Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 15)
Rate this Novel
Anadil (Episode 15)
Anadil by Uzma Mujahid Novel
غلافی آنکھیں اٹھیں تو گھنی موچھوں کے تلے دبے سنجیدہ لب ان پہ جھکے تھے۔
ایک وہ اتنا خوبرو توبہ
اُس پہ چُھونے کی آرزو توبہ !
ہاتھ کانپیں گے روح مچلے گی
جب وہ آئے گا روبرو توبہ !
چاند تاروں سے رات سجتی ہوئی
تیری آواز اور تُو توبہ !
لب نہیں اُس کی آنکھ بولتی ہے
ایسا اندازِ گفتگو توبہ !
عناء گڑبڑائی تھی اسکے عمل پہ تبھی اس معنی خیز جمود کوتوڑتے پیچھے ہٹی تھی تو جیسے دلہام ہوش میں آیا تھا۔
“آپکو اگر برا لگ رہا ہے تو اٹس اوکے میں دوبارہ چینج کرلیتی۔۔”
عناء جو دلہام سے فاصلہ بناتے تیز تیز بولتے ہوئے اپنے گیلے بالوں میں انگلیاں پھیرتے سفری بیگ کی طرف بڑھی تھی دلہام نے اسے پھر سے کلائی سے تھامے اپنے قریب کیا تھا ۔ہاتھ میں موجود وہ اکلوتی چوڑیاں دلہام کے ہاتھ کی سختی سہہ نہیں پائی تھیں۔
“بہت غلط راستے کا انتخاب کیا ہے تم نے عنادل۔”
وہ اسے پیچھے کو دھکیلتے دیوار سے لگائے اسکے دائیں بائیں اپنے ہاتھ جمائے بولا تھا۔عناء کا دلنشین سراپا اسکی چھایا میں گم ہوا تھا۔
“آگ سے کھیلنے کا انجام بہت برا ہوسکتا ہے۔”
وہ اسے آنے والے وقت کے نتائج سے آگاہ کررہا تھا۔
“کیوں اپنی مردانگی پہ یقین نہیں ہے کیا ،بہک جانے کا ڈر ہے یا عناء کو ہی رکھیل بنانے کا سوچنے لگے ہو؟”
“شٹ اپ یو باسٹرڈ۔”
اسکے نازک پنکھڑیوں جیسے لبوں سے ادا ہونے والے جاں گسل لفظوں نے دلہام کے غصے کو مزید ہوا دی تھی۔
“کیوں آگ سے کھیلنے کے انجام سے ڈرا رہے تھے نا مجھے آپ پھر؟”عناء نے ایک ادا سے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھا تھا۔
“میں تو خوشی سے جل جانا چاہتی ہوں کسی شمع کے پروانے کی طرح آخر کے دلہام بخت کی محبتوں اور نفرتوں کی بلا غیرشرکت تنہا وارث ہوں۔”
عناء نے اپنے ڈر پہ قابو پانے کی انوکھی راہ اپنائی تھی اور دلہام کے کالر پہ اپنے نازک ہاتھ جمائے پوری قوت سے جھٹکا دیتے اسکا چہرہ خود پہ جھکایا تھا۔
دلہام کا چہرہ اسکی حرکت پہ سرخ پڑا تھا جو اپنی لرزتی پلکوں کو بند کیے اسکے رخساروں کی طرف ہونٹ بڑھا رہی تھی۔
مرد کی انا جاگی تھی اسے خود سے پیش رفت کرنے والی عورت ایک آنکھ نہ بھائی تھی اور وہ اسے جھٹکتے لمبے لمبے ڈگ بھرتے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
دلہام کے جاتے عناء نے کب سے رکی سانس بحال کی تھی۔اسکی موجودگی عناء کیلئے آزمائش بنی تھی وہ شکر بجا لائی کہ وہ کمرے سے چلا گیا تھا اگر وہ اسکی پیش رفت پہ سرخم کرتا تو؟ آگے کی سوچ سے سنسنی سی دوڑی تھی جسم میں۔
سامان کا کچھ اندازہ نہیں تھا ایسے ہی گیلے بالوں سے وہ کمفرٹر میں گھسی تھی۔
کبھی دلہام بخت نے اسکی قربت چاہی تھی اور اس نے بھی لیکن آج قربت میسر تھی تو وہ ایک دوسرے سے بھاگ رہے تھے کتنی دیر خود سے الجھنے کے بعد سوگئی تھی۔
ادھر دلہام سگریٹ کے دھوے میں سارا غصہ اتارنے لگا تھا۔
اگر وہ صرف ارینہ کی بیٹی ہوتی شاید اسکیلئے اتنی بڑی آزمائش ثابت نہ ہوتی لیکن وہ عنادل تھی اسکی عنادل وہ جسکی آواز کے عشق میں مبتلا تھا۔وہ جو اسے ارینہ کی عناء سمجھ کے شدید نفرت کرنا چاہتا تھا اسکی ہر وقت کی میسری عنادل کیلئے دلہام بخت کی چاہ کو دہکا رہی تھی۔
کافی دیر بعد خود کو نارمل کیے دوبارہ کمرے میں آیا تو وہ پرسکون سی کمفرٹر میں دبکی نظر آئی تھی۔
وہ کمزور نفس کا آدمی نہیں تھا جس پوزیشن پہ تھا وہاں کئی ایک بھنورے اسکے گرد منڈلاتے تھے لیکن وہ خود کو لمیٹڈ رکھنا جانتا تھا پر عناء کے معمالے میں وہ بےاختیار سا تھا۔
نائٹ بلب کی روشنی میں اسکا روشن چہرہ دلہام کی توجہ کے دھاگے سمیٹ گیا تھا۔اسے عناء نامی زہر سے دور رہنا تھا ورنہ وہ کمزور پڑجاتا اور وہ بلیک میلنگ کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیتی جو وہ افورڈ نہیں کرسکتی تھی اسکی طرف سے کروٹ بدلے وہ سوگیا تھا۔
رات کے لمحے کچھ پل مزید سرکے تھے دلہام بےچین سا کروٹیں بدل رہا تھا جب اسکی جنبش پہ ساکت ہوا ۔شاید اسے سردی سے بچنے کو پناہ درکار تھی تبھی وہ اسکے کشادہ سینے میں جگہ ڈھونڈ رہی تھی۔
دلہام اتنا ساکت ہوا جیسے وہ کوئی پتھر کا مجسمہ ہو اور اسے عناء کے چھونے سے کوئی فرق نہ پڑرہا ہو۔
دلی کیفیت پہ قابو پائے اٹھ بیٹھا تھا کچھ سوچتے اپنے اور اسکے درمیان اپنا تکیہ رکھا اور بازو کا تکیہ بنائے سونے لگا تھا۔اسکی یہ عارضی باڑ عناء اور اسکے درمیان فاصلہ بنانے میں کامیاب ہوئی تو جو اب تکیے کو بھینچے سورہی تھی۔
















“پریہان”
“ہمم”
وہ اداس سی لیٹی تھی جب رمز کی آواز پہ ہنکارا بھرا۔
“یار تمہیں کیا لگتا ہے کیا واقعی ہی بھیا اور عناء کی لوو میرج ہے؟آئی مین ان میں کچھ بھی لوو برڈذ جیسا نہیں ہے؟”رمز کی جاسوسی طبیعت بےچین تھی۔
“لیکن دارا جان اور دورید بخت اس نکاح میں شامل تھے پھر تو شبے کی کوئی بات نہیں ہے۔”
پریہان نے معصومیت سے کہتے آنکھیں پٹپٹائی تھیں۔
“ارے او میری معصوم گڑیا اسکے پیچھے کی کہانی کچھ اور ہے اور ہمیں پتا کرنا پڑے گا اگر بھیا کو عناء سے محبت ہوتی تو وہ اپنی ہتھیلی کیوں زخمی کرتے اسکے نام سے؟”
رمز کے پاس سوالوں کا پلندہ تھا۔
“پھر اب؟”
پریہان بھی ہمیشہ کی طرح چھوٹے دل کی مالک لڑکی فوراً سے رمز کی باتوں میں آئی تھی۔
“اپنے سائیاں سے پوچھو نا۔”رمز نے خفیف سا اشارہ کیا تھا وہ بلش کرنے لگی تھی۔
“نہیں ہمیں دورید بخت سے ڈر لگتا ہے۔”پریہان نے انوسٹی گیشن شروع ہونے سے پہلے ہی انکار کردیا تو رمز اسے آنکھیں دکھانے لگی۔
“تم تو ڈر ڈر کے ہی ہلکان ہوجانا اور ایک دن مرجانا پریہان۔”وہ غصے میں پھنکاری تھی جب دورید نے اسکے جلادی الفاظ اپنی منکوحہ کیلئے سنے تو دل پہ ہاتھ رکھتے انکے پاس آیا۔
“یہ کس خوشی میں میری اکلوتی بیوی کو بددعائیں دے رہی ہو تم،پریہان میں نے کہا تھا نندیں کبھی دوستیں نہیں بن سکتیں دیکھ رہی ہو نا پھر ؟”دورید کی بات پہ پریہان نے روہانسے ہوتے مدد طلب نظروں سے رمز کو دیکھا تِھا۔بھائی کی گوہر فشانیاں تو اسے بھی ہائپر کررہی تھیں۔
“جی نہیں ایسا کچھ نہیں ہے بھائی آپ تو خواہ مخواہ سینٹی ہورہے ہیں اور اکلوتی بیوی کیا ہوتا؟سب کی ہی ایک بیوی ہوتی ہے۔”رمز کی بات پہ دورید نے نفی میں سر ہلایا۔
“یہاں اپنے بھائی صاحب کی تیسری شادی ہوئی ہے۔”
دورید جو انہیں عناء اور دلہام کی بات بتانے لگا تھا ان دونوں کی بآواز بلند “کییییا” پر اس نے کانوں پہ ہاتھ رکھے۔
“کچھ بتانا ہی عبث ہے یہاں۔”وہ جو کب سے انکی سیکرٹ میٹنگ اور پریشانی کا حل لایا تھا دلہام اور عناء کی بابت بتانے کا اپنا پروگرام ملتوی کرتے جانے لگا تھا جب رمز نے اسکا راستہ روکا۔
“آپکو پوری بات بتانی ہوگی بھائی کیا واقعی دلہام بھیا کی تیسری شادی ہے؟”رمز کے پیٹ میں ادھوری بات سے مروڑ اٹھنے لگے تو دورید نے “ہاں” میں سرہلاتے انکا دل دہلانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی دل تو انکے پیچھے رکی امراؤ جان کا دہہلا تھا انکشاف ہی ایسا تھا۔
















صبح اسکی آنکھ دلہام کے جھنجھوڑنے پہ کھلی تھی۔
“کیا آفت آئی ہے کون مرگیا؟” نیند کی شیدائی عناء چٹختے ہوئے بولی جبکہ دلہام اسکی فضول گوئی پہ سیخ پا ہوا۔
“محترمہ یہ آپکا گھر نہیں ہے ہمیں آگے سفر بھی کرنا ہے۔”وہ اسے جگاتے پھر سے سفری بیگ ترتیب دینے لگا تھا۔عناء بددل سی اسکی شال اپنے گرد لپیٹے کھڑی ہوئی تھی۔دلہام نے سرسری انداز میں اسکا جائزہ لیا جو اسکے ٹراؤزر شرٹ میں الجھی سی کھڑی تھی۔
“چلیں؟”دلہام کے سوال پہ جمائیاں لیتی عناء نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“کیا اس حلیے میں جاؤنگی میں؟”آواز تلخ ہوئی تھی۔
“تمہاری چوائس تھی اور مجھے وقت ضائع کرنے والے لوگ پسند نہیں ۔”اپنی بات مکمل کیے اس نے موسیٰ کو کال کرتے سامان لے جانے کا کہا تھا۔عناء نے پھر سے ٹراؤز کو فولڈ کیاکیونکہ اسکی لینتھ عناء کی جسامت سے بڑی تھی اور کچھ ایسا ہی سین شرٹ کا بھی تھا۔
باہر نکلتے اسے انداز ہوا کہ ابھی تو نماز کا وقت شروع ہوا تھا پر اسوقت وہ اس سے الجھنا نہیں چاہتی تھی۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی ایک بار پھر سے وہ اپنے شغل میں مصروف ہوچکی تھی ۔دوبارہ اسکی آنکھ گاڑی کے ایک جھٹکے سے رکنے پہ کھلی تھی۔
وہ کوئی عام سا ڈھابہ تھا جہاں پر وہ ناشتہ کرنے کیلئے رکے تھے۔اور پھر سے سفر جاری ہوا پیٹ میں کچھ گیا تو عناء نے بھی ہوش سنبھالا۔
“اور کتنا سفر ہے؟”دلہام کی طرف دیکھتے سوال ہوا تھا۔
“کیا تمہارے پوچھنے سے سفر کی نوعیت کم ہوجائے گی؟”بنا اسکی طرف دیکھےتیوری پہ بل لائے پوچھا تھا۔
“دل کو بہلا تو سکتا ہے نا بندہ عجیب۔”
عناء نے تڑاخ کرکے جواب تو دلہام نے ایک اچٹکتی نگاہ اس پہ ڈالی۔
“کیا مری پاکستان کے آخری کونے میں شفٹ ہوگیا ہے؟”
وہ سفر سے اکتائی ہوئی نظر آتی تھی۔
“تمہیں تکلیف کیاہے آخر؟”وہ جو دھند کی گہری تہہ دیکھتے دھیان سے ڈرائیو کررہا تھا عناء کی بار بار کی انٹر فیئر پہ جھنجھلایا سا تھا۔عناء نے اسے گھورا اور ہاتھ بڑھائے میوزک پلے کیا تھا۔
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
گاڑی میں ہلکا سا میوزک گونجا تو عناء کے لبوں پہ مسکراہٹ کھلی کہ یہ دلہام کی فیورٹ غزل تھی جسے ان دونوں نے بارہا سنا تھا کبھی سوچا نہ تھا کہ اسکے مطالب پہ پورا اترنے کو بھی سننی پڑے گی۔
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی
اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
دلہام کی برداشت ختم ہوچکی تھی کیونکہ وہ محترمہ باقاعدہ گنگناتی ہوئی نظر آئیں تھیں ۔تبھی ہاتھ بڑھا کے پلے ساؤنڈ آف کردیا۔عناء کے چہرے پہ ایک مبہم سی مسکراہٹ چھائی تھی سو اس نے اپنی ہی آواز پہ گزارہ کرنے کا سوچا تھا۔
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں
اے شمارؔ آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا
جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں۔۔
“عنادل”
عناء کا پلے بٹن کوئی نہیں تھا اسیلئے وہ صرف دھاڑ سکتا تھا۔وہ جو کچھ لمحے خود میں کھوئی تھی اسکے دھاڑنے پہ چپ ہوئی۔
“یو نو واٹ دلہام بخت آپکے ساتھ رہتے ہوئے تو کوئی بھی ہوش مند انسان بھی پاگل ہوجائے میوزک سن نہیں سکتے میوزک گنگنا نہیں سکتے تو پھر کرکیا سکتے ہیں صرف آپکی سڑی شکل دیکھ سکتے ہیں؟”
وہ اسے گھورتے بولی تو دلہام کے پاؤں بریک پہ پڑے تھے اچانک لگائی جانے والی بریک پہ گاڑی کے ٹائر زور سے چر چرائے تھے عناء کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا تھا لیکن دلہام بخت نے اسے دیکھنا گوارہ نہیں کیا تھا۔
“اترو گاڑی سے۔”
وہ پرزور آواز میں چیخا تھا ایک لمحے کو عناء سہمی تھی لیکن درد کی شدت بھی قابل برداشت نہیں تھی۔
“مجھے بھی کسی جنگلی کے ساتھ سفر کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے خواہ مخواہ کا ایٹیٹیوڈ بندہ پوچھے اگر اتنی ہی بری لگ رہی تھی تو ساتھ کیوں لائے؟”
عناء نے اترنے میں مصلحت جانی تھی وہ اترنے بھی لگی تھی جب دلہام نے اسکی کلائی تھامے واپس اپنی طرف کھینچا تِھا اور اس پہ نگاہ پڑتے دل دھک سے رہ گیا جسکے ماتھےپہ تازہ زخم تھا اسے کیا کہنا تھا وہ بھول گیا تھا کچھ یاد تھا تو وہ زخم جس سے خون رس رہا تھا، میکانکی انداز میں دلہام کا ہاتھ اسکے زخم کی طرف بڑھا تھا پوروں سے چھوتے خون کے قطرے دلہام کے ہاتھ پہ لگے تھے جبکہ جلن کے احساس سے ایک سسکاری سی عناء کے لبوں سے نکلی تھی۔
“دھیان کہاں تھا تمہارا بےوقوف؟”اس پر بھی عناء قصوروار ٹہرائی گئی تھی ناچاہتے ہوئے بھی اس نے ایک شکایتی نگاہ دلہام پہ ڈالی تھی۔
“بےوقوف کے عہدے پر بھی میں فائز کردی گئی ہوں کمال بات کی ہے آپ نے دلہام بخت گاڑی کو طوفان کی مانند آپ دوڑا رہے تھے جبکہ میں تو۔۔”
“کیا تم چپ نہیں رہ سکتی؟” شاید وہ اسکے بولنے پہ بہت بےبس ہوا تھا۔دلہام کی آنکھوں میں پنہاں جذبوں سے گھبراتے عناء نے رخ موڑنا چاہا تو دلہام اسکا چہرہ اپنی طرف کیے جیب سے رومال نکالتے اسکے زخم پہ رکھ گیا تھا۔
“کیا درد ہورہا ہے؟”انتہا کا نرم اور تفکر بھرا لہجہ عناء تو بےہوش ہوتے ہوتے بچ گئی تھی۔
عناء کا سر بےسبب ہی اثبات میں ہلا تو دلہام نے ہونٹ بھینچ لیے۔
“کچھ ہی دیر میں اسلام آباد تک پہنچ جائیں گے تو ٹرٹیمنٹ کروا لیتے ہیں تب تک برداشت کرلو اور ہاں زیادہ نہیں بولنا
درد بڑھے گا۔”
دلہام نے اسے زیادہ بولنے کے نقصانات سے آگاہ کیاتو وہ کھوئے ہوئے انداز میں سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔
کتنے عرصے بعد اس نے عنادل کا دلہام بخت دیکھ تھا پلکوں کے گوشے بھیگنے لگے تھے دلہام نے اس پر سے نظریں ہٹا لیں۔گاڑی میں گھمبیر خاموشی چھائی تھی جسے موبائل کی چنگھاڑتی انداز نے توڑا تھا دلہام کا ہاتھ ابھی بھی اسکے ماتھے پہ رکھے روکھے رومال تھا شاید اسے اندازہ تھا اگر اس نے رومال چھوڑ دیا تو عناء بھی نہیں پرواہ کرے گی تبھی کال اٹینڈ کرتے سیل اسپیکر پہ ڈالا۔
“سر ایوری تھنگ از اوکے ہم لوگ ویٹ کررہے ہیں آپکی گاڑی کا کوئی ایشو ہو تو؟”
موسیٰ کی آواز پہ اس نے گہر سانس بھری ۔
“سب ٹھیک ہے موسیٰ تم لوگ ڈرائیونگ جاری رکھو۔”
دلہام کے بخت “اوکے سر” کہتے وہ کا بند کردیا اور دلہام نے بھی گاڑی اسٹارٹٹ کرنے کی کوشش کی مگر کہ اب کے احتیاط مانع تھی عناء نے اسے ایک ہاتھ سے گاڑی اسٹارٹ کرنے کی دقت اٹھاتے دیکھ خود ہی رومال پہ ہاتھ رکھ لیا تو دلہام نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
زخم اتنا گہرا نہیں تھا لیکن درد سے اٹھتی ٹیسیں عناء کو بےحال کرنے لگی تھیں۔مہندی والے دن اس نے خود دلہام کا نام کھرچا تھا تب اسے اتنی تکلیف نہیں ہوئی تھی جو آج ہورہی تھی کہ اس شخص کی مسیحائی ہمیشہ ہی اسے درد دیتی تھی۔
















وہ رات گئے ملکہ کوہسار کی وادیوں میں پہنچتے اسوقت کاٹیج کے سامنے رکے تھے عناء کی ڈریسنگ راستے میں ہی کروا لی تھی۔منزل پہ پہنچتے عناء سے سکھ بھری سانس لی تھی بھوک اور تھکاوٹ غالب تھی اندر داخل ہوتے ہی اس نے ایک نظر صاف ستھرے گھر پہ ڈالی جو کافی کشادہ تھا اور مری کے پہاڑوں پہ نسبت الگ گوشے اور شاہ بلوط کے جھنڈ کے درمیان میں سرخ اور گرین کلر کے پینٹ سے سجا دور سے دیکھنے والوں کو اٹریکٹ کررہا تھے ۔فرنٹ باؤنڈری کے اطراف سدابہار کے پودے اور جنگلی گلابوں کی باؤنڈری سی تھی شاید وہ کھڑی کی گئی پتھروں کی وال کو ڈھکے ہوئے تھی جبکہ کاٹیج کے اندر دو ماسٹر بیڈروم اور ایک گیسٹ روم بھی تھا ۔بالائی منزل بھی ایک کشادہ ہال اور کمرے پہ مشتمل تھی جبکہ کافی حصہ چھوڑ کے ایک ٹیرس کی شکل دی گئی تھی۔گھر کا جائزہ لیتے اس نے ایک نظر اپنے حلیے کو دیکھا جو یہاں کے موسم کی مناسبت سے بلکل میچ نہیں کررہا تھا اور اسے یقین تھاکہ اسکے پاس بھی ایسا کچھ نہیں ہونا جو اسے سردی کی شدت سے محفوظ رکھے۔جانے پانی بھی گرم تھا یا نہیں؟
ان گنت سوچوں میں الجھی وہ قدرے مناسب شرٹ اور جینز نکالے فریش ہونے کیلئے گھسی تھی ۔نیم گرم پانی کی دستیابی نے کافی تھکن کو مندمل کیا تھا وہ فریش ہوتے باہر آئی تو دلہام ملازمین کو کچھ انسٹرکشنز دیتا دکھائی دیا تھا اسے دیکھتے انہیں جانے کا اشارہ کیا۔
“یہ سب کیا ہے؟”
ماتھے پہ بل پڑے تھے۔
“کیا ہے؟ شاور لیا ہے عجیب ۔”
اپنی بات کہتے وہ بستر میں گھسی تھی جبکہ دلہام اسکے قریب آیا تھا۔
“ساری پٹی گیلی کردی۔”
دانت کچکچاتے اسکے زخم کو چھوا تو وہ چونکی ۔تھکن اسقدر تھی کہ اس پہ دھیان ہی نہیں گیا لیکن اپنی غلطی مان تھوڑی نا سکتی تھی۔
“تو ؟اس میں ایسی کونسی کیمسٹری ہے ٹھیک ہوں اب میں ۔”اسکی انفارمیشن میں اضافہ کرتے وہ اپنے لیے کمرہ منتخب کرنے لگی تھی جب دلہام نے اسکی سوچ پڑھی ۔
“یہاں ڈھیروں ملازمین ایک ہی وقت میں کام کررہے ہوتے ہیں جبکہ میں یہ نہیں چاہتاکہ کوئی بھی میری ازدواجی زندگی کو لے کے کوئی سوال اٹھائے اسیلئے تمہیں میرے ساتھ ہی روم شئیر کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔شبیر۔”
دلہام نے عناء کو کہتے ملازم کو آواز دی تھی۔
“کیا کیا آپ شبیر کے ساتھ روم شئیر کرنے والے ہیں؟”
عناء کی بات پہ وہ گنگ سا ٹہرا تھا۔
“چوٹ کا گہرا اثر لگتا تبھی دماغ سٹھیایا ہوا لگ رہا ہے بہتر یہی ہوگا کہ سامنے والے روم میں جاکے ریسٹ کریں۔”
دلہام نے اسے کمرے کی راہ دکھائی جو باقی رومز کی نسبت کافی لگژری تھا۔وہ ڈولتی ہوئی اس کمرے میں داخل ہوئی تھی اور کمفرٹر میں گھستے نیند کی وادیوں میں گم ہونے لگی ۔
دلہام جانتا تھا کہ اسکے ہمراہ رہنا آزمائش ہے لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ کسی ملازم کو انکے حالات پتا چلیں اور انکا ریلیشن خبروں کی زینت بنے ۔دارا جان اور بابا کو وہ اپنے پہنچنے کی اطلاع دیتے روم میں آیا تھا۔
عارضی باڑ لگاتے اسکا ہاتھ عناء سے مس ہوا تو جیسے کسی گرم چیز کو چھو لیا ہو۔وہ بخار میں دہک رہی تھی۔
اس لڑکی غفلتیں دلہام کو غصہ دلانے لگی تھیں ۔غنودگی کی حالت میں وہ بار بار اپنے ماتھے کو چھو رہی تھی دلہام نے کچھ سوچتے سائیڈ ڈرا سے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اور احتیاط سے اسکی پٹی چینج کی تھی۔وہ ابھی فارغ ہوا تھا جب عناء کی بڑبڑاہٹ نے اسے چونکایا تھا۔
“آئی ہیٹ یو دلہا بخت۔”
نیند میں کیا جانے والا اعتراف دلہام کو کوئلوں پہ گھسیٹ گیا تھا تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے جب دلہام نے ذرا سا جھکتے اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔
“یہ حق میں تمہیں کبھی نہیں دینے والا عنادل کہ تم دلہام بخت سے نفرت کی دعوایدار بنو، تم ہمیشہ دلہام بخت سے محبت کروگی ،اسکی محبت کا زہر تمہاری نس نس میں سرائیت کرے گا تمہاری سوچوں تک صرف دلہام بخت کا پہرہ رہے گا تمہیں دلہام بخت سے عشق کرنا پڑے گا کیونکہ نفرت کی اس داستان کا میں اکیلا بادشاہ رہنا چاہتا ہوں میں صرف تم سے نفرت کرنا چاہتا ہوں پوری شدت سے۔”
سرخ آنکھوں نے اسکے دہکتے رخساروں کا احاطہ کیا تھا اور وہ پوری شدت سے اسے ضرب دیتے اسکے پہلے سے دہکتے جسم کو مزید دہکانے کی کوشش کی تھی۔
عناء نے بخار سے گلابی ہوتی آنکھیں کھولیں تو خود پہ جھکے دلہام بخت کو حیرانی سے دیکھا جبکہ اسکا لمس کسی ناگ کی طرح اسکے اندر اپنا زہر انڈیلنے کو تیار نظر آرہا تھا۔
“دل۔۔”
عناء نے اسکے چہرے کو اپنے مومی ہاتھوں میں لیا تو وہ چونکا تھا۔
“تم نفرت کی دعویدار کیسے بن سکتی ہو عنادل؟”
ہتک سے اسکا چہرہ سرخ پڑ رہا تھا تبھی شکوہ کیا تھا۔
“مجھے سردی لگ رہی ہے۔”
شاید وہ اسکے سوال کو سمجھ نہیں پارہی تھی تبھی اسکے سینے پہ سر رکھتے پناہ چاہی تھی جبکہ دلہام اسکی خود سپردگی کے عالم کو دیکھتے ٹھٹکا تھا ناچاہتے ہوئے بھی اسکے گرد اپنا مضبوط حصار باندھا تھا۔
“آئی ایم ٹائیرڈ ۔”
عناء کی تھکن زدہ آواز پہ وہ اندازہ کرسکتا تھا کہ وہ اسوقت قطعاً ہوش میں نہیں تھی ورنہ دلہام کی قربت پہ شور ضرور بلند کرتی۔وہ بیمار تھی اور کمزور تھی دلہام کی سرزشت میں نہ تھا کمزوروں سے فائدہ اٹھانا۔
“سوجاؤ عنادل۔”
دلہام نے اسکا سرسہلایا تھا اسے ایک بیمار سے ہمدردی تھی محبت منہ چھپائے درکونہ ہوئی تھی۔
وہ دلہام کے گرد اپنی گرفت کرتے اسکے زانو پہ سر رکھے سوگئی تھی جبکہ دلہام نے بیڈ کراؤن سے پشت لگا لی۔
کمال حیرانی تھی کہ وہ اس دشمن جاں کیلئے تمام رات بےآرام رہنے والا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
