Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 27)
Rate this Novel
Anadil (Episode 27)
Anadil by Uzma Mujahid
پہلے دلہام اور پھر موسیٰ کا اسے کھانے دینے کا انداز ایسا تھا
کہ وہ خود کو کسی قید میں محسوس کررہی تھی۔
حلق میں کانٹے ابھر آئے تھے تبھی اس نے ایک نظر کھانے کو دیکھنے کے بعد رخ موڑ لیا تھا۔
موسیٰ جب دوبارہ آیا تو وہ ایسے ہی بیٹھی تھی پر اسے دیکھتے تمام حسیں بیدار ہوئی تھیں۔
“میں نے یہ سب تمہیں حاصل کرنے کیلئے کیا تھا موسیٰ اور تم ہی مجھے اس زندان میں لے آئے۔”
رمز کے لہجے میں دکھ بسا تھا جس شخص کی خاطر ساری حدیں توڑی تھیں آج اس نے زندگی سے دور لاچھوڑا تھا۔
“اب آپ کو جھوٹ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے رمز بیبی حقیقت جو ہے سامنے ہے سبکے اور نہ مجھ سے جھوٹی محبت جتانے کی ضرورت رہی ہے اب۔”
وہ اسکے سامنے سے کھانا اٹھانے لگا تھا لفظ لفظ اسکے دیے گئے زخموں کے ناسور میں زہر بن کے ڈوبا تھا۔
وہ جانے لگا تو رمز نے اسکا بازو تھاما تھا۔
“میں بہک گئی تھی لیکن موسیٰ تمہیں میری محبت کی دیوانگی پہ اعتبار کرنا ہوگا۔”
اس نے اعتراف کیا تھا ‘ انداز میں آج بھی شدت پسندی تھی۔
“کسی کی محبت اور زندگی کو سولی پہ لٹکا کے کونسی محبت حاصل کی جاتی ہے اور بالفرض ایسا تھا لیکن آپ نے میری نہیں رحمٰن جیلانی کی محبت میں اتنا بڑا داؤ کھیلا ہے یہ سب بھی جان چکے ہیں ہم۔”
موسیٰ کے الفاظ کسی چابک کی طرح اسے لگے تھے بےاعتبار کرتے ‘بدکردار ثابت کرتے ہوئے اگلے ہی لمحے ایک تھپڑ موسیٰ کے چہرے پہ پڑا تھا۔
“تم میرے کردار پہ انگلی اٹھا رہے ہو تم موسیٰ جسکی خاطر میں نے اپنی جان عزیز بہن کو دھوکا دیا گھر والوں کو دھوکا دیا اور۔۔۔”
“اپنے لفظوں کی اصطلاح کرلیں میرے لیے نہیں صرف اپنی نسوانی خواہشات کیلئے جو شخص اپنے سگوں کا نہیں ہوسکا وہ میرا کیا ہوگا رمز بیبی ،جس نے بھائیوں کا اعتبار توڑا بھلا میں اس پہ اعتبار کرتا بھی تو کیسے اور اب بھی کروں تو کیوں؟”
رمز کے تھپڑ نے موسیٰ کے انداز میں تیزی بھر دی تھی۔
وہ جو اس سے دست گربیان تھی اسکی گرفت موسیٰ کے کالر پہ ڈھیلی پڑی تھی اسے پیچھے ہٹتا دیکھ موسیٰ بھی وہاں سے اٹھ گیا تھا۔
“جو شخص اپنے سگوں کا نہیں ہوسکا وہ میرا کیا ہوگا”
“جو شخص اپنے سگوں کا نہیں ہوسکا وہ میرا کیا ہوگا”
اسکی سماعتوں میں مسلسل ایک ہی فقرے گردان ہورہی تھی وہ دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھے چیخنے لگی تھی۔
“تمہیں میری محبت پہ اعتبار کرنا ہوگا موسیٰ۔”
پر اسکی صداؤں پہ کان دھرنے والوں نے اپنے دل پتھر کرلیے تھے۔
موسیٰ دوسرے کمرے میں اپنے رخسار پہ ہاتھ رکھے بیٹھا تھا جبکہ آنکھیں نم تھیں محبت سے دستبرداری آسان نہیں تھی پر وہ لڑکی اس قابل کہاں تھی۔
اس دن جب وہ اسے ہاسپٹل لے کے گیا تھا اسکے کچھ بلڈ سمپل لیے گئے تھے روٹین کے ٹیسٹوں کے دوران ہیموگلوبن میں بھاری تعداد میں ڈرگز کی موجودگی نے جہاں ڈاکٹرز کو چونکایا وہیں موسیٰ پہ منکشف ہونے والا راز گہرے سناٹوں میں لے گیا۔
دلہام جو پہلے ہی اسے اس کھوج میں لگا چکا تھا کہ گھر کا کونسا فرد پریہان کی میڈیسن بدل رہا ہے اور ساتھ میں یک دیگرے بعد ہونے واقعات کی کھوج میں مصروف موسیٰ نے کچھ شکوک وشبہات کی بنیاد پہ رمز پہ نظر رکھی تھی جسکے نتائج اس وقت بھیانک ثابت ہوئے جب اسے آر۔جے سے ملتے دیکھا تھا۔
بات یہی تک نہیں رکی تھی وہ باقاعدہ آر۔جے کی ٹیم کا حصہ بن چکی تھی جو مختلف لوگوں کے سپلائر کے طور پہ کام کررہی تھی۔
دلہام بخت کے سامنے کیا جانے والا اعتراف موسیٰ کی شامت لایا تھا اور اس نے اپنا غصہ اس پہ اتارا تھا بھلا وہ اپنی معصوم بہن کی ذات پہ یہ کیچڑ کیسے برداشت کرسکتا تھا۔
لیکن پریہان کی بہتری کی طرف جاتی طبیعت جہاں پہ پریہان سے رابطے میں رمز کا نام ونشان نہیں تھا جو اسے ہیپنوٹائز کرتے آر۔جے کی مدد سے بھیجی جانے والی میڈیسن کھلاتی رہی تھی نے ان شکوک کو مزید پختہ کیا تھا۔
رمز نے ایسا کیوں کیا یہ ابھی تک معمہ ہی تھا۔
اسکا سر درد کی شدت سے پھٹنے لگا تھا۔
اس لڑکی کی خاطر وہ بدنامی مول لے گیا تھا جو دلہام بخت کی طرف سے اسکی ایمانداری کا تحفہ تھی۔
اور اس نے بھی اس بدنامی کو قبول کیا تھا کیونکہ اس نے غفلت برتی تھی اسے رمز کیلئے ہائر کیا گیا تھا اور وہ اس سے غفلت برت گیا۔
اسکا دل چاہ رہا تھا وہ ہر چیز تہس نہس کردے ۔
اپنی پیشانی پہ نرم انگلیوں کا لمس محسوس کرتے اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں وہ تر آنکھیں لیے اسکی جانب ہی دیکھ رہی تھی۔
“کیوں کیا ایسا رمز بیبی؟”
اسکا انداز شکست خوردہ تھا جانے کیسے وہ سوال کرنے کی گستاخی کربیٹھا تھا جو اسے اندر ہی اندر سے توڑ رہا تھا۔
“وہ مجھے بلیک میل کررہا تھا۔”
اس نے سرجھکائے کہا تھا جسکی آنکھوں سے اشک لڑیوں کی صورت میں بہہ رہے تھے۔
موسیٰ نے بغور اسے دیکھا تھا۔
“کیوں؟”
وہ وضاحتیں نہیں چاہتا تھا پر بےساختہ بول اٹھا تھا۔
جھکا سر مزید جھک گیا تھا۔
موسیٰ نے اسے تاسف سے دیکھا تھا مطلب کے اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی وہ کچھ نہیں بتانے والی تھی۔اور زور زبردستی وہ کرنہیں سکتا تھا کیونکہ دلہام نے اسے صرف رمز کی نگرانی کیلئے رکھ چھوڑا تھا۔
ایک دو بار اس نے دلہام کو وہاں دیکھا تھااردگرد برف سے ڈھکے پہاڑوں سے وہ یہی اندازہ کرپارہی تھی کہ وہ کسی ہل اسٹیشن پہ ہی ہیں پر کہاں؟اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔
اس رات دلہام اسکے روم میں گیا تھا اور بھاری مقدار میں کلوروفام کا استعمال کرتے اسے بےہوش کرتے موسیٰ کو اسے وہاں سے لے جانے کا کہا تھا۔
موسیٰ اسے لیے دلہام کے بتائی جگہ پہ آیا تھا جو مری میں ہی تھی اور اسکے بعد خود گھر سے نکلا تھا۔
ان دونوں کو یقین تھا آر۔جے رمز سے رابطہ کٹنے کی صورت میں ضرور دلہام اور عناء کی طرف رخ کرے گا۔
جو شخص اسے پریہان کا پتا بتا سکے وہ اس تک رسائی ضرور حاصل کرے گا اور ایسا ہی ہوا تھا۔
اب وہ آر۔جے کی اگلی چال کے منتظر تھے۔
موسیٰ اسوقت کال پہ بزی تھا جب رمز کی آمد پہ چونکا جہاں گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی۔
“مم۔۔مجھے وہ لادو موسیٰ میں مررہی ہوں۔”
سردی کی شدت سے کانپتی رمز بھکاری بن کے اس کے سامنے تھی۔موسیٰ کو ایک لمحہ لگا تھا اسکی ضرورت سمجھنے میں اسکے سر کی رگیں غصے کی شدت سے تن گئی تھیں۔
“میں ایسا نہیں کرسکتا۔”
وہ دوٹوک جواب دیتے بولا تھا۔
“تمہیں خد۔۔خدا کا واسطہ موسیٰ مجھے درد ہورہا۔۔۔مجھے تکیلف ہورہی بہت میں جانتی ہوں تم لاسکتے ہوتم لادو پلیز۔”
وہ اسکے بستر کے قریب بیٹھتے اسکے ہاتھ تھامتے ملتجیانہ انداز میں بولی تھی۔
اسکی آنکھوں میں بےچین تو آواز میں ایک تکلیف سی تھی۔موسیٰ نے اس سے نظریں چرائیں۔
“دیکھیں بیبی جی۔۔۔”
“موسیٰ۔۔۔”
وہ اسکا چہرہ دونوں ہاتھ میں تھام گئی تھی ۔
اسکی قربت کمرے کی تنہائی اور رمز کا ٹوٹتا بکھرتا وجود موسیٰ نے بےاختیار ہوتے اسے خود سے لگایا تھا۔
کہیں نا کہیں اسکیلئے جو محبت تھی وہ اسکی تکلیف سہل نہیں کرپارہی تھی۔
“تم مجھے لادوگے نا موسیٰ مم۔۔مجھے سکون مل جائے گا۔”
وہ بچوں کی مانند ضدی انداز میں بولی موسیٰ نے بےبسی سے اسے دیکھا تھا۔
“اگر آپ مجھے بتائیں گی آر۔جے کیا چاہتا ہے آپ نے آر۔جے کا ساتھ کیوں دیا تو میں آپکی ہیلپ کرنے کو تیار ہوں۔”
وہ اسے بانہوں کے گھیرے میں لیے بولا تھا۔
رمز نے اجنبی نظروں سے اسے دیکھا اور پیچھے ہٹنے لگی تھی جب موسیٰ کا ٹمپرلوز ہوا برداشت کی حد ختم تھی تبھی دوبارہ سے کھینچتے قریب کیا۔
“آپ مجھے اس حد تک جانے پہ مجبور کررہی ہیں کہ میں ادب وآداب کی حدود سے باہر ہوجاؤں۔”
سرخ آنکھوں کی ہیبت رمز کو بوکھلا رہی تھی۔
“بتائیں سچ کیا ہے رمز بیبی؟”
موسیٰ کی سخت گرفت برداشت سے باہر ہوئی تو لبوں سے سسکی برآمد ہوئی تھی۔
وہ جھنجھلاتے ہوئے اسے چھوڑتے کمرے سے نکل گیا تھا۔
رمز کی خاموشی اسے مجرم بنا رہی تھی وہیں موسیٰ کو بھی مزید غصہ دلا رہی تھی۔




















گزری شب کسی خواب سے کم نہ تھی۔
وہ بھاری ہوتا سردونوں ہاتھوں پہ گرائے کمزور لمحے کی گرفت میں آنے پہ خود سے ناراض بیٹھی تھی ۔
دلہام گنگناتے ہوئے نک سک سا تیار آج کی ضروری میٹنگ کیلئے ریڈی تھا جب عناء نے ایک کاٹدار نگاہ اس پہ ڈالی تھی۔
دلہام دبیز قالین پہ چلتا اسکے قریب آیا تو عناء نے رخ موڑ لیا۔اس نے ہاتھ بڑھاتے اسکی ٹھوڑی تھامے عناء کا چہرہ اپنے سامنے کیا۔وہ دانت کچکاتی ایک بار پھر سے کھاجانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“طویل سفر کے بعد جب پڑاؤ اچانک سے سامنے آجائے تو یقین مانو اسکا بھی اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔”
وہ میٹھی نگاہوں کا حصار اسکے گرد باندھتے بولا تھا۔
“آپ یہاں سے چلیں جائیں دلہام بخت ایسا نہ ہو میں اپنے آپ میں نہ رہوں۔”
وہ غرائی تھی ۔
دلہام کی نظریں اسکے وجود کا طواف کررہی تھیں تو وہیں کم خوابی کا پتا دیتی سرخ آنکھیں اسے جی جان سے اپنی جانب متوجہ کررہی تھیں۔
“تھوڑی دیر میں آتا ہوں میں اور تمہارا موڈ ٹھیک کرنے کو بہترین پلین ہے میرےپاس عنادل لیکن یہ میٹنگ بھی ضروری ہے اپنا خیال رکھنا۔”
وہ جو بہت کچھ کہنا چاہتا تھا رنگ ہوتے سیل نے اس سحر کو توڑا تھا وہ کھڑے ہوتے ایک ہاتھ سے اسکے رخسار تھپتھپاتے اس کے سر پہ لب رکھتے پیچھے مڑ گیا۔
عناء نے پاس میں پڑے تکیے اٹھا کے دروازے کی جانب اچھالے تھے ساتھ میں ہی ہاتھ مارتے سائیڈ ٹیبل پہ پڑی چیزیں گرائیں۔لیکن اسکے وجو پہ لگی اسکے نام اور محبت کی چھاپ ایسی نہ تھی کہ اسکے غصے میں بہہ جاتی ۔
میٹنگ میں پہنچنے سے پہلے ہی وہ میڈیا کی نظروں میں آیا تھا جب اچانک سے ہونے والے سوالات کسی تاپڑ توڑ حملے کی طرح اس پہ برسنے لگے تھے۔
“کیا یہ بات سچ ہے سر کہ آپکی بہن آپکے پی۔اے کے ساتھ بھاگ گئی ہیں؟”
“سر دورید بخت اور انکی وائف کی بخت حویلی سے مسلسل غیر موجودگی کے پیچھے کیا وجہ ہے؟”
“سر آپکی والدہ کی وفات کے بعد آپ۔۔۔۔”
“اٹس ٹومچ یار ہٹاؤ ان لوگوں کو۔”
گاڑی سے اسمبلی پہنچنے تک وہ ان گنت لوگوں کے سوالوں کا نشانہ بنا تھا وہیں اپنے مختص روم میں پہنچتے ہی ایک اور شاک اسکا منتظر تھا۔
وہ بار بار پیشانی مسل رہا تھا جہاں سامنے پڑی فائل واقعی میں اسکے دماغ کے پرخچے اڑا چکی تھی۔
“کون چھاپ رہا ہے یہ بکواس چیزیں؟کیا ہے یہ سب جن اثاثوں کا حساب گورنمنٹ مجھ سے لینا چاہتی ہے وہ آبائی تقسیم میں ہیں تو بھلا یہ سب کیوں؟”
اسکا ذہن واقعی تھکان میں ڈوبا تھا تبھی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔
اپوزیشن کی طرف سے کئی ایک حلقوں میں دھاندلی کے ساتھ ساتھ اسکی جائیداد پہ بھی سوال اٹھائے گئے تھے جو پورا وقت اسے ان معمالات کی جانچ پڑتال میں گزارنا پڑا تھا۔
اسکے علاوہ حریفوں کے ہاتھ اسکے نجی معمالات میں دخل اندازی کا بھی مدعا لگا تھا۔
ایک تھکادینے والے دن کے بعد وہ گھر میں داخل ہوا تو گہرے سناٹوں نے اسکا ویلکم کیا تھا ۔
یہی حال اسکے روم کا بھی تھا جہاں عناء بےوقت سوتی دکھائی دی تو اسے پریشانی نے آگھیرا تھا۔
ایک ہی وقت میں اس نے تمام لائٹس آن کی تو اندازہ ہوا وہ جاگ رہی تھی۔
“کیا ہوا عنادل اتنی خاموشی کیوں ہے بھائی؟”
وہ کوٹ ایک طرف کو پھینکتے ہلکے پھلکے انداز میں بولتے اسکے قریب لیٹنے اور بیٹھنے کی پوزیشن میں دراز ہوا تھا۔عناء نے ایک ناگوار سی نگاہ اس پہ ڈالی۔
“مزاج دشمناں ابھی تک برہم ہیں؟”
اسکا مومی ہاتھ پکڑتے اپنے سینے پہ رکھتے ہوئے کہا تھا۔
“مجھے بات نہیں کرنی آپ سے۔”
اسکا نروٹھا سا انداز اور اٹیٹوڈ لیول دلہام کی ساری کثافت بہالے گیا تھا۔
اسے ہلکا سا جھٹکا دیتے اپنے پہلو میں انتہائی قریب گرایا اور اپنی انگلیاں اسکے سر میں چلانے لگا تھا۔کمرے میں ایک بار پھر سے گہری خاموشی چھائی تھی۔
“اب تک جو ہوا عنادل ، ہم نے اپنے لیے جتنے فیصلے لیے وہ دوطرفہ غلط فہمیوں کا نتیجہ تھے یا محض جزباتیات ورنہ یہ تو تم بھی جانتی ہو جب یہ رشتہ نہیں تھا ہم دونوں کی چاہ تھی یہ رشتہ بنانے کی اور اگر قسمت کی دیوی مہربان ہوگئی تھی تو ہم نے اس رشتے کی بہت ناقدری کی ہے عنادل
شاید ایک دوسرے کی بھی۔”
وہ اسکی ہتھیلی کی لکیروں میں اپنا عکس تراشتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
دلہام کی نظریں اسکی ہتھیلی پہ تھیں جبکہ عناء کی نظریں دلہام بخت کے چہرے پہ اور بولتے لب جو اسکا دل دھڑکا رہے تھے۔ہر بار عنادل بولنے پہ اسکی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی ۔
اسے ڈر تھا کہیں اسے اپنی ہی نظر نہ لگ جائے تبھی نگاہوں کا رخ اسکے چہرے سے ہٹائے دلہام کے ہاتھ میں دبے اپنے ہاتھوں پہ جمائی۔
“میں اپنی طرف سے ہر ازالہ کرنا چاہتا ہوں،جانتی ہونا تم میری زندگی کا سکون ہے ہر مایوسی میں خدا کی ذات کے بعد میں نے تمہیں معتبر جانا ہے اور یہ رشتہ مجھے ہر چیز سے بڑھ کے عزیز ہے میں نے تم سے پیار کرنا ،وفا سیکھی اور۔۔۔۔”
“لیکن نبھانے کا سلیقہ نہیں ہے شاید۔”
وہ بہت روڈ انداز میں بول گئی تھی۔
اپنی لے میں بولتا دلہام پرزور انداز میں چونکا تھا۔
عناء ایک دم شرمندہ ہوئی وہ تو اسکی ہربات کا جواب دل میں دے رہی تھی پھر لبوں پہ کیسے۔
دلہام کہنی کے بل ذرا کو اٹھتے اس پہ جھکا تھا۔
“ہاں بیشک سلیقہ نہیں آیا پر نبھایا تو بھرپور طریقے سے ورنہ میں اور تم اتنے قریب یہاں نہ ہوتے۔”
عناء کے برعکس دلہام کا لب ولہجہ ذومعنی انداز اپنا گیا تو وہ اسے آنکھیں دکھاتے تھوڑا پیچھے کھسکنے کی کوشش میں تھی جب دلہام نے اسکی کوشش ناکام بناتے اسے خود سے قریب کیا تھا۔
عناء کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا لیکن ناراضگی اپنی جھپ خوب دکھارہی تھی۔
“تم شاید نہیں جانتی ہونا یہ آنکھیں امرت جیسی ہیں لبوں سے لگتے ہی ایک عجب سرور دیتی جو شاید ہی کسی اور چیز میں ہو۔”
بنا اسکی ناراضگی کی پرواہ کیے دلہام نے اسکی آنکھوں کو چومتے ہوئے کہا تھا۔اس جیسی نڈر لڑکی بھی دلہام کے اس عمل پہ گلزار ہوئی تھی۔
“پھر سے دوستی نہیں ہوسکتی ہمارے درمیان؟”
وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے پوچھ رہا تھا ایک طرح سے وہ عناء کو اپنی آنکھوں اور لفظوں کے ذریعے پھر سے اپنا اسیر کررہا تھا۔ان دونوں کی گفتگو اتنے عرصے بعد بنا طنز کے تیر چلائے دلکش انداز میں ہورہی تھی۔
عناء نے زورشور سے نفی میں سرہلایا تھا اس شخص کی وفائیں اور پھر جفائیں اسکے بعد پھر سے وفاؤں کی داستان میں صرف ایک ہی شخص کا نام رقم تھا وہ تھی عنادل ۔
لب آپ ہی آپ مسکرائے تھے دلہام اسکی ہر جنبش پہ نگاہ جمائے ہوئے تھا۔
آج کا دن اسکے سیاسی کرئیر کے حساب سے زیادہ اچھا نہ تھا لیکن گھر آتے ہوئے ہمیشہ وہ دفتری معمالات پیچھے رکھ کے ہی آتا تھا۔
“آہہم میرے سوال کا جواب نہیں ملا۔”
اسے خود کو تکنے میں مشغول دیکھتے دلہام نے دخل دیا تو وہ گڑبڑائی تھی۔
“مجھے کسی سے دوستی نہیں کرنی لوگوں کی اصلیتیں دکھ دیتی ہیں۔”
عناء کی بات سنتے دلہام کا چھت پھاڑ قہقہ بلند ہوا تھا۔
“چلو ایک موقع دے کے تو دیکھو۔”
وہ شریر ہوا۔
“نہیں دینا۔”
دوٹوک جواب عناء کی طرف سے ملا تھا۔
“اب بھی نہیں۔”
دلہام نے ہلکے سے اسکے لبوں کا بوسہ لیتے کہا تو عناء کی ہمتیں جواب دے گئی تھیں۔اسکا انداز منانے والا تھا جیون ہارنے والا۔
وہ اسکے سینے میں چھپتی کسی بچی کی مانند رودی۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں چاہا تھا دل۔مما بابا کے ماضی سے شاید مجھے اتنا فرق نہ پڑتا اور جو آپ اس سب کا حصہ نہ بنتے ضد آپ نے لگائی تھی انا کی قید میں آپ لائے تھے مجھے۔”
وہ سرخ ہوتی ناک کے ساتھ اس پہ الزام دھر گئی تو دلہام کے لب آپ ہی آپ مسکرا دیے۔
“ہوں جانتا ہوں میری ابتداء کو انتہا پہ آپ لے گئیں محترمہ۔۔ایک بار بھی ہر چیز بھلا کے میرے بارے میں نہیں سوچا تھا۔میں خود پہ لگے ہر الزام کو ماننے کو تیار ہوں۔”
دلہام بھی شکوہ کرگیاتو عناء اسے تاسف سے دیکھنے لگی وہ کندھے اچکا گیا۔
“مجھے پبلک پلیس پہ تھپڑ مارا تھا۔”
وہ ناراضگی کا اصل مدعا سامنے لائی تھی۔
“تم میرے ناپسندیدہ شخص کے ساتھ گھومو گی تو کیا پھولوں کی مالا پہناؤں گا؟”
دلہام نے سرسری انداز میں وضاحت دی جس عمل کیلئے وہ خودشرمندہ تھا اس پہ کھل کے بات کیسے کرسکتا تھا۔
“مجھے کچھ نہیں پتا۔”
وہ اسکے پہلو سے اٹھتے بولی تھی۔
“میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔”
کچھ دیر ناراضگیوں کو دفن کرتے خاموشی سے اکتائے انداز میں بولا تاکہ عناء کی مزید انوسٹی گیشن سے بچ سکے۔
“میں نے بھی۔”
عناء نے نقاہت بھرے انداز میں کہا تھا اسے بیڈ سے اترتے بخوبی اندازہ ہوا تھا کہ اسکے جسم میں اتنی سکت نہیں رہی وہ دوقدم آگے چل پائے۔
“کیوں؟خانساماں تھا تو بریک فاسٹ ریڈی کرنے کو؟”
وہ پریشان ہواٹھا۔
“بس میری مرضی۔”
اسکے جواب پہ دلہام کو غصہ آیا کتنی لاپرواہ تھی وہ کھانے سے تبھی اسکےمقابل آتے کلائی تھامی اور کچن کی طرف بڑھا تھا۔
“آج شیف دلہام بخت تمہیں اپنے ہاتھوں سے کچھ اسپیشل بنا کے کھلائیں گے۔”
دلہام نے اپیرن باندھا تھا جبکہ وہ چئیر پہ بیٹھتے اسے کام کرتا دیکھنے لگی تھی۔
تھوڑا سا جھک کے ان دونوں نے ہی اس رشتے کی ڈور سنبھال لی تھی۔
“ہاں آپکی کج ادائی سے تو نہیں مری اپنے ہاتھوں کا بدذائقہ کھانا کھلا کے مارنا چاہتے ہیں۔”
ناک سے ان دیکھی مکھی اڑاتے اس نے کہا تو دلہام کو تو جیسے شاک لگا تھا۔
“عنادل۔۔۔”
دلہام نے مایوس کن انداز میں اسے دیکھا تو وہاں عناء کے قہقوں کی بہار اتری تھی جو دلہام کو اندر تک مسرور کرگئی تھی۔اسی نوک جھونک میں وہ اسکیلئے کھانا تیار کرنے لگا تھا۔




















“مجھے کچھ اپنی ضروری چیزیں لینی ہیں دورید۔”
وہ اسکے سر پہ پہنچی تھی جو میچ دیکھنے میں مصروف تھا۔
“ہوں اوکے لسٹ بنا دو میں لے آؤنگا۔”
وہ سرسی انداز میں بولا تو پریہان کا چہرہ خفت زدہ ہوا تھا۔
“میں خود لینا چاہتی ہوں۔”
وہ اسکی بات کا اثر زائل کرتے بولی تھی۔
“جب ہر چیز جانتی ہو تو ضد کیوں میں کہہ رہا ہوں نا کہ میں لے آؤنگا پھر۔”
اب کے دورید کا انداز تھوڑا سخت ہوا تھا۔
پریہان پاؤں
پٹختے وہاں سے نکل گئی تھی۔
وہ دوبارہ وہاں آئی تو دورید ٹی۔وی آن کیے سوچکا تھا۔پریہان کو عجیب بےچینی سی ہونے لگی تھی تبھی وہ تھوڑی دور ٹہلنے کا سوچتے ہوئے باہر آئی تھی۔
اپنی سوچوں میں گم پریہان کو پتا ہی نہیں چل سکا تھا کہ وہ انجان راستوں پہ بھٹک گئی ہے جبھی ایک بلیک مرر گاڑی اسکے پاس آرکی تھی۔
وہ چونکی اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی سامنے موجود شخص کو دیکھتے پریہان کا سانس تھما تھا۔
“ویلکم ٹو مائے ورلڈ مائے گرل۔”
خباثت زدہ مسکراہٹ لبوں پہ سجائے شخص کی آنکھوں میں اسے دیکھتے چمک ابھری تھی۔پریہان کو لگا وہ اگلی سانس لینے کے قابل نہیں رہی جبھی ایک انجان سا لمس اسے اپنے وجود پہ رینگتا محسوس ہوا تھا اور اگلے لمحے وہ ہوش وخرد سے بیگانہ ہوچکی تھی۔
اسے جب دوبارہ ہوش آیا تو اسکے سامان پرسکون زندگی کا تصور مٹ چکا تھا ہر طرف وہیں ہیبت برساتے مجسمے اور دیواروں پہ لٹکتی عجیب وغریب مخلوق کی تصوریں اسکے دماغ کو پھر مفلوج کرنے لگی تھیں۔
“شما طرفدار لوسیفر بودید و به او بازگشتید”
(تم لوسیفر کیلئے تھی اور اسی کے پاس لوٹ آئی ہو)
پاس سے آتی آواز پہ اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے۔
“کک کیوں لائے ہو تم مجھے یہاں کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا آخر۔”
وہ روتے ہوئے فریاد کررہی تھی۔
“تم نے ہمارے خدا کو ناراض کیا ہے لڑکی تم جانتی ہوتمہارے جانے کے بعد میں تو جیسے اٹھ ہی نہیں سکا ایک تمہاری خاطر کیا کیا نہیں سہا ،کیا میں نے اور آخر آج تم میرے پاس ہو جیت آر۔جے کی ہوئی۔”
اسکی مکروہ ہنسی پہ پریہان نے جھرجھری لی تھی۔
وہ رسیوں میں جکڑی گئی تھی ایک بار پھر سے خون کی ہولی کھیلی گئی لیکن اب کے اس نے اپنے جسم سے نچڑتا خون اور لوسیفر کی زینت بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا وہ کمزور حواس کی لڑکی زیادہ دیر یہ سب نہیں دیکھ پائی تھی ۔




















پہاڑوں کے دامن پہ چمکتا دل اور اسکے ساتھ لکھا گیا “ویلکم ٹومری” سیاحوں کی ایک سیلفی کا مرکز ضرور بنتا دلہام اسکا ہاتھ تھامے سست روی سے اونچی نیچی ڈھلوانیں چڑھتا اسے مال روڈ لایا تھا جہاں اسنو فال کے ساتھ ڈھابے کی بنی چائے پینے کا شغف اسے یہاں کھینچ لایا تھا۔
اسکی نسبت عناء سردی کی شدت سے کپکپا رہی تھی۔
“ایسے کون کرتا ہے دل چائے ہی پینی تھی میں گھر میں بنالیتی۔”
اس نے ایک بار پھر سے یہاں آنے پہ ناراضگی جتائی تھی۔
“تمہیں یہ سب اچھا نہیں لگ رہا عنادل ،یہ زندگی سے بھرپور سانس لیتے وجود ،بےفکری سے مسکراتے چہرے۔”
دلہام اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے انکے رگڑتے گرمی پہنچا رہا تھا۔
“بہت اچھا لگتا ہے یہ سب دل لیکن جانے کیوں میرا دل اداس اداس سا ہے۔”
وہ اسکے کندھے پہ سرٹکائے بولی تھی اسوقت وہ دونوں ہی سیروتفریح کیلئے آئے لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔
“آپ دلہام بخت ہیں نا فیمس پولٹیشن؟”
سامنے سے آتی شریر لڑکیوں کے ٹولے میں سے ایک نے رک کہا تھا دلہام نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلایا۔
“اوہ مجھے یقین نہیں آرہا آپ ہمارے سامنے ہیں ،گائز میٹ ہم یہ ہیں ہماری نوجوان نسل کے نمائیندے دلہام بخت ،بہت چھوٹی عمر میں بڑا نام کمایا ہے انہوں نے۔”
وہ لڑکی جو دلہام کی مداح تھی اپنی دوست کے سامنے بھی اسکی مداح سرائی کرنے میں مشغول تھی۔
وہ سب ہی دلہام سے ہیلو ہائے کرنے لگی تھیں۔
عناء کا دل پھر سے بےچینی کی چادر اوڑھنے لگا تھا وہ
ادھر ادھر دیکھتے وقت گزاری کرنے لگی جب اسکا بی۔پی۔ہائی ہوا تھا جہاں دلہام اس لڑکی کا ہاتھ تھامے ہنس ہنس کے کچھ کہہ رہا تھا۔
عناء پاؤں پٹختی وہاں سے ہٹی تھی جب دلہام کی نظر اسکے بگڑے نقوش پہ پڑی تو وہ فوراً ان لڑکیوں سے معذرت کرتااسکے پاس آیا تھا۔
“کیا ہوا؟”
وہ اسکا ہاتھ تھامنا چاہتا تھا جو عناء نےفوراً سے جھٹک دیا۔
“عنادل۔۔۔”
دلہام کو اپنا ہاتھ جھٹکا جانا بلکل پسند نہیں آیا تھا تبھی سخت آواز میں کہا تھا۔
عناء نے اسے بےبسی سے دیکھا اور اسکے سینے پہ سرٹکایا۔
دلہام کو اتنا تو اندازہ تھا وہ اداس ہے پر کیوں ہے یہ وجہ تو اسے بھی معلوم نہیں تھی دلہام کو بتاتی۔
“کچھ ایسا ہے جو تمہیں پریشان کررہا ہے مجھے بتاؤ؟”
وہ پبلک پلیس پہ ہی بے ایک دوسرے میں مگن سے ٹہرے تھے۔
“مجھے اچھا نہیں لگا آپکا اس لڑکی کا ہاتھ تھامنا۔”
عناء نے برملا اظہار کیا تو دلہام کے لبوں پہ مسکراہٹ کھلی وہ اسکی طرف جھکا تھا۔
“جیلس ہورہی ہو یا مجھ پہ اعتبار نہیں ہے؟”
وہ پوچھ رہا تھا عناء کو اپنا بھرم بھی رکھنا تھا۔
“دونوں ہی نہیں بلکہ مجھے بس اچھا نہیں لگا۔”
اس نے اپنی زور پہ بات دیا تو دلہام نے کاشن بجالاتے سرخم کیا۔
“اوکےمادام آئیندہ سے ایسی گستاخی نہیں ہوگی حالانکہ وہ جسٹ آٹوگراف لینا چاہ رہی تھی مجھ سے۔”
دلہام نے نامحسوس انداز میں صفائی دی پر عناء کی گھوریوں پہ سخت کبیدہ ہوتے اپنے کان پکڑے تو عناء کا قہقہ بےساختہ تھا ۔
اس نے بڑی مشکل سے یہ مسکراہٹیں اور قہقے قسمت سے کشید کیے تھے وہ انہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔
وہ ایک اسٹال پہ رکا تو عناء ٹہلتے ٹہلتے آگے بڑھنے لگی جبھی مخالف سمت سے آتا شخص اس سے ٹکرایا تھا۔
وہ چونکی بلیک ہڈی میں سرتا پیر لپٹے شخص نے ذرا سا ہڈی کیپ سرکاتے ایک مسکراہٹ اسکی جانب اچھالی تھی۔
عناء کے لبوں سے مسکراہٹ پل میں سمٹی تھی جب اس نے عناء کا ہاتھ تھامے اس میں ایک پرچہ پکڑایا اور تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔
“عنادل۔۔.”
وہ گم صم سی سڑک کے اس پار غائب ہوتے شخص کو دیکھ رہی تھی جب اپنی پشت سے آتی دلہام کی آواز پہ چونکی۔
“کیا ہوا کہاں چلی گئی تھی تم؟”
دلہام نے اسے پاس آتے دیکھ اپنے بازو کے گھیرے میں لیتے ہوئے کہا جبکہ اسکا پسینہ پسینہ ہوتا چہرہ دلہام کو چونکا گیا۔
“کیا ہوا تم ٹھیک تو ہونا؟”
وہ اسکے ماتھے اور پھر رخساروں سے اپنی ہتھیلی مس کرتے ہوئے بولا تھا۔
“آہاں میں ٹھیک ہوں گھر چلیں ،مجھے زیادہ ٹھنڈ لگ رہی ہے۔”وہ اپنے چہرے سے دلہام کا ہاتھ ہٹائے اپنے لرزتے ہاتھوں میں لیتے بولی تھی۔
“ٹھنڈ لگ رہی ہے تو چہرے پہ پسینہ کیوں؟”
وہ الجھا تھا۔
“اگر آپ نے ایسے ہی جراح کرنی ہے تو میں اکیلی گھر چلی جاؤنگی۔”مٹھی میں دبے پرچے کو مزید دباتے وہ
لڑکھڑاتے لہجے میں بولی تو دلہام کچھ الجھتے ہوئے اسے لیے گھر واپس آگیا تھا کچھ دیر پہلے تک تو وہ نارمل تھی پھر ایسا اچانک کیا ہوگیا؟
گھر آتے ہی وہ بستر میں دبک گئی تھی جبکہ دلہام نے اسے زیادہ چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔




















عناء بےیقینی کا شکار تھی جبکہ مقابل تاسف بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“یہی سچ ہےعناء’ء دلہام کی نگاہ ہمیشہ سے پریہان پہ رہی ہے اور اس سے بڑی سچائی اور کیا ہوگی کہ وہ ۔۔۔”
“انف اگر میں اتنی دیر سے کچھ بول نہیں رہی اسکا یہ مطلب نہیں کہ تم کچھ بھی بولو گے دلہام بخت کیا ہیں انکا کیا کردار ہے میں تم سے زیادہ اچھے سے جانتی ہوں انہیں۔۔”
“اوہ جسے دلہام بخت سے ملے جمعہ ‘جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں وہ بچپن کے دوست سے زیادہ جاننے کی دعوایدار ہیں کیے؟
اگر ایسا ہے تو ایک بار اس سے پوچھو نا اسے کیا مسئلہ ہے مجھ سے اور رمز کا نکاح موسیٰ سے کروانا ،تمہیں میرے ساتھ دیکھ کے اتنا شدید ردعمل دینا کچھ تو دماغ کے پردے کھولو نا عناء بیبی ۔”
وہ بنا اسکی گرج چمک کا نوٹس لیے تسلی سے دونوں بازو سینے پہ باندھے اسے بغور دیکھ رہا تھا جو سادہ کرتی کے ساتھ گھیردار ٹراؤزر اور ایک لمبا سا دوبٹہ لیے وہاں موجود کئی طرحدار لڑکیوں سے منفرد دکھائی دے رہی تھی۔
وہ آر۔جے سے ملنے آئی تھی چونکہ اسنے اپنا سیل آف کردیا تھا اسیلئے آر۔جے نے اسے شاید فالو کیا تھا اور ملنے کا پیغام دیا تھا۔
“مجھے ان سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں جب مجھے پتا ہے کہ یہ سراسر بکواس ہے پریہان اور رمز اسکیلئے بچوں کی طرح ہیں اور۔۔۔۔”
“آہاں مجھے پتا تھا تم میری باتوں پہ یقین نہیں کروگی کچھ پروف لایا ہوں میں تمہارے لیے چاہو تو گھر جاکے تسلی سے دیکھ لینا اسے۔”
اس نے ایک پن ڈرائیو اسے پکڑائی تھی عناء نے قہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھا اور بنا ڈرائیو لیے جانے کو مڑی تھی۔
“یہ موقع ہر بار نہیں ملے گا مسز عناء دلہام بخت جن رازوں کی کھوج میں تم یہاں تک آئی ہو وہ یقیناً نائٹ میئرز بن کے تمہیں بےسکون رکھتے ہونگے۔”
آر۔جے کی آواز پہ اسکے قدم رکے تھے ایک کھوجتی نگاہ اس پہ ڈالی ۔تو کیا اسکا چہرہ اتنا بولتا تھا کہ وہ اسکی بےچینی کو بھانپ گیا تھا۔
آر۔جے نے کندھے اچکاتے وہ ڈرائیو اپنی پاکٹ میں رکھنا چاہی تھی جب وہ تیزی سے اسکے پاس آئی اور پن ڈرائیو لیتے بھاگتے قدموں سے وہاں سے نکلی۔
دلہام کے بھیجے بندے نے اسے ٹیکسٹ چھوڑا تھا جبکہ وہ اپنی میٹنگز میں بےتحاشہ مصروف تھا جسکی بنا پہ وہ کچھ دیکھ نہیں پایا تھا۔
گھر آتے ہی عناء نے اس ڈرائیو کو سختی سے تھام رکھا تھا جانے کیا راز پوشیدہ تھے اس میں۔
دھڑکتے دل سے وہ فوراً لیپ ٹاپ لے کے بیٹھی تھی اور ڈرائیو اوپن کی جہاں کئی ایک شارٹ کلپس موجود تھیں۔
“بھائی ہماری محبت کو کبھی ایکسپٹ نہیں کریں گے کیونکہ پریہان انہیں نہیں ملی۔”
سامنے موجود لڑکی اور اسکی بات نے عناء کے حواس شل کیے تھے۔
ہر ویڈیو ہی الگ تھی جہاں رمز اور کہیں پریہان موجود تھی ایک تصویر میں نیم برہنہ وجود لیے پریہان دلہام کے گلے لگی ہوئی تھی جہاں پریہان کا چہرہ واضع تھا پر دلہام کا سائیڈ پوز ہی دکھ رہا تھا ایک سے بڑھ کے ایک تصویر اور آخری ویڈیو نے تو جیسے سانس ساکن کردی تھی۔
بےشرمی کی حد کو پار کرتے رمز اور موسیٰ۔
عناء کا دماغ پوری طرح سٹک ہوچکا تھا۔
یہ تھے دلہام بخت کے راز جو عناء سے چھپاتے وہ اپنے گھر والوں اور اپنے رازوں کی تدفین چاہتا تھا اور آر۔جے وہ چند تصاویر جو آر۔جے اور دلہام کے سکول ،کالج اور یونیورسٹی دور کی تھیں جو انہیں بہترین دوست ثابت کررہی تھیں۔
عناء کا دماغ مکمل ماؤف ہوچکا تھا چہرہ آنسو سے تربتر تھا اگلے ہی لمحے اس نے لیپ ٹاپ کو اٹھائے دیوار پہ مارا تھا۔دلہام کا یہ کونسا روپ تھا اور پریہان۔۔۔رمز ،موسیٰ کتنے گندے اور گندگی میں لتھڑے لوگ تھے ۔
“دورید۔۔۔”
تو کیا دورید اپنی بیوی اور دلہام کے اس گھناؤنے چہرے سے واقف تھا ؟ہاں شاید تبھی وہ شادی کے فوراً بعد وہاں سے چلا گیا تھا اور دلہام۔۔۔وہ بھی تو اپنے ولیمے کی رات اسے لے کے چلا آیا تھا۔عناء کہاں تھی اس سب میں؟
وہ زاروقطار روتے بیڈ شیٹ کو سختی سے بھینچے بیڈ کے کونے پہ سرٹکا گئی تھی۔
اسے پریہان کا دلہام سے کھینچا کھینچا انداز یاد آرہا تھا اسکا شرمانا للجانا عناء کو ایک بار پھر سے پچھتاوے گھیرنے لگے تھے اسکا دل چاہا کہ ہر چیز تہس نہس کردے اور وہ ایسا کربھی رہی تھی۔
