Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 05)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

بخت حویلی کے فارم ہاؤس میں ہوئے تماشے کے بعد آج وہ پہلی بار کلاسز لینے آئی تھی جب دورید اسے ڈھونڈتا ہوا آیا تھا۔

“کیا یار تم نے بھائی سے شادی کا اتنا صدمہ لے لیا ہے کلاسز لینی بھی چھوڑ دی ہیں؟”

دورید اسکے ذہنی خلفشار سے ناآشنا اپنی بات کررہا تھا۔

“ہوں بس وہ بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تم سناؤ پھر کیسی گزری تمہارے دلہا بھائی کی دارا جان کے ساتھ؟”

عناء کیلئے زیادہ دیر ایک موڈ میں رہنا تقریباً ناممکن سا تھا۔

“انکی جو گزری سو گزری گھر میں سب دلام بخت کو کھونٹے سے لٹکانے والی سے ملنے کیلئے متجسس ہیں۔”

اس دن کی نسبت آج دورید کا انداز کافی حد تک ہلکا پھلکا تھا۔

“کیوں کیا اپنے کھونٹے پہ لٹکنے کا انتظار ہے اب؟”

عناء اپنی ہی بات پہ ہنسی تھی۔

دورید نے ناسمجھی سے اسکی فضول بات کو دیکھا۔

“ویل بتاؤ کب آرہے ہیں وہ اپنی دلاری بہو کو رخصت کروانے۔”

عناء کی آنکھیں کسی احساس کے تحت سلگی تھیں۔

“میں حیران ہوں یہ ہماری ٹاپر لڑکی ہے بےشرمی سے اپنے سسرال والوں کو بلا رہی ہے کہ مجھے آکے رخصت کرلو۔”

دورید نے اسکے بکواس سوالوں پہ گھورا تو عناء بھی اپنی جون میں واپس آئی تھی۔

“تو کیا ٹاپرز کے دل نہیں ہوتے انکا دل نہیں چاہتا دلہن بنیں جب اسپیشلی دلہا بخت جیسا ڈریم بوائے ہو، میریکلی آپکی لائف میں آجائے اور لائف اوسم سی بن جائے۔”

عناء کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔

“ہیں ہیں ایسی کایا پلٹ کل تک تو تم دلہام بخت کے نام ستے خار کھائے بیٹھی تھی۔”

دورید حیران تھا۔

“مشرقی لڑکی ہوں نا پتی سامان سو،سو۔”

عناء ایک ادا سے کہتی آگے بڑھ گئی تھی۔

دورید اس لڑکی کو اور اسکے مزاج کو دو سال بعد بھی نہیں سمجھ پایا تھا۔

ایگزامز کے فائنل ہوتے ہی پوری کلاس نے کہیں گھومنے کا پلین بنایا تو دورید کے فارم ہاؤس کا ڈیسائڈ کیا گیا جبکہ عناء کی شہ رگ پھر سے شرارتوِں پہ مائل نظر آئی وہ ان سب سے ہی آگے تھے دورید کے فارم ہاؤس کی تعریفوں کے پل باندھے۔

اس دن ہلکی پھلکی بارش کی کن من ہورہی تھی صبح سے ہی وہ سستی سے اپنے پلین پہ عمل کرنے کا سوچنے لگی تھی کہ دورید نے کال کی وہ اسے گاڑی بھجوا رہا ہے فارم ہاؤس آجائے وہ گومگو کیفیت میں مبتلا تھی جب بابا نے باہر گاڑی کی آمد کا بتایا ۔

کچھ سوچ کے وہ فارم ہاؤس آگئی تھی جب اسے احساس ہوا کہ وہ تو جلدی میں سیل فون ہی گھر چھوڑ آئی ہے۔

“سنو ڈرائیور باقی سب کہاں ہیں؟”

وہ گاڑی سےاترتے انکا پوچھنے لگی تھی ۔

“جی صاحب سامنے ڈرائینگ روم میں ہیں۔”

وہ مؤدب ساجواب دیتے گاڑی میں بیٹھ چکا تھاعناء اسکی بات سمجھتے اندر کی طرف بڑھ گئی۔

اس دن کی نسبت آج وہ فرصت سےفارم ہاؤس کا جائزہ لینے لگی تھی جسکی طویل سرسبز باؤنڈری کسی کرکٹ میدان کا منظر پیش کررہی تھی ایک طرف گھوڑوں کا اصطبل تھا جبکہ اسکے ساتھ مختلف پرندے بھی پنجروں میں قید نظر آئے۔

“اللّٰہ ہی پوچھے گا تم سے دلہام بخت ان معصوم پرندوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔”

وہ اسے من ہی من میں سناتے اندر داخل ہوئی تھی جب اندر داخل ہوتے اسکے قدم ٹھٹکے تھے۔

“تم یہاں کیا کررہی ہو؟”

دلہام اسے اپنے سامنے دیکھتے چلایا تھا۔

“آہستہ آہستہ کیاہوگیا ہے کون بہرا ہے بھلا یہاں ؟

ہر بات پہ چلانے سے اگر آپکو لگتا ہے آپ کوئی ہیرو ٹائپ لگو گے تو اس خواب فہمی سے نکل آئیں سوروڈ یو آر۔”

اسے سامنے دیکھتے دل عناء کا بھی سہما تھا لیکن اپنے خوف پہ اپنی زبان کو غلبہ دیا نجانے دورید والے کہاں تھے۔

“شٹ اپ میرے سوال کا جواب دو جو پوچھا ہے؟”

وہ اسکے قریب آتے اسکے بازو کو اپنے آہنی شکنجے میں لے گیا تھا۔

“دیکھیں میرے کیوٹ دلہا جی آپ نے جب جب عناء کا دل دکھایا ہے مشکل میں ہی پھنسے ہیں اسیلئے برائے مہربانی فاصلہ رکھیں آگے خطرہ ہے۔”

وہ فرصت سے اسکے بھاری ہاتھ پہ اپنا مومی ہاتھ رکھتے اسے بازو سے ہٹانا چاہتی تھی پھر دلہام کا ایک ہی جھٹکا کافی تھا جو اگلے سمے کٹی ہوڈالی کی طرح اسکے قریب تھی۔

“تم اپنی فضول کی باتوں سے دارا جان کو بھلا پھسلا سکتی ہو مجھے نہیں سیدھے سیدھے طریقے سے بتاؤ یہاں کیا کرنے آئی تھی۔”

دلہام کا اآہنی شکنجہ مضبوط پڑا تھا۔

“چوری کرنے آئی تھی دلہام بخت کا دل۔۔۔۔تو نہیں، سوچا اصطبل میں سے ایک آدھا من پسند گھوڑا چوری کرلونگی۔”

نفاست سے بات کا رخ موڑے وہ اسے ژچ کرچکی تھی۔

“امیر بخش،غنی موسیٰ کہاں مرگئے ہو سب کے سب یہ لڑکی اگلے پانچ منٹ میں یہاں سے غائب ہونی چاہیئے۔”

وہ اسے پیچھے کو دھکا دیے وہاں سے نکلتا گیا تھا اس بات سے انجان کے ایک ہلکی سی کراہ کے بعد وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہوچکی تھی۔

دورید جسے دلہام بخت سے فارم ہاؤس پہ آنے کی

پرمیشن نہیں ملی تھی بیچ راہ ہی انہوں نے اپنا پلین چینج کرلیا تھا جسکیلئے اس نے عناء کو بارہا مسیج بھی کیے تھےکہ ڈرائیور کو یہ ایڈرس بتا دے اور ڈرائیور بھی کال پک نہیں کررہا تھا اور عناء کی اپنی غفلت سے وہ اس ہٹلر کے آستانے پہنچ گئی تھی۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

وہ کمرے میں بیٹھا سگریٹ پھونک رہا تھا جبکہ موسم اپنے عروج پہ تھا دن کے بادل گرج گرج کے برس رہے تھے جب ہلکی ناک کرتے دورید اسکے کمرے میں آیا تھا۔

“کیسا رہا تمہارا ٹرپ؟”

دلہام نے سگریٹ ایش ٹرے میں پھینکتے اس سے پوچھا تھا۔

“اچھا رہا ہے بھائی پر وہ آپ سے ایک بات پوچھنی تھی۔”

اسکے غصے سے دب کے رہنے والا دورید کچھ الجھا سا تھا۔

“ہاں پوچھو کیا ہوا ہے کچھ چاہیئے کیا؟”

وہ اپنی چئیر سے اٹھتے کھڑکی کے پاس آرکا تھا جہاں بارش کی برستی بوندیں ایک عجب سا رومانوی ماحول پیدا کررہی تھیں اور دل کی اداسی حد سوا تھی۔

وہ لڑکی جس دن سے اسکی زندگی میں آئی تھی اسکی زندگی کو مزید بےسکون کرگئی تھی ۔

“بھائی وہ عناء۔۔۔”

دورید کی بات پہ اس نے جھٹکے سے قہر آلود نگاہوں سے اسے دیکھا تو نظریں جھکا گیا۔

“بولو اب کیا کارنامہ انجام دیا تمہاری دوست نے؟”

وہ اسکی پہلی بات کا اثر زائل کرنے کیلئے دوست پہ زور دے کے بولا تھا۔

دورید کچھ دیر متامل سا نظر آیا اگر اسے عناء کے بارے میں معلوم نہ ہوا تو؟

“بولو دورید؟”

دلہام بغور اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔

“وہ عناء کے بابا کی کال آئی ہے کہ وہ فارم ہاؤس کیلئے نکلی تھی آئی مین ڈرائیور کو میں نے ہی بھیجا تھا اسے لینے کیلئے لیکن مس کنٹیکٹ ہونے کی وجہ سے وہ شاید فارم ہاؤس چلی گئی اور پھر ابھی تک گھر نہیں گئی۔”

دورید نے بامشکل اپنی بات مکمل کی تھی جبکہ دلہام کو تو جیسے الیکٹرک شاک لگا تھا ۔

“تو کہاں گئی ہے وہ بیوقوف لڑکی اسے وہاں سے میں خود نکال کے آیا تھا دوبارہ پوچھو اسکے باپ سے۔”

دلہام کے لہجے سے چھلکتی اہانت سے بالاتر وہ عناء کی پریشانی میں سر ہلاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔

“کیا چیز ہیں آپ میڈم عنادل بیٹھے بیٹھائے نئی مصیبت ۔”

وہ مضطرب سا تھا شاید ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ جیسی بھی پاگل تھی پر تھی تو اسکے نکاح میں ہی تھی۔

وہ پیشانی مسلتے پھر سے کھڑکی کے قریب آرکا تھا جب ایک بجلی سی دماغ سے کوندی وہ بنا دیر بھاگتے ہوئے اپنے کمرے سے نکلا۔

“بھائی آپکیلئےدودھ۔”

اسکے کمرے کے پاس پہنچی رمز نے اسے باہر آتے دیکھا تو دودہ کا گلاس اسے پکڑانا چاہا۔

“دورید کہاں ہے؟”

بنا اسکی بات پہ توجہ دیے وہ بولا تھا۔

“شاید بابا جان کے پاس لیکن آپ یہ۔۔۔۔بھائی۔”

رمز نے اسے آواز دی پر وہ اپنے گرد چادر لپیٹے وہاں سے نکل گیا تھا۔بابا جان کے کمرے میں جھانکا تو دارا جان ،بی جان اور باقی سب بیٹھے نظر آئے تھے جبکہ دورید ان سے نظریں بچاتے موبائل پہ کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف ۔

کچھ دیر کنفیوژ سا ٹہرا وہ بنا دورید کو مخاطب کیے وہاں سے نکل آیا تھا اور بنا ڈرائیور کے خود ہی وہاں سے نکلتے فارم ہاؤس آیا تھا ۔

تمام ملازمین اسے دیکھتے الرٹ ہوئے تھے۔اسے یاد تھا کہ وہ انہیں آوازیں دیتا وہاں سے نکلا تھا جنہوں نے شایداندر جھانکا بھی نہیں تھا۔

“دلہام بابا آپ یہاں اتنی بارش میں خیریت تو ہے بیٹا؟”

میرن بخش اسے دیکھتا آگے بڑھا تھا۔

“میرن وہ لڑکی کہاں ہے آئی مین عناء۔”

وہ لجھا سا پرشکن ماتھا لیے بولا تھا حوالہ کیا دے سمجھ نہیں آیا۔

“اچھا وہ بٹیا آپکے کمرے میں سورہی ہیں بارش اور سردی اتنی تھی شاید اسیلئے وہ واپس نہیں گئیں۔”

میرن سمیت تمام لوگ ہی یہاں ہوئی کاروائی سے آگاہ تھے سو عناء دلہام کے حوالے سے انکیلئے مقدم ٹہری تھی۔

وہ بگڑے تیور لیے اس کی کلاس لینے کا سوچتے اندر بڑھا تھا۔

اپنے کمرے میں داخل ہوا تو وہ وہاں ہر چیز سے بےنیاز سی سورہی تھی جبکہ اسکے ماتھے پہ جمی بینڈیج نے دلہام کو چونکایا تھا۔

وہ دھیرے سے اسکی جانب قدم بڑھا گیا تھا ۔اسے اچھے سے یاد تھا کہ جب وہ یہاں آئی تھی اسکے ماتھے پہ ایسا کچھ نہیں تھا تو اسکا مطلب۔۔آنکھوں کے سامنے اسے جھٹکنے کا منظر گھوما تو اپنی غفلت پہ غصہ آیا تھا سختی سی مٹھیاں بھینچے اپنے غصے کو کنٹرول کیا اور ہولے سے اسکے گلابی چہرے سے چھوتی اپنی انگلیوں کا لمس اسکی بینڈیج پہ چھوڑا تھا۔

بارش کے زور پکڑنے کی آواز اسے تفکر میں مبتلا کرگئی تھی کیا وہ اتنی پاگل تھی کہ اسے گھر جانا یاد نہیں تھا؟

دلہام اپنے گرد شال لپیٹے کھڑا ہوا تھا اور قدم باہر کی جانب بڑھائے دورید کو اسکی یہاں موجودگی کا بتاتے اسکے بابا کو آگاہ کرنے کو کہا تھا۔

“بابا آپکیلئے کچھ کھانے کو لادوں۔”

میرن مؤدب سا رکا اس سے پوچھ رہا تھا۔

“نہیں میرن تم جاؤ۔۔۔رکو کیا اس نے کھانا کھایا تھا اور چوٹ کیسے لگی ہے اسکے سر پہ؟”

دلہام کا تفشیشی انداز ایسا تھا کہ جیسے میرن کا اس سب میں ہاتھ ہو۔

“بابا وہ آپکے جانے کے بعد۔۔۔”

میرن اسے تفصیل بتانے لگا تھا کہ کیسے اسکے جاتے ہی وہ رومز لاک کرنے آیا تھا جب اس نے عناء کو ایک سائیڈ پہ گرا ہوا دیکھا اور اسکے ماتھے سے خون نکل رہا تھا۔

میرن کو کھانا کمرے میں بھیجنے کا کہتے وہ واپس آیا تھا تو وہ ابھی بھی ایسے ہی لیٹی تھی۔وہ تدذب کاشکار تھا اٹھائے تو اٹھائے کیسے؟

“عنادل”

وہ اس پہ جھکے ہلکے سے اسکے شانہ ہلاتے بولا تھا۔

عناء کروٹ بدلے رخ موڑ گئی تھی اور کمفرٹر میں مزید خود کو لپیٹ کے سو گئی۔نیند میں بھی اس لڑکی کی اکڑ ختم نہیں ہوتی۔

“عنادل ویک اپ ٹیک آڈنر ڈیم۔”

اسکے چہرے سے کمفرٹر کھینچتے اس نے عناء کے چہرے پہ ہاتھ رکھے جگایا تو جانا پہچانا لمس پاتے ہی وہ اٹھ بیٹھی تھی۔

“اوہ ۔۔۔۔ لمبی جمائی۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔جمائی۔۔۔۔آگئے آپ؟”

انگڑائیاں اور جمائیاں لیتے وہ دلہام کی سات پشتوں پہ احسان کیے اٹھ بیٹھی تھی۔

دلہام نے کوفت زدہ ہوتے اسے دیکھا۔

“گھر کیوں نہیں گئی تم ؟”

وہ اسے جرح کررہا تھا عناء نے بیزار نگاہ اس پہ ڈالی۔

“یہ بھی میرا ہی گھر ہے سو میں یہاں رہوں وہاں رہوں کیا فرق پڑتا ہے۔”

وہ بےفکری سے کمفرٹر سے نکلتے بالوں کو ایک جوڑے کی شکل دیتے واش روم میں گھسی تھی۔

دلہام اس لڑکی سے سختی سے پیش نہیں آنا چاہتا تھا دلہام بخت کے زندگی کے اصولوں میں شامل تھا کہ اجنبیوں پہ اپنوں والا رعب نہیں رکھنا تھا لیکن وہ لڑکی ۔۔۔

“آپ یہاں کیوں آگئے؟”

وہ واشروم سے نکلتے اسکیلئے سوالات بھی لائی تھی۔

“کیونکہ آج رات میں اپنی تیسری بیوی کے ساتھ سپنیڈ کرنا چاہتا تھا۔”

دلہام اسے کہنی سے پکڑے بستر تک لایا تو عناء کے چہرے پہ ایک سایہ سا آکے گزرا تھا۔

“لیکن میں بلکل اس چیز میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں انفیکٹ میرے غلطی سے بن جانے والے دلہا صاحب مجھے آپ میں بھی انٹرسٹ نہیں ہے۔”

وہ اسکی ذات کی نفی کرتے اپنا بازو اسکی گرفت سے چھڑانے لگی تھی۔

“کیوں میں ایک ٹیپکل فیوڈرل پولٹیشن جسے شادیوں اور بچوں کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے تو اپنی اتنی ینگ اور خوبصورت بیوی کے حقوق پورے نہیں کرے گا تو یقیناً نانصافی ہوگی جو اتاؤلی سی یہاں چلی آئیں اپنے دلہا بخت کے پیچھے۔”

وہ ایک ایک بات چباتے اسکی اور دورید کی باتیں دہرانے لگا تھا اسکا مطلب تھا کہ دورید اپنے بھائی کو ہر چغلی لگاتا ہے وہ خیالوں میں ہی دورید کی کلاس لینے لگی تھی جب دلہام کی حد درجہ بڑھتی قربت پہ بوکھلائی ۔

“ہاں تو وہ ہیں آپ ایسے۔”

وہ پیچھے کو سرکی تھی۔

“تم سے بہتر کون جانتا ہے عنادل کہ دلہام بخت کی کتنی بیویاں ہیں۔”

گھنی موچھوں تلے کاٹدار لب مسکرائے تو عناء کی جان پہ بنی۔

“مجھے کیوں ہتا ہوگا بھلا ایویں خواہ مخواہ کی خوش فہمیاں لاحق ہیں عناء دلاور فضول نہیں جو آپکی جاسوسی کرے گی۔”

وہ بڑے اعتماد سے کہہ رہی تھی لیکن نظریں اوپر اٹھانے کی جرأت نہیں کی تھی جب دلہام بخت نے اسکے کانوں کی لو کو ہلکے سے چبایا تھا اور وہ تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔

“کیا چاہتے ہیں آخر آپ؟”

گویا شکست مانی تھی۔

“آزادی”

دلہام بخت نے بنے لگی لپٹی رکھے کہا تھا ۔

“کیوں عنادل ہوں نا میں کیونکہ عناء دلہام بخت کے دل

میں رہتی ہے اسیلئے وہ عنادل ہے سو اس آزادی سے آپ نے مرجانا ہے تو بہتر یہی ہے کہ پابند وعدہ رہیں آپ مسٹر دلہام بخت۔”

ان آنکھوں میں چھپے رازوں سے پردہ اٹھانے کو اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگی تھی جب دلہام ساکت ہوا تھا۔

“تمہیں نہیں لگتا کہ تم موت کی وادیوں کا سفر کررہی ہو؟”

دلہام اس پہ اپنی گرفت ڈھیلی کیے دوری بناتے بولا تھا۔

“میں دلہام بخت کی تیسری بیوی بن کے بھی خوش ہوں اسیلئے ہم دونوں کیلئے ہی یہ فائدہ مند ہے کہ ہم اس رشتے کو نبھائیں اور اس حد تک نبھائیں ۔۔۔۔جہاں کوئی ایک ہار نہ مان لے۔”

وہ اسکی نظروں می جھانکتے بولی تھی۔

“تو میں نے ہار مانی عنادل تمہارے یہاں سے جاتے ہی ڈائیورس پیپر مل جائیں گے تمہیں۔”

وہ ایک دم سے اجنبی بنتے اپنے خول میں سمٹا تھا۔

“غلط فہمی ہے آپکی مسٹر دلہام وہ خوابوں کی کرچیاں جو فلحال آپکی آنکھوں میں چبھتی ہیں وہ بکھریں تو بخت حویلی کا شیرازہ بکھیر دیں گی اس لیے ڈائیورس والی غلطی تو کبھی مت کریے گا دلہام بخت ہاں سہاگ کا جوڑا بھیجیں گے تو خوشی خوشی آجاؤنگی میں اپنے دلہا بخت کے پاس۔”

عناء کے طعنے تشنوں کے ساتھ بات کو وہی غیر سنجیدہ رخ پہ لے جانا دلہام کو سخت زہر لگا تھا۔

وہ اسے کچھ سخت سنانے کو آگے بڑھا تھا جب دروازہ ناک ہوا اور میرن کھانا کا کہہ رہا تھا۔

“او واؤ کھانا ایسا لگتا ہے یہ لفظ سنا ہے کہیں ،یاد آیا صبح سے ہی میرے پیٹ میں دوڑتے چوہے اس راگ کو سنا رہے تھے ۔”

وہ شرارتی انداز میں کہتے دروازہ کھول گئی تھی۔

دلہام کی لال انگارہ آنکھیں اس پہ گڑی تھیں جو ٹرے کو بستر پہ رکھے مزے سے کھانے بیٹھ چکی تھی۔

“ویسے اپنے یہ دلہا بخت ۔۔۔”

نوالہ منہ میں رکھے وہ اس سے مخاطب تھی جو سر ہاتھوں میں گرائے بےبس سا بیٹھا تھا۔

“ڈائیورس بھی نکاح کے جیسے دو بار دو گے؟”آئی مین۔۔۔”

وہ ابھی بات مکمل نہیں کرپایا تھا جب وہ چند سیکنڈذ میں ہی اسکے سر پہ پہنچا تھا اور اسکا چہرہ سختی سے اپنے ہاتھ میں جکڑا تھا۔عناء کا نوالہ گلے میں اٹک گیا تو آنکھوں سے پانی برسنے لگا۔

“تمہیں یہ کوئی ڈرامہ نظر آرہا ہے جہاں تم نکاح اور ڈائیورس کو مذاق سمجھتے ہوئے بار بار انجوائے کرنا چاہتی ہو۔”

سختی سے کہتے اس نے عناء کا چہرہ جھٹکا۔

“پہلی بات کہ دلہام بخت آپکے ہاتھ بڑے سخت ہیں لے کے جبڑوں کو ہلا دیا ابھی تو کھانا شروع کیا تھا میں نے خیر دوسری بات یہ کہ میں بھی آپکو یہی سمجھانا چاہ رہی تھی کہ یہ شادی بیاہ ،ڈائیورس والی باتیں مذاق نہیں ہوتیں اللّٰہ نے بھی حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز یہ ڈائیورس کو کہا ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ صلح صفائی سے رخصتی کی بات کی جائے تاکہ میرے بابا بھی بیٹی کا گھر بستہ دیکھ خوش ہوں۔”

بڑے آرام سے اپنی زبان کے مزید جوہر دکھاتے وہ پھر سے کھانے بیٹھ گئی تھی۔

دلہام اسے دیکھنے لگا تھا۔

“یا اللّٰہ کھانا ہضم ہوجائے کیسے بھوکڑ لوگوں کے جیسے گھور رہےہیں آپ مجھے دلہام بخت کھانا ہی تو کھارہی ہوں اگر آپ نے کھانا ہے تو کھالیں آئی مین میرے باپ کے تو نہیں آپکے باپ کے پیسوں کا ضرور ہے۔”

دلہام اسے دیکھ کے رہ گیا ۔

اسکےساتھ کوئی ہنسی خوشی بھی شادی کرتا تو پاگل ہوجاتا اور دلہام بخت کے سر پہ توبار بار وہ زبردستی تھوپی گئی تھی۔

“اممم۔۔۔ پہلے نکاح کے وقت مجھے بلکل معلوم نہیں تھا کہ آپ اتنے امیر ہیں لیکن دوسرے نکاح کے وقت میں بہت کچھ جان چکی تھی یہ بھی کہ آپ ایک مشہور شخصیت ہیں میرے ناپسندیدہ شعبے سے تعلق رکھتے ہیں میری ناپسندیدہ جگہ پہ رہتے ہیں اور بھی پتا نہیں کتنا ہی میری پسند کے خلاف کام کرتے ہیں۔”

آدھا لقمہ منہ میں اور آدھا ہاتھ میں لیے وہ دلہام بخت کا سیروں خون جلا چکی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *