Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 23)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیریے

چہرے پہ خاک ،زخم پہ خوشبو بکھیریے

کوئی گزرتی رات کے پچھلے پہر کہے

لمحوں کو قید کیجئے ، گیسو بکھیریے

دھیمے سُروں میں کوئی مدھر گیت چھیڑیے

ٹھہری ہُوئی ہَواؤں میں جادُو بکھیریے

گہری حقیقتیں بھی اُترتی رہیں گی پھر

خوابوں کی چاندنی تو لبِ جُو بکھیریے

دامانِ شب کے نام کوئی روشنی تو ہو

تارے نہیں نسصیب تو آنسو بکھیریے

دشتِ غزال سے کوئی خوبی تو مانگیے

شہرِ جمال میں رمِ آہو بکھیریے

” آئی ایم بیک پریہان”

وہ نیند میں تھی جب ایک سرگوشی نے اسے سہما دیا ۔

“نن۔۔۔نہیں۔۔۔مم۔۔مجھے نہیں جانا۔۔۔تت۔۔دروید۔۔بب۔۔ بھب۔۔۔”

“پریہان”

“مم ۔۔۔انسان۔۔۔نن۔۔۔مم۔۔”

“پریہان آنکھیں کھولو!کم آن وک اپ یار ۔پلیز ڈاکٹر آسک ہر ٹو وک اپ۔”

وہ پریشان سا ڈاکٹر رچرڈسن سے کہہ رہا تھا جو کہ کیتھولک مذہب کا پیروکار تھا لیکن وہ ایک بہترین سائیکاٹرسٹ مانے جاتے تھے۔

اسوقت وہ اٹلی روم میں تھے۔

دورید پریشان تھا کہ ریگولر سیکشنز کے بعد بھی پریہان کی طبیعت میں کوئی بہتری نہیں آرہی تھی۔

ڈاکٹر نے پرسوچ نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر دورید کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا تھا۔

“آپکے اردگرد کوئی ایسا انسان ہے جو آپکی مسسز کے دماغ کو ہیپنوٹائز کرتے ہوئے اپنی من مرضی کے کام کرواتا ہے ؟”

دورید کیلئے یہ جھٹکا کافی شدید تھا اس نے ایک نظر پریہان کو دیکھا جو شیشے کے اس طرف نیم بےہوشی کی حالت میں تھی۔

“کیا آپ میڈیسنز لائے ہیں جو انکے زیر استعمال ہیں؟”

چونکہ پچھلی ملاقات میں ڈاکٹر نے اسے گزشتہ سالوں کی رپورٹس اور میڈسنز وغیرہ لانے کو کہا تھا وہ سب کچھ انہیں دکھانے لگا۔

“مسٹر دورید یہ ٹرینکولائزر ڈیوریشن زیادہ وقت سے نہیں ہے ہم اس پہ قابو پاسکتے ہیں اگر آپکی مسسز ہمیں ہیلپ آؤٹ کریں کوئی ایسا انسان ہے انکے اردگرد جنکے وہ تابع ہیں کیا آپ انکی کنپٹی پہ بنے نشان سے واقف ہیں؟”

ڈاکٹر رچرڈسن آج اسے انکشاف پہ مائل نظر آئے تھے ۔

وہ انہیں بتا نہیں سکتا تھا کہ اسکی شادی کے بعد سے پریہان کی حالت اور زیادہ بگڑی ہے بھلا وہ اسکے قریب کب رہی جو وہ اتنا غور کرپاتا؟

“بہرحال آپکو انہیں مکمل لک آفٹر کرنا ہوگا مسٹر بخت۔”

ڈاکٹر کے مخصلانہ مشورے پہ وہ پھر سے اسے دوبارہ اپارٹمنٹ پہ لایا تھا۔

ڈاکٹر کی باتیں اسکے دماغ کو منتشر کررہی تھیں پریہان زیادہ وقت سوئی رہتی تھی یا پھر لیپ ٹاپ اٹھائے رمز سے باتیں کرتی نظر آتی۔

اور اسوقت وہ لوگ جہاں تھے ماسوائے رمز اور دلہام کے کوئی بھی انکی یہاں موجودگی کے بارے میں آگاہ نہیں تھا۔

کہیں کوئی شخص ایسا نہیں مل رہا تھا جو پریہان کے دماغ سے کھیل رہا ہو ۔وہ عجیب مخمصے کا شکار تھا جب اپنے شانے پہ دھرے ہاتھ پہ چونک اٹھا تھا۔

“آئی ایم سوری دورید میری وجہ سے تم اسٹریس میں ہو ،میں بہت بری ہونا جب سے تمہاری لائف میں آئی ہوں تب سے ہی ۔۔۔۔”

“ہشش ایسا کیوں سوچ رہی ہوتم ،بیٹھو ادھر۔”

وہ اسے ہاتھ سے پکڑے اپنے تھائیز پہ بٹھائے کسی بچے کی طرح اسے پچکارنے لگا تھا۔

“پریہان کچھ ایسا ہے جو تم مجھ سے چھپا رہی ہو ؟آئی مین ڈاکٹر نے تو کہا ہے یو آر پرفیکٹلی فائن لیکن تمہارا یوں ہر وقت سوئے رہنا اور۔۔۔۔”

“نہیں دورید اگر کچھ انہونی ہوتی میں تمہیں بتا دیتی ،میں جھوٹ نہیں بولتی ہماری شادی پہ آر۔جے تھا دورید اس نے ویٹر کا کسٹیوم پہن کے۔۔۔مجھے الیوژنز آتے ہیں شاید۔”

پریہان کی آنکھوں میں اترتی وحشت دورید کو بےبس کرگئی تھی کیسے ہاتھ بندھے تھے وہ لڑکی جو سانسوں میں بستی تھی اسکی تکلیف کا کوئی مدوا نہیں تھا اسکے پاس ۔

وہ اسکے گرد بازو پھیلاتے اپنے قریب کرگیا تھا۔

“ریلکس مائے سول میٹ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں ،ہمارا رشتہ ایسا نہیں ہے کہ میں تمہیں اسوقت تنہا چھوڑ دوں بھلا اس شخص سے بڑھ کے کوئی برا ہوگا جو اپنے ہمسفر کی ذرا سی تکلیف پہ اسکا ساتھ چھوڑ جائے جبکہ تم تو میری آنے والی نسلوں کی امین ہوں پریہان پلیز مجھ پہ بھروسہ کرنا سیکھو کچھ بھی ایسا جو تمہیں کسی طرح ہرٹ کرتا ہو تم مجھے بتاؤگی پرامس ۔۔۔”

وہ اسکا سر اپنے شانے پہ ٹکائے دوستانہ انداز میں اس سے بات کررہا تھا کیونکہ جانتا تھا کہ مثبت رویے ہی اسے سنبھال سکتے ہیں۔

“دورید وہ۔۔۔وہ کہتا ہے اس نے مم میری روح لوسیفر (شیطانوں کے دیوتا) کو بیچ دی ہے ،وہ مم میرا جج۔۔جسم تابتوں میں دفن کرتے ہوئے۔۔۔مم مجھے نہیں مرنا دورید میں۔۔۔”

“کون ؟ پریہان کون ہے آخر جو تمہارے دماغ سے کھیل رہا بتاؤ مجھے ؟کیا تم نے اسے حویلی میں دیکھا؟کیا وہ یہاں ہے پریہان؟”

وہ اسے تھامے سوال پہ سوال کررہا تھا جبکہ پریہان کے پاس ماسوائے رونے کے کچھ نہیں تھا۔

وہ اسے خود سے لگائے اسکے زخموں پہ پاہے رکھنے کی کوشش میں تھا۔

وہ اس سسکتی سہمی گڑیا کو اٹھائے کمرے میں آیا تھا میڈیسن دیتے آہستہ آہستہ اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے غیر مرئی نقطے پہ نگاہیں جمائے ہوے تھا۔

اگرچے ایک فطری جھجک مانع تھی ان دونوں کے درمیان پھر بھی وہ اس پہ بھروسہ کرنے لگی تھی آج پہلی بار وہ خود سے اسکے قریب آئی تھی اور اسکا بازو تھامے اسکے شانے پہ سرٹکائے سورہی تھی۔

ہر طرح سے دیکھنے سوچنے چیزوں کو پرکھنے کے بعد بھی اسکا دماغ ماؤف تھا تبھی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے لگائے وہ دونوں ہی سوگئے تھے۔

تقریباً آدھی رات کا وقت تھا جب دورید کی آنکھ کھلی اسے بستر سے غائب دیکھ کر بھک سے دماغ اڑا تھا۔

“پریہان۔۔”

وہ اسے آوازیں دیتے ہر طرف ڈھونڈ رہا تھا لیکن اسکا کہیں بھی وجود نہیں تھا ہرطرف دیکھنے کے بعد وہ چھت کی طرف بڑھا سامنے موجود پریہان کو دیکھتے اسے گونا گو سکون ملا تھا لیکن دوسرے ہی پل وہ چونکا وہ نارمل نہیں تھی شاید اسکی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔

اسکے بازو سے نکلتا خون اسکے کپڑوں پہ نشان چھوڑ رہا تھا لیکن بنا کسی پرواہ کے خود کو زخمی کیے جارہی تھی۔

“پریہان کیا کررہی ہو تم یہ؟”

وہ تیز دھار چھری ایک طرف پھینکتے اسکی کلائی کو تھام گیا تھا جہاں سے بھل بھل بہتا خون اسے ابھی سے کمزور کررہا تھا۔

“از او دوری کنید ، او دشمن شماست ، شما وقف خدا هستید.”

(دور رہو تم اس سے پری وہ دشمن ہے تمہارا ،تم خدا کیلئے وقف کردی گئی ہو کوئی انسان چھوئے گا تو پتھر ہوجائے گا)

اسے دورید کے چہرے پہ لکھی تحریر سہما رہی تھی جو اسکے ماتھے اور رخساروں پہ درج تھی وہ وحشت میں مبتلا اسکا چہرے سے وہ لفظ مٹانے لگی تھی جو اسے تکلیف دے رہے تھے ۔دورید ایسے کسی ریکشن کیلئے تیار نہیں تھا ۔

“پریہان ہوش میں آؤ ۔۔۔یہ دیکھو میں ہوں دورید ۔۔اوہ گاڈ۔۔”

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اسکا کیا کرے جبھی دوسرے لمحے وہ تیورا کے اسکی گود میں گری تھی۔

آدھی رات کو وہ اسے ہاسپٹل لایا تھا اور پھر ڈاکٹر رچرڈ سن کے پاس جو اسے جانچتی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

“دیکھیں مسٹر بخت آپکو اپنی وائف کو یہاں رکھنا ہوگی انٹنسیو کئیر وارڈ میں انکے دماغ سے بری چیزوں کو کھرچنا ضروری ہوچکا ہے جو کہ مینٹل تھراپی سے ہی ہوسکتا ہے یہ کسی کیلئے بھی خطرہ بن سکتی ہیں آپ کیلئے بھی۔کونکہ ہسٹریک سٹروک کافی پرانے ہیں شاید۔”

ڈاکٹر دورید کو ہرطرح سے راضی کرنے کی کوشش میں تھا کہ وہ پریہان کو یہی ہاسپٹل میں رکھے آخر کو اسے ماننی پڑی تھی کہ پریہان گنوا نہیں سکتا تھا۔

وہ ہوش میں آئی تو اپنے عمل پہ شرمندہ تھی جبکہ وہ نرسسز کے سہارے اسے چھوڑتے باہر آگیا۔

“رمز اسے کال کرو اس سے باتیں کرو اسکا مائینڈ ڈائیورٹ کرو۔”

وہ رمز کو مسیج کرتے کچھ دیر م باہر رہنا چاہتا تھا۔

پریہان کے سیل پہ بجتی رمز کے نام کی مخصوص ٹیون پہ وہ مطمئن سا دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا تھا جب ڈاکٹر رچرڈسن کے روم سے آتی ہلکی سی روشنی اسے عجیب کیفیت مبتلا کرگئی تھی۔

فرش پہ بیٹھنے کی وجہ سے سامنے کا منظر واضع نہیں تھا وہ ذرا کو جھکتے اندر جھانکنے لگا تھا اور اگلے ہی لمحے آسمان سر پہ گرا تھا۔

“آرجے۔۔۔”

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

دلہام اسے زبردستی حویلی لایا تھا تقریباً سب ہی اسکے اصل سے واقفیت حاصل کرچکے تھے۔

بی جان اور امراؤ کتنی دیر اسے خود سے لگائے اسکے وجود سے ارینہ کی خوشبو محسوس کرنے کی کوشش کرتی رہی تھیں جبکہ دلہام اسے چھوڑے روم میں جاچکا تھا اور کچھ دیر بعد ٹپ ٹاپ سا تیار ہوتے باہر جانے لگا تھا جب عناء اسکے سامنے رکی تنقیدی نظروں سے اسکا جائزہ لینے لگی تھی۔

“اوہوں کہیں ڈیٹ پہ جارہے ہیں کیا ؟”

دلہام کو اسکا انداز غصہ دلانے لگا تھا پر سرجھٹکتے آگے بڑھا وہ اسکے سامنے بازو حائل کرگئی۔

“دلہ۔۔۔۔”

“شاہ بخت۔۔۔تت۔۔۔تم آگئے دد۔۔دیکھو میں کب سے انتظار کررہی تھی یہ عورتیں یہ ارینہ کے کہنے پ۔۔مم۔۔مجھے مار دیں گی ۔۔ا۔۔ان۔۔سے کہو دد۔۔۔دور رہیں،۔۔ہہہ۔۔ہٹو شاہ۔۔بخت۔۔”

ایمرے کسی کمرے سے آندھی کی مانند نکلتے سامنے آئی تھی جب عناء سہمی سے دلہام بخت کے پیچھے جاچھپی دلہام نے تکلیف بھرے انداز میں ماں کا جنونی انداز دیکھا تھا اور عناء ؟

“مام کون شاہ بخت میں دلہام ہوں ،آپکا بیٹا آپکا دل۔”

دلہام نے ایمرے کے ہاتھ مضبوطی سے جکڑے اسکے ہاتھوں کو ہلکے سے بوسہ دیا آنکھوں کے سامنے ایک سائیہ لہرایا تھا کہ انہیں ہاتھوں نے اسکے باپ کے مقدر میں موت کی سیاہی بھری تھی۔

“دل ۔۔دلہام بیٹا وہ ارینہ وہ اچھی نہیں ہے اس نے مما مجھے گھر سے نکال دیا۔۔۔نہیں میں نے ہاں شاید میں نے نکالا تھا۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔دل تمہاری ماں جیت گئی۔۔۔لیکن وہ ۔۔۔”

“سوری سر میم میڈیسن لینے پہ راضی ہی نہیں ہیں”

ایمرے کی باتوں کو نرسسز آکے سٹاپ کیا تھا جو جانے کیا انکشاف کرنے لگی تھی۔عناء کی ساری حسیات بیدار تھیں

دلہام نے مڑتے ہوئے اسے اپنی گرفت میں لیا اور ہمیشہ کی طرح ایک انس بھرا لمس اسکے سر پہ چھوڑتے وہ چلا گیا تھا۔

عناء کا پورا دن بےچین گزرا تھا۔

دلہام کا شاید شہر رہنے کا ارادہ تھا تبھی وہ ابھی تک نہیں آیا تھا رات گئے وہ ہوا خوری کرنے چھت پہ آئی تو کچھ دیر بعد عجیب سے احساس نے گھیرا جیسے کوئی مسلسل اسے دیکھ رہا ہو۔

اپنا وہم سمجھتے سرجھٹکا اور کمرے کی طرف بڑھی تھی جب حویلی کے پچھلے حصے میں چلتے دو سائے اسے منجمند کرگئے تھے۔وہ اندازہ کرنا چاہتی تھی کہ یہ کون ہوسکتے ہیں تبھی ماحول میں چھائی پراسراریت کو دلہام کی کال نے توڑا تھا۔

وہ منہ کے کئی زاویے بناتے کال اٹینڈ کرنے لگی جو اسے بی جان سے بات کروانے کا کہہ رہا تھا مجبوراً اسے اپنا تجسس ایک طرف رکھتے نیچے آنا پڑا تھا۔

کمرے میں بھی کتنی دیر وہ ان دو سائے پہ الجھی رہی تھی اور اسی کشمکش میں مبتلا رہتے اسے نیند آگئی تھی۔

دوبارہ اسکی آنکھ کھلی تو ایسے لگاکوئی اسکی سانسیں دبا رہا ہے۔وہ دیکھنا چاہتی تھی پر پلکوں پہ اندھیرا تھا۔

عناء پھڑپھڑا کے رہ گئی تھی جب اسے ایسے لگا جیسے دروازہ توڑ کے اندر آنا چاہتا ہے سلب ہوتے حواسوں سے وہ چیخ رہی تھی پر شاید اسکی آواز کوئی سن نہیں پارہا تھا جبھی دھڑام سے دروازہ کھلا تھا اور دارا جان ،بی جان امراؤ کے ساتھ معیز چچا بھی اندر آئے تھے جنہوں نے پوری قوت سے ایمرے کو ایک طرف کیا تھا جو عناء کے منہ پہ تکیہ رکھے اسے مارنے کے در پے تھی۔

“عذاب لے آیا ہے دلہام گھر میں ۔”

بی جان کانپتی ہوئی عناء کو خود سے لگائے کھڑی تھیں۔

سب اپنی اپنی جگہ پریشان سے تھے۔

ایک سے بڑھ کے عجیب واقعات عناء کو لگ رہا تھا وہ پاگل ہوجائے گی پر اسے خود پہ کنٹرول تھا۔

“میں رہ لوں تمہارے پاس؟”

رمز اسے شانوں سے تھامے بستر پہ بٹھاتے بولی تھی۔عناء نے اثبات میں سرہلایا اگرچہ اسے سہارے کی ضرورت نہیں تھی پھر بھی خوف سا دل میں بیٹھ گیا تھا۔

“مووی دیکھیں؟”

گم صم بیٹھی عناء کا ہاتھ تھامے رمز نے اسکے دھیان کو ایمرے سے ہٹانے کیلئے کہا تو وہ خود کو کمپوذ کرتی مسکرا دی تھی۔رمز نے ہارر مووی لگائی تو دونوں دلچسپی سے دیکھنے لگی تھیں۔

پراسرار مرڈر کی اسٹوری اور ہونے والے عجیب وغریب واقعات جیسے جیسے بڑھ رہے تھے وہ حواس باختہ ہورہی تھیں لیکن آگے کیا ہوگا؟ کے تجسس میں دیکھنے پہ مجبور تھیں جب رمز نے آگے بڑھتے مووی بند کردی ۔

“کیا ہوا ؟”عناء نے منہ کے زاویے بگاڑے وہ رمز کی نسبت کم ڈرپوک تھی ۔

“مجھے نیند آرہی ہے بہت عناء اور بھائی بھی نہیں آئے اور اگر آگئے تو؟ یہاں سونا بھی تو ٹھیک نہیں اسیلئے بائے۔”

وہ ہاتھ ہلاتی باہر چلی گئی تو عناء بھی پانی لینے کی خاطر اسکے ساتھ آئی تھی۔

کچن میں پہنچتے بھوک کا احساس چمک اٹھا تو وہ دونوں سینڈویچ بنائے کھانے لگی تھیں۔

رمز اس سے پہلے فری ہوتی اپنے کمرے کی طرف نکل گئی تھی ۔

وہ عادت سے مجبور گنگناتی ہوئی کمرے میں آئی تھی۔

اگر ممکن ہوا پھر سے۔۔

تمہیں پاکر نہ کھوئیں گے

جدا ہوکر ملے جب بھی

تو پہلے خوب روئیں گے

دیکھو اب آئینہ کیوں؟

میرا چہرہ نا رہا ۔۔

بھول میں فیصلہ کرلیا۔

جا محب۔۔۔۔۔۔

پانی کا جگ سائیڈ ٹیبل رکھتے وہ سیدھی ہوئی ایسے گمان ہوا تھا جیسے ونڈو کرٹنز ہلے ہوں۔وہ ساکت سی دیکھتی رہی لیکن پھر سے کوئی بھی ایسی مومنٹ نہیں تھی ۔

عجیب احساس میں گھرے وہ ڈور لاک کرتی واپس بیڈ کی طرف بڑھنے سے پہلے لائٹ آف کرنے کو سوئچ آف کرنے لگی تھی جب اپنے پیچھے گرم سانسوں کو محسوس کرتے اسکا دماغ خوف سے سن ہوا ۔

کچھ دیر پہلے دیکھی جانے والی مووی کا سین سامنے آیا تھا لڑکی کے پیچھے رکی وچ کا گمان اسکی سانسیں بند کرنے لگا تھا۔

اسکے بال ہوا میں لہرائے تھے یا پکڑ کے لہرائے گئے تھے

وہ پوری شدت سے چلاتے مڑی تھی جب سامنے موجود شخص اسکی چیخوں پہ اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ گیا۔

“واٹ دا ہیل عنادل؟”

وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے ایسے ہی منہ پہ ہاتھ رکھے اپنے قریب کرگیا تو عناء شعور کی دنیا میں لوٹی تھی اور اسکے سینہ پہ بےدریغ مکوں اور گھونسوں کا استعمال کیا تو وہ اسکے منہ سے ہاتھ ہٹائے اسکے ہاتھوں کو گرفت میں کرنے لگا تھا۔

“کیا مصیبت آگئی ہے آخر؟پاگل ہوگئی ہو؟”

وہ اسکے دونوں ہاتھ کو گرفت میں جکڑتے اسے بند دروازے کی طرف دھکیل گیا تھا اور دوسرے لمحے ششدر رہ گیا تھا جب وہ اسکے سینے میں سردیے زوروشور سے رونے لگی تھی۔دلہام جو اسکی خبر لینے کا ارادہ رکھتا تھا اتنے شدید ریکشن پہ ٹھنڈا پڑا ۔

“عنادل وہاٹ ہیپنڈ ادھر دیکھو کیا ہوا ہے؟”

وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرے صرف عنادل کا دیوانہ بنا تھا ۔اسکی اپنائیت عناء کو مزید بکھیر رہی تھی۔

“آئی ۔ایم سوری تم ڈر گئی ہو شاید میرا مقصد تمہیں ڈرانا نہیں تھا۔”وہ شرمندہ شرمندہ سا وضاحت دینے لگا تھا۔

چھ فٹ کے بندے کا اپنے سامنے یوں شرمندہ ہونا اور وضاحتیں دینا اسے حیرت میں ڈال رہا تھا پر وہ تو عنادل کا دل تھا۔

“دل میں ڈر گئی تھی کہ شاید کوئی وچ مجھے۔۔۔”

“آ۔۔ویٹ آمنٹ کیا کہا تم نے؟ تمہیں لگا کہ میں کوئی وچ ہوں جو تمہیں کھا جائے گی؟

اوہ گاڈ محترمہ اول تو وچ میں بن نہیں سکتا جنڈر کا فرق آجاتا ہے نا اور دوسرا۔۔۔کیا یہ کہنا مزاحکہ خیز نہیں ہوگا کہ ایک وچ کسی وچ کے خوف سے ڈر گئی ہے۔۔ہاہاہاہا۔”

دلہام بخت کی بات پہ اسے جھٹکا لگا تھا جو صاف اسکی حالت کا مزاق اڑا رہا تھا وہ اسے پیچھے دھکیل گئی تھی۔

“مذاق لگ رہا ہے آپ کو یہ اگر میرا ہارٹ فیل ہوجاتا تو ؟آپکو کیا آپ تو فوراً سے دوسری شادی کرلیتے اور۔۔۔”

“ہششش بہت بولتی ہو تم اور رات کے اس پہر بہت لمبی ڈرائیونگ کی تھکان کے ساتھ میں تمہارے ساتھ کوئی بحث ومباحثہ نہیں کرسکتا اور میں تو صرف لائٹ آف کرنے میں تمہاری ہیلپ کرنے آیا تھا۔”

وہ سرسری انداز اپنائے کہتا اس سے ہٹا تھا اور واپس سے بستر کی جانب بڑھ گیا تھا۔

شاید وہ شاور لے کے آیا تھا تبھی باؤتھ گاؤن میں تھا۔

وہ بیڈ پہ بیٹھتے سیل ہاتھ میں پکڑے سیل چیک کرنے لگا تھا ۔عناء پہ خوف کا یہ عالم تھا کہ کوئی دروازے سے اپنے لمبے لمبے ہاتھ نکالے اسے باہر کھینچ لے گا اور وہ۔۔۔

بنا اگلی سانس لیے وہ تیزی سے دلہام کے قریب آتی اسکی پشت میں چھپی تھی۔

“کیا پرابلم ہے آخر تمہیں چند گھنٹوں میں ایسی کونسی آفت آگئی جو تم اتنا ابنارمل ریکٹ کررہی ہو؟”

دلہام کا ماتھا ٹھنکا ایمرے کی طرف سے دھڑکا لگا تھا کہیں اسکے جانے کے بعد اس نے پھر سے عناء کو ڈرایا تو نہیں؟

عناء خود پہ قابو پاتے فوراً سے کمفرٹر میں گھستے سرتاپیر چھپ گئی تھی۔

دلہام کچھ دیر اسکی حرکتوں کو دیکھتے ان پہ غور کرنے لگا تھا اور ہر چیز ایک طرف سمیٹے لائٹس آف کیے بستر پہ واپس آیا تو عناء نے کمفرٹر سے سر نکالے فوراً سے اپنا سائیڈ لیمپ جلایا تھا۔

“تم مجھے بہت ارٹیٹ کررہی ہو لڑکی میں تمہیں اٹھا کہ چھت پہ پھینک آؤنگا مجھے لائٹ نہیں چاہئیے جانتی بھی ہو پورا دن کتنی ٹف روٹین کے بعد گھر آیا ہوں اور تمہارے یہ عجیب بےہیور حد ہے یار ایک ذرا سا سکون میسر نہیں ہے۔”

سوئی ہوئی عناء کے اوپر سے ہاتھ بڑھائے اس نے کڑے تیور اسے دکھائے اور الیکٹرک لیمپ آف کرتے اپنی جگہ پہ لیٹا تھا جبکہ اسکی چھت والی دھمکی تو عناء کے دل پہ لگی تھی حویلی کے پیچھے چلتے دو سائے اور پھر اس نے تو سنا تھا پرانی حویلی میں بھوت آسیب کا ٹھکانہ ہوتا ہے ۔

اسے لگ رہا تھا جیسے کوئی اسکی والی سائیڈ سے پیچھے کھڑا ہے وہ اسے اٹھا کے لے جائے گا اور دلہام کو پتا ہی نہیں چلے گا۔

وہ پھر سے چیختے چلاتے دلہام کی پیٹھ سے لگی تھی جو اسکی طرف سے رخ موڑے کروٹ کے بل سورہا تھا اور ہلکی نیند کا غلبہ ہونے لگا تھا عناء کی سہمی چیخ اور پھر اسکی حرکت پہ فوراً سے اٹھ کے بیٹھا تھا۔

“دد۔۔دل ۔۔مم۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا پپ۔۔پلیز مم۔۔۔ت ڈانٹنا۔”اسکے سخت تیور وہ اندھیرے میں بھی محسوس کرسکتی تھی تبھی روتے ہوئے وضاحت دی تھی۔

دلہام نے گہری سانس بھرتے اپنی طرف کا لیمپ آن کیا ۔

اسکا بکھرا حلیہ دلہام کے دل کو فوراً موم کرگیا وہ اسے خود میں سموگیا جانے کیا غبار تھا جو سسکیوں میں نکال رہی تھی وہ اسکے سر میں اپنی انگلیاں چلاتے اسی کو ہی سوچے جارہا تھا۔

عناء کا بار بار اسکے یوں قریب آنا اب آزمائش بن رہا تھا۔

“دلہام” دھیمی سی سرگوشی میں اسکا نام جادواں لبوں سے آذاد ہوا تو اسکا رواں رواں سماعت بنا تھا۔

“ہوں”

“وہ لان میں۔۔۔۔”

وہ اسے اپنے ساتھ ہوئے عجیب واقعات بتانے لگی تو دلہام کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے۔

“تمہارے آنے سے قبل میں نے کھڑکی سے کرٹن ہٹائے تھے شاید تبھی کوئی جنبش باقی رہ گئی ہوگی بلکہ یقیناً ایسا ہی ہوگا اور دوگارڈذ حویلی کے پچھلے گارڈن میں ہمہ وقت موجود رہتے ہیں عنادل رات میں سائے ہونا کچھ عجب بات نہیں ہے۔”

وہ ایمرے والے واقعے کوحذف کرتے ہر وہم پہ اسے وضاحت دینے لگا تھا لیکن اسکے دل میں سناٹے چھائے تھے پر اسکی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔

دلہام نے نیم روشنی میں اسکے چہرے پہ آنسوؤں کے مٹے مٹے نشانات کو دیکھتے ہلکے سے اپنی پورز سے اسکی آنکھوں کو چھوا تھا۔

وہ حواسوں میں ہوتی تو یقیناً اس پہ شدید ریکشن دیتی لیکن اسکے دماغ کی سوئیاں وہیں کہیں اٹکی تھیں۔

کمرے میں چھائی گھمبیر خاموشی دلہام کو اپنے جادو میں جکڑنے لگی تھی۔

ایک استحقاق بھرا لمس اسکے رخساروں پہ دان کیا تو وہ چونکی تھی ۔

“مجھے سونا ہے پلیز لائیٹ آف۔۔۔”

دلہام نے اسکے ہونٹوں سے لفظوں کو چنا تو اسکی بےساختگی پہ عناء کا دل زورو سے دھڑکا تھا پلکیں لرزتی ہوئیں لمحوں کی کمزوری میں جکڑنے کی آگاہی دینے لگے تو دلہام نے کچھ لمحے وارفتگیوں میں گزارتے ان لمحوں کی قید میں اسے بھی جکڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔بھلا وہ اپنا آپ اسے کیسے سونپ سکتی تھی ؟

عناء نے مزاحمت کرتے دلہام کو پیچھے جھٹکا تو عشق کا فسوں لمحوں میں چھٹا تھا۔

حقیقتیں ،رنجشیں ،انا کی جنگیں سراٹھاگئیں جیتنے پہ مضر نظر آئیں تو وہ اسے چھوڑتے ایک تکیہ اسکے اور اپنے بیچ میں رکھتے کروٹ بدل گیا تھا شاید ناراضگی کا اظہار تھا یا مزید کمزور پڑنے اور دھتکارے جانے کا حوصلہ نہ تھا پھر بھی تکیے کے اوپر سے انا کا ہاتھ تھام رکھا تھا تاکہ وہ پھر سے ڈر میں مبتلا نہ ہو۔

کچھ دیر بعد اس نے عناء کو درمیانی دیوار ایک طرف کو پھینکتے اپنے سینے پہ سررکھتے محسوس کیا تھا۔

یہ تو طے تھا اگر آج رات وہ عناء کے سحر سے بچ جاتا تو ہی زاہد کہلاتا اور وہ بھروسہ توڑنے والوں میں سے نہیں تھا۔

نیند میں ڈوبتے حواسوں کی آخری سوچ یہی تھی کیا واقعی حویلی کے گارڈن میں دو سائے تھے کیونکہ وہاں رات کے پہر کوئی نہیں جاتا تھا۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

“اف چھت پہ کوئی ہے۔”

رمز اسکے برابر چلتے گھبراتے ہوئے بولی تھی۔

موسیٰ نے نائٹ بلب کی چمکتی زردی مائل روشنی میں سراٹھائے دیکھا نسوانی وجود پہ عناء کا گمان ہوا تھا کیونکہ اور کوئی بھی تو حویلی میں لڑکی نہ تھی۔

“آپ جائیں بیبی جی ایسا نہ ہو کبھی کوئی مسئلہ بن جائے اور گھر میں ابھی سب جاگ رہے ہیں۔”موسیٰ نے جان چھڑانی چاہی تھی جب رمز نے اسکا بازو تھاما اور گارڈن میں غائب ہوئی تھی۔

“کب تک ڈرتے رہو گے تم آخر؟ مجھے تمہاری ضرورت ہے موسیٰ پلیز ہم یہاں سے۔۔۔”

“رمز بیبی وہ باتیں نہ کریں جو میرے بس میں نہیں ہے میں پہلے ہی بہت شرمندہ ہوں کہ دلہام سر کا اعتبار توڑنے کا مرتکب ہوا ہوں۔”

وہ دیکھ سکتی تھی کہ موسیٰ کا سرجھکا تھا۔

“تم رہنا اسی غلامی میں موسیٰ لیکن ایک بات کان کھول کے سن لو ۔۔۔اگر میں زندگی جیوں گی تو تمہارے ساتھ ورنہ اسی باغیچے میں ایک دن تمہیں رمزبخت کی لاش لٹکتی ملے گی ۔”

وہ اسے دھمکی دیتی اندر کی طرف بڑھنے لگی تھی ۔

موسیٰ نے جاتی ہوئی رمز کو روکنے کیلئے اسکا ہاتھ تھامے روکنا چاہا تھا جب تیزی سے مڑتے اور ہاتھ پکڑے جانے پہ لڑکھڑائی تھی ۔۔دسویں کے چاند کی روشنی میں اسکا لڑکھڑاتا سراپا وہ فوراً سے بانہوں میں بھرگیا تھا۔

رمز کیلئے تو جنون کی یہ آخری حد تھی کہ وہ اس وقت اپنے من پسند شخص کے ہاتھوں میں تھی ۔

اسکے گلے لگتے وہ دل میں پھوٹتی خوشی کو محسوس کررہی تھی جب موسیٰ حالات اور مقدس رشتے کے ہاتھ مجبور سا اسے خود میں بھینچ گیا تھا۔

“آپ اچھا نہیں کررہی ہیں رمز بیبی اپنا عادی بنا کے مجھے۔”اسکے کانوں کی لو کو چھوتی سانسوں نے رمز کے لبوں پہ مسکراہٹ کھلائی تھی۔

“تم جانتے ہو موسیٰ جتنے کہ تم چارمنگ ہو کسی بھی لڑکی کے آئیڈیل ہوسکتے ہو۔”وہ اسے احساس برتری دلانا چاہتی تھی۔

“خوبصورتی دو وقت کی روٹی اور عزت کا نعم البدل نہیں ہوسکتی رمز بیبی۔”وہ اسے سنگین حقیقتوں سے بھی آشنا کروانا چاہتا تھا۔

“میں تمہاری محبت کے سہارے ہرحال میں جی لونگی موسیٰ تم ایک بار میرا ہاتھ یقین سے تھامو تو سہی۔”

وہ اپنے لبوں کو اسکے رخساروں سے مس کرتی داڑھی کی چبھن محسوس کرنے لگی تھی ۔

“امتحان کڑا ہے۔”

وہ اسے وارن کررہا تھا۔

“آزمالو ہر آزمائش میں سرخرو پاؤ گے۔”

وہ لاڈ سے اسکے شانے پہ ٹھوڑی ٹکائے بولی تھی موسیٰ کے صبر کا پیمانہ اسکی قربت سے چھلکا تھا تبھی اسے مزید قریب کیے لبوں کے لمس سے سیراب کرنے لگا تھا کہ محبوب خود مائل قربت تھا۔

وہ مسرور سی اسکا ساتھ دے رہی تھی جو اسکے وجود کو چھوتے اسے معتبر کررہا تھا اپنی فتح پہ وہ اترائی تھی ایسا تو ہونا ہی تھا ایک نا ایک دن تو موسیٰ کو ہارنا تھا جنگاری کے ساتھ رہتا شعلہ کب تک نہ بھڑکتا۔

“تھینکس اٹس میک می اسپیشل”

وہ اسکے دل کو مسیحائی دیتے لمس کو سراہتی بانہوں کے گھیرے سے نکلتی حویلی کی بالکونی حصے کی طرف بڑھ گئی تھی۔

جو چیزیں پہلے سے ہی خراب تھیں انہیں برباد کرکے اگر وہ منظور نظر ٹہر سکتی تھی تو اپنی محبت کی خاطر کسی اور کی محبت کو سولی پہ لٹکانا برا نہ تھا کیونکہ وہ مفاد پرست معاشرے کا حصّہ تھی۔

؂اس بھروسے پہ کررہاہوں گناہ

بخش دینا تو تیری فطرت ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *