Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 04)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

“قاضی کیوں؟”

دلہام کے ماتھے پہ بل پڑے تھے۔

“شاید تم بھول رہے ہو کہ شاہ بخت کی حویلی عزت کی چادر سمجھی جاتی ہے اور تم انکے سپوت ہوتے کسی کی عزت بھلا کیسے داؤ پہ لگا سکتے ہو؟”

دارا جان کی آواز پہ سوں سوں کرتی عناء نے بھی سراٹھایا اسے دی گریٹ دارا جان بہت اچھے لگے تھے جو اس گھمنڈی شخص کی مسلسل کلاس لے رہے تھے۔

“تو دارا جان۔۔”

“تم ابھی اور اسی وقت اس لڑکی سے نکاح کروگے ورنہ ہم موسیٰ یا دورید میں سے انتخاب کا حق رکھتے ہیں ۔”

دارا جان کی آواز پہ گہرا سنآٹا چھایا تھا جب عناء ہوش میں آئی تھی۔

“نو وے ایسا کبھی نہیں ہوسکتا جس شخص کی آلریڈی دو بیویاں اور بچے ہوں ۔ میں کسی ایسے شخص سے شادی نہیں کرسکتی جہاں یہ بھی پتا نہ ہو کہ آپ کونسے نمبر والا نمونہ بننے جارہے ہیں؟”

عناء نے اعتراضات کی توجیہات پیش کی تو دلہام بخت مزید صدمے کا شکار ہوا تھا اسکی ڈارک براؤن آنکھیں حیرت سے پھیلتی جارہی تھیں۔جبکہ عناء تو ان آنکھوں کے رنگ سے آشنا ہی نہ تھی جیسے۔

“یہ کیا ہاں اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ اتنے بڑے بڑے ڈیلے دکھا کے آپ مجھ سے نکاح کرلیں گے تو سن لیں دلہا بخت اگر آپ دنیا کے آخری شخص بھی ہوئے تو آپ سے شادی کرنے کے بجائے میں موت کو ترجیح دونگی۔”

اسکی سنہری آنکھیِِ پھر سے موتیوں سے مزین ہوئیں تو دارا جان نے تاسف سے اسے دیکھا ۔

“اگر ایک لڑکی کی عزت کو مذاق بناؤ گے اور آپ یہ سمجھو گے دلہام بخت کہ وہ تمہاری عزت کرے گی تو یہ غلط فہمی تھی آپکی ۔”

دارا جان کی آواز دلہام کا مزید دماغ خراب کررہی تِھی جبکہ اس لڑکی کی واضع ریجکشن تو اسکی مردانہ انا پہ کاری وار ثابت ہوئی تھی ۔

“ٹھیک ہے دارا جان آپکو یہ لگتا ہے نہ کہ میں نے اس حویلی کے اصولوں سے ہٹ کے کچھ کیا ہے تو ٹھیک ہے میں اس حویلی کی خاطر اس لڑکی سے ابھی کے ابھی نکاح کرونگا۔۔۔۔موسیٰ۔”

وہ جو انسانی روبوٹ دارا جان کے حکم پہ بھی بےجان رہا تھا دلہام کی آواز پہ حرکت میں آتے جن کے جیسے غائب ہوا تھا ۔

“دارا جان یہ آپ ،یہ غلط ہے آئی مین۔”

دورید نے ایک نگاہ گم صم عناء پہ ڈالی تھی ۔

عناء کی مسلسل ہوتی رنگ کی وجہ سے دارا جان نے دورید کے سیل سے کال اٹھائی تھی جو سیل ڈرائنگ روم میں رکھ کے اپبے کمرے میں گیا تھا اور واپسی کا طوفان وہ حویلی سے فارم ہاؤس تک دارا جان کی زبانی سنتا آیا تھا اور یہاں پہ ایک نیا کٹا کھل چکا تھا ۔

دارا جان اپنا فیصلہ سنائے طمراق سے صوفے پہ جابیٹھے تھے۔دلہام نے سلگتی نگاہ اس ڈرامے باز لڑکی پہ ڈالی جو خود ہی اپنے جال میں پھنس چکی تھی۔

“سنو دورید۔”

عناء کی آواز پہ وہ ہوش میں آیا جو کب سے خاموش نگاہوں سے ہی احتجاج کیے جارہا تھا جبکہ زبان پہ قفل تھے ۔

“کیا یہاں واقعی کوئی ڈرامیٹک سین ہونے والا ہے آئی مین یہ نکاح ؟اصلی ہوگا؟”

وہ دورید کے کان میں گھستے ہوئے پوچھ رہی تھی جبکہ دورید کا دل چاہا اس عقل بند لڑکی کی عقل پہ ماتم کرے جو اس سب کو ایک کامیڈی لے رہی تھی۔

“بلکل ہینڈرٹ پرسینٹ والا رئیل تیسری بیوی بن رہی ہو بھائی کی۔”

دورید نے جان بوجھ کے سلگتی پہ تیل چھڑکا تاکہ وہ احتجاج کرے۔

“کیا اوہ مائے گاڈ ۔۔۔دارا جان مجھے اس نکاح پہ اعتراض ہے۔”

دورید کی بات سنتے ہی وہ سیدھی انکے پاس آئی تھی جو آنکھوں ہی آنکھوں میں دورید پہ طوفانی حملے کررہے تھے ۔

دارا جان چونکتے ہوئے سیدھے ہو بیٹھے تھے۔

دورید نے سکون کا سانس لیا ۔شکر کہ اس نے دلہام بخت کے قہر سے بچنے کی ٹھانی۔

“عناء دلاور اتنی ارزاں نہیں ہے کہ دو بیویوں کے شوہر سے شادی کرلے انہیں پہلے اپنی دونوں بیویوں کو طلاق دینی ہوگی۔”

وہ سینے پہ ہاتھ دھرے آسمان کو کھنچتے دلہام بخت کے سر پہ گرانے لگی تھی۔

دورید بھونچکا رہ گیا وہ اپنے چھپنے کی جگہ تلاشنے لگا تھاجسکے مشورے ہمیشہ غلط وقت پہ استعمال ہوتے تھے۔

“کیا دلہام بخت کی دو بیویاں ہیں ہوش میں تو ہو تم لڑکی۔”

دارا جان کو اس پہ سخت غصہ آیا تھا جبکہ دل میں کہیں خدشے بھی سراٹھانے لگی تھی۔

“لو آپکو نہیں پتا کیسے دادا ہو آ۔۔۔۔”

“سر قاضی آگیا ہے۔”

موسیٰ کی آواز پہ اسکی بولتی بند ہوئی تھی ۔

دلہام کی نسیں پھولی ہوئی تھیں بنا دارا جی کی پرواہ کیے وہ عناء کو بازو سے پکڑے باہر لایا تھا۔

“اگر تم نے نکاح سے انکار کیا تو ان ٹائیگرز کا لقمہ بننے سے تمہیں دارا جان بھی نہیں بچا سکیں گے۔”

وہ اسکے کان میں دھاڑتے اپنے ساتھ گھسیٹتے باہر لایا تھا جہاں مولوی صاحب لان کی چئرز پہ بیٹھے تھے۔

“شروع کریں مولوی صاحب ۔”

دلہام نے اسکی کھنچا تانی کو ایک جھٹکے میں اپنے قریب کرتے ختم کیا تھا۔

“لو ایسے کیسے مولوی صاحب کیا اس حلیے میں کبھی نکاح ہوا ہے؟”

عناء کو اپنے حلیے کی فکر ستائی یا وہ دلہام کا وقت برباد کرنا چاہتی تھی۔

“بھائی عناء کا کوئی قصور۔۔۔۔”

دورید نے کچھ بولنا چاہا جب دلہام نے ہاتھ اٹھائے اسے بولنے سے منع کردیا تھا تو وہ بیچارہ اپنا سا منہ لے کہ رہ گیا۔۔

“دلہن کا نام کیا ہے؟”

مولوی صاحب نے دریافت کیا تھا۔

“عناء ،عناء دلاور نام ہے میرا لیکن ان کو نہیں آتا انکی الف ،ب بلکل ٹھیک نہیں ہے نا گنتی صیح آتی اسیلئے یہ عنادل کہتے ہیں مجھے۔”

عناء ٹھٹھہ بازی کرتے اپنی طرف سے ایک عظیم جوک سنایا تھا مولوی صاحب کو جو کہ لاحولہ پڑھتے رہ گئے۔

دلہام نے ایک شکایتی نگاہ دارا جان پہ ڈالی جو رخ موڑے دورید سے بات کرنے لگ گئے تھے۔

دلہام نے خود ہی بڑھ کے نکاح فارم کو فل کیا تھا ۔

“ایک منٹ ایک منٹ لڑکی والوں کی شرائط سب میں ہی لکھونگی مجھے حق مہر میں بخت حویلی چاہیئے کافی بدحالی کا شکار ہے اور وہاں پہ چلتی پھرتی لاشیں بھی مجھے اچھی نہیں لگی ہیں اگر دارا جان یہ حویلی دلہام بخت سے میرے نام منتقل نہیں کی گئی تو میں انصاف کیلئے قانون کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گی۔”

وہ نکاح فارم اٹھائے اپبی شرائط درج کرنے لگی تھی۔

“ارے مولوی صاحب خدا کو مانیں ،لڑکا پہلے سے شادی شدہ ہے کہ خانے میں آپ نے یہ “نہیں” جو لکھ دیا ہے خدا کو منہ دکھانا ہے یا نہیں کمال ہے بھائی رنڈوہ لکھ دیں کیونکہ اس نکاح نامے کی پبلکیشن کے بعد تو دونوں بیویوں نے ہی انکو چھوڑ دینا ہے۔”

اسکی مسلسل چلتی زبان دلہام کے ساتھ دارا جان کو بھی پریشان کرگئی تھی۔

اسوقت وہاں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ اسکی باتوں کو جان پاتا جو بات بخت حویلی کے مقیم بھی نہیں جانتے تھے وہ اسکے منہ سے نکلی تھی کہ بخت حویلی دلہام کے نام ہے۔

“ہاں یہ بلکل پرفکیٹ نکاح نامہ ہے اب بولیں ویسے مجھے تو کلمہ آتا ہے ان سے پوچھ لیں کہ۔۔۔”

“شٹ اپ مس عنادل آپ۔۔۔”

“دیکھا ،دیکھا میں جو کہتی تھی کہ انکو میرا نام تک نہیں آتا اور۔۔۔”

“عناء”

اسوقت دورید ہی واحد انسان تھا جو دلہام بخت اور دارا جان کو سب کے سامنے شرمندگی سے بچا سکتا تھا تبھی وہ اسکا ہاتھ تھامے ایک سائیڈ پہ لایا تھا۔

“یا تو تمہیں اس نکاح سے انکار کردینا چاہیئے یا پھر بکواس بند کرلینی چاہیئے ۔”

وہ دبی دبی آواز میں چیخا تھا ۔

“لو کونسا نکاح ہورہا ہے یہاں تمہارے بھائی نے ان منحوس مارے ٹائیگرز کی دھمکی دی ہے تو ویسے دورید زبردستی کا نکاح ہوتا تو نہیں ہے نا میں تو دارا جی کا لحاظ کررہی ہوں بیچارے دیکھو کیسا دل ٹوٹا ہے نا انکا اپنے پوتے کی وجہ سے میں نا بزرگوں کو ایسے۔۔”

“پرفیکٹ میچ فار ایچ ادر ۔”

دورید اسکی مزید گوہر فشانیاں تاب نہ لاتے اسے پھر سے دلہام کے قریب لایا تھا ۔

“بیٹی جیسے میں کہہ رہا ہوں ویسے ویسے پڑھیں بسم اللّٰہ۔۔”

مولوی صاحب کی تقلید میں وہ زور شور سے تین بار قبول ہے کہہ چکی تھی اور حیرت انگیز طور پہ نہ اسکا دل ہولایا نا ہی کچھ اور ہوا تھا۔

“دارا جان اب میں جاؤں ،پلیز میرے جانے تک ان ٹائیگرز کو سنبھال لیجئے گا گھر میں میرے بابا جان میرا انتظار کررہے ہونگے ۔”

وہ سرگوشیوں میں انکے کان میں گھستے بولی تو وہ اس لڑکی کو سمجھنے کی کوشش کررہے تھے کچھ دیر پہلے وہ اپنی عزت کا سوال لیے سراپا احتجاج لڑکی اتنے بڑے واقع کو نوٹس نہیں لائی تھی۔

“ہمم دورید اس بچی کو گھر چھوڑ آو اور ہاں بیٹی ہم کچھ دن تک آئیں گے تمہارے بابا سے باقاعدہ اس رشتے کی بات کریں گے گھبرانا نہیں ۔”

دارا جان اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے شفقت سے بولے تھے ۔

“یہ رکھ لو تم۔”

دورید نے ایک فارم اسے پکڑایا تھا جو اس نے خاموشی سے لے لیا تھا پر گاؤں کی حدود سے باہر آتے ہی وہ فارم ہوا کی زینت بنا تھا ۔

“لو یہ اڑ گیا نکاح۔”

عناء کا انداز مذاق اڑاتا تھا جبکہ دورید کے پاؤں بےساختہ ہی بریک پہ پڑے تھے۔گاڑی جھٹکے سے رکنے کی وجہ سے اسکا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا تھا۔

“کون ہو تم عناء؟”

“آں۔۔۔عناء عناء دلاور تھی کچھ گھنٹوں سے پہلے تک لیکن اب مسسز عناء دلہام بخت بن گئی ہوں۔”

عناء نے واضع طور پہ اپنا مذاق خود بنایا تھا دورید اسے دیکھ کے رہ گیا۔

“یو آر ان بلیوبل عناء تمہیں یہ سب جوک لگ رہا یو گاٹ میریڈ ڈیمڈ ،دلہام بخت سے تمہاری شادی ہوئی ہے جانتی ہو اس بےوقوفی کا انجام کیا ہے؟”

دورید اسے سخت سنانے پہ مضر نظر آیا لیکن عناء سننے کے موڈ میں نہیں تھی۔

“دورید ایک آئسکریم تو کھلا دو یار تازی تازی تمہاری بھابھی بنی ہوں میں۔”

عناء نے اسے آنکھ مارتے کہا دورید کا پارہ مزید چڑھ گیا تھا۔

“یار دورید وہ ٹائیگرز کتنے۔۔۔”

“شٹ اپ عناء دو منٹ چپ نہیں بیٹھ سکتی تم؟”

وہ غصے میں سٹیر پہ ہاتھ مارتے بولا تو عناء چپ ہوگئی تھی لیکن اسکی سانس بند ہونے لگی تھی چپ ہوتے ساتھ۔

“ویسے دورید کیا تم دلہا بخت سے جیلس ہورہے ہو؟”

عناء کے سوال پہ وہ بھونچکا رہ گیا ۔

“واٹ میں جیلس وہ بھی بھائی سے پر کیوں؟”

دورید حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“آفکورس یار میں تمہاری دوست پر نکاح دلہا بخت سے کرلیا ہے تو ۔۔۔”

“کہاں سے لاتی ہو تم اتنی سویٹنس عناء ان پریکٹیبل؟”

دورید لاچاری سے پوچھ رہا تھا۔

“بس دیکھ لو۔۔۔۔”

“اب ایک اور گھٹیا جوک بولا نا تم نے گاڑی سے پھینک دونگا تمہیں۔”

دورید کی بات پہ وہ سیٹ سے چپکی تھی ۔

جبکہ اسکی حرکت دیکھتے دورید کا دل چاہا اسے اٹھا کے کہیں پھینک دے۔

اسکے گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہی عناء کے منہ کھولنے سے پہلے وہ گاڑی اڑا لے گیا تھا۔

“سو آئی ہیو ون دلہام بخت۔”

ایک ادائے بےنیازی سے بال جھٹکتے وہ گھر میں داخل ہوگئی تھی۔۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

آدھی رات کا وقت تھا جب عناء کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی تھی۔

وہ بدحواس سی اٹھ بیٹھی تھی لیکن سامنے موجود شخص کو دیکھتے وہ پوری جان سے لرزی تھی۔وہ جانتی تھی کہ اسکے نکاح پہ اس شخص کا ریکشن شدید ہونے والا ہے لیکن اتنی جلدی وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے والے کو دیکھ رہی تھی۔

“نکاح مبارک ہو عنادل لیکن یہ پوچھنا تھا کہ نکاح پہ نکاح کونسے مذہب میں جائز ہے محترمہ؟”

اسکی بات سنتے عناء کی آنکھیں خوف سے کپکپائی تھیں۔

“نکاح اگر دوسری بار بھی ایک شخص سے ہو تو بلکل

جائز ہے۔”

وہ خود کمپوز کرنے کی کوشش میں لگی تھی۔

“شٹ اپ ڈیمڈ وہ صرف زبان کا پاس تھا یا شاید میری سب سے بڑی بھول تھی۔”

اسکی آنکھوں سے لپکتے شعلے عناء کو بھسم کردینا چاہتے تھے۔

“لائیک سریسلی اگر تم اپنے نکاح کو غلطی سمجھ کے گناہ کی طرح چھپا سکتے ہو تو عناء دلاور اسے ایسے بھی ایکسپوز کرسکتی ہے ریڈی فار برائد ٹو بی ۔”

استہرائیہ انداز میں کہتے وہ دلہام بخت کو اچھا خاصہ دھچکا دے چکی۔

“تمہارا یہ پلین کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔”

وہ آہنی شکنجے میں اسکی کلائی کو زک کرتے بولا تھا۔

“پلین کرنے والی ذات تو رب کی ہے لیٹ می ٹیل یو ون تھنگ آج کا ڈرامہ میرا پلین ہرگز نہیں تھا۔ تم نے سب کے سامنے مجھے اپنایا ہے سو یہ نکاح تو گناہ نہیں ہے نا؟”

دلہام بخت کی حالت سے حظ اٹھاتے وہ بستر چھوڑنے لگی تھی جب دلہام نے اسے ایک جھٹکے سے دوبارہ بستر پہ لاگرایا تھا۔

ترس بیهوده ندارم! صحبت از خاطره هاست

صبحت از کشتن نا خواسته عاطفه هاست۔۔۔۔۔

(مجھے بیکار کا کوئی خوف نہیں! یادوں کے بارے میں،میرے زخموں پہ نمک چھڑکنے کے بارے میں بات کریں

آؤ ناپسندیدہ جذبات کو مارنے کی بات کریں ۔۔۔۔۔)

وہ اس پے جھکے اپنی شہادت کی انگلی اسکے لبوں پہ پھیرتے ہمیشہ سے اپنے درشت الفاظوں کا استعمال کرتے اسکے عصابوں سے کھیلا تھا اور عناء کو اچھا خاصہ خوف زدہ کرچکا تھا۔

دلہام بخت کی قربت اور ہمیشہ سے اسکی بےہودہ شاعری عناء کیلئے خوف کا ہی سبب بنی تھیں۔

“میں اس نکاح کو پبلش کردونگی۔”

عناء نے سہمی سے دھمکی لگائی تھی۔

“کرکے دکھاؤ اپنا اگلہ ٹھکانا سوچ لینا عنادل۔”

دلہام نے اس پہ جھکتے اسکے شانوں کو لبوں سے مس کرتے گویا اس دھمکی کا ٹرائل دکھایا تھا۔

عناء بےبس سی ہوکے رہ گئی تھی۔

“بہت پچھتانے والے ہو تم دلہام بخت۔”

ایک ضبط بھرا آنسو لڑھکتے ہوئے سنہری رخساروں پہ آیا تھا۔

“جہاں اتنے پچھتاوے ہیں وہاں ایک اور سہی۔”

وہ اسکی آنکھوں میں ہلکورے لیتے خوف اور اسکی باتوں کی مصنوعی مضبوطی پہ مذاق اڑاتے اسکے بےمول آنسو کو شہادت کی انگلی پہ لیے کھڑا ہوگیا ہوگیا تھا۔

“آئیندہ بخت حویلی کی طرف قدم بھی مت بڑھانا عنادل ورنہ بہت برا ہوگا۔”

جاتے سمے بھی وہ اسے تڑی لگانا نہیں بھولا تھا۔

عناء بکھرے وجود سے اٹھ بیٹھی تھی۔اسے تو لگا تھا شاید وہ اس شخص کا غرور توڑ دے گی لیکن نہیں وہ نہیں کرپائی تھی اس بار بھی عنادل ہاری تھی۔

سلگتی آنکھوں سے دیوار پہ چپساں تحریر کو دیکھا جو خوف کے بوجھ میں ایک اور بار کا اضافہ تھا۔

کوله باریست پر از هیچ که بر شانه ماست

گله از دست کسی نیست’ مقصر دل دیوانه ماست!

(بار ہمارے کندھوں پر کچھ بھی نہیں بھرا ہوا ہے

کوئی شکایت نہیں کر رہا ، ‘ہمارے پاگل دل کا مجرم )

عناء دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے ایک بار پھر سے رودی۔ان پہلیوں کو سلجھانا اسکے بس میں نہیں تھا لیکن ایک کام تھا جو اسکے بس میں تھا اور وہ تھی نفرت جو اسے دلہام بخت کے نام سے منسوب ہوتے ہی ہوگئی تھی۔

روڈ پہ تیزی سے گاڑی دوڑاتے دلہام بخت کے درد وہ لڑکی ایک بار پھر سے وہ جگا چکی تھی۔اس نے غصے کی زیادتی سے ہتھیلی ڈیش بورڈ پہ ماری جہاں کوئی نوکیلی چیز زخم کرتے خون کی گہری لکیر چھوڑ رہی تھی۔

دلہام ہتھیلی کو دیکھے جارہا تھا۔دور کہیں ایک پنچھی کی پرسوز آواز کی گونج سنائی دینے لگی تھی۔

ریت کی دیواروں سی ہاتھ کی لکیریں،

مجھ پہ ہنستی خوشیاں دل میرا چیریں۔۔۔۔۔

کوئی نا پوچھے مجھ سے میری دل کی تنہائی،

کتنے ٹکڑوں میں ہے بکھری میری ہرچھائی۔۔۔۔۔

گاڑی کو بریک لگائے اس نے نڈھال سے وجود کا وزن سٹیر پہ منتقل کیا تھا۔اس نے تو کبھی عناء دلاور کی طرح مہلت کی بھی فریاد نہیں کی تھی۔

نسوں پہ پڑتا زور شریانوں کےپھٹ جانے کا وہم ڈال رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *