Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 01)
Rate this Novel
Anadil (Episode 01)
Anadil by Uzma Mujahid Novel
“سر آٹو گراف پلیز۔۔”
کالج میں داخل ہوتے ہی استاتذہ اور اسٹوڈنٹ کا ایک جم غفیر سا تھا جو اسکی ایک جھلک دیکھنے کیلئے بیتاب تھےجبکہ وہ بنا کسی کی طرف دیکھے آگے بڑھ رہا تھا۔چھ فٹ سے نکلتے قد اور ورزشی جسم کے مالک دلہام بخت اس وقت فارمل ڈریس کوٹ کو ایک ہاتھ پہ ڈالے ،گرے کلر کی شرٹ پہ باندھی بلیک ٹائی کی ناٹ کو ڈھیلی کرتے تیزی سے مجمعے کو چیرتا آگے بڑھ رہا تھا۔ اسکے گارڈ میڈیا کو کوریج لینے سے روک رہے تھے۔
کیسے کہیں ہم اپنی داستان،
بہتے ہیں آنسو چپ ہے زبان،
کوئی ٹوٹا تارا مجھے غم دے گیا ہے،
اپنوں نے جو زخم دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
مولا کوئی سنتا نہیں میری دہائی۔۔۔
چبھنے لگی ہے مجھے یہ تنہائی،
سیکورٹی کے حصار میں آگے بڑھتے دلہام بخت کے قدم آڈیٹوریم کے دروازے سے آتی آواز پہ تھمے تھے جہاں کوئی پرسوز سا راگ چھیڑے شاید اپنے جذباتوں کو لفظوں میں پروئے بیٹھا تھا۔
مہلت مجھ کو کوئی تھوڑی سی دےدے،
یا میرے دل کا دھڑکنا بھی لے لے،
مہلت مجھ کو کوئی تھوڑی سی دے دے،
یامیرے دل کا دھڑکنا بھی لے لے ،
مہلت کےلیے کی جانے والی فریاد کی تکرار دلہام کو عجیب سے احساس میں مبتلا کررہی تھی ۔
وہ اس پری وش کا چہرہ دیکھنا چاہتا تھا جسکی آواز میں زمانے بھر کا درد بول رہا تھا۔
میکانکی انداز میں اسکے قدم اس آواز کی طرف بڑھنے لگے تھے۔ اپنے پیچھے بڑھتے گارڈز کو ہاتھ کا اشارہ کرتے وہیں روکا تھا۔
رفتہ رفتہ ٹوٹ رہی ساری زنجیریں،
بن کے پھر کیوں روٹھ گئیں میری تقدیریں،
دلہام اسکے سامنے آرکا تھا جو خود میں مگن آنکھیں بند کیے اپنے دہرائے لفظوں کی تکرار کررہی تھی جبکہ اسکے اردگرد بیٹھے لڑکیاں ،لڑکے جھرنوں کے جیسی آواز کے ساتھ ساتھ اسکے دلاآویز چہرے کو تکے جارہے تھے۔
ریت کی دیواروں سی ہاتھ کی لکیریں،
دلہام نے بےساختہ بند مٹھی کو کھولے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھا تِھا جو اسکی طرح الجھی سی تھیں جبکہ اسکا رواں رواں سماعت بنے اسے مزید سننا چاہتا تھا۔
مجھ پہ ہنستی خوشیاں دل میرا چیریں،
دلہام کو دل کی چبھن بڑھتی ہوئی محسوس ہورہی تھی جانے کیوں اسے ایسا لگ رہا تھا وہ لڑکی اسکی ذات پہ مزاح کررہی ہے ابھی کچھ دیر پہلے کی اسے سننے کی چاہت معدوم پڑی تھی جبکہ کوئی بھی اسکی طرف متوجہ نہیں تھا ۔دلہام لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلنے لگا تھا۔
کوئی نا پوچھے مجھ سے میری دل کی تنہائی،
کتنے ٹکڑوں میں ہے بکھری میری ہرچھائی،
دلہام کا آگے بڑھنے کا راستہ مشکل پڑا تھا اسے فرش پہ بکھرے کانچ اور ان پہ منجمند خون کا رنگ نظر آرہا تھا۔
اسکی آنکھیں وحشت سے سرخ پڑنے لگی تھیں۔
کیا ستم ہے سنتا نہیں کوئی دہائی،
مجھ کو میرے غم سے دے کوئی رہائی،
وہ تیز تیز قدموں سے وہاں سے دور جارہا تھا نجانے اسکے اندر کی وحشتیں اسکا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتی تھیں۔
“شوٹ ہر نیکسٹ ٹائم آئی ڈونٹ وانٹ ٹو ہیئر ہر وائس۔”
چہرے پہ زمانے بھر کی سختی سجائے اس نے اپنے گارڈ کو حکم دیا تِھا جو ناسمجھی سے اپنے اکھڑ مزاج مالک کو دیکھتے محظ سر ہلا کے رہ گیا تھا۔
وی۔سی کے روم کی طرف بڑھتے ایک بار پھر پروحشت نگاہوں نے آڈیٹوریم پہ نگاہ کی تھی جہاں سے کچھ اسٹوڈنٹ باہر آرہے تھے۔
















“دیٹس امیزنگ عناء یور وائس رئیلی سوتھنگ دا سوئل۔”
اسکی بیسٹ فرینڈ نے ہمیشہ کی طرح اسکی جادوئی آواز کی تعریف کی تو وہ شائے کرنے لگی تھی۔
“چلنا چاہیئے نا آئی تھنک سیمنار ٹائم شروع ہونے لگا ہے۔”
انکے کلاس فیلو عدیل نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
“نہیں میرا بلکل موڈ نہیں وہیں بورنگ باتیں یار یونیورسٹی کے سیمنارز میں پولٹیشنز کا کیاکام بھلا؟”
عناء نے بددلی سے کہا تو سب اسے تاسف سے دیکھنے لگے تھے۔
“ایک تو یہ زمانے بھر کی فالتو کا پھوپھٹ چلانے والی لڑکی تم کو نہیں جانا تو نہ جاؤ ہمارا دل کیوں خراب کرنے لگی ہو جبکہ میرا تو موسٹ فیورٹ ینگ پارٹی کا نمائیندہ دلہ۔۔۔۔ “
“او پلیز ساشہ جاؤ تم لوگ میں ذرا کینٹین کا وزٹ کرلوں۔”
عناء نے باقاعدہ ہاتھ باندھے التجا کی تھی تو سب اسے گھوریوں سے نوازے وہاں سے نکل گئے تھے۔
کینٹین پہ اکا دکا لوگ تھے وہ ایک چائے کا آرڈر دیتے نوٹس کھنگالنے لگی تھی جب کوئی اسکی ٹیبل بجاتے سامنے بیٹھا تھا ۔
“ہائے سویٹی تم نہیں جارہیں سیمنار میں حالانکہ تمہاری ہی فیلڈ ہے یہ۔”
سامنے بیٹھے شخص نے اسے چڑایا تھا۔
“میری تو نہیں آپکی ضرور یے مسٹر دورید اور آپکا تو آوا ہی ایسا ہے نا سو ۔”
وہ شانے اچکائے پھر سے نوٹس پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
تبھی ہانپتے کانپتے کشف وہاں آئی تھی۔
“وہ وی۔سی صاحب اسٹوڈنٹ آف دا ائیر بھی اناؤنس کرنے لگے ہیں کامرس ڈیپارٹمنٹ سے تو تمہیں وہاں ہونا چاہیئے تھا۔”
وہ اسکا ہاتھ پکڑے کھنچنے لگی تو طوہاً کراہاً اسے بھی اٹھنا پڑا تھا۔
سیمنار کے اختتامی القابات کے ساتھ مختلف شعبے کے لوگوں کو ایوارڈز بھی مہمان خصوصی سے دلوائے جارہے تھے جب اپنے نام پہ وہ بری طرح چونکی تھی۔
اسٹوڈنٹ آف دی ائیر اسکے نام سے اناؤنس کیا جارہا تھا۔
وہ بامشکل اپنے دل کی دھڑکنوں پہ قابو پائے اسٹیج پہ آئی تھی۔
“now we will invite our special guest to present this award sheild to Anna Dilawar..”
اسٹیج پہ موجود آرگنائزر نے دلہام بخت کو بلایا تھا اس ایوارڈ شیلڈ کے ساتھ ایک سفید پیج اٹیچ کیا گیا تھا جہاں انہیں اس اسٹوڈنٹ کو گڈ وشز وغیرہ لکھنی تھیں۔
دلہام ان مومی آنکھوں کے بل خم میں مگن اس سفید پرچے پہ اپنے لفظ لکھنے لگا تھا۔
“وحشت از عشق که نه !
ترس ما فاصله هاست
وحشت از غصه که نه !
ترس ما خاتمه هاست۔۔۔عنادل”
ایک مختصر سی تحریر پارشین میں لکھتے وہ شیلڈ اسکے ہاتھ پکڑوائی تھی جسے اس نے لرزتے ہاتھوں سے لیا تھا۔
اور بھولے سے بھی نگاہ اس مہمان گرامی کی طرف نہیں گئی تھی جبکہ دلہام کی نظریں اسکے چہرے سے ہٹ ہی نہیں پارہی تھیں۔
عناء نے دھڑکتے دل کے ساتھ سامنے موجود اپنے فرینڈز کو دیکھا اور مختصر انداز میں تھنکیو اسپیچ کرتے اسٹیج سے اتر آئی تھی۔
“ہاؤ لکی یو آر تمہیں دلہام بخت کے ہاتھوں ایوارڈ لینے کا موقع ملا ہے سڑیل لڑکی ہینڈ شیک تک نہیں کیا تم نے۔”
کالج کے برآمدے کو کراس کرتے دلہام کے قدم اسکے جواب کو جاننے کیلئے مدھم پڑے تھے۔
“عناء دلاور ہر ایرے غیرے سے ہاتھ نہیں ملاتی ہننہ۔”
ایک ادا سے کہتے اس نے مصنوعی انداز میں بال جھٹکے تھے۔دلہام جبڑے آپس میں سختی سے ٹکرائے جبکہ مٹھیاں بھینچے تھے۔اسے نجانے کیوں یہ آواز اپنی قید میں لینے لگی تھی۔اس نے ایک بےبس نگاہ اس پری چہرہ پہ ڈالی جو لڑکیوں کے جھرمٹ میں شان طمراق سے کھڑی تھی۔
دلہام شان بےنیازی سے چلتا وہاں سے ہٹتے اپنی گاڑی میں جابیٹھا تھا۔آنکھیِں موندے نشست سے پشت لگائی تو ایک چہرہ پورے حق سے آنکھوں کی چلمن پہ اترا تھا اس نے فوراً سے آنکھیں کھولیں۔
“عناء ہر ایرے غیرے سے ہاتھ نہیں ملاتی ہننہ۔”
آج کے دن کی سوغات شاید اسکی آواز ہی تھی۔
















“آگئی لڑکی؟”
قوی صاحب نے اپنی ڈیڑھ انچی عینک کے اوپر سے جھانکتے اسے دیکھا۔
“جی سر ۔”
وہ اپنا بیگ اپنی ٹیبل پہ رکھتے اسی سالہ اپنے باس کو دیکھتے مصنوعی مسکراہٹ سجائے مسکائی۔
“تو کیا رہا آج کا دن کوئی بڑی خبر؟”
چشم کے اوپر اٹکی نگاہیں اب اسکے نیچے سے اخبار سے لپٹ رہی تھیں ۔عناء کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ شخص دیکھتا کس اینگل سے ہے۔
“ہیں نا عناء دلاور کو بیسٹ اسٹوڈنٹ آف دا ائیر کا ایوارڈ ملا ہے۔”
وہ بیگ سے اپنی شیلڈ نکالے انہیں دکھانے لگی تھی پر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا تھا۔
“ایک انٹرویو کیلئے جانا ہوگا تمہیں آفس کی گاڑی ریڈی کھڑی ہے۔”
پان چباتے اپنے باس کو کوفت زدہ سے انداز میں دیکھا۔
“میں کیسے انٹرویو لے سکتی ہوں آئی مین میں تو صرف پرنٹر آپریٹر ہوں نا؟”
قوی صاحب کی آنکھیں پھر سے عینک سے جھانکنے لگی تھیں۔
“اس مہینے کی سیلری لینی ہے یا نہیں تمہیں؟”
عناء کی آنکھیں مکمل کھلی تھیں۔
“بڈھا سٹھیا گیا ہے عناء،مر یا جی انٹرویو تو کرنا ہی ہوگا تمہیں۔۔۔پر ۔۔۔”
“باہر ڈرائیور سے کہو تمہیں بخت حویلی لے کے جائے۔”
قوی صاحب کی بات پہ اسکا دل چاہ رہا تھا بڈھے کی آخری دو چار سانسیں بھی چھین لے جو اسکی عمر اللّٰہ اللّہ کرنے کی تھی اس میں بھی وہ دوسروں کو ذلیل کر رہا تھا۔پر اکلوتی نوکری بھی تو پیاری تھی جو بامشکل ہاتھ لگی تھی۔
“پر سر وہ ہے کون دلہا آئی مین دلہام۔”
ایک تو نام ہی کم بخت کا ایسا تھا کہ زبان پہ آئے نہیں دے رہا تھا۔
“موبائل سرچ کرلو ،پولٹیشن ہے ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی الیکٹ ہوا ہے ۔”
سرسری سے انداز میں اسکا تعارف دیتے وہ پھر سے ہاتھ میں پکڑی فائل پہ جھک گئے۔
“اللّٰہ اللّٰہ بوڑھے بابا جانے کونسے سیپ سلائی کررہے ہیں ۔”
“اور سن لو کل کے اخبار میں دلہام بخت کا انٹرویو چھپنا ضروری ہے اسیلئے جب ہاتھ میں پرچہ تھاما ہو تبھی آفس آنا ورنہ نہیں۔”
وہ ہکا بکا قوی صاحب کو دیکھ رہی تھی ۔
وہ پاؤں پٹختے باہر آئی تھی۔
“کہاں ہے یہ بخت حویلی؟”
اس نے پھاڑ کھانے والی نگاہوں سے ڈرائیور کو دیکھا۔
“جی بس یہی شہر سے دو گھنٹے کے فاصلے پہ۔”
ڈرائیور کی بات سنتے وہ جھنجھلاتی ہوئی گاڑی میں بیٹھی پورے راستہ دماغ اس ایوارڈ میں میں رہا تھا جو اسے اپنے بابا کو دکھانا تھا۔پر قسمت کی یاوری جو رات گئے ہی شاید گھر پہنچنے والی تھی تب تک بابا نے سوجانا۔
انہیں سوچوں کی گرداب میں اس نے دو گھنٹوں کا سفر طے کیا تھا اور آفس کی گاڑی ایسی تھی کہ اسکے جسم کا ایک ایک حصہ دکھنے لگا تھا۔
بیرونی گیٹ کی آہنی مضبوطی کو دیکھتے وہ اسے کسی قدیم راجہ مہاراجہ کی حویلی ہی لگ رہی تھی۔
سست روی سے چلتے وہ دالان تک پہنچی تھی ۔
“سنیں کیا دلہا بخت یہی ملے گا؟”
ایک گھنی موچھوں اور داڑھی والا شخص جس نے مکمل چوکیداروں والی یونیفارم پہن رکھی تھی اسے دیکھتے ہی عناء نے گھبرائے ہوئے انداز میں کہا۔
“دلہام بخت۔”
سرد آنکھیں اس پہ گاڑے جواب دیا گیا تو عناء بار بار اس نام کا ورد کرنے لگی بھول جو رہا تھا۔
“ہاں وہی دلہام بخت ہم اخبار سے آئے ہیں انکا انٹرویو کرنے۔”
اس نے جلدی جلدی بتایا مبادہ ان سرد نگاہوں سے وہ فریز ہی نہ ہوجائے۔
اسے ایک بار سر تا پیر دیکھنے کے بعد چوکیدار نے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا تھا۔
حویلی کے اندر داخل ہوتے اسے وہ محل نما عمارت دھند میں لپٹی نظر آئی تھی۔اتنی دور پیدل چلنے کا تصور اسے نڈھال کرنے لگا تھا پر جانا تو تھا سو بھاگتے قدموں سے چوکیدار کے پیچھے تھی جس نے اسے مرکزی دروازے پہ چھوڑنے کے بعد واپسی کا رخ موڑ لیا تھا۔
“عجیب”
اپنا فیورٹ لفظ دہراتے اس نے ایک تنقیدی نگاہ ادھر ادھر ڈالی جہاں اکثر عورتیں اور مرد اسے لان کی مرمت ،پودوں کیاروں کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے دکھائی دیے تھے جیسے کوئی روبوٹ کی طرح ۔
وہ سرجھٹکے مرکزی دروازہ کھولنے لگی تھی پر وہ پہلے ہی کھل گیا۔وہاں پر بھی کم وبیش باہر والے چوکیدار کا ہم شکل آدمی “جی” بولتے گویا اسکی آمد کی وجہ جاننے لگا تھا۔
“وہ مجھے دلہام بخت سے ملنا ہے انٹرویو کیلئے۔”
نجانے اور کتنے بندوں کے سامنے یہ نام لینا پڑتا تبھی اچھے سے یاد کیے بولا تو اس شخص نے دروازہ کھول دیا تھا۔
وہ حیرت زدہ سی اندر داخل ہوئی خود کو کوئی ماورائی مخلوق سمجھتے،یہ چیزیں چنیوٹی لکڑی سے بنے اندر کھلتے دروازے ،پیتل ،چاندی اور دیگر دھاتوں سے بنے قدیم نقش ونگار لیے یہ حویلی اسے پراسرار سی لگی تھی۔نجانے اسکی اگلی منزل کیا تھی۔
“بیبی جی یہ بڑے والا دروازہ گھر کے اندر کھلتا ہے جی۔”
پاس سے گزرتی راجھستانی لباس پہنے ایک ملازمہ نے اس پہ ترس کھائے اسے آگاہی دینی چاہی تو وہ سر ہلائے اندر داخل ہوئی جو باہر کی قدیمی عمارت کے بلکل برعکس تھی لیکن لاؤنچ میں پڑا مہنگا فرنیچر وہاں کے مقیموں کے ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
حویلی میں داخل ہوتی عناء کا دل گھبرایا سا تھا اور اب تو جان تھی کہ لبوں پہ اٹکی نظر آئی۔
یہ سرخ دیواریں ،چنیوٹی لکڑی سے بنا مضبوط دروازہ سب کچھ دیکھا دیکھا سا لگا تھا پر کہاں؟
“اکثر ہمارے وجدان میں ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کے ہمیں لگتا ہے ہم ایسی جگہوں سے،ایسے لوگوں سے شاید دیکھ اور مل چکے ہیں۔”
نفسیات کے ٹیچر کی بات کو دماغ میں دہراتے عناء نے عامر خان کے عظیم قول “آل از ویل” کا پرچار کرتے اعتماد بحال کرنا چاہا اور قدم آگے بڑھائے تھے۔
“ارے عناء تم یہاں واؤ واٹ آ سرپرائز یار؟”
ایک مخصوص جانی پہچانی آواز پہ وہ فوراً سے پلٹی تھی سامنے ہی درید حسب عادت چیونگم چباتے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“درید تم اوہ مائے گاڈ شکر ہے یہاں کوئی انسان تو دکھا۔”
عناء کی خوشی بےساختہ تھی جبکہ درید کو اسکی بات سن کے دھچکا لگا تھا۔
“یو مین گیٹ سے لے کے یہاں تک تمہارا کسی انسان سے نہیں بلکہ خلائی مخلوق سے واسطہ رہا ہے؟”
درید کی بات پہ وہ شرمندہ ہوئی تھی ۔
“نہیں آئی مین تم وہ پہلے انسان ہو جسے میں یہاں جانتی ہوں۔”
وہ شرمندہ شرمندہ سی وضاحت دینے لگی تھی۔
“تم یہاں کیسے؟”
درید نے اسکی شرمندگی کا تاثر زائل کرنا چاہا۔
“پتا نہیں یار کوئی دلہام بخت ہے جس نے کوئی الیکشن جیتا ہے اسی کے انٹرویو کیلئے قوی صاحب نے بھیج دیا ہے اس پراسرار سی حویلی میں ایک تو مجھے پولیٹیکس اور پولٹیشنز میں میں ذرا کے انٹرسٹ نہیں اوپر سے یہ آفت۔”
وہ بیزار سی اپنی یہاں آمد کی وجہ بیان کررہی تھی۔
“یو مین تم دلہام بخت کا انٹرویو کرنے آئی ہو اور وہ بھی بنا پرپریشن کے؟”
درید نے حیرانگی سے سر تاپیر پھر اسکا جائزہ لیا۔
“ہاں نا تمہیں تو پتاہے یہ میری پارٹ ٹائم جاب ہے لیکن یہ انٹرویو وغیرہ۔۔۔۔۔”
“درید انہیں بتا دو کہ جو بچے بنا تیاری کے پرچہ دینے جاتے ہیں وہیں فیل ہوتے ہیں اور لوزرز سے دلہام بخت بات نہیں کرتا۔”
بھاری گھمبیر آواز پہ درید کے ساتھ ساتھ عناء کا دل بھی حلق میں آیا تھا ۔
“ایکسکیوزمی ٹیک آ سائیڈ ۔”
وہیں بھاری آواز عناء نے رخ موڑے اپنے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھا تھا اور اسی لمحے اس شخص کے گلاسسز لگانے کیلئے اٹھتے ہاتھ بھوری آنکھوں کے پاس ابھرے سیاہ تل کو دیکھتے رکے تھے۔
“عنادل”
نیم وا لبوں سے سرگوشی سی ہوئی تھی۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔
