Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Anadil (Episode 08)

Anadil by Uzma Mujahid Novel

عناء کے حویلی پہنچتے ہی شادیانے بج اٹھے تھے۔

حویلی میں اتنے سال بعد کوئی خوشی آئی تھی اور ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ حویلی کے سب سے بڑے بیٹے کی شادی تھی جس پہ سب خوب ہلہ گلہ کرنا چاہتے تھے۔

“کیا اجڑا دیار بن کے گھوم رہے ہو عناء کے دلہا بخت کو اسکی شادی پہ شاندار لگنا چاہیئے ۔”

وہ کافی دنوں بعد گھر آیا تو پہلا سامنا ہی عناء سے ہوا تھا شام میں چونکہ انکی مہندی کا فنکشن تھا سو بابا جان اور دارا جان نے اسے حددرجہ پریشرائز کیا تھا اب تک الیکشنز کا بہانہ بھی ختم ہوچکا تھا۔

بنا جواب دیے وہ آگے بڑھنا چاہتا تھا کہ عناء نے اشارتی انداز میں اسکے سینے کے سامنے دیوار حائل کی تھی۔

“میری مہندی دیکھو یہاں تمہارا نام بھی کنندہ کروایا ہے عناء کی جان دلہام۔”

وہ دونوں ہتھلیوں کو ساتھ جوڑے کھڑی تھی جہاں ہتھیلوں کے دونوں سروں میں ادھورا، ادھورا بنایا گیا دل ایک ساتھ جوڑنے سے مکمل ہورہا تھا اور دونوں ہاتھوں پہ بکھری تحریر بھی ہاتھ جوڑنے سے واضع ہورہی تھی۔

“حد درجہ واہیات پن چھلک رہا ہے تمہاری اس حرکت سے۔”

وہ سلگتے ہوئے بولا تھا ۔

“ارے واہ ایسے ہی کیسے بھلا ایک سر پرائز آپکیلئے بھی تو ہے نا۔۔۔رمز ،پریہان دادی جان دیکھیں تو دلہام بخت آئے ہیں۔”

دلہام اس حرکت کی وجہ نہیں سمجھ پایا تھا جب گھر کی خواتین خراماں خراماں سی چلتی اسکے پاس پہنچی تھیں۔

“سچ میں بھیا ہمیں تو یقین ہی نہیں ہورہا ہے کہ آج آپکی مہندی ہے اور آپ ہی غائب ہیں۔”

رمز اسکے بازو سے جڑی تو دوسرے سے پریہان۔

“ہم آپکی شادی پر سارے ارمان اور چاؤ پورے کرنے والے ہیں اسیلئے آج آپ ہمیں بلکل نہیں روکیں گے۔”

رمز نے لاڈ سے کہا تو وہ محض سر ہلائے اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگا تِھا۔

“ارے لڑکیو بھائی اتنا سفر کرکے آیا ہے اسے پہلے ریسٹ تو کرنے دو شام میں مہندی بھی تو ہے اور عناء یہ کیا بات ہوئی بھلا تم ایسے ہی اسکے سامنے منہ اٹھائے کھڑی ہو دلہن بنی کے روپ نہیں آئے گا۔”

مما کی آواز پہ وہ چونکتے ہوئے اسے دیکھنے لگا تھا ۔دیکھا تو پہلے بھی تھا لیکن نوٹس نہیں کیا تھا اور اب زرد مایوں کے سوٹ میں ملبوس ابٹن کے رنگ کا نکھار لائے وہ لڑکی بےحد حسین لگ رہی تھی دلہام کی محویت کو دیکھتے وہ مسکائی تو وہ رخ موڑ گیا تھا۔

“میں تو نہیں آنا چاہ رہی تھی آنٹی لیکن دلہام نے کال کرکے اتنا انسسٹ کیا تھا انفیکٹ انہوں نے یہ تک کہا تھا کہ اگر میں نے حویلی کی خواتین کی مان کر ان سے پردے پُردے والا کوئی میلو ڈرامہ کریٹ کیا تو ساری رسمیں بھی اکیلی کرنا نکاح وہ تھا جو ہوچکا ہے میں آؤں نا آؤں کیا فرق پڑے گا تو بس دادو میں بھی ڈر گئی آخر کے پوری حویلی کی عزت کا معمالہ تھا۔”

عناء معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتے دلہام کے فرشتوں کو بھی وہ سب سنوایا جو انہوں نے اسکے منہ سے سنا تک نہ تھا ۔مطلب جھوٹ کی پرکالہ تھی وہ لڑکی۔

دلہام کا دل چاہ رہا تھا اسے شوٹ کردے جب سب کی دبی دبی ہنسی اور ذومعنی نگاہوں کا سامنا مشکل ہوا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ آج کے دن وہ حددرجہ سر پرائزڈ ہونے والا ہے۔

کمرے میں جاتے اس نے ریسٹ کم اور عناء کی نوٹکنیوں کو زیادہ سوچا کافی دیر خود سے لڑتے اسے سوئے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی جب عجیب سے احساس پہ وہ اٹھ بیٹھا تھا جہاں اسکے روم سے نکلتی عناء نے اسکی توجہ اپنی طرف کھینچی۔

“کیا کررہی ہو تم یہاں اپنی نہیں تو کم از کم دوسروں کی عزت کا خیال رکھ لو ۔”

وہ تیزی سے اسکے سر پہنچا تھا عناء کے کچھ سہمے انداز میں اسے دیکھا۔

“میں تو بس وہ دیکھنے آئی تھی کہ آپ سورہے ہیں یا نہیں مہندی کے فنکشن پہ دلہا اونگھتا ہوا اچھا تھوڑی نا لگے گا ۔”

عناء کے انداز میں پہلے جیسے خود اعتمادی نہ تھی اور اس نے جب جب کچھ گڑ بڑ کی تھی وہ ہکلائی تھی۔

دلہام تھوڑا الرٹ ہوا جب عناء کی بار بار الجھی نظروں کو فوکس کیا جو اسکے ہاتھوں پہ تھیں وہ تھوڑا چوکنا ہوا اور اگلے ہی لمحے فل آن ہائیپر ہوا تھا۔

“یہ یہ کیا بدتمیزی ہے تم نے کیا ہے نا یہ؟”

دلہام بخت کی دراز ہتھیلی کے درمیان ایک دل بنایا گیا تھا جس میں دلہام کا دل عناء لکھا گیا تھا۔

“نن۔۔نہیں ماں قسم میں نے نہیں لکھا یہ تو پریہان اور رمز نے لکھا ہے میں نے تو جسٹ۔۔۔”

تیزی سے چلتی زبان دانتوں میں اٹکی تھی۔

وہ اس سے بعد میں نبٹنے کا سوچتے تیزی سے ہاتھ دھونے کیلئے گیا تھا لیکن مہندی اپنا رنگ بڑے طریقے سے دکھا کے گئی وہ واپس پلٹا تو عناء غائب تھی۔

وہ لڑکی واقعی امپاسبل تھی کتنی دیر جلتے کڑھتے وہ اپنی ہتھیلی کو چھپانے کے طریقے کرتا رہا لیکن ندارد کچھ سوچتے اس نے موسیٰ کو کمرے میں بلایا تھا۔

“مجھےاس بیوقوف لڑکی کی مصیبت کا حل دو۔”

دلہام نے ہتھیلی پھیلائی تو موسیٰ کو بھی ہنسی آئی تھی جس نے سرجھکائے اس سے چھپانا چاہا۔

“تمہیں یہ مذاق لگ رہا ہے؟”

دوسرے ہی لمحے سخت گیر باس کے جیسے دھاڑا تو موسیٰ اپنی پوزیشن میں آتے نفی میں سر ہلا گیا۔

“سر آپ ہاتھ پہ بینڈیج کرلیں تاکہ سب یہی سمجھیں کہ آپکو یہاں زخم ہوا ہے اور اسطرح کوئی آپکا ہاتھ نہیں دیکھ پائے گا۔”

موسیٰ نے اپنی سمجھ سے ایک بہترین حل دیا تھا دلہام کو خود پہ غصہ آیا کہ اتنا سا تو وہ بھی سوچ سکتا تھا خواہ مخواہ موسیٰ کو اپنا ہمراز بنایا تھا۔

“ٹھیک ہے تم جاؤ اور رمز کو بھیجو یہاں ۔”

اسے حکم دیتے رخ موڑ لیا تھا۔

موسیٰ سست روی سے چلتے باہر آیا تو سامنے ہی وہ پھول والوں کو مختلف انسٹرکشنز دیتی نظر آئی تھی ۔

نارنجی رنگ کے بنارسی سوٹ میں ملبوس وہ ہمیشہ کی طرح خصوصی تیار نظر آئی تھی ۔پوری حویلی میں وہ واحد لڑکی تھی شاید جسے روایتی جاگیردارنی کا روپ دھارنے کا شوق اکثر چرائے رہتا تھا۔

“رمز بیبی آپکو دلہام صاحب بلا رہے ہیں۔”

اپنی بات مکمل کیے وہ نظریں جھکا گیا تھا۔

“اوہوں صاحب کے نوکر سے تو پہلے نبٹ لوں میں۔”

ہمیشہ کے جیسا انداز موسیٰ نے بھی روایت قائم رکھتے لبوں کو سیا تھا۔

“شام کا کیا پلین ہے میں نے درزی بابا سے تمہارے لیے کرتا شلوار سلوائی ہے مجھے یہ لباس پہنے ہوئے نظر نہ آؤ تم۔”

ہمیشہ کی طرح رعب جھاڑا گیا جسے ہمیشہ کی طرح ہی نہیں مانا جانے والا تھا۔

“کس دن تمہارے لبوں پہ لگے قفل ٹوٹیں گے؟”

سیاہ آنکھیں اداسی سے بولیں۔

“میں جاؤں بیبی صاحب؟”

بنا اسکی بات کو رسپونس کیے موسیٰ نے ہمیشہ والے دو جملے ادا کردیے تھے ایک پیغام دینا اور دوسرا اجازت لینا جبکہ تیسرا کام تو ان دو جملوں کے درمیان کا تھا ہمیشہ اسکی سننا ۔وہ لڑکی جو امیر ،غریب مالک نوکر کے فرق سے بعید موسیٰ کی محبت میں گرفتار تھی اور برملا اظہار بھی کیا جاتا تھا رعب جمایا جاتا تھا ۔۔۔موسیٰ نے کبھی نمک حرامی کا ثبوت نہیں دیا تھا اور نہ ہی کبھی اسکی باتوں کو سنجیدہ لیا تھا ۔

“اپنے مالک سے کہہ دو میں نہیں آرہی۔”

وہ غصے میں پھنکاری تھی۔وہ سرہلاتے وہاں سے ہٹ گیا دلہام کے کمرے کی طرف جانے کی بجائے باہر کا رخ کیا وہ تلملا کے رہ گئی تھی کیونکہ موسیٰ کو یقین تھا دلہام بخت پکارے اور وہ نہ جائے ایسا ہو نہیں ہوسکتا۔

وہ کمرے میں آئی تو اسے اپنی ہتھیلی کو گھورتے پایا تھا فوراً سے معمالے کی تہہ تک پہنچتے اپنی ٹیچر عناء کا پڑھایا گیا سبق یاد کرتے خود کو آل از ویل سے بہلایا اور دوسرا سبق شیطانی کرتے ساتھ ہی معصوم بن جانے والا اتنا معصوم کے اگلا آپکو رو کے گلے لگا لے۔

“زمر کیا ہے یہ؟”

دلہام کی غصیلی آواز سارے سبق بھلا گئی تھی اور وہ ممانتے ہوئے آگے بڑھی۔

“بھیا وہ آپکی خواہش آئی مین عناء بھابھی نے بتایا تھا کہ آپکی خواہش ہے اسکا نام ہتھیلی پہ لکھیں محبت جو ہے آپکو ان سے لیکن سب کے سامنے آپ اپنی اس خواہش کو پورا نہیں کرسکتے تو ہم نے سوچا آپکو سر پرائز کریں۔”

حددرجہ ایکسائٹمنٹ اسکی آواز میں گھلی تھی اور اتنی ہی کڑواہٹ دلہام کے گلے میں عناء کے ایک اور بکواس پلین پہ گھلی تھی۔

“وہ لڑکی کچھ بھی بولتی ہے اور تم لوگ بنا تصدیق عمل کرتے نظر آتے ہو اگر آئیندہ تم نے اور پریہان نے اسکے کسی بکواس پلین میں حصہ لیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔”

وہ انگلی اٹھائے اسے وارن کرگیا تو زمر نے امڈتے آنسوؤں کو ضبط کیا اور دلہام بری طرح ہارا تھا۔

“کیوں رو رہی ہو اب .”

دو منٹ میں نرم پڑتے وہ اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لے گیا۔

“آئی ایم سوری بھیا بس ہمیں پتا ہے کہ آپ ہماری وجہ سے اپنی بہت سی خواہشیں نہیں چھپاتے لیکن عناء تو آپکی محبت ہے نا تو اسے آپکی ہر خواہش پتا ہوتی ہم تو بس آپکو خوش کرنا چاہتے تھے سوری اگر برا لگا تو۔”

رمز کی بات پہ وہ گہری سانس بھر کے رہ گیا۔

اسکے گھر والے اسے زبردستی کی محبت کروانا چاہتے تھے اس لڑکی سے۔

“فرسٹ ایڈ باکس لے کے آؤ۔”

ہلکے سے ایک عقیدت بھرا بوسہ اسکے سر پہ دیتے اس نے رمز کو سامنے کرتے کہا تھا۔

“کیا ہوا بھیا آپکو چوٹ لگی ہے کیا؟”

وہ چونکتی ہوئی فوراً پریشانی سے بولی تھی۔

“ہاں تم سب کا مل کے دیا گیا زخم چھپانا ہے۔”

دلہام نے شرارت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ الجھی اور پھر جب وہ فرسٹ ایڈ باکس لائی تو دلہام نے اپنی ہتھیلی اسکے سامنے کردی۔

“میں نہیں چاہتا رسم میں خواتین کی نظر تم لوگوِں کے کارنامے پہ پڑے۔”

اس نے رمز کو بجائے مزید جھاڑنے کے شرمندہ کرنے پہ اکتفا کیا تھا ۔

وہ اسکے ہاتھ پہ مصنوعی بینڈیج کیے باہر آئی تھی۔

شام میں تقریب کیلئے ریڈی ہوتی عناء کے پاس آئی تھی جو پریہان سے کسی بات پہ الجھ رہی تھی ۔

“ایک گڑ بڑ ہوگئی گائز۔”

چہرے پہ تاسف جاری کیے وہ انکے درمیان آبیٹھی تھی۔

“کیا ہوا یقیناً میرے دلہا بخت نے کوئی چن چڑھایا ہوگا؟”

عناء نے ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں چڑھاتے ہوئے کہا۔

“ہائے کتنا اچھے سےجانتی ہیں نا آپ اپنے دلہا بخت کو ۔”

رمز نے بنا لگی لپٹی رکھے فوراً سے اسکی تعریف کی۔

“یار میرا تو بہت برے طریقے سے بی۔پی لو ہونے لگا ہے اب پھوٹ بھی پڑو کے کیا ہوا ہے آخر۔”

سدا کی نازک دل پریہان نے ہولاتے ہوئے کہا۔

“دلہا بخت کا لفٹ ہینڈ زخمی ہوگیا ہے یا انہوں نے خود کیا ہے مجھے نہیں پتا پر میں ان گنہگار ہاتھوں سے اپنے پیارے ویر کی پٹی کرکے آرہی ہوں۔”

اپنی ٹیچر عناء کے سبق کا یہاں بخوبی استعمال کیا گیا لیکن عناء نے فوراً اسے پکڑا تھا۔

“تم جھوٹ بول رہی ہو رمز یہ لکھوا لو مجھ سے۔”

عناء نے پریقین میں انداز میں دعویٰ کرتے ہوئے کہا تو پریہان نے پاس پڑا قلم اور رائیٹنگ پیڈ اٹھا لیا۔

“کیا واقعی ایسا لکھ دوں؟”

وہ کنفیوز سی پینسل منہ میں دبائے بولی تو عناء نے اسے آنکھیں دکھائیں۔

“ایک دن رمز کا ضرورت سے زیادہ شاطر ہونا اور پریہان بیبی کا بےوجہ کا معصوم ہونا تمہیں ضرور لکھوائے گا بکواس لڑکی میں نے تو محاورہ بولا تھا۔”

عناء نے پریہان کو ریکشن دیا تو وہ سر جھٹکتے اپنی اتنی عزت افزائی کو ہضم کرنے لگی تھی۔

“بولو اب جو سچ ہے۔”

پریہان کے بعد رمز کی باری آئی تھی۔

“کیا بتاؤں یہی سچ ہے۔”

پہلے والا کنفیڈینس مفقود تھا۔

“تم جھوٹ بول رہی ہو میں یہ سائیکالوجی سے ثابت کرسکتی ہوں۔نمبر ایک جھوٹ بولتے ہوئے تم بنا ٹارگٹ کو دیکھتے مطلب کہ نظریں چراتے بول رہی ہو ،نمبر دو تمہارے انداز میں لڑکھڑاہٹ ہے لو پکڑ لیا جھوٹ۔”

عناء نے بنا اپنے دلنہاپے والا سجے روپ کی پرواہ کیے زمر کو زیر کیا تو وہ چلا اٹھی۔

“اوکے اوکے بتا رہی پر پرامس کے بھیا کو نہیں بتاؤگے تم لوگ؟”

اس نے مشکوک نظروں سے انہیں دیکھا تو انہوں نے فوراً ہی نفی میں سر ہلایا تھا۔

عناء کے حویلی آتے ہی ان سے گٹھنے والی حویلی اسجو خوب فائدہ دے رہی تھی تبھی تو رمز اس پہ اعتبار کررہی تھی ۔

“بھیا نے ہاتھوں پہ لگی مہندی چھپانے کیلئے زخم کا بہانہ کیا ہے جو مہندی کے مٹنے تک چلے گا۔”

وہ کچے پیٹ کی مالک پھٹ چکی تھی۔عناء کی آنکھیں چمکی تھیں۔

“دلہا بخت کو کس چیز سے الرجی ہے؟”

عناء کا سوال اٹھا تو وہ دونوں چونکیں۔

“برا نا منانا عناء لیکن اس وقت یہی لگتا ہے کہ اسے سب سے زیادہ اس ٹائم تم سے ہی الرجی ہورہی ہے۔”

پریہان کے برجستہ جواب پہ رمز کا بِھی قہقہ پڑا تھا۔

“انتہا کا کوئی گھٹیا جوک تھا جس پہ ہنسی نہیں آئی۔”

عناء کو واقعی ہنسی نہیں آئی تھی کیونکہ اسکا دماغ تو دلہام بخت کے ہاتھوں پہ چڑھائے جانے والی پٹی پہ الجھا تھا۔

“پھولوں سے آئی مین ریڈ روزز سے۔”

رمز نے اسے جواب دیا تو عناء کا دماغ تیزی سے پلین بننے لگا تھا۔

💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠
💠

اسوقت اسٹیج پہ وہ دلہام بخت کے ساتھ موجود تھی دادی ،مما اور چھوٹی چچی خواتین کو لے کے رسم کررہی تھیں جب اچانک ہی دلہام کا رنگ سرخ پڑا تھا۔

وہ تھوڑا بےچین سا بیٹھا تھا اپنے ہاتھوں پہ ابھرتے سرخ دانوں سے پریشان تھا اور ساتھ میں شروع ہوتی ایچنگ شاید اسکی وجہ یہ بھی تھی خواتین مہندی لگاتے اسکے ہاتھ کو بچانے کے چکر میں پٹی کو رنگتی جارہی تھیں۔

“رمز کیا تم نے مہندی میں عرق گلاب ملایا ہے وہ جو صبح دائی اماں نے تیار کیا تھا مہندی کیلئے مجھے ایسی ایسی خوشبو آرہی ہے۔”

عناء کی بلند آواز سرگوشی پہ وہ چونکا تھا۔

“ہاں لیکن۔۔۔”

“رمز تمہیں پتا ہے نا دلہام کو پھولوں سے الرجی ہے اور تم نے مہندی میں وہیں شامل کروا دیے اٹس ناٹ فئیر یار تمہیں اپنے بھائی کا سوچنا چاہیئے تھا۔”

عناء متفکر سی بولی تھی جبکہ دلہام بےطرح چونکا یہ عناء کو کیسے پتا اور۔۔۔

اس سے آگے کی سوچ اسے مٹھیاں بھینچنے پہ مجبور کرگئی تھی۔دلہام کو اٹھنے کیلئے پر تولتے دیکھ وہ ہلکا سا اسکی طرف جھکی۔

“یہ غلطی مت کرئیے گا سرتاج پہلے یہ دیکھ لیں۔”

عناء نے کہتے ساتھ موبائل میں ایک تصویر اسکے سامنے کی تھی دلہام کی نسیں پھولی تھیں وہ لڑکی کچھ بھی کرسکتی رمز اور پریہان صرف بیوققف بن سکتی تھیں۔

وہ بےبس سابیٹھا تھا۔

“بیٹا پٹی بہت خراب ہورہی ہے آپ یہ اتار دیں میں اینٹی الرجک ٹیوب لاتی ہوں۔”

مما نے پریشانی سے کہتے خود ہی اسکے ہاتھ پہ بندھی پٹی کھولنا شروع کردی تھی دلہام کی سرخ آنکھیں عناء کے اوپر گڑی تھیں۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *