اپنا اتنا ڈر بچھا گیا تھا جو وہ اس سے باتیں چھپانے لگی تھی۔
ان دونوں کے درمیان کی بداعتمادی میں قصور ان دونوں کا ہی تھا اگر وہ دلہام کے ماضی کو لے کے طعنہ زنی نہ کرتی تو شاید وہ اس سے یہ راز نہ چھپاتا پر عناء نے اسکے ٹرسٹ کو غلط معنی دیے تھے تبھی وہ بھی اپنے راز رکھنے لگا تھا اور نتیجتاً وہ بھی اس پہ اعتماد نہیں کررہی تھی۔
“عنادل۔۔۔”
وہ سست روی سے اسکے پاس آیا تھا جو اپنے عمل کے صیح اور غلط ہونے کے توازن میں گھلی تھی پرزور انداز میں چونکی تھی۔
“چلیں؟”
دلہام نے پھر سے ہلکا پھلکا انداز اپنایا تو عناء نے بھی قدم آگے بڑھائے تھے ۔دل کچھ غلط ہونے کی نشاندہی کررہا تھا پچھتاوے گھیرنے لگے تھے پر وہ دل کی صدا پہ کان دھرے بغیر خود کو صیح کہتے مطمئن کرنے لگی تھی۔
جلد ہی وہ سیل اور گاڑی کی کیز لیے اسکے پاس آیا تھا چہرے پہ مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔وہ دونوں مسکرا رہے تھے یا مسکرانے کی ایکٹنگ کررہے تھے جو انہیں بہترین ایکٹر ثابت کررہی تھی۔
دونوں کو ہی مکمل طریقے سے اپنے جذبات پہ کنٹرول تھا۔
“دل۔۔۔”
گاڑی میں چھائے سناٹے کو عناء کی آواز نے توڑا تھا۔
“ہوں؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“کیا مجھ سے پہلے کبھی آپ نے کسی کو چاہا تھا؟”
عناء کے سوال نے دلہام کو اچھا خاصہ شاک دیا تھا بےساختہ پاؤں گاڑی کی بریک پہ پڑا تھا۔
“میرے خیال سے تم مجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہو عنادل اس سوال کا جواب خود سے لو۔”
ناچاہتے ہوئے بھی اسکا انداز تیکھا ہوا تھا۔
“میں آپکو کبھی نہیں جان سکتی ۔”
وہ منہ کے زاویے بناتی باہر دیکھتے بولی تھی دلہام کا قہقہ گونجا تھا۔وہ رخ موڑے مشکوک نظروں سے اسے دیکھنے لگی جیسے یہ قہقہ دلہام کو پاگل ظاہر کررہا ہو۔
“اوہ سوری ایکچوئلی یہ سننے میں کافی عجیب لگ رہا ہے نا جس لڑکی کو دلہام بخت اپنی آتی جاتی سانسوں کا ضامن سمجھتا ہے وہیں ایسی باتیں کررہی ہے امیزنگ۔”
دلہام کی آواز میں مایوسی کی آمیزش واضع تھی۔
“تم سوال گول کررہے ہو۔”
وہ چیخی تھی۔دلہام کو اسکا ریکشن بہت عجیب لگا تھا۔
“تم بتا دو ایسا کیا ثبوت پیش کروں کہ تمہیں اپنے شوہر پہ یقین آجائے۔”
لمحوں کی شرارت ہوئی تھی وہ پزل گیم کھیلنے پہ آمادہ نظر آرہا تھا تبھی گاڑی روکتے اپنا رخ اسکی جانب کیا تھا۔
“صرف ہاں یا نا؟”
عناء کو جواب چاہیئے تھا۔
“شاید تمہیں میرا جواب پسند نہ آئے۔”
دلہام کا انداز بہت سنجیدہ ہوا تھا۔عناء کا دل پورے زور سے دھڑک اٹھا تھا۔وہ اسے دیکھنے لگی تھی تو کیا وہ پریہان اور اپنے ریلشن کا راز منکشف کرنے لگا تھا؟
اسکا رواں رواں سماعت بنا تھا۔دلہام کی نگاہوں نے اسکے الجھے چہرے سے آنکھوں اور پھر لبوں کا سفر کیا تھا اس سے پہلے کے وہ ان نگاہوں کی گزارشات سے معنی اخذ کرپاتی دلہام نے اپنے لبوں کا پہرہ اسکے لبوں پہ بٹھایا تھا ۔گویا اسے عناء کے فضول سوالات بہت برے لگے تھےبولنے پہ ہی پابندی عائد کردی۔
وہ اسکے عمل پہ بےچین بیٹھی تھی۔ پہاڑوں کے درمیان سے نکلتی چارکول کی سیاہ سڑک رات کی مکمل سیاہی میں ڈوبی تھی جو ذرا کے ذرا پاس سے گزرتی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس سے روشن ہوتی اور پھر رات کی سیاہی اوڑھ لیتی وہیں اردگرد پہاڑوں پہ پڑی سفید روئی جیسی برف اس خاموش رات کا حصہ بنتے اپنے اندر بہت سے اسرار چھپا لیتی تھی۔
دلہام کا ہاتھ عناء کی سیٹ کے بیک کی طرف بڑھا تھا جسے ریلکسینگ موڈ میں لاتے وہ عناء کی آنکھوں میں درج تحریر کو دلچسپی سے پڑھنے لگا تھا جو اسکی بےخودی سے نظریں چرا رہی تھی۔
“دل”
وہ گھبرائی تھی۔
“دل ‘عناء کے بغیر تھا ہی نہیں عنادل ‘دنیا میں دلہام بخت کی محبت کو ماپنے والا کوئی پیمانہ ہوتا تو تم خود پہ نازاں ہوتی کہ تم وہ واحد لڑکی ہو جو روز اول سے دلہام بخت کے دل کی سلطنت پہ راج کررہی ہو’شاید مجھے بتانے کا صیح طریقہ نہیں آتا پر حقیقت یہی ہے عناء دلاور سے عنادل تک یہ سفر تم نے دلہام بخت کی سانسوں کو مستعار لے کے طے کیا ہے۔”
دلہام کے لفظوں نے ہاتھوں سے عمل کا سہارا لیا ہوا تھا جو اسکے چہرہ تو کبھی بال سہلا رہے تھے۔
“دلہام میں۔۔۔”
“شش خاموش بلکل خاموش عنادل تم چاہتی ہونا آج میں تم پہ اپنی ہستی کے راز منکشف کروں تو سنو میرا ہر راز تم ہی ہو اور ہر راز تمہاری محبت میں پنہاں ہے جسکی حد تم پہ آکے ختم ہوگئی ہے۔”
وہ اسکا ہاتھ تھامے لبوں سے لگاگیا تھا۔عناء کا دماغ ماؤف ہونے لگا تھا اسکے دماغ میں کچھ انہونا چل رہا تھا تو دل پچھتاووں کی بستی کا باسی بن رہا تھا۔اس نے ایک دم سے فیصلہ کیا تھا دلہام کو سب سچ بتانے کا آر۔جے اور وہ اسکی باتیں جانے کیا سچ تھا کیا جھوٹ ۔
“دل۔۔۔”
وہ اسکی سننا نہیں چاہتا تھا۔
“تم سے بھلا بہتر کون جانتا ہوگا دلہام بخت کو کہ اسکی ٹکڑوں میں بٹی ہستی کو’ تم نے آکے یکجا کیا اور تمہاری محبت نے ہی تو زندگی جینے کا نیا سبق دیا ہے۔ عنادل اور مجھے اس بات پہ ناز ہے کہ تم میری ہو اور تمہارے ہونے سے میں ہوں ‘کبھی کچھ نہیں مانگو گا تم سے عنادل ماسوائے اسکے کہ تم مجھ پہ بھروسہ کرنا سیکھ لو۔”
ایک پھونک اسکے چہرے پہ مارتے مسکرایا تھا اور ذرا سا جھکتے ایک بار پھر سے اپنا عمل دہراتے اسکے لبوں کو چھوا اور ایک پریقین سا لمس اسکے کندھے پہ دیتے وہ پیچھے ہٹا تھا۔
عناء کچھ دیر پہلے کی محبت بھری شرارتوں اور گستاخیوں میں مدہوش سی بیٹھی تھی جب دلہام نے الہوہی جذبوں کی چمک لیے مسکراہٹ لبوں پہ سجائی تھی اور گاڑی میں سحر طاری کرتا میوزک آن کیا تھا۔
مختصر ملاقاتیں عمر بھر کی بےچینی
تیرے عشق نے اکثر راحتیں میری چھینی
موجود ہے تو میری ہر سانس میں
تو ہے بس توہے میرے احساس میں
تیرے چہرے سے اب نا میری نظر ہٹتی ہے
تیری دعاؤں میں شامل میری دعا رہتی ہے۔۔۔
تجھ سے کہاں جدا ہوں میں
ایک تجھ پہ ہی فنا ہوں میں۔۔۔۔
دلہام کے لب بھی گنگنا اٹھے تھے جبکہ ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتے دوسرا ہاتھ میں اسکا ہاتھ تھامے بار بار لبوں سے لگا رہا تھا۔
عناء کا دل بھرآیا تھا وہ اسے چیٹ کررہی تھی وہ بظاہر کا باہر کا جائزہ لیتے اپنی آنکھوں میں آئی نمی چھپانے کی تگ ودو کررہی تھی۔
ایک ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی روکتے دلہام اسکا ہاتھ تھامے باہر آیا تھا۔ریسٹورنٹ کے سامنے سردی سےبچنے کو ایک الاؤ دہکایا گیا تھا جسکے اردگرد بہت سے نوجوان مری قبیلے کا روایتی رقص پیش کرتے نظر آرہے تھے دلہام اسے لیے وہاں آیا تھا جہاں حاظرین کیلئے باہر عارضی نشست بنائی گئی تھی اور کافی زیادہ سیاح بھی اس تفریح سے محظوظ ہورہے تھے۔
“اٹس لکس واؤ ۔۔۔”
وہ اسکا موڈ ٹھیک کرنے کو بولا تھا دلہام کو یقین تھا کہ کچھ دیر تک جب وہ نارمل ہوگی اس سے اپنی الجھنیں ضرور شئیر کرے گی۔
“ہاں۔۔۔”
عناء خودترسی کا شکار ہورہی تھی لیکن دلہام کی طرف دیکھتے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پہ سجائی تھی۔
روایتی فوک میوزک پیش کیا جانے لگا تھا جہاں مختلف علاقائی گانے گائے جارہے تھے۔
دلہام کا سیل بج اٹھا تو سامنے موجود نام نے عناء کی حسیات بیدار کی تھیں جہاں دورید کا نام جگمگا رہا تھا۔
تیڈے دل اچ کیڑیاں؟
تیڈے من وچ کیڑیاں؟
تیکوں پٹیاں کیئاں پڑھائیاں
تیکوں ظالم کیئں سمجھائیاں
سجنڑا نال ہریاں پھریاں۔۔۔۔
(تمہارے دل میں کیا ہے’تمہارے من میں کیا ہے؟تمہیں غلط راہیں کس نے دکھائی ہیں ‘تمہیں کس ظالم نے صیح راہ سے بھٹکایا ہے اور دوستوں سے دھوکا بازی سکھائی ہے۔۔۔)
عناء کا دل گائیک کے لفظوں پہ سہما تھا جیسے سامنے موجود شخص اس سے سراپا سوال تھا۔ضمیر کی لعنت ملامت بڑھی تھی وہ ایک مصمم فیصلہ لیے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
دلہام کچھ ہی فاصلے پہ موجود تھا جو ابھی تک دورید سے کال میں بزی تھا۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”
عناء کا مسیج دوسرے طرف موجود شخص کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ کھلا گیا تھا اس نے سم نکالتے دانتوں میں چبائی تھی ویسے بھی عناء اب اسکے کسی کام کی نہیں رہی تھی جس مقصد کیلئے اسے استعمال کیا تھا وہ مکمل ہوگیا تِھا۔
عناء نے کچھ دیر جواب کا انتظار کیا اور بےچینی حدسوا ہوئی تو خود ہی کال ملا لی پر دوسری طرف کا نمبر ناٹ ریچ ایبل تھا ۔ایک دو بار کی ٹرائی کرنے کے بعد اسکا دل چاہ رہا تھا موبائل سامنے موجود درخت پہ دے مارے ۔وہ ڈری سی تھی جب پاس کہیں دلہام کی آواز آئی تھی جو اسے ڈھونڈ رہا تھا وہ فوراً پیچھے پلٹی تھی اور اسکے پاس آئی تھی۔
“کہاں چلی گئی تھی تم ؟ پریشان ہوگیا تھا میں یار۔”
وہ اسے بازوں کے گھیرے میں لیے دوبارہ اسی مقام پہ آیا تھا۔
“دل میں نے کچھ کہنا تھا تم سے وہ میں۔۔۔۔”
“اوہوں باتیں کرنے کیلئے پوری رات پڑی ہے چلو پہلے کچھ کھاتے ہیں ۔”وہ اس سجی محفل کے پاس سے گزرتے بولا تھا جبکہ عناء کی سماعتیں ضمیر جھنجھوڑتی ان آوازوں پہ ٹکی تھیں۔
جنہاں اکھیاں تے مردا ہائیں
انہاں اکھیاں رلائیاں نی
میکوں اتنا ڈسا ماہیا
کیتھو سکھیا لڑائیاں نی۔۔
(جن آنکھوں سے پیار کرتے تھے انہی آنکھوں کو رولایا ہے۔۔۔۔۔مجھے اتنا بتا دو پیارے لڑنا کس سے سیکھا ہے؟”)
ایک شکوہ کناں نگاہ اپنے ساتھ چلتے دلہام پہ ڈالی جسکے لب آپ ہی آپ مسکرا رہے تھے۔ٹیبل پہلے ہی وہ ریزرو کروا چکا تھا ساتھ ہی کھانا سرو کیا گیا تو وہ گاہے بگاہے اسکے الجھے نقوش پہ نگاہ ڈالتے اس سے ہلکی پھلکی گفتگو کررہا تھا۔
“دورید کب آرہا ہے؟”
پریہان کا نام لیتے ہوئے عجیب سا محسوس ہوا تو اس نے ڈائریکٹلی دورید کا پوچھا تھا۔
“بہت جلد اکیلا تھوڑی نا ہے وہ پریہان بھی اسکے ساتھ ہے۔”
اسے جانے کیوں شک گزرا کہ وہ پریہان کے نام پہ
مسکراتا تھا جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اسکا دماغ ہر عام چیز کو بھی بہت خاص کرکے محسوس کررہا تھا کیونکہ وہ ہر سوچ کو آر۔جے کی سوچ سے دیکھ رہی تھی۔
“اور رمز۔۔۔۔”
عناء نے جان بوجھ کے ایک نام لیا تھا۔دلہام کے تیور پل میں بدلے تھے۔اسکے ہاتھ کھانے سے رکے تھے۔
“وہ مرچکی ہے ہم سب کیلئے آئیندہ اس کا ذکر کم ازکم میں تمہارے منہ سے نہ سنوں۔”
لب بھنچے وہ سختی سے بول رہا تھا۔
عناء کو وہ دنیاکا سب سے دوغلا شخص لگا تھا۔دو تین لقمے زہر مار کرتے وہ دونوں ہی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
گھر آتے ایک تھکن کا احساس اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا وہ آتے بستر پہ دراز ہوا تھا جبکہ عناء خود کو فضول کاموں میں الجھائے ہوئے تھی۔
“عنادل”
بےچینی سے کروٹیں بدلتے آخر اس نے عناء کو بلالیا تھا کہ اس کے بغیر نیند آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
دوسری طرف وہ لاؤنچ میں بیٹھی یک ٹک ٹی۔وی پہ نگاہیں جمائے ہوئے تھی جو آف تھا۔
“کیا یار میں کب سے انتظار کررہا ہوں۔”
وہ نائٹ ڈریس میں ملبوس ہاتھ بڑھائے اسے اپنے پاس بلارہا تھا جو بیڈروم کے دروازے میں ہی ٹہرا تھا۔
عناء نے گردن اونچی کیے اسے دیکھا تھا اور پھر اداسی سے دوبارہ سر جھکائے پہلے والی پوزیشن میں چلی گئی تھی۔
دلہام کو لگ رہا تھا وہ رمز والی بات پہ اپ سیٹ ہے اور شاید دلہام سے ہرٹ بھی تبھی کچھ سوچتے وہ اسکے پاس آیا تھا جو دونوں پاؤں پساڑے صوفے پہ بیٹھی تھی دلہام اسکے بلکل قریب بیٹھا تھا۔
“کیا ہوا اداس کیوں ہو؟”
اسکے بال سہلاتے پوچھا تھا۔عناء نے سراٹھائے اسے دیکھا جسکی آنکھوں میں اجنبیت سی طاری تھی دلہام کو گلٹ فیل ہوا تھا۔
“سوری یار میں خواہ مخواہ اوور ریکٹ کرگیا اس نے جو کچھ کیا میرے نزدیک وہ قابل معافی نہیں ہے تبھی۔۔۔”
“رمز کہاں ہے ؟کیا آپ نے اسکا اور موسیٰ کا نکاح کروایا ہے؟”
وہ پھر سے دبی راکھ کریدنے لگی تھی۔
“اف مائے اسٹوپڈ وائفی یہ وقت شاید کسی اور کو نہیں بلکہ ہم دونوں کو ڈسکس کرنے کا ہے چلو اٹھو مجھے تمہارے بغیر بلکل نیند نہیں آرہی ہے۔”
دلہام نے کھڑے ہوتے اسے بھی اپنے ہمراہ کھڑا کرنا چاہا تھا جبھی اسکے سوال کو اگنور کردیا تھا۔
“مجھے نیند نہیں آرہی ۔”
وہ اپنا ہاتھ چھڑاتے بولی تو وہ بےبس ہوا۔
“اچھا بتاؤ صلح صفائی کی کوئی راہ؟”
وہ اسکے پاؤں کے قریب بیٹھتےبولا تھا۔
“میں ناراض نہیں ہوں۔”
عناء کا انداز جان چھڑاتا تھا۔
“اوکے تو پھر روم میں چلیں؟”
“نہیں کیا ہم مووی دیکھ سکتے ہیں؟”
عناء کی بات سنتے دل ناچاہتے بھی وہ انکار نہیں کرسکا تھا ۔عناء نے اٹھ کے ٹی۔وی آن کرتے اسکے ساتھ پڑی پن ڈرائیو کو اس میں انجسٹ کیا اور واپس دلہام سے کچھ دور بیٹھی تھی ۔
دلہام نے بغور اسکی حرکت دیکھی اور انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے اسکے پاس جاکے بیٹھا تھا اور اسکے کندھے پہ سرٹکائے اسی کی نظروں کے ارتکاز میں نگاہیں ٹی۔وی پہ جمائیں جیسے عناء کیلئے اس وقت اس ٹی۔وی سے زیادہ امپورٹنٹ کچھ نہیں تھا جبھی اسے جھٹکا لگا تھا جہاں آر۔جے اور دلہام کی پرانی تصاویر سلائیڈز کی صورت میں چل رہی تھی دلہام کا چہرہ پل میں زرد پڑا تھا جبکہ عناء کی نظریں ٹی۔وی سے ہٹتے دلہام کے چہرے پہ جمی تھیں۔
دلہام کیلئے یہ تصاویر شاکنگ نہیں تھیں لیکن انکا اسطرح یہاں پہ چلنا کافی شاکنگ تھا۔
“یہ کیا بکواس ہے بند کرو اسے۔”
ہوش میں آتے ہی وہ عناء پہ دھاڑا تھا۔
“بھائی ہماری محبت کو کبھی ایکسپٹ نہیں کریں گے کیونکہ پریہان انہیں نہیں ملی۔”
ایک جانی پہچانی آواز پہ وہ پلٹا تھا جہاں رمز آرجے کے سامنے ٹہری کچھ بول رہی تھی۔
دلہام کی آنکھوں میں مرچیں بھری تھیں اگلے پل تو زمین پاؤں سے سرکی تھی دلہام کے گلے لگی پریہان۔۔۔نہیں بلکہ وہ دورید کے سنگ تھی جسے تھوڑے سے ردو بدل سے بدل دیا گیا تھا اور دلہام دکھائی دے رہا تھا۔
اگر دلہام بھی ہوتا تو شاید تصویر پہ فرق نہ پڑتا لیکن فرق پریہان کا نیم برہنہ وجود کررہا تھا۔
وہ اسوقت کی تصویر تھی جب دورید اسے آر۔جے کی فلیٹ پہ پہلی بار بچالایا تھا جبکہ آر۔جے کے لگائے گئے کیمراز میں یہ منظر فٹ تھا اور وقت آنے پہ اس نے عناء کو بخوبی بیوقوف بنایا تھا۔
“یہ۔۔۔۔۔”
“سچ ہے برا لگا کیا؟ریشم کے لبادے اوڑھے گندے لوگوں کا سچ۔”
عناء ایک ایک لفظ زہر میں ڈبوئےبولی تھی۔
“عنادل۔۔۔”
دلہام نے دھاڑتے ہوئے مٹھیاں بھینچی تھیں۔
“کیوں برا لگا؟حیرت ہے نا بیوی کو آر۔جے کے ساتھ دیکھ کر چارسو لوگوں میں تھپڑ مارنے والا شخص ‘اپنی اصلیت ظاہر ہونے پہ چپ کیوں ؟کیا آج آپ اس رویے کے حقدار نہیں جو آپ نے اپنایا تھا مجھ سے؟”
وہ دونوں ہاتھ سینے پہ جمائے تسلی سے بولی تھی جبکہ دلہام تو پہلے آندھیوں کی زد میں تھا۔
“مجھے ذرا فرق نہیں پڑتا تم کیا بکواسیات سوچ رہی ہو مگر مجھے یہ ضرور جاننا ہے کہ تم آر۔جے سے کس حق سے ملی اور کیا کیا بکواس کی ہے اس نے۔”
وہ اسکے کندھوں سے پکڑے سختی سے جراح کررہا تھا۔
“کیوں؟کیوں بتاؤں آپکو ‘یہ سچ چھپا رہے تھے نا کہ بہن بھائی کا نام استعمال کرتے آپ اور پریہان۔۔۔۔”
“شٹ اپ عنادل ایک لفظ اور بولا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔”
وہ اسکا چہرہ ہاتھ میں تھامے دھاڑا تھا۔
“ایسے بھی آپ سے زیادہ برا کوئی نہیں ہے مسٹر دلہام بخت۔”
وہ اسے جھٹکتی وہاں سے نکلتی گئی تھی جبکہ دلہام دونوں ہاتھوں سے اپنے بالوں کو جکڑے پریشانی سے ٹہل رہا تھا۔
وہ اس بےوقوف لڑکی سے ہر امید رکھ سکتا تو جو اس ویڈیو دیکھنے کے بعد دلہام کی ضد میں ہر حد تک جاسکتی تِھی بہرحال غلط فہمی میں ہی سہی محبوب کا بٹوارہ کسی صورت اسے بھی قبول نہیں تھا۔
کتنی دیر خود کو سنبھالنے کے بعد وہ کمرے میں آیا تھا۔
وہ جو بیڈ پہ گھٹنوں میں سردیے بیٹھی تھی اسکی آمد پہ سراٹھایا تھا۔
دلہام اسکے قریب آیا تھا۔
“میں نے اپنی راہیں آپ سے الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے مسٹر دلہام بخت۔”
عناء کی آواز نے گہری خاموشی کے جمود کو نہ صرف توڑا تھا بلکہ دلہام کو مارنے کی کوئی حد نہیں چھوڑی تھی۔
وہ لڑکی بار بار اسکا ضبط آزما رہی تھی۔
“عنادل کیا تم چاہتی ہو میں ٹیپکل شوہروں کی طرح یہاں بیٹھ کے اپنی صفائیاں پیش کروں؟”
وہ اسکے سامنے آرکا تھا۔
“نہیں بلکل نہیں بلکہ میں چاہتی ہوں آپ روایت کو برقرار رکھتے دو کیا چار چار بغل میں لے کے گھومیں پر میری زندگی کو دلہام بخت نامی عذاب سے آذاد کردیں۔”
عناء کے انداز میں کوئی رعایت نہیں تھی۔
“دیکھیں عناء محترمہ ایسا کچھ مت بولیں جس میں بعد میں پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے آپکو۔”
وہ کچھ نرم پڑا تھا شایدا سکا بھڑکنا معملات مزید خراب کرسکتا تھا پر طنز اور آپ جناب نہیں چھوڑا تھا۔
“اس سے زیادہ کیا اور خراب ہوگا۔”
وہ بڑبڑائی تھی۔
“عنادل دیکھو ہم بات کرکے معمالات سلجھا سکتے ہیں۔”
دلہام کو وہ کام جو بہت پہلے کرلینا چاہیئے تھا وہ اس پہ اب مائل نظرآرہا تھا۔
“مجھے کوئی بات نہیں کرنی ۔”
وہ ضدی انداز میں کہتے بیڈ سے اتری تھی جبھی دلہام نے اسکی کلائی تھامے روکا تھا۔
“دیکھو میں تمہیں ہربات کلئیر کرتا ہوں۔”
دلہام گڑگڑایا تھا شاید۔
“کیوں خود پہ بیتی ہے تو چلااٹھے ہو سہل نہیں ہورہا نا اپنے کردار پہ اٹھی انگلی کو برداشت کرنا؟پر سن لیں آپ کہ میں۔۔ “
“جو انگلی اٹھی اسے توڑنا اچھے سے جانتا ہوں میں مسئلہ یہ ہے کہ یہاں میری نیا میرے اپنے ڈبونا چاہتے ہیں۔”
ایک اور معمولی سے جھٹکے سے وہ اسکے بےحد قریب آچکی تھی ۔
“پر مجھے آپکے ساتھ نہیں رہنا سن رہے ہیں نا آپ؟مجھے کسی ایسے انسان کے ساتھ نہیں رہنا جسکا کوئی کردار ہی نہ ہو۔۔۔”
اسکی آنکھوں اور زبان سے شعلے نکل رہے تھے۔
دلہام کا دل چاہ رہا تھا دو لگا کے اس لڑکی کا دماغ ٹھکانے لے آئے لیکن پہلے بھی کئی بار وہ اس سے زیادتی کا مرتکب ہوا تھا پر اسی کے انداز میں جواب دینا جیسے لازم ہوگیا تھا۔
“مجھے بھی کسی ایسی لڑکی کے ساتھ نہیں رہنا مس عناء دلاور جسکے سامنے دلہام بخت کو قدم قدم پہ اپنے کردار کی گواہی دینی پڑے۔۔۔”
بیڈ سے تکیہ اٹھاتے وہ کمرے سے نکل گیا تھا۔
عناء کا دل ڈوبا تھا تو کیا وہ اسے چھوڑ دے گا؟یہ سوچ ہی جان لیوا تھی جبھی وہ بھی تیزی سے اسکے پیچھے آئی تھی۔
“کیا کہا آپ نے آپ مجھے چھوڑ دیں گے؟”
وہ صدماتی کیفیت میں تھی ۔
“تمہاری خواہش پوری کررہا ہوں ‘بدکردار آدمی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی نا تم؟”
وہ لفظ چباتے اوندھے منہ گرتے صوفے میں منہ چھپا گیا تھا۔
“تو پریہان۔۔۔”
“شٹ اپ عنادل ایک اور لفظ نہیں ورنہ میں ہر لحاظ ختم کردونگا۔”
وہ سرخ انگارہ آنکھیں اس پہ گاڑے بولا تھا۔دلہام کا لہجہ بہت زیادہ سخت تھا جو عناء نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔بات یہ تھی کہ ساری بات کردار پہ آکے رک گئی تھی وہ وضاحت دینا نہیں چاہتا تھا جبکہ عناء کردار کی گواہی چاہتی تھی۔
دونوں نے وہ رات جلتے کڑھتے ہوئے گزاری تھی نیند تو جیسے آنکھوں سے روٹھ گئی تھی۔عناء کی آنکھیں بار بار بھیگ جاتی تھیں کچھ انہونی کا احساس بےچین کررہا تھا ۔
وہ بےچینی سے پہلو بدل رہی تھی جب اسکے سیل کی نوٹیفکیشن ٹیون بجی تھی۔ دلہام کی طرف سے ایک وائس نوٹ شئیر کیا گیا تھا۔اسے دلہام کی یہ حرکت عجیب لگی تو جو دو قدم کی دہلیز پار بیٹھا اسے مسیج کررہا تھا۔وہ اسے اگنور کرنا چاہتا تھی پر کچھ سوچتے اسے آن کیا تھا۔
کوئی ٹوٹ تارا مجھے غم دے گیا ہے۔۔
اپنوں نے جو زخم دیا ہے۔۔۔۔
دل کی دھڑکن تھمی تھی وہ وائس نوٹ عناء کی آواز میں ریکارڈ تھا جو اس وقت دلہام کا طنز محسوس ہورہا تھا۔
عناء کی سوچیں ایک بار پھر سے اس پہ مرکوز ہوگئی تھیں۔
دلہام کا دل بےچین اور مضطرب تھا وہ جتنا معمالات کو ٹھیک کرنا چاہتا تھا عناء نے اتنا الجھا دیے تھے کچھ سوچ کے اس نے دورید کو کال ملاتے پریہان کی سیکورٹی
کے متعلق کچھ مزید انسٹرکشنز دی تھیں ۔
دور کہیں مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوئی تو وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور رب کے ہاں سر بسجود ہوتے اپنے گھر کی کلیوں کی عزت اور امان خدا کی سپرد کرتے دعا کرنے لگا تھا۔




















عناء سے ملاقات کے بعد وہ مسرور تھا لیکن بہت بےچین بھی تھا اسے عناء پہ یقین نہیں تھا وہ اسکا ساتھ دے گی یا نہیں؟
شام ڈھلے آنے والے عناء کے مسیج نے گویا اسے کامیابی سے ہمکنار کیا تھا۔وہ جلدی سے سسٹم آن کیے دلہام کے سیل کے تمام فنکشنز انڈر کنٹرول کرنے لگا تھا اور جیسے ہی سینسر نے دورید کا نام ٹریس کیا تو وہ الرٹ ہوا تھا اور کال کی لوکیشن ٹریس کرنے لگا تھا اسکیلئے یہ کامیابی کا پہلا سرا تھا کہ وہ جان چکا تھا دورید اور پریہان پاکستان میں ہی ہیں اس سے آگے کے معملات جاننا زیادہ مشکل نہیں تھا تبھی اس نے اپنے آدمیوں کو الرٹ جاری کیا تھا۔
تقریباً رات کے تین بجے دلہام کے سیل سے ایک بار پھر سے دورید سے رابطہ کیا گیا تھا ۔دلہام کی گفتگو سے یہی اندازہ کرپارہا تھا کہ عناء دلہام کو آر۔جے کے متعلق کھل کے بات کرچکی ہے وہ اور زیادہ تیزی سے معمالات نبٹاتے صبح دورید کے دروازے پہ پہنچا تھا وہیں دورید کی ذرا سی غفلت پہ پریہان کا باہر آنے اسے ایک بار پھر آر۔جے کے پاس لے جاچکا تھا اور اسوقت اسکی سانس کی ڈور آر۔جے کے ہاتھ میں تھی۔
وہ یک ٹک اپنے سامنے پڑی پریہان کو دیکھ رہا تھا۔وقت گزرتے وہ اور زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی اور دورید کی
محبتوں کا اعجاز تھا کہ اسکی محبت کی مہک پریہان کے وجود سے نظرآتی تھی۔
پریہان پریگننٹ تھی اور آر۔جے کو جب ڈاکٹر نے بتایا کہ اسکا مزید خون اسکے بچے کیلئے جان لیوا ہوسکتا وہ تو پاگل ہو اٹھا تھا۔
اسے یاد پڑ رہا تھا کہ وہ اسکا لکی چارم تھی۔
متوسط طبقے سے تعلق رکھنا والا رحمٰن جیلانی جب دلہام بخت سے ملا تو اسکی امارت نے گویا دوستی کی بنیاد رکھی تھی۔ایسا کہنا غلط نہیں تھا کہ دوستی تو صرف دلہام بخت نے ہی کی تھی جبکہ آر۔جے نے ایک امیر فیملی کے لڑکے کے سہارے خود کو کھڑا کیا تھا۔
آر۔جے کو گانے کا شوق تھا اور دلہام اسکا بہترین سپورٹر بن گیا تھا ۔ایک ایک ڈائریکٹر اور میوزیکل کمپنی کے پیچھے بھاگتے آر۔جے نے اللّٰہ کی ذات سے ہٹ کے بنگالی بابا اور کئی روحانی کاملوں کے در پہ جاپہنچا تھا جب وہ بنا سوچے سمجھے ایلومیناتی دنیا میں قدم رکھنے لگا تھا۔
ایلومیناتی ایک ایسی تنظیم جسکا وجود اس وقت کی ضرورت بن گیا تھا جب سائنسدانوں اور مذہبی پیشواؤں کی “خدا” اور “تخلیق” کو لے کے ایک جنگ چھڑ چکی تھی۔
سائنسدانوں کی انسان اور دوسری مخلوق کی تخلیق کو لے کے سائنس اور بگ بینگ کی تھیوری کو سچ ثابت کرنے کیلئے کیے جانے والے دعوے مختلف مذاہب کے گاڈفادرز اور اپنے مذہب کے پرچار کرتے گروہوں کو معصوم لوگوں کو راہ حق سے بھٹکانے کیلئے سائنٹسٹ کی سازش لگ رہی تھی ۔
سائنسدان اس کائنات کے خود بخود وجود میں آنے کے دعویدار بنتے ہوئے انسان کو مختلف جانوروں کی جینیٹک تبدیلی بتاتے تو کبھی خدا کی ذات کو ماننے سے انکاری ہورہے تھے تو وہیں پر مذہبی پیشواؤں کو لوگوں کو مذہب کے نام پہ ذہنی غلام بنانے کے جرم میں کھلے عام قتل کیا جارہا تھا۔
ادھر مذہبی پیشواؤں میں اپنے بچاؤ اور لوگوں کو سائنسدانوں کی باتوں میں گمراہ ہونے سے بچانے کیلئے کچھ اقدامات کیے جارہے تھے تو اپنے اپنے مذہب اور دیوتائی نظریے کو بچانے کی خاطر سائنسدانوں کے قہر سے بچ جانے والے لوگوں نے ایک تنظیم بنا لی تھی اور پھر سست روی سے یہ کارواں بڑھنے لگا تھا۔
خود کو حق پہ ثابت کرنے کیلئے ہر جائزو ناجائز طریقہ استعمال کرتے ایلومیناتی کے پیشواؤں نے لوگوں کو بہت جلد اپنی طرف راغب کرلیا تھا ۔
کامیابی اور جسمانی ،ذہنی سکون کا موجب اپنے خداؤں ‘دیوتاؤں کی پرستش کا کہہ رہے تھےایسے میں دنیا کے سو کالڈ رول سے ستائے لوگ اپنا سکون اور کامیابی ڈھونڈنے کو لوسیفر نامی دیوتا کے غلام بننے لگے تھے۔
پریہان کے خون نے اسے کامیابی سے ہمکنار کیا تھا تو اپنی پستی کو بھی وہ لوسیفر کو ناراض کرنے سے منسوب کرتے پاگلوں کی طرح پریہان کو ڈھونڈ رہا تھا اور پریہان کا ملنا گو نا گو سکون کا احساس دلا رہا تھا۔
سر سبز پہاڑوں کے دامن میں بنا وہ لوسیفر کی پرستش کا مسکن اسوقت پریہان کی سسکیوں سے جاگ اٹھا تھا۔
“اٹھ جاؤ پیاری لڑکی دیکھو تو میری منزل کتنی قریب آچکی ہے۔”
ایک سائیہ اس پہ جھکا تو اس نے بھاری پپوٹوں کی زد میں آئی پلکوں کو بمشکل کھولا تھا۔
“آر۔جے”
“ارے واہ تم نے تو پہچان لیا مجھے چلو شاباش اٹھ جاؤ کچھ کھالو تمہارا زندہ رہنا میرے لیے کتنا ضروری ہے تم سوچ نہیں سکتی۔”
آر۔جے نے اسکے سلکی بالوں میں ہاتھ پھیرتے پچکارتے ہوئے کہا تھا۔پریہان کی آنکھوں سے گرم سیال بہنے لگا تھا جو رخساروں سے ہوتے بالوں میں جذب ہورہا تھا۔
“ارے کیا ہوا میری جان۔”
وہ اسے بچوں کی طرح پچکارتے اسکے آنسو صاف کرنے لگا تھا۔
“آخر میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے کیوں مجھے جینے نہیں دیتے؟”
وہ پرزور احتجاج کرتے اسکا ہاتھ جھٹکتے بولی تھی۔
“ارے میری معصوم جان تم نے ہی تو سنوارا ہے مجھے تو تمہارا یہی قصور ہے نا۔”
وہ اسے چھونے سے بعض نہیں آیا تھا۔صنف نازک اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
“تم ایک بار ہی مجھے موت دے دو۔”
وہ چیخی تھی ساتھ ہی سانس پھولنے لگی تھی آر۔جے نے وہاں موجود ڈاکٹر کو اشارہ کیا اور اسکے پاس سے اٹھ کے چلا گیا تھا۔
کتنی دیر وہ روتی رہی تھی اس وقت کو پچھتا رہی تھی جب وہ دورید کی ضد میں گھر سے نکلی تھی۔
دورید کا خیال آتے ہی وہ مضطرب ہوئی جانے اسے ناپاکے وہ کتنا پریشان ہورہا ہوگا۔




















دلہام کی آنکھ بار بار رنگ ہوتی سیل کی آواز پہ کھلی تھی۔مندی مندی آنکھوں سے اس نے سیل اٹھایا دورید کا نام جگمگا رہا تھا اس نے فوراً سے کال پک تھی جبکہ دوسری طرف سے دی جانے والی خبر نے گویا کچھ دیر اسکے حواس سلب کرلیے تھے ۔وہ بھاگتے قدموں میں کمرے میں آیا تھا ۔عناء جو کچھ دیر پہلے سوئی تھی اسے جھنجھوڑ کے اٹھایا تھا۔
“پریہان کہاں ہے عنادل۔۔”
اسکے چہرے سے وحشت ٹپک رہی تھی۔عناء خالی خولی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے دلہام بخت کی بات سمجھ ہی نہیں آرہی ہو۔
آر۔جے نے بڑے خوبصورت انداز میں اسے مختلف کیسوں میں پھنسا کے دلہام بخت کو گھر کے معملات سے ہٹایا تھا جسکا انجام بہت بھیانک نظر آرہا تھا۔
“پریہان کا بھلا مجھے کیسے پتا ہوگا دلہام بخت؟”
وہ الجھی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“عنادل ‘پریہان کہاں ہے کیا کیا ہے تم نے آر۔جے کے ساتھ مل کے بتاؤ فار گاڈ سیک بتاؤ پریہان کہاں ہے؟”
وہ پاگل ہورہا تھا ۔عناء اسکی حالت دیکھتے سہمی تھی۔
“تم ۔۔۔تم مجھے کل کی ایک ایک بات بتاؤ گی عناء ۔۔۔بتاؤ مجھے کیا ٹریپ بچھایا تم نے پریہان کیلئے ‘وہ بہت معصوم ہے عناء اگر اسے کچھ ہوگیا گاڈ پرامس میں سب کچھ ختم کردونگا ۔”
وہ سر کے بالوں کو دونوں ہاتھوں میں جکڑے چیخا تھا۔
پریہان کیلئے اسکی دیوانگی نے عناء کے دل میں مزید بدگمانی کی دراڑ پیدا کی تھی ۔دلہام بخت شاید اسکے عشق میں ڈوبا تھا ایسے میں عناء کا وجود بےمعنی تھا۔
“کیوں خاموش ہو تم ہاں ‘تمہاری تو خاموش رہتے سانس بند ہوتی تھی نا پھر آج کیوں چپ ہو تم۔”
وہ حلق کے بل چیخا تھا جب عناء کی برداشت کی حد ختم ہوئی۔اسکا مان ٹوٹ چکا تھا یہ طے تھا کہ اسے دلہام بخت کی زندگی میں نہیں رہنا ہے تبھی اسے سب لفظ بالفظ سچ بتاتی چلی گئی تھی۔
“تم نے میرا سیل۔۔۔”
دلہام کی آواز دکھ میں ڈوبی تھی۔اس لمحے دلہام کو افسوس ہوا کہ اس نے دورید سے رابطہ کیوں رکھا تھا۔
“سب ختم کردیا تم نے عناء۔۔۔سب۔۔”
ٹوٹا بکھرا دلہام زمین پہ گھٹنے ٹیکے بیٹھا تھا جب اسکے سیل پہ موسیٰ کی کال آنے لگی تھی۔اس نے ویران نگاہوں سے اس نام کو دیکھا اور آنکھیں بند کرلی تھیں۔
“رمز۔۔۔”
ایک اور نام اسکے دماغ میں گونجا تھا ۔شاید رمز اسے بتا سکے کہ وہ جہنمی شخص پریہان کو کہاں لے گیا تھا تبھی کال اٹھاتے اس نے موسیٰ کو رمز کو یہاں لے کے آنے کا کہا تھا۔کچھ دیر بعد ایک اور مجرم اسکے سامنے تھی۔
عناء نے طنزیہ نظروں سے ان سب کو دیکھا تھا کیسے لوگ تھے وہ۔
“موسیٰ اسے کہو یہاں سے چلی جائے۔”
عناء کی نگاہوں کا مفہوم سمجھتے باوجود کوشش کہ وہ خود پہ ضبط نہیں رکھ سکا تھا۔
“عناء بیبی۔۔۔”
موسیٰ نے درخواست نگار نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
“نہیں بلکل نہیں مجھے یہ دیکھنا ہے کہ ایمرے بخت کا بیٹا کس حد تک۔۔۔”
“موسیٰ۔۔۔۔”
دلہام کی آنکھیں سرخ ہورہی تھی موسیٰ کا دل چاہ رہا تھا وہ عناء کو کہیں غائب کردے وہ ایسا کچھ کرتا وہ خود ہی پاؤں پٹختی باہر نکل گئی تھی۔
“مجھے معاف کردیں بھائی میں بہک گئی تھی۔”
رمز اسکے پاؤں گری تھی وہیں رمز کی آواز نے باہر نکلتی عناء کو تجسس میں باہر رکنے پہ مجبور کیا تھا۔
“صرف ایک لفظ ۔۔۔۔سچ بولو رمز تم نے آر۔جے کو یہ سب کیوں کہا۔۔۔”
اس نے ٹی۔وی آن کرتے اسکی ویڈیو آن کی تھی۔
اسکے الفاظ پہ موسیٰ کے دل کا درد بڑھا تھا ۔یہ تو واضع تھا کہ وہ آر۔جے کے عشق میں تھی جبکہ رمز بےجان سی بیٹھی وہ سب دیکھ رہی تھی۔
“بھائی وہ۔۔۔۔۔”
وہ ایک ایک لفظ بالفظ اپنا جرم قبول کرتی گئی تھی۔
موسیٰ سے نکاح کے بعد ایک ان دیکھی قوت اسے بار بار موسیٰ سے باندھ رہی تھی جبکہ موسیٰ کا سرد اور اکھڑا انداز رمز کو مزید اسکا دیوانہ کررہا تھا۔
ایٹیوڈ لیول کا ایگریسو شخص کب اسکی ضرورت بن بیٹھا اسے پتا ہی نہیں چلا تھا تبھی وہ اپنی دوست کی۔مد میں اسے درباروں اور پیروں فقیروں سے مانگنے جاپہنچی تھی۔
ایسے ہی ایک دن وہ ایک اجتماع میں شرکت کرنے جاپہنچی تھی جب آر۔جے کی نگاہ اس پہ پڑی تھی۔
وہ پریشان حال سی دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی جب اپنے نام کی پکار پہ پیچھے مڑ کے دیکھا تھا۔
سچ میں پتھر ہوگئی تھی جب آر۔جے کو اتنے وقت بعد اپنے سامنے دیکھا تھا۔
“کیا یہ مزاحکہ خیز نہیں کہ ایک طرف دی گریٹ دلہام بخت عالمی سطع پہ ایلومیناتی کے خلاف مہم چلارہے ہیں اور انکی بہن یہاں ہیں؟”
آر۔جے نے طنزیہ نگاہیں اس پہ جمائی تھیں۔
“تم یہاں۔۔۔”
“آپ ۔۔۔”
آر۔جے نے اسکی تصیح کی تھی۔وہ اسے اگنور کرتے آگے بڑھنا چاہتی تھی جب آر۔جے کی آواز نے اسکے قدم روکے تِھے۔
“میں لاکھ برا سہی دلہام بخت سے دوستی کی لاج آج بھی ہے لیکن مجھے یہ قطعاً گوارہ نہیں کہ تم اس راہ پہ آؤ رمز بیٹا۔”
آر۔جے کا انداز ایسا تھا کہ رمز کو لگا جیسے سامنے دلہام ہی موجود ہو وہ جھٹکا کھا کے مڑی تھی۔
“بتاؤ مجھے تمہیں ایسی کونسی چیز یہاں کھینچ لائی یہ راستہ صیح نہیں ہے رمز بیٹا۔”
آر۔جے نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا تو وہ پل میں موم ہوتے سسک اٹھی تھی۔
“رمز بیٹا میرے ساتھ آئیں۔”
کتنے روپ تھے اس بہروپیے کے رمز کی آنکھوں پہ جیسے پٹی سی بندھ گئی تھی۔
وہ بھول چکی تھی کہ وہ وہیں شخص تھا جسکی وجہ سے وہ آج ان راہوں پہ آئی تھی۔وہ بہت جلدی اس پہ ٹرسٹ کرگئی تھی ۔
“محبت۔۔”
ایک ادسی آواز میں گھلی تھی۔
رمز مختصر انداز میں اسے اپنی اور موسیٰ کی کہانی بیان کرنے لگی تھی ۔
آر۔جے کیلئے یہ بات واقعی شاکنگ تھی کہ دلہام رمز اورموسیٰ کے نکاح سے انجان ہے جبکہ وہ تو اچھے سے جانتا تھا کہ موسیٰ کبھی دلہام کے اینگیسٹ جاکے کوئی فیصلہ نہیں کرتا۔
“بھائی ہماری محبت کو کبھی ایکسپٹ نہیں کریں گے ۔”
رمز نے سسکی بھری تو آر۔جے کے لب کھلے تھے۔
“کیوں آخر کیا برائی ہے موسیٰ میں؟”
“شاید انہیں موسیٰ اس حوالے سے پسند نہ آئے۔”
رمز حقیقتوں سے آگاہ تھی پھر بھی محبت نے بےبس کرچھوڑا تھا۔
“تم لوٹ جاؤ رمز اور یہاں کبھی نا آنا۔”
ساری داستان سننے کے بعد آر۔جے نے پھر سے سخت رویہ اپنایا تھا۔
رمز لوٹ گئی تھی پر یہ ہونے لگا تھا کہ آر۔جے اکثر اس سے ملنے اور کال پہ باتیں کرتے دلہام اور اپنے درمیان موجود گلٹ کو ڈسکس کرنے لگا تھا۔
ایسی ہی ایک شام وہ پریہان کا ذکر لے بیٹھا تھا۔
“میں نے پریہان کے ساتھ زیادتی کی ہے اور اسکا مدوا بھی میں ہی کرونگا۔”
آر۔جے کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔
“کیا وہ ٹھیک ہوسکتی ہے؟”
رمز نے آر۔جے پہ یقین کرلیا تھا۔
“ہاں رمز کچھ میڈیسنز ہیں جنکا استعمال صرف انہی لوگوں کو پتا ہے جو اپنے پیشنٹ کو اسکا عادی بناتے ہیں کیا تم میری اس میں مدد کروگی مجھے یقین ہے جب پریہان ٹھیک ہوجائے گی تو دلہام بھی مجھے معاف کردے گا میں اس سے جاکے معافی مانگ لونگا۔”
آر۔جے ندامت سے سرجھکائے کہہ رہا تھا۔رمز نے اسکا ساتھ دینے کی ہامی بھر لی تھی وہ بھٹک گیا تھا اب راہ راست پہ آنا چاہتا تھا تو رمز کیوں نہ بھلائی کرتی۔
پر پریہان کی بدتدریج خراب ہوتی حالت نے اسے چوکنا کیا تھا اور وہ آر۔جے سے سوال جواب کرنے لگی تھی۔
“آئیندہ میں اسکی میڈیسن ریپلیس نہیں کرونگی سنا تم نے۔”
وہ چیخ رہی تھی پر اگلا بندہ جیسے سن ہی نہیں رہا تھا۔بہت جلد ہی آر۔جے نے شرافت کا لبادہ اتار پھینکا تھا۔۔۔
“ایک ویڈیو بھیج رہا ہوں ذرا غور کرنا۔”
آر۔جے نے کال بند کرتے ساتھ ہی ایک ویڈیو بھیجی تھی رمز کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔
وہ اسکی دوست کے اپارٹمنٹ کی کچھ ویڈیوز تھیں جہاں وہ موسیٰ کو خود کے قریب ہونے پہ اکسا رہی تھی۔ دوبارہ بجتے سیل نے اسے چونکایا تھا۔
“امید ہے مزاج ٹھکانے آچکے ہونگے اب میری سنو لڑکی تم ویسے ہی کروگی جیسے میں کہہ رہا ہوں پریہان کو وہ میڈیسن دوگی تم ورنہ جانتی ہو اگر تمہاری دوست کے اپارٹمنٹ تک رسائی ہوسکتی میری تو تم اتنا میری پہنچ سے دور نہیں ہو ‘ورنہ’ کی ضرورت ہی نہیں صرف ایک بٹن کی بات ہے اور یہ ویڈیو اور اسکے ساتھ تمہارے ایلومیناتی کے پیروکار ہونے کے کئی ایک ثبوت میڈیا اور دلہام بخت کے سیل کی زینت بنیں گے۔”
وہ اسے مکمل تفصیل سے آگاہ کرتے کال بند کرچکا تھا۔
رمز کا دماغ ماؤف ہوکے رہ گیا تھا۔اسکے پاس اسکے سوا کوئی چارہ نہیں تھا اپنی محبت کی خاطر وہ دورید بخت کی محبت کو سولی پہ لٹکا دے ۔
وہ بےچین رہنے لگی تھی تبھی آر۔جے نے اسے سکون پہنچانے کو سلو پوائزن دینا شروع کردیا تھا۔
اپنے گھر کے رشتوں سے چھپن چھپائی کا کھیل اسوقت مزید سردرد بن گیا جب دورید پریہان کو یہاں سے لے گیا تھا۔
آر۔جے اپنی صاف شکست پہ پاگل ہواٹھا تھا۔
“پریہان نہیں ملی۔”
وہ آرزدہ سی اسے بتا رہی تھی۔
“بکواس بند کرو تم اپنی لڑکی جانتی ہو نا اگر وہ نا ملی تو تمہارا کیا حشر کرونگا میں۔”
وہ اسے دھمکا رہا تھا۔
رمز سہمی ہوئی ڈپریشن میں جارہی تھی وہیں موسیٰ کا اسے جھٹکنا ‘آر۔جے کا اسکی ڈرگز بند کرنا اسے ہاسپٹل لے گیا تھا جہاں اسکے رازوں کا خلاصہ سب سے پہلے موسیٰ کو ہوا تھا اور پھر اس پہ نگاہ رکھتے اس نے رمز کو کھوج لیا تھا ۔
وہ بری بن چکی تِھی پر اپنی پستیوں کی مزید کہانیاں سناتے وہ بچے ہوئے رنگ بھی کھونا نہیں چاہتی تھی۔
دلہام اور موسیٰ تاسف بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہے جبکہ دوسری طرف عناء کی سانس بند ہونے کو تھی اتنی بھیانک حقیقتیں۔
دلہام کو رمز سے ایسا کوئی کلو نہیں مل پارہا تھا جس سے وہ پریہان کو ڈھونڈ پاتا وہ مایوس سا کھڑا ہوا تھا جبھی موسیٰ بھی اسکے ہمراہ باہر کی طرف بڑھا۔
دروازے کھولتے ہی اسکا سامنا عناء سے ہوا تو اسکے چہرے پہ مزید سختی چھائی تھی۔
“دل۔۔۔۔”
“ان دونوں کو جہنم وصل کردو موسیٰ کیونکہ مجھے پریہان ان دونوں سے زیادہ عزیز ہے۔”
کسی فرعون کی طرح حکم دیتے وہ وہاں سے نکلتا گیا تھا۔عناء کو پہلی بار ٹھکرائے جانے کے درد کا احساس ہوا تھا۔
موسیٰ اور وہ دونوں جاچکے تھے جتنا وہ دونوں انہیں برباد کرسکتی تھیں برباد کرچکی تھیں اب آستین میں چھپے سانپوں سے زیادہ انہیں پریہان کی فکر تھی۔
وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے دلہام بخت کو خود سے دور جاتا دیکھ رہی تھی جبھی رمز کی نظر اس پہ پڑی تھی وہ بھاگتے ہوئے اسکے گلے سے آلگی تھی جبکہ وہ چھوٹا سا کاٹیج ان دونوں کی بلکتی آوازوں کو سنتے رورہا تھا کوئی بھی نہیں جانتا تھا آنے والا وقت انکی زندگی کو کس موڑ پہ لے کے جاتا تھا۔
ایک چوٹ پڑی اور ٹھیس لگی
میرے سوہنا پیا میں ہار گئی
تیرے پیار کی چھایا روٹھ گئی
میں دھوپ جلی من وار گئی۔۔۔۔۔۔
Part 2
وہ دونوں اجڑے دیار کا منظر پیش کرتیں اپنی اپنی سوچوں میں غرق تھیں انکا سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ انہوں نے اپنے محرم رشتوں پہ اعتبار کرنے کی بجائے ایک غیر شخص سے اپنے مسائل ڈسکس کیے تھا جسکا بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھایا گیا تھا۔
وہ دونوں ہی پریہان کی دشمن بنی تھیں ایک اسے موت کا راستہ دکھاتی رہی تو دوسری اسے موت کی وادیوں میں دھکیل آئی تھی۔
وہ دونوں ہی اپنے اپنے محرم کیلئے حدیں پھلانگ گئی تھیں اور اگر پریہان کو کچھ ہوگیا تو؟
اپنوں کو تہی داماں کرنے والے اکثر چاک گریبان ‘سینہ کوبی کرتے ماتم زدہ رہتے ہیں ایسے ہی انکا حال تھا۔
محبت شناس لوگ دوسروں کے دلوں سے نہیں کھیلتے’محبت شناس لوگ پہلے یقین کرنا سیکھتے ہیں اور پھر محبوب کے رنگ میں رنگتے ہیں جبکہ یہاں تو الٹی نیا بہہ رہی تھی۔
دل درد سے پھٹا جارہا تھا تبھی آہیں زور پکڑنے لگی تھیں۔موسم کی شدت میں اضافہ ہوا تھا جو کسی بڑے طوفان کی آمد کا پتا دے رہا تھا۔
وہ دونوں ایک دوسرے سے کسی قسم کی کوئی بازپرس نہیں کرسکتی تھیں ۔
“رمز۔۔”
خاموشی کو توڑتی عناء کی آواز پہ اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
“ہوں۔۔۔”
“آر۔جے کون ہے؟”
عناء کو کچھ کہانی تو پتا تھی لیکن ابھی بھی کچھ سوال رہ گئے تھے۔رمز نے گہری سانس بھرتے اسے دلہام آرجے کی دوستی سے پریہان اور اسکے ساتھ موسیٰ اور اپنے ریلیشن کی حقیقت بھی واضع کی تو وہ خود کو اتہاہ گہرائیوں میں محسوس کرنے لگی تھی۔
دلہام نے اگر اسے آر۔جے سے دور رہنے کو کہا تھا تو وہ جیلسی نہیں تھی بلکہ وہ اسے لمحے سے بچنا چاہتا تھا جب وہ عناء کی ڈھال میں دلہام پہ بازی کھیل جائے اور عناء کی بےوقوف یا متجسس طبیعت نے دلہام کو توڑنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی اور پریہان۔۔
پریہان کا خیال آتے اسکا دل بیٹھنے لگا تھا کتنی معصوم تھی وہ جو بچپن سے ہی اتنے برے مصائب سے گزر رہی تھی۔
“کیا ہم پریہان کیلئے کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں؟”
رمز کی آواز نے اسکے گلٹ میں مزید اضافہ کیا تھا۔
“شاید نہیں۔”
عناء اس شاطر انسان کے منصوبوں کو سوچ رہی تھی۔
“کوئی کلیو کچھ جو ہمیں آر۔جے تک لے جائے؟”
رمز کی آنکھیِں برس رہی تھیں۔
“ایلومیناتی۔۔۔رمز کوئی ایسا شخص جو تمہیں یاد ہو جب تم ایلومیناتی کا حصہ بنی اور اسے آر۔جے کے آس پاس دیکھا ہو کچھ بھی ایسا؟”
عناء نے رمز کے ہاتھ تھامے تھے۔رمز کے دماغ میں کچھ دھندلے عکس تھے پر واضع نہیں۔
رمز نے نفی میں سر ہلایا تو عناء مایوس ہوئی تھی۔
“انکے سینٹر ایسا کچھ میں آر۔جے کو یہی ملی انہی وادیوں میں جب بھی ملی ہوں تو یقیناً یہاں اسکا کوئی ٹھکانہ تو ہوگا نا؟”
عناء کی انوسٹی گیشن رمز کو بہت ارٹیٹ کرنے لگی تھی۔وہ اسکے سوالوں کے الجھے الجھے جواب دے رہی تھی جب عناء کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں۔رمز نے خوفزدہ انداز میں دیکھتے سر نفی میں ہلایا تھا۔
“مجھے یقین ہے پریہان یہی کہیں ہے ہمارے آس پاس۔”
عناء کی پرتقین انداز پہ رمز نے شاکی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
“دیکھو آر۔جے جانتا ہے دلہام اسے پاتال سے ڈھونڈنے کی بھی کوشش کرے گا لیکن وہ تمام جگہیں جن پہ دلہام کا دھیان نہیں جاسکتا وہ کونسی ہوسکتی ہیں سوچو؟اسکا کوئی ٹھکانہ جہاں اسے سکون میسر ہو اپنی عبادت کے نام پہ گھناؤنے جرائم سرزد کرنے کیلئے؟”
عناء رمز کے دماغ کے بند کواڑ کھولنے کی کوشش میں تھی۔وہ دونوں کافی دیر دماغ لڑاتے انٹرنیٹ تک جاپہنچی تھیں۔ایلومیناتی کے پیروکار لوگ جو سرائے ڈھونڈتے تھے وہ انسانی بستیوں سے دور پرسکون جگہوں پہ ہوتے ہیں جہاں ذرا بھی چرند پرند یا کسی قسم کے شور کی آواز انہیں ڈسٹرب نہ کرے ایسا وہ اسیلئے بھی سوچتے تھے کہ وہ اپنے خدا سے کلام کرنے میں ناکام رہ جاتے(معاذاللّٰہ )
لوسیفر’شیطاین کا خدا)
“لیکن ہم اسے کیسے ڈھونڈیں گے اسکیلئے بہت مشکل ہوجائے گا عناء بالفرض وہ یہاں آس پاس بھی کہیں ہے تو اتنے بڑے پہاڑوں اور جنگلوں کے درمیان ڈھونڈنا وہ بھی اتنے خراب موسم میں کیا یہ ممکن ہے اور بھائی۔۔۔”
رمز کسی بھی قسم کی نئی بےوقوفی سے بچنا چاہتی تھی۔
“مت بھولو رمز یہ سب کچھ جو ہوا اس میں ہم سب سے زیادہ قصوروار ہیں اور ہم ہی پریہان کو سیو کرکے اپنی پوزیشن کلئیر کرسکتے ہیں چیزیں شاید بہتر ہوجائیں۔”
عناء کا گلٹ اسے سکون نہیں لینے دے رہا تھا ۔آخر کو انہوں نے نکلنے کا فیصلہ کیا تھا۔
وہ دونوں سب سے پہلے اردگرد کے ڈھابے اور ہوٹلوں میں آر۔جے کی تصاویر دکھاتے اسکی موجودگی جاننا چاہ رہی تھیں ۔پر وہاں سے ماسوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں لگا تھا ۔انکا پہلا قدم ہی بہت برے طریقے سے فیل ہوگیا تھا۔
وہ شکستہ حال گھر کی طرف بڑھ رہی تھیں جب کچھ سوچ کے عناء نے گھر سے مخالف سمت کے راستے پہ چلنا شروع کردیا تھا۔
“عناء ہم بھٹک جائیں گے۔”
رمز نے خوفزدہ ہوتے ہوئے کہا تھا۔
“آر۔جے ہمیشہ اسی راستے پہ گم ہوتا تھا یہی کہیں آس پاس نہیں تو کچھ دور سہی اسکا ٹھکانہ ضرور ہوگا۔”
عناء پریقین تھی رمز کے پاس بھی اسکی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
طویل مسافت طے کرتے پہاڑوں کے درمیان درختوں میں کی آڑ میں چھوٹی سی مسجد نظر آئی تھی۔
رمز کا پیاس سے برا حال تھا تبھی وہ پانی کی آس میں یہاں تک پہنچی تھیں۔رمز کی۔معاونت میں عناء بھی بوجھل قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی جب پتوں کے چر چرانے کی آواز پہ وہ چونکی تھیں شاید کوئی انکی طرف ہی آرہا تھا۔
عناء کو ٹینشن ہوئی کہیں موسیٰ اور دلہام تو نہیں چلے آئے رمز کے بھی ہاتھ پاؤں پھولے تھے جبھی وہ دونوں برف کی چادر میں ڈھکے درخت کے پیچھت چھپی تھیں۔
سامنے ہی سر تا پیر تک لمبا اوور کوٹ پہنے ایک شخص آرہا تھا جسکے ہاتھ میں بیگ تھا۔ان دونوں نے سکون کا سانس لیا عناء کھڑی ہونے لگی تھی جب رمز نے اسے کھینچ کے واپس بٹھایا تھا۔
“کیا ہوا ہم یہاں نہیں رک سکتے ہمہیں آر۔جے کا گھر ڈھونڈنا ہے شاید کوئی۔۔۔”
“ششش عناء میں اس شخص کو جانتی ہوں یہ آر۔جے کا ساتھی ہے میں نے اسے دیکھا تھا وہاں ۔”
رمز نے اسکے سر پہ گویا بلاسٹ کیا تھا ۔عناء کو یقین نہیں تھا کہ منزل اتنی آسانی سے مل سکتی ہے۔وہ شخص تیز تیز قدم اٹھائے درختوں سے جھانکتے سفید گنبد میں گم ہوا تھا۔
“وہ مسجد کیوں جارہاہے؟”
عناء الجھی نظروں سے رمز کو دیکھنے لگی تھی۔
“ایسے لوگ کسی پہ اپنا مذہب ظاہر نہیں کرتے کیونکہ۔۔۔”
عناء کا سیل بج اٹھا تھا دل کا سائن اسکی دھڑکن تیز کرگیا تھا ۔
“دل۔۔دلہام ۔۔”
عناء کی سانس اٹکی تھی ۔ہوائیاں تو رمز کے چہرے سے بھی اڑی تھیں۔
“عناء اب کیا ہوگا؟”
ان دونوں کی توجہ اس شخص سے ہٹ گئی تھی انکی نئی پریشانی دلہام کی کال تھی۔
“پک اپ دا کال ڈیمڈ۔۔۔”
دلہام کا مسیج سکرین پہ چمکا تھا اسکے بعد دوبارہ کال آنے لگی تھی۔
عناء نے آنکھیں بند کرتے خود کو حوصلہ دیتے کال اٹھائی تھی۔
“کیا مصیبت کھڑی کرنے لگی ہو عناء میڈم بتائیں گی آپ کچھ کیوں میری زندگی کا عذاب بن رہی ہیں آپ؟”
دلہام کی آواز میں کوئی رعایت کی گنجائش نہیں تھی۔
“مجھے ایک بار پریہان کے معمالے سے نکلنے دو اسکے بعد یہ رشتہ ختم ہی سمجھو تم۔”
عناء کی سانس چھننے کی تیاری مکمل تھی۔
“گھر پہنچو رائٹ ناؤ۔”
اگلا حکم صادر کرتے اس نے کال بند کی تھی۔
جانے کیوں دلہام کو یقین تھا کہ اسکی دھمکیوں کے زیر اثر وہ بات مان لے گی پر عناء نے تو سر پہ کفن لپیٹا تھا۔
“کیا کہا بھائی نے؟”
عناء کو گم صم دیکھتے رمز نے پریشانی سے پوچھا۔عناء نے رمز کی بوکھلاہٹ دیکھی دماغ دلہام کی طرف تھا تو دل ویران ہونے لگا تھا۔
اس نے نفی میں سر ہلاتے رمز کا ہاتھ تھاما فیصلہ لمحوں میں ہوا تھا اگر بچھڑنا مقدر میں لکھا گیا تھا تو کیوں نا وہ ایک نیکی ہی کرلیتی۔
“عناء۔۔۔”
رمز سراسیمہ سی تھی۔
“وہ شخص باہر نہیں آیا؟”
کیونکہ مسجد پہاڑ کے ساتھ نتھی کی گئی تھی ایسے میں آنے جانے کا ایک ہی راستہ تھا تو اب تک اسے باہر آجانا چاہیئے تھا۔
رمز کی کونسی اس پہ توجہ تھی وہ الجھی ٹہری تھی۔عناء نے گہری سانس بھرتے قدم آگے بڑھائے تھے سر ویسے ہی ڈھکا تھا پر ذرا سا کوٹ اوپر کو سرکاتے لبوں سے ناک تک مزید ڈھکنے کی کوشش کرتیں وہ آگے بڑھی تھیں۔
مسجد کیا تھی صرف تین افراد کے نماز پڑھنے کی جگہ تھی۔وہ مایوس سی اردگرد کا جائزہ لینے لگی تھیں شاید وہ شخص دلہام کی کال کے دوران ہی نکل گیا تھا کہیں۔
مایوسی کی ایک گہری چادر تھی ہر طرف رمز کا خود پہ اختیار نہیں رہا تھا تبھی وہ رونے لگی تھی ایک امید کی کرن نظر آئی تھی وہ بھی گنوا دی۔
پانی کی پیاس تک احساس بھی ختم ہوچکا تھا وہ آگے بڑھنے لگی تھیں جب عناء کی نظریں برف پہ کچھ کھوجنے لگی تھیں۔
“رمز یہاں آنے کے نشان تو ہیں پر واپس جانے کے نہیں ایسا کیوں؟”
عناء کا ماتھا ٹھنکا تھا۔
“کیوں؟”
رمز الجھی تھی۔
“کیونکہ وہ شخص یہاں سے گیا ہی نہیں اور آگے۔۔۔۔”
کچھ لمحے خاموش ہوتے اس نے مکمل جائزہ لیا کہیں کچھ بھی نہیں تھا جس سے انہیں اندازہ ہوتا کہ وہ شخص کہاں گیا۔
“کیا وہ بھوت تھا؟”
رمز کی سانس اٹکی۔
“تمہیں اسوقت مذاق سوجھ رہا رمز وہ شخص آگے گیانہی نہیں اسکا مطلب وہ یہی آکے رک گیا اسکے بعد؟…”
وہ سفید ماربل پہ بیٹھتے گہرائی سے اسکا جائزہ لینے لگی تھی جہاں پہ کسی قسم کے قدموں کے نشان نہیں تھے۔
عناء کا سیل ایک بار پھر بج اٹھا تھا خوف کے مارے اسے نے بنا دیکھے کال کٹ کردی تھی۔
دلہام حددرجہ پریشان تھا کہیں سے کامیابی کا کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ اسے ڈھونڈے کیسے دورید بھی جو اسلام آباد تھا پاگلوں کی طرح پریہان کی ایک جھلک دیکھنے کو ڈگر ڈگر ،نگر نگر اسکی تصویر لیے کھوج رہا تھا ۔موسیٰ کو کچھ کلیو ملا تھا پر وہاں سے خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تھی۔
“سر پریہان بیبی اور رمز بیبی کافی دیر سے گھر سے نکلی ہیں گارڈ کا کہنا ہے اس نے آس پاس کافی جگہوں پہ دیکھ لیا پر وہ کہیں بھی نہیں ہیں۔”
موسیٰ نے دلہام کے سر پہ آخری بلاسٹ کیا دلہام کا دل چاہا وہ ان دونوں کو ہی شوٹ کردے۔کہاں پریہان کی ٹینشن اور عناء سے اسے کبھی عقلمندی کی امید نہیں تھی۔
تبھی وہ بار بار کال کررہا تھا پر عناء کا کال کٹ کرنا اسے سیخ پا کرگیا تھا۔
“موسیٰ لوکیشن ٹریس کرو عنادل کی۔”
وہ غصے میں بھی دوسروں کے سامنے اسے ڈی گریڈ نہیں کرپایا تھا۔موسیٰ فوراً الرٹ ہوا تھا۔
ادھر عناء اور رمز ایک خوف میں جکڑی تھیں ایک دم سے وہ جگہ پرسرار سی نظر آنے لگی تھی۔
عناء اس مسجد کی ساخت کا بھرپور جائزہ لینے لگی تھی دوسری طرف دلہام کی کال پہ عہ اتنی بیزار تھی کہ سیل آف کردیا تھا۔
“عناء مجھے یہ جگہ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ہمیں جانا چاہیئے یہاں سے۔”
رمز لڑکھڑاتی آواز میں بولی تھی۔
“سوچو رمز اگر پریہان یہاں ہوئی تو؟”
عناء کی آنکھیں امید سے چمک رہی تھیں رمز کی آنکھیں ایک بار پھر سے اشک بار ہوئی تھی۔
“کیا ہمیں بھائی کو اس جگہ کے بارے میں بتانا چاہیئے آئی۔میں۔۔”
“نہیں رمز اب جو کرنا ہے ہمیں ہی کرنا ہے بی۔بریو۔”
وہ اسکا کندھا تھپتھپاتے بولی تھی پر کوئی سرا ہاتھ ہی نہیں آرہا تھا ۔جب رمز کی نظر مسجد کے ایک کونے سے برف کی تہہ میں تھوڑی مٹی گھلی نظر آئی تھی پر وہ اسے نارمل سمجھتے سر جھٹک گئی تھی۔
“ہمیں اس جگہ کو واچ کرنا ہوگا۔”
عناء سے جب کچھ نہیں بن پایا تو وہ دونوں پھر سے جھاڑیوں میں جاچھپی تھیں۔رات کے سائے گہرے پڑنے لگے تھے ۔انہیں انتظار کرتے تقریباً آدھا گھنٹہ ہوا تھا جب ایک بار پھر سے مسجد سے کی طرف سے آتا وہ شخص دکھائی دیا تھا۔
وہ دونوں سانس بند کیے بیٹھی تھیں پر اس بار وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اسکے پیچھے دو اور آدمی بھی تھے جو سیاہ لباس میں ملبوس تھے۔
جنگل کی طرف بڑھتے وہ لوگ اس میں گم ہوگئے تھے۔
“عناء کچھ ہے یہاں ایسا جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے۔”
رمز باقاعدہ رو پڑی تھی جو مسلسل ہی وہ کام کررہی تھی۔عناء کا سر بھی سر پھٹنے لگا تھا۔
“کیا ہورہا ہے یہ؟”
دلہام کی آواز پہ عناء کو جھٹکا لگا تھا جو اسکے سر پہ ہی ٹہرا تھا۔
“وہ میں۔۔۔ہم۔۔”
“شٹ اپ ‘شٹ اپ تمہیں ایک بار کا کہا سمجھ نہیں آتا کہ۔۔۔”
دلہام کے لفظ کہیں گھو گئے تھے ۔
جب عناء ہر ستم بھلائے روتے ہوئے اسکے سینے سے لگی تھی۔
“آئی۔ایم سوری دل مجھے معاف کردو میں نے پریہان کو تکیلف دی میں اسے ڈھونڈنا چاہتی ۔۔”
دلہام نے اسے پیچھے کیا تھا۔
“گھر چلو تم لوگ۔”
کچھ بھی کہے بغیر وہ واپس جانے کو مڑا تھا موسیٰ بھی اسی کا ہمقدم تھا جبکہ کچھ دور ہی دلہام کے فارڈذ ٹہرے تھے۔
عناء اور رمز اپنی جگہ سے ٹس مس نہیں ہوئی تھیں۔
“ہمیں لگتا ہے شاید ہم پریہان تک پہنچ گئے ہیں۔”
عناء نے گلوگیر انداز میں کہتے موسیٰ اور دلہام کو اچھا خاصہ شاک دیا تھا۔
“اوہ ۔۔۔ایک اور ٹریپ کرنا کیا چاہ رہی ہیں آپ عناء محترمہ؟”
دلہام نے دانت پیسے اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اسکا گلہ دبا دے۔رمز تو دلہام کے سامنے نظر نہیں اٹھاتی تھی جبکہ موسیٰ کی نگاہیں اسی پہ ہی جمی تھیں آیا وہ کچھ کہتی یا چپ رہتی ۔
“یہاں مسجد میں کچھ ہے آئی ۔مین۔۔۔۔”
عناء اسے سب بتانے لگی تھی دلہام کو اسکی بات فضول بکواس سے زیادہ کچھ نہیں لگی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ ان دونوں کا گلٹ انہیں اتنا شرمندہ کررہا ہے کہ وہ کچھ بھی بولے جارہی ہیں خود کو کلئیر کرنے کی خاطر۔
“سر ایک بار چیک کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔”
موسیٰ کی بات پہ عناء کو ڈھارس بندھی تھی ۔
دلہام کے اشارے پہ گارڈ مسجد کے آس پاس سے برف ہٹانے لگے تھے پر ایسا کچھ نہیں تھا جو مشکوک لگتا اسیلئے ان دونوں کی بات کو بےبنیاد کرتے اس نے واپسی کا کہا تھا جب ایک بار پھر عناء بھاگتے ہوئے دوزانو اس پتھریلی مٹی پہ بیٹھی تھی۔
“یہ زمین ۔۔مم میرا مطلب یہ زمین تو ہے پر حقیقی نہیں۔”
عناء کی بات سنتے دلہام کا دل چاہا اسے پاس کہیں کھائی میں دھکا دے دے جبکہ موسیٰ اسکے برابر بیٹھتا بغور ایک ایک چیز کا جائزہ لے رہا تھا۔
عناء سچ کہہ رہی تھی وہ پلاسٹر آف پیرس سے بنائی گئی مصنوعی آرکیٹک کی گئی پتھروں اور مٹی سے بنی کچھ حصے پہ موجود دروازے نما جگہ تھی جسے تھوڑی سی کوشش کے بعد اٹھایا گیا تو اندر جیسے نیا جہان آباد تھا۔وہ بیسمنٹ کا حصہ تھا جو مکمل روشنیوں سے بھرا تھا۔
“بابا آپ ان دونوں کو لے کے جائیں یہاں سے۔”
دلہام کے سر سے درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں جبکہ دل کی دھڑکن بھی معمول سے ہٹ کے تیز تھی اگر عناء اور رمز کا شک صیح ہوا؟اگر یہ ٹھکانہ آر۔جے کا ہوا تو پریہان؟کیا وہ ٹھیک تھی تقریباً اسکی گمشدگی کو چھ گھنٹے گزر چکے تھے ۔
ادھر رمز اور عناء بھی ہاتھ مسلتے پریہان کی سلامتی کی دعائیں مانگنے لگی تھیں۔
“نہیں ہم پریہان کے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے۔”
عناء نے صاف انکار کیا تو دلہام کو ایک دم سے غصہ آیا تھا۔
“اوہ تو اسوقت یہ محبت کہاں تھی جب آپ محترمہ انکی موت کا سامان کررہی تھیں ۔”
دلہام کا لہجہ زہر میں ڈوبا تھا۔
“اور عناء بیبی اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پریہان بیبی یہی ہے؟”
کہیں نا کہیں موسیٰ بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ اور رمز یہاں سے چلی جائیں تبھی دلہام کا ساتھ دیا تھا۔
“نہیں ہم بلکل نہیں جائیں گے۔”
عناء کی ضد پہ دلہام ماتھا مسلنے اور ہونٹ چباتے اپنے اگریشن پہ قابو پانے کی کوشش کرنے لگا تھا اور پھر عناء کے کندھوں پہ ہاتھ رکھتے اسے اپنے سامنے کیا۔
“دیکھو اگر تم واقعی میں پریہان کی خیر خواہ ہو تو تمہیں یہاں سے جانا ہوگا دوسری صورت میں پہلے تمہارا گلہ گھونٹوں گا اسکے بعد کچھ اور سوچوں گا۔”
دلہام نے خود کو کام رکھنے کی کوشش کی پر وہ لڑکی اسکے ٹمپر کیلئے امتحان تھی جسکے ہوتے کوئی شخص نارمل نہیں رہ سکتا تھا۔
عناء نے کچھ دیر اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا اور پغر واپسی کیلئے قدم اٹھائے تھے۔رمز نے ایک نظر موسیٰ کو دیکھا جو اسے اپنی طرف متوجہ ہوتے دیکھ پیٹھ موڑ گیا تھا۔وہ دونوں ہی گارڈ بابا کے ہمراہ آہستہ آہستہ اس جگہ سے دور ہوتے گاڑی میں جابیٹھی تھیں۔
“گارڈ بابا پلیز ہمیں یہیں رہنے دیّں۔”
عناء آنکھوں میں آنسو بھرے منت بھرے انداز میں بولی۔تھی۔
“دیکھیں بیٹی دلہام بابا بہت ناراض ہونگے ‘پریہان بیبی جہاں ہونگی خیریت سے ہونگی لیکن ایسے میں آپ لوگوں کو زندگی کو رسک میں ڈالنا کہاں کی عقلمندی ہے۔”
عناء نے اس طرف دیکھا تھا جہاں وہ سب شاید اندر چلے گئے تھے۔
“نہیں بابا آپکو آپکے بچوں کا واسطہ آئی پرامس ہم آگے نہیں جائیں گے پر یہی پر ہی رہیں گے بس ہمیں یہاں رہنے دیں۔”
عناء کے ساتھ رمز بھی شامل ہوئی تھی گارڈ بابا خاموشی سے انہیں دیکھنے لگے تھے۔




















موسیٰ اور دلہام سہج سہج کے قدم رکھتے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے ۔شاید وہاں کوئی پارٹی چل رہی تھی جبھی بےہنگم میوزک تھا پر قریب آتے پتا چل رہا تھا کہ وہ میوزک نہیں کچھ مخصوص قسم کے منتر تھے جو پڑھے جارہے تھے۔
انتہائی سست روی سے وہ اس ہال نما کمرے کی طرف بڑھے تھے اگلہ لمحہ خون کھولانے والا تھا۔لوسیفر کے مجسمے کے سامنے تخت پہ پڑی وہ لڑکی کوئی اور نہیں پریہان ہی تھی جو مکمل سیاہ لباس میں ملبوس بےجان سی پڑی تھی جبکہ خون کی پتلی سی دھار ان سیاہ کپڑوں سے ہوتی قطرہ قطرہ زمین پہ گررہی تھی۔
دلہام کا دل بہت سے خدشوں میں گھرا تھا کہیں پریہان؟
آگے کی سوچ اسکا خون نچوڑنے کو کافی تھی۔
دلہام کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے ۔بظاہر آنکھیں بند کیے لوسیفر کے سامنے جھکے وہ لوگ بھی کچھ نا کچھ پڑھ رہے تھے۔
“سر؟”
موسیٰ نے آگے بڑھنے کی اجازت چاہی تھی دلہام نے سختی سے آنکھیں بھینچی تھی تبھی گارڈذ نے اندھا دھند فائر کھولے تھے۔جبتک کہ وہ لوگ ہوش میں آتے انکے کئی آدمی اوندھے منہ زمین پہ گرے تھے کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
کیونکہ یہ منتروں کا ورد آر۔جے کیلئے رکھوایا گیا تھا وہ اگلی صف میں موجود تھا ۔
اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھٹنے کو تیار تھیں اسکے آدھے ساتھ ادھ مرے زمین پہ پڑے تھے جبکہ باقیوں میں ہڑ بڑی سی مچی ہوئی تھی۔ان راگ الاپتے سروں میں انسانی چیخوں کی آوازیں دب رہی تھیں۔
“اندر کیا ہورہا ہوگا رمز۔”
عناء پریشان سی اسے دیکھ رہی تھی جو بند آنکھوں سے مسلسل دورید شریف کا ورد کررہی تھی۔
پولیس سائرن کی آواز پہ وہ لوگ چونکے تھے ۔موسیٰ نے دلہام کے ڈی۔ایس ۔پی دوست کو اندر داخل ہونے سے پہلے یہاں کی سچویشن بتائی تھی۔انہیں اس چیز کا شک تھا کہ اگر پریہان نہ سہی پر کچھ نہ کچھ تو مشکوک کام یہاں چل رہا تھا۔
گارڈ بابا نے آگے بڑھتے پولیس کی معاونت کی تھی۔
“ارے واہ دلہام بخت آخر تم ہمارے سرائے چلے ہی آئے ہو گڈ ٹو سی یو میرے یار۔”
آر۔جے خوش دلی سے اسکی طرف بڑھا جیسے دونوں میں بڑا یارانہ ہوجبکہ دلہام کی نظریں پریہان پہ ٹکی تھیں ۔وہ جب سے آئے تھے پریہان کے جسم میں کوئی حرکت نہیں ہوئی تھی۔
آر۔جے اسکی نظروں کامفہوم سمجھتے قہقہ لگاتے ہنسا تھا۔
“بڑی دیر کردی مہربان آتے آتے۔”
انتہائی خباثت بھرے انداز میں کہتے آر۔جے نے دلہام کو اشارہ کیا تھا۔اسکی رگوں میں دوڑتا خون فشار بنا تھا وہ چیل کی مانند آر۔جے پہ جھپٹا تھا آر۔جے بلکل بھی اس اچانک حملے کیلئے تیار نہیں تھا دوسرے لمحے وہ زمین بوس ہوا تھا جبکہ دلہام دیوانہ وار اسکے منہ اور سینہ پہ وار کررہا تھا۔
موسیٰ جو اسکے ساتھیوں کی ٹھکائی میں مصروف تھا بھاگ کے آر۔جے کو دلہام کی گرفت سے آذاد کروانے لگا تھاکیونکہ وہ اگر مرجاتا تو شاید یہ اسکے گناہوں کی عام سزا ہوتی اسی وقت پولیس کی بھاری نفری اندر داخل ہوئی تھی موسیٰ دلہام کو دھکا دیتے آر۔جے کو اپنی گرفت میں لےگیا تھا جو بھی تھا پرسنل اٹیک شاید دلہام کے سیاسی کرئیر پہ منفی اثرات مرتب کرتا۔
پولیس نے منٹوں میں اس جگہ کو قبضے میں لیا تھا۔
دلہام نے ایک چادر اٹھاتے پریہان کو اوڑھائی تھی اور اسے لیے سیڑھیوں کی طرف بھاگا موسیٰ بھی اسکے پیچھے تھا۔
وہ جو گارڈ بابا کے جانے سے دوبارہ اس مسجد نامی جگہ کے قریب آرہی تھیں دلہام کی گرفت میں ایک وجود کو دیکھتےاسکی طرف بھاگی تھیں۔
“موسیٰ۔۔۔”
عناء کو سامنے دیکھتے دلہام کے قدم تھمے
تھے وہ پریہان کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی دلہام کی دھاڑ پہ اپنی جگہ رکی تھی۔
موسی نے عناء کے سامنے ہاتھوں کی آڑ بنائی تھی جبکہ دلہام اس پہ قہر بھری نگاہ ڈالتے پریہان کا بےجان وجود گاڑی میں ڈالنے لگا تھا۔اگلے چند منٹوں میں وہ جگہ کھنڈر بن چکی تھی پولیس نے اسے دستی بم سے اڑا دیا تھا۔




















ہاسپٹل کا کوریڈور اس وقت گھمسان کی جنگ پیش کررہا تھا۔وہیں پاکستان کا بےلگام میڈیا ہر چیز کو ہائی لائٹ کرتے دلہام بخت کے فیملی پرسنلز کی دھجیاں اڑا رہا تھا کیونکہ پبلک پلیس پہ کئی ایک بار عناء اور آر۔جے کو ایک ساتھ دیکھا گیا تھا اور پھر پریہان کی گمشدگی کو بھی اپنے مطلب کا رنگ دیتے وہ لوگ دلہام کیلئے ایک امتحان بنے ہوئے تھے۔
ایسے میں ایک موسیٰ ہی تھا جو اسکے شانہ بشانہ ہر ایک چیز کو جیسٹفائی کررہا تھا۔دورید ابھی تک رمز اور عناء کے کارناموں سے انجان تھا اور اسے اسوقت کچھ چاہیئے تھا تو وہ پریہان کی زندگی جسکی ڈاکٹرز نے بہت کم امید دلائی تھی۔اسکیلئے بھی میڈیا کے عجیب وغریب سوال کسی معمے سے کم نہ تھے۔
موسیٰ میڈیا کے طوفان کو پیچھے کرتے آیا تو عناء نے پریہان سے ملنے کی ضد پکڑ لی تھی وہ ایک دنیا کو سمجھا سکتا تھا پر دلہام کی عنادل کو سمجھانا اسکیلئے ناممکن تھا پھر بھی وہ دلائل پیش کرنے میں مصروف تھا جب دلہام اسے عناء سے الجھتے دیکھ اسکے پاس آیا تھا۔
“تم جاؤ موسیٰ اور میں جب تک نہ آؤں پریہان کے روم کے سامنے سے ہٹنا مت ‘دورید کو تو اپنا ہوش نہیں وہ کیا دوستوں اور دشمنوں میں پہچان کرے گا۔”
موسیٰ کو انسٹرکشنز دیتے دلہام نے طنزیہ نظریں عناء پہ جمائے موسیٰ کو کہا تو وہ فوراً وہاں سے ہٹ گیا تھا۔
“دل میں۔۔۔”
عناء نے پھر سے صفائی دینی چاہی تھی جب وہ اسے کلائی سے تھامے ہاسپٹل سے باہر لایا تھا اور گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی گھر لے کے آیا تھا ۔پہاڑوں کی اونچی نیچی ڈھلوانوں پہ جتنی فاسٹ اس نے ڈرائیونگ کی تھی عناء کو کھائیاں موت کا مژگان سنانے ری تھیں۔
رمز نے روتی بلکتی عناء اور وحشت برساتے تاثرات لیے دلہام کو دیکھتے کونا پکڑا تھا وہ ناک سیدھی میں چلتے اسے کمرے میں لاتے روم لاک کرگیا تھا۔بنا کوئی رحم کھائے بیڈ پہ دھکیلا تھا ۔
“کیا دیکھنے آئی تھی تم وہاں ؟ہاں اب کوئی نئی چال نئی سازش کرنی رہ گئی ہے دلہام بخت کو برباد کرنے میں بتاؤ’بچی کچی سانسیں چھیننا چاہتی تھی نا تم پریہان کی کیونکہ تم کبھی شاہ بخت کے حویلی کے مکینوں سے محبت کر ہی نہیں سکتی ہو۔”
وہ غصے میں پھنکارتا شرٹ کے آستین کہنیوں تک چڑھا گیا تھا۔
“میں مانتی ہوں میں بھٹک گئی تھی مگر میرا اٹینشن پریہان کو نقصان پہنچانے کی نہیں تھی دل آئی سوئیر میں۔۔۔میں بتانا چاہتی تھی مگر اس رات آپ سننے پہ مائل ہی نہیں تھے کچھ تو میں۔”
عناء کی آواز رندھ گئی تھی دلہام نے کاٹدار نگاہیں اس پہ ڈالی۔ایک ہی دن میں وہ سب ہی تقریباً بہت فرسٹریٹڈ ہوچکے تھے کہ انکے چہرے ہی مرجھا گئے تھے۔
“دلہام میں۔۔۔۔”
“تم ہاسپٹل نہیں آؤ گی نا ہی رمز ۔۔اس معمالے سے نکلتے میں دیکھتا ہوں تمہارا کیا کرنا ہے کیونکہ اب یہ تو طے ہے کہ میری لائف میں کم از کم اب مزید دھوکا باز لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔”
دلہام اسے تقریباً سزا سناتے فریش ہونے کیلئے واشروم میں گھسا تھا۔ان گزرے چوبیس گھنٹوں نے پورے جسم کو پھوڑے کی مانند کردیا تھا۔وہ اوندھے منہ بیڈ پہ گرتے رونے لگی تھی ۔گرم بستر نے اسکی تھکان کو سمیٹا تو وہ روتے روتے ہی ہرطرف سے غافل ہوتے سوگئی تھی۔
دلہام خود کو ریلکس کرنے کیلئے طویل شاور لیتے باہر آیا تو وہ بےسدہ سورہی تھی۔سانسوں کے ردھم میں پیدا ہوتی ہلکی آواز اسکے گہری نیند میں ہونے کا پتا دے رہے تھے۔
ایک عصاب شکن جنگ کے بعد ان لوگوں کی زندگی میں شاید سکون در آیا تھا۔دلہام نے سیل اٹھائے موسیٰ کو مسیج کیا تھا اور میڈیا کا منہ بند کروانے کے ساتھ ساتھ دورید کو عناء اور رمز کی حرکتوں کے بارے میں نا بتانے کو کہا تھا اسکے اوکے کے مسیج کے ساتھ پریہان کی بہتر ہوتی طبیعت کی تسلی دی گئی تھی۔
شاید وہ چاہتا تھا کہ دلہام کچھ وقت خود کو آرام دے۔
صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے وہ یک ٹک عناء کو دیکھے جارہا تھا۔جتنا اس لڑکی نے ستایا تھا اس پہ وہ اسے مسلسل ذلیل کررہا تھا پر یہ کافی تھا اسکی سزا کو؟
اور اگر وہ اسکی سزا طویل کرتا تو کیا خود اسکے بغیر رہ پاتا؟
اپنا احتساب بھی ضروری ہوگیا تھا ۔
اس نے بھی عناء کو اتنا ٹرسٹ نہیں دیا تھا کہ وہ اس سے اپنی الجھنیں شئیر کرتی ۔اپنی ذات کو مزید طعنہ زنی سے بچانے کی خاطر اس نے عورت کی متجسس طبیعت سے کھیلنے کی جو بساط بچھائی وہیں تباہی لائی تھی۔سوتے میں عناء نے سسکی بھری تھی وہ اٹھتے ہوئے اسکے پاس آیا تھا۔
اسکی کشش اپنی جانب کھینچنے لگی تھی تبھی دائیے ہاتھ کی انگلیاں اسکے رخساروں سے مس کی تھیں انجانے میں وہ اسکے چہرے سے آنسوں کے مٹے مٹے نشانوں کو مٹانے کی کوشش کررہا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا وہ اس ظالم لڑکی کی محبت سے انکاری ہوتے ہر ناتہ توڑ لے گا پر اتنا آسان کہا تھا محبت کے پیروکاروں کیلئے اپنے مرکز محور کی کشش ثقل سے ہٹنا۔
دلہام کے ہاتھ عناء کے الجھے بال سلجھانے لگے تھے۔اسکی آنکھوں میں نمی بھرنے لگی تھی۔
“بہت بری ہو تم عنادل بہت بری ایسا بھی کوئی کرتا ہے کیا اپنوں کی تکلیف کا سامان۔”
نیم سرگوشیوں میں ڈھلی آواز پہ وہ کسمسائی تھی۔
کب مری حلقۂ وحشت سے رہائی ہوئی ہے
دل نے اک اور بھی زنجیر بنائی ہوئی ہے
اور کیا ہے مرے دامن میں محبت کے سوا
یہی دولت مری محنت سے کمائی ہوئی ہے
عشق میں جرات تفریق نہیں قیس کو بھی
تو نے کیوں دشت میں دیوار اٹھائی ہوئی ہے
تیری صورت جو میں دیکھوں تو گماں ہوتا ہے
تو کوئی نظم ہے جو وجد میں آئی ہوئی ہے
اک پری زاد کے یادوں میں اتر آنے سے
زندگی وصل کی بارش میں نہائی ہوئی ہے
اپنی مٹی سے محبت ہے محبت ہے مجھے
اسی مٹی نے مری شان بڑھائی ہوئی ہے
سامنے بیٹھ کے دیکھا تھا اسے وصل کی رات
اور وہ رات ہی اعصاب پہ چھائی ہوئی ہے ۔۔۔۔
“باوجود تمہاری ہر خطا کے میری محبت اتنی اعلیٰ ظرف ضرور ہے عنادل کے میں تمہیں معاف کردوں لیکن کچھ تو اسکی سزا بنتی ہے تم نے اپنے دل کو توڑا ہے۔”
اس پہ نظریں جمائے دلہام نے اپنا آخری فیصلہ سنایا تھا اور ہاسپٹل جانے کیلئے کھڑا ہوگیا تھا۔
اگر ایک بار عناء آنکھیں کھول کے اپنی محبت میں عاجز انسان کو دیکھ لیتی تو اسکے پاؤں گر کے ہر خطا بھلانے کی درخواست کرلیتی۔




















“اتنا سب کچھ ہوگیا اور تم نے ہمیں بتانا گوارہ نہیں کیا اور یہ آر۔جے کونسی دشمنی نکالی ہے اس نے میرے معصوم بچوں سے۔”
اسوقت سبھی ہاسپٹل میں دلہام اور موسیٰ کی پیشی لگائے بیٹھے تھے ۔ایک سچ چھپانے کی خاطر ان لوگوں نے کتنے من گھڑت جھوٹ بولے تھے کہ دلہام سے کسی بات کا بدلہ لینے کی خاطر آر۔جے نے دورید اور پریہان کو اغوا کیا تھا جسکی وجہ سے پریہان کا نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا جبکہ پریہان کی کٹی کلائیوں کا جواب دینا ابھی باقی تھا جو ماسوائے دلہام اور دورید کے کسی نے نہیں دیکھی تھیں۔وہ لوگ تو تقریباً اپنے دیوتا کے سامنے اسکی قربانی دے چکے تھے پر معجزے بھی کبھی رونما ہوجاتے جو زندگی کی امید لائے تھے۔
پریہان پریگننٹ تھی دورید بھی نہیں جانتا تھا اور دلہام نے بھی ڈاکٹرز کو سختی سے منع کردیا تھا اس بات سے کہ وہ کچھ بھی دورید یا پریہان کو نہیں بتائیں گے۔
اسکے ہوش آتے جیسے وہاں زندگی دوڑ گئی تھی۔
بی۔جان اور دارا جان کی ضد پہ انہیں پرائیوٹ جہاز پہ ہی حویلی شفٹ کردیا گیا تھا۔دلہام اپنے ضروری کام نبٹانے میں مصروف تھا جبکہ موسیٰ اور رمز اپنے آنے والی زندگی کے فیصلوں سے انجان تھے دلہام نے ان دونوں کو ہی حویلی والوں کے سامنے آنے سے روک دیا تھا اسیلئے وہ اسوقت موسیٰ کی عارضی پناہ گاہ میں تھے۔
پریہان اور دورید کے معمالات سے فارغ ہوتے ہی اس نے ان دونوں کو بلوایا تھا۔
“عناء کیا تمہاری بھائی سے کوئی بات ہوئی اس معمالے پہ؟”
رمز پریشان تھی نجانے دلہام کیا فیصلہ کرنے والا تھا۔
“میں کچھ نہیں جانتی رمز وہ مجھ سے بات نہیں کرتے روم بھی چینج کرلیا ہے۔”
گویا اس نے اپنی سزا کا خلاصہ کیا تو رمز گہری سانس بھر کے رہ گئی تھی۔
دلہام اور موسیٰ کے آنے سے انکے مضطرب دل مزید پریشان ہوئے تھے دلہام نے ایک فائل لا کے انکے سامنے رکھی تھی۔موسیٰ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں ۔رمز چور نگاہوں سے اسکے تاثرات جانچنا چاہتی تھی جو بلکل سپاٹ تھے۔
“میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمہارا اور موسیٰ کا ڈائیورس کروادیا جائے تاکہ تمہیں احساس ہوکہ محبت کے بغیر جینے کا تصور کیسا ہوتا۔”
دلہام کا سپاٹ انداز نہ صرف رمز کی جان نکالنے کو کافی تھا بلکہ عناء بھی ساکت ہوگئی تھی۔
کیا وہ اس بات سے انجان تھا کہ رمز ایک محبت کی خاطر اتنا کچھ کیا اور اسکا بھائی وہی محبت اس سے چھین لے گا۔
“ڈائیورس کے بعد موسیٰ تمہیں حویلی چھوڑ دے گا آگے کے معملات میں خود دیکھ لونگا۔”
ہررعایت سے عاری انداز بےرحمی کے سنگھساسن پہ بیٹھا شخص دیکھتے عناء کا مزید چپ رہنا محال ہوا تھا۔
“یہ کیا کہہ رہے ہیں کیا آپ نے موسیٰ اور رمز سے پوچھا ہے وہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟”
عناء کے چلانے پہ دلہام نے ایک ناگوار نگاہ اس پہ ڈالی تھی۔
“سائن کرو رمز۔۔”
خونخوار نگاہیں عناء پہ جمائے اس نے رمز کو کہا تھا اس سے پہلے کے وہ دلہام کے ہاتھ سے پن تھامتی عناء نے سامنے پڑے کاغذات اٹھاتے کئی ٹکڑوں میں تقسم کیے تھے۔
“خود اگر محبت نبھانی نہیں آتی تو دوسروں کی محبت میں قیدوں کا رول ادا نا کریں آپ اور موسیٰ بھائی آپ ؟کیا آپ خود کو مرد کہتے ہیں جو اپنی محبت کیلئے سٹینڈ نہیں لے سکتا کب تک اپنے مالک کے پیچھے لگ کے اپنی زندگی جینے سے انکاری ہونگے آپ۔اب تو آنکھیں کھولیں کیا رمز سے ناتہ توڑ کے خوش رہ لیں گے آپ؟”
وہ باغی فطرت لیے شولہ جوالہ بنی موسیٰ کے سامنے کھڑی تھی۔
دلہام کو پرانی عنادل کا روپ دیکھنے کو مل رہا تھا۔
“میں سر کے اگینسٹ نہیں جاسکتا رمز بیبی سے شادی کرنے کا فیصلہ انکا تھا اور آگے بھی جو وہ چاہیں۔”
موسیٰ کے جواب پہ دلہام کے لب کھلے تھے جبکہ عناء اور رمز نے اسے تاسف سے دیکھا تھا۔
کاغذات وہ پھاڑ چکی تھی اب وہاں رکنے کا کوئی خاص مدعا نہیں تھا تبھی موسیٰ نے واپسی کو قدم اٹھائے۔
“رکو موسیٰ تم رمز کو حویلی چھوڑ کے آؤگے اب اس معمالے کو شاہ بخت حویلی والے ہی دیکھیں گے۔”
دلہام کی نظریں ہنوذ عناء پہ ٹکی تھیں۔موسیٰ نے اثبات میں سر ہلاتے اجازت طلب نظروں سے دلہام کو دیکھا اور باہر نکل گیا رمز بھی جھکے سر سے اسکے پیچھے آئی تھی۔




















آدھی رات کا وقت تھا جب وہ آندھی طوفان بنی اسکے کمرے میں آئی تھی۔
“آئی ہیٹ یو مسٹر دلہام بخت ۔”
وہ جو اسکی اچانک آمد پہ چونکا تھا اسکے الفاظ سنتے ماتھے پہ بل پڑے۔
“کیا تم رات کے دو بجے مجھے یہ بتانے آئی تھی؟”
دلہام نے ابرو اچکائے پوچھا تو عناء کا دل چاہا اپنا یا پھر سامنے والے کا سرپھاڑ دے۔
“تم خود کو سمجھتے کیا ہو تمہیں ذرا ترس نہیں آیا رمز پہ؟”
وہ اسکے سامنے آٹکی تھی اسوقت وہ سونے کی تیاری میں مصروف تھا اور ابھی غسل لیتے فارغ ہوا تھا ۔
اسکے قریب آکے عناء کا چہرہ سرخ پڑا جو اسوقت بنا شرٹ صرف نائٹ ٹراؤذر میں ملبوس تھا۔
“کیا تم دونوں کو پریہان پہ ترس آیا تھا؟”
دلہام نے الٹا سوال داغا تو عناء کے گردن میں گلٹی سی ابھرتے معدوم ہوئی تھی۔
“غلطی ہوئی ہے پیشمان بھی تو ہیں ہم۔”
وہ دونوں کی وکیل بنی تھی۔
“میری بہنوں کے مسئلے مجھ پہ چھوڑ دو تم بتاؤ کیوں آئی ہو یہاں؟”
لائٹ براؤن سوٹ میں ملبوس شانوں پہ بھاری شال رکھے وہ باوجود ہزار ناراضگی کے دلہام کو ڈسٹرب کرگئی تھی تبھی اسے وہاں سے نکالنے کی خاطر وہ تیز آواز میں بولا تھا۔
“آپ نے اچھا نہیں کیا رمز کے ساتھ دلہام۔”
اسکی سوئی وہیں اٹکی تھی۔
“میں جانتا ہوں کیا کرنا ہے کیا نہیں تمہارا انجام بھی اس جیسا نہ ہو اسیلئے یہاں سے دفعان ہوجاؤ۔”
دلہام نے اسے باہر کا راستہ دکھانے کو باقاعدہ اشارہ کیا تو اسکے ضبط نے دامن چھوڑا تھا۔
اسے روٹھا صنم منانا تھا تبھی روتے ہوئے اسکے سینے میں اپنا پرانا مقام ڈھونڈنے لگی تھی پر دلہام اسے جھٹکتے کمرے سے نکل گیا تھا۔وہ خالی ہاتھ دیکھتی اپنی حرکتوں پہ مزید پشیمان ہوئی تھی۔




















گاڑی سبک روی سے وادیوں کا سفر طے کررہی تھی جبکہ وقفے وقفے سے ابھرتی رمز کی سسکیاں موسیٰ کا سکون برباد کررہی تھیں وہیں اسکی توجہ بھی ڈرائیونگ سے ہٹا رہی تھیں ۔گاڑی کے رکنے پہ اس نے موسیٰ کو دیکھا جو نیچے اترتے آگے بڑھ رہا تھا جہاں مجمع سا لگا ہوا تھا۔
“کیا ہوا اتنا رش کیوں ہے؟”
ایک ڈرائیور سے اس نے وجہ پوچھی۔
“صاحب لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے راستہ بند ہے۔”
“اوہ تو اب؟آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے کیا؟”
وہ پریشان ہوا اکیلا ہوتا تو مسئلہ نہیں تھا رمز بھی تو ساتھ تھی۔
اس ڈرائیور نے پیچھے جھانکا تھا۔
“آہکے ساتھ فیملی ہے؟”
موسیٰ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
“تو صاحب یہ راستہ تو کئی کئی دن بھی بند رہتا ہے آپ قریب کہیں ہوٹل دیکھ لیں۔”
وہ مفت کے مشورے سے نوازتا وہاں سے نکل گیا تو موسیٰ نے پریشانی سے ماتھا مسلا۔
“کیاہوا؟”
رمز کی آواز رونے کی وجہ سے بھاری ہورہی تھی ۔موسیٰ نے چونکتے ہوئے اسے دیکھا اور پھر نفی میں سرہلایا تھا۔
“راستہ بند ہے “
ایک جواب دیتے اس نے دلہام کو کال ملاتے سچویشن بتائی تھی وہ نا آگے جاسکتے تھے نا ہی پیچھے کا سفر آسان تھا تبھی درمیانی راہ نکالتے پہاڑوں کے کچے راستوں سے گزرتے وہ اسکے ساتھ ایک مقامی ہوٹل میں آیا تھا۔
اپنی ریپوٹشین برقرار رکھنے اسے ایک ہی روم بک کروانا پڑا تھا۔کمرے میں آتے ہی رمز کو گونا گو سکون کا احساس ہوا تھا۔باہر کی سردی ہڈیوں کو بھی مجمند کرنے والی تھی جبکہ موسیٰ کے سامنے ایک نئی پریشانی تھی وہاں پہ صرف ایک بیڈ کے سوا کچھ بھی ایسا نہ تھا جس پہ وہ رات گزار سکے۔
“بھوک لگی ہے مجھے۔”
رمز کی روہانسی آواز پہ وہ سراثبات میں ہلاتے اسکیلئے کھانا لینے گیا تھا۔واپسی پہ کھانے کے ساتھ ایک اور کمبل بھی اسکے پاس تھا۔رمز نے اس پہ کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔
کھانا کھاتے ہی وہ لیٹ گئی تھی جبکہ شاید احتجاجاً خاموشی اختیار رکھی یا پھر دلہام بخت کا فیصلہ قبول کرلیا تھا۔موسیٰ کو اسکی گہری چپ سے ایک الجھن ہورہی تِھی۔وہ شرمندہ تھی پر تب بھی وہ اس سے دستبردار نہیں ہونا چاہتی تھی اور اب اچانک چپ۔
اسکے سونے کا یقین کرتے اس نے خود کو تھوڑی سی جگہ ایڈجسٹ کیا تھا۔
آنکھیں موندیں تو پلکوں پہ کچھ منظر چلنے لگے تھے ۔
“میں چاہتا ہوں تم رمز سے یہ رشتہ نبھاؤ۔”
موسیٰ کے سامنے بیٹھے دلہام نے اسے شاک ہی تو دیا تھا۔
“اسے بھلا اپنی سزا ہی سمجھ لو کہ بہرحال غفلت تو تم نے بھی اپنی ذمداریوں سے برتی ہے۔”
اتنی خوبصورت سزا موسیٰ کو تو یقین ہی نہ تھا کہ اسکی خاموش محبت کو بھی منزل ملے گی۔
“لیکن اسکیلئے تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا۔”
دلہام کی بات پہ وہ چونکا تھا اور اسکا پلین سنتے موسیٰ نے بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی جس میں اسے رمز اور عناء کے سامنے جھوٹی ڈائیورس کا ناٹک کرنا تھا تاکہ وہ رمز کا ریکشن دیکھ سکیں پر عناء نے یہ نوبت ہی نہیں آنے دی تھی تبھی دلہام کو اپنا پلین بدلنا پڑا تھا اس نے بی جان اور دارا جان کو اعتماد میں لے کے سب کچھ بتا دیا انہیں بھی موسیٰ کی حثیت سے زیادہ ایمانداری نے متاثر کیا تھا جس نے کبھی رمز سے جائز رشتے ہوتے ہوئے بھی اپنی حدود نہیں پھلانگی تھیں۔
اپنے کمبل میں سمٹی رمز سردی کی شدت سے سمٹتی مزید اسکے قریب ہوئی تو وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آیا تھا۔گلابی کمبل چہرے سے تھوڑا سا ہٹا ہوا تھا وہ پریشان حال چہرہ نیند میں بھی اپنی داستان سنا رہا تھا۔
موسیٰ کو اندازہ ہورہا تھا کہ وہ مضبوط اعصاب کی مالک لڑکی واقع ہوئی تھی۔بےاختیار اسکا ہاتھ اس چاند کو چھونے کی خواہش کربیٹھا تھا۔
قربت تو پہلے بھی کئی بار رہی تھی پر یقین کی ڈور کبھی نہیں تھمائی گئی تھی۔اور آج یقین کی ڈور ہاتھ میں تھی تو دل کے تقاضے انکے درمیان رشتے کی نزاکتوں سے آگاہ کرنے لگا تھا۔
وہ اپنے چہرے کو ایک ہاتھ کی ہتھیلی پہ ٹکائے دوسرے ہاتھ سے اس چاند کی مکمل جھلک دیکھنےکو ہلکا سا کمبل سرکا گیا تھا۔وہ روشن چہرہ اسکے سامنے تھا ۔کتنا روتی رہی تھی وہ پورے راستے جبکہ اسکے پاس تمام اختیارات ہونے کے باوجود بھی ضبط کرکے بیٹھا رہا تھا۔
بےچین نیند سوتی رمز کی آنکھ موسیٰ کے لمس سے کھل گئی تھی ۔
“موسٰی۔۔۔”
اتنی قربت پہ اسکا دل پوری شدت سے دھڑکا تھا کہ من چاہا شخص پہلی بار خود سے اتنا قریب تھا۔
موسیٰ نے مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ کو اسکے لبوں پہ جمایا ۔آج اسے اپنا نام بےحد پیارا لگا تھا۔
“کیا یہ خواب ‘میں آنکھیں کھولونگی اور سب ختم۔۔۔بہت دور چلے جاؤ گے تم مجھ سے۔”
وہ حقیقت میں آئی تھی۔جس شخص کی خاطر وہ اپنوں سے بہت دور چلی گئی تھی آج وہ بھی دور جانے والا تھا۔
“نہیں میری جان یہی سب سے بڑا سچ ہے جو آپ اسوقت دیکھ رہی ہیں۔”
موسیٰ نے اپنی پیشانی کو اسکی ناک سے رگڑتے اپنے لمس کی تازگی بخشتے اسکی پرتپش الجھی سانسوں کو اپنے چہرے پہ محسوس کرتے کہا تھا۔
رمز کی آنکھوں سے ایک بےیقین پت جھڑ کی لڑی لگی تو موسیٰ نے بچا کچا فاصلہ سمیٹتے اسے اپنے بےحد قریب کرلیا تھا۔وہ بےتحاشہ رونے لگی تو موسیٰ نے اسے اپنے کشادہ سینے میں سموتے رونے دیا تھا۔
“میں مرجاؤں گی مجھے یہ گلٹ زندہ نہیں رہنے دے گا کہ میں پریہان کی زندگی سے کھیلا اپنے بھائی کی محبت کو خطرے میں ڈالا اور خود بھی خالی ہاتھ رہ گئی۔مجھے محبت راس نہیں آئی ‘مجھے پریہان اور دورید کی محبت کی آہ لگ گئی موسیٰ۔”
موسیٰ کو اسکے الفاظ دکھی کرنے لگے تھے۔اسے ایک دم سے خود پہ غصہ آنے لگا تھا اب ایسی کیا سزا دینی جوا ہوا قسمت میں ایسے لکھا تھا اور اس نے دلہام بخت کے چکر میں اس لڑکی کو مزید دکھی کردیا تھا۔
“آپکو ایک بات پتا ہے رمز۔۔۔”
اسکے آنسو کو لبوں سے چنتے موسیٰ نے سرگوشی کی تو وہ اس بات پہ دھیان نہیں دے سکی موسیٰ نے آج اسکا نام روایتی تعظیم کے بغیر لیا تھا۔
“ہوں۔۔۔”
وہ سراٹھائے اسے دیکھنے لگی تھی ۔
“آپ بہت برا روتی ہیں یہ دل دکھنے لگا ہے آپکو روتے دیکھ۔”
موسیٰ کی بات سنتے اسے لگا وہ اسکا مذاق اڑا رہا ہے۔
اس نے غصے میں اسکے پہلو سے ہٹنا چاہا تھا پر موسیٰ نے پہلی بار مکمل استحقاق جتاتے اسے دوبارہ اپنے پاس گرایا تھا۔
رمز کا دل پوری شدت سے دھڑکا تھا اسے موسیٰ میں کچھ بدلاؤ سا نظر آرہا تھا۔
“موسیٰ وہ بب۔۔بھائی۔۔۔”
“شش سالے صاحب کی تو بات ہی نہ کریں آپ اسوقت صرف یہ دیکھیں یہ تنہائی بہت کچھ ڈیمانڈ کررہی ہے ۔”
موسیٰ کے لبوں پہ شریر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔رمز بوکھلائی ۔
“کک۔۔کیسی ڈیمانڈ؟”
وہ اتنی بچی نہیں تھی کہ ان آنکھوِں کے معنی خیز انداز نا سمجھ پاتی تبھی انجان بنی تھی۔
“شاید آپکو اس کمبل میں سردی لگ رہی ہے تو اچھے شوہر ہونے کے ناتے میرا حق بنتا ہے آپکے آرام کا خیال رکھنے کا۔”
ذومعنی انداز میں کہتے اسے نے رمز کے گرد اپنا کمبل لپیٹا تو اسکی دھڑکنیں سیکنڈز میں دوڑنے لگی تھیں۔
” موسیٰ یہ سب کیوں میرا مطلب ہے تم تو مجھے۔۔۔”
موسیٰ نے اسکے لبوں پہ انگلی رکھتے اس مزید کچھ بولنے سے روکا تھا۔۔
چلو اک اور دنیا میں
تمہارے ساتھ چلتے ہیں..
جہاں حالات کچھ بھی ہوں
مگر ہم ساتھ رہتے ہوں
جہاں موسم کوئی بھی ہو
جدائی کا نہ ہو لیکن !
جہاں چاند بھی تم ہو،
جہاں سورج ، ہوا ، روشنی
خوشبوؤں کا رنگ تم سے ہو
جہاں پر دل دھڑکنے کا،
ہر اک احساس تم سے ہو
جہاں پر میرے جینے کی،
ساری آس تم سے ہو
چلو اک اور دنیا میں ،
تمہارے ساتھ چلتے ہیں۔۔۔
وہ بےیقینی سے موسیٰ کو تکے جارہی تھی آنسو ایک بار پھر ساتھی بنے تو موسیٰ نے انہیں سمیٹتے اسے خوشیوں بھرے لمحوں کی وعید سنائی تھی۔۔
وہ مسرور تھا کہ اسکی خاموش محبت کو زبان مل گئی تھی آگے کیا ہونا تھا وہ دلہام بخت نے سنبھالنے کا ذمہ لیا تھا۔
رمز پرتشکر تھی کہ معجزے اور دعائیں ایسے بھی رنگ لاتی ہیں۔رات ان کے ملن پہ مسکراتی گگن پہ کہکشاؤں کے ساتھ جشن منانے لگی تھی۔چاند نے ایک بادل کے ٹکڑے کی اوٹ میں چھپتے کہکشاؤں کو جگمگانے کا موقع دیا تھا۔




















پریہان نم آنکھوں سے وہ رپورٹ دیکھ رہی تھی جو اسکی دیکھ بھال کو رکھی گئی نرس غلطی سے چھوڑ گئی تھی۔
دورید کمرے میں داخل ہوا تو جیسے بھونچال اسکے انتظار میں تھا۔
“کیوں تم نے مجھ سے اتنی بڑی بات چھپائی دورید کیوں۔”
وہ چلاتے ہوئے ہاتھوں پہ لگی ای۔وی لائن کھینچ گئی تو خون کی ایک پتلی سی دھار اسکی نسوں سے نکلی تھی۔
“کام ڈاؤں وہاٹ ہیپنڈ کچھ بتاؤگی تم۔”
وہ اسکے دونوں ہاتھ تھامے اسے سہارا دیتے بولا تھا۔
“دورید۔۔۔میرا بچہ ۔۔دورید وہ۔۔۔”
پریہان اپنی بات مکمل ہی نہیں کرپائی تھی۔دورید کو اس سے بھی بڑھ کے شاک لگاتھا ۔وہ اسکے شانے پہ سرٹکائے رونے لگی تھی۔
“بی بریو پریہان ایسا کچھ نہیں ہے تمہیں مس انڈرسٹینڈمگ ہوئی ہے ورنہ۔۔۔۔”
دورید کی بات پہ اس نے غصے میں سراٹھائے وہ رپورٹ اسے پکڑائی تھی جسے دیکھتے دورید کے چہرے پہ الجھن کے آثار نمودار ہوئے تھے اور اسکی بات کی تصدیق ہوتے مانو چہرے سے خون نچڑ گیا تھا۔
اس نے فوراً دلہام کو کال ملائی تھی۔
وہ جو ابھی ناشتہ کرنے لگا تھا دورید کی کال فوراً اٹھائی تھی۔
“ہاں بولو دورید سب ٹھیک ہے نا پریہان کیسی ہے؟”
اندر آتی عناء بھی پریہان کے ذکر پہ الرٹ ہوئی تھی۔
“اوہ ۔۔۔ہاں تم صحیح کہہ رہے ہو مجھے بتا دینا چاہیئے تھا پر اسوقت سچویشن ہی ایسی تھی کہ۔۔۔”
دلہام اپنی صفائیاں پیش کررہا تھا ۔عناء کو انکی باتوں سے سمجھ نہیں آئی تھی کہ موضوع گفتگو کیا ہے۔
وہ دورید کو مطمئن کرتا کھڑا ہوگیا تھا۔
“دل بریک فاسٹ۔۔۔”
وہ جو اسے بریک فاسٹ کرنے کا کہہ رہی تھی دلہام نے اسے سخت نگاہوں سے دیکھتے ہاتھ اٹھائے مزید کچھ بولنے سے روک دیا تھا۔
“تمہاری وجہ سے آج دورید اور پریہان نے اپنا بچہ کھویا وہ خوشی جو انکے علم میں ہی نہیں تھی۔”
وہ تقریباً دھاڑتے ایک زوردار کک ٹیبل کو مارتے وہاں سے نکل گیا تھا۔عناء کا دل ہولایا تھا۔ایک بار پھر پچھتاوے ہی پچھتاوے تھے منظر پہ۔
دلہام بخت اسے خود سے میلوں دور نظر آرہا تھا۔آنکھیں خون چھلکانے لگی تھیں تبھی وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگی تھی۔دلہام جو کمرے سے والٹ لینے گیا تھا گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز پہ بھاگتے ہوئے کھڑکی سے جھانکا ۔عناء تیزی سے گاڑی وہاں سے نکال گئی تھی۔
“اوہ شٹ بیوقوف لڑکی۔”
دلہام بھاگتے قدموں سے باہر آیا پر اس وقت کوئی اور گاڑی بھی وہاں نہیں تھی۔وہ آفس کال کرتے دوسری گاڑی منگوانے لگا پر اسکے دھیان کے دھاگے بار بار عناء میں الجھے تھے ۔اگر اسکی گاڑی کا بیلنس بگڑا یا کچھ بھی ایسا ہوگیا ۔۔۔آگے کی سوچ آتے اسکا دل بند ہونے لگا تھا۔
اس نے بھی تو سزا طویل کردی تھی۔
وہ پریشان سا ٹہل رہا تھا جب اسکا سیل بج اٹھا تھا دوسری طرف کی بات سنتے اسکے چہرے کی ہوائیاں اڑی تھیں۔




















وہ فریش سی واشروم سے نکلی تھی جب موسیٰ نے فوراً اسے اپنی قید میں لیا تھا۔۔
نہ جھٹکو زلف سے پانی یہ موتی ٹوٹ جائیں گے
تمہارا کچھ نہ بگڑے گا مگر دل ٹوٹ جائیں گے
یہ بھیگی رات یہ بھیگا بدن یہ حسن کا عالم
یہ سب انداز مل کر دو جہاں کو لوٹ جائیں گے
یہ نازک لب ہیں یا آپس میں دو لپٹی ہوئی کلیاں
ذرا ان کو الگ کر دو ترنم پھوٹ جائیں گے
ہماری جان لے لے گا یہ نیچی آنکھ کا جادو
چلو اچھا ہوا مر کر جہاں سے چھوٹ جائیں گے
“موسیٰ۔۔”
وہ جھنجھلائی سی تھی بھلا کہاں اس نے موسیٰ کے یہ انداز دیکھے تھے جو بات بےبات شوخ جملے تو کبھی محبت جتلاتے اندازوں سے اسکا جینا دو بھر کررہا تھا۔
“یہ ناانصافی ہے میڈم ہم دور تھے تو آپکو ہی شکایتیں تِھیں سچ ہی کہا ہے کسی نے دور کے ڈھول سہانے۔”
وہ صاف اسے چڑا تھا اور رمز روہانسی ہورہی تھی۔
لینڈ سلائیڈنگ سے راستے کلئیر ہوئے تھے یا نہیں پر شاید موسیٰ کو وہ ہوٹل کچھ زیادہ پسند آگئی تھی تبھی انکا اسٹے وہاں طویل ہوچکا تھا۔
“جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے بس تم کبھی کبھی حد کردیتے ہو۔”
وہ کھڑکی سے باہر کے مناظر پہ نگاہ جمائے بولی تھی۔
“آج شاید پھر سے بارش ہوگی۔”
ٹھنڈی ہوا میں گہری سانس بھرتے اس نے پیشن گوئی تھی۔
“بادل تو ایک ہفتے سے خوب برس رہے ہیں زمین کی شاید پیاس ہی نہیں بجھ رہی ہے۔”
ذومعنی انداز میں کہتے اس نے رمز کو اپنے حصار میں لیا تھا۔رمز کا شرمایا للجایا روپ موسیٰ کو مزید اسکا دیوانہ بنا رہا تھا۔
“ہم حویلی کب واپس جائیں گے۔”
اس نے موسیٰ سے پوچھا جو اسکے شانے پہ سر ٹکائے ہوئے تھا۔
“میرا دل تو چاہتا ہے کبھی نہیں جائیں۔”
اس نے شوخی سے کہتے رمز کے رخساروں کو لبوں سے مس کیا تو وہ اسے گھورتے پیچھے دھکیلنے لگی تھی۔
“کچھ زیادہ ہی شوخے ہورہے ہوتم۔”
“ہاہہاہاہا۔۔۔۔آپ خود چاہتی تھیں میں ایسا بن جاؤں اور اب شکایت بھی آپکو ہے کمال کرتی ہیں بیبی جی۔”
شوخ انداز لیے لب سکڑے تھے اور فاصلہ بھی بڑھا تھا۔
موسیٰ کا سنجیدہ انداز دیکھتے رمز کا دل بیٹھنے لگا تھا۔
“موسیٰ پلیز۔۔۔”
وہ اسکے سینے میں آسمائی تو موسیٰ کے تیور بھی کچھ ٹھیک ہوئے تھے۔
“بارش ہورہی ہے۔”
اسکی بوجھل سرگوشی پہ رمز خود میں سمٹی تھی۔
اب کے ہر دن محبتوں کی بارش میں بھیگنے کا تھا۔
