Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 19)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

‏یہ کس گمان میں پکڑ لیا ھے ھاتھ میرا

آپ چھوڑ دیجئے، آپ چھوڑ دیتے ھیں۔۔

اذیتوں بھری شب گزری تو صبح کا روشن اجالا انکے چہروں کو منور کرنے لگا تھا۔

آفتاب کی میٹھی کرنیں کھڑکیوں سے جھانکتے حویلی کے چبوتروں پہ سوتے پرندوں کو بھی جگانے لگی تھیں تبھی پنچھیوں کی آوازوں اور انکے سروں کے ساتھ شامل بلبل کی آواز پہ دلہام کی آنکھ کھلی تھی۔

دلہام کا سر عناء کی گود میں تھا جبکہ عناء کا ہاتھ اسکے چہرے پہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگایا ہوا سر ذرا کو لڑھکتے ہوئے سائیڈ پہ تھا ۔

وہ یک ٹک اسے دیکھے جارہا تھا۔

وہ لڑکی اسکی تنہائیوں اور وحشتوں کی ساتھی رہی تھی ۔بیک وقت دو جزبوں کا شکار شخص اپنے ساتھ اسے بھی اذیت دے رہا تھا۔

وہ معصوم تھی بےحد معصوم بھلا اس سے زیادہ کون جانتا تِھا کہ عنادل کی دنیا صرف دلہام بخت تک محدود تھی۔نفرتوں کے سفر کی ابتداء اس نے خود کی تھی اور دلہام نے عادت اور حالات سے مجبور ہوتے انتہا کی تھی۔

اپنے گزرے ماہ سال کی گنتی کرتے اس نے ایک بار پھر سے پلکیں موند لیں۔اسکی کراچی سیکٹریٹ میں اہم میٹنگ تھی وہ تاخیر کا شکار ہورہا تھا پر کلسمندی تھی کہ حد نہیں۔

“”عنادل”

اسکی گھمبیر آواز کمرے میں گونجی تھی۔

عناء نیند کی پریوں سے محو گفتگو تھی بھلا کہاں سن سکتی تھی اسے۔

وہ اٹھتے ہوئے اسکی سنگ مرمر سے آراستہ کمر میں ہاتھ ڈالے بیڈ پہ سیدھا لیٹا گیا ۔وہ اتنی نیند میں تھی کہ دلہام کے عمل سے اسے فرق نہیں پڑا تھا۔

وہ اسکی عنادل تھی جس نے اسکیلئے رات کا پہر اکڑو بیٹھے گزارا تھا تبھی دلہام کو بھی اسکی فکر ہوئی تھی۔

اسکے ماتھے پہ انجانی کیفیت کا لمس چھوڑے وہ فریش ہونے چل دیا تھا۔

دلہام کے گم ہوتے ہی اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔

شب بھر اس نے اس شخص کی اذیتوں کو دل پہ

محسوس کیا تھا تو بھلا اسکے لمس کو پاتے کیوں نہ جاگتی؟وہ جانتی تھی کہ اب کے بار دلہام کی غلطی سنگین تھی وہ پشیمان تھا پر وہ اتنی آسانی سے معاف نہیں کرسکتی تھی ہر بار کی تذلیل اگنور کرنا آسان تھا۔

پیشانی پہ دہکتا لمس ابھی بھی موجود تھا اسکا سامنا نہ کرنے کیلئے وہ کروٹ بدل کے سوگئی تھی آرام دہ بستر کے میسر آتے وہ پھر سے نیند میں ڈوبی تھی اسے پتا ہی نہیں تھا کہ دلہام بخت کب کمرے سے نکلا تھا ۔

دلہام کے باہر آتے ہی سب الرٹ ہوئے تھے۔

“سر آر۔جے ابھی تک غائب ہے اسے ہرجگہ ڈھونڈ لیا ہے ۔”

موسیٰ نے ڈیوٹی نبھائی۔

“سر وہ آپ سے ایک بات کرنی تھی؟”

موسیٰ کی جھکی پلکیں دلہام کی خاموشی نے ماحول کو پراسرار سا بنا دیا تھا۔

“ہنہہ” اس نے ہنکارا بھرنے پہ اکتفا کیا تھا۔

“سر میں رمز بیبی کو،میرا مطلب ہے کہ اس وقتی رشتے کو ختم کرنا چاہتا ہوں تاکہ۔۔۔۔”

“اور کوئی بات موسیٰ؟”

دلہام اسے سننے پہ مائل نظر نہیں آیا تھا۔موسیٰ نے خاموشی اختیار کی تھی۔

“مجھے سوچنے کیلئے کچھ وقت دو کیا وہ جانتی ہے کہ میں اس سب کے بارے میں آگاہ ہوں؟”

دلہام کی بات پہ اس نے نفی میں سر ہلایا تو وہ گہری سانس بھر کے رہ گیا تھا۔

“تم جانتے ہو نا کہ اس سب کے بعد میرا کیا فیصلہ ہوگا؟”دلہام نے سینہ مسلتے اس سے نرم آواز میں دریافت کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلادیا تھا۔

“اوکے جاؤ اب۔”وہ اسے رخصت کرتے حویلی کے سامنے بنے لان میں جاکے بیٹھا تھا جہاں آج کا اخبار شاید اسکا منتظر تھا۔مختلف صحفے پلٹتے اسکے نگاہیں ایک منظر پہ جمی تھیں۔جہاں اپوزیشن نے اسکے سر اپنے پارٹی ورکرز کو ورغلانے کا الزام لگایا تھا اور اس میں میرانی کا بھی بیان غور طلب تھا وہ مٹھیاں بھینچ کے رہ گیا تھا جب حویلی کی ملازمہ ہانپتی کانپتی اسکے پاس پہنچی تھی۔

“صاحب وہ ایمرے بیبی۔۔”

دلہام ایمرے کے نام پہ چونکا تھا اسکی سوالیہ نگاہوں پہ گڑبڑاتے وہ اسے ایمرے کی ہیجانی کیفیت کے بارے میں بتانے لگی جو نرسسز کو چکمہ دیتے کمرے سے باہر آتے ہر روم میں ارینہ کو ڈھونڈتے توڑ پھوڑ کررہی تھی اور گھر کی خواتین بھی اسے سنبھال نہیں پارہی تھیں وہ تیزی سے اندرونی حصے کی طرف بڑھا تھا۔

عناء جسکی آنکھ نسوانی قہقوں اور پھر دردناک چیخوں سے کھلی تھی بےیقینی سے اپنے سامنے ہاتھ میں کرسٹل لیے ایمرے کو دیکھ رہی تھی۔

“تم ارینہ ہو نا؟”

کمرے میں داخل ہوتے دلہام کے قدم دروازے پہ جمے تھے جبکہ امراؤ جان ،بی جان اور چھوٹی چچی بھی اسے سنبھالنے کی کوشش میں نڈھال تھیں جو عناء کو مارنے کو بار بار لپک رہی تھی۔

“یہ ارینہ نہیں ہے ایمرے وہ کہاں مر کھپ گئی کوئی نہیں جانتا کہاں گئی ہے؟یہ عناء ہے دلہام کی دلہن ۔۔عناء۔”

امراؤجان اسے سنبھالنے کیلئے تیزی سے بولیں۔

“نن۔۔نہیں یہ ار۔۔ارینہ ہے یہ میرا شاہ بخت ۔۔۔نہیں دل۔۔دلہام میرا ہے مم ۔۔۔میں اسے نہیں دونگی۔”

اس نے ہاتھ میں پکڑا کرسٹل ایک دم سے اچھالا تھا جو دیوار سے ٹکراتے واپس کرچیاں زمین پہ بکھیر گیا تھا۔

عناء کی چیخ بےاختیار تھی دلہام تیزی سے خواتین کے گھیرے میں رکی ایمرے کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیے وہاں سے جانے لگا تھا۔

“شاہ بخت۔۔۔تت۔۔۔تم آگئے۔۔۔دد۔۔دیکھو یہ ارینہ۔۔۔”

وہ دلہام بخت کی شاہ بخت سے حددرجہ مشابہت کو اسوقت اسے شاہ بخت سمجھ رہی تھی جبکہ وہ انہیں گھسیٹ کے زبردستی انکے کمرے میں لایا تھا۔

“نہیں ہوں میں شاہ بخت یاد نہیں ہے آپکو مار دیا تھا نا آپ نے شاہ بخت کو اور دلہام بخت کو ،کوئی نہیں ہوں میں۔کون کہتا ہے کہ آپکا ذہنی توازن خراب ہے؟ہاں جھوٹ بولتے ہیں یہ ڈاکٹر۔ سچ تو یہ ہے کہ شاہ بخت کی قاتل ہیں آپ اپنا سچ چھپانے کی خاطر پردہ اوڑھ لیا ہے آپ نے اپنی ذات پہ لیکن میں جانتا ہوں ہر سچ ہر سچ جانتا ہوں میں۔۔۔۔۔ارینہ سے نفرت کرنے کیلئے آپکے عصاب بلکل صیح ہیں تو آپ اپنی اولاد کو کیسے نہیں پہچان سکتیںآپ،وہ عناء ہے عنادل دلہام کی بیوی آئیندہ آپ اسکے کمرے میں نہیں جائیں گی سنا آپ نے ،آپ اسے نقصان نہیں پہنچا سکتیں ۔۔۔آپ دلہام بخت کو ایک بار پھر نہیں مار سکتیں۔”

دلہام کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ ایمرے سہم گئی تھی جبکہ آنکھوں میں بھی خوف ہلکورے لے رہا تھا اور دوسری طرف اسکی آواز کی شدت اور ایمرے کے روپ سے ڈری عناء امراؤ جان کے گلے لگتے پھوٹ پھوٹ کے رودی۔

“بس بچے یہ ایک مس ہیپن تھا پریشان نہیں ہوتے میری جان۔”وہ اسے ممتا کی مٹھاس دیتے خود سے لگائے تسلیاں دینے لگی تھیں۔دلہام نے باہر نوکروں کا جم غفیر دیکھا تو دماغ کی رگیں مزید پھٹنے لگی تھیں اسکی ذات کا تماشہ اس نے خود لگایا تھا ایمرے کو یہاں لا کے۔

“کیوں جمع ہیں آپ لوگ یہاں کوئی سرکس لگا ہوا ہے؟”

شیر کی دھاڑ سنتے سب وہاں سے بھاگے تھے جب اسکی نگاہ کا مرکز امراؤجان کی پناہوں میں چھپی عناء بنی تھی۔وہ مضبوط قدم اٹھائے اسکی طرف بڑھا تھا اور بازو کے حلقے میں لیے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

“جائیں آپ۔”

ملازمہ کو کرچیاں سمیٹتے دیکھ کرکہا تو فوراً وہاں سے نکلی تھی جبکہ وہ اسے صوفے پہ بیٹھائے خود بھی اسکے قریب بیٹھا تھا۔

“چوٹ تو نہیں لگی؟”

دلہام کے انداز اس غش کھانے پہ مجبور کررہے تھے وہ نفی میں سر ہلاگئی تھی۔

“کیا تم اب بھی میری اذیتوں کا شمار کرپارہی ہو؟وہ ہوش میں نہیں ہیں تو بھی ارینہ سے نفرت کرتی ہیں جبکہ میں نے تو۔۔۔”

“میری ماں بےقصور ہے دلہام بخت ۔”

وہ اسکی بات کاٹتے غصے میں بولی تھی۔

“مجھے بات مکمل کرنے دو عنادل۔”

ناچاہتے ہوئے بھی اسکا مزاج تیکھا ہوا تھا۔

“میں مزید چپ نہیں رہونگی دلہام بخت مجھے فرق نہیں پڑتا آپ اور آپکی ماں کیا چاہتی ہیں لیکن میں بار بار اپنی ماں کی تذلیل نہیں سہہ سکتی ،ہاں کی تھی میری ماں نے شاہ بخت انکل سے محبت وہ بھی تو کرتے تھے نا ان سے محبت؟ اگر محبت کرنا بدکرداری ہے تو دلہام بخت بدکردار تو آپ بھی ہیں آپ نے بھی تو عناء دلاور سے محبت کا دعویٰ کیا تھا؟کہاں گئے وہ دعوے؟شاہ بخت بزدل تھے اپنی محبت کو سرخرو نہ کرسکے تو آپ نے کیا کیا؟کسی گناہ کی طرح چھپایا ہے اس رشتے کو۔مجھے کیا ملا ہے آپکی ذات سے بتائیں میں تو اپنی شناخت تک بھولتی جارہی ہوں ،یوں بار بار مجھ پہ ہاتھ اٹھا کے آپ اپنی انا کی تسکین کرنے والے ایک ٹیپکل فیوڈرل لارڈ ہیں مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا ہے اب،تھک گئی ہوں میں نفرت کا یہ بوجھ سہتے سہتے مجھے کسی کے سامنے خود کو یا اپنی ماں کو بھی پارسہ ثابت نہیں کرنا ہے معاف کردیں آپ لوگ ہمیں۔مجھے افسوس ہے کہ آپکی ماں کو دیکھتے میں ہمدردی بھی نہیں کرسکتی ۔”

وہ باقاعدہ دلہام بخت کے سامنے ہاتھ جوڑ گئی تھی وہ گم صم ہوکے رہ گیا تھا اسکے الفاظ نشتر بن کے دل میں چبھ رہے تھے۔

“مجھے اس رشتے سے آزادی چاہیئے دلہام بخت۔”

بےآواز نکلتے آنسوؤں کو سختی سے صاف کیے وہ دلہام بخت کا ہاتھ جھٹکتے کھڑی ہوئی تھی۔دلہام نے اپنے خالی رہ جانے والے ہاتھوں کو دیکھا تھا۔

“اوکے”

اسکی ہتھلیاں دھندلائی تھیں جبکہ سپاٹ انداز میں جواب دیتے وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوتا وہاں سے نکل گیا تھا۔

دروازہ بند ہونے کی آواز پہ عناء نے سراٹھائے خالی خولی کمرے کو دیکھا تھا۔کمرے میں اسکی چند ایک چیزیں اور کپڑے موجود تھے جنہیں وہ سفری بیگ میں ٹھونستے باہر نکلنے لگی تھی جب رمز اور پریہان کمرے میں داخل ہوئیں۔

“سوری بھابھی ابھی مما نے بتایا کہ ایمرے تائی نے آپ پہ اٹیک کیا تھا آپ ٹھیک تو ہونا؟”

رمز تیزی سے بولتے اسکے قریب آئی تو نامحسوس طریقے سے عناء کا بیگ اسکے ہاتھوں سے پھسلا تھا۔

“ہاں ٹھیک ہوں میں ۔”

مختصر جواب کے بعد کمرے میں خاموشی نے ڈیرے جمائے تھے۔

“آپکو پتا ہے پریہان کی شادی ہورہی ہے آئی مین دورید کی بھی۔”رمز نے اسے شرارتی نگاہوں سے دیکھا تو پریہان کی جھنیپی جھینپی شرماہٹ بھری مسکراہٹ کو دیکھتے اسکے دل کو کچھ ہوا تھا۔

“ہمارے پاس بہت پلینز اس ویڈنگ کو لے کے لیکن ان پہ فل فل آپ نے کروانا ہے عناء بھابھی پلیز کیا آپ ہماری ہیلپ کریں گی پلیز پلیز ۔”

رمز کی محبت بھری التجاؤں نے اسکے قدم کمزور کیے تھے ۔وہ زندہ دل لڑکی انا کی جنگ میں اپنا سب کچھ ہاررہی تھی وہ رشتے جو اسے مکمل میسر بھی نہ آئے تھے۔میکانکی انداز میں اسکا سر اثبات میں ہلا تو خوشی سے جھومتی رمز کی نگاہ اسکے پاؤں کے قریب پڑے سفری بیگ پہ پڑی تھی ۔مسکراہٹ لبوں سے سمٹی تو تفکر بھری سوچوں نے ماتھے پہ سلوٹین نمودار کیں۔

“آپ کہیں جارہی ہیں بھابھی؟”

رمز کے سوال پہ عناء کا دل دھڑکا تھا جبکہ رمز کا سوال سنتے دروازے پہ جمے دلہام کا دل رکا تھا۔

“آ۔۔ہاں نہیں میں وہ ڈریسسز نکال رہی تھی شادی کی مناسبت سے کوئی ڈریس ہی نہیں ہے میرے پاس۔”

وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولتے سامنے دیکھنے لگی جب دلہام کی نظروں سے تصادم ہوا تھا وہ نظریں چرائے روم سے اپنا ضروری سامان اٹھانے لگا تھا جبکہ رمز اور پریہان انکی پرائیوسی کا سوچتے کمرے سے نکل گئی تھیں۔

“اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں یہاں سے نہیں جاؤنگی تو آپکی غلط فہمی ہے میں صرف پریہان اور رمز کی وجہ سے رک رہی ہوں یہاں شادی ہوتے ہی میں یہاں سے چلی جاؤنگی۔”

عناء کی بات سنتے دلہام کے ہاتھ لیپ ٹاپ اٹھانے کو رکے تھے اور پھر اسکی بات مکمل ہوتے وہ اسکے سامنے آیا۔

“آپکی مرضی مس عناء دلاور،آپ اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہیں۔”

ذرا کی ذرا اسکے صبیح چہرے کو دیکھتے وہ پھر سے اپنا سامان اٹھائے کمرے سے نکل گیا تھا۔

اسکا دل چھناکے سے ٹوٹا تھا ایک بار بھی اس نے عناء کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

انا کی فصلیں مزید بلند ہوئی تھیں۔

وہ جو گزری شب شدت سے ہارا تھا ،وہ جو گزری شب خود سے پیشمان ان نفرت کی دیواروں کو توڑنے کا تہیہ کرتے ہوئے اسے کبھی نہ ٹھیس پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔

وہ مرد تھا انا پرست تھا لیکن اس نے عنادل سے اظہار محبت میں پہل کرتے اپنی انا پرستی ختم کی تھی تو نفرت کے بےلگام جذبوں پہ بند باندھ سکتا تھا۔

وہ ارینہ سے نفرت کی داستان ختم کرنا چاہتا تھا اس نے اپنی ماں کو ہمیشہ ارینہ کے نام سے چڑکھائے چھن جانے کے خوف میں مبتلا رہتے ایکسٹریم لیول پہ جاکے حدود تجاوز کرتے دیکھا تھا۔

وہ ایمرے کے نقش قدم پہ چلنے لگتا تو کیا فرق پڑتا کہ مستقبل میں وہ بھی ایک ایسے ڈر کے آسیب میں مبتلا رہتا جسکا شکار اسکی ماں تھی وہ اپنی ماں جیسا بننا نہیں چاہتا تھا وہ عناء کو بھی اسکی ماں جیسا درد دینا نہیں چاہتا تھا کیونکہ ادھوری محبتیں روگ بن جاتی ہیں اسے روگی نہیں بننا تھا لیکن عناء نے اسکی بات نہیں سنی تھی اس نے دلہام کی محبت پہ اپنی نفرت کو مقدم جانا تھا۔

ڈرائیونگ کرتے دلہام کے حواسوں پہ وہ بری طرح حاوی تھی ۔اسکی آنکھیں بار بار نم ہورہی تھیں آج بھی چودہ سالہ دلہام اسکے اندر موجود تھا جسے رشتوں کو جوڑے رکھنے کی چاہ تھی ایک مکمل گھر کی چاہت،وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ اسکی نفرت پہ محبت غالب آگئی ہے پر اسکی انا کو ٹھیس پہنچاتی اس لڑکی سے اب کچھ نہیں کہنا تھا اسے۔۔۔۔

پِھر یُوں ہُوا کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا

ثابت ہُوا کہ لازم و ملزُوم کُچھ بھی نہیں

پِھر یُوں ہُوا کہ راستے يكجا نہیں رہے

وه بھی انا پرست تھا میں بھی انا پرست

پِھر یُوں ہُوا کہ ہاتھ سے کشکول گِر گیا

خیرات لے کے مُجھ سے چلا تک نہیں گیا

پِھر یُوں ہُوا کہ درد کی لذت بھی چِھن گئی

اِک شخص موم سے مُجھے پتھر بنا گیا

پِھر یُوں ہُوا کہ زخم نے جاگیر بنا لی

پِھر یُوں ہُوا کہ درد مُجھے راس آ گیا

پِھر یُوں ہُوا کہ وقت کے تیور بدل گئے

پِھر یُوں ہُوا کہ راستے يكسر بدل گئے

پِھر یُوں ہُوا کہ حشر کے سامان ہو گئے

پِھر یُوں ہُوا کہ شہر بیاباں ہو گئے

پِھر یُوں ہُوا کہ راحتیں کافُور ہو گئیں

پِھر یُوں ہُوا کہ بستیاں بے نُور ہو گئیں

پِھر یُوں ہُوا کہ کوئی شناسا نہیں رہا

پِھر یُوں ہُوا کہ درد میں شدت نہیں رہی

پِھر یُوں ہُوا کہ ہو گیا مصرُوف وه بہت

اور ہمیں یاد کرنے کی فُرصت نہیں رہی

اب کیا کِسی کو چاہیں کہ ہم کو تو ان دِنوں

خُود اپنے آپ سے بھی مُحبت نہیں رہی

پِھر یُوں ہُوا کہ دِل میں کِسی کو بسا لیا

پِھر یُوں ہُوا کہ خواب سجاۓ تمام عُمر

پِھر یُوں ہُوا کہ نِکلے کِسی کی تلاش میں ہم

پِھر یُوں ہُوا کہ خُود کو نہ پاۓ تمام عُمر

پِھر یُوں ہُوا کہ باتوں میں ہم اس کی آ گئے

پِھر یُوں ہُوا کہ دھوکے ہی کھاۓ تمام عُمر

پِھر یُوں ہُوا کہ دُکھ ہمیں محبُوب ہو گئے

پِھر یُوں ہُوا کہ دِل سے لگاۓ تمام عُمر

پِھر یُوں ہُوا کہ اور کِسی کے نہ ہو سکے

پِھر یُوں ہُوا کہ ،وعدے نِبھاے تمام عُمر

پِھر یُوں ہُوا کہ بیٹھ گئے راہ میں غیاث

پِھر یُوں ہُوا کہ وہ بھی نہ آۓ تمام عُمر

پِھر یُوں ہُوا کہ گناہ کی طاقت نہیں رہی

ہم جیسے بھی کِتنے لوگ درویش ہو گئے۔۔۔۔۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

دورید گھر میں داخل ہوا تو سامنے ہی وہ زرتا آنچل اوڑھے جیولری سے لدی ہوئی روہانسی شکل لیے گھوم گھوم کے خواتین کو اپنی نمائش کرواتی نظر آئی تھی جہاں گھر کی خواتین میں شامل امراؤجان،بی جان،رمز ،عناء اور اسکی امی حضور بھی بہو کو تنقیدی نگاہوں سے دیکھتی نظر آئی۔

“بی جان کہا بھی تھا کہ ہم اس ڈیزائن میں تھوڑی ردوبدل کرلیتے ہیں جھمکے اتنی بھاری ہورہے ہیں کہ کان بھی ساتھ ہی جھول رہے۔”امراؤجان نے پریہان کے جھمکوں کو ہاتھ میں پکڑے کہا تھا۔

“اے لو کیا کہیں گے لوگ کہ ایک ہی بیٹی تھی کان میں لیری ڈالی کے بیاہ دی۔”بی جان کی بات پہ اس نے ایک بےبس نگاہ ان پہ ڈالی تھی۔

“لوگوں کے چکر میں آپ نے اپنی پوتی کے کان زخمی کروادینے ہیں اور یہ نیکلس اسکا کیا سانس لینا دشوار کررہا ہے۔”بلآخر پریہان نے اپنا مقدمہ خود پیش کیا تھا۔

“بی جان یہ آپکے خاندانی زیور ہیں نا؟ان پہ شاید حق بڑی بہو کا ہونا چاہیئے کیوں خواہ مخواہ آپ اس معصوم کے سر یہ سب تھوپ رہی ہیں؟”

آخر کو وہ بھی اسکی مدد کو حاضر ہوا تھا۔عناء کی جان حلق میں آئی تھی ۔

” مجھے ایسی کوئی خواہش نہیں ہے دورید بخت مجھے اور دلہن تو پریہان ہے نا؟پھر میری بات کہاں سے آئی؟”

وہ اسے تیور دکھاتے ہوئے بولی تھی۔

“کیا پتا آپکے ہسبینڈ جی جیلس ہوں؟”

وہ دوبدو ہوتے بولا تھا۔

“میں جانتی ہوں دلہام کے مزاج انہیں میں سادہ ہی اچھی لگتی ہوں سو ڈیسائیڈ ہوا بی جان کہ یہ پریہان ہی پہنے گی ،کچھ ہی دیر کی تو بات ہے پھر تو دورید بخت ہیں نا سنبھالنے کو؟”

عناء اسے شرارتی نگاہوں سے دیکھتے بولی جبکہ اس بات سے مکمل انجان تھی کہ دلہام بخت اسکے پیچھے ہی ٹہرا ہوا تھا۔

پریہان کے چہرے پہ سرخی چھائی تھی وہ لمحوں میں وہاں سے غائب ہوئی جبکہ باقی سبکا قہقہ بےساختہ تھا۔

ایمرے کے آنے کے بعد کی تھکن اتارتی بخت حویلی پہلی بار انکے قہقوں سے گونجی تھی۔

گھر میں پریہان اور دورید کی شادی کی تیاریاں زوروشور سے جاری تھیں۔رمز کی خواہش پہ انہوں نے برائیڈل شاور سے لے کے ہر چھوٹی چھوٹی رسم نبھائی تھی۔اسوقت وہ مکمل دلنہاپے کاروپ لیے دورید کے سنگ اسٹیج پہ بیٹھی کوئی گڑیا لگ رہی تھی۔دورید کا دوست آیا تو وہ ان سے ملنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔وہ جسکا حلق پیاس سے خشک ہورہا تھا اس نے رمز کو کہا تو اس نے پاس سے گزرتے ویٹر کو اسکیلئے فریش جوس لانے کو کہا وہ کچھ ہی دیر بعد آیا تھا رمز اور عناء آپس میں بزی تھیں جب ویٹر نے اسکے سامنے جوس رکھتے سرگوشی میں کچھ بولا تھا پریہان نے خوفزدہ نظروں سے سامنے موجود شخص کو دیکھا اسکے لبوں پہ مسکراہٹ پریہان کو پسینہ پسینہ کرنے لگی تھی ۔انگشت شہادت کے ساتھ جڑی انگلی کو باہم ملائے اس نے شوٹ کا اشارہ کیا اور تیزی سے وہاں سے نکلتا گیا تھا۔

پریہان کی آنکھوں کا کاجل پھیلنے لگا تھا جب دورید اسکے برابر میں بیٹھا تھا۔

“پریہان وہ لال ۔۔۔”

“وہ۔۔وہ آگیا ہے دد۔۔دورید وہ۔۔”

پریہان نے حنائی ہاتھوں سے دورید کے مضبوط ہاتھ تھامے تو اسکے برف پڑتے ہاتھوں کی ٹھنڈک محسوس کرتے وہ چونک اٹھا تھا۔

“پریہان کون؟کون آگیا ہے؟”

وہ اسکی آنکھوں میں چھائے خوف سے پریشان ہواٹھا جو بار بار حنائی ہاتھ ماتھے پہ لےجارہی تھی جسکی وجہ سے اسکے ماتھے کی بندیا پریشان تھی۔

“پریہان ریلکس کیا ہوگیا ہے یار؟اوکے میں مما سے کہتا ہوں وہ یہ سب ہنگامہ سمیٹیں۔”

وہ اسکی آنکھوں میں ہلکورے لیتے انجانے خوف کو محسوس کرتے بولا تھا۔دورید کے دل میں بھی انجانے خوف سراٹھانے لگے تھے۔

امراؤ جان اور دلہام سے بات کرتے وہ لوگ حویلی کیلئے نکل چکے تھے۔موسیٰ ڈرائیونگ کررہا تھا جبکہ دورید فرنٹ پہ اور پریہان رمز اور عناء کے بیچ بیٹھی تھی۔

گھر پہنچتے زبردست شاک لگا وہ بےہوش ہوچکی تھی۔

دورید اسے اٹھائے کمرے میں لایا تو رمز اور عناء رسمیں کرنے کو دل مسوس کے رہ گئیں۔دورید نے گھر میں کسی کو بھی اسکی طبیعت کا بتانے سے منع کردیا تھا جب اسکے اندر جامد سناٹے پہرے جمانے لگے تھے۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

وہ آئینے کے سامنے بیٹھی غیرمرئی نقطے پہ نگاہ جمائے ہوئی تھی جب وہ کمرے میں داخل ہوا تھا ۔عناء کو وہ روٹین سے ہٹ کے تھکا ہوا لگ رہا تھا شاید شادی کے ہنگامے سمیٹنے میں وقت لگا تھا یا ایک کمرے میں مقید ایمرے کا فیملی میں رہتے ہوئے بھی ان سب سے کٹ کے رہنا دل بوجھل کررہا تھا۔

“کیا تم میرے لیے ایک کپ چائے لا سکتی ہو؟”

وہ اس سے مخاطب نہیں ہونا چاہتا تھا پر جسم میں اتنی طاقت نہیں رہی تھی کہ رمز یا کسی اور کو کہتا۔

عناء نے ایک سرسری نگاہ اس پہ ڈالی جو کاٹن کے سوٹ میں ملبوس روایتی جاگیرداروں والی لک اپنائے رہا تھا پورے فنکشن میں ۔باوجود اسکے سادہ لباس کے اسکی گریسفل پرسینالٹی کو لے کے ہوتے گوسپس پہ وہ کتنی بار جیلس ہوئی تھی شاید اسی رقابت کا اثر تھا جو وہ نرم پڑتے بنا کوئی بحث اسکیلئے چائے بنانے کیلئے اٹھ گئی تھی۔

لگے ہاتھ اپنے لیے بھی بنا لی تھی وہ دونوں مگ لیے کمرے میں آئی تو وہ اسے بستر پہ دراز اپنی کنپٹی سہلاتا نظر آیا تھا۔عناء کو اس پہ ترس آیا تھا وہ دیکھ سکتی تھی کہ گھر کا بڑا بیٹا ہونے کی حثیت سے اس پہ کتنی زمداریوں کا بوجھ رہا تھا۔

“چائے”

عناء کی آواز پہ بھی اس نے آنکھیں کھولنے کی زحمت نہیں کی تھی۔

“دلہام بخت آپکی چائے۔”

اب کے انداز کافی تیز تھا دلہام بخت نے آنکھیں کھولے اسے دیکھا اور چائے لینے کو بڑھتا ہاتھ بےدھیانی میں ہی عناء کے حنائی ہاتھوں سے ٹکرایا تھا۔اسکا لمس محسوس کرتے عناء نے فوراً ہاتھ پیچھے کھینچا تھا جبکہ دلہام کے دل میں بےساختہ ہی اسکے ہاتھوں کی مسیحائی جاگی تھی۔

چائے ختم کرتے کمرے میں خاموشی کا راج رہا تھا جب وہ اپنی جگہ پہ آکے لیٹتے وہ حفاظتی باڑ رکھنے لگی تھی۔

“کیا تم میرا سر دبادوگی پلیز کافی درد ہورہا ہے۔”

نیم اندھیرے میں دلہام کی آواز گونجی تھی اس دن کے بعد سے دلہام اور اسکے درمیان بات چیت مکمل طور پر ہی بند تھی۔

وہ خاموشی سے اٹھتے دلہام کی طرف جھکتے اسکا سر دبانے لگی تھی۔اسکی فرمانبردار بیویوں والی ادائیں دیکھتے دلہام کے لبوں پہ مسکان بکھری تھی انکا رشتہ کتنا پیارا تھا اسے آج احساس ہورہا تھا۔وہ پلکیں موندے کمرے میں پھیلے فسوں سے جان چھڑائے صرف اسکے لمس سے مسیحائی حاصل کررہا تھا۔

‏‎اس موڑ سے شروع کرتے ہیں آ پھر سے زندگی

ہر شئے جہاں حسین تھی اور ہم تم اجنبی…..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *