Anadil by Uzma Mujahid NovelR50608 Anadil (Episode 10)
Rate this Novel
Anadil (Episode 10)
Anadil by Uzma Mujahid Novel
“اور تم شاید بھول رہی ہو کہ کبھی اسی قاتل سے تم نے بےپناہ پیار کیا تھا۔”
وہ جھکتے ہوئے اسکے قریب بیٹھتے سختی سے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھینچ گیا تھا۔
“بلکل اپنی غلطی میں بلکل نہیں بھول سکتی آپ کو بھی شاید یاد ہو کہ اسی بدکردار لڑکی سے آپکو عشق کا دعویٰ تھا۔۔
“وحشت از عشق که نه !
ترس ما فاصله هاست
وحشت از غصه که نه !
ترس ما خاتمه هاست۔۔۔”
(محبت کی وحشت نہیں ہے!
ہمارے خوف دوریاں ہیں
غم کا خوف ، نہیں!
ہمارا خوف ختم ہو گیا ہے ۔۔۔ )
وہ بے خوف نگاہیں اس پہ جمائے بولی تھی۔
“تب تک جب میں تمہاری اصلیتوں سے واقف نہیں تھا۔”
دلہام نے اسکے سختی سے پکڑے چہرے کو جھٹکا تھا۔
“سیم ٹو یو دلہام بخت ،عناء دلاور نے بھی تب تک آپ سے محبت کی تھی جبتک وہ آپکی اصلیتوں سے واقف نہیں تھی۔”
بنا ادھار رکھے اپنا حساب چکتا کیا تھا۔
“عنادل”
وہ دھاڑا تھا۔
“عناء دلاور کیوں بھول جاتے ہیں آپ۔۔۔اب عناء دلہام کے دل میں نہیں رہتی ہے۔”
عناء نے کپڑے جھاڑتے دونوں ہتھیلوں کو اسکے سامنے کیا تو اسے جھٹکا لگا تھا۔ صبح تک سجائی گئی ہتھلیوں میں روشن نام اب زخموں میں بدل چکا تھا۔
وہ یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔
“نفرت کرنا صرف دلہام بخت کو نہیں آتی اگر اپنی لکیروں میں اسے عناء دلاور قبول نہیں ہے تو عناء کو تو کبھی بھی دلہام بخت قبول نہیں۔”
وہ چادر کو پھر سے سر پہ جمائے انجان منزل کی طرف بڑھتی پھر سے اسکی وحشتوں کو آواز دے گئی تبھی تیزی سے اسکی کلائی تھامے خود کے قریب کیا تھا اتنا قریب کے دلہام کی بےترتیب جھلستی سانسیں عناء کے چہرے پہ پڑ رہی تھیں۔
“دلہام بخت اگر انتہا کی محبت کرسکتا ہے تو نفرت بھی کرسکتا ہے عنادل میرے غضب کو آواز مت دو مجھے ایسا ہی رہنے دو نہیں تو تمہارا قتل مجھ پہ واجب ہوگا عنادل۔”
دلہام کی گرفت اسکے بالوں کے گرد شکنجہ کس رہی تھی وہ درد کی شدت سے چلا اٹھی۔
“تم وحشی ہو آئی ہیٹ یو دلہام بخ۔۔۔۔”
نفرت کا دعویدار شخص اپنی مزید تذلیل سہہ نہیں پایا تھا اور تبھی اسے پیچھے کو دھکیلتے گاڑی سے لگاتے اسکے لبوں سے اس نفرت کی داستان کو چنا تھا اسکی گرفت میں اتنی شدت تھی کہ عناء کو اپنی سانس چھن جانے کا یقین ہونے لگا تھا تبھی اس نے اپنے پنجوں کو دلہام بخت کے سینے میں گاڑا تھا لیکن وہ ٹس سے مس ہونے کے بجائے اسکے لبوں کو رہائی دیتے اسکی صراحدار گردن پہ اپنا لمس چھوڑتے پیچھے ہٹا تھا۔
ان وحشت بھرے لمحات نے عناء کی آنکھوں میں پانی جمع کیا اسے دلہام بخت سے نفرت مزید بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
“مرجاؤ تم دلہام بخت زندہ رہتے بھی تم انسانوں کیلئے کسی سزا سے کم نہیں ہو۔”
وہ حواسوں میں آتے ہی اس پہ چلائی تھی۔
“بکواس بلکل نہیں عنادل یہ آپ سے تم کا سفر بھولے سے بھی طے نا کرنا اب تک کے میں نے تمہاری ساری بدتمیزیاں سہی ہیں لیکن اب اور نہیں۔رات کے اس پہر تم حویلی چھوڑ کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو آخر۔”
دلہام کے سخت ہاتھ پھر سے اسکے بازو پہ جمے تھے۔
“مجھے نہیں کرنی یہ شادی دم گھٹ رہا ہے میرا منافقت کی اس دنیا میں دلہام بخت یا تو سب کچھ بھول کےمجھے دل سے اپنا لو دوسری صورت میں ہم راستہ الگ کرلیتے ہیں۔”
بنا کسی خوف ڈر کے اس نے کہا تھا۔
“اوہ رئیلی تمہیں یہ شادی نہیں کرنی۔دیٹس سمپل چل کے دارا جان کو بتا دو۔”
وہ اسے زبردستی گاڑی میں بٹھاتے بولا اور اگلے تین منٹ میں وہ حویلی میں تھے۔حویلی کے عقبی حصے سے ہوتے وہ اسکی سنگت میں دارا جان کے پاس آیا تھا جو سونے کی تیاری کرنے لگے تھے زخمی شیر بنے دلہام اور مٹی میں لتھڑی عناء کو دیکھتے چونکے تھے۔
“کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا ؟”
دارا جان حواس باختہ سے انکے قریب آئے تھے۔
“اجنبیوں پہ اعتبار کرنے کا شوق ہے نا آپکو پوچھیں اس سے کیا چاہتی ہے یہ۔”
دلہام نے گرفت ڈھیلی کرتے اسے دھکا دیا تھا جو دارا جان کے قدموں میں گری تھی۔
وہ ناسمجھی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
“بولو”
دلہام بخت کے اچانک دھاڑنے سے وہ سہمی تھی اور ہمت پیدا کیے کھڑی ہوئی۔
“دارا جان اگر میں آپ سے کچھ کہوں کچھ مانگوں تو آپ مجھے دیں گے؟”
وہ کسی لاڈلی بچی کی مانند انکے سامنے آرکی تھی۔
دارا جان نے بنا بولے اثبات میں سر ہلایا۔
“مجھے دلہام بخت سے طلاق چاہیئے مجھے یہ شادی نہیں کرنی ہے کیونکہ۔۔۔”
دلہام بےطرح سے چونکا تھا اسے یقین نہیں تھا کہ وہ طلاق کی بات کرے گی لیکن جتنی کے دونوں طرف نفرت کی بھڑکتی آگ تھی اس میں محبت و عشق کا دعویٰ تو جل کے بھسم ہوچکا تھا اور اگر یہ رشتہ بھی ختم ہوجاتا تو شاید ہے انہیں فرق پڑتا۔
وہ سوچوں میں مگن تھا جب عناء کی اگلی بات اسے مزید دھچکا دے گئی تھی۔
















ایک دم سے ہونے والی روشنی میں اسکی آنکھیں چندھیائیں تھیں جبکہ سامنے پڑا وجود اپنے جسم سے مس کرتے اسکے ہاتھوں میں کھویا تھا۔
“ارینہ”
افراہیم صاحب کی آواز پہ وہ جھٹکے سے پلٹی تھی اور بجلی سی کہیں دور گری تھی جہاں ایمرے اسکی بیٹی کو اٹھائے کھڑی تھی اور اسکے ساتھ میں شاہ بخت ،امراؤجان ،معیز بخت اور بڑے بھا کے ساتھ بےیقین سی بی جان جیسے کچھ انوکھا دیکھ لیا ہو۔
سن ہوتے دماغ سے اس نے بیڈ کی طرف نگاہ کی جہاں پہ موجود انجان شخص بھی اس کے جیسے ہی سب کو دیکھ رہا تھا۔
“تمہاری اتنی جرأت بیغیرت انسان کے ہمارے گھر کی عزت پہ ہاتھ ڈالو۔”
شاید وہ شاہ بخت کا کوئی قریبی تھا تبھی وہ پورے وثوق سے اس پہ جھپٹا۔
“شاہ بخت مم میں نہیں یہ خود آئی ہیں میرے پاس اور۔۔۔”
شاہ بخت کے اچانک پڑنے والے تھپڑ نے اسکی ناک سے خون کا فوارہ چھوڑا تھا وہ چکرائے دماغ سے بیڈ پہ بیٹھا۔
“شرم نہیں آتی تمہیں اتنی ہی ہوس پڑی تھی تو بتادیتی ہم تمہارا کسی کے ساتھ نکاح کروا دیتے بےحیا لڑکی تم نے خاندان کی عزت نیلام کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے دفعان کریں اسے یہاں بابا اسے اتنی شرم نہیں ہے کہ یہ اسکی بہن کا گھر ہے تمہاری ان حرکتوں سے میرے گھر پہ کیا اثر پڑے گا کچھ سوچا ہے تم نے۔”
ایمرے اچانک سے اس پہ امڈتے تھپڑوں کی بارش کرنے لگی تِھی جبکہ اسکے ہاتھ میں تھامی بچی بلبلا اٹھی تھی۔
“بابا یہ سب ایمرے جھوٹ بول رہی ہے اس نے مجھے خود۔۔۔۔”
“بکواس بند کرو تم اپنی اور اپنے گندے خون سمیت دفع ہوجاؤ اس میں بھلا کیا شک ہوسکتا کہیں نا کہیں منیب کی موت کی بھی تم زمدار ہو۔”
افراہیم بھی ایمرے کی زبان بولتے نظر آئی تو باپ کی بدگمانی اسے نڈھال کرگئی۔ایک پرامید نگاہ شاہ بخت پہ ڈالی تو اس نے تنفر سے نگاہ پھیر لی وہ اجنبی شخص جسے اسے کے نام پہ زدوکوب کیا گیا تھا اپنا زخمی وجود اٹھائے وہاں سے نکلنے لگا تھا جب دارا جان کی آواز پہ رکا تھا۔
“تم اسے ساتھ لے کے جاؤ گے ابھی کے ابھی ہم اسکے سربراہان تمہیں اسکے نکاح میں دیتے ہیں۔”
کھڑے پیر ہی دارا جان نے بھتیجی کا بوجھ سر سے اتار پھینکا تھا۔
“دارا جان میری بات سن لیں پلیز ایک بار آپ لوگ۔۔۔”
ارینہ کی دہائیاں منت سماجت کسی کام نہیں آئی تِھی اور رات کی تاریکی میں اسے دربدر کردیا گیا تھا اس شخص کے ساتھ جسکے نام سے بھی وہ واقف نہ تھی۔
وہ شخص جو شاہ بخت کا دوست تھا اور اس سے ملنے شہر سے آیا تھا دلاور یزدانی بھی ایمرے کے بچھائے جال کا شکار بنا تھا۔
وہ اتنی آسانی سے اسکا پتا صاف ہوجانے پہ بہت خوش تھی ۔دلاور یزدانی الیکشن کمیشن میں ایک متوسط طبقے کا سرکاری ملازم تھا ۔ارینہ کی خوبصورتی نے بیچ راہ ہی اسے ایک مناسب فیصلہ لینے پہ مجبور کردیا تھا اور شہر پہنچتے ہی اس نے ارینہ کو زندگی کے اس بیچ وخم کو سمجھاتے اسے اللّٰہ کی رضا میں خوش رہنے کا کہا تھا لیکن ارینہ نے اپنوں کا دیا زخم ایسا سینے سے لگایا کہ زندگی کی رمق مدھم پڑنے لگی تھی۔
دلاور یزدانی اسے سنبھلنے کا پورا موقع دے رہے تھے۔
شب وروز ایسے ہی گزر رہے تھے جب عناء نے لفظ ماں بولتے ان میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔وہ جینے لگی تھیں اپنی بیٹی کی خاطر زندگی کی طرف واپس آنے لگی تھیں۔
دن ماہ سال گزرے لیکن دلاور یزدانی اور انکے بیچ کا فاصلہ کبھی کم ہی نہیں ہونے پایا تھا جب ایک ہولناک حادثے میں وہ اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھے تھے۔
سرکار نے خدا ترسی میں دلاور یزدانی کی نوکری اسکی بیوی کے نام تفصیص کردی تو ارینہ پہ ایک دم زمداریوں کا بوجھ بڑھا تھا ۔
عمر کے فاصلوں کو طے کرتی عناء ہر بات دیکھنے اور سمجھنے لگی تھی اس نے دلاور یزدانی اور ارینہ کو ہمیشہ خاموش صفت پایا تھا جب گھر کے سناٹے اسے بےجان کرنے لگتے تھے اور پھر اس نے بولنا شروع کردیا اتنا کہ دلاور یزدانی اور ارینہ کے درمیان چھایا اٹھارہ سال کا جمود ٹوٹنے لگا تھا اور کبھی بےتحاشہ ہنستی ارینہ رونے بیٹھ جاتیں تو وہ انکی خاموشیوں کے اسرار جاننے پہ باضد نظر آتی تھی۔
انکے کالج میں انعامات کی تقسیم کا دن تھا ہمیشہ کی طرح ہر دلعزیز عناء نے اس بار بھی بورڈ ایگزامز میں ٹاپ کیا تھا ۔کلاس میں سب ہی لوگ اسکی آواز کے دلدادہ تھے۔
اسٹیج پہ اسکے نام کی پکار پڑی تو وہ بھاگتے ہوئے اسطرف بڑھی جو باہر کینٹین سے گول گپے کھانے میں مصروف تھی تبھی سامنے سے آتے شخص سے بری طرح ٹکرائی تھی۔
“اوہ سوری میں وہ ذرا جلدی میں تھی ایکچوئلی میری فرسٹ پوزیشن آئی ہے تو مجھے انعام ملے گا آپکو پتا ہے میری آواز بہت اچھی ہے ایسا میں نہیں کہتی باقی سب کہتے ہیں سو جب بھی میں نے انعام جیتا ہے تب تب ہماری پرنسپل نے سونگ کی فرمائش کی ہے ۔مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہا میں کونسا گانا سنگ کروں کیا آپ مجھے سجویسٹ کرسکتے ہیں؟”
وہ تیز تیز بولتی اس سے سراپاء سوال تھی جو اسے بہت سخت سنانے کا سوچتے ہوئے بلکل مدہم ہوگیا تھا۔
“ہیلو مسٹر کہاں کھو گئے آپ۔”
عناء نے اسکے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے اسے گہری نیند سے جگایا جو اسکے پنکھڑی ہونٹوں کی جنبش میں کھویا تھا۔
“اوں ہاں کیا آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟”
پہلی بار وہ شخص بولا تھا انتہائی دلکش انداز اور لب ولہجہ عناء تو فلیٹ ہوئی تھی پر دوسرے ہی پل نارمل ہوئی۔
“گانا بتانا تھا نا آپ نے مجھے۔۔۔”
“عناء باگڑی پرنسپل کب سے پکار رہی ہے تمہیں۔”
تبھی اسکی ایک کلاس فیلو نے عناء کے پیچھے سے حملہ آور ہوتے اسے پکڑا تھا اور اپنے ساتھ گھسیٹ کے لے گئی تھی۔عناء ہر بات بھولائے کالج کے پنڈال میں پہنچی تھی۔
خود کو کمپوذڈ کیے وہ اسٹیج پہ چڑھی تھی جب مہمان خصوصی کے ہاتھوں اسے ایوارڈ لینا تھا اور اپنے سامنے موجود شخص کو دیکھتے وہ حیران ہوئی وہ جو اسے انعام پکڑا رہا تھا۔
“ڈئیر پرنسپل ہم نے یہی سنا ہے کہ آپکی یہ ہونہار طالبہ گانا بھی بہت اچھا گاتی ہیں سو ایک بار تو ہم ان سے اپنی پسند کا گانا ضرور سننا چاہیئں گے۔”
مہمان خصوصی کی فرمائش پہ پرنسپل نے زور شور سے اثبات میں سر ہلائے عناء تک مائیک میں پہلے ہی بولی گئی فرمائش پہنچائی گئی تو اس نے خاموشی سے مائیک تھام لیا تھا۔
بےگناہ دل توڑا ہے میرا،
بےوجہ دل توڑا ہے میرا،
تیرے دو لفظوں نے تباہ ہے کیا،
نادانیوں نے یوں فنا ہے کیا،
ایسا کیوں ہے کیا ہے او بےرحم او بےرحم،
فلک سے جو گری ہے وہ میری جزا ہے،
ملانا ہے خدایا جو تیری رضا ہے۔۔۔
مگر یہ ہے گزارش قرار دے سنوار دے۔۔۔۔
سنوار دے خدایا ،
بند آنکھوں سے گاتے اس نے اپنی آواز کا سحر جگایا تھا وہ آواز بند ہوچکی تھی لیکن کتنی ہی دیر وہ اس آواز اور سحر میں کھویا رہا تھا جبکہ عناء کی آنکھیں بار بار اس اجنبی شخص کی طرف اٹھ رہی تھیں وجہ یہی تھی کہ گول گپے کھاتے وقت وہ یہی گانا گنگنا رہی تھی اور اس شخص نے سنا تھا اور فرمائش جڑ دی تھی۔
اپنا انعام لیتے وہ باہر آئی تو سامنے ہی وہ سینے پہ ہاتھ جمائے شاید اسی کا انتظار کررہا تھا۔
“گانگریٹس مس عناء۔”
اس نے مسکراتی نگاہوں سے عناء کو دیکھا تو وہ اقرار کرنے پہ مجبور ہوئی تھی کہ اس شخص کی مسکراہٹ بہت پیاری تھی اپنی سی۔
“تھینکس بائے دا وے وہ آپکا فیورٹ گانا نہیں تھا۔”
عناء نے فٹ سے اپنی کنفیوژن زبان پہ لائی۔
“آہا تو سمجھ آگئی آپکو ،ویسے میں گانے نہیں سنتا مس عنادل۔”
برجستہ ہی اسکی زبان سے ادا ہوتے لفظ پہ وہ چونکی تھی۔
“عناء ،عناء دلاور ہے نام میرا ۔”
وہ اپنے نام کی تبدیلی پہ چڑتے ہوئے بولی تھی۔
“آئی نو ۔”
بنا اسکے اعتراض کو کسی کھاتے میں لائے اس نے کہا تھا۔
“بائے دا وے مجھے دلہام بخت کہتے ہیں۔”
یہ عناء اور دلہام بخت کا پہلا تعارف تھا جو دلہام نے اپنی چوڑی ہتھیلی اسکے سامنے کرتے ہوئے کروایا تھا۔
“آئی نو اسٹیج پہ نام لیا جارہا تھا دلہا بخت کا۔”
شولڈر بیگ کو ہاتھ میں جھلاتے کہا تھا وہ دونوں باتیں کرتے کالج گیٹ کے دروازے تک پہنچ چکے تھے۔
“دلہام”
دلہام نے تصیح کی تھی۔
“نام کچھ عجیب سا ہے نا دلہا اوہوں میم ایکسٹرا تھا شاید دلہام ۔”
فوراً سے اسکے نام پہ اعتراض ہوا تو دلہام کا قہقہ بےساختہ تھا۔
“آج سے پہلے کبھی اتنا عجیب نہیں لگا تھا اب تو میں خود ان کمفرٹیبل ہورہا ہوں اپنے نام سے۔”
دلہام نے سرکھجاتے کہا تو وہ بھی کھلکھلائی تِھی اور وہ اسکی ہنسی کے مدھرتا میں کھویا تھا۔
“ویل میری وین آگئی ہے بائے۔”
وہ ایک دم سے اجنبیت کی چادر اوڑھے باہر کی طرف بھاگی تھی جبکہ دلہام کتنی دیر اسکے احساس کو محسوس کرتا رہا تھا۔
وہ جسے لڑکیوں سے ہمیشہ ایک فاصلہ بنا کے رہنے کی عادت تھی عناء دلاور نے پورے وجود سے اسے اپنے طلسماتی آکٹوپس کا شکار کیا تھا۔
اسکی نظریں عناء کی وین کا نمبر نوٹ کرنے لگی تھیں کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ دلہام بخت جو کہ ایک فیمس پولٹیشن اور نوجوان نسل کا نمائیندہ تھا وہ پہلی ہی نظر میں اپنے سے پانچ سال چھوٹی لڑکی کی محبت کا گھائل ہوا تھا کہ ابھی اسے عشق کی منازل بھی طے کرنی تھیں۔۔
